92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064 92 Ninety Two (Episode - 23)
92 Ninety Two (Episode - 23)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
92 Ninety Two By Maira Hani
زاہران کے سامنے والے فلیٹ میں مقیم زریاب ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے ہاتھ میں کچھ پیکٹس اور شاپنگ بیگس اٹھاۓ سیڑھیوں سے چڑھا اس سے پہلے کے وہ زاہران کے فلیٹ کی بیل بجاتا .دروازے کا لاک ایک جھٹکے سے کھلا اور زاہران چہرے کے سخت تاثرات لیے باہر نکلا….
اسے اپنے سامنے دیکھ کر زریاب کا اندر تک خون خشک ہوگیا…
وہ تو اس وقت یونی ہوتا تھا… وہ اس وقت یہاں کیا کر رہا تھا.. زریاب کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا….
وہ ….وہ….میں یہ.. ایشل …نے..کچھ…سامان .منگوا.اس سے پہلے کے وہ اپنی بات مکمل کرتا … زاہران نے ایک زور دا تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کیا جس سے وہ اوندھے منہ زمین پر گر پڑ ا….
یہ..یہ ..کیا بدتمیزی ہے ؟؟ … زریاب ایک دم سے غصے سے پھنکارتے ہوۓ اٹھا…..
اور یہ سب جو تم کر رہے ہو وہ کیا ہے ہاں؟؟
زاہران اس کے لاۓ گۓ پیکٹس میں سے ایک لفافہ اسکے سامنے کرتے ہوۓ بولا.. جس میں سفید رنگ کو پاؤڈر تھا.. اور باقی پیکٹس میں.شیشے کی بوتلیں اور انجکشنز تھے…..
کیا ہے یہ سب ؟؟ وہ دانت پیستے ہوۓ بولا….
گریبان سے پکڑ کر زریاب کو اپنے سامنے کھڑا کیا…
ڈرگس ہیں یہ اور کیا جب دیکھ لیا ہے تو مجھ سے پو چھنے کی کیا ضرورت ہے…
زریاب ڈھٹائ سے مسکراتے ہوۓ اسکی طرف دیکھتے. ہوۓ بولا..
زاہران اندر تک سلگ گیا….
کیوں کیا تم نے ایسا کیا بگاڑا تھا ہم لوگوں نے تمہارا ؟.میں جانتا ہوں تم نے ہی ایشل کو ڈرگز کا ایڈیکٹ بنایا ہے… یہ سب چیزیں تم ہی اس تک پہنچاتے ہو…..
کیوں کیا تم نے ایسا .. جانتے ہو یہ سب کتنا خطرناک ہے اس کے لیے….. اسکی جان بھی جا سکتی ہے ان سب کے مستقل استعمال سے…
زاہران تکلیف سے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا…….
.میں نے کچھ غلط نہیں کیا. وہ جس قسم کے حالات سے گزر رہی تھی…میں نے تو صرف تھوڑا سا ریلیف دینے کے لیے یہ سب دیا تھا . نشے سے انسان کو کچھ دیر کے لیے وقتی طور پر سکون تو مل ہی جاتا ہے…تمہیں تو میرا احسان مند ہونا چاہیے تھا…..
زریاب نخوت سے مسکراتے ہوۓ بولا..: زاہران کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو چکی تھیں گویا آنکھو ں میں خون اتر آیا ہو….
کمینے انسان !! وہ بھائ سمجھتی تھی تمہیں اور تم نے کیا کیا اس کے ساتھ وہ تو نا سمجھ تھی وقت اور حالات نے اسے ایسا بنادیا ہت لیکن وہ بہت معصوم یے اور تم نے اسکی معصومیت کا فائدہ اٹھایا…زاہران اس پر مکوں کی برسات کرتے ہوۓ بولا… زریاب ایک بار پھر سے اپنا توازن برقرار نہ رکھ پایا…
زاہران کی آخری بات پر وہ جھٹ سے زاہران کی طرف واپس مڑا .کونسے بھائ کی بات کر رہے ہو؟ میں بھائ نہیں ہوں اسکا… اگر تم بیچ میں نے آتے تو آج وہ میری ہوتی مسٹر زاہران ملک اسکے کالج کے باہر گھنٹوں کھڑے رہ کر صرف اسکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہتا تھا…. کتنی بار کوشش کی اس سے بات کرنے کی لیکن کبھی موقع نہ مل پایا…..اسکے گھر کا پتہ کر وانے کے لیے میں نہ کیا کچھ نہیں کیا تھا … جانتے ہو دو سال سے اسے اپروچ کرنے کی کوشش کر رہا تھا.. اور اس دن !! اس دن جب میں نے اسے تمہارے فلیٹ میں دیکھا. جانتے ہو میرے دل پر کیا گزری ملک زاہران زریاب اٹھ کر زاہران کالر سے پکڑ کر جھنجوڑتے ہوۓ بولا.
زاہران کا وجود اسکی باتوں سے سن پر چکا تھا.. وہ ایک سکتے کی سی کیفیت میں اسکی طرف دیکھ رہا تھا……
ایسا لگ رہا تھا کسی نے میرے جسم سے روح کھینچ لی ہو .. میں اسی لمحے مر گیا تھا… میری محبت تھی وہ زاہران …
اور پھر تم نے جھٹ سے نکاح بھی کر لیا اس سے..
جانتے ہو کیا گزری ہو گی میرے دل پر.
اپنی آنکھوں کے سامنے اسے کسی اور کا ہوتا دیکھ کر…..
میں اسے تمہارے ساتھ دیکھ کر پل پل مرتا ہوں.. زاہران نہیں برداشت ہوتا مجھ سے. .
وہ اگر میری نہیں ہوئ تو کسی اور کی بھی نہیں ہو سکتی. …..
..
تبھی میں نے اسے ان سب چیزوں کا عادی بنانے کا سوچا ..ویسے بھی وہ جن قسم کے حالات سے گزر رہی تھی….. اسے کسی ایسے سہارے کی بہت ضرورت تھی جس سے اسے کچھ وقت کے لیے ریلیف مل جاتا……..
اور اس طرح وہ تم سے بھی دور ہو جاتی …….
زریاب ایک زخمی مسکراہٹ اسکی طرف اچھالتے ہوۓ بولا…..
زاہران اسکی باتوں پر ساکت کھڑا اسکی طرف دیکھتا رہا …
وہ بہت جلد تمہاری دسترس سے باہر ہو گی ملک زاہران احمد. ..
زریاب اپنے کالر جھاڑتے ہوۓ بو لا…
تم نے اگر میری جان نہ بچائ ہوتی تو آج تم میرے ہاتھوں ختم ہو چکے ہوتے.. میں صرف آنٹی کا لحاظ کر ہا ہوں..کیونکہ تم انکا اکلوتا سہارا ہو.
لیکن آئندہ کے بعد مجھے یہ اپنی گھٹیا شکل مت دکھانا .
اب دفع ہو جاؤ یہاں سے…..
.زاہران اسے ایک جھٹکے سے پیچھے کرتے ہوۓ بولا . پھر اپنا بے جان ہوتا وجود لیے واپس دروازہ کھول کر اندر چلا گیا.
: شیشے کے سامنے تیار کھڑی شاہ نور نے ایک آخری نظر خود پر ڈالی اور اپنا موبائل اور پرس اٹھا کر کمرے سے باہر نکل گئ.. آج اے ڈی نے اسے ایک سرپرائز دینا تھا جس کے بارے میں وہ اسے صبح ہی کال کر کے بتا چکا تھا….
شاہ نور نے موبائل پر ٹا ئم دیکھا .. ساڑھے تین بج رہے تھے. افف کہاں رہ گیا یہ…
تین بجے کا کہا تھا .. ابھی تک نہیں آیا .. پتہ نہیں کہاں لے کر جانا ہے کچھ بتا بھی نہیں رہا ..
شاہ نور سر جھٹکتے ہوۓ باہر لاؤنج میں پڑے صوفے پر بیٹھ گئ..
تبھی لاؤنج کا گیٹ دروازہ کھلا اور اے ڈی اپنے مخصوص انداز میں دو گارڈز کے ہمراہ اندر داخل ہوا. اےڈی کے اشارے پر گارڈز اندر نہیں آۓ…
شاہ نور پر نظر پڑتے ہی اے ڈی کے قدم ایک پل کے لیے ٹھٹکے وہ لگ ہی اتنی پیاری رہی تھی.. یلو کلر کا لانگ فراق نیچے بلیک کلر کا چوری دار پاجامہ اور بلیک دوپٹہ نفاست سے سیٹ کیا گیا ساتھ.. ہلکہ سا میک اپ وہ آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی.. اے ڈی اسکو سر تا پیر دیکھتے ہوۓ.
.چہرے پر ایک دلکش مسکراہٹ لیے اس کی طرف بڑھا ….
You are looking so beautiful today !
اے ڈی اسے کندھوں سے پکڑ کر
اسے محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا… شاہ نور اسکے کے چہرے کا رنگ سرخ ہواا…
تھینکیو.
شاہ نور دھیرے سے بولی.. ا
یہ کیا ہے؟
اے ڈی کے ہاتھ میں گلاب کے فریش پھولوں کا بوکے دیکھ کر بولی .
یہ جہاں ہم جارہے ہیں.. انکو دیں گے … بہت خاص لوگ ہیں….
اچھا اتنے خاص ہیں کیا.
ہمم تمہارے لیے تو کافی زیادہ خاص ہیں . اچھا تم یہ پکڑو میں روم سے کچھ ضروری چیزیں لے آؤں..
شاہ نور کو پھولوں کا گلدستہ تھماتے ہوۓ اندر کی طرف بڑھ گیا.
شاہ گلدستے کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی… گلاب کے پھول اسکو شروع سے ہی بہت پسند تھے……
تبھی اے ڈی واپس لاؤنج میں داخل ہوا . اسکے ہاتھ میں کچھ شاپنگ بیگز تھے اور ایک بڑی سی شال تھی …
.شاہ نور نے حیرانی سے ان بیگز کی طرف دیکھا…
یہ کچھ گفٹس ہیں. یہ میں نے کل ہی ایک مال سے خریدے ہیں ہم جہاں جارہے ہیں .ا ن لوگوں کے لیے ہیں…
اور یہ شال یہ خود پر اچھی طرح اوڑھ لو..
شاہ نور..
اےڈی دوبارہ اسکے قریب آیا.
میرے بہت دشمن ہیں… میں نہیں چاہتا تم کسی کی بھی نظروں میں آؤ… اسے خود پر اچھی طرح لے لو.
شاہ نور نے شال پکڑ کر اپنے ا آپ کو سر تا پیر اچھی طرح ڈھانپ لیا…اسے شاہ نور کا اسکی اتنی فکر کرنے کا یہ انداز کافی پسند آیا…..
چلو جلدی کرو دیر ہو رہی ہے…
اچھا جہاں ہم جارہے ہیں کیا انہیں پتہ ہے ہم آرہے ہیں..
اے ڈی اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ لگاۓ باہر نکل گیا…
باہر ڈرائیور نے اسکے باہر آتے ہی آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا..
اےڈی نے پہلے شاہ نور کی طرف کا دروازہ کھول کر اسے بٹھایا پھر خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی….
مشال کو صوفے پر سوۓ دیکھ کر آریان اسکی طرف بڑھا…
اسکے گال سرخ ہو رہے تھے.. مشال اٹھو اندر جاکر سوجاؤ مشال…..
.آریان نے اسے آواز دی لیکن اس پر کوئ اثر نہ ہوا…
آریان کو تھوڑی تشویش ہوئ.. اسنے ہاتھ بڑھا کر اسکے ماتھے پر رکھا ..جو بخار کی وجہ سے تپ رہا تھا… آریان کے چہرے پر تفکر کے اثرات چھاگۓ…
.
جلدی سے اسکا چہرہ تھپتھپایا …جو بخار کی شدت کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا… مشال نے نیم بے حوشی کی حالت میں بمشکل آنکھیں کھول کر اسکی طرف دیکھا. پھر اسکے کندھے پر سر رکھ کر دوبادہ آنکھیں بند کر لیں…..
کیا حالت بنائ ہوئ ہے اپنی مشال …پاگل لڑکی…
آریان نے اسے اپنے بازؤں کے حلقے میں لیا…..
اور اندر کمرے کی طرف بڑھ گیا.
بیڈ پر لٹا کر…
میڈیسنز اور پانی کا گلاس لے کر اسکی طرف بڑھا….
.مشال کو کندھوں سے پکڑ کر بٹھایا..
اور پتے میں سے ٹیبلیٹس می نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھیں..
مشال انہیں دیکھتے ہوۓ نفی میں سر ہلانے لگی. ..
کھاؤ انہیں.. آریان نے غصے سے گھور کر اسکی طرف دیکھا..
اسکے گھورنے پر مشال نے جلدی سے ٹیبلٹس منہ میں ڈال لی.. پھر آریان کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر منہ کو لگا لیا …آریان اسکی اس حرکت پر مسکرادیا….
…
کیوں بخار ہوا ہے ویسے تمہیں؟.آریان اس پر بلینکٹ اوڑھاتے ہوۓ بولا ….
پتہ نہیں مجھے بتا کر تھوڑی ہوا ہے…
مشال لاپرواہی سے بولی. …
اچھا اور جو کل تم بارش میں بیٹھی ہوئ تھی باہر لان میں وہ کیا تھا. ..پتہ ہے کتنی ٹھنڈ ہے اور تم پتہ نہیں کتنی دیر بارش میں بھیگتی رہی…
ہاں تو بارش پسند ہے نہ مجھے بہت زیادہ مشال معصومیت سے بولی….
لیکن اتنی سردی میں بارش انجواۓ کرنا ضروری تھی کیا..اب دیکھو بیمار ہو گئ ہے.. آریان اسکے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا ….دیکھو کتنا بخار ہے…
اگر طبیعت ٹھیک نہ ہوئ تو ڈاکٹر کے پاس چلیں گے…..
رات کو کھانا کھا کر دوبارہ میڈیسنز لینا….
بلکہ میں خود دونگا تمہیں.. تم نے کہاں لینی ہے…
: مشال کی آنکھوں میں آنسو آگۓ… آریان نے اسکی طرف دیکھا..
مشال کو روتے دیکھ کر اسکے دل کو کچھ ہوا..
کیا ہوامشال رو کیوں رہی ہو مشال؟
آریان نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا..
تم مجھے کبھی چھوڑو گے تو نہیں نا؟
مشال ہچکیوں سے روتی ہوئ بولی نہیں مشال میری جان میں کیوں چھوروں گا تمہیں اسکی حالت دیکھ کر اسکے دل کو کچھ ہوا…
جانتے ہو میرا تمہارے علاوہ اس دنیا میں کوئ نہیں ہے…
میں نے اپنے پیرنٹس کو کبھی نہیں دیکھا آریان
میں کچھی ہی مہینوں کی تھی جب انکی ایک کار ایکسیڈنٹ میں ڈیتھ ہو گئ تھی…..
میرایک گارڈئین ہیں انہوں نے ہی مجھے پالا ہے .. وہ میری ماما کو جانتی تھیں…..
اسی لیے انہوں نے مجھے سنبھالا.مجھے نہیں پتہ فیملی کیا ہوتی ہے رشتے کیا ہوتے ہیں محبت کیا ہوتی ہے….
لیکن تم نے جس طرح سے میرا خیال رکھا…مجھے تمہاری عادت ہوگئ ہے… آریان میں تمہارے بغیر زندگی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اب..
آریان اسکی فیملی کے بارے میں پہلے سے ہی سب کچھ پتہ کرواچکا تھا..لیکن کبھی مشال سے اس کے بارے میں ذکر نہیں کیا .وہ جانتا تھا وہ ہرٹ ہو گی اس لیے اسے کسی قسم کی کوئ تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا….
آریان نے اسکے گرد اپنے بازؤں کا مضبوط حصار بناکر اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا…بس کرو مشال پہلے ہی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اوپر سے رورو کر کیا حالت بنا لی ہے…
اسکی حالت دیکھ کر آریان نے تڑپ کر اسکی طرف دیکھا.. ااسکے آنسو پونچھے اور پھر واپس بیڈ پر لٹا کر اسکے اوپر بلینکٹ ڈال دی…
مشال دوائیوں کے زیر اثر تھوڑی دیر میں ہی سو گئ……
آریان نے. اسکے معصوم سے چہرے پر ایک نظرڈالی پھر لائٹ بند کر دی….