📱 Download the mobile app free
Home > Hawas by Urwa Fatima NovelM80058 > Hawas (Episode 18)
[favorite_button post_id="15796"]
46215 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Episode 18)

Hawas by Urwa Fatima

ڈاکٹر ماہ رخ اسلام اس وقت کہاں ملیں گی
صائم نے ہاسپٹل میں ریسیپشن پہ بیٹھی لڑکی سے پوچھا
سر سرڈ فلور روم نمبر 301 ،،
اوکے تھینکیو،،
صائم نے شکریہ ادا کیا اور آگے بڑھ گیا
سڑھیاں چڑھ کر دونوں تیسری منزل پہ ایک کمرے کے سامنے آ کھڑے ہوئے کیونکہ سامنے والا کمرہ 301 ہی تھا
ارباز نے دستک دی
آجائیں
اسلام و علیکم میڈم ارباز نے سلام کیا
وعلیکم اسلام
ڈاکٹر ماہ رخ اسلام ؟
جی جی میں ہی ہوں سامنے بیٹھی خاتون کی عمر لگ بھگ پچاس سال تھی
ایس پی صاحب آپ سے ملنا چاہتے ہیں ارباز نے بتایا
جی بلائیں اندر،،
ارباز نے صائم کو اندر بلایا
اسلام وعلیکم ڈاکٹڑ صاحبہ صائم نے اپنی مخصوص رعب دار آواز میں سلام کیا
وعلیکم اسلام تشریف رکھیے سر
ارباز اور صائم نے کرسی سنبھال لی
میڈم میری اطلاع کے مطابق 30 اکتوبر کو آپ پولیس سٹیشن تشریف لائیں تھی
جی سر ہمارے پاس ایک پیشنٹ آئی تھیں انتہائی سیریس کنڈیشن میں
گینگ ریپ ہوا تھا ان کے ساتھ
اس لیے میں رپورٹ لکھوانے خود آئی تھی
لیکن مجھے معلوم نے رپورٹ نہیں لکھی گئی
ڈاکٹر ماہ رخ نے مسکرا کر کہا
ہم اسی لیے آپ سے خود معذرت کرنے آۓ ہیں ہماری وجہ سے آپ کو تکلیف اٹھانی پڑی
اور اب اس کیس کو میں خود ڈیل کروں گا
صائم نے معذرت کی
اس کیس کے سلسلے میں میں ویکٹم سے ملنا چاہتا ہوں
صائم نے مزید کہا
وہ اس وقت میرے گھر پر ہیں اگر آپ تھوڑا سا ویٹ کر لیں تو ہم چل سکتے ہیں کیونکہ میری ڈیوٹی ختم ہونے میں آدھا گھنٹا رہ گیا ہے
ڈاکٹر ماہ رخ نے ہاتھ میں پکڑا پین کو بکس میں رکھتے ہوئے کہا
ہم انتظار کر لیں گے ،،
چاۓ یا کافی کیا منگواؤں،،
نتھنگ میڈم ،،
چلیں ٹھیک ہے پھر گھر میں ہی آپ کو چاۓ پلائیں گے
ڈاکٹر نے اتنہائی شائستہ لہجے میں کہا
صائم اور ارباز مسکرا دئیے
آپ لوگ بیٹھیں میرا وارڈ کا لاسٹ راؤنڈ ہے میں ابھی آتی ہوں
ڈاکٹر ماہ رخ مسکرا کر روم سے باہر نکل گئیں
صائم آج تم نے آئی جی صاحب سے بات کی تھی ،
ہاں ایس آئی رحمان کے ٹرانسفر کی بات کی تھی لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو
نہیں ویسے ہی پوچھا
ویسے آئی جی صاحب کچھ ذیادہ ہی مہربان نہیں آپ پر ایس پی صاحب
ارباز نے شرارتی لہجے میں کہا
کیا مطلب ہے آپ کا انسپکٹر ارباز
صائم نے بھی اسی کے لہجے میں جواب دیا
مطلب یہ کہ آپ جو فیصلہ کرتے ہیں آئی جی صاحب کو انفارم کرتے ہیں پوچھتے نہیں ہیں اور وہ پھر بھی آپ کو داد دیتے ہیں
اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ ان کو پتہ بھی نہیں ہو گا کہ ایس آئی رحمان کون ہے وہ پھر بھی آپ کا ساتھ دے رہے ہیں
ارباز نے کہا
وہ اس لیے انسپکٹر صاحب کیونکہ وہ مجھ اپہ اعتماد کرتے ہیں وہ میری محنت اور لگن سے متاثر ہے اس لیے،،
ویسے ایس پی صاحب میں نے سنا ہے آئی جی صاحب کی ایک خوبصورت بیٹی بھی ہے
ارباز نے خوبصورت پہ خاصہ زور دے کر کہا
میں تمہاری ناک توڑ دوں گا اگر زیادہ بکواس کی تو
صائم نے ہوا نے مکا لہرایا
یعنی دال میں کچھ کالا ضرور ہے ہممممم
ارباز پھر باز نا آیا
جی نہیں انسپکٹر صاحب ویسے بھی یہ دل کسی کا پہلے ہی ہو چکا ہے
صائم نے فلمی انداز میں آہ بھری
اوہوووووو کون ہے وہ قاتل حسینہ
وقت آنے پر بتا دوں گا ابھی منہ بند رکھ
دیکھ صائم اگر تو نے کچھ چھپایا نا تو محبت کے قابل نہیں چھوڑوں گا تجھے میں
دیکھتے ہیں ابھی جو کرنے آۓ ہیں اس کے بارے میں سوچ
ہمممم پہلے ویکٹم سے تو مل لیں پھر سوچتے ہیں
ارباز نے کہا
تبھی ڈاکٹر ماہ رخ کمرے میں داخل ہوئیں
میں فری ہوں اب ہم چل سکتے ہیں گھر
ڈاکٹر ماہ رخ نے اپنا بیگ اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل گئیں
ساتھ ارباز اور صائم بھی چل پڑتے
صائم کی پرکشش شخصیت دیکھنے والوں کو بار بار دیکھنے ہر مجبور کر رہی تھی
ڈاکٹر صاحبہ آپ نے ویکٹم کو گھر میں کیوں رکھا ہوا ہے
صائم نے پوچھا
میں دس سال پہلے ایک این جی او کا اہم حصہ تھی
ڈاکٹر ماہ رخ نے چلتے ہوئے بات شروع کی
وہ این جی خواتین اور بچوں کو تحفظ اور پناہ دینے کا دعوا کرتی تھی
لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ این جی اوز بھی مافیا ہے
چیریٹی اور فنڈز ان ویکٹمز کے نام پر لے کر اپنے بینک بھرے جاتے ہیں
تو میں نے علیدگی اختیار کر لی
اور پھر میں نے اللّٰه کا نام لے کر ایسے بچوں کی خود سے مدد شروع کر دی
میرے شوہر کا انتقال سات سال پہلے ہو چکا ہے لیکن جب تک وہ زندہ تھے ہمیشہ میرا ساتھ دیا
اس لیے جتنی ایسی بچیاں تھیں جن کو ان کے گھر والے نہیں رکھتے وہ سب میرے گھر میں رہتی ہیں
ڈاکٹر ماہ رخ نے بات ختم کی وہ لوگ پارکنگ ایریا میں پہنچ چکے تھے
اللّٰه تعالیٰ آپ کو اجر دے گا انشاء الله ڈاکٹر صاحبہ
آمین بیٹا
میڈم آپ چلیں ہم آپ کو فولو کرتے ہیں
ارباز نے کہا اور تینوں اپنی اپنی گاڑی کی طرف چل پڑے
۔۔
۔۔
گاڑی ایک کوٹھی کے سامنے رکی
گیٹ کھلا اور ڈاکٹر ماہ رخ کی گاڑی اندر داخل ہو گئی
اس کے بعد صائم کی گاڑی بھی اندر داخل ہو گئی
آجائیں بیٹا
ڈاکٹر ماہ رخ نے بلایا تو دونوں ان کے پیچھے چل دئیے
ڈرائنگ روم میں تینوں بیٹھ گئے
اور چاۓ کے ساتھ لوازمات رکھ دئیے گئے
اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں تھی میڈم ہم بس مس ماہم سے ملنے آۓ ہیں ان کے بیان کے بعد ہی ہم کوئی سٹیپ لینے کے قابل ہوں گے
میں جانتی ہوں بیٹا آپ آرام سے بیٹھو میں لے چلتی ہوں آپ کو لیکن خیال کرییے گا اس سے کوئی ایسا سوال مت پوچھیے گا جو وہ بتانا نا چاہے
کیونکہ اسکی حالت ابھی بھی اس قابل نہیں ہے،،
جی میڈم ضرور
آ جائیے پھر
چاۓ ختم ہوئی تو صائم اٹھ کر ڈاکٹر ماہ رخ کے ساتھ چل دیا
سڑھیاں چڑھ کر وہ ایک کمرے کے سامنے رکی اور دستک دی
اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئیں
مانو بیٹا باہر جاو ماہم سے ایس پی صاحب ملنے آئے ہیں
ایس پی کا نام سن کے ماہم کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں
ریلکس بیٹا وہ بس آپ سے ملنے آئے ہیں ریلکس کریں
ڈاکٹر ماہ رخ نے بہت ہی پیار سے ماہم کے سر پر ہاتھ رکھا
آ جائیں ایس پی صاحب
صائم دروازے کے باہر کھڑا
ڈاکٹر ماہ رخ کی آواز سن کر اندر داخل ہوا اور کوئی اچانک سے صائم کے سینے سے آ ٹکرایا
صائم تو اپنی جگہ ویسے ہی کھڑا رہا لیکن سامنے والی لڑکی اچھی طرح ہل گئی تھی
مانو دھیان سے بیٹا
پھوپھو فاریہ نام ہے میرا
اور ساتھ ہی صائم کو دیکھ کر کہا
سوری
صائم نے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا اور مسکرایا
اووہ تو یہ ہیں مانو
لیکن فوراً سپاٹ چہرے سے بولا
آنکھیں کھول کے چلیں گی تو سوری کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی
ہونہہ کھڑوس
فاریہ پیر پٹخ کر چلی گئی
یہ ہیں ماہم ڈاکٹر ماہ رخ نے کہا
صائم نے بیڈ پہ بیٹھی لڑکی کی طرف دیکھا جس نے دوپٹے سے اچھی طرح منہ چھپایا ہوا تھا
صائم سامنے کرسی پر بیٹھ گیا
ماہم بیٹا پریشان مت ہوں میں اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں تا کہ آپ کو انصاف دلوا سکوں
اس جگہ انصاف کس کو ملتا ہے رندھی ہوئی معصوم سی آواز صائم کے کانوں میں پگھلے ہوۓ سیسے کی مانند پڑی
وہ رب سب کا ہے وہ آپ کو بھی ضرور انصاف دے گا
لیکن آپ کو مضبوط بننا ہو گا
صائم نے پیار سے کہا
ماہم مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے پلیز
صائم نے التجا کی
ماہم نے ڈاکٹر ماہ رخ کے ہاتھ کو زور سے پکڑ لیا
اور چہرے سے دوپٹہ ہٹا دیا
چہرے پر جگہ جگہ نیل جو ماہم کے ساتھ ہوئے تشدد کی چینخ چینخ کر گواہی دے رہے تھے
اور گردن پر دو جگہ زخم کے نشان تھے
یہ، صائم نے اشارہ کیا
سگریٹ سے ہاتھوں اور گردن کو داغہ گیا ہے
ڈاکٹر ماہ رخ نے افسردہ لہجے میں کہا
صائم نے زور سے آنکھیں میچ لیں
ماہم کے آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے
صائم نے اٹھ کر ماہم کے سر پر ہاتھ رکھا
ماہم آج سے تمہارا یہ بھائی تمہاری ڈھال ہے
اللّٰه نے چاہا تو میں ہر قیمت پر تمہیں انصاف دلواؤں گا
صائم نے مضبوط لہجے میں کہا
ماہم نے غیر اردی طور پر صائم کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں پکڑا اور رونا شروع کر دیا
صائم کو لگا جیسے سامنے مریم بیٹھی ہو اور رو رو کر کہہ رہی ہو بھائی تمہارے ہوتے ہوئے میرے ساتھ یہ سب کیسے ہو گیا
صائم کی آنکھیں بھی اشک بار ہو گئیں
حوصلہ کرو بیٹا
ڈاکٹر ماہ رخ نے ماہم کو سینے سے لگایا اور صائم کمرے سے باہر نکل گیا
دروازے کے پاس ہی فاریہ کھڑی تھی ماہم کے رونے کی آواز سن کر وہ آئی تھی
ایک لمحے کے لیے دونوں کی آنکھیں ملیں
صائم کی آنکھیں ضبط کے مارے سرخ انگارہ ہو رہی تھیں
فاریہ کے دل میں ٹیس پڑی
۔۔
۔۔
ارباز میرے دل پر بوجھ ہے
صائم تم ٹھیک نہیں ہو تو ہاسپٹل چلتے ہیں
نہیں میں ٹھیک ہوں
ارباز میں جس لڑکی سے مل کر آ رہا ہوں وہ بلکل میری مریم جیسی تھی معصوم سی بچوں جیسی
اس اس کی آنکھیں مجھ سے سوال کر رہی تھیں کے میرے ہوتے ہوئے کیسے کیسے وہ اس ظلم کا شکار ہو گئی
میں تو محافظ ہونے کا دعوا کرتا ہوں نا پھر کیسے
صائم کے آنسو بہے جا رہے تھے
صائم یار ایسا مت سوچو ہم پوری کوشش کریں گے کہ انصاف ہو
یار اب ہم انصاف انصاف کر رہے ہیں ہمارے ہوتے ہوئے اتنا بڑا ظلم ہو کیسے گیا
صائم کو خود سے نفرت ہو رہی تھی
صائم یار ایسا مت سوچ دیکھ جب سے تو آپوانٹ ہوا ہے کتنا امن ہو گیا ہے
کالجوں اور اسکولوں کی بچیاں بچے اب سکون سے آتے جاتے ہیں
چوری لوٹ مار کتنی کم ہو گئی ہے تیرے آنے کے بعد یہ پہلا کیس ہے اور انشاء الله آخری ہو گا
اب ہم جو ٹیم بنا رہے ہیں وہ اس مرض کو جڑوں سے ختم کر دے گی انشاء الله
ارباز نے تسلی دی تو صائم کو سکون ہوا
ذیشان کا بتاو کیا بنا
صائم نے سوال کیا
کل اس کی پیشی ہے امید ہے رہا ہو جائے گا
ٹھیک ہے اگر ایسا ہو جاتا ہے تو
آج رات میٹنگ کال کرو اس پلان میں شامل باقی لوگ بھی بلا لینا
صائم نے تائید کی کیونکہ وہ جلد از جلد اس ظلم کو روکنا چاہتا تھا
ارباز ، صائم کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولا
ہاں،
وہ تین لوگ مجھے ہر حالت میں سلاخوں کے پیچھیے چاہیں
ارباز سمجھ گیا کہ صائم ماہم کے مجرموں کی بات کر رہا ہے
انشاء الله ایسا ہی ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی ابو کو تو نہیں بتایا تم نے،،
نہیں بھائی لیکن آپ مجھے کیوں نہیں بتانے دے رہے
اب تو آپ کو باعزت بری کر دیا گیا ہے
روہان میرے بھائی میرے پر بس ایک اور احسان کر دو ابھی کسی کو میری رہائی کے بارے میں نا بتانا
تو کیا آپ گھر نہیں چلیں گے
نہیں روہان میں گھر نہیں چلوں گا
مجھے اہنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا ہے
کیا مطلب بھائی،
تم تہجد پڑھتے ہو نا روہان
روہان نے اثبات میں سر ہلایا
میرے لیے دعا کرنا کہ اللّٰه مجھے معاف کرے
بھائی تہجد تو آپ بھی پڑھتے ہیں اور آپ کے چہرے کا نور بتا رہا ہے کہ اللّٰه نے آپ کو معاف کر دیا ہے
ذیشان صرف مسکرایا لیکن اس کی مسکراہٹ خوشی والی نہیں تھی
چلو ٹھیک ہے میرے بھائی زندگی رہی تو پھر ملیں گے
ذیشان نے روہان سے گلے ملتے ہوۓ کہا
خدا کرے ہم جلدی ملیں بھائی
روہان نے دعا کی
اور دونوں الگ الگ رستوں پر چل دئیے
لیکن راستے دونوں کے مڑتے اللّٰه کی طرف ہی تھے
منزل دونوں کی ایک ہی تھی
نیکی کی امید کی ایمان کی پر نور منزل
۔۔
۔۔
پلان کے مطابق ذیشان ایک سیلون میں گیا اور اپنا حلیہ بلکل بدل ڈالا یہ وہ حلیہ تھا جو اس کو صائم نے اپنانے کا کہا تھا
سیلون سے باہر آ کر ذیشان نے اوپر آسمان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھا
اور لمبے لمبے سانس لیے
پھر روڈ پر نظر دوڑائی اور ایک کیب کو اشارے سے بلایا
وہ کیب شہر کی سڑکوں سے ہوتے ہوۓ گاؤں کی کچی سڑکوں پر آ نکلی
یہ گاؤں نہیں تھا لیکن شہر سے ہٹ کر ایک علاقہ تھا
کیب ایک سڑک کے کنادے پر رکی
ذیشان نیچے اترا اور دور سے نظر آنے والے ایک بڑے سے گیٹ کی طرف چل دیا
دس منٹ کی مسافت نے تھکا دیا تھا
گیٹ پہ کھڑے گارڈ کو ذیشان نے سیٹھ سے ملنے کا کہا تو اس نے سیٹھ کی غیر موجودگی کی اطلاع دی
میں جانتا ہوں وہ موجود ہیں ان کو بولو نادر صاحب کا خاص بندہ آیا ہے
گارڈ نے جا کر بتایا اور ذیشان کو اندر بلا لیا گیا
نادر بھی پولیس کا خبری تھا جب صائم کو سیٹھ کی طرف سے مثبت جواب نا ملا تو اس نے نادر کو ایک کرپٹ آفیسر ہونے کی بنا پر ٹرمینیٹ کر دیا
نادر نے پلان کے مطابق سیٹھ سے مدد مانگی اور سیٹھ نے سیاسی ہتھ کنڈے آزما کر نادر کو بحال کرا دیا
تب سے سیٹھ کے بقول نادر انکا خاص بندہ تھا
چھ ماہ نادر نے سیٹھ کی ہر غلط کام میں مدد کی اور سیٹھ کا اعتبار جیتا
لیکن جب لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کو سینگا پور بیچنے کا پلان بننے لگا تو نادر نے اپنا ٹرانسفر حاصل پور میں کروا لیا اور ظاہر یہ کیا کہ صائم نے ایسا کیا ہے
نادر نے جاتے جاتے ذیشان کی جگہ بنا دی
۔۔
ذیشان یہ سب سوچتا ہوا مضبوط قدم اٹھاتا سیٹھ کے سامنے آ کھڑا ہوا
سلام سیٹھ صاحب
میدان میں بیٹھ کر سیٹھ مالشی سے کندھے دبوانے میں مگن تھا
وعلیکم سلام ذیشان ہو تم
جی سیٹھ صاحب
نادر نے بتایا تھا کے بڑے کام کے بندے ہو تم
سر کام کروا کر دیکھ لیں
یہ کھلونا چلانا آتا ہے
سیٹھ نے ساتھ کھڑے آدمی سے پسٹل لے کر میز پر ذیشان کے سامنے رکھی
ذیشان نے ایک لمحے میں پسٹل اٹھائی
اور برامدے میں لگے ایک بلب کا نشانہ لیا جو یہاں پہ کھڑے ہو کر ٹھیک سے نظر بھی نہیں آ رہا تھا
ذیشان نے نشانہ باندھا اور فائر کر دیا
ایک زور دارد آواز کے ساتھ بلب چکناچور ہو گیا
ذیشان پیچھے مڑا اور پسٹل دوبارہ میز پر سیٹھ کے سامنے رکھ دی
بول کر یقین دلوانے سے بہتر ہوتا ہے عمل کر کے دیکھایا جائے
ذیشان نے کمال اعتماد سے سیٹھ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا
سیٹھ کے چہرے پر زہریلی مسکراہٹ پھیل گئی
جی اوے شیرا ٹھنڈ پا دتی اے تو تاں
نادر سر نے سہی کہا تھا خاصہ اوور آدمی ہے
ذیشان نے کھڑے کھڑے سوچا
او بیٹھ جا شیرا بیٹھ جا
شکریہ سیٹھ صاحب ذیشان نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا
اوۓ تو سن ادھر آ
سیٹھ نے سامنے کھڑے آدمی کو بلایا
جی سیٹھ صاحب
میرے بیڈ روم کے ساتھ دو کمروں کے بعد والا کمرہ ہے وہ کھول دو
ذیشان کو آرام کرنا ہو گا
جا شیرا سکون سے سو جا جب فریش ہو گا تب سب باتیں کریں گے
ٹھیک ہے سیٹھ صاحب
ذیشان اس آدمی کے پیچھے چل دیا
کمرے میں آ کر ذیشان نے دروازہ اچھے سے بند کیا
وہ جانتا تھا اس کمرے میں کیمرہ لگا ہوا ہے
ذیشان ایک قد آدم شیشے کے سامنے آکھڑا ہوا
اپنے حلیے ہر ایک نظر ڈالی اور قہقہہ لگایا
ذیشان بیٹا اب تو تجھے کوئی نہیں پہچان سکتا آسانی سے
سرخ و سفید رنگت سانولی رنگت میں بدلی ہوئی تھی داڑھی نفاست سے تراشی ہوئی
کالی گہری آنکھیں جبکہ ذیشان کی آنکھیں ہیزل کلر کی تھیں
ماتھے پر پڑے آڑے ترچھے بال اؤر بالوں کی چوٹی بندھی ہوئی تھی
ذیشان نے گلے سے مفلر
اتارا اور بیڈ پر ڈھ گیا اور آنکھیں بند کر لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورے کیا سوچ رہی ہو بیٹا
نورے کو سوچوں میں دیکھ کر صالحہ بولیں
مما نمرہ باجی کو ہوش آ گیا ہے نا اب
ہاں بیٹا اللّٰه کا شکر ہے
مما مجھے انکی بہت یاد آتی ہے
نورے تم چاہو تو ہم اس سے ملنے جا سکتے ہیں
کیا سچ میں نورے نے خوشی سے کہا
لیکن پھر یک دم خوشی کی جگہ ڈر نے لے لی
مما وہاں تو وہ ہوں گے
کون ذیشان صالحہ نے سوال کیا
تو نورے نے اثبات میں سر ہلا دیا
نورے وہ وہاں نہیں ہے اور اگر وہ ہو بھی تو تم کیوں خوفزدہ ہو رہی ہو
اتنے سال تمہیں یہی بات سمجھائی ہے میں کہ لڑکی ہنے کو اپنی مضبوطی بناو کمزوری نہیں
کوئی سر بازار تمہاری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے تو اس کو سب کے سامنے سوال کرو کہ کیا مسئلہ ہے کیوں دیکھ رہے ہو
کوئی تمہاری طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو اس کا ہاتھ توڑ دو
لیکن کبھی ٹوٹنا مت نورے
اپنے اس حجاب کو اپنی طاقت بناو مجبوری نہیں
صالحہ نے ہمیشہ کی طرح نورے کو مضبوط اور پر اعتماد لہجے سے سمجھایا
ہمارے اس معاشرے کو صالحہ جیسی ماوں اور بیٹیوں کی بہت ضرورت ہے جو اپنے بیٹی کے ہاتھ میں بیلن پکڑا کر کہیں کے گول روٹی ضرور بنانا سیکھو
لیکن وقت پڑنے پر ان ہاتھوں کو اپنی حفاظت کہ لیے بھی استعمال کرو
ہمیشہ اچھا بولو اور سب کی سنو
لیکن اپنی ذلت کرنے کا حق کسی کو نا دو
کوئی تمہاری طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو اس کا ہاتھ توڑ دو
نا کہ چھپ کے گھر میں بیٹھ جاو
یہ معاشرہ اگر ایسے ہوس کے پجاریوں کی وجہ سے خراب ہے تو ساتھ ہی ان لڑکیوں کی وجہ سے بھی خراب ہے جو خود پر ہوا ظلم کے خلاف اواز نہیں اٹھاتیں
یہ معاشرہ ان ماں باپ کی وجہ سے بھی خراب ہے جو اہنے بچوں کو قاعدے میں نہیں رکھتے
بچیوں کو تنگ و چست لباس پہننے پر نہیں روکتے
تو پھر کھلا گوشت کتوں اور گِدھوں کی خوراک بننے سے کیسے روک سکتے ہیں
اس معاشرے کے ہر ایک فرد کو اپنی ذات سے بدلاو لانے کی ضرورت ہے
جو کہ کوئی نہیں چاہتا،
جی مما میں پوری کوشش کروں گی آپ کی باتوں پر عمل ضرور کرؤں گی
تو ٹھیک ہے اس ویک اینڈ پہ چلتے ہیں ہم نمرہ سے ملنے
مما کون نمرہ،،
بقی وہ جو کونے والے گھر میں رہتی تھی.
صالحہ نے بتایا
کونے والے گھر میں کوئی رہتا بھی تھا کیا
بقی نے پھر سے کہا
مما اس کو پتا ہے سب ایسے ہی تنگ کر رہا ہے
نورے نے ایک چپت بقی کے سر پہ لگائی
آپی تم ضائع ہو جاو گی میرے ہاتھ سے
میں بتا رہا ہوں پنگے نا لیا کرو
بقی نے بکس اٹھائیں اور اکڑ کر اندر چلا گیا
اے لو صالحہ نے حیرت سے بقی کو اندر جاتے دیکھا
مما یہ کتنا بدتمیز ہے مءں ہورے چار سال بڑی ہوں اس سے
نورے نے اترا کر کہا
نورے کوئی بات نہیں بیٹا بھائی ہے چھوٹا
آپ مجھے چاۓ تو پلاو شاباش میری بیٹی
اچھا بناتی ہوں
نورے اٹھ کر کچن میں چلی گئی