92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064 92 Ninety Two (Episode - 22)
92 Ninety Two (Episode - 22)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
92 Ninety Two By Maira Hani
گاڑی فل سپیڈ سے ڈرائیو کرتے وہ بنا ادھر ادھر دیکھے سڑک کی بجاۓ ہواؤں میں گاڑی اڑانے کی کوشش کر رہا تھا شاید ..اسکے ساتھ بیٹھی حریم اسکے چہرے کے بگڑتے زاوایے دیکھ کر ہولے ہولے کانپ رہی تھی…….
اسنے اپنے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا..
بار بار نظر اٹھ کر اس بے حس سے انسان کی طرف جارہی تھی.. وہ رشتے میں تو اسکا خالہ زاد بھائ تھا …لیکن اسکا رویہ ہمیشہ اس سے لیا دیا ہی رہا تھا.
وہ صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچتا تھا…
اور اپنی پسند کے لوگوں سے میل جول رکتا تھا یہی وجہ تھی کے اس کی بہت کم لوگوں سے ہی بنتی تھی . جن میں اس کے چند قریبی دوستوں کا ہی شمار ہو تا تھا…
اچانک سے ایک سپیڈ بریکر آیا…. حریم اچھل کر آگے کی طرف گڑی اگر بر وقت سیٹ کا سہارا نہ لیتی تو اسکا سر سامنے ڈیش بورڈ سے جا لگتا…….
اسنے سہمے ہوۓ وجود سے شارام کے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کی طرف دیکھا. .
شارام …میری بات سنو..میرا..یقین کرو .میں..نے..کچھ…نہیں..بتایا..
جسٹ شٹ اپ!
شارام اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ کر سختی سے بولا….مجھے کوئ بکواس نہیں سننی تمہاری….اپنا منہ بند رکھو…….
مام ڈیڈ کے کان بڑھنا تو تمہاری پرانی عادت ہے بہت سکون ملتا ہے نہ .تمہیں یہ سب کر کے…
لیکن آج ایک بات کان کھول کر سن لو …. تم بھی جو چاہتی ہو نہ وہ کبھی نہیں ہو سکتا…مس حریم فواد میں تمہیں کبھی بھی نہیں مل سکتا……تم جو بھی چال چل لو .. میری نظر میں نہ پہلے تمہاری کوئ اہمیت تھی نہ اب ہوگی….. شارام فیروز کو ایک بار جس چیز پسند آجاۓ….. پھر اس سے وہ کوئ نہیں چھین سکتا سمجھ آئ.. وہ انگلی اٹھا کر وارن کرنے کے سے انداز میں اونچی آواز میں بولا….جواب میں حریم ہکا بکا سی اسکی طرف دیکھنے لگی… اسکی باتیں سن کر اسکے چہرے کا رنگ فق ہو گیا….
.آریان کی صبح آنکھ کھلی تو نظر اپنے ساتھ بے سدھ پڑی ایشل پر پڑی. جو رات سے اسی پوزیشن میں ہوش و حواس سے بے گانہ نشے کے زیر اثر سوئ ہوئ تھی….رات نکاح کے بعد ہی اس نے دوبارہ سے ڈرگس کا استعمال کیا تھا.. ایسا اس نے آریان سے دور رہنے کے لیے کیا تھا…جو وہ بخوبی جانتا تھا…..
لیکن اس نے بھی دل ہی دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اب ایشل کو مزید ان سب چیزوں کا استعمال نہیں کرنے دے گا… ایشل بذات خود ایک بہت اچھی لڑکی تھی.. لیکن اس پر گزرے حالات نے اسے ان سب چیزوں کا عادی بنادیا تھا…..
اسنے ایک نظر ایشل پر ڈالی…..
وہ سوئ ہوئ بہت پیاری لگ رہی تھی.. کم عمر ہونے کی وجہ سے اسکے چہرے پر ویسے بھی کافی معصومیت تھی… اور دلہن بننے کے بعد تو وہ اور بھی زیادہ حسین لگ رہی تھی.. بلکل پریوں جیسا روپ آیا تھا اس پر..
اور یہ پری اب صرف اور صرف اسکی تھی……وہ اس پر اب تمام اختیارات اور حقوق رکھتا تھا…
وہ اسکی شریک حیات تھی… زاہران یہ سب سوچتے ہوۓ.. اندر تک سرشار ہو گیا..
لبوں پر ایک دلکش سی مسکراہٹ پھیل گئ….
ابھی وہ یونہی بیٹھا…..محویت سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا..کہ اس کے سیل فون کی ٹیون بجی …
اسنے سائیڈ ٹیبل سے اپنا سیل فون اٹھا کر ہاتھ میں پکڑا .. احد کا میسج جگ مگا رہا تھا.. اسے یونی جلدی آنے کی تاکید کی تھی ….
زاہران نے میسج پڑھتے ہوۓ ایک نظر وقت پر ڈالی جلدی سے اچھل کر بیڈ سے اترا اور واشروم کی جانب بڑھ گیا..
فریش ہو کر باہر نکلا…تو ایشل کی طرف بڑھا….
ایشل اٹھو .!!.
زاہران نے اسکے سر پر پہنچ کر اسے آواز دی….
کوئ حرکت نہ ہونے پر اسے کندھے سے پکڑ کر زور سے جنھجوڑا….
وہ ہر بڑا کر اٹھ بیٹھی… اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کو ملتے ہوۓ.. زاہران کی طرف دیکھا…..
پھر بیزاری سے رخ دوسری طرف موڑ لیا ..
کیا مسئلہ ہے تمہیں؟
سونے دو مجھے….کبھی تو سکون لینے دیا کرو..
وہ چڑ نے کے سے انداز میں بولی ..
جلدی سے چینج کر کے فریش ہو جاؤ….
میں ناشتہ بنانے جارہا ہوں. آج میری بہت اہم پروجیکٹ کی پریزینٹیشن ہے تو مجھے یونی جلدی جانا ہے….
تو جاؤ..میں.نے کونسا روکا ہے تمہیں…میرے سر پر کیوں سوار ہو گۓ ہو صبح صبح سونے دو مجھے…
ایشل لاپرواہی سے کہتی ہوئ.. دوبارہ لیٹنے لگی تھی جب زاہران نے اسکا بازو پکڑ ج کر کھینچ کر بیڈ سے اٹھایا اور اپنے سامنے کھڑا کیا ..
بھاری بھرکم لہنگے کی وجہ سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی زاہران اگر بروقت آگے بڑھ کر اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں نہ لیتا تو وہ اب تک زمین بوس ہو چکی ہوتی…
چھوڑو مجھے ..پیچھے ہو جاؤ…تمہاری ہمت کیسے ہوئ مجھے ہاتھ لگانے کی… ایشل کھا جانے والی نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی….
کیوں نہیں لگا سکتا ؟
بیوی ہو تم میری ..
پورا حق ہے میرا تم پر…
اگر آپ کو یاد ہو تو کل رات کی ہمارا نکاح ہوا ہے……
زاہران ایک آبرو اچکا کر کہتے ہوۓ بولا..
لیکن نہیں آپ کو کیسے یاد ہو گا.. آپ ہوش میں تھیں.ہی کہاں..مس ایشل اسکے جوڑے سے نکل کر چہرے پر بکھڑے ہوۓ بالوں کو ہاتھ سے کان کے پیچھے کرتے ہوۓ بولا..
پیچھے ہو ..ک..کوئ نکاح نہیں ہوا میرا تم سے…
ایشل اب بھی اسکے حصار میں تھی.تھوڑ سا کسماتے ہوۓ بولی..
اسکی بات پر زاہران نے سائیڈ ٹیبل کا لاک کھول کر اس میں سے کچھ پیپرز نکال کر اسکی آنکھوں کے سامنے لہراۓ.. یہ رہے ہمارے نکاح کے..پیپر… میری پیاری وائف…
مسز ایشل زاہران..!!
زاہران ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوۓ بولا……
میں نہیں چاہتا تمہاری مرضی کے خلاف کچھ بھی کروں اس وجہ سے اپنا حق نہیں مانگو گا. جب تک تم راضی نہ ہو…
میں نہیں چاہتا تھا تم خود کومزید تباہ کرو اس لیے تم سے نکاح کر لیا…..
کیونکہ جب تک میرے تم پر کوئ اختیار نہیں میں تمہیں کسی چیز سے روک بھی نہیں سکتا تھا..لیکن میں نہیں چاہتا ..تم میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاؤ……
اس لیے کچھ بھی ایسا نہ کرنا جس سے مجھے تکلیف پہنچے…
تم اب میری عزت ہو.. سمجھ آئ..
نرمی سے اسے سمجھاتے ہوۓ..
اسے کندھوں سے تھامتے ہوۓمم اسکے ماتھے پر جھکا تھا…
ایشل اسکی اس حرکت پر سرخ و گئ.
جلدی سے فریش ہو کر باہر آؤ …میں ناشتہ بنانے جارہا ہوں…
ایک نظر اس پر ڈالتے ہوۓ.. اسے چھوڑتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گیا…
جبکہ ایشل ویسے ہی ساکت کھڑی رہی.
گاڑی ایک جھٹکے سے رکی .. چلو دفع ہو جاؤ اب…شارام اتر کر اسکی طرف کا دروازہ کھول کر اسے کھینچ کر باہر نکالتے ہوۓ….بولا…وہ نازک سے وجود والی ڈری سہمی سی لڑکی بمشکل گاڑی کا سہارا لیتے ہوۓ ..اپنا توازن برقرار رکھ سکی ورنہ زمین بوس ہو جاتی….
حریم جلدی سے چلتی ہوئ سامنے فیروز ولا کی طرف بڑھ گئ….
شارام بھی گاڑی کا دروازہ زور سے بند کر تا ہوا ..اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا…
آگئ میری بچی..
لاؤنج میں داخل ہوتے ہوۓ…
مسز فیروز محبت سے اسکی جانب بڑھیں…سامنے فیروز صاحب بھی سامنے ہی صوفے پر بیٹھے ہوۓ تھے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو گۓ.
کیسی ہو بیٹا مسز فیروز محبت سے انکی جانب بڑھیں…..
وہ بمشکل اپنے آنسو روکتی چہرے کے تاثرات نارمل رکھتے ہوۓ انکی طرف بڑھی….
ٹھیک ہو میں خالہ آپ کیسی ہی….وہ بھی محبت سے انکے سینے کے ساتھ لگتی ہوئ بولی..
فیروز صاحب نے اسکے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا…
حریم شارام کی خالہ کی بیٹی تھی…جنکہ حریم کہ پیدائش پر ہی انتقال ہو گیا تھا…. صبیہ بیگم شارام کی کے لیے اکلوتی بہن کی جدائ کا غم برداشت کر نا بہت مشکل تھا ..
تبھی انہوں نےدو ماہ کی حریم کو اپنی گود میں لے لیا.. اور اسکی پرورش خود کرنے کا ذمہ اٹھایا شارام اس وقت تیسری کلاس میں تھا وہ تقریبا حریم سے آٹھ سال بڑا تھا…
اکلوتا ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ماں باپ کا بے حد لاڈلہ تھا… ہر بات اسکی ہر فرمائش اسکے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی پوری کر دی جا تی تھی…..
جب حریم صبیہ بیگم کی گود میں آئ..
تو یہ چیز اسے سخت ناگوار گزری حریم کے آنے کے بعد اسکی وہ جگہ نہیں رہی تھی جو پہلے تھی……حریم کو اتنا زیادہ پیار محبت ملتا دیکھ کر اس سے بر داشت نہیں ہوتا تھا وہ ہر وقت کو حریم کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچتا رہتا ……
بہت بار اسکی صبیہ بیگم سے اس بات پر جھگڑا بھی ہوا کے اسے اس گھر سے باہر نکالیں…..
چار سال تک حریم انہی کی گود میں رہی پھر اپنے والد فیروز صاحب کے ساتھ کینیڈا شفٹ ہو گئ…کیونکہ انکا بزنس ادھر ہی سیٹلڈ تھا..
وہی پر حریم کی نے اپنا اسکول اسٹارٹ کیا.. صبیہ بیگم نے بہت بار اصرار کیا کے وہ لوگ اب پاکستان شفٹ ہو جائیں.. لیکن وہ نہیں مانے کچھ شارام کے رویے کے پیش نظر انہوں نے وہیں رہنا ہی مناسب سمجھا
جب حریم نے میٹرک کے امتحان دیے تو صبیہ بیگم اور فیروز صاحب کے پرزور اصرار پر حریم کو لے کر پاکستان آگۓ تھے…..صبیہ بیگم کی شروع سے ہی یہ دلی خواہش تھی کہ وہ شارام سے اسکی شادی کر کے اسے ہمیشہ کے لیے اپنی بیٹی بنالیں اس طرح وہ ہمیشہ انکی نظروں کے بھی سامنے رہیں گی اور شارام کے لیے بھی یہی صحیح رہے گا لیکن اسکی اکھڑ اور بد اخلاق رویے کی وجہ سے انہوں نے کبھی واضح طور پر یہ بات اا سے نہیں کہی تھی.. وہ بس حریم کے برے ہونے کے انتظار میں تھیں وہ شادی کے قابل ہو تو فواد صاحب سے اسکا ہاتھ مانگیں…
حریم کو پاکستان آۓ دو دن ہی ہوۓ تھے … اس وقت صبیہ بیگم کے پر زور اصرار پر وہ شارام کے ساتھ باہر شاپنگ کے لیے گئ تھی ….ڈری سہمی سی حریم واپس آکر صوفے کے ایک کونے کے ساتھ ہی چپک کر بیٹھ گئ. .
لاؤنج میں وہ اپنی مخصوص مغرورانہ چال چلتا اندر داخل ہوا ..
لمبے براؤن گھنے بال..تیکھے نین نقوش لمبا قد ہاتھ میں گاڑی کی چابیاں گھوماتے ……
غصے سے سرخ ہوتی آنکھیں لیے. وہ ایک ایک قدم اس کی طرف بڑھ رہا تھا.
.حریم کا دل گویا اچھل کر حلق میں آگیا ہو. ڈر کے مارے اس کے ماتھے پر ہلکے ہلکے پسینے کی بوندیں نمودار ہو گئیں…..
وہ صوفے کے قریب آکر بیزاری سے مسز فیروز کے پاس ہی گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا….
ڈنر لگواؤں بیٹا..
وہ شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولیں..
نہیں بھوک نہیں مجھے…ابھی ڈنر فریڈے لوگوں کے ساتھ باہر ہی کر ونگا.
خالہ میرے سر میں درر ہورہا میں اوپر جارہی ہوں..
حریم صبیہ بیگم سے مخاطب ہوئ.. ادھر اور رکنا اسکے لیے ممکن نہ تھا اسے ڈر تھا کہیں وہ ادھر بھی اسے کچھ سنا نہ دے اسکی شروع سے ہی حریم سے نہیں بنتی تھی…
ارے کیا ہوا میری بیٹی کو طبیعت تو ٹھیک ہے نہ؟
حریم نے اثبات میں سر. ہلادیا..
چلو ٹھیک ہے بیٹا تم جاکر ریسٹ کرو اب تھک گئ ہو گی…
میں اوپر ہر کھانا بھجوا دونگی… اونکے کہنے کی دیر تھی وہ جلدی سے سیڑھیاں پھلانگتی ہوئ اوپر بھاگ گئ…
شارام نے اسے اوپر جاتے دیکھا.. پھر ناگواری سے سر جھٹکتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا…
ہیلو ..
اسنے اوپر آتی ہی سمیر. کو کال ملائ.
حریم بات کر رہی ہوں..
ہاں کیا ہوا حریم سب ٹھیک ہے نہ؟
اسکی بے وقت کال کرنے پر پریشان ہوگیا .
اسے پتہ چل گیا ہے سمیر کے شارام کے کہنے پر تم لوگوں نے جس لڑکی کو پیچھاکیا تھا اسکے بارے میں میں نے فیروز انکل کو بتایا… ہے.. تم سے کہا تھا نہ میں نے کہ مجھے مت کہو. یہ. سب اگر شارام کو پتہ چل گیا تو مجھے نہیں چھوڑے گا…
حریم افسردہ لہجے میں بولی..
او پلیز کول ڈاؤن حریم اس شارام کا تو میں علاج کر واتا ہوں آنے دو زرا اسے اور تم پریشان مت ہو تم نے بلکل صحیح کیا ہے انکو یہ سب بتا کر یہ اسی قابل ہے ایک تم ہی ہو جو اسے سیدھا کر سکتی ہو حریم اس لیے تمہیں بہت ہمت سے کام لینا ہوگا.
میں تم سے بعد میں بات کر تا ہوں. تم پلیز پریشان نہ ہونا.کہتے ہوۓ کال کاٹ دی..
حریم موبائل بیڈ پر پھینکتے ہوۓ. .خود بھی ادھر ہی گر گئ.. افف یہ شارام. .
پتہ نہیں کیا کرے گا میرے ساتھ .
حریم تکیے میں سر چھپاتے ہوۓ …
پریشانی سے بولی….
شاہ نور کی آنکھ کھلی تو اے ڈی کمرے میں نہیں تھا..
وہ دونوں ہمیشہ ساتھ ہی ناشتہ کرتے تھے …
لیکن آج شاید وہ جلدی میں تھا اسے اٹھاۓ بنا ہی چلا گیا ..شاہ نور جلدی سے فریش ہو کر باہر نکلی….
کمرے سے باہر نکل کر کچن کی طرف بڑھی……
ملازمہ کو آواز دی..
آتھئیر چلے گۓ ہیں کیا؟
ادھر ادھر نظر دوڑاتے ملازمہ سے مخاطب ہوئ.
جی میڈم. وہ تو صبح چھ بجے ہی چلے گۓ تھے….
کہہ رہے تھے ایک بہت ضروری کیس کی میٹنگ ہے آج اس لیے جلدی جانا ہے آپ اٹھ ٹائم سے ناشتہ کر لیجئے گا…
لنچ وہ آپ کے ساتھ ہی کر ینگے….
ہمم اوکے..
شاہ. نور نے سامنے ڈائننگ روم میں لگے وال کلاک کی طرف نظر دوڑائ جہاں نو بج رہے تھے..
آج اسے بھی اٹھنے میں کافی دیر ہو گئ تھی ..
اسے خود پر غصہ آیا وہ اتنی دیر تک سوتی رہی.
میم آپکے لیے ناشتہ لگواؤں.
ہمم ہاں لگوادو.
پھر سر جھٹکتی ہوئ ڈائننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گئ. …
تمہارے باس نے یہ سوچ بھی کیسے لیا. کے میں یہ کیس واپس لے سکتا ہوں… ؟؟اسکی سزا تو میں خود اپنے ہاتھوں سے اسے دونگا…
وہ اے ڈی خان کے ہاتھوں سے بچ کر نہیں نکل سکتا…..
اے ڈی سرخ ہوتی آنکھوں سے اسکی طرف دیکھ کر دھاڑتے ہوۓ بولا ..
اس کی دھاڑ سے سامنے بیٹھا آدمی اندر تک کانپ گیا…
ساتھ والی نشست پر بیٹھا آریان…کے چہرے کے تاثرات بھی خطرناک حد تک سخت ہو چکے تھے .
مائیکل اور وی جے بھی تھوڑے فاصلے پر سر جھکاۓ کھڑے تھے. انکی ٹیم کے باقی افراد بھی اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے بیٹھے خون خوار نظروں سے اس آدمی کی طرف دیکھ رہے تھے…
وہ کوئ عام آدمی نہیں تھا…
اے ڈی کی ٹیم جس کیس کو ڈیل کر رہی تھی وہ ایک نہایت خطرناک قسم کے ریپیسٹ کوبرا کا تھا.. جو کافی اثرو سوخ والا آدمی تھا ….
وہ نیچ انسان کم سن بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناتا اور پھر انہیں موت کے گھاٹ اتاردیتا.. انکی لاش کبھی کہاں سے ملتی کبھی کہاں سے.. آۓ دن ٹی دی کی ہیڈلائنز پر ایسی ہی کسی کم سن بچی کی دل خراش خبر نیوز کی سرخی پر چل رہی ہوتی ….لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کے ان سب کے خلاف آواز اٹھاۓ.
اے ڈی اور اسکی ٹیم کافی عرصے سے کوبرا کو اسکے انجام تک پہنچانے کے لیے . تگ ودو میں لگے ہوۓ تھے.. لیکن اس تک رسائ حاصل کر نا اتنا آسان نہ تھا.
یہی معلوم کرنا انکے لیے ممکن نہ تھا کے وہ رہتا کس جگہ پر ہے… اسکی لوکیشن ٹریس کروانا بھی ممکن نہ تھا کیونکہ اسکے سارے اڈے انڈر گراؤنڈ تھے…
لیکن اے ڈی بھی ہار ماننے والوں میں سے کہاں تھا …
اسنے بہت محنت و کوششوں سے کوبرا کے بارے میں کافی جان کاری اکٹھی کر لی تھی .
لیکن کوبرا بھی کسی چیز سے بے خبر نہیں تھا .. وہ بھی اے ڈی کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھا.. وہ جانتا تھا …جب تک اسے انجام تک نہ پہنچا دے وہ سکون سے بیٹھنے والا نہیں ہے…
اسی لیے اسنے آپ ایک آدمی بھجوا کر ….
ایک آفر دی جسے رد کرتے ہوۓ اے ڈی کاخون کھول اٹھا..
اے ڈی خان کے ساتھ سودا بازی کرنے کا انجام جانتے ہو کیا ہوتا. ہے. ؟.اے ڈی اپنی گن لوڈ کرتے ہوۓ بولا..
سامنے بیٹھے آ دمی کے ماتھے پر پسینے کی چند بوندیں نمودار ہو گئیں.
موت !!موت اور صرف موت..
جاکہ بتا دینا اپنے بوس کو ..جس بھی بل میں چھپ کر بیٹھا ہے زیادہ دیر مجھ سے چھپ نہیں سکتا…
اپنا یہ گھناؤنا کھیل وہ زیادہ عرصے تک جاری نہیں رکھ سکتا… .
ایسی عبرت ناک موت دونگا کہ…
ہر کوئ اسکی لاش دیکھ کر کانپ اٹھے گا. .اے ڈی گن اسکی گردن کے پاس پھیرتے ہوۓ بولا…
اب دفع ہو جاؤ یہاں سے.
اے ڈی اسکی ٹانگ پر ٹھوکر مارتے ہوۓ نفرت انگیز لہجے میں بولا….
انگھوٹیاں سے بھرا ہوا اپنا ہاتھ زور سے سامنے پتھر کے میز پر مارتے ہوۓ پھنکارا .
اسکی اتنی جرات .
کوبرا سے مقابلہ کرے گا..
وہ شاید جانتا نہیں. اسکا انجام
کتنا بھیانک ہو سکتا ہے …
کوبرا اپنی لمبی گھنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوۓ بولا.. .
میں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی تھی بوس لیکن وہ کسی بات پر نہیں آیا.
سامنے کھڑا داؤد ادب سے سر جھکاتے ہوۓ بولا….
ہمم..ہم تو اسکا بھلا چاہتے تھے لیکن.. اب اسے خودی یہ منظور نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں….
اے ڈی اور آریان اور تیسرا کا کیا نام تھا وہ. ..
بحرام.
ہاں وہی….
بحرام کا تو کچھ پتہ نہیں وہ کچھ عرصے سے لاپتہ ہے..لیکن آریان اور اے ڈی ہی ہمارے کیس کی سر براہی کر رہے ہیں…
انکی ذاتی زندگی کے متعلق مجھے ایک ایک چیز کی معلومات چاہیے…
کوبرا کچھ سوچتے ہوۓ بولا .
باس اے ڈی کی ابھی دو مہینے پہلے ہی شادی ہوئ ہے اور آریان اسکا بھی ابھی ایک مہینے پہلے ہی نکاح ہوا ہے .
انکی فیملی میں بس انکی ایک بیوی ہے اور کوئ خاص رشتہ دار بھی نہیں آریان کی باقی فیملی کینیڈا میں مقیم ہے جبکہ اے ڈی کی فیملی میں صرف اسکی ایک بیوی ہی ہے….
داؤد کی بات پر کوبرا کے چہرے پر شیطانی. مسکراہٹ چھاگئ…
اب پتہ چلے گا ان دونوں… احمقوں کو.!!!!کوبرا سے الجھنے کا انجام کیا ہوتا ہے….
اسکے دماغ میں نجانے اب کونسا خطرناک منصوبہ چل رہا تھا……..
سامنے کھڑا داؤد بھی اسکے چہرے کے خطرناک زاویے دیکھ کر کانپ گیا…