92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064

92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064 Last updated: 8 December 2025

[favorite_button post_id="16109"]
44,581 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

92 Ninety Two By Maira Hani

Novel code: NovelM80064

پلیز !!!!
جان چھوڑ دو میری اب وہ کمزور سی آواز میں چلاتے ہوۓ بولی..
کھانا کھا کر میڈیسن لے لو پہلے پھر چلا جاؤں گا.....
نہیں لینی میں ایک بار کہہ دیا ہے سمجھ نہیں آتی ؟
کیوں پیچھے پڑ گۓ ہو میرے جو تم چاہتے تھے وہ سب کر تو چکے ہو تم ..اور اب کیا چاہتے ہو مجھ سے ؟
اسکی طرف نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولی...
تو اسکی بات کا مفہوم سمجھ کر پل بھر کے لیے خاموش ہوگیا ...چہرے کا رنگ فق ہوا...
پھر اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا..
تو تم کیا چاہتی ہو میں وہ سب دوبارہ کروں ؟
اسکی طرف دیکھتے ہوۓ معنی خیزی سے بولا..
اسکی بات سے اسکے چہرے کا رنگ سفید پڑ گیا....
وہ ایک دم سے خاموشی سے نظریں جھکا گئ.
چپ کر کے یہ کھانا کھالوں اور اسکے بعد یہ میڈیسنز لے لو...
ورنہ نتائج کی ذمہ دار تم خود ہوگی...
کتنے گھٹیا انسان ہو ویسے تم ..
ایک بات میری عزت کے ساتھ کھیل کر سکون نہیں ملا تمہیں ؟؟
پتہ نہیں کیا چاہتے ہو تم مجھ سے...
میرا سب کچھ چھین کر مجھے برباد کر کے اب بھی سکون نہیں ملا کیا تمہیں اس سے اچھا تھا تم میری بھی اور لوگوں کی طرح جان لے لیتے یہ سب تو ویسے بھی بہت آسان تھا تمہارے لیے..
اسکے الفاظ کسی تیر کی طرح اسکے دل پر لگے .. اور اسے چھلنی کر گۓ.
دیکھو میری بات سنو ..
تم خود چل کر آئ تھی . یہاں میں کہیں سے اٹھا کر نہیں لایا تھا...تمہیں سمجھی !! اور نہ ہی میں یہ سب چاہتا تھا... غصے اسکے دماغ کی رگیں تن گیں....
بمشکل اپنے آپ کو نارمل کرتے ہوۓ دوبارہ اس سے مخاطب ہوا.
میں باہر بالکنی میں انتظار کر رہا ہوں تب تک تم یہ کھانا کھا کر میڈیسنز لے لینا ورنہ میں نتیجہ بہت برا ہوسکتا ہے یہ تم بہتر جانتی ہو...
کہتا ہوا وہ فورن وہاں سے اٹھ کر کمرے کے ساتھ منسلک باہر بالکنی کی طرف بڑھ گیا..
اسکی دھمکی کار آمد ثابت ہوئ تھی وہ جلدی سے ٹرے کھینچ کر کھانے میں مصروف ہوگئ...
باہر بالکنی میں کھڑے .. ہوتے ہوۓ.
باہر ٹیرس پر کھڑے ہونے کے بعد ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بھی اسکی اندر کی تلخی کو کم نہیں کر پا رہے تھے.
سگریٹ سلگا کر منہ کو لگاتے ساتھ ہی اسکا دماغ کچھ دیر پہلے کی کہی گئ با توں میں الجھ گیا.
وہ جانتا تھا اس سے بہت بڑی غلطی ہو چکی تھی ...
جس کا ازالہ شاید ممکن نہیں تھا اب لیکن یہ سب اس نے جان بوجھ کر نہیں کیا تھا.. نہ ہی اس سب نے اسے سکون دیا تھا .. ایک عجیب سی بے چینی اسکے اندر دوڑ چکی تھی... کہیں ہر بھی سکون میسر نہیں تھا.
وہ اب تک کتنے ہی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا تھا....
کتنی قیمتی جانوں کا بے دردی سے قتل کر چکا تھا....اسے ان سب سے سکون پہنچتا تھا...اسے لوگوں کو اذیت دے کر اچھا لگتا تھا....
اسنے کبھی کسی پر رحم نہیں کھایا تھا. .
شاید اسے رحم کرنا آتا ہی نہیں تھا.... وہ بہت بے حس انسان تھا.... اسنے اپنی زندگی سے صرف ایک چیز سیکھی تھی اور وہ تھی...
اذیت جو وہ ہر کسی کو دیتا تھا...اور دینے کے بعد اسے سکون پہنچتا تھا ...
لیکن یہ اسکی زند گی کا وہ پہلا لمحہ تھا...جب کسی کو تکلیف دے کر بھی اسے سکون ن نصیب نہیں ملا بلکہ اسکی روح اور جسم دونوں میں ایک بے چینی سے دوڑ گئ. تھی...
اور اسکی وجہ وہ کمزور سے وجود والی لڑکی تھی... جو اپنی ضد اور جنون کے پیچھے اپنی عزت اسکے ہاتھوں پامال کر واچکی تھی..
وہ جانتا تھا اس میں ساری غلطی اسکی نہیں ہے کیونکہ وہ لڑکی خود اسکے پاس آئ تھی...ہاں لیکن اسنے غلط ضرور کیا تھا....
وہ اسے باعزت اسکے گھر بھی پہنچا سکتا .. لیکن مرد کی نیت بدلتے دیر نہیں لگتی..
اور پھر وہ صرف مرف نہیں تھا اسکے اندر ایک شیطان چھپا ہوا ..تھا...کو کتنی قیمتی جانوں کو نگل چکا تھا...
تو پھر اس نازک سی لڑکی کی عزت پامال کرتے ہوۓ رحم کیسے آتا.. ہاں اسکے بعد سے اسکا سکون ضرور برباد ہو گیا..تھا..
اس ہولناک سی رات کا منظر دوبارہ اسکی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا...
اسنے کرب سے آنکھیں بند کر لی...
جلتی ہوئ سگریٹ ہاتھ میں پکڑ کر مٹھی بند کرلی.....
اسے زندگی میں پہلی بار تکلیف محسوس ہوئ تھی. .