📱 Download the mobile app free
Home > Hawas by Urwa Fatima NovelM80058 > Hawas (Episode 12)
[favorite_button post_id="15796"]
46215 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 12)

Hawas by Urwa Fatima

آ جاؤ بیٹا بلکہ روکو ایک منٹ، سکینہ نے نائلہ کی طرف سے کار کا دروازہ کھولا
بلال ادھر آؤ نائلہ کی مدد کرو
جی امی بلال نے آگے بڑھ کر نائلہ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا
جسے جھجکتے ہوئے نائلہ نے تھام لیا اور کار سے باہر آ گئی
ارے مووی والے بھائی چلو کام پہ لگو بلال نے ایک کزن نے مووی والے کو آواز دی
نائلہ نے ریڈ گولڈن کلر کا بھاری کام دار لہنگا پہنا ہوا تھا جبکہ بلال نے گولڈن کلر کر شیروانی زیب تن کی ہوئی تھی
ساتھ ساتھ چلتے ہوئے دونوں لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بنے ہوئے تھے
بلال نے اب تک نائلہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جسکی وجہ سے نائلہ کسی سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی
سامنے دیکھیں بہنا، مووی والے نے نائلہ کو سامنے دیکھنے کی تائید کی
نائلہ نے ذرا سا سر اٹھا کر سامنے دیکھا اور پھر جھکا لیا
بلال اور نائلہ کو کمرے میں لے جانے سے پہلے خاندانی رسمیں کی گئیں،،،
نائلہ یہ کنگن میری اماں نے مجھے میری شادی والے دن پہناۓ تھے اور میری نانی نے میری اماں کو لیکن میں نے یہ کنگن اپنی بہو کے لیے رکھے ہوئے تھے کیونکہ اصل بیٹیاں تو بہوئیں ہوتی ہیں نا
سکینہ نے خاندانی کنگن نائلہ کے ہاتھوں میں پہناۓ
شکریہ آنٹی، نائلہ نے مسکرا کر کہا
ارےےے میری امی آپ کو بیٹی کہہ رہی ہیں اور آپ آنٹی کہہ رہی ہیں انکو امی کہیں اچھا لگے گا امی کو بلال نے آہستہ آواز میں کہا
لیکن پھر بھی سکینہ سن چکی تھیں
شکریہ ام امی نائلہ نے دوبارہ سے کہا تو سب ہنس پڑے
بیٹے آپ کو اسکی باتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ہے آپ آنٹی کہو یا امی آپ کی مرضی ہے سکینہ نے خوشدلی سے کہا
سونیا بھابھی کو کمرے میں لے جاو تھک گئی ہو گی بچاری سکینہ نے بیٹی سے کہا
نائلہ کے جاتے ہی بلال بھی اٹھنے لگا
اوو بھائی تو کدھر، سونیا کے شوہر نعیم نے کہا جو کہ بلال کا خالہ زاد بھی تھا
اپنے کمرے میں ، بلال نے سادگی سے جواب دیا
ایسے کیسے کمرے میں، ہمیں کون ٹائم دے گا،
کیا مطلب بلال نے نا سمجھی سے کہا
چل مطلب سمجھاتے ہیں تجھے اور سب کزنز بلال کو کھینچ کے باہر لے گئے
۔۔
۔۔
نائلہ ویسے تو بلال مجھ سے بڑا ہے لیکن صرف ایک سال اس لیے میں بھائی نہیں کہتی اسکو لیکن اگر تم کہو گی تو میں تمہیں بھابھی کہہ لوں گی سونیا نے نائلہ کی جھجھک ختم کرنے کے لیے کہا
نہیں آپ مجھے نام سے ہی بلا لیں، نائلہ نے کہا
ماہین آپی باہر نظر نہیں آئیں وہ کہاں ہیں، نائلہ نے سوال کیا
وہ نا ناراض سی ہیں کیونکہ انکی نند سے بلال نے شادی نہیں کی اس لیے ان کے شوہر انکو ہال سے ہی واپس لے گئے تھے سونیا نے تفصیل بتائی
نائلہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا
نائلہ ہماری آپی نا اچھی خاصی تیز مزاج کی ہیں اور سونے پہ سہاگا بلال نے انکی نند سے شادی نہیں کی اس لیے ہو سکتا ہے وہ تم سے سختی سے بات کریں
تو یار برا نہیں منانا پلیز جیسی بھی ہیں ہماری بہن ہیں بس زبان کی تیز ہیں لیکن دل کی بری نہیں ہیں،،
جی میں پوری کوشش کروں گی نائلہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
چلو میں بلال کو بھیجتی ہوں سونیا نے اٹھتے ہوئے کہا
۔۔
بلال یہاں کیا کر رہے ہو چلو جاؤ کمرے میں وہ بچاری اکیلی بیٹھی ہے سونیا بلال کو ڈھونڈتی باہر لان میں آئی تو سب کے ساتھ بلال کو بیٹھے دیکھا
یہ اپنے شوہرِ نامدار کو سمجھاو نا جو ایک گھنٹے سے مجھے پکڑ کے بیٹھا ہے، بلال نے دھائی دی
نعیم جانے دیں اس کو اور آپ سب بھی اٹھو سونیا نے تمام مرد حضرات کو کہا
جا یار کیا یاد کرے گا نعیم نے بلال کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا
بلال فوراً کھڑا ہو گیا شکریہ میرے بھائی شکریہ اور بلال نے اپنے کمرے کا رخ کیا،،
دروازے پہ رک کر بلال نے لمبا سانس لے کر دروازے پہ دستک دی
نائلہ نے دستک سنی تو نظریں جھکا لیں
بلال نے کمرے میں آ کے دروازہ لاک کیا
اور بیڈ پہ ایک کونے پہ بیٹھ گیا
یہ میں آپ کے لیے لایا تھا بلال نے ایک بکس نائلہ کی طرف بڑھایا
تھینکس ،نائلہ نے بکس لے کر ایک طرف رکھ دیا
دیکھ تو لو یار، بلال نے ایک طرف پڑے بکس کو دیکھ کر کہا
نائلہ نے بکس کھولا تو ایک نفیس سی ہیرے کی انگوٹھی موجود تھی ۔
یہ تو بہت خوبصورت ہے نائلہ نے جوش سے کہا اور پھر یک دم جھینپ گئی
نائلہ کی اس حرکت پر بلال نے دل سے قہقہہ لگایا
اور بکس میں سے انگوٹھی نکال کے نائلہ کے ہاتھ میں پہنا دی
اب ذیادہ خوبصورت ہو گئی ہے بلال نے نائلہ کے ہاتھ کو لبوں سے لگا لیا
نائلہ کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا
بلال کے چہرے پہ مسکراہٹ در آئی
آپ چینج کر لو تھک گئی ہو گی بہت بھاری جوڑا ہے آپ کا بلال نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا
بلال، نائلہ نے آواز دی تو بلال نے مڑ کر سوالیہ نظروں سے دیکھا
وہ نا ذیشان اور نمرہ نے آنا تھا لیکن وہ آۓ ہی نہیں نائلہ نے فکر مندی سے کہا
ہو سکتا ہے کوئی ضروری کام آ گیا ہو نائلہ آپ فون کر کے پتہ کر لو نا، بلال نے مشورہ دیا
فون نہیں ہے میرے پاس گھر پر ہی رہ گیا، نائلہ نے جواب دیا
اچھا آپ چینج کر لیں میں کال کرتا ہوں
نائلہ خاموشی سے واش روم کی طرف بڑھ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابوووو، فاریہ کے چینخنے پہ روہان نے مڑ کر دیکھا تو رضا صاحب منہ کے بل گرے ہوئے تھے
ذیشان اور ارحم بھی رضا صاحب کی طرف بھاگے
اعجاز ایمبولینس بلائیں عابدہ نے روتے ہوئے کہا
ایمبولینس آئی اور رضا صاحب کو روہان اور فرحت ساتھ گئے
جبکہ ذیشان گاڑی پر ساتھ ساتھ ہسپتال گیا
عابدہ اور ارحم نمرہ کو اپنی گاڑی میں رضا صاحب کے گھر لے گئے کیونکہ نمرہ کی حالت ایسی ہرگز نا تھی کہ اس کو ہسپتال لے کے جایا جاتا
نمرہ کو گھر میں ہی ڈاکٹر کو دیکھایا گیا جس کے مطابق نمرہ بلکل ٹھیک تھی اسے بس پر سکون نیند کی ضرورت تھی
لحاظہ وہ نیند کا انجکشن دے کر چلا گیا
اعجاز فاریہ اور ارحم یہاں پر رک جاتے ہیں کیونکہ نمرہ کی طبعیت بہتر ہے اب
ہم لوگ ہسپتال چلتے ہیں ناجانے بھائی جان کی طبعیت کیسی ہے، عابدہ نے فکر مندی سے کہا
ہاں چلو عابدہ مجھے بھی فکر ہو رہی ہے، اعجاز صاحب نے جواب دیا
۔۔
عابدہ میں نے سوچا تھا اپنی فاریہ کے لیے ذیشان سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا گھر کا بچہ ہے لیکن شکر ہے اس کی اصلیت پہلے پتا چل گئی، اعجاز صاحب ڈرائیو کرتے ہوئے عابدہ سے بولے
سہی کہا آپ نے، اللّٰه ذیشان جیسی اولاد بھی کسی کو نا دے عابدہ نے افسوس سے کہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روہان بیٹا خیریت ہے نا سب، اعجاز صاحب کو روہان کوریڈور میں ہی نظر آیا تو پوچھنے لگے
ہارٹ اٹیک آیا ہے ابو کو انکل، روہان کی آنکھوں سے اشکوں کی برسات ہونے لگی
حوصلہ کرو بیٹا اللّٰهُ تعالیٰ بہتر کریں گے سب اعجاز صاحب نے روہان کو گلے لگایا
عابدہ تم جاو بھابھی کے پاس اور انکو حوصلہ دینا خود مت رونا شروع کر دینا
عابدہ نے آنسو صاف کیے اور اندر چلی گئیں
ڈاکٹر نے کیا کہا ہے روہان، اعجاز صاحب روہان کے ساتھ چلتے ہوئے گویا ہوئے
انکل ڈاکٹر نے کہا نے کہ آج رات بہت اہم ہے ابو کے لیے دعا کریں بس سب خیر ہو
انشاء الله بیٹا انشاء الله
۔۔
۔۔
بھابھی انشاء الله سب خیر ہوگی بھائی جان بلکل ٹھیک ہو جائیں گے
عابدہ تم بہن ہو تم دعا کرنا اپنے بھائی کے لیے فرحت نے روتے ہوئے کہا
آپ میں سے ذیشان علی کون ہے، پولیس کے تین چار اہل کار ان سب کے سامنے آ کھڑے ہوۓ
جج جی میں ہوں ذیشان نے کونے میں کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیا
آپ کے خلاف ایف آئی آر کٹی ہے آپ کو تھانے چلنا ہو گا ہمارے پاس اریسٹ وارنٹ ہیں، ایک اہل کار نے تفصیل بتائی
لیکن جناب ایف آئی آر کٹوائی کس نے ہے اور کیوں کٹوائی ہے اعجاز صاحب نے سوال کیا
شاہ میر صاحب نے نے دوعا کیا ہے کہ ذیشان نے ان کو جان سے مارنے کی کوشش کی کی ہے وہ تو انکی خوش قسمتی تھی ک9 گولی ٹانگ میں لگی اہلکار نے بتایا
چلیے جناب آپ کو دعوت نامہ نہیں پیش کیا جاۓ گا اہلکار نے کہا
ذیشان چپ چاپ ان کے ساتھ چل دیا
میرے میرے بیٹے نے کچھ نہیں کیا کیوں لے کے جا رہے ہو فرحت بھاگ کے ذیشان کے آگے جا کھڑی ہوئیں
بی بی یہ سب تھانے میں آ کے بولنا ابھی ہمیں اپنا کام کرنے دو
امی ہٹ جائیں سامنے سے ذیشان نے ماں کو سامنے سے ہٹایا اور چل پڑا
ذیشان کو لے جایا جا رہا تھا لیکن وہ کسی اور دنیا میں جا چکا تھا نورے مریم اور پھر نمرہ باری باری ہر ایک کی شکل اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی
لاک اپ کھول کے ذیشان کو دھکا دیا گیا اور ذیشان منہ کے بل زمین پہ جا گرا لیکن اٹھنے کی بجائے ویسے ہی پڑا رہا
جیسے خود کو اپنی اوقات یاد دلا رہا ہو کہ ذیشان علی یہ مٹی ہے تمہاری اوقات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو روہان کیسے ہو یار وہ نائلہ بات کرنا چاہ رہی تھی
بلال بھائی ابو کو ہارٹ اٹیک آیا ہے روہان نے بلال کو جواب دیا
کیااا کیسے ہیں انکل اب، بلال نے پریشانی سے پوچھا
ابھی حوش نہیں آیا ڈاکٹر نے کہا ہے آج رات بہت اہم ہے ابو کے لیے، روہان نے مزید بتایا
اچھا ہم آتے ہیں ابھی تم مجھے ہسپتال کا نام بتاو بلال نے کہا
بلال بھائی بہت رات ہو گئی ہے آپ رہنے دئیں صبح آ جائیے گا روہان نے اسرار کیا
نہیں روہان ہم ابھی آ رہے ہیں بلال نے پھر سے وہی بات کی تو روہان نے پتہ بتا دیا
اوکے پہنچ رہے ہیں ہم بلال نے کہا تو نائلہ نے سن لیا
کیا ہوا ہے بلال کہاں جا رہے ہیں آپ اس وقت
نائلہ نے فکر مندی سے پوچھا
نائلہ وہ اصل میں آپ کے ابو کو ہارٹ اٹیک آیا ہے ہمیں اسی وقت جانا ہو گا ہسپتال، بلال نے نائلہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے کہا
نائلہ کو لگا جیسے کسی نے اس کے پاوں تلے سے زمین کھینچ لی ہے
بلال میرے ابو ٹھیک ہیں نا، نائلہ نے لہجے میں امید لیے پوچھا
وہ تو وہاں جا کر ہی پتہ چلے گا بلال نے نائلہ کی طرف دیکھ کر کہا
ان دونوں کے ساتھ سکینہ اور انوار بھی ہسپتال چل دئیے
پورا رستہ سکینہ نائکہ کو سینے سے لگاۓ چپ کرواتی رہیں لیکن نائلہ کے آنسو تھے کے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے
حوصلہ کرو بیٹا اللّٰه نے چاہا تو سب ٹھیک ہو گا، انوار صاحب نے نائلہ کو تسلی دی
ہسپتال کے سامنے گاڑی رکی تو نائلہ فوراً سے دروازہ کھول کر اندر بھاگی
بلال تم جاو بیٹا نائلہ کو ضرورت ہے تمہاری، میں گاڑی پارک کر کے آ جاتا ہوں، انوار صاحب نے بلال سے کار کی چابی لی
۔۔
۔۔
امی نائلہ کو دور سے ہی فرحت نظر آگئیں تو وہ انکی طرف بھاگی
نائلہ تم یہاں کیا کر رہی ہو، فرحت حیران پریشان سی بولیں
امی ابو کیسے ہیں وہ ٹھیک ہیں نا، نائلہ نے روتے ہوئے پوچھا
دعا کرو ٹھیک ہو جائیں تمہارے ابو نائلہ، فرحت نے بیٹی کو گلے لگا لیا
اسلام وعلیکم بلال نے آتے ہی سلام کیا
وعلیکم اسلام بلال بیٹا تم لوگ اس وقت نا آتے تو بہتر تھا اعجاز صاحب نے کہا
کوئی مسئلہ نہیں انکل آپ بتائیں رضا انکل کیسے ہیں اور کیسے ہوا یہ سب،،
بلال بھائی میرے ساتھ باہر چلیں روہان نے آہستہ آواز میں کہا
ہاں چلو، بلال بھی ساتھ چل پڑا
۔۔
بھابھی یہ سب کیسے ہو گیا کچھ دیر پہلے تو بلکل ٹھیک تھے رضا بھائی، سکینہ نے فکر مندی سے سوال کیا
اللّٰه کے کام ہیں سکینہ بھابھی انسان تو بس دعا ہی کر سکتا ہے، فرحت نے روتے ہوئے کہا
حوصلہ کریں آپ انشاء الله رضا بھائی بلکل ٹھیک ہو جائیں گے
انشاء الله عابدہ اور باقی سب نے یک زبان کہا
۔۔
روہان نے تمام تفصیل بلال کو بتائی
یہ شاہ میر اتنا گھٹیا ہو سکتا ہے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، بلال نے غصے کو ضبط کرتے ہوئے کہا
بلال بھائی اب کیا ہو گا اس نے تو الٹا ذیشان پر ہی ایف آئی آر کٹوا دی ہے، روہان نے فکر مندی سے پوچھا
یار کل تو اتوار ہے اب جو بھی ہو گا سوموار کو ہی ہو گا میں وکیل سے بات کر لوں گا کل،۔
روہان نے اثبات میں سر ہلایا
روہان نمرہ کیسی ہے،
بلاہ اور روہان واپس جانے کے لیے مڑے تو بلال نے ہچکچاتے ہوئے سوال کیا
پھوپھو بتا رہی تھیں کے بہترہے اسکو سلا کر ہی وہ یہاں آئی ہیں ،
روہان نے جواب دیا
اچھا شکر ہے
کہاں گئے تھے تم دونوں روہان اور بلال کو واپس آتا دیکھ انوار صاحب نے سوال کیا
آپ کے مریض کو حوش آ گیا ہے آپ لوگ ایک ایک کر کے مل سکتے ہیں ، روہان نے بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ نرس نے آ کر رضا صاحب کے حوش میں آنے کی اطلاع دی
اور آپ کو ڈاکٹر صاحب آفس میں بلا رہے ہیں نرس نے روہان کو ڈاکٹر. کا پیغام دیا
میں بھی چلتا ہوں ساتھ بلال نے روہان کے ساتھ چلتے ہوئے کہا
۔۔
نائلہ جاو بیٹا تم مل لو اپنے ابو سے فرحت نے نائلہ کو جانے کا کہا
نائلہ نے آنسو صاف کیے اور کمرے کے اندر چلی گئی
ابو، نائلہ نے رضا صاحب کا ہاتھ تھام کر آہستہ سے کہا تو رضا صاحب نے ذرا سی آنکھیں کھولیں
باپ کو مشینوں میں جکڑے دیکھ نائلہ نے پھر سے رونا شروع کر دیا
ابو کیا ہو گیا ہے آپ کو نائلہ نے روندھی ہوئی آواز میں کہا
رضا صاحب نے نفی میں سر ہلایا جیسے کہہ رہے ہوں کہ کچھ نہیں ہوا مجھے
میڈم مریض کی حالت ایسی نہیں کے آپ سے باتیں کریں گے اس لیے آپ جائیں باہر
نرس کے کہنے ہر نائلہ باہر آگئی
۔۔
جی ڈاکٹر صاحب آپ نے بلایا تھا روہان نے کمتے میں داخل ہو کر سوال کیا
آو بیٹھو نوجوان، ادھیڑ عمر کے ڈاکٹر نے روہان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
بیٹا اللّٰه کا شکر ہے کہ آپ کے والد کو حوش آگیا ہے اور یہ مثبت علامت ہے لیکن ہم پھر بھی چوبیس گھنٹوں کے لیے زیرِ نگرانی. رکھیں گے
سر کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے روہان نے دل تھام کر سوال کیا
اب تک تو نہیں ہے اور دعا ہے کہ آگے بھی نا ہو باقی یہ دوائیاں اور کمرے کا کرایا اس بل میں موجود ہے یہ آپ ابھی ادا کر دئیں کاونٹر پر، ڈاکٹر نے بل روہان کی طرف بڑھایا
جسے لے کر بلال کے ساتھ وہ کمرے سے نکل آیا
بل ادا کر کے دونوں وارڈ کے باہر آ کھڑے ہوتے ہوئے
بلال بیٹا بھائی جان کو حوش آ گیا ہے شاباش آپ لوگ اب گھر جاؤ آرام کر کافی وقت ہو گیا ہے ، عابدہ نے بلال سے مخاطب ہو کر کہا
لیکن پھوپھو ، نائلہ نے کچھ کہنا چاہا لیکن فرحت نے ٹوک دیا
نائلہ چلو شاباش بلال کے ساتھ گھر جاؤ ٹھیک ہیں تمہارے ابو
جی امی، نائلہ نے خاموشی سے سر جھکا لیا
بھابھی آپ کہیں تو ہم بلال کا ولیمہ آگے کر دیتے ہیں، انوار صاحب نے فرحت سے کہا
نہیں بھائی صاحب رضا الحمد اللہ ٹھیک ہیں اب آپ لوگ تہہ شدہ وقت پر ہی ولیمہ کر لیں، فرحت نے جواب دیا
ٹھیک ہے پھر ہمیں اجازت دیجیے تین بج چکے ہیں، سکینہ نے کہا
جی جی بہت شکریہ آپ لوگ آۓ فرحت نے تشکر آمیز لہجے میں کہا
کوئی مسئلہ نہیں
چلیں ٹھیک ہے پھر اللّٰه حافظ انوار صاحب ان سب کو لے کر ہسپتال سے نکل گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابدہ اور اعجاز کے جاتے ہی فاریہ نمرہ کے کمرے میں چلی گئی کیونکہ نمرہ تو فرحت اور رضا کے کمرے میں سو چکی تھی
خود کو تنہا پاتے ہی فاریہ نے خود پہ ضبط کھو دیا اور آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر بہہ نکلے
ذیشان آپ ایسے نکلیں گے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا
مجھے آپ جیسے انسان سے کیسے محبت ہو گئی فاریہ گھٹنوں میں منہ دئیے رونے لگی
ارحم فاریہ کے رونے کی آواز سن کر دروازے تک آیا
لیکن فاریہ کہ الفاظ سن کر واپس لوٹ گیا
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فاریہ ذیشان کو پسند کرتی تھی اور اس وقت بہت ازیت میں تھی لیکن اگر اس وقت ارحم اس کو حوصلہ دیتا تو وہ مزید ٹوٹ جاتی
کیونکہ محبت میں لگے زخم صرف محبوب کا دیا مرہم پا کر ٹھیک ہوتے ہیں
ارحم نے دل سے دعا کی کہ فاریہ ذیشان کو بھول جاۓ کیونکہ ذیشان اور اس کا ایک ہونا اب ناممکن سی بات تھی۔۔۔۔۔
فاریہ کو دیکھنے کے بعد ارحم نمرہ کے پاس آگیا
بے خبر سوئی ہوئی معصوم لڑکی اسے اپنا دیوانہ بنا رہی تھی
ارحم کے قدم خودبخود بیڈ کی طرف بڑھ گئے
مجھے معاف کر دو جانم میں تمہارا شوہر ہونے کے باوجود تمہاری حفاظت نہیں کر سکا
ارحم نے نمرہ کی ہتھیلی اپنے لبوں سے چھو لی اور ارحم کی آنکھ سے آنسو نکل کر نمرہ کی ہتھیلی میں جزب ہو گیا
کئی گھنٹے گزر گئے لیکن ارحم جوں کا توں نمرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں مقید کیے بیٹھا رہا
صبح کے چار بج گئے تو دروازے پہ دستک ہوئی اور ساتھ ہی ارحم کا فون بجنے لگا
ارحم نے کال اٹھائی تو اعجاز صاحب کی آواز آئی
بیٹا دروازہ کھولو
جی بابا، ارحم نے کال بند کر کے نمرہ پر محبت بھری نظر ڈالی اور باہر نکل گیا
۔۔
ماموں کیسے ہیں بابا،
بہتر ہیں اب، حوش آ گیا ہے انکو اس لیے پھر ہم گھر آ گئے ، اعجاز صاحب نے جواب دیا
شکر ہے اللّٰه کا، روہان نے کہا
چلو بیٹا اب تم بھی سو جاو بہت وقت ہو گیا ہے ہم بھی ذرا آرام کر لیں عابدہ نے کہا تو ارحم نے روہان کے کمرے یا رخ کیا
عابدہ فرحت کے کمرے میں نمرے کو دیکھنے کے لیے گئیں تو نمرہ اکیلی سو رہی تھی فاریہ اس کے پاس موجود نہیں تھی عابدہ نے نمرہ کے کمرے کا رخ کیا
فاریہ بیڈ پہ آڑی ترچھی پڑی ہوئی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور آنسووں کے نشان چہرے پر موجود تھے
عابدہ نے فاریہ کے اوپر چادر اوڑھائی اور سرد آہ بھر کر کمرے سے باہر نکل گئیں
اعجاز آپ ذیشان کے کمرے میں سو جائیں میں نمرہ کے پاس جاتی ہوں بچی کب سے اکیلی ہے فاریہ تو دوسرے کمرے میں سو رہی ہے ،
ہاں ٹھیک ہے، اعجاز نے مختصر جواب دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابدہ کی آنکھ کھلی تو گھڑی دوپہر کے بارہ بجا رہی تھی
آۓ ہاۓ اتنا وقت ہو گیا، عابدہ نے گھڑی دیکھنے کے بعد ساتھ سوئی نمرہ کو دیکھا جو اب تک اس پوزیشن میں پڑی تھی
نمرہ میرا بچہ اٹھنا نہیں ہے کیا، عابدہ نے نمرہ کے چہرے سے بال ہٹاۓ
لیکن نمرہ نے معمولی سی بھی کوئی حرکت نا کی
مما انجکشن کا اثر اتنی جلدی نہیں ختم ہو گا
فاریہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا
رات کی نسبت اب فاریہ کی حالت قدرے بہتر تھی
پھر بھی بیٹا بہت دیر ہو گئی ہے
مما سونے دئیں ابھی اس کو جتنا سوۓ گی بہتر محسوس کرے گی
اچھا چلو تم تو آو ناشتہ بنائیں کافی وقت ہو گیا ہے ہسپتال بھی فون نہیں کیا، عابدہ بیڈ سے اترتے ہوئے بولیں
میں نے اور ابو نے چاۓ پی لی تھی صبح ہی اور روہان بات ہوئی تھی انھوں نے بھی ناشتہ کر لیا ہے وہیں سے،،
اور بھائی جان کیسے ہیں اب،،
ماموں بھی بہتر ہیں اب تو آکسیجن وغیرہ بھی اتار دی ہے روہان بتا رہا تھا
شکر ہے میرےالک کا جس نے میرے بھائی کو نئی زندگی دی،عابدہ نے شکر ادا کیا
اچھا تم تو اٹھو بھائی کو بھی بلاو میں ناشتہ بناتی ہوں اور پھر ہسپتال سے بھی ہو آئیں میں اور ارحم
۔۔
۔۔
عابدہ نے ہسپتال جا کر فرحت کو ارحم کے ساتھ گھر بھیج دیا
بھیجنا تو وہ روہان کو چاہتی تھیں تاکہ یہ دونوں آرام کر لیں رات سے جاگ رہے تھے لیکن روہان نہیں مانا
تو عابدہ نے فرحت کو زبردستی ارحم کے ساتھ گھر بھیج دیا
ویسے بھی فرحت نمرہ کے لیے بہت پریشان تھیں
گھر پہنچتے ہی فرحت سیدھا نمرہ کے پاس گئیں
یہ اب تک سو رہی ہے ارحم نے فاریہ سے پوچھا
فاریہ نے اثبات میں سر ہلایا
ارحم کو تشویش ہوئی
ممانی ذرا ادھر ہوں
فرحت نمرہ کے اوپر جھکی نمرہ کا ماتھا چوم رہیں تھیں
ارحم کے کہنے پہ ہٹ گئیں
ارحم نے نمرہ کی ناک کے پاس دو انگلیاں کر کے محسوس کیا کہ اس کو سانس بہت آہستہ آ رہا تھا
پھر ارحم نے نمرہ کی نبض چیک کی جو کہ رک رک چل رہی تھی
نمرہ نمرہ آنکھیں کھولو ارحم نے نمرہ کو جھنجھوڑنا شروع کر دیا
ارحم کیا ہوا ہے فرحت اور فاریہ دونوں کے اوسان خطا ہو گئے
ممانی یہ بے حوش ہے ناجانے کب سے اس کی اسکی نبض بہت آہتسہ چل رہی ہے ارحم کے بتانے پر فرحت کے رونے میں تیزی آ گئی
فاریہ بابا سے بولو گاڑی نکالیں جلدی کرو ہمیں فوراً ہسپتال جانا ہو گا ارحم نے چلا کر کہا
اعجاز صاحب نے گاڑی نکالی اور ارحم نمرہ کو اٹھا کر لے آیا
سارے رستے نمرہ کا سر ارحم کی گود میں رہا اور ارحم کے آنسو نمرہ کے چہرے پر گر رہے تھے
فرحت کا دل ارحم کو دیکھ کر کٹ رہا تھا وہ کیسے ان کی بیٹی کے لیے تڑپ رہا تھا
ارحم میری بیٹی ٹھیک تو ہو جائے گی نا فرحت نے روتے ہوئے پوچھا
ممانی دعا کریں نمرہ کو کچھ نا ہو ارحم نے جیسے سنا ہی نہیں کہ فرحت کیا کہہ رہی ہیں
ہاسپٹل کے سامنے گاڑی رکی یہ وہی ہاسپٹل تھا جہاں رضا صاحب داخل تھے کیونکہ نزدیک اور اچھا یہی ایک ہاسپٹل تھا
جاتے ہی نمرہ کا علاج شروع ہو گیا ان سب کو کمرے سے نکال دیا گیا
تقریباً دو گھنٹے بعد ڈاکٹر کمرے سے باہر آیا اور بتایا کہ نمرہ کے دل کی دھڑکن معمول پر آگئی ہے
لیکن ابھی حوش نہیں آیا
کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے سر، ارحم نے ڈاکٹر سے پوچھا
آپ کا مریض سے کیا رشتہ ہے ڈاکٹر نے ارحم سے سوال کیا
جی میری وائف ہے نمرہ
آپ میرے کمرے میں آ جائیں ڈاکٹر نے کہا تو ارحم ان کے پیچھے چل دیا
۔۔
تشریف رکھیے ڈاکٹر نے ارحم سے کہا
آپ نے کہا نمرہ آپ کی وائف ہیں ،،
جی سر،،
کورٹ میرج کی ہے کیا آپ دونوں نے میرا مطلب ہے آپ دونوں ہی بہت کم عمر لگ رہے ہیں مجھے ،،
نہیں سر ہمارا نکاح گھر والوں نے ہی کروایا ہے نمرہ میرے ماموں کی بیٹی ہے،،
یعنی نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی،،
جی سر نکاح ہوا ہے ،،
تو بیٹا آپ انکے والد کو بلائیں ڈاکٹر نے کہا
سر ان کے فادر کو ہارٹ اٹیک آیا ہے اسی ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں وہ، ارحم کے بتانے پر ڈاکٹر کچھ سوچنے لگ گیا
آپ مجھے بتا دئیں سر جو بات آپ نے کرنی ہے ، ارحم نے دل تھام کر کہا
دیکھیں جناب بچی پچھلے پندرہ گھنٹوں سے بے حوش ہے شاید وقت پہ ہاسپٹل لے آتے تو ہم کچھ کر لیتے لیکن
اب ہمیں افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ آپکی وائف کومہ میں چلی گئیں ہیں
اب اللّٰه ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کب حوش میں آتی ہیں کیونکہ اچانک ملے صدمے کی وجہ سے انکا نروس بریک ڈاون ہو گیا ہے
ان کو حوش میں آنے میں کچھ دن بھی لگ سکتے ،مہینے یا سال بھی ڈاکٹر نے بات ختم کی
ارحم کو لگا جیسے اس کی جان آہستہ آہستہ جسم سے نکل رہی ہے
یہ پانی پئیں، ڈاکٹر نے ارحم کی حالت دیکھ کر پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا
جسے ارحم نے فوراً پکڑ کے لبوں سے لگا لیا
جب تک نمرہ کو حوش نہیں آتا وہ یہی رہیں گی
ڈاکٹر نے کہا
ارحم اثبات میں سر ہلاتا باہر نکل گیا
ارحم کے پاؤں لڑکھڑا رہے تھے دیوار کا سہارا لیتا وہ آگے بڑھ رہا تھا کہ روہان نے بھاگ کر ارحم کو سہارا دیا
یہاں بیٹھو ارحم اعجاز صاحب نے کرسی سے اٹھ کر ارحم کو وہاں بیٹھایا
ارحم سب ٹھیک ہے نا خدا کے لیے کوئی بری خبر نا دینا فرحت نے ارحم کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے
نم نمرہ وہ نم نمرہ ارحم کے الفاظ حلق میں ہی گٹھ گئے
کیا ہوا ہے نمرہ کو ارحم روہان نے ارحم کو جھنجھوڑا
کومہ میں چلی گئی ہے
نروس بریک ڈاون ہو گیا ہے اسکا اچانک صدمے کی وجہ سے ،ارحم نے پتھراۓ ہوئے تاثرات کے ساتھ جواب دیا
فرحت کرسی پر ڈھ گئیں
یا اللّٰه ایسا کونسا گناہ ہو گیا مجھ سے جس کی اتنی بڑی سزا دے دی مالک ، فرحت نے روتے کہا
امی مریم تو یاد ہوگی آپ کو، روہان نے آنکھوں میں آنسو لیے ماں کی طرف دیکھا ۔۔