📱 Download the mobile app free
Home > Hawas by Urwa Fatima NovelM80058 > Hawas (Episode 17)
[favorite_button post_id="15796"]
46215 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 17)

Hawas by Urwa Fatima

ارباز میری توقع کے مطابق سیٹھ اکرم کا جواب ملا
اب کرنا یہ ہے کہ تمام اسکولز اور کالجز کے باہر اہلکاروں کی ڈیوٹی لگا دو
جہاں کوئی حرکت ہو بغیر کسی کی سنے اٹھا کے لوک اپ ڈالو
سیٹھ کو جواب اب میں دوں گا
اوکے سر
اور وہ جو فائل کی ڈیٹلیز منگوائی تھی اس کا کیا کرنا ہے اب ارباز نے سگریٹ جلاتے ہوئے کہا
سب سے پہلے اس کو باہر پھینکو ارباز ورنہ میں تمہیں گاڑی سے باہر پھینک دوں گا
ابے یار سگریٹ ہے تیری سوتن نہیں ہے کیوں پیچھے پڑا رہتا ہے
تو پھینکتا ہے اس کو یا میں ،،،
یہ لے بھائی پھینک دی معاف کر مجھے
ارباز نے سگریٹ کھڑکی سے باہر پھینکا اور صائم کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا
گڈ اب کرتے ہیں اس فائل کی بات
ہاں بتاو کیا کرنا ہے
ذیشان کے وارثوں کو بلاو مجھے بات کرنی ہے ان کے ذریعے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کروائیں گے اور مجھے یقین ہے دو چار پیشیوں میں ہی فیصلہ ہو جائے گا
ٹھیک ہے میں آج ہی فون کر دیتا ہوں اس کے بھائی روہان سے اچھی جان پہچان ہو گئی ہے
تمہارے پاس نمبر ہے روہان کا ، صائم نے گاڑی پولیس سٹیشن کی حدود میں کھڑی کی
ہاں ہے،
مجھے سینڈ کر دو میں خود بات کروں گا
اچھا کرتا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام و علیکم رافع چچا میں اندر آ جاؤں
وعلیکم اسلام
ارے روہان آ جاو آ جاو بیٹا رافع صاحب کسی فائل پر جھکے ہوئے تھے روہان کی آواز پر چونکے
میں نے ڈسٹرب توو نہیں کیا آپ کو
ارے نہیں بیٹا کیسے ہو امی ابو کیسے ہیں
سب ٹھیک ہیں الحمدللہ
چچا میں یہ مٹھائی لایا تھا
مٹھائی وہ کس خوشی میں،۔
نائلہ آپی کا بیٹا ہوا ہے اس خوشی میں
ارےےےے ماشاء اللّٰہ ماشاء الله خدا نیک اور صالح بنائے آمین
اور نمرہ کیسی ہے روہان رضا بھائی نے بتایا تھا کہ اللّٰه نے کرم کیا ہے بڑو کہ اس کو ہوش آ گیا
جی چچا اب تو ماشاء اللّٰہ بلکل ٹھیک ہے،
روہان تم مصروف تو نہیں ہو،
نہیں بولیں کوئی کام ہے کیا
یار اصل میں تمہاری چچی اور بچوں کو مارکیٹ لے کر جانا تھا آج اور مجھے بلکل وقت نہیں مل رہا تو بیٹا اگر تمہارے پاس وقت ہو تو لے جاو انکو، رافع صاحب نے فائلوں کے ڈھیر میں سے کچھ ڈھونڈتے ہوئے کہا
چچا میں ، روہان نے خاصہ حیرانی سے پوچھا
کیوں بھئ تم نہیں جا سکتے کیا
نہیں نہیں میں بس ویسے ہی کہہ رہا تھا ، روہان کا چہرا چمک اٹھا
روہان بائیک پہ آۓ ہو یا گاڑی پہ،،
بائیک پہ آیا ہوں ،
اچھا یہ لو چابی میری گاڑی لیتے جاو پتا ہے نا کونسی ہے نہیں پتا تو گارڈ سے پوچھ لینا
اوکے چچا،
رکو، روہان جانے کے لیے مڑا تو رافع نے آواز دی ،
جی؟
یہ مٹھائی بھی گھر لیتے جاو ،
اوکے اللّٰه حافظ روہان نے مٹھائی کا ڈبہ اٹھایا اور باہر نکل گیا
روہان جب گاڑی اپنے پرانے گھر کے سامنے سے گزاری ایک عجیب سا احساس چھو گیا سارا بچپن ایک لمحے کے لیے آنکھوں کے آگے گھوم گیا
ذیشان بھائی آپ کی ایک حرکت نے کتنے گھر بے سکون کر دئیے روہان کی آنکھیں بھر آئیں
اللّٰه تعالیٰ آپ کو معاف کرے آمین
روہان نے گاڑی سائید پہ کھڑی کی اور رافع صاحب کے گھر کے سامنے آ کر پھر بے چین ہو گیا
ان کا سارا بچپن یہیں تو گزرا تھا جب نورے پیدا ہوئی تھی کیسے روہان اور نمرہ سارا سارا دن رافع صاحب کے گھر پڑے رہتے تھے
نگار بیگم کی ڈانٹ کا بھی برا نہیں لگتا تھا
پھر نورے بڑی ہوگی کانچ کی نیلی آنکھیں روہان کو دور سے پہچاننے لگیں تھیں
اور اب کتنے ہی سال گزر گئے نورے کی ایک جھلک تک نا دیکھی تھی
روہان نے سرد آہ بھری اور دروازے پہ دستک دی
دستک دیتے ساتھ ہی دروازہ کھل گیا جیسے کوئی انتظار میں کھڑا ہو
روہان نے دیکھا تو ایک حسین چہرہ نمودار ہوا
کانچ کی نیلی آنکھیں معصوم چہرہ اچھی طرح سے سر پر حجاب سیٹ کیا ہوا تھا
روہان ساکت سا اپنی جگہ پر کھڑا رہ گیا
نورے،
آآپ،
دونوں یک زبان بولے
روہان ہنس پڑا
کیوں میں نہیں آ سکتا تھا روہان نے ابرو اچکا کے سوال کیا
نورے بغیر کچھ بولے دروازہ کھول کر اندر چلی گئی
آہمم ہممم روہان نے گلا کھنکارا
اچھا استقبال ہوا ہے
روہان نے گھر کے اندر قدم رکھا پھر واپس ڈور سٹیپ پہ کھڑا ہو گیا اور اس بار زور سے دروازہ بجایا
کچھ دیر بعد نورے منہ پھلاۓ پھر سامنے آ کھڑی ہوئی
اندر کیوں نہیں آ رہے آپ، نورے نے ناراضگی سے کہا
حواباً روہان صرف مسکراتا رہا
اب مسکرا کیوں رہے ہیں ،
ایک مدت ہوئی تم کو دیکھا نہیں
اک زمانہ ہوا مسکراۓ ہوئے
روہان نے اسی انداز میں کہا
جی نورے نے حیرانی سے روہان کو دیکھا جیسے اسکی ذہنی حالت پہ شک ہو
کچھ نہیں چچی ہیں کیونکہ میں صرف ان سے ملنے آیا ہوں
جی ہیں ،
تو ہٹو سامنے سے اندر جانے دو مجھے ،
روہان کے ایسا کہنے کی دیر تھی نورے کا منہ حیرت سے کھل گیا
ہٹ بھی جاو اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو نظر لگاو گی کیا، روہان نے لہجے میں شرارت سموے کہا
نورے فوراً سامنے سے ہٹ گئی
روہان اسی تیزی سے اندر داخل ہو گیا
بدتمیز نورے پیر پٹخ کر اس کے پیچھے چل دی
روہان بیٹا تم صالحہ کمرے سے نکلیں تو سامنے سے روہان کو آتا دیکھ خوشی سے بولیں
اسلام و علیکم چچی کیسی ہیں آپ
وعلیکم اسلام بیٹا ہم تو ٹھیک ہیں تم بیٹھو کھڑے کیوں ہو
جی یہ مٹھائی لایا تھا میں نائلہ آپی کا بیٹا ہوا ہے ،
ماشاء اللہ بہت مبارک ہو صالحہ نے مٹھائی لیتے ہوئے کہا
چچی مجھے چچا نے بتایا تھا کہ آپ لوگوں کو کہیں جانا ہے وہ مصروف تھے اس لیے میں آ گیا چلییے میں لے چلتا ہوں آپ کو روہان نے پانی کا گلاس لیتے ہوئے کہا جو کہ نورے لے کر آئی تھی
دیکھو ذرا رافع کے کام نہیں آنا تھا تو بتا دیتے ہم کل چلے جاتے ایسے ہی تمہیں پابند کر دیا، صالحہ نے افسوس سے کہا
کوئی مسئلہ نہیں چچی میں لے چلتا ہوں
اچھا پھر تم دو منٹ بیٹھو میں صرف بقی کو تیار کروا لوں
نورے ، روہان نے نورے کو آواز دی جو صالحہ کے پیچھے پیچھے اندر جا رہی تھی
جی،
دادو کہاں ہیں ،،
وہ تایا ابو کے گھر گئی ہیں روہان بھائی نورے نے بتایا اور اندر چلی گئی
ہونہہ بھائی روہان نے منہ بنا کر کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو اسلام علیکم روہان بات کر رہے ہیں ،،
۔
وعلیکم اسلام جی آپ کون؟
روہان میں صائم بات کر رہا ہوں ، صائم نے رعب دار آواز میں کہا
صائم، روہان نے پر سوچ انداز کہا
ایس پی محمد صائم معظم
صائم نے آفیشل تعرف اس لیے کروایا کیونکہ وہ اب کوئی پہلے جیسا تعلق نہیں چاہتا تھا
اوہ آپ جی سر بولیں
روہان کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی کہ وہ پہلے جیسی بے تکلفی سے بات کرے
مجھے ملنا ہے تم سے کیا کل یہ ممکن ہے
صائم نے نپے تلے انداز ميں بات کی
جی جی میں آ جاؤں گا کہ پولیس سٹیشن
نہیں پولیس سٹیشن نہیں ہم کہیں باہر ملیں گے میں لوکیشن سینڈ کر دوں گا کل شام چار بجے پہنچ جانا
اوکے سر میں پہنچ جاوں گا
اوکے سی یو
صائم نے فون بند کیا اور کمرہ سے باہر نکل
کہ کچن کا رخ کیا
مریم ایک کپ کافی تو بنا دو صائم وہیں کرسی پر بیٹھ گیا
اچھا بھائی بس دو منٹ مریم نے کھیر کا باول ٹیبل پر رکھا
ارے واہ کھیر بنائی ہے وہ بھی تم نے صائم نے باول اپنی طرف کھسکایا
بھائی واپس رکھ دئیں یہ آپ کے لیے نہیں ہے مریم نے باول لینے کی کوشش کی لیکن صائم نے نا دیا
کیوں بھئ میں کیا انسان نہیں ہوں
بھائی دے دیں نا کہ میری دوست آ رہی ہے میں نے اس کے لیے بنائی ہے
کون وہ ریسٹورنٹ والی صائم نے انجان بنتے ہوئے کہا
جی وہی
اچھا یہ لو کیا یاد کرو گی صائم نے باول واپس اپنی جگہ پر رکھ دیا
بہت شکریہ کافی مل جاتی ہے آپ کو کافی
مریم نے ڈراۓ فروٹس سے کھیر کی سجاوٹ شروع کی
سٹڈی میں ہوں میں وہاں لے آنا
صائم کہہ کر اٹھ کر چلا گیا
صائم کا سٹڈی روم اس کے بیڈ روم سے ہی اٹیچ تھا
نفاست سے ہر شے اپنی جگہ پر رکھی تھی کسی قسم کی بے ترتیبی اس کمرے میں نہیں تھی
صائم نے کمرے پر ایک نظر ڈالی اور سٹڈی میں چلا گیا
اپنے فیورٹ رائٹر سٹیون پنکر کی کتاب اٹھا کر پڑھنا شروع کی
یہ وہ کتاب تھی جس کو صائم کبھی بھی پڑھ سکتا تھا
ہمیشہ دلچسپی بڑھتی ہی تھی
لیکن آج اس کتاب میں بھی اس کا دل نہیں لگ رہا تھا
اس کا دماغ کچھ اور ہی سوچنے میں مگن تھا
اور اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے صائم نے ارباز کا نمبر ڈائل کیا
ارباز مجھے کل ذیشان سے دوبارہ ملنا ہے لیکن اس بار اس کو میرے روم میں لانا
ارباز کی آواز سنتے ہی صائم نے بغیر تمہید کے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم یار لوکیشن سینڈ کر دو میں گھر سے نکلنے لگی ہوں
اوکے میں کرتی ہوں مریم نے فون بند کیا اور فاریہ کو لوکیشن سینڈ کی
کچھ ہی دیر میں اعجاز صاحب فاریہ کو گیٹ پر چھوڑ کر چلے گئے
ڈور بیل بجی تو مریم نے دروازہ کھولا
ہیلو مریم فاریہ نے چہک کر کہا
ہیلو فاریہ
اچھا آ جاو اندر بس ہو گیا انگریزوں والا سلام
اب اپنے طریقے سے ملتے ہیں مریم نے ہنس کر کہا
اور دونوں گلے لگ گئیں
آجاو میں مما سے ملواں تمہیں
ہاں ضرور
مونا لاونج میں بیٹھی تھیں فاریہ نے جا کر سلام کیا تو مونا ہے فاریہ کو بہت خوش دلی سے گلے لگایا
بیٹھو بیٹا
جی آنٹی
مونا کو دل سے اچھی لگی فاریہ
فاریہ آ جاو میرے کمرے میں چلتے ہیں
ہاں چلو
مریم تمہارا گھر بہت پیارا ہے یار
یہ تو گورمنٹ کی طرف سے ملا ہے بھائی کو، ہمارا گھر یہ نہیں ہے
مریم نے سڑھیاں چھڑتے چھڑتے بتایا
اوہو بیوقوف گھر وہی خوبصورت ہوتا ہے جہان سب لوگ پیار محبت سے رہتے ہیں
اور بے شک گورمنٹ کی طرف سے ملا ہے ہے تو تمہارا ہی گھر نا
بدھو کہیں کی، فاریہ ہنس دی
میں تو ویسے ہی بتا رہی تھی تمہیں اب تم واحد دوست ہو میری تو تمہیں حقیقت کا علم ہونا چاہئے
اچھا اچھا مس فلسفہ
فاریہ نے کہا تو دونوں قہقہہ لگا کے ہنس پڑیں
آ جاو فاریہ یہ ہے میرا کمرہ
کتنا اچھا سیٹ کیا ہوا ہے تم نے زبردست یار
ہاں میں اور بھائی فری ٹائم میں پینٹنگ کرتے ہیں مریم نے خوش ہو کر بتایا
ایک دو مجھے بھی بنا دو یار میں بھی اپنے روم میں لگاوں گی
ہاں کیوں نہیں میں کہوں گی بھائی کو کیونکہ وہ بہت اچھی پینٹنگ کرتے ہیں
تمہارے بھائی نے کہیں سے سیکھی ہے کیا
ہاں جب وہ جوتوں کی دوکان پہ کام کرتے تھے نا وہاں انکے ایک دوست نے سیکھائی تھی
مریم تمہارے جو بھائی ایس پی ہیں وہ جوتوں کی دوکان پہ کام کرتے تھے فاریہ نے حیرت زدہ ہو کر کہا
جو بھائی ایس پی ہیں بس وہی ایک ہی بھائی ہے میرا
مریم مسکرانے لگی
اور پھر مریم نے شروع سے سارے حالات فاریہ کو بتاۓ
صرف اپنے ساتھ ہوئے اس حادثے کو چھوڑ کر
مریم تم لوگ کتنے سٹرونگ ہو اور صابر بھی
مجھے تو اپنا آپ چھوٹا لگنے لگ گیا ہے تم لوگوں کے سامنے
پاگلوں جیسی باتیں مت کرو فاریہ
مریم نے ڈپٹا
دروازے پر دستک ہوئی
مریم نے اٹھ کر دروازہ کھولا
تو نازی کولڈ ڈرنک اور سنیکس وغیرہ لے کر کھڑی تھی
آجائیں نازی باجی
مریم نے راستہ چھوڑ دیا
ایک بائیس تیئس سالہ مناسب شکل کی لڑکی ہاتھ میں ٹرے لیے داخل ہوئی جس نے بلکل مریم جیسا ڈریس پہنا ہوا تھا
آپ بھی بیٹھ جائیں ہمارے ساتھ، مریم نے آفر کی
نہیں آپ لوگ انجوۓ کرو ،
مریم ایک سال ہو گیا ہماری دوستی کو تم نے بتایا بھی نہیں کہ تمہاری بڑی بہن بھی ہیں
نازی کے جانے کے بعد فاریہ نے گلا کیا
میری کوئی بہن نہیں ہے فاریہ نہ بڑی نہ چھوٹی مریم نے فرائز اٹھا کر منہ میں رکھیں
تو پھر یہ کون تھیں،
یہ ہماری میڈ ہیں،
واٹ میڈ ہے اور اس نے بلکل تمہارے جیسا ڈریس پہنا ہوا ہے
فاریہ کا حیرت سے منہ کھل گیا
توبہ ہے فاریہ کتنا اوور ریکیٹ کرتی ہو تم
صائم بھائی لاۓ تھے ہم دونوں کے لیے یہ ڈریس ۔
تو مریم تمہیں برا نہیں لگا
برا کیوں لگے گا فاریہ عجیب پاگل ہو تم وہ میڈ ہیں لیکن میں اور صائم بھائی ان کو بہن مانتے ہیں،،
آئی ایم سرپرائزڈ یار
فاریہ نے کولڈ ڈرنک کا آخری گھونٹ پی کر گلاس سائیڈ پہ رکھا
اچھا چھوڑو یہ باتیں چلو سیلفی لیتے ہیں پہلی بار آئی ہوں میں تمہارے گھر
ہاں ٹھیک ہے
اور پھر انکا طویل فوٹو سیشن شروع ہو گیا
الٹی سیدھی پکس بنا کر دونوں خود ہی لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں
دوپہر کے دو بج رہے تھے جب نازی دوبارہ کمرے میں آئی
مریم کھانا لے آوؤں
آنٹی کہاں ہیں مریم کی بجائے فاریہ بولی
وہ نیچے ہیں ،
بس پھر ہم بھی نیچے ہی چلتے ہیں مریم،
ہاں چلو کوئی مسئلہ نہیں
دونوں نازی کے ساتھ ہی نیچے آ گئیں
فاریہ کو لگا تھا کہ صرف مونا ہوں گی لیکن صائم کو سامنے بیٹھا دیکھ فاریہ کو عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی
مریم تم نے بتایا نہیں کہ تمہارا بھائی گھر ہے فاریہ نے مریم کے کان میں کہا
آج سنڈے ہے فاریہ گھر ہی ہوں گے بھائی
کھانے کے دوران فاریہ مریم اور مونا سے ہلکی پھلکی باتیں کرتی رہی
جبکہ صائم نے ان سب کی طرف دیکھا بھی نہیں
خاموشی سے کھانا کھایا اور اٹھ کر چلا گیا
نازی بیٹا کھانا کھا کر کافی میرے کمرے میں دے جاو
صائم نے بغیر پلٹے کہا اور سیڑھیاں چڑھ گیا
جی بھائی، نازی نے جواب دیا
فاریہ کو صائم کا اگنور کرنا اچھا نہیں لگا
کھڑوس، فاریہ نے زیرِ لب کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیشان اور صائم آمنے سامنے بیٹھے تھے
ذیشان کے چہرے سے لگتا تھا جیسے میلوں کی مسافتیں طے کر کے آیا ہو
اس کی اور صائم کی دوسری ملاقات تھی آج
ذیشان تم نے کہا تھا تمہیں معافی چاہیے
صائم نے بات شروع کی
ذیشان نے اثبات میں سر ہلایا
ذیشان میں نے اور میرے گھر والوں نے تمہیں اس روز معاف کر دیا تھا جب ہم نے محلہ چھوڑا تھا
اور اب جب کہ تم شرمندہ ہو ہم نے تمہیں واقعی دل سے معاف کیا
اگر تمہارا مقصد صرف معافی حاصل کرنا ہی ہے تو ٹھیک ہے میں آج روہان سے ملوں گا اور ہائی کورٹ میں اپیل درج کرواوں گا اور مجھے امید ہے کہ تم جلد رہا ہو جاو گے
لیکن اگر تم معافی کے ساتھ اپنے گناہ کا کفارہ بھی ادا کرنا چاہتے ہو تو تمہیں وہ کرنا ہوگا جو میں کہوں گا
صائم نے بات مکمل کی
صائم تم جو کہو گے میں کرنے کو تیار ہوں مجھے بس دل کا سکون چاہیے
ٹھیک ہے تو پھر سنو
تم اگلے ہفتے جیسے ہی رہا ہوگے سیٹھ اکرم کے پاس جاو گے
وہ اس علاقے کا ڈون بنا پھرتا ہے
اور مجھے کل خبر ملی ہے کہ وہ پورے پاکستان میں لڑکیاں سپلائی کرتا ہے
جن کے ساتھ بد فعلی کر کے ویڈیوز بنائی جاتی ہیں
اور معصوم کلیوں کو مسل دیا جاتا ہے
تم اس کے پاس جاو گے اور اس کا اعتبار جیتو گے اور اس کے خفیہ اڈوں اور اس کے ان ساتھیوں کی خبر دو گے جو مشہور زمانہ ہیں
ہمیں ہر حال میں ان ہوس کے پجاریوں کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے
صائم میں اس کام میں اپنی جان دینے سے بھی گریز نہیں کروں گا تم مجھ پر یقین کر سکتے ہو
یقین کیا ہے اسی لیے تمہیں چنا ہے ذیشان
یوں سمجھ لو قدرت تمہیں اور مجھے سنورنے کا موقع دے رہی ہے صائم نے مضبوط لہجے سے کہا
باقی کی انسٹرکشنز تمہیں ارباز سمجھا دے گا اور پلانز بھی
اوکے سر
۔۔
۔۔
روہان وقت سے پہلے ہی ریسٹورنٹ میں مقررہ ٹیبل پر آکر بیٹھ گیا
پورے چار بجے روہان کو صائم داخلی دروازے سے اندر آتا دیکھائی دیا
روہان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا
صائم ٹیبل پر پہنچا تو دونوں نے مصافحہ کیا
تشریف رکھیے صائم نے اخلاقً کہا
دونوں آمنے سامنے براجمان ہو گئے
ذیشان سے میری ملاقات ہو چکی ہے اور وہ مجھے اس کیس کے بارے میں بتا چکا ہے کہ کیسے پیسے کے زور پہ جھوٹا کیس بنایا گیا
لیکن میرا سوال تم سے یہ ہے کہ جب ذیشان کو سزا صرف ایک طرف کی بات سن کر دی گئی تھی تو تم لوگوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کیوں نہیں کی یہ جانتے ہوۓ بھی کہ یہ ایک بے بنیاد کیس ہے اور اس کا فیصلہ جلد ہی تم لوگوں کے حق میں ہو جاۓ گا
صائم خاموش ہوا تو روہان ے بولنا شروع کیا
میں نے کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے ذیشان بھائی نے سختی سے منع کیا تھا
انھوں نے کہا کہ بے شک یہ کیس جھوٹا ہے لیکن تم جانتے ہو روہان مجھے کس گناہ کی سزا مل رہی ہے
اور مجھے سزا پوری کرنے دو ،
ذرا توقف نے بعد روہان نے دوبارہ بولنا شروع کیا.
سر دو دن میں ہی اتنا سب ہو گیا تھا کہ سمجھ آ گیا تھا کہ واقعی معصوم لوگوں کی آہ بہت جلدی لگتی ہے
اسی لیے بھائی نہیں چاہتے تھے کی ان کے کیے کی سزا کوئی اور بھگتے
خیر اب تم اپیل دائر کرو کیونکہ میں نے ذیشان سے بات کر لی ہے
کل پیر ہے تم کل اپیل دائر کر دو مجھے امید ہے فیصلہ اسی ہفتے میں ہو جائے گا
روہان نے چاۓ کا آرڈر دیا
صائم نے ساری ڈیٹیلز روہان کو سمجھا دئیں کہ کیسے وہ ڈاکیومنٹ تیار کر
صائم کے فون پہ ارباز کی کال آئی
ہیلو ہاں ارباز
یار وہ ایک فائل تھی اغوا کے کیس کی تمہیں کل دی تھی وہ سٹڈی کر لی تم نے،
نہیں یار وہ تو میرے ذہن سے نکل گیا، صائم نے افسوس سے کہا
اچھا تم ایک کام کرو وہ فائل لے کر پولیس سٹیشن پہنچو مجھے کچھ ڈیسکس کرنا ہے، ارباز نے عجلت سے کہا
اچھا میں باہر ہوں پہنچتا ہوں تھوڑی دیر تک
صائم نے فون بند کیا اور اٹھ کھڑا ہوا
اوکے روہان میں چلتا ہوں ضروری کام ہے مجھے کوئی مسئلہ ہو تو کال کر لینا مجھے
اوکے سر روہان نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا
تم صائم کہہ سکتے ہو مجھے، صائم نے مسکرا کر روہان کا بڑھا ہوا ہاتھ تھام لیا
جواباً روہان بھی مسکرا دیا
۔۔
۔۔
مغرب کی اذان ہونے والی تھی جب صائم گھر آیا
لاونج میں مونا مریم اور فاریہ بیٹھے باتوں میں مگن تھیں
صائم نے ایک نظر ان ہر ڈالی اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گیا
کچھ دیر بعد صائم ہاتھ کی فائل اٹھاۓ نیچے آیا اور باہر کی جانب بڑھنے لگا
بھائی رکیں
مریم کی آواز پہ صائم پلٹا
ہاں بولو
بھائی فاریہ نے بابا تھوڑا بزی ہو گئے ہیں تو ہم چل کے چھوڑ آتے ہیں اس کو
مریم میں ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے بچے کہ پہلے آپ کی دوست کو گھر چھوڑوں اور پھر آپ کو واپس یہاں چھوڑنے آوؤں
صائم نے پیار سے مریم کو سمجھایا
کیونکہ ارباز کی عجلت سے اس کو لگ رہا تھا کہ ضرور کوئی سنگین بات ہے
پھر بھائی اب کیا کریں مغرب ہونے والی ہے
آپ اپنی دوست سے پوچھ لو اگر ان کو کوئی مسئلہ نہیں تو میں ڈراپ کرتا جاوں گا ،
اچھا میں پوچھتی ہوں
فاریہ بھائی ضروری کام سے جا رہے ہیں اگر وہ تمہیں ڈراپ کرتے جائیں تو کوئی پرابلم تو نہیں ہو گی
نہیں کوئی مسئلہ نہیں میں چلی جاتی ہوں
صائم باہر جا کر گاڑی کی بیٹھ گیا
فاریہ مونا اور مریم سے مل کر باہر آ گئی
اور گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی
محترمہ میں آپکا ڈرائیور نہیں ہوں آگے آ کر بیٹھیں
صائم نے اپنی مخصوص رعب دار آواز میں کہا
ایک لمحے کے لیے فاریہ کا سانس تھم گیا
لیکن پھر فوراً سے گاڑی سے باہر نکلی اور فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھی
اڈریس بتائیں کہا ڈراپ کرنا ہے آپ کو
صائم نے کہا تو فاریہ نے ایک پوش ایریا کا پتہ بتایا
سارا سفر خاموشی سے گزر گیا اور گاڑی ایک بڑے سے گیٹ کے سامنے گاڑی رکی
تھنکیو فاریہ نے بغیر صائم کی طرف دیکھے کہا اور گاڑی سے اتر گئی
صائم نے مسکرا کر فاریہ کی پشت کو دیکھا اور گاڑی ریورس کی
۔۔
۔۔
یار کب سے انتظار کر رہا ہوں میں صائم
سوری ایک پرسنل کام آ گیا تھا
اب بتاو کیا بات ہے
صائم یہ اس لڑکی ماہم کی فائل ہے جو پچھلے ہفتے اغوا ہوئی تھی
یہ لڑکی ماسٹرز کی اسٹوڈنٹ ہے اور 22 اکتوبر کو یہ لڑکی کالج کے بعد گھر نہیں آئی
تو اس کے والد نے رپورٹ کروائی
29 اکتوبر رات نو بجے اس لڑکی کو نیم مردہ حالت میں سرکاری ہاسپٹل کے پاس ایک گاڑی پھینک کر تیزی سے فرار ہو گئی
گاڑی تیزی سے گزری اور دوسرا رات کا وقت ہونے کی وجہ سے کوئی گاڑی کا نمبر نوٹ نہیں کر سکا
میڈکل رپورٹ کے مطابق لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ ہوا ہے ۔جس کی ایف آئی آر لیڈی ڈاکٹر ماہ رخ اسلام کی طرف سے 30 اکتوبر کو کروائی گئی
جو کہ سب انسپیکٹر رحمان نے کاٹی تھی
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ ایف آئی آر کاٹی ہی نہیں گئی کیونکہ یہ ایف آئی آر سیٹھ اکرم کے چھوٹے بھائی اور اس کے عیاش دوستوں کے خلاف کٹوائی گئی تھی
ارباز نے چند کاغذ کے ٹکڑے ٹیبل پر رکھے
یہ وہ رپورٹ ہے جو ڈاکٹر ماہ رخ کو تسلی دینے کے لیے درج کی گئی اور ان کے جاتے ہی ایس آئی رحمان نے رپورٹ کے ٹکڑے کر کے ڈسٹبن میں پھینک دئیے
صائم نے غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں
دس منٹ کے اندر ایس آئی رحمان کو بلاو
اور اسے کہنا دس منٹ سے ایک منٹ اوپر ہوا تو نتیجہ کا ذمہ دار خود ہو گا
ارباز کمرے سے باہر نکل گیا
صائم نے آئی جی صاحب کا نمبر ڈائل کیا
اسلام وعلیکم سر،
وعلیکم اسلام
صائم نے بلا تمہید بات شروع کی
سر ایس آئی رحمان کا ٹرانسفر میں حیدر آباد کر رہا ہوں
لیکن کیوں صائم
صائم نے تمام باتیں آئی جی صاحب کو بتا دئیں
اس کی پیٹی اتارو حرام خور لوگ سارا پولیس ڈیپارٹمنٹ ایسے لوگوں کی وجہ سے بدنام ہو چکا ہے
آئی جی صاحب دھاڑے
سر فلحال ٹرانسفر ہی ٹھیک ہے حیدرآباد میں جو ایس پی ہے وہ میرا دوست ہے وہ مکمل اس پر نظر رکھے اور جہاں اس نے اوقات دیکھائی پیٹی اتارنے میں بھی دیر نہیں لگے گی
ٹھیک ہے جیسے تمہیں بہتر لگے وہ کرو مجھے کرائم ریٹ نل رپورٹ کرو
سر انشاء الله ایسا ہی ہو گا
بس سر آپ سے گزارش ہے رحمان کا ٹرانسفر نہیں رکنا چاہیے کیونکہ مجھے یقین ہے سیٹھ رحمان پوری کوشش کرے گا اس کو رکوانے کی
بے فکر رہو صائم یہ خبیث کل کی ڈیوٹی حیدرآباد میں دے گا
اوکے سر
صائم نے فون ٹیبل پر رکھا اور کمرے سے باہر آیا
ارباز
یس سر
ایس پی رحمان کہاں ہیں
سر اس نے کہا ہے وہ شہر سے باہر ہے ایک گھنٹے میں پہنچ جائے گا
ارباز نے تفصیل بتائی
اس کا ٹرانسفر لیٹر تیار کرو حیدرآباد کا
اور فوراً کرو
اوکے سر
کچھ ہی دیر میں ٹرانسفر لیٹر تیار ہو کر صائم کی ٹیبل پر آ گیا
صائم نے سائن کیے اور ارباز کے والے کر دئیے
ارباز یہ اس کی ٹیبل پر رکھ دو اور رحیم صاحب کو کہو اس کو بتا دئیں گے ہم اس کے باپ کے نوکر نہیں ہیں جو اس کا انتظار کریں گے
اور گاڑی نکالو ہم ہاسپٹل جا رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔