📱 Download the mobile app free
Home > Hawas by Urwa Fatima NovelM80058 > Hawas (Episode 11)
[favorite_button post_id="15796"]
46215 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 11)

Hawas by Urwa Fatima

نمرہ، نمرہ کیا ہوا، ارحم نے نمرہ کے ماتھے پر آتا پسینہ دیکھ پریشانی سے پوچھا
ہونہہ کچھ کہا آپ نے،،
ٹھیک ہو نا تم،،
جج جی ٹھیک ہوں ارحم،،
لگ تو نہیں رہی بتاؤ کیا ہوا ہے،
نہیں تو بلکل ٹھیک ہوں میں آپ بلاوجہ پریشان ہوں رہے ہیں
اوو اوو بھائی کیا باتیں کر رہے ہو، دونوں کو باتیں کرتا دیکھ روہان اور بلال سٹیج پہ چڑھ دوڑے
جو بھی کریں تمہیں کیوں بتائیں ارحم نے ڈھٹائی سے دونوں کو کہا
بلال بھائی ڈھٹائی دیکھ رہے ہیں اس کی، روہان نے بلال کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے ارحم کو گھورا
تو بیٹا جل بھن بس، ارحم نے بھی گردن اکڑا کر روہان کو مزید تپایا
ویسے بلال بھائی آپ سے ذیادہ تیز نکلا نا میں سیدھا نکاح کیا ہے ارحم نے کندھا تھپک کے خود کو داد دی
جی جی لیکن ارحم میاں ہم دلہن لے کر ہی جائیں گے اور آپ افسوس خالی ہاتھ جائیں گے، بلال نے مسکرا کر کہا
ایسے نہیں کرو یار ارحم نے منت بھرے لہجے میں کہا
تو ادھر سے اٹھ بیٹا تیرا ٹائم ختم ہے
کہتے ہی روہان اور بلال ارحم کو اٹھا کر سٹیج سے اتار لاۓ
ان تینوں کو دیکھ کر سب ہنس پڑے
نمرہ کا دھیان بھی شاہ میر سے ہٹ چکا تھا
جی تو آپ اب سے ہماری بھابھی کے عہدے پر فائز ہو چکی ہیں فاریہ نے نمرہ کو گلے لگا کر کہا
جواب میں نمرہ صرف مسکرائی
یہ تمہارے لیے نمرہ، فاریہ نے گفٹ نمرہ کی طرف بڑھایا
تھنکس، نمرہ نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا
ویسے نمرہ تم مجھ سے یہ ایکسپکٹ تو نہیں کر رہی کہ میں تمہیں بھابھی کہوں گی
فاریہ نے ترشی آنکھوں سے نمرہ کو دیکھا
ہرگز نہیں یار اور پلیز مجھے کہنا بھی مت فاریہ
ہاہا نہیں کہتی
ذیشان یار کیا ادھر ادھر گھومنے کے لیے تمہیں کیمرہ پکڑایا تھا نائلہ ذیشان کو بازو سے پکڑ کر سٹیج کی طرف لانے لگی
اچھا چھوڑو تو مجھے
آ جاؤ فاریہ پکس بنائیں نائلہ نے فاریہ کو آواز دی
اور پھر انکا فوٹو سیشن بڑھتا ہی گیا
شاباش شاباش میری بیوی ہے اور مجھے ہی ساتھ نہیں بیٹھنے دے رہے ارحم روہان اور باقی کزنز سے بچ کے دوبارہ سٹیج پہ آ گیا
بیوی نہیں منکوحہ ارحم منکوحہ نائلہ نے ارحم کے الفاظ کو درست کیا
ایک ہی بات ہے اور ہٹو ادھر سے تم کو چڑیل، ارحم نے نائلہ کو جواب دینے کے ساتھ ساتھ فاریہ کو صوفے سے کھینچ لیا اور خود نمرہ کے ساتھ بیٹھ گیا
ذیشان ہماری ایک اعلیٰ والی تصویر بناو تاکہ یہ سب اعوام جل جاۓ دیکھ کے ارحم نے نمرہ کے نزدیک ہوتے ہوئے کہا اور نمرہ مزید سمٹ گئی
۔۔
۔۔
آپ کیوں چپ چپ سی کھڑی ہیں، نائلہ نے بلال کی آواز پہ مڑ کے دیکھا
ہمم ویسے ہی، نائلہ نے انگلی میں پہنی منگنی کی انگھوٹھی کو گھمانا شروع کر دیا
نائلہ آپ پریشان ہیں،
ہمممم تھوڑی سی،
لیکن کیوں،،
وہ شاہ میر کچھ کرے گا تو نہیں نا،
نائلہ اللّٰه پر بھروسہ رکھیں کچھ نہیں ہو گا اور ویسے بھی اب کر بھی کیا سکتا ہے وہ اس لیے مت پریشان ہوں،،
نائلہ نے ہاں میں سر ہلا دیا
براؤن کلر کا سوٹ بلال کی شخصیت کو مزید نکھار رہا تھا
یہ لیں آپ کے لیے لایا تھا میں سوچا تھا خود پہناؤں گا لیکن کوئی موقع ملنے والا لگتا نہیں مجھے اس لیے مجھے خیال میں رکھتے ہوئے آپ خود پہن لینا
بلال نے ایک خوبصورت سی ٹرانسپیرنٹ ڈبی نائلہ کو دی جس میں ایک خوبصورت سا بریسلیٹ موجود تھا
نائلہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے لے لیا
تقریباً رات کے نو بجے تقریب تمام ہوئی سب مہمان کھانا کھا کر جا چکے تھے
ارحم اور بلال کی فیملی البتہ وہیں موجود تھی
کیونکہ بلال اور نائلہ کی شادی کی تاریخ تہہ کی جا رہی تھی
سب بڑے لاونچ میں بات چیت میں مصروف تھے جبکہ تمام لڑکے روہان کے کمرے میں تھے
ذیشان لاونچ سے گزرا تو رضا صاحب نے آواز دی
ذیشان نائلہ کو کہو سب کے لیے چاۓ تو بناۓ بیٹا
اچھا ابو ،،
نائلہ ابو کہہ رہے ہیں چاۓ بناو سب کے لیے،،
اف ہو مجال ہے سکون لینے دے دو، نائلہ نے منہ بسور کر کہا
آ جائیں نائلہ آپی میں چلتی ہوں آپ کے ساتھ چاۓ بنانے ، فاریہ نائلہ کے ساتھ کچن کی طرف چل پڑی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمرہ کا دوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا اور وہ دروازے کی طرف پیٹھ کیے کھڑی اپنے آپ کو جیولری سے آزاد کرنے میں مگن تھی
اس بات سے بے خبر کے کوئی اس کی پشت پہ کھڑا اس کی تمام کاروائی محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا ہے
ارحم نے گلا کھنکارا
نمرہ کے چوڑیاں اتارے ہاتھ وہیں رک گئے
لیکن وہ پیچھے نہیں مڑی تھی
ارحم آہستہ سے چلتا ہوا نمرہ کے بلکل پشت پہ جا کھڑا ہوا اور آہستہ سے دوپٹہ نمرہ کے سر پر ڈال دیا
مجھے تم اس طرح ذیادہ پیاری لگتی ہو ارحم نے نمرہ کا رخ اپنی طرف موڑ کر کہا
نمرہ کی جھکی ہوئی لرزتی پلکیں اسے اور دیوانہ بنا رہی تھیں
ارحم نے انتہائی آہستہ سے اپنے ہونٹ باری باری نمرہ کی دونوں آنکھوں پر رکھ دئیے
نمرہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگ گیا
ارحم نے مسکرا کر نمرہ کو سینے سے لگا لیا
اب تم صرف میری ہو نمرہ وعدہ کرو کیسے بھی حالات ہوں گے تم میرے ساتھ رہو گی،
میں وعدہ کرتی ہوں ارحم نمرہ نے آنکھیں بند کرتے ہوا جواب دیا
جیسے ارحم کی موجودگی کو دل سے محسوس کر رہی ہو
یہ نکاح کا تحفہ میری جان ، ارحم نے ایک چمکتی ہوئی سونے کی انگوٹھی نمرہ کی نازک انگلی میں پہنائی
کیسی لگی، نمرہ کو ہاتھ کی طرف تکتا دیکھ کر ارحم نے سوال کیا
بہت خوبصورت، نمرہ بے مختصر سا جواب دیا
تمہارے ہاتھ میں آ کے اور ذیادہ حسین ہو گئی ہے
ارحم نے نمرہ کو سینے سے لگایا
ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی کے دروازے پہ ہلکی سی مگر مسلسل دستک ہونے لگی
ارحم کے بچے ممانی نمرہ کے کمرے میں آنے لگی ہیں جلدی نکلو باہر دستک کے ساتھ فاریہ کی آواز آئی
ہاۓ یہ ظالم سماج ارحم نے نمرہ کو خود سے الگ کرتے ہوئے سرد آہ بھری
اوکے جاناں مجھے جانا ہو گا سونا مت فون پہ بات کریں گے
ارحم نے کہتے ہی دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا
اوہو لو برڈز فاریہ نے اندر آتے ہی نمرہ کو پکڑ لیا
جبکہ نمرہ نے اپنا گلابی چہرا شرم کے مارے دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا
ہاے میری مشرقی دوشیزہ فاریہ نے قہقہہ لگایا
تحفہ کیا ملا وہ دیکھاو ارحم نے تو نا مجھے دیکھایا نا مما کو ،
یہ رنگ دی ہے انھوں نے،
اوے ہوے انھوں نے،،
فاریہ مت کرو نا، نمرہ نے رخ موڑ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمرہ بند کر دو یہ فون اور پیکنگ کروا لو بہن، نائلہ نے جل کر کہا
آپی بس دو منٹ، اچھا ارحم میں فون رکھ رہی ہوں اپنی کا بیگ تیار کرنا ہے اللّٰه حافظ
نمرہ نے ارحم کی بات سنے بغیر فون کاٹ دیا
تم دونوں تنگ نہیں آتے ایک دوسرے سے پتا نہیں کونسی باتیں ہیں جو ختم نہیں ہوتیں،
آپی ایک ماہ ہوا ہے صرف ہمارے نکاح کو، نمرہ نے جتا کر کہا
ایک ماہ بہت عرصہ ہے اب دو تین دن بس کر دو اور کام کر لو
میں دلہن ہو کر سارا کام کر رہی ہوں اور تم چپکی ہوئی ہو اس فون کے ساتھ،
اچھا نا بس کر دیں اب شروع ہی ہو جاتی ہیں، نمرہ کا پارا ساتویں آسمان تک جا پہنچا تھا
نمرہ کیا بد تمیزی ہے دن ہی کتنے رہ گئے ہیں اس کے جو تم ابھی بھی لڑ رہی ہو بہن سے، فرحت اچانک کمرے میں آئیں تو دونوں کو لڑتا دیکھ نمرہ کو جھاڑ پلائی کیونکہ نائلہ تو دو دن میں رخصت ہونے والی تھی
اور نائلہ اٹھو تم کمرے میں بیٹھو اور یہ منہ چھپاو اپنا مایوں میں لڑکیاں ڈھک چھپ کے رہیں تو ہی روپ آتا ہے
اچھا اٹھ رہی ہوں امی، نائلہ نے ساتھ پڑا دوپٹہ اٹھا کر لپیٹ لیا
نمرہ تم یہ سوٹ کیس پیک کر لو پھر میرے کمرے میں آنا، فرحت نمرہ کو کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئیں
آپی میرا فون دینا آپ کے پاس پڑا ہے، نمرہ سوٹ کیس کو بند کربے کی کوشش میں لگی تھی کہ اسکا فون بجنے لگا
نائلہ نے سکرین پہ بیٹر ہاف کا نام پڑھ کر کال خودی ریسیو کر لی
ہاں بھائی کیا مسلہ ہے کیوں فون کر رہے ہو بار بار، نائلہ نے ارحم سے کہا
آپکو تھوڑی کر رہا ہوں اپنی بیوی کو کیا ہے، ارحم نے بھی اسی ٹون میں جواب دیا
دو چار دن کے لیے نا اپنی پریم کتھا روک لو میری شادی ہو جائے پھر آرام سے کر لینا باتیں
اچھا ابھی بات تو کروا دیں کام ہے ارحم نے کہا
مجھے بتا دو میں کہہ دوں گی اسکو لیکن بات نہیں کروا سکتی میں ، نائلہ نے ناک سے مکھی اڑائی
نمرہ غصے سے باہر جا چکی تھی کیونکہ نائلہ اسکی بات کروا نہیں رہی تھی،،
توبہ ہے نائلہ آپی پراۓ گھر جا رہی ہے دعائیں لیں بددعائیں کیوں لے رہی ہیں، ارحم نے زہریلے لہجے مہیں کہا
اوکے مجھے بھی نہیں بتانا تو اوکے باۓ
اچھا روکیں تو آپی، نمرہ سے کہنا بلیو کلر، کہتے ساتھ ہی ارحم نے فون کاٹ دیا
ہیں بلیو کلر کیا ہے
نمرہ ارحم کہہ رہا تھا بلیو کلر، نائلہ نے چلا کر کہا
اچھااااااا ٹھیک ہے، نمرہ نے جوابً کہا
۔۔
۔۔
پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا نمرہ اور فاریہ کا بھاگ بھاگ کے کام کرنے سے حال خراب تھا
اللّٰه اللّٰه کر کے شام کے چار بجے اور دونوں نے نائلہ کو ساتھ لے کے پارلر کاراستہ لیا کیونکہ آج نائلہ کی مہندی تھی
اور ان تینوں کو تیار ہونے کے بعد سیدھا ہال میں جانا تھا
ذیشان نے ان کو پارلر چھوڑا
واپسی پہ ارحم آۓ گا تم لوگوں کو لینے اس لئے ارحم سے رابطے میں رہنا ذیشان نے شیشیے میں فاریہ کو دیکھ کر کہا
جبکہ فاریہ نے ذیشان کی نظروں کا زاویہ دیکھ کے نظر گھما لی
اچھا ٹھیک ہے نائلہ نے گاڑی سے اتر تے ہوۓ کہا
رات کے آٹھ بجے تیاری مکمل ہوئی
فاریہ چلو ارحم آ گئے ہیں باہر
نمرہ نے فاریہ سے کہا جو کہ شیشے کے آگے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی
ہاں ہاں چلیں
نمرہ تم فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا کیونکہ آپ کے ارحم آۓ ہیں، فاریہ نے نمرہ کو کہنی مار کے کہا
میں تمہیں بیٹھنے بھی نہیں دوں گی، نمرہ نے فٹ سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی
ارحم نے فوراً سے نظروں کا رخ موڑ لیا
نمرہ کو عجیب لگا مگر خاموش رہی
پورا راستہ ارحم فاریہ اور نائلہ سے باتوں میں لگا رہا لیکن نمرہ کی طرف دیکھا ہی نہیں
نمرہ رخ موڑے سڑک کو تکتی رہی
تم دونوں کی لڑائی ہوئی ہے کیا ، فاریہ نے دونوں کو دیکھ کر کہا
تم لوگ ہی تو چاہتے ہو کہ ہم آپس میں بات نا کریں
ارحم نے ٹرن لیتے ہوئے گاڑی روکی
ارحم تمہیں میری بات بری لگی ہے کیا لیکن میں نے تو صرف مزاق کیا تھا، نائلہ نے وضاحت پیش کی
ایسا کچھ نہیں ہے اور ہال آ چکا ہے اتریں گاڑی سے اب ، ارحم نے گاڑی بیک ڈور پہ کھڑی کی کیونکہ یہ برائڈل روم تھا
نمرہ تم بیٹھی رہو، نمرہ گاڑی سے اترنے لگی تو ارحم نے حکم سنایا
نائلہ اور فاریہ اتر گئیں جبکہ نمرہ بیٹھی رہی
ارحم نے گاڑی ہال کے فرنٹ پہ لے جا کہ پارکنگ میں گاڑی کھڑی کی
اور نمرہ کا ہاتھ پکڑے ہال میں داخل ہو گیا
ایک پل کو سب کی نظر ان دونوں پہ رک گئی
ارحم نے بلیو کرتے کے ساتھ سفید شلوار پہنی ہوئی تھی جبکہ کہنیوں تک کف موڑے ہوئے تھے
اور نمرہ نے بلیو کلر کر کام دار فراک پہنا ہوا تھا اور سفید دوپٹہ شانے پر گرایا ہوا تھا
ایک جیسے رنگ کے کپڑے دونوں کی جوڑی کو لوگوں کا ٹوپک آف ڈیسکشن بنائے ہوئے تھے
ارحم ہاتھ چھوڑ دئیں میرا سب دیکھ رہے ہیں، نمرہ جھجک کر ہاتھ چڑانے کی کوشش کی
لیکن ارحم نے اور مضطوطی سے ہاتھ پکڑ لیا
اور سیدھا اس ٹیبل پہ جا کھڑا ہوا جہان پہ دونوں کے ماں باپ بیٹھے تھے
چلیں بتائیں سب کیسے لگ رہے ہیں ہم دونوں، ارحم نے سیدھا کھڑا ہوتے ہوئے سوال کیا
نمرہ نے شرم کے مارے سر ہی جھکا لیا کیونک ارحم اس کا ہاتھ اب بھی پکڑے ہوئے تھا
عابدہ نے اٹھ کر دونوں کو گلے لگایا
ماشاء الله میرے بچے ایک دم ہیرو ہیروئن لگ رہے ہو
عابدہ کے جوش سے کہنے پر سب ہی ماشاء الله کہتے ہوئے ہنس دئیے
او چلو طوطا مینا کی جوڑی نائلہ کو سٹیج پہ لے کی آنا ہے
ذیشان نے ارحم کو بازو سے کھینچا تو نمرہ کا ہاتھ ارحم کے ہاتھ سے چھوٹ گیا
نمرہ کو عجیب سے خوف نے آن گھیرا
آ جاؤ نمرہ آپی کو باہر لے کے آنا ہے روہان نے نمرہ کو ایسے کھڑے دیکھ کر کہا
نمرہ اس کے ساتھ ہی چل پڑی
برائڈل روم میں روہان اور نمرہ داخل ہوئے تو یک دم سب نے ہنگامہ مچا دیا
اوۓ ہوےےےےےےےےے میچنگ میچنگ
اس ہنگامے میں ذیادہ آواز دلہن بی بی کی تھی
بہن حوصلہ دلہن ہو تم ارحم نے طنز کیا
اچھااا جی تو یہ تھا بلیو کا چکر نائلہ نے ہنس کر کہا
چلو چلو اس کو باہر لے کر چلو ورنہ چپ نہیں ہوں گی یہ ارحم کے ایسا کہنے پر سب ہنسے
نائلہ کے سر کے اوپر ایک خوبصورت سا چادر نما دوپٹہ پکڑا گیا
سامنے کی طرف کے دونوں کونے ارحم اور نمرہ نے پکڑ لیے تاکہ کیمرے کا فوکس دلہن کے ساتھ ساتھ ان دونوں پر بھی رہے
جبکہ فاریہ نے تیسرہ کونا پکڑا تو ذیشان نے بھاگ کر فاریہ کے ساتھ کھڑا ہونے کے کیے چوتھا کونا پکڑ لیا
حد ہے سب نے جوڑیاں بنا لیں ہیں میں کدھر جاوں
روہان نے منہ بنا کر کہا
تم میرے ساتھ آ جاو نائلہ نے روہان کو اپنے ساتھ کھڑا کر لیا
چلو بھائی کیمرہ مین لگو اپنے کام پہ ارحم نے کیمرہ مین کو تائید کی
نائلہ کو سٹیج پہ بیٹھایا گیا اور رسمِ حنا شروع کی گئی
گھر کے بڑوں نے شروعات کی اور پھر سلسلہ چلتا ہی گیا
رسم کے بعد ارحم، نمرہ، فاریہ، ذیشان نے باقی کزنز کے ساتھ مل کر خوب ہلہ مچایا
رات دس بجے ہال کا مقرر وقت ختم ہو گیا تو ہی ان سب نے گانا بجانا بند کیا
۔۔
۔۔
آج بھی تم لوگ میچنگ کر رہے ہو نائلہ نے بال بنواتے ہوئے نمرہ سے سوال کیا
ام ہم، نمرہ نے مختصر جواب دیا کیونکہ اس کا میک اپ شروع ہو چکا تھا
اچھا ویسے رات بہت اچھے لگ رہے تھے تم دونوں ساتھ
پرفیکٹ کپل کی طرح، نائلہ نے دونوں کی تعریف کی
میم آپ تھوڑی دیر خاموش ہو سکتی ہیں پلیز، میک اپ آرٹسٹ کی نائلہ نے التجا کی
اوکے اوکے سوری، نائلہ نے شرمندہ سا کہا
نمرہ فون دیکھو کس کی کال ہے کب سے بج رہا ہے، نائلہ پھر سے بول پڑی
ہیلو جی روہان بھائی،،
شام کے چھ بج چکے ہیں تم لوگوں کا چھ گھنٹے سے جاری مشن ابھی مکمل نہیں ہوا،،
ہاہا تقریباً مکمل ہے آپ ایک گھنٹے تک آ جائیں، نمرہ نے جواب دیا
اس سے ذیادہ وقت ہے بھی نہیں بیٹا آٹھ بجے بارات آ جاۓ گی، روہان نے کہہ کر فون بند کر دیا
چلو جی آپی آپ تو تیار ہو گئیں ماشاء الله
نمرہ نے نائلہ کےسجے سنورے روپ کو دیکھ کر کہا
ہاں ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہیں فاریہ نے بھی تعریف کی
روہان کو کال کرو آ جاۓ تیار تو ہو گے ہیں ایسے ہی ایک گھنٹے کا بول دیا تم نے، نائلہ نے کہا
ہاں میں نے میسج کر دیا ہے ذیشان کو، فاریہ نے مدھم آواز میں کہا
کیا چل رہا ہے فاریہ میڈم نمرہ نے فاریہ کی کان میں سرگوشی کی
کچھ بھی تو نہیں فاریہ نے نظریں چرائی
چلو بھی سامان سمیٹو کیا گھور رہی ہو
نمرہ نے ہنس کےسامان سمیٹنا شروع کر دیا
۔۔
۔۔
روہان ان سب کو ہال لے کر پہنچ چکا تھا
تھوڑی کی دیر گزری تھی کہ بارات آ چکی تھی
بارات کا استقبال بہت شاندار طریقے سے کیا گیا
لیکن بارات کے ساتھ نگینہ کو دیکھ کر فرحت کے ماتھے پر بل پڑے
لیکن نمرہ اس میں ہی شکر ادا کر رہی تھی کہ شاہمیر نہیں آیا
فرحت بھابھی اجزت دیں تو نکاح شروع کریں، بلال کی والدہ نے شگفتہ لہجے میں کہا
جی جی چلیں
اور پھر نائلہ کا نکاح شروع کیا گیا
نائلہ کے آنسو تھے کے تھمنے کا نام نہیں کے رہے تھے گھر اور ماں باپ کو چھورنے کا غم اتنا تھا کہ اس نے سنا ہی نہیں کے کیا باتیں ہو رہی ہیں
بس بہتے اشکوں کے ساتھ نکاح نامے پہ سائن کر دیا
فرحت بیگم کے گلے لگانے کے دیر تھی کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
اللّٰه اللّٰه کر کے دونوں کو چپ کرایا گیا
بلال بھائی کی طرف سے بھی نکاح ہو گیا ہے لیں آئیں آپی کو باہر
ارحم نے آ کر بتایا
اچھا ٹھیک ہے فاریہ نے جواب دیا
فاریہ اور نمرہ نائلہ کو سٹیج پہ لا رہی تھیں تو نمرہ کو لگا جیسے کوئی دیکھ رہا ہے
نمرہ نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی لیکن کوئی نامناسب انسان اس کو نظر نہیں آیا
اس لیے نہرہ نے گھر نہیں کیا
۔۔
بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہے ایسا سب کہتے ہیں لیکن جب وہ رخصتی کا وقت پہنچتا ہے ماں باپ کی روح کانپ جاتی ہے
رضا صاحب دور سے کھڑے اپنی دونوں بیٹیوں کو نہار رہے تھے
کیونکہ دونوں ہی پرائی ہو چکی تھیں
سٹیج پہ دودھ پلائی کی رسم پہ بحث و مباحثہ جاری تھا
ہر طرف ہنسی کی کھلکاریاں تھیں
لیکن رضا صاحب کی آنکھوں کے آگے فلیش بیک چل رہی تھی کیسے وہ دونوں بچپن میں کبھی لڑتی کبھی پیار کرتی ان کے آنگن کو سجاۓ رکھتی تھیں
اور نائلہ تو انکی پہلوٹھی کی اولاد تھی پہلی اولاد تو ماں باپ کا مان ہوتی ہے اور وہ بیٹی ہو تو باپ کی شان بڑھا دیتی ہے
کیونکہ بیٹی تو رحمت ہوتی ہے اور اللّٰه پاک رحمت اپنے بندے سے خوش ہو کر عطا کرتا ہے بے حساب کرتا ہے
۔۔
رضا صاحب جانتا ہوں بہت مشکل وقت ہے انور صاحب کی آواز ان کے کانوں میں پڑی
جی انور صاحب مشکل تو ہے لیکن کیا کریں دستورِ دنیا ہے بیٹیوں کو ایک نا ایک دن رخصت ہونا ہی ہے
رضا صاحب نے آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے کہا
جی جناب پھر کر دیں رخصت اپنے دستِ شفقت سے، انور صاحب نے رضا کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا
جی ضرور ،میں کہتا ہوں ،،
فرحت ہٹاو سٹیج سے ان سب کو، رخصتی کا کہہ رہے ہیں بہت دیر ہو گئی ہے
ہاے رضا میں کیسے، فرحت کے آنسو بہنے لگے
حوصلہ کرو اس وقت مت رونا ورنہ نائلہ ذیادہ روۓ گی
چلو عابدہ تم بھی جاو ساتھ رضا نے بہن کو بھی تائید کی،،
۔۔
۔۔
نمرہ میرا موبائل برائڈل روم میں ہی چارج پہ لگا رہ گیا ہے وہ لے آؤ، نائلہ کو اچانک یاد آیا
اچھا میں لے آتی ہوں، نمرہ فوراً سٹیج سے اتر کر چلی گئی
ذیشان بیٹا جاو قرآن پاک لے کر آو رخصتی کا وقت ہو گیا ہے، عابدی نے ذیشان کو کہا
ذیشان قرآن پاک لے آیا
تو نائلہ کی نظر نمرہ کو ڈھونڈنے لگی کیونکہ رخصتی ہونے والی تھی اور وہ پچھلے بیس منٹ سے غائب تھی
پھوپھو نمرہ کہاں ہے نائلہ کو سٹیج سے عابدہ نے اتارا تو نائلہ بار بار نمرہ کا ہی پوچھ رہی تھی
نائلہ چپ کر جاو بیٹا آجاتی ہے نمرہ چلو شاباش مل لو سب سے ، عابدہ نے سمجھایا
لیکن نائلہ کا دھیان نمرہ کی طرف ہی اٹکا ہوا تھا
کار میں بیٹھتے ہوئے جب ذیشان نائلہ سے ملا تو
اس نے ذیشان کو کہہ دیا کہ نمرہ کو کے ابھی ہمارے ساتھ ہی چل پڑنا
ذیشان نے اثبات میں سر ہلا دیا
نائلہ کے رخصت ہوتے ہی ذیشان نے برائڈلروم کا رخ کیا کیونکہ نمرہ کو گئے ہوے خاصی دیر ہو چکی تھی اب ذیشان کو بھی تشویش ہو رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئیے آئیے آپ کا ہی انتظار تھا جان من
نمرہ کمرے میں داخل ہوئی تو شاہمیر کو صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھے دیکھا
نمرہ کا رنگ فق سے اڑ گیا
آ آ آپ نمرہ کے الفاظ حلق میں ہی دم توڑ گئے
شاہمیر نے جیب سے پسٹل نکال کر میز پہ رکھا
نمرہ کی نظر پسٹل پر تھی اور وہ الٹے قدموں چلنے لگی
شاہ میر نے یک دم نمرہ کو بازو سے پکڑ صوفے پہ دھکا دے دیا
نمرہ نے چینخنا شروع کر دیا
نہیں نہیں ایسے نہیں کریں آپ کو اللّٰهُ ل کا واسطہ ہے
شاہمیر نے ایک زوردار تھپڑ نمرہ کے منہ پہ دے مارا
آواز نا نکلے تمہاری شاہ میر نے نمرہ کا دوپٹہ وحشیوں کی طرح نوچا
پن اپ ہونے کی وجہ سے دوپٹے کے ساتھ نمرہ کا قمیض بھی دونوں کندھوں سے پھٹ گیا
شاہمیر کے چہرے پہ زہریلی مسکراہٹ آئی
نمرہ کی آواز بند ہو چکی تھی
کہا تھا نا عزت سے آو گی تو عزت دوں گا
لیکن تمہیں شاید عزت پیاری نہیں تھی اسی لیے اپنے عاشق سے نکاح کر لیا
لیکن میں کیا کروں مجھے تو تم چاہئے تھی
ایسے کیسے چھوڑ دیتا
شاہمیر نے دہکتے لب نمرہ کے گال پہ رکھ دئیے
نمرہ بلکل پتھرا سی گئی اس کی آنکھیں چھت کو ہی دیکھی جا رہیں تھیں
۔۔
ذیشان جب کمرے میں داخل ہوا تو شاہمیر نمرہ کے چہرے پہ جھکا ہوا تھا
ذیشان نے بنا سوچے سمجھے میز پہ پڑا گلدان پوری طاقت سے شاہمیر کے سر پہ دے مارا
شاہ میر کی درد نک چینخ کمرے میں گونج اٹھی
ذیشان نے کالر سے پکڑ کر شاہمیر کو لاتوں اور گھونسوں سے مارنا شروع کر دیا
شور کی آواز سن کر سب گھر والے اسی طرف دوڑے
روہان ذیشان سے شاہمیر کر چھڑوانے کے لیے بھاگا لیکن ذیشان کو دھکا سمدے کر شاہمیر نے میز سے پسٹل اٹھا لی اور اپنی ہی ٹانگ پہ فائر کر دیا
سب لوگ اپنی جگہ سن ہو گئے
اچانک فرحت کی نظر نمرہ پہ پڑی جو بےسود سی آنکھیں کھولے صوفے پہ پڑی تھی
فرحت نمرہ کی طرف لپکی نمرہ نمرہ کیا ہوا میرا بچہ فرحت نے نمرہ کا دوپٹہ اس کے شانوں پہ ڈالا
رضا صاحب ساکت سے دیوار سے جا لگے
جبکہ شاہمیر لنگڑا کر چلتا ہوا باہر نکل گیا
ذیشان بھی اس کے پیچھے جانے لگا تو روہان نے ذیشان کا راستہ روک لیا
منع کرتا تھا میں کرتااااا تھا منع کہ بھائی زنا قرض ہے اپنا نہیں تو نائلہ نمرہ کا خیال کر لیں
لیکن آپ نہیں مانے
روہان دیوانہ وار چلا رہا تھا
جبکہ ذیشان کا سر جھک گیا تھا
آپ کی وجہ سے ہوا ہے سب بھائی صرف اور صرف اپ کی وجہ سے یہ ایسے پڑی ہے روہان نے نمرہ کی چرف اشارہ کیا اور اونچا اونچا رونے لگ گیا
ذیشان نے ہاتھ جوڑ لیے
ہم سے کیوں مانگ رہے ہیں معافی نورے سے مانگیں مریم سے مانگیں نمرہ سے مانگیں معافی جو آپ کے کیے میں آ گئی ہے آج روہان چینخ چینخ کر کہہ رہا تھا
حوش کر یار روہان چپ ہو جا ارحم نے روہان کے منہ پہ ہاتھ رکھا جسے روہان نے جھٹک دیا
،
رضا صاحب یک دم منہ کے بل زمین پہ جاگرے
ماموں فاریہ کی چینخ نے سب کو متوجہ کیا