📱 Download the mobile app free
Home > 92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064 > 92 Ninety Two (Episode - 8)
[favorite_button post_id="16109"]
44581 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

92 Ninety Two (Episode - 8)

92 Ninety Two By Maira Hani

شاپنگ مال میں وہ اسکا بازو پکڑے گھوم تھا اسے تو جیسے کسی چیز کا ہوش ہی نہیں جو وہ کہتا اسی پر ہاں کہہ دیتی جیسے اپنی کوئ پسند ہے ہی نہیں.. اے ڈی نے اسکی غیر حاضر دماغی نوٹ کر لی تھی …وہ جو بھی سوال ر تا اسکا کوئ اور ہی جواب ملتا…

چلو اب کچھ کھا لیتے ہیں.. دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا ہم نے… ہاں ٹھیک ہے… حسب معمول اس نے ہاں نے سر ہلادیا.. اور پاس ہی ایک ہوٹل میں داخل ہوگۓ.. دروازے پر کھڑے گارڈ نے جھک کر اے ڈی کو سلام کیا وہ شاید اسے پہلے سے ہی جانتا تھا…

آریان بوکھلاہٹ میں ادھر ادھر گھوم رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے…

کمرے کے باہر کوری ڈور میں. ایک جگہ کھڑا کسی گہری سوچ میں گم تھا….

جب baais

اسنے کندھے پر ہاتھ رکھا.. وہ ایک دم سے حال میں واپس لوٹا.

ہاں کیا ہوا..

مجھے تو کچھ نہیں ہوا .. لیکن تو ٹھیک نہیں لگ رہا… اب ادھر ایسے کھڑے رہنے سے کیا ہو گا…

نکاح کے انتظامات کرو… مولوی صاحب کا انتظام کر لیا.ہے میں نے . گواہ بھی ان کے ساتھ ہی آیں گے…

لیکن یار ایک پرابلم ہے…

وہ کیا ؟

آریان اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوۓ بولا..

اے ڈی کو پتہ چل جاۓ گا.. سب اس سے چھپاناممکن نہیں .. بہتر یہی ہے کے کوئ مناسب سا بہانہ بناکر اسے پہلے ہی بتا دو ..اور نکاح کی دعوت دے دو….

آخر نکاح پر کیا کہے گا تمہیں خوش ہو کر آے گا.. ہاں اگر بعد میں پتہ چلا کہیں سے تو نتائج بہت برے بھی ہوسکتے ہیں…کیونکہ پھر اسکو ساری حقیقت معلوم ہوجاۓ گی. اور پھر تیرا اسکے ہاتھوں بچنا ممکن نہیں ….

کیا کہہ رہا ہے یار؟؟میں کیسے بتا سکتا ہوں ….اسے .. وہ چھوڑے گا ..مجھے .. اور وہ پوچھے گا.. نکاح یہاں پر کیوں ہو رہا ہے تو کیا جواب دوں گا ؟؟میں.

اس کا ایک حل ہے میرے پاس .. ابھی شام اسے چھٹی مل جاۓ.. اسکی حالت ٹھیک ہے اب.. نکاح تیرے گھر پر ہی رکھ لیتے ہیں..

ایک چھوٹی سے گیدرنگ رکھیں.گے اےڈی کو شک بھی نہیں ہو گا.. اس طرح…

اچھا آریان کسی گہری سوچ میں گم تھا….

یار نکاح کرنا ضروری ہے کیا ؟

ہاں یا نکاح کر یہ پھر اوپر پہنچنے کا انتظام کر لے..

یار میں مام کا کیا جواب دونگا… وہ کینیڈا میں میرے انتظار میں بیٹھی ہوئ ہیں..کہ کب میں واپس آؤنگا اور میری شادی کر یں. گی.. اور ادھر میں نکاح کر کے بیٹھ جاؤں…

یہ سب تو پہلے سوچنا چاہیے تھا..پھر میں اب کیا کر سکتا ہوں…

میں تو تمہیں اس مسئلے سے باہر نکال رہا ہوں.

اور جہاں تک بات تمہاری مام کی ہے تو بتا دینا.. ادھر ہی ایک لڑکی پسند آگئ تو نکاح کر لیا… باقی ساری رسمیں اپکے آنے پر کریں گے…

اور اسکے بھی گھر بار کا پتہ کر وا نکاح کے بعد کون ہے کہاں رہتی تھی.. کیا کرتی ہے.

مجھے کیا پتہ کون …جو بھی ہو میری بلا سے… آریان چرتا ہوا بولا..

ہاں تجھے بس اٹھا کر لانے کا پتہ تھا.. اب نکاح ہو جاۓ گا… تو پھر کوئ نہیں رہے گی … تیری بیوی ہوگی…. سمجھے اس حقیقت کو اب جتنا جلدی ہو سکے قبول کرلو…

Baais

اسکا کارلر جارہتا ہوا بولا.. اور پھر وہاں س چلا گیا

.

مام میں لندن جا رہا ہوں….

کیا مسز ملک کے کھانا کھاتے ہوۓ ہاتھ سے چمچ گیا..

ملک صاحب کو بھی حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا..

یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا ..تم تو ملک سے باہر کبھی بھی جانا نہیں چاہتے تھے..

وہ جانتے تھے زاہران ملک آؤٹ آف دء کنٹری جانے کے کتنے خلاف تھا… اسے لگتا تھا کے اس طرح انسان اپنی فیملی سے بلکل کٹ جاتا ہے. اور اپنی ایک الگ دنیا میں ہی مگن رہتا ہے…

یہ سوچ اسکی اپنے بڑے بھائ…حاشر کو دیکھ کر بنی تھی.. جو پچھلے چار سالوں سے کینیڈا میں اپنی فیملی کے ساتھ مقیم تھا شادی کے بعد فوران اپنی بیوی کو لے کر کینیڈا چلا گیا تھا.. اور پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا …

ایک بار بھی مڑکر گھر کر خیر خبر نہیں لی….

زاہران ہمیشہ سے ہی پاکستان

میں رہنا چاہتا اپنے گھر والوں کے ساتھ لیکن اب پچھلے چند مہینوں سے وہ جس اذیت سے گزر رہا تھا .. سارے گھر والے بہت اچھی طرح اس سے باخبر تھے..

ملک صاحب اسکی بات سن کر خاموش ہوگۓ….مسز ملک بھی انکی طرف دیکھ کر خاموش ہوگئیں….

کیا کرنے جارہے ہوبیٹا

ڈیڈ سکالرچپ آئ ہے میری دو مہینے پہلے اپلائ کیا تھا…

دو سال کے لیے جارہا ہوں…

وہاں کی سٹڈی بہت اچھی ہے .

زاہران خالی پلیٹ میں چمچ گھماتے ہوۓ بولا…نظریں ہنوز پلیٹ پر مرکوز تھیں….مسز ملک اور ملک صاحب دونوں خاموش تھے .. وہ اپنے بیٹے کی حالت بخوبی جانتے تھے.. پچھلے چند مہینے میں کتنا بدل گیا تھا..وہ اپنے آپ کو محض اپنے کمرے تک محدود کر لیا تھا.

. یونی سے سیدھا گھر اود اسکے بعد صرف اپنے کمرے میں وہاں پر کسی کا زیادہ آنا جانا اسکو پسند نہیں تھا.. سواۓ مسز ملک کہ کوئ… زیادہ جاتا بھی نہیں تھا نہ وہ کسی سے زیادہ بات کر نا پسند کر تا تھا..

ٹھیک ہے بیٹا پھر جیسے تمہاری مرضی اور پاسپورڈ وغیرہ کے انتظامات مجھے بتانا میں کر وادوں گا.. اور جانا کب ہے بیٹا.

پاسپورڈ بنوانے کے لیے دیا ہوا ہے.. اگلے. مہینے کی گیارہ تاریخ کی فلائٹ ہے..کہتے ہوۓ.. ٹشو پیپر سے ہاتھ پونچھتے ہوۓ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا…

مسز ملک بس دکھ سے اسے دیکھتی رہ گئیں…زہران انکا سب سے چھوٹا اور لاڈلہ بیٹا تھا وہ اسے کسی طور بھی اپنے سے دور نہیں کرنا چاہتی تھیں..لیکن قسمت کے ہاتھوں مجبور ہوگئیں..تھیں وہ خود بھی یہی چاہتی تھیں کہ وہ اس سب ماحول سے دور جاۓ شاید اسکی طبیعت میں کچھ بدلاؤ آۓ…

_________________________

آپکی پیشنٹ کو ہوش آچکا ہے آپ انہیں دیکھ سکتے ہیں. نرس کمرے سے باہر نکلتے ہوۓ بولی…

آریان اسکی بات پر نا چاہتے ہوۓ. بھی .اندر کی جانب بڑھ گیا…

کمرے میں قدم رکھتے ہی.. اس نے آہستہ سے دروازہ بند کیا.. اور سامنے مشال کے اترے ہوۓ چہرے پر نظر پڑی.. آنکھیں پوری رات رونے کی وجہ سے اب سوج چکی تھیں…..

بخار کی وجہ سے اسکے گال سرخ ہو رہے تھے… ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئ تھی.. دوسرا ہاتھ بیڈ پر رکھا ہوا تھا..

آریان آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا اسکی طرف بڑھا …جیسے ہی اسکے قریب پہنچا ..اسنے چہرہ موڑ کر اسکی طرف دیکھا… دکھ تکلیف اذیت ہر چیز اسکی آنکھوں میں صاف واضع تھی….

آریان کو اپنے سامنے دیکھتے ہی خوف سے اسکی آنکھیں پھیل گئیں….اس سے پہلے کے وہ چیخ مارتی آریان نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ لیا..

چپ کر جاؤ.. کچھ نہیں کہہ رہا..میں تمہیں سمجھی میں بس تمہیں دیکھنے آیا تھا وہ بھی اس نرس کی وجہ سے پہلے ہی تمہاری وجہ سے اتنی بری مصیبت میں پھنس گیا ہوں اب چپ ہی رہنا ورنہ سب اکھٹے ہوجائیں گے…

شام کو نکاح ہے میرا تمہارے ساتھ…

تیار رہنا.. کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہیے ..جو کچھ بھی ہوا..چپ چاپ تیار ہوجانا..

میرے کچھ قریبی دوست اور کولیگز بھی آئیں گے..

اسکی بات پر مشال کی حیرت سے آنکھیں باہر آگئیں …

اور وہ زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگی…

ہاتھ ابھی اسکے منہ پر ہی تھا… آریان نے اسکے انکار پر اپنے ہاتھ کا دباؤ اور زور سےبڑھا کر اس پر جھکا…

تم سے تمہاری راۓ نہیں مانگی .. جو کہا ہے ویسا ہی کرنا چپ چاپ ورنہ یہی ہاتھ تمہارے گلے پر رکھ کر تمہاری جان بھی لے سکتا ہوں میں سمجھی!!..

اسکے ہاتھ کے دباؤ کی وجہ سے اسے سانس لینے میں بھی دشواری ہونے لگی… آنکھوں سے آنسو امڈ امڈ کر باہر آنے لگے. اسنے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا..

آریان نے اسکے منہ سے ہاتھ ہٹایا…

وہ زور زور سے لمبے لمبے سانس لینے لگی…..

اسکی حالت خراب ہونے لگی.تھی .

آریان نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی..بلاشبہ وہ بلاکی حسین تھی.. آریان کا اس پر سے نظریں ہٹانامشکل ہو گیا تھا…

تبھی نرس کمرے میں داخل ہوئ.

آپ ٹھیک تو ہے نہ .مشال کی حالت دیکھتے ہوۓ بولی..

جی پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے اسے شاید گھبرا گئ ہے کبھی ہسپتا ل میں رہنے کی عادت نہیں ہے نہ اسے..

یہ دوسری نرس تھی… آریان اور مشال کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی…. نہ ہی مشال کے بارے میں کچھ پتہ تھا اسے.جی شاید یہی وجہ ہوگی..

میں باہر ہی ہوں اگر کسی چیز کی ضرورت پڑے تو مجھے بتادیجئے گا…

آریان نرس کو کہتا ہوا ایک نظر اسکے خوف زدہ سے چہرے پر ڈالتے ہوۓ وہاں سے نکل.گیا…

تمہیں کیا لگتا ہے مسٹر اے ڈی خان میں تمہیں اتنی آسانی سے معاف کر دوں گی اور سب کچھ قبول.کرلوں گی ؟؟

کبھی نہیں میں یہاں سے واپس چلی جاؤں گی بہت جلد میں صرف اور صرف زاہران کی ہوں اور اسی کی رہوں گی…

تمہارا مجھ پر کوئ حق نہیں ہے نہ ہی کبھی ہوگا… غصے اور حقارت سے دل میں سوچتے ہوۓ.. اسکی طرف دیکھا جو ڈرائیونگ کرتے ہوۓ نظریں غور سے فرنٹ سکرین پر جماۓ بیٹھا تھا..

پتہ نہیں کب جان چھوٹے گی میری .اس سے شاہ نور دل میں سوچتے ہوۓ .. چہرہ ونڈو کی طرف موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی…

رات کا ناجانے کونسا پہر تھا ..جب شاہ نور کی آنکھ کھلی اپنے پاس سوۓ اے ڈی پر نظر پڑی … ایک غصیلی نظر اس پر ڈالی…

پھر سائڈ سے اپنی شال اٹھا کر اپنے اوپر اچھی طرح اوڑھ لی اور کمرے سے باہر نکل.کر باہر بالکنی میں آگئ…

یہاں کافی ٹھنڈ تھی.. وہ ریلنگ کے قریب آکر کھڑی ہوگئ.. اور باہر کا منظر دیکھنے لگی…

تبھی اسکی نظر گیٹ سے باہر کھڑے دو نوجوانوں کی طرف پڑی جو کمینگی سے اسی کی طرف دیکھ رہے تھے…

اسے انکی نظروں سے ایک دم سے کراہیت سی محسوس ہوئ. تبھی اسے یاد آیا.. کے اے ڈی نے اسے رات کے وقت باہر بالکنی پر آنے سے منع کیا تھا…

خیر ہے کرتا ہے تو کرتا رہے منع مجھے کیا ..

اب نیند نہ آۓ تو کیا کروں…

دم گھٹتا ہے میرا اندر کمرے میں ..

اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوۓ دل میں بولی..

تبھی اسے اپنے کندھے پر کسی کے دباؤ کا احساس ہوا ..

پیچھے مڑکر دیکھا.. تو اے ڈی اپنی نیند سے سرخ ہوتی آنکھیں لیے اسکی طرف تنے ہوۓ اعصاب لیے اسکی طرف دیکھ رہا تھا..

تبھی اسے گولیوں کی زور دار آواز سنائ دیں..

اسنے پیچھے مڑ کڑ دیکھا..

وہ دو نوجوان جو کچھ دیر پہلے تک اسکی طرف کمینگی سے دیکھ کر مسکرا رہے تھے.. اب زمین بوس ہوچکے تھے.. خون ابل ابل کر انکے سر اور پیٹ ست باہر آرہا تھا.. دونوں کچھ پل تڑپتے رہے. ..پھر ساکت ہوگۓ.. پاس کھڑے بارڈی گرڈز بندوق تانے ان دونوں کے سروں پر کھڑے تھے. دونوں خون میں لت پت پڑے تھے..

نیچے کامنظر اتنا خوف ناک تھا.. کے وہ دیکھتے ہی شاہ نور کی دلخراش چیخ نکلی اور پیچھے ہوتے اے ڈی کے سینے سے جالگی..

اے ڈی نے غصے سے ایک جھٹکے سے اسے الگ کیا.. اور زور سے کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا…

منع کیا تھا نہ رات کو باہر نہیں آنا..

ہاں؟

پھر کیوں آئ.

.آواز اتنی اونچی تھی کے شاہ نور کو لگا اسکے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے.

اسکا چہرہ غصے سے سرخ ہورہا تھا.. اور آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا تھا..

و….و….وہ…میں…..شاہ نور کا حلق تک سوکھ گیا.. اسکا وہاں پر مزید کھڑے رہنا محال ہوگیا تھا..

وہ اے ڈی کے حصار میں بری طرح کانپ رہی تھی ..

تمہیں شاید پیار سے کہی ہوئ بات سمجھ نہیں آتی ہاں؟

اے ڈی بازو سے زور سے پکڑ کر کھینچتا ہوا بولا..

ایسے نہیں سمجھو گی تم..

اسے کھینچتے ہوۓ اپنے ساتھ لے گیا..

ن.نن.نہیں…..چ..چھو..چھوڑ دو مجھے…پ…پلیز..

شاہ نور چیختے ہوۓ بولی…

اسکے ساتھ ہی کھینچتی چلی جارہی تھی…

راہداری میں چلتے ہوۓ ہر طرف سناٹا تھا صرف شاہ نور کی چیخیں گونج رہی تھیں ہر طرف….

ایک خالی کمرے میں پہنچ کر اسے جھٹکے سے چھوڑا…

وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوۓ ..فرش پر جاگری..

کمرا پوری طرح اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا….

اب صبح تک یہی رہو گی .

اے ڈی کہتے ہوۓ جلدی سے کمرا باہر سے لاک کر کے نکل گیا…

شاہ نور کی جیسے ہی فرش پر نظر پڑی ایک موٹا سا کالے رنگ کا سانپ رینگتا ہوا. اسکے پاس آیا..

شاہ نور کے علاوہ اور کوئ بھی دیکھنے والا ہوتا تو صاف پہچان جاتا کے وہ سانپ پلاسٹک کا ہے..لیکن شاہ نور چونکہ ویسے ہی بچپن سے سانپ یا ہر قسم سے کیڑوں سے بہت زیادہ ڈرتی تھی… اس لیے اس ہر نظر پڑتی ہی اسکے منہ سے زور دار چیخیں نکلیں.

زمین میں اور بھی رنگ برنگے کیڑے رینگ رہے تھے جو سب ہی آرٹیفیشل artificial

تھے جو شاید اس کمرے میں آنے والے ہر انسان کو خوف زدہ کرنے کے لیے رکھے گۓ تھے.. دیکھنے میں اصلی لگتے تھے…

وہ رینگتے رینگتے شاہ نور کے جیسے ہی قریب آۓ.. شاہ نور اٹھ کر اپنی جگہ سے تھوڑا پیچھے ہٹی….

پیچھے دیوار تھی…ایک دم اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانا شروع ہوا..اور وہ دیوار کے ساتھ ہی زمین پر ڈھ گئ.