📱 Download the mobile app free
Home > Hawas by Urwa Fatima NovelM80058 > Hawas (Episode 19)
[favorite_button post_id="15796"]
46215 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 19)

Hawas by Urwa Fatima

بات سنو سیٹھ صاحب کہاں ہیں،
ذیشان رات کے آٹھ بجے کمرے سے باہر نکلا تو سامنے کھڑے شخص سے پوچھا
وہ اپنے گھر چلے گئے ہیں،
اور یہ دے کے گئے ہیں تمہارے لیے
اس آدمی نے ایک موبائل فون ذیشان کی طرف بڑھایا
سیٹھ صاحب کہہ کر گئے ہیں جیسے اٹھو ان سے بات کرنا
اچھا ٹھیک ہے
ذیشان نے موبائل پکڑا اور جانے لگا
سنو ذیشان نے دوبارہ مڑ کر اس شخص کو آواز دی
ہاں بولو،
کچھ کھانے کو مل سکتا ہے یار بہت بھوک لگی ہے،
ہاں میں بھجوانے ہی لگا تھا کھانا تمہارے کمرے میں ،،
ٹھیک ہے میں انتظار کر رہا ہوں ذیشان نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف چل دیا
ذیشان نے فون کو دیکھا اور مسکرا دیا
کیونکہ وہ جانتا تھا اس فون میں ٹریکر ہے یہ سیٹھ بہت اوپر ہی چیز ہے سالا
ذیشان نے سوچا
صائم اور اس کی ٹیم نے سارے معاملات سمجھا کر ذیشان کو بھیجا تھا
ذیشان نے فون کے کنٹیکٹس دیکھے تو دو نمبر سیو تھے
پہلا سیٹھ اکرم کا
اور دوسرا سیٹھ کے خاص آدمی مراد کا
جس نے ابھی تھوڑی دیر پہلے ذیشان کو موبائل دیا تھا
ذیشان ابھی موبائل ہی دیکھ رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی
ایک ملازم کھانا رکھ کر چلا گیا
ذیشان نے دروازہ لاک کیا اور سیٹھ کو کال ملائی
اسلام و علیکم حکم سیٹھ صاحب
کال ریسیو ہوتے ہی ذیشان نے کہا
آج رات ایک ٹرک لاہور سے پشاور جاۓ گا
اور تم نے کسی بھی طرح حفاظت سے وہ ٹرک لاہور سے باہر بھجوانا ہے
سیٹھ نے ذیشان کو پلان سمجھایا
اور آگے پشاور تک کیسے پہنچے گا، ذیشان نے سوال کیا
وہ مراد کا کام ہے تمہارا کام صرف لاہور میں جگہ جگہ لگے چیک پوائنٹس سے با حفاظت ٹرک کو گزارنا ہے
سیٹھ نے حکم دیا
ہو جاۓ گا لیکن سیٹھ صاحب میں کام اپنے طریقے سے کروں گا اس لیے میرے کام میں کوئی ٹانگ نہ اڑاۓ تو ہی بہتر ہو گا
ذیشان نے وارن کیا
اوۓ شیر جوان مجھے ریزلٹ سے مطلب ہے
آپ کو ریزلٹ مثبت ہی ملے گا
ٹھیک ہے پھر نو بجے نکل جانا گاڑی کی چابی مراد دے دے گا تمہیں
اوکے
ذیشان نے فون رکھ دیا
اور ذہین کے گھوڑے دوڑانے لگا کہ کیسے صائم کو انفارم کرے اور آج یہ ٹرک منزل پر پہنچ جاۓ تاکہ ذیشان سیٹھ کا اعتبار جیت سکے
آخر کار ذیشان کو ایک راستہ نظر آ ہی گیا
ذیشان نے سکون سے کھانا کھایا
اور دیوار میں لگی الماری کھولی
اس میں ایک دو سوٹ ہی لٹکے ہوئے تھے جو ذیشان کے ناپ کے نہیں تھے
الماری بند کر کے ذیشان واش روم میں چلا گیا
ہاتھ منہ دھونے کے بعد ایک ڈیل سکن ٹون کی کریم نکالی اور اچھی طرح منہ گردن اور ہاتھوں کو سانولی رنگت میں بدل دیا
ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھ کے کمرے سے باہر نکل گیا
مراد صاحب جا چکے ہیں اور یہ گاڑی کی چابی آپ کو دینے کا کہہ گئے تھے
ایک ملازم نے مراد کے بارے میں پوچھنے پر تفصیل بتائی
ذیشان نے چابی لی اور گاڑی میں بیٹھ کر ڈیرے کی حدود سے باہر نکل گیا
اندھیری سڑکوں پہ تیزی سے چلتی ہوئی گاڑی ایک عجیب سی آواز پیدا کر رہی تھی
ڈیرے کی حدود سے بہت دور نکل کر ذیشان نے گاڑی سائید پہ لگائی گھپ اندھیرے میں ذیشان گاڑی سے نکلا
جیکٹ کی اندرونی جیب سے موبائل نکالا جو روہان سے لیا تھا
اور ایس ایچ او نادر کا نمبر ڈائل کیا
نادر صاحب ایک ٹرک آج لاہور کی حدود سے نکل کر پشاور جانا ہے دھیان رکھیے گا آپ کی پولیس فورس آس پاس بھی نا پھٹکے
دوسری طرف سے جواب سننے کے بعد
ذیشان دوبارہ گاڑی میں آ بیٹھا اور منزل کی طرف چل دیا
مخصوص اڈے پہ پہنچ کر ذیشان نے اپنی گاڑی وہیں چھوڑی اور ٹرک پہ سوار ہو گیا
ڈرائیور کے علاوہ ذیشان ہی اس ٹرک میں سوار تھا
۔۔
۔۔
ہاں بول صائم ،،
ارباز سیٹھ کا ایک ٹرک لاہور کی حدود سے باہر جاۓ گا
اور اس کو باحفاظت جانے دینا ہے ہر چیک پوائینٹ پہ انفارم کر دو میں ٹرک کا نمبر اور ڈیٹلیز ٹیکسٹ کرتا ہوں،
صائم سیٹھ کا ٹرک عام ٹرک نہیں ہو گا یا تو ہیروئین سمگل ہو رہی ہے یا لڑکیاں ،
ارباز نے پریشان کن انداز میں کہا
میری بات ہو گئی ہے ارباز لڑکیاں نہیں ہیں ہیروئین سمگل ہو رہی ہے
اور یہ ٹرک ذیشان کے حوالے ہے لحاظہ
آج یہ ٹرک ہر حال میں باحفاظت جانا چاہئے
تاکہ ذیشان اپنا اعتماد قائم کر سکے
اور مجھے یقین ہے یہ ٹرک ہیروئین کا بھی نہیں ہے ،
صائم نے ہنستے ہوئے کہا
اور یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو،۔
ارباز سیٹھ انتہائی نیچ انسان ہے وہ ذیشان کو آزما رہا ہے اس لیے اس میں کوئی غیر قانونی چیز نہیں ہوگی
کیونکہ ذیشان اس کو پکڑوا بھی سکتا ہے اس کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے
چل بھائی مان لیتے ہیں تیری بات ارباز نے ہار مانتے ہوئے کہا
اور فکر نا کر پولیس سب کو پکڑتی ہے لیکن پولیس کو نہیں پکڑتا کوئی
آج یہ ٹرک سہی سلامت جاۓ گا
اوکے اللّٰه حافظ
صائم نے فون رکھ دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈور بیل کب سے بج رہی ہے مجال ہے جو کوئی اٹھ کر دیکھ لے
امی آ گیا میں آ گیا
روہان نے ماں کے ڈاٹنے پر ہنستے ہو دروازہ کھولا
ارے چچا چچی آپ
کیوں ہم نہیں آسکتے کیا
رافع صاحب نے ہنس کر کہا
سو دفعہ آو رافع بھائی اپنا ہی گھر ہے آپ کا
فرحت بیگم نے خوش دلی سے کہا
روہان سائید پہ ہٹ گیا تو رافع صاحب اور صالحہ اندر آ گئے
اور انکے بعد نورے اور بقی اندر داخل ہوئے
ارےےےے تم لوگ بھی آۓ روہان نے خاصہ چلا کر کہا
بہرے نہیں ہیں ہم نورے نے آہستہ آواز میں کہا لیکن روہان سن چکا تھا
روہان نے ہنس کر دروازہ بند کیا اور ان کے پیچھے پیچھے آ گیا
نمرہ ہ ہ ہ ہ ہ دیکھو کون آیاااااا ہے
روہان نے جان بوجھ کر نورے کے کان کے پاس منہ لے جا کر کہا
نورے سب سے آخر میں چل رہی تھی اس لیے کسی نے دیکھا نہیں
نورے نے کانوں پر دونوں ہاتھ رکھ لیے
روہان اتنا کیوں چینخ رہے ہو فرحت نے چڑ کر کہا
آ جاو صالحہ ہمارے کمرے میں آ جاو تم لوگ باہر ٹھنڈ ہے
بھابھی رضا بھائی کہاں ہیں
وہ اوپر چھت پر دھوپ سیک رہے ہیں میں بلاتی ہوں
نہیں میں چھت پر ہی چلا جاتا ہوں آپ سب بیٹھو
رافع صاحب نے کہا اور چلے
ارے بیٹھ جاو صالحہ نورے کیوں کھڑے ہو تم لوگ آ جو بقی تم بھی
جی بھابھی آ جاو نورے
اوپر آ جاو نورے صالحہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ نورے کو ساتھ بیٹھا لیا اور بقی صوفہ پر بیٹھ گیا
نورے چچی آپ لوگ نمرہ نے اس سب کو دیکھا تو خوشی سے کہا
نمرہ صالحہ اور نورے سے ملی اور صوفے پر بیٹھ گئی
مجھے تو کوئی دیکھ بھی نہیں رہا
بقی نے افسردگی سے کہا
ارے ارے میرے لڈو تم بھی آۓ ہوئے ہو
نمرہ نے بقی کو اپنے پاس بلایا تو وہ آ گیا
کیسے ہو بقی
ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں
میں بھی ٹھیک ہوں
اچھا آج کیسے یاد آ گئی آپ کو ہماری
نمرہ نے بقی کو ساتھ لگاتے ہوئے پوچھا
مجھے نہیں آئی آپی کو آئی تھی
بقی نے صاف گوئی سے جواب دیا
اللّٰه بقی کتنے تیز ہو تم
نمرہ نے قہقہہ لگایا
بابا کہاں ہے مجھے انکے پاس جانا ہے
ہاں آ جاو میں آپ کو چھوڑ آتی ہوں
نمرہ بقی کو رافع صاحب کے پاس لے گئی
اسلام و علیکم چچا
وعلیکم اسلام نمرہ بیٹی کیسی ہو
میں بلکل ٹھیک ہوں اللّٰه کا شکر ہے
ماشاء الله ماشاء الله بیٹا اللّٰه کرے ٹھیک ہی رہو
تم بچوں کو کچھ ہوتا ہے ہم والدین تو ساتھ ہی ڈھ جاتے ہیں
نمرہ نے سر جھکا لیا
بقی میاں تو کچھ بولتے ہی نہیں ہیں اب
رضا صاحب نے افسوس سے کہا
رضا بھائی یہ چپ رہ ہی نہیں سکتا آپ پانچ منٹ رک جائیں
نمرہ اور رضا صاحب ہنسنے لگ گئے
نمرہ وہاں سے آ گئی اور چاۓ کے ساتھ باقی لوازمات رکھ کر سب کے لیے لے آئی
نورے آ جاو میرے روم میں چلتے ہیں
نمرہ نے کہا تو نورے نے صالحہ کی طرف دیکھا
چلی جاو بیٹا
صالحہ کے کہنے پر نورے نمرہ کے ساتھ. چلی گئی
نورے تم تو بہت بولتی تھی یار لیکن اب اتنی خاموش کیوں ہو ،
ویسے ہی،
نمرہ نورے کو کمرے میں بیٹھا کے اس کے لیے کولڈ ڈرنک اور سنیکس لے آئی
مجھے پتا ہے تم چاۓ نہیں پیتی اس لیے
نمرہ نے کہا تو نورے جواباً ہلکا سا مسکرائی
کونسی کلاس میں ہو تم نورے
نائنتھ کلاس میں،،
ماشاء الله اچھے سے محنت کرنا اور اچھے اچھے مارکس لینا
جی انشاء الله
نمرہ نے محسوس کیا کہ نورے صرف اس کی بات کا جواب دے رہی تھی خود سے کچھ نہیں بول رہی تھی
یہ کون ہیں نمرہ باجی
نمرہ اور ارحم کی تصویر سائیڈ ٹیبل پر دیکھ کر نورے نے سوال کیا
اور یہ پہلی بار تھا کہ نورے خود اے بولی تھی
یہ میرے ہسبینڈ ہیں
آپ کی شادی ہو گئی نورے نے حیرت سے کہا
شادی نہیں صرف نکاح ہوا ہے
اچھا مبارک ہو
نورے نے خوشی سے کہا
تھنکیو
نورے تمہیں پتا ہے اریش اتنا کیوٹ ہے نا
کون اریش؟
نورے نے سوال کیا
نائلہ آپی کا بیٹا
اوہ اچھا پکس ہیں تو دیکھائیں
ہاں رکو
یہ دیکھو
نمرہ اریش کی تصویریں نورے کو دیکھانے لگی
نمرہ ایک کپ چاۓ بنا دو یار
روہان نے کمرے میں آ کر کہا
بھائی ابھی بنائی تھی چاۓ میں نے تب آپ کہاں تھے
یار دوست کی کال تھی وہی سننے باہر گیا اور پھر اذان ہو گئی تو نماز پڑھنے چلا گیا
نورے تم دو منٹ بیٹھو میں ابھی آتی ہوں
مجھے جاۓ نماز دئیں نماز پڑھنی ہے میں نے،،
نمرہ نے جاۓ نماز اٹھا کر دی اور روہان کے ساتھ ہی کمرے سے باہر نکل گئی
روہان کو عجیب سی خوشی ہوئی
نورے بلکل ویسی ہی ہے جیسی میں چاہتا تھا کہ وہ بنے
اور نورے کا حجاب میں لپٹا معصوم چہرہ روہان کی آنکھوں میں بس گیا
اللّٰه جی میں بس ریکوسٹ کرتا ہوں آپ سے اگر وہ میرے اور میں اس کے حق میں بہتر ہوں تو پلیز اسے میرا کر دیں
روہان نے دل سے دعا کی
۔۔
۔۔
مما یہ لیں روہان بھائی کا فون نے
نورے موبائل کچن میں کھڑی صالحہ کو فون دے کر چلی گئی
ہیلو روہان
کیسی ہیں چچی،،
میں ٹھیک ہوں بیٹا خیریت ہے تم نے فون کیا،
جی چچی ایک بات کرنی تھی ،،
ہاں تو کرو بیٹا میں سن رہی ہو
اصل میں میں بات تو آمنے سامنے کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ،
تو کل ہم آۓ تو تھے کل کیوں نہیں کی بات ،،
ہاں لیکن میں یہ بات سب سے پہلے آپ سے کرنا چاہتا تھا
امی سے بھی نہیں کی میں نے کوئی بات ،،
ہاں بولو میں سن رہی ہوں،،
چچی غصہ نہیں کیجیے گا پلیز پہلے آرام سے میری بات سن لیں پھر کوئی جواب دیجیے گا ،،
روہان بولو بھی میں انتظار کر رہی ہوں ،
چچی میں نورے کو بہت پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں
آپ یہ مت سمجھیے گا کہ آپ لوگوں نے اب آنا شروع کیا ہے اور میں نے آپ کی بیٹی ہر بری نیت رکھ لی ہے
نہیں چچی میں نورے کو تب سے پسند کرتا ہوں جب وہ پہلی بار میری انگلی پکڑ کر چلی تھی
پہلے مجھے انسیت لگی لیکن ذیشان بھائی نے جو نورے کے ساتھ کرنے کی کوشش کی تھی وہ سب سن کر مجھے اپنے بھائی سے نفرت ہو گئی
اور جب سے آپ نے اور ہم نے ملنا چھوڑا تب سے مجھے پتا چلا کہ میں نورے کو اپنی زندگی میں شامل کروں گا تو ہی سکون سے رہ سکوں گا
چچی نورے آپ کی بیٹی ہے آپ کا فیصلہ یقیناً اس کے لیے ہر لحاظ سے بہتر ہو گا
آپ کی مرضی ہے کہ آپ نورے سے سات سال بڑے لڑکے کا رشتہ قبول کرتی ہے یا نہیں
اور مجھے آپ کا فیصلہ منظور ہو گا
روہان نے بات ختم کی تو صالحہ نے بولنا شروع کیا
روہان اپنے گھر میں بات کی ہے تم نے ،،
نہیں چچی میں پہلے آپ سے بات کرنا چاہتا تھا،
روہان ذیشان نے جو کچھ بھی کیا اس کے بعد کوئی بھی ماں رسک نہیں لے سکتی
اس لیے تم اس بات کو یہیں ختم کر دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے چھ بج رہے تھے جب ذیشان واپس اپنے کمرے میں داخل ہوا
وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑا ہو گیا
نماز پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ تو آنسو اپنی داستان اللّٰه کو سنانے لگے اور اللّٰه کو تو پسند ہی آنسوؤں کی سچی زبان ہے
چہرے پر ہاتھ پھیر کر ذیشان نے جاۓ نماز اٹھا کر اپنی جگہ ہر رکھی
اور بیڈ پر گر گیا اور فوراً نیند کی وادیوں میں کھو گیا
صبح کے دس بج رہے تھے جب دستک کی آواز سن کر ذیشان کی آنکھ کھل گئی
اٹھ کر دروذہ کھولا سامنے کھڑے ملازم کو دیکھ کر ماتھے پر شکن پڑ گئی
سیٹھ صاحب اپنے کمرے میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں
ذیشان ملازم کے ساتھ ہی چل دیا
او آ جا میرا شیر جوان دل خوش کر دیتا ای
شکریہ سیٹھ صاحب ذیشان نے سامنے بیٹھتے ہی کہا
سیٹھ صاحب مجھے آپ سے اکیلے می بات کرنی ہے
دس منٹ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد ذیشان نے کہا
یہ مراد میرے اعتماد کا بندہ ہے بولو تم
سیٹھ صاحب آپ کے اعتبار کا بندہ ہے میرے نہیں مجھے آپ سے اکیلے میں بات کرنی یے
ذیشان نے کہا تو مراد خود ہی اٹھ کر چلا گیا
ہاں بولو ،،۔
سیٹھ صاحب آپ کے دئیے فون کے علاوہ میرے پاس الگ فون بھی ہے
جو زیادہ تر بند رہتا ہے تاکہ کوئی مجھے ٹریک نا کر سکے
لیکن کل نادر صاحب کو کال کی تھی میں نے کیونکہ ان کے بہت سے فرمانبردار موجود ہیں پولیس ڈیپارٹمنٹ
ذیشان نے بے تاثر چہرے سے کہا
میں نے تجھے کہا ہے نا مجھے ریزلٹ پوزیٹو چاہیے باقی کام جیسے کرو مجھے کوئی مسئلہ نہیں
ذیشان دل ہی دل میں خوشی کے مارے ناچ رہا تھا کہ سیٹھ نے اعتبار کر لیا تھا
لیکن وہ جانتا یہ بھی تھا کہ یہ مکمل اعتبار نہیں ہے
سیٹھ صاحب مجھے ایک اور بات بھی بتانی ہے
بولو ،،
ذیشان نے ٹیبل پہ رکھے ٹشو بکس میں سے ٹشو نکالے اور چہرے پر اچھی طرح رگڑے
سانولا رنگ ہٹ گیا اور سرخ و سفید چہرہ سامنے آ گیا
ذیشان نے جیب سے لینز کی خالی ڈبی نکالی اور تیکنیک سے لینز آنکھوں سے نکاپ کر ڈبی میں رکھے
یہ اصل روپ ہے میرا
ذیشان نے عام انداز میں بتایا
سیٹھ نے حیران ہونے کی کمال ایکٹنگ کی
کیسا خبیث ہے سارا کچھ کیمرے میں بیٹھا دیکھ رہا ہے پھر بھی بن کیسے رہا ہے
ذیشان صرف سوچ سکا کہہ نا سکا
اور یہ سب تم نے کیوں کیو ہوا ہے شیر جوان
سیٹھ جی تاکہ کوئی ذیشان اور شیر جوان کو ایک ہی بندہ نا سمجھے
شیر جوان آپ کے کام کرے جس کا ذیشان سے بظاہر کوئی تعلق نہیں ہو گا
تو ذیشان کا کس سے تعلق ہے
سیٹھ نے ابرو اچکا کر سوال کیا
ایس پی صائم معظم سے
ذیشان نے زہریلے لہجے میں جواب دیا
کیا مطلب میں سمجھا نہیں
سیٹھ نے ناسمجھی سے ذیشان کی طرف دیکھا
صائم سے پرانا حساب چکتا کرنا ہے سیٹھ صاحب اور وہ ذیشان کرے گا
سیٹھ نے اثبات میں سر ہلا دیا
س ایس پی سے میں نے اپنے حساب بھی چکتا کرنے ہیں
ذیشان نے سوالیہ نظروں سے سیٹھ کی طرف دیکھا
ابے یار میرے چھوٹے بھائی رحیم پہ کیس بنائی کھڑا ہے کسی ماہم لڑکی سے ذیادتی کا
اب دیکھ یار نوجوان ہے لگ گئی اچھی تو دل بہلا لیا اب اس میں کونسی بڑی بات ہے پیشی پہ پیشی ڈلوائی کھڑا ہے سالہ بڑا ایماندار بنتا ہے
تبھی سیٹھ کا فون بجنے لگا
ہاں ہیلو
ذیشان سیٹھ کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا
جو دوسری طرف کی بات سنتے ہی آگ بگولہ ہو رہا تھا
آ رہا ہوں میں
سیٹھ کی آنکھوں میں غم و غصہ دیکھ ذیشان نے سوال کیا
گاڑی نکال اور چل میرے ساتھ
ذیشان خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا
گاڑی ہسپتال کے سامنے رکی آپ چلیں میں آتا ہوں
ذیشان نے سیٹھ سے کہا اور وہ اتر کر چلا گیا
دوبارہ اصل حلیے میں آ کر ذیشان ہسپتال کے اندر چلا گیا
جہاں جا کر پتہ چلا کہ سیٹھ اکرم کے چھوٹے بھائی پر فائرنگ ہوئی ہے اور گولی خوش قسمتی سے اس کے بازو میں لگی ہے
یہ سب اس حرامزادے ایس پی کا کیا دھرا ہے سیٹھ نے غصے سے چینخ کر کہا
شیر جوان اندر آ جا سیٹھ ذیشان کو لے کر اندر کمرے میں چلا گیا جہاں اس کا بھائی ایڈمٹ تھا
ذیشان کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا کہ سیٹھ کا نوجوان بھائی چالیس سال کا تھا
اور غصے سے گردن کی رگیں تن گئیں کے اس بدعمل نے ایک معصوم کی زندگی تباہ کر دی تھی
سیٹھ صاحب اگر ایس پی نے آپ کے بھائی پر حملہ کیا ہوتا تو وہ زندہ نا ہوتا
کیا بکواس کر رہے ہو تم سیٹھ کے بھائی رحیم نے دبی دبی آواز میں غصے کہا
میرا مطلب ہے وہ ایس پی کچے کام نہیں کرتا جانتا ہوں میں
ذیشان نے لاپرواہی سے کہا
یہ ٹھیک کہہ رہا ہے رحیم
اصل بات بتاو کیا ہے
سیٹھ نے آہستہ آواز میں پوچھا
ذیشان کو دیکھ رحیم کے منہ پہ تیوری آ گئی
ذیشان اعتبار کا بندہ ہے اسی لیے اندر کھڑا ہے اب بتاو کیا بات ہے
خود کروائی ہے فائرنگ میں نے کیونکہ آپ تو کچھ کر نہیں رہے وہ ایس پی سالہ میری گردن کو شکنجے میں قید کرنے کو تیار ہے
ابھی زخمی ہونے کے باعث کیس لمبا ہو جاۓ گا تو خدا کے لیے کوئی طریقہ ڈھونڈو مجھے بچاو
میں کرتا ہوں آئی جی صاحب سے بات ایک دو کام نمٹا لوں
اور تم اب گھر میں رہنا ہزار بار منع کیا تھا پہلے بھی کہ تین شادیاں کر چکے ہو اب بس کر دو اپنی حیوانیت
ذیشان لاتعلق سا کھڑا رہا لیکن اس کا بس نہیں چل رہا تھا ان دونوں کا قتل کر دے
چلو ذیشان سیٹھ نے کہا تو ذیشان فوراً ساتھ ہو لیا
اس واقع کو دو ماہ گزر گئے پیشی پہ پیشی پڑتی گئی لیکن کوئی فیصلہ نا ہوا
ادھر سیٹھ کے کئی ٹرک جن میں اسلحہ اور ہیروئن سمگل ہو رہی تھی ذیشان نے منزل تک پہنچا دئیے تھے
کیونکہ انکا اصل مقصد ان لڑکیوں کو بازیاب کروانا تھا جو اکتیس دسمبر کو سنگاپور شیپ کے ذریعے سمگل کی جانے والی تھیں
اس وقت وہ سینکڑوں لڑکیاں پشاور میں ایک فیکٹری کے گودام میں موجود تھی
اور پندرہ دن بعد انکو کراچی کی بندرگاہ پہ پہنچانا تھا اور یہ کام مراد اور ذیشان کے ذمے تھا
۔۔
آئی جی صاحب میرے بھائی پر جھوٹا الزام لگایا گیا ہے نہایت شریف اور معصوم ہے میرا بھائی
سیٹھ اکرم نے شیریں لہجے سے آئی جی صاحب کہ سامنے اپنے بھائی کو صاف ستھرا ثابت کیا
دیکھیں سیٹھ صاحب آپ ایک معزز شہری ہیں آپ کو اور مجھے عدالت کا فیصلہ تو ماننا ہو گا نا
آئی صاحب بڑی امید سے آپ کے پاس آیا ہوں میں دو دن بعد پیشی ہے. اور وہ ایس پی اس بار میرے بے گناہ بھائی کو سزا دلوا دے گا
آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں
آئی صاحب نے سوال کیا
میرا بھائی کسی صورت سلاخوں کے پیچھے نا جائے
ٹھیک ہے
آئی جی صاحب نے فون اٹھایا اور صائم کو کال ملائی
ایس پی صائم
فون سپیکر پر تھا
یس سر
سیٹھ اکرم کے بھائی رحیم صاحب کسی صورت اندر نہیں ہونے چاہیں
لیکن سر ،،
لیکن ویکن کچھ نہیں
یہ جیل ایسے معزز شہریوں کے لیے ہرگز نہی بنی سمجھ رہے ہیں آپ
یس سر
فون کٹ گیا
اب تو آپ مطمین ہیں سیٹھ صاحب
آئی جی صاحب نے مسکرا کر کہا
بڑا احسان ہے آپ کا آئی جی صاحب
آئی جی ملاقات ہو گئی ہے میری اب کچھ نہیں کر سکتا وہ سالا ایس پی
آئی جی صاحب کے روم سے باہر نکلتے ہی سیٹھ نے بھائی کو فون کیا
ٹھیک ہے چلو میں فون رکھتا ہوں کلب میں پارٹی ہے آج میری طرف سے سب دوستوں کو
باز نا آنا تو رحیم نا باز آنا
سیٹھ نے فون بند کر دیا
اور ذیشان کو فون ملایا
شیر جوان کل رات ایک دعوت کا انتظام کرو اور نیو ائیر پلان میں شامل سب افراد کو بلاو کچھ اہم پہلوؤں پر نظر ثانی کرنی ہے
۔۔
رات کے دس بجے کا وقت تھا ذیشان اور مراد ڈیرے سے نکلے کیونکہ آج ایک نہیں دو دو ٹرک پشاور جانے تھے
جن میں کروڑوں کا اسلحہ اور ہیروئن تھی
ایک ٹرک روانہ ہو چکا تھا جبکہ دوسرے ٹرک میں ذیشان اور مراد دونوں موجود تھے
مراد اس راستے میں پولیس کی بھاری نفری موجود ہے دوسرے راستے سے چلو
میں جانتا ہوں اس راستے میں کوئی پولیس نہیں ہے تم ویسے ہرگز نہیں ہو جیسے بنتے ہو میں جلد ہی تمہاری حقیقت سیٹھ صاحب کو بتا دوں گا کہ تم ایس پی کے بندے ہو
ذیشان نے منہ موڑ لیا
تم نے انکار نہیں کیا اس کا مطلب تم واقعی ہی اسی کے لیے کام کر رہے ہو
بکواس مت کرو مراد
ذیشان دھاڑا
چلاو مت مراد نے ٹرک اسی راستے پر ڈال دیا جس سے ذیشان نے منع کیا تھا
ذیشان خاموش ہو گیا
تھوڑا فاصلہ ہی طے ہوا تھا کہ پولیس کی بھاری نفری نظر آئی
مراد کے اوسان خطا ہو گئے
منع کیا تھا میں نے ذیشان نے غصے سے ٹرک کے دروازے پر ہاتھ مارا
پولیس اہلکار تیزی سے اس ٹرک کی جانب بڑھے
کیونکہ مراد نے ٹرک کو ریورس کرنے کی کوشش کی تھی
بھاگو ذیشان
مراد نے ٹرک کا دروازہ کھولا اور چھلانگ لگا دی
جبکہ ذیشان نے دوسری طرف چھلانگ لگائی اور گنے کے کھیت میں گھس گیا
پولیس اہلکار دو حصوں میں بٹ کر انکے پیچھے دوڑے
اور پھر
ایک ساتھ چار فائر چلنے کی آواز آئی
۔۔
۔۔
رات کے تین بج رہے تھے جب سیٹھ کو ایک کال موصول ہوئی
سیٹھ صاحب نیوز چینل آن کریں
کال بند کر کے سیٹھ نے اٹھ کر ٹی وی آن کیا
بار بار ایک ہی خبر سکرین پر چمک رہی تھی
بریکنگ نیوز
بلیو ہل نائٹ کلب میں پولیس کا چھاپہ
جسم فروشی شراب نوشی کے جرم میں اہم شخصیات حراست میں لے لیے گئے
جبکہ کچھ افراد فرار ہونے کی کوشش میں مارے گئے
مارے جانے والے لوگوں کی
فہرست میں
سابق ایم این اے سیٹھ اکرم کے چھوٹے بھائی
رحیم بخش جو ماہم ذیادتی کیس میں بھی ملوث تھے،
ایڈوکیٹ جلال نوید اور نامور
بزنس مین بہرام ملک سمیت تیرہ افراد شامل ہیں
،
سیٹھ اکرم صوفے ہر گرنے کے انداز میں بیٹھا
سیٹھ صاحب ایک بری خبر ہے ایک ملازم نے آ کر بتایا
لگ گئی ہے پتا وہ بری خبر آنسو سیٹھ اکرم کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے
اس کے علاوہ ایک اور بری خبر ہے سیٹھ صاحب
سیٹھ اکرم نے سر اٹھا کر سامنے کھڑے ملازم کی طرف دیکھا
پشاور جانے والا دوسرا ٹرک پولیس کے قبضے میں آ چکا ہے
اور مراد اور ذیشان دونوں مارے گئے ہیں