📱 Download the mobile app free
Home > Hawas by Urwa Fatima NovelM80058 > Hawas (Episode 07)
[favorite_button post_id="15796"]
46215 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 07)

Hawas by Urwa Fatima

مونا کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جن کو عام زبان میں سفید پوش کہا جاتا ہے پانچ بہنیں اور ماں باپ جن کی کفالت کرنے والا ایک اکیلا بھائی اسجد ،
بہنوں کی شادی کرنے کی خاطر دن رات محنت کرنے کے باوجود ہر آنے والے رشتے کے معیار کا جہیز نہیں دے سکا نتیجہ یہ ہوا کے کسی ایک کی بھی شادی کا معاملہ تہہ نہ ہو پایا،
وقت گزرنے کے ساتھ ماں باپ پریشان اور بیمار رہنے لگے اور اسجد بھائی نے شادی کا مطالبہ کر دیا کہ بہنوں کی خاطر وہ اپنی زندگی خراب نہیں کر سکتے بہنوں کا نصیب جب کھلے گا تو دیکھا جاۓ گا،
اکلوتے بیٹے کی بات ماں باپ دونوں کے لئے ٹالنا مشکل تھا بیٹا بھی وہ جس نے پورا کنبہ سنبھالا ہوا ہو،
لحاظہ اسجد کی شادی بہت چاؤ سے کی گئی اور شادی ہوتے ہی انھوں نے ماتھے ہر آنکھیں رکھ لیں، انکی بیوی کا کہنا تھا کہ اسجد پر بوجھ بننے کی بجائے سب بہنیں مل کر اسجد کا ہاتھ بٹائیں کیونکہ شادی انکے نصیب میں نہیں ہے
سب گھر والے بہو کی جلی کٹی سننے پر مجبور تھے کیونکہ بقول بہو کے، انکے میاں کے ٹکڑوں پر پل رہے تھے،۔
پہلے تو اسجد کی غیر موجودگی میں انکی بیوی طعنہ کسی کرتی تھیں لیکن پھر انکی موجودگی میں بھی اسجد کی ماں بہنوں کو بے عزت کرتے شرم محسوس نہ کرتی اور نہ ہی اسجد روکتے،۔
پھر ایک دن مونا نے باپ کے پاؤں پکڑ لیے کہ اسکو کام کرنے کی اجازت دی جائے
باپ نے بیٹی کی ضد کے آگے ہار مان دی اور مونا نے ایک بوتیک میں کام کرنا شروع کر دیا
مونا کا بہنوں میں تیسرا نمبر تھا اور مونا کی عمر اٹھارہ سال تھی لیکن حوصلہ مند بہت تھی تبھی وہ اکیلی تھی جو کام کے لیے بھائی کی مخالفت مول لے گھر سے نکلی تھی
وقت گزرتا گیا اور مونا کے ہاتھ میں ہنر بڑھتا گیا بوتیک میں وہ خود کام کرتی اور گھر آ کر باقی بہنوں کو بھی سکھاتی،
اور ان کے سلے کپڑے علاقے میں بہت پسند کیے جانے لگے،
چار سال بعد مونا کی دونوں بڑی بہنوں کی شادی ایک ہی گھر میں ہو گئی
اس کے بعد مونا کا نمبر تھا لیکن کیونکہ وہ کمانے لگی تھی اس لیے مونا کے لیے ہر آنے والا رشتہ بہانے بہانے سے ٹھکرایا جانے لگا
مونا شکل و صورت میں بھی باقی بہنوں سے خوبصورت تھی لیکن احساس کمتری کا شکار رہنے لگی
اور ایسی لڑکیاں پھر دوسروں کے جھانسے میں بہت جلدی آ جاتی ہیں
مونا بھی معظم کی باتوں میں آ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معظم بوتیک کے لیے کپڑا سپلائی کرنے آتا تھا اور ہفتے میں دو چکر ضرور لگتے تھے اس کے
پھر ایک دن معظم کی نظر مونا پر پڑی اور وہیں دل ہار بیٹھا
بہانے بہانے سے مونا کو مخاطب کرنا آۓ دن بوتیک کے چکر لگانا اس کے معمولات میں شامل ہو چکا تھا
آہستہ آہستہ مونا بھی مانوس ہو گئی اور دونوں کی دوستی کب محبت کی شکل اختیار کر گئی اس بات سے دونوں انجان تھے
معظم کے بعد جب مونا نے بھی اعتراف محبت کیا تو معظم نے شادی کی رٹ پکڑ لی
معظم کا رشتہ مونا کے گھر آیا اور دو ٹکے کا سیلز مین کہہ کر ٹھکرا دیا گیا
لیکن اس بار مونا نے خاموشی سے اپنا رستہ بدل لیا اور معظم سے کورٹ میرج کر لی
معظم اور مونا دونوں کے گھر والوں نے ان سے تعلقات توڑ دیئے
لیکن دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا سب کچھ مان لیا تھا
دونوں اپنی زندگی سے مطمئن اور خوش تھے
شادی کے دو سال بعد مونا کی گود میں صائم آیا تو جسے انکی زندگی میں بہار آ گئی
صائم نے مونا اور معظم کی محبت کو مکمل کر دیا تھا
اتنے عرصے میں کبھی دونوں آپس میں لڑے جھگڑے نہ کوئی فساد کیا
ہر حال میں خوش ہر حال میں مطمئن، مونا کی زندگی میں بہار معظم اور صائم سے تھی
اور بہار کو مزید خوبصورت بنانے مریم آ گئی
لیکن کس کو پتا تھا کہ اب یہ بہار خزاں میں بدلنے والی ہے کیونکہ حالات کیسے بھی ہوں جو لوگ ماں باپ کا دل دکھاتے ہیں وہ اول تو سکون پاتے ہی نہیں ہیں لیکن اگر سکون میسر ہو جائے تو ذیادہ دیر تک نہیں رہتا
مونا کی زندگی میں بھی نہیں رہا تھا
مریم کی پیدائش کے تیسرے روز معظم کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور وہ خالقِ حقیقی سے جا ملا
۔۔۔۔۔۔
مونا کو نہ اپنی خبر رہی نہ اولاد کی بس ایک غم کا پہاڑ تھا جس کے بوجھ تلے وہ دبی جا رہی تھی
رشتہ دار کوئی پاس تھا نہیں اور محلہ دار تین دن کا سوگ منا کر پھر نہ پلٹے
لیکن صالحہ جو کہ نئی نئی بیاہ کر آئیں تھیں انھوں نے اور نگار بیگم نے مونا اور اس کے بچوں کا بہت خیال رکھا
عدت کے شروع شروع کے دنوں میں مونا اپنے میکے گئیں لیکن بھابھی نے انکی ایک ماہ کی بچی کا بھی خیال نا کیا اور دروازے سے ہی یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ اسجد پر پہلے ہی بہت ذمہ داریاں ہیں مزید تمہارا اور تمہارے بچوں کو بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے بہتر ھے جیسے آئی ہو ویسے لوٹ جاؤ
۔۔۔
مونا ویسے ہی آنسو بہاتی صائم اور مریم کو لے کر واپس آ گئیں لیکن ایک پختہ عزم کے ساتھ کہ آئندہ وہ اللّٰه کے علاوہ کسی سے کچھ نہیں مانگیں گی اور ایسا ہی ہوا
مونا نے عدت کے دوران گھر میں لوگوں کے کپڑے سی کر اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کیا
صائم کی عمر اس وقت چھ سال تھی اور مریم پانچ ماہ کی جب مونا نے بوتیک پر دوبارہ جانا شروع کیا
گھر میں کپڑے سلائی کرتی اور پھر مارکیٹ میں سپلائی کرتیں
بازار میں طرح طرح کی نظروں اور جملوں کا سامنا کرتیں، صبر کرتیں لیکن حالات نے انکا مزاج تلخ کر دیا تھا بات بات پر بچوں پر غصہ ہو جاتیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم ماں سے بہت دور ہو گئی ،،۔
لیکن وقت بہت بڑا رہنما ہے سب کچھ سکھا دیتا ہے مریم نے بھی خاموش رہنا سیکھ لیا تھا ہر بات پہ، ہر حال میں،
وقت پر لگا کر اڑ گیا اور معظم کی موت کو بارہ سال گزر گئے جب ذیشان نے مریم کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی خدا تعالیٰ کے کرم سے مریم محفوظ رہی لیکن کئی راتیں روتی اور ڈرتی رہی مگر زبان سے ایک لفظ نا بولی ،،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم دروازے کو ٹھیک سے بند رکھنا بھائی تمہارا دوکان پہ چلا گیا ہے صبح ہی، اتوار ہے نا تو صبح ہی سیٹھ نے بلا لیا اسکو اور میں جا رہی ہوں کپڑے سپلائی کرنے،مونا نے عجلت میں ساری بات مریم کو بتائی
اچھا ٹھیک ہے مما،مریم نے ریموٹ سے چینل بدلتے ہوئے کہا
اس ناس پیٹے ٹ ٹی وی کے سر نا ہوئی رہنا دو چار برتن پڑے ہیں دھو دینا اور اٹھو کنڈی لگاؤ
بلکہ یہ کرسی آگے رکھ لو کنڈی بھی خراب ہے ایک جھٹکے سے کھل پڑی ہے
ٹھیک ہے مما اللّٰه کے حوالے، مریم نے دروازہ بند کیا اور آگے کرسی رکھ کر دوبارہ کمرے میں آ گئی،،۔
ابھی مریم آ کر بیٹھی ہی تھی کے دروازے پر دستک ہوئی
اس وقت کون آ گیا،،
کون ہے، مریم نے دور سے ہی پوچھا
میں ہوں ذیشان،
تت تم کیوں آۓ ہو،
مٹھائی دینے آیا ہوں نائلہ کی منگنی ہے نا اتوار کو اس لیے،
ابھی جاو بعد میں آنا،
کیوں! ابھی لے لو میں نے اور جگہ بھی جانا ہے،تم آنٹی کو بلاؤ میں انکو دے دیتا ہوں، ذیشان نے عام سے لہجے میں کہا
امی نہیں ہیں بعد میں آ جانا، میریم نے ڈر پر قابو پا کر کہا
اچھا میں چلا جاتا ہوں بعد میں آنٹی کو میں کہہ دوں گا کہ میں آیا تھا اور تم نے مٹھائی لینے سے منع کر دیا تھا، ذیشان نے چال چلی
مریم سوچ میں پڑ گئی، اگر اس نے ایسا کیا تو مما ڈانٹیں گی وہ تو پہلے ہی اتنی ناراض رہتی ہیں مجھ سے،
۔۔۔۔۔۔۔۔
(کچھ والدین سمجھتے ہیں کہ وہ بچوں کی
تمام ضروریات، خواہشات پوری کر رہے ہیں تو سب فرض ادا ہو گئے ہیں اور کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی بچوں کو، لیکن ایسے والدین یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے توجہ کے پیاسے ہوتے ہیں محبت بھی دوسرے درجے پر آتی ہے ان معصوم فرشتوں کے لئے کیونکہ جب آپ توجہ سے بچے کی باتیں، خوف ، خدشات، احساسات کو نہیں سمجھیں گے بچہ آپ سے دور ہوتا جائے گا ،
لیکن اکثر والدین اولاد کی ضروریات کو ذمہ داری سمجھ کر دن رات کام کرتے رہتے ہیں نتیجہ، اپنی اولاد کو خود سے اتنا دور کر جاتے ہیں کہ وہ باتیں چھپانے لگ جاتے ہیں، یا وہ والدین دنیا جہان کے کام تو خوش اسلوبی سے کرتے ہیں لیکن اپنی اولاد کی ذرا ذرا سی باتوں پر ڈانٹ دیتے ہیں ٹوک دیتے ہیں تو بچے اپنے سے جڑی تمام اچھی، بری باتیں چھپانے لگ جاتےہیں تا کہ انکے ماں باپ کو نا گوار نا گزرے،ایسے بچے جتن کرتے ہیں کے کسی طرح ان کے والدین خوش ہو کر ان کو سراہیں لیکن افسوس کچھ لوگ اپنی اولاد کے احساسات کو سمجھ ہی نہیں پاتے، مونا کا شمار بھی انھیں والدین میں ہوتا تھا جو اپنی اولاد کو سمجھنے کی بجائے سمجھانے پر ہی لگے رہتے ہیں اور مریم کا شمار ان بچوں ہوتا ہے جو والدین کو خوش کرنے کے چکر میں لگے رہتے ہیں ہر اس کام سے ڈرتے ہیں جو ان کے ماں باپ کو ناگوار گزرے،
اور آج بھی مریم نے ماں کی ناراضگی کے ڈر سے ذیشان جیسے مکروہ انسان کے لیے دروازہ کھول دیا جس نے پہلے بھی مریم کو داغدار کرنے کی کوشش کی تھی)
…………
میں چلا جاؤں پھر، ذیشان نے مکاری کا مظاہرہ کیا
نہیں رکو، مجھے دے دو، مریم نے دروازے سے کرسی ہٹا کر کنڈی کھولی ہی تھی کے ذیشان نے اچانک سے دروازے کو دھکا دیا
اس اچانک افتاد پر مریم اپنا توازن برقرار نا رکھ سکی اور زمین پر جا گری
ذیشان تیزی سے اندر داخل ہوا اور کنڈی لگا دی، اور ساتھ ہی شہادت کی انگلی مریم کی طرف کر کے پھنکارہ
مریم آواز نا نکلے تمہاری، اور یہ میری آخری وارننگ سمجھنا، ذیشان نے زمین پہ گری مریم کا منہ دبوچ کر کہا
چھوڑو مجھے گندے آدمی، مریم نے ذرا چینخ کر کہا
اتنے میں ایک زوردار تھپڑ ذیشان نے مریم کے منہ پہ دے مارا
منع کیا ہے نا کہ آواز نہیں نکلنی چاہیے، ذیشان نے ایک ہاتھ سے کنپٹی مسلتے ہوئے کہا
ہاں تو شہزادی کہا تھا نا جب تک منہ بند رکھو گی فائدے میں رہو گی، اور رہی بھی ،،ذیشان نے مریم کے گال کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے کہا، جو کہ تھپڑ کی وجہ سے خاصہ سرخ ہو گیا تھا
ہاتھ مت لگاؤ مجھے، ذلیل انسان ،
ارے ارے ابھی تو اصل ذلیل پن میں نے دیکھایا ہی نہیں اور تم پہلے گھبرا گئیں
چلو آ جاؤ اندر چل کر باتیں کرتے ہیں ذیشان نے آخری بات مریم کے کان میں سرگوشی کی طرح کی
پیچھے ہٹو، کہتے ساتھ ہی آنسو مریم کی آنکھوں سے بہہ نکلے
ارے میری گڑیا ایسے نہیں روتے آ جاو نا اندر چلتے ہیں،ذیشان نے ہاتھ بڑھا کر مریم کو اٹھانا چاہا
جسے مریم نے حقارت سےجھٹک دیا
اوکے ایسے نہیں تو ویسے سہی، لیکن اندر تو تمہیں چلنا ہی پڑے گا، کہتے ساتھ ہی ذیشان نے ایک ہاتھ مریم کے منہ پہ رکھا اور ایک ہاتھ سے مریم کو تقریباً اٹھاتے ہوئے اندر چل دیا
مریم ذیشان کی قید سے چھوٹنے کے لیے سر توڑ کوشش کرنے لگی جس پر ذیشان نے قہقہہ لگایا
اتنی نازک سی ہو مت کرو کیونکہ تکلیف تمہیں ہی ہو گی
مریم کی آنکھوں سے مارے بے بسی کے آنسو بہنہ شروع ہو گئے
ذیشان نے کمرے میں پہنچ کر مریم کو بیڈ پر پھینکنے کے مترادف لیٹایا
مریم نے دوبارہ اٹھنے کی کوشش کی تو ذیشان اس کی دونوں گھٹنوں پر پاؤں رکھ کر بیڈ پہ کھڑا ہو گیا
بس کر دو لڑکی اتنا مت پھڑپھڑاو کیونکہ یہ تمہاری غلطی کی سزا ہے تمہیں بھگتنا پڑے گی،
نہ تم چچی کو پرانی باتیں بتاتی نہ مجھے میرا وہ سر کا زخم یاد آتا، اور نہ میں بدلے کی آگ میں جلتا
خیر اب تو تم جلو گی ہمیشہ، ذیشان نے پرسکون انداز میں کہا
خدا کے لیے رحم کرو مجھ پہ مم میں کسی کو کچھ نہیں بتاوں گی تم بس چھوڑ دو مجھے ، مریم نے ہاتھ جوڑتے ہوا التجا کی
نہ نہ نہ اب نہیں ایک بار تمہاری باتوں میں آچکا اب نہیں اس لیے رونا دھونا بند کرو،
ذیشان نے آخر میں مریم کا دوپٹہ کھینچ لیا
نہیں ایسا نہیں کرو اللّٰه ناراض ہو گا ایسے نہیں کرو
تم ایسے منہ بند نہیں کرو گی، کوئی انتظام کرنا پڑے گا
ذیشان نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی پھر مریم کا ہی دوپٹہ اٹھا کر اسکے منہ پر باندھ دیا
لیکن پھر مریم نے ہاتھوں سے ذیشان کو دھکے دینا شروع کردئیے
ابے یار تم تو بڑی زہریلی ہو، ذیشان نے مریم کے دونوں ہاتھ، ایک ہی ہاتھ میں پکڑ لیے
اور مریم کے چہرے پر جھکنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صائم او صائم، جی استاد آیا
آج کیا تاریخ ہے، استاد اکتیس اکتوبر استاد، صائم نے جوتوں کے ڈبے ترتیب سے رکھتے ہوئے جواب دیا
او چھڈ یار کم ایدر آ میرا پتر(اوے چھوڑ یار کام کو ادھر آ میرا بیٹا)
جی استاد،
جا چھٹی کر،
جی استاد صائم گھبرا گیا
او ڈر نا یار نکال نہیں رہا چھٹی دے رہا ہوں آج کی ،،
مگر استاد میں نے تو نہیں مانگی چھٹی، صائم نے سوچتے ہوئے کہا
نہیں مانگی اسی لیے تو دے رہا ہوں یار چھٹی، تو نے پورے تیس دن کالج جانے کے باوجود کام کیا اس لیے جا عیش کر میرا شیر، استاد نے خوش دلی سے کہا
مگر استاد پھر ڈیلی کٹ جائے گی، صائم نے جھجھکتے ہوئے کہا
او نہیں کاٹتی جا تو بھاگ جا نہیں تو میرا موڈ بدل جاۓ گا پھر بیٹھا رہیں رات دو بجے تک
نہیں نہیں مجھے جاتا دیکھو آپ اب صائم نے ہنستے ہوئے جواب دیا
ہا ہا جا بھاگ جا،استاد بھی ہنسنے لگا
تھنکس اللّٰه تعالیٰ ، صائم نے بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے اللّٰه کا شکر ادا کیا
اور بے شک اللّٰه کے بندے ہر حال میں اپنے ربِ واحد کا شکر ادا کرتے ہیں
راستے سے صائم نے سموسے اور چاٹ خریدے
آج میری چندا بہت خوش ہونے والی ہے صائم نے سوچا اور کھانے کی اشیاء پیک کروا کر گھر کی راہ لی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صائم نے دروازہ بجانے کی بجائے تیکنک سے ایک جھٹکا دیا اور دروازہ کھل گیا
مریم بھی نا دروازہ ٹھیک سے نہیں بند کیا پاگل
صائم اندر داخل ہوا تو دیکھا کے دروازے کے آگے رکھی جانے والی کرسے ایسے پڑی تھی جیسے کسی نے اٹھا کے پھینکی صائم نے ایک جانچتی نظر کرسی پر ڈالی اور کچن میں گھس گیا جو کہ دروازے کے بلکل پاس تھا
صائم نے سامان رکھا کہ اس کو کچھ گرنے کی آواز آئی
صائم نے فوراً کمرے کی طرف دیکھا جس کا دروازہ بند تھا
نا جانے کیا سوچ کر صائم نے بھاگ کر اپنی پوری طاقت سے دروازے کو دھکا مارا
ایک عجیب سی تیز آواز کے ساتھ دروازہ کھلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذیشان نے جھک کر مریم کے چہرے کو چھونا چاہا تو مریم نے ہاتھ چھڑا کر اسے پیچھے دھکیلا
ذیشان نے غصے سے مریم کو دیکھا مگر بولا کچھ نہیں
بلکہ دوبارہ مریم کے دونوں نفیس سے ہاتھ اپنے ایک ہی ہاتھ میں جکڑ لیے اور اپنی شرٹ دوسرے ہاتھ سے کھولنے لگا جبکہ پاؤں ابھی تک مریم کے گھٹنوں پر تھے جسکی وجہ سے وہ ہل نہیں پا رہی تھی
مریم نے دوبارہ ہاتھ چھڑانے کی بھر پور کوشش کی مگر ناکام رہی
ذیشان نے اپنی شرٹ اتار کر مریم کے ہاتھ اپنی شرٹ سے ہی باندھنا شروع کیے
اور چک دم سے بند دروازہ ایک زوردار آواز کے ساتھ کھلا
ذیشان نے ہڑبڑا کر پیچھے دیکھا تو صائم اسکی طرف لپکا گھٹیا کمینے تیری ہمت کیسے ہوئی میرے، میرے گھر کی عزت کو پامال کرنے کی، صائم نے ذیشان کو کندھوں سے پکڑ کر بیڈ سے اتارا
صا صا صائم تم، ذیشان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا
بکواس بند کر کمینے تو کیا سمجھا تیرے ناپاک ارادوں میں تو کامیاب ہو جائے گا اور کسی کو نہیں پتا چلے گا صائم نے پوری طاقت سے تھپڑ ذیشان کے منہ پہ دے مارا اور ذیشان زمین پہ جا گرا.
صائم نے لاتوں اور مکوں کی برسات کر دی
ذیشان کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا
اٹھ بےغیرت انسان,, صائم، ذیشان کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر لے جانے لگا
اینٹوں والے ٹوٹے پھوٹے فرش پر گھسیٹنے سے ذیشان کی بنیان پھٹنے لگی تھی
صائم گھسیٹ کر ذیشان کو گلی میں لے آیا
اور پھر سے تھپڑ رسید کر دیا لیکن اب کے ذیشان سنبھل چکا تھا اور جواب میں صائم کے منہ پر تھپڑ دے مارا
دونوں کو دیوانہ وار لڑتا دیکھ آہستہ آہستہ محلے کے اور بھی لوگ باری باری انکے قریب آنے لگے
کسی نے صائم سے ذیشان کو اتنی بری طرح پیٹنے کی وجہ پوچھی تو صائم نے غم و غصے کے مارے دھاڑنا شروع کر دیا
یہ یہ ذلیل آدمی گھٹیا آدمی میرے ہی گھر میں گھس کے میری ہی بہن کو…..
اس سے آگے صائم کی زبان نے ساتھ نا دیا اور وہ دوبارہ ذیشان کو دبوچ چکا تھا
میں اسکو جان سے مار دوں گا میری معصوم اور پاک بہن کو تو نے اپنے ناپاک ہاتھوں سے چھوا کیسے کمینے
صائم غصے میں پاگلوں کی طرح چینخ رہا تھا اور ذیشان کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ وہ صائم کی باتوں کو جھٹلاۓ کیسے وہ صرف یہی کہی جا رہا تھا کہ صائم جھوٹ بول رہا ہے
شور شرابا سن کر رافع صاحب بھی گھر سے نکل آۓ کیونکہ یہ تمام کاروائی انکے گھر کے بلکل سامنے ہو رہی تھی اور صالحہ دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئیں کیونکہ سامنے مردوں کو جھرمٹ لگا ہوا تھا
کیا ہو رہا ہے یہ، رافع صاحب نے خاصہ دھاڑ کر کہا
(آج اتوار تھا اور وہ فجر کے بعد سو گئے تھے لیکن اس شور شرابے کی وجہ سے بدمزہ ہو کر اٹھے تھے تاکہ ان لڑکوں کی طبعیت صاف کر سکیں کیونکہ ان کے خیال میں کسی بے تکی بات پر یہ ناکارہ لڑکے جھگڑے ہوں گے)
رافع صاحب کو دیکھتے ہی ذیشان ان کی طرف لپکا
چچا. چچا یہ مار رہا ہے ، ذیشان نے صائم کی طرف اشارہ کر کے فوراً مظلومیت کا لبادہ اوڑھ لیا
ذیشان کے ناک سے خون بہہ رہا تھا اور بنیان پھٹی ہوئی تھی دیکھ کر ہی لگ رہا تھا اس کو کتنی مار پڑی ہے
رافع صاحب نے صائم کو دیکھا اور حیران ہوئے کیونکہ صائم جتنا ٹھنڈی طبعیت کا مالک تھا اس سے ایسی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی تھی
رافع انکل یہ ذلیل آدمی میرے گھر میں تھا اور میری بہن کی عزت پہ ہاتھ ڈال رہا تھا وہ تو میرے اللّٰه نے مجھے وقت پر بھیج دیا
لیکن اب میں اسکو زندہ نہیں چھوڑوں گا صائم پھر بپھر گیا
ذیشان یہ کیا کہہ رہا ہے رافع صاحب نے آنکھوں میں حیرانی لئے ذیشان سے پوچھا
چچا جھوٹ بول رہا ہے یہ مم میں تو آپی کی منگنی کی مٹھائی دینے آیا تھا تو اسکی بہن مجھے زبردستی اندر لے گئی ذیشان نے سفاکی کی انتہا کر دی
کیا بکواس کر رہا ہے سالے جھوٹے صائم کا ایک تھپڑ ذیشان کو پر جاتا اگر رافع صاحب بیچ میں نا آتے
صائم حوصلہ کرو ایسےبات مزید بگڑے گی رافع صاحب تحمل سے گویا ہوئے
انکل آپ اس بے حیا انسان کے لئے تحمل کرنے کا کہہ رہے ہی جو ، جو شخص میری بہن کو رسوا کر رہا ہے خدا کا خوف کریں انکل آپ بھی بیٹی والے ہیں اپنی بیٹی ہی سمجھ کر میری مریم کا فیصلہ کیجیے گا صائم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
رافع صاحب. کو یک دم سانپ سونگھ گیا جبکہ نورے کے بارے میں سوچ کر صالحہ نے دروازہ کھولا اور تمام مردوں کو راستہ دینے کا کہتی مریم کے گھر چلی گئیں
مریم میری بچی،
مریم کے ہاتھ ذیشان کی شرٹ سے بندھے ہوئے تھے جبکہ دوپٹہ اس کے منہ پہ سختی سے بندھا ہوا تھا،،
صالحہ مریم کو اس حال میں دیکھ کر تڑپ گئیں
صالحہ کو دیکھ کر مریم نے گھٹی گھٹی آواز میں رونا شروع کر دیا
صالحہ نے مریم کے منہ پر سے کپڑا ہٹایا اور ہاتھ کھول کر شرٹ اٹھاے باہر کی طرف چل دئیں.
۔۔۔
باہر آ کر صالحہ نے دیکھا کہ روہان بھی آچکا تھا جو خاموش کھڑا تھا
اور ذیشان مریم پر بیہودہ الزامات لگا رہا تھا ایک ایسی بچی پر جسکی عمر تیرہ چودہ سال ہے
جبنکہ صائم سر جھکاۓ کھڑا ہے مانو جیسے ذیشان سچا ہو اور وہ جھوٹا،
صالحہ بغیر کسی کی پرواہ کیے لوگوں کے اس جھرمٹ کے بیچ میں گھس کے ذیشان کے سامنے جا کھڑی ہوئیں
صالحہ اندر جاؤ تم، رافع صاحب. دبے دبے غصے سے مخاطب ہوۓ
صالحہ نے ایسے ظاہر کیا جیسے انھوں نے رافع صاحب کی بات سنی ہی نہیں
اگر تم مریم کے کہنے ہر گئے تھے تو یہ تمہاری شرٹ سے اسکے ہاتھ کیوں بندھے ہوئے تھے، صالحہ نے تمام لوگوں کے سامنے شرٹ ذیشان کے منہ پہ دے ماری
صالحہ ہم بات کر رہے ہے نا تم اندر جاؤ ، رافع صاحب پھر گھور کر بولے
اب بول نا بے حیا انسان کیوں بندھی تھی ،صائم نے ایک بار پھر چلا کر کہا
ہٹو سامنے سے کیا سیاپہ ہے، سب کو پیچھے ہٹاتے راستہ بنا کر منور تھانیدار نے سوال کیا جو اسی محلے میں رہتا تھا
رافع صاحب نے اس کے آتے ہی صالحہ کا ہاتھ پکڑا اور گھر چلے گئے
منور تھانیدار نے دونوں فریق کی بات سنی اور شام چار بجے تمام محلے والوں کو پنچایت میں شریک ہونے کا کہا کیونکہ اب بات عزت کی ہے تو معاملہ انصاف کی بنا پر حل کیا جائے گا
سب نے بات پر اتفاق کیا
صائم اور ذیشان دونوں گھر چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صالحہ تمہاری ہمت کیسے ہوئے پورے جہان کے سامنے میرا تماشا بنا دیا، رافع صاجب دھاڑے
میں نے سچ کا ساتھ دیا جو آپ نہیں دے رہے تھے،صالحہ نے بھی آنکھوں میں آنکھے ڈال کر جواب دیا
کیا بکواس کر رہی ہو میں نے کب جھوٹ کا ساتھ دیا،
جرم پر خاموش رہنا مجرم کا ساتھ دینا ہی ہوتا ہے رافع،۔
یعنی تمہیں لگتا ہے کہ ذیشان نے مریم کے ساتھ برائی کرنے کی نیت سے اس کے گھر تک خود رسائی حاصل کی ، رافع صاحب نے ایسے پوچھا جیسے یقین ہو کہ صالحہ انکار کر دئیں گی
مجھے لگتا نہیں ہے سو فیصد یقین ہے کہ ذیشان جیسا گھٹیا انسان مریم کی طرف بری نیت لے کر ہی گیا تھا
رضا بھائی اور بھابھی کی تربیت میں کھوٹ نہیں ہوسکتا، رافع صاحب نے اعتماد سے کہا
مان لیں رافع ان دنوں کی تربیت کا اثر اس بے ضمیر انسان پہ نہیں ہوا ، صالحہ نے بھی برابر کا جواب دیا
تم دونوں آپس میں کس لیے لڑ رہے ہو کیا تعلق تم دونوں کا اس سب سے، نگار بیگم چڑ کر بولیں
اماں اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے بھری محفل میں ذیشان کے خلاف باتیں کی ہیں اس نے کیا سوچیں گے لوگ کہ میری بیوی میں حیا نہیں ہے جو مردوں میں یوں بےباکی دیکھا رہی ہے
ذیشان کے خلاف ہو نا تم دیکھنا شام کو پنچایت میں فیصلہ اس کے حق میں ہو گا میں خود گواہی دوں گا اس کے حق می کیونکہ مجھے رضا بھائی کی تربیت کر پورا بھروسہ ہے،،رافع صاحب نے یہ سب باتیں صرف صالحہ کو نیچا دیکھانے کے لیے بولی تھیں
آپ پنچایت میں نہیں جائیں گے رافع صاحب ، صالحہ نے دو ٹوک بات کی
اور یہ تم سے کس نے کہا کہ میں نہیں جاؤں گا، میں ضرور جاؤں گا اور ذیشان کا ساتھ دوں گا ،
میں کہہ رہی ہوں کہ آپ اس گھٹیا شخص کے حق میں گواہی نہیں دئیں گے، صالحہ نے چلا کر کہا
آہستہ آواز میں بات کرو صالحہ میرا صبر مت آزماؤ، رافع صاحب کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ چکا تھا
۔۔۔
ان دونوں کی بارہ سال میں پہلی بار ایسی تلخ کلامی ہوئی تھی کہ دونوں ہی خاموش نہیں ہو رہے تھے،،،۔
میں صبر آزما رہی یا آپ،بار بار اس گھٹیا انسان کی فیور میں آپ بول رہے ہیں جو دوسروں کی بہنوں بیٹیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی تاڑ کی لگا رہتا ہے اور صبر میں آزما رہی ہوں آپکا، صالحہ نے افسوس بھری نگاہوں سے میاں کو دیکھا
کیا ثبوت ہے تمہارے پاس کہ مریم کا کوئی قصور نہیں ذیشان ہی غلط ہے ہو سکتا ہے واقعی مریم نے بلایا ہو ذیشان کو، رافع صاحب نے طنز کیا
ثبوت ،ہونہہ برداشت کرییے گا رافع صاحب اب ثبوت کو صالحہ کہتے ساتھ ہی کمرے میں داخل ہو گئیں
رافع اور اماں ایک دوسرے کو نا سمجھی سے دیکھنے لگے
یہ لیں ثبوت رافع صاحب،
کیا مطلب، رافع نے سامنے کھڑی نورے کو نا سمجھی سے دیکھا
رافع یہ ہے وہ ثبوت جس نے مجھے اس ذلیل انسان کے خلاف آج سڑک پہ تماشا کرنے ر مجبور کر دیا.
آپ کا وہ با اعتماد گھر کا پلا بچہ آج سے تین ماہ پہلے آپکی اس بیٹی کو اپنی درندگی کی نظر کر چکا ہوتا اگر اس وقت مریم اس کو نا بچاتی وہی مریم جو آج آپ کو ذیشان کے مقابلے میں جھوٹی لگ رہی ہے وہی مریم ایک بار پہلے بھی اس درندے کے ہاتھوں اللّٰه کے کرم سے بچ گئی تھی
صالحہ نے ایک ایک کر کہ تمام باتیں رافع اور اماں کو بتا دیں
رافع صاحب کی آنکھیں پتھرا گئیں اور وہ دیوار کا سہارا لیے بیٹھتے چلے گئے
صالحہ نے آگے بڑھ کر رافع کے دونوں ہاتھ پکڑے رافع سنبھالیں خود کو
مم میری نورے کو اس. اس نن نے رافع کے گلے میں جیسے آنسوؤں کا گولا اٹک گیا
رافع میرا بیٹا حوش کرو وہ ماں ہو کہ سب برداشت کر گئی تو تمہیں تو حوصلہ کرنا چاہیےاور شکر کرو ہماری نورے محفوط ہے نگار بیگم نے بیٹے کے آنسو صاف کرتے ہوئے سمجھایا
یک دم رافع اٹھ کھڑے ہوئے، میں اس نیچ انسان کو زندہ نہیں چھوڑوں گا
نہیں رافع آپ کو اللّٰه کا واسطہ ہے آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ، صالحہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
میں نے ہمارا معاملہ اللّٰه کے حوالے کر دیا ہے اب وہی انصاف کرے گا
یہ معاشرہ گناہگار مرد کو معاف کر دیتا ہے مظلوم عورت کو نہیں
میں اپنی بیٹی کو مضبوط بنانا چاہتی ہوں مظلوم نہیں
صالحہ کی بات سن رافع صاحب ڈھیلے پڑ گئے