📱 Download the mobile app free
Home > 92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064 > 92 Ninety Two (Episode - 15)
[favorite_button post_id="16109"]
44581 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

92 Ninety Two (Episode - 15)

92 Ninety Two By Maira Hani

بحرام اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوۓ اوندھے منہ زمین پر گڑ پڑا …آریان نے اسے گریبان سے پکڑ کر اٹھایا اور ایک مکہ اسکے چہرے پر رسید کیا ..تمہارا فیصلہ تو اب اے ڈی سر ہی کریں گے کیونکہ تم نے انکی عزت کو پامال کرنے کی کوشش کی ہے….

لے جاؤ اسے اور اے ایس سیل میں ڈال دو… اے ڈی سر خود ڈیل کریں گے اسے…

آریان نے مائیکل کو اشارہ کیا.. وہ دو گارڈز کے ہمراہ اسے گھسیٹتے ہوۓ … لے گۓ.. بحرام اپنے آپ کو چھروانے کی پوری کوشش کر رہا تھا لیکن مقابل میں وہ تین ہٹے کٹے نوجوان. تھے…

بحرام کو انکے حوالے کرنے کے بعد آریان اس کمرے کی طرف بڑھا ..جہاں شاہ نور تھی.. دروازہ دھیرے سے کھٹایا…

شاہ نور باہر سے آنے والی آوازوں کو سن چکی تھی… لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا …کہ کیا ہو رہا.. نہ وہ اے ڈی کے علاوہ کسی کو جانتی تھی..

.

دوبارہ دروازہ بجنے پر وہ پھر ڈر گئ… اور اسکا جسم بری طرح کانپنے لگا…. اسے معلوم نہیں تھا اب کونسی آفت اسکے سر پر آگئ ہے..

شاہ نور اسی طرح ڈر کر آہستہ آہستہ پیچھے ہوئ .. اور دیوار سے جالگی…

جب آریان کی آواز اسکے کانوں میں پہنچی . بھابھی پلیز دروازہ کھولے مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو ….

بحرام کو پکڑ چکے ہیں ہم آب أپ محفوظ ہیں..میں آپ کو بحفاظت اے ڈی سر تک پہنچاؤں گا.. یہ میرا وعدہ ہے آپ سے..

آریان کی باتوں سے شاہ نور کو ایک دم سے حیرت کا شدید جھٹکا لگا.. ساتھ میں کچھ تسلی بھی ہوئ… بحرام کی آواز واقعی اب نہیں آرہی تھی… جس کا مطلب تھا وہ اب یہاں نہیں ہے….

شاہ نور کچھ پل ویسے ہی بیٹھی رہی..پھر آہستہ آہستہ ڈرتے ڈرتے اٹھی…..اور چھوٹے قدم اٹھاتی دروازے کی جانب بڑھی……

دروازہ کا لاک کھولا.. اور پھر آہستہ سے دروازہ کھولا…

سامنے آریان کھڑا تھا ..آجائیں بھابھی باہر آ جائیں ..اب آپ محفوظ ہیں..آریان ادب سے سر جھکاتے ہوۓ بولا…شاہ نور کمرے سے باہر نکلی. آریان نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا.. آپ بیٹھیں میں آپکے لیے پانی لے کر آتا ہوں.. شاہ نورکے حواس کچھ بحال ہوۓ.. تو صوفے کی ایک طرف بیٹھ گئ..

آریان نے گلاس میں پانی ڈال کر اسکی طرف بڑھایا…

وہ کچھ نارمل ہوئ… تو اسنے تشکر پھرے تاثرات سے آریان کی طرف دیکھا.. وہ اسکے لیے ایک ہمدرد ثابت ہوا جس نے اس عزت بچائ کر اسے سہارا دیا.. ورنہ ناجانے آج اسکے ساتھ کیا ہوجاتا.

میرا نام آریان ہے میں اے ڈی سر کا ٹیم میمبر ہوں اور انکے بچپن کا دوست بھی …آپ انکی وائف ہیں نا؟

آریان کی بات پر شاہ نور نے اثبات میں سر ہلایا …

کیا آپ یہ سب. کچھ پہلے سے جانتے تھے ….یہ..سب..یہ.جو ابھی شاہ نور سے کوئ بات نہیں بن. پا رہی تھی. اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیسے اسکا یوں اچانک. عین موقعہ پر پہنچ جانا اور ہ سب کچھ جانتے ہونا..

میں سمجھ گیا آپ کیا کہنا چارہی ہیں.

میں آپ کو سب کچھ بتاتا ہوں… میرے خیال میں آپکو اے ڈی سر کے پاسٹ کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ اسی وجہ سے آپ مجھے بھی نہیں جانتی…

شاہ نور نے نفی میں سر ہلایا..

میں بحرام اور اے ڈی سر ہم لوگ پچھلے دس سالوں سے ایک ساتھ ہیں. بحرام ہوم لیس چائڈلز کے ادارے میں رہتا تھا اسکے پیرنٹس آج تک پتہ نہیں چل سکا کے کون تھے ..اے ڈی اور اسکی ملاقات ایک سنو کر کلب میں ہوئ تھی…میری مام کینیڈا میں ہوتی ہیں میرے ڈیڈ کی میرے بچپن میں ہی ڈیتھ ہوگئ تھی. تب میں بہت چھوٹا سا تھا ڈیڈ کی شکل بھی یاد نہیں مجھے صحیح سے…اسکے بعد سے ہی میری مام کینیڈا شفٹ ہوگئیں اے ڈی اور میں ایک یونی میں ایک ساتھ ہی پڑھتے تھے…میں اسکا بچپن کا دوست ہوں..میں اپنی مام کے ساتھ نہیں گیا تھا…

وہ کیوں ؟

مجھے پاکستان میں رہنا زیادہ پسند تھا…دوسرے ملک میں جا کر مجھی عجیب سی وحشت ہوتی تھی. میں کچھ دن ہی وہاں رہا پھر واپس آگیا. میری مام بہت ناراض ہوئیں. اور انہوں نے مجھ سے بات کرنا تک چھوڑ دی تھی…لیکن میں کیا کرتا میرا دل نہیں لگتا تھا وہاں پر مجھے ہر وقت پاکستان کی یاد آتی رہتی میری یونی میرے دوست اور ایک یادوں کا انبار لگ جاتا تھا ذہن میں .

میرے پاس یہاں رہنے کے لیے کوئ جگہ نہیں تھی اے ڈی نے مجھے اپنے گھر میں جگہ تھی . اسکی فیملی بہت اچھی تھی ..سب نے بہت خیال رکھا میرا مجھے ایسا لگتا تھا. جیسے میں انہی کی فیملی کا حصہ ہوں.

شاہ نور بہت حیرانی سے اسکی باتیں سن رہی تھی. وہ تو اے ڈی کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی..سواۓ اسکے کے وہ ایک بہت بڑا کرمنل ہے جو بس لوگوں کی جانیں لیتا ہے. اور انکا بے دردی سے قتل کر دیتا ہے…

پھر ایک سیاہ رات اے ڈی کی زندگی میں آئ جس نے اسکا سب کچھ برباد کرد یا…

کیا مطلب کیسی رات کیا ہوا تھا اس رات کو؟

شاہ نور اسکی باتوں کو بہت غور سے سن رہی تھی..

اے ڈی کی کی ایک ہی بہن تھی آئینہ جو اسکو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی….آتھیئر اور آئینہ میں بہت پیار تھا .آئینہ اس سے چھ سال چھوٹی تھی…

اس وقت وہ کالج کی سٹوڈنٹ تھی…جب…..آریان کچھ کہتے کہتے رک گیا…

جب کیا؟شاہ نور کو تجسس کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی ہورہی تھی….

جب ایک رات ایک ہائ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے پانچ چھ آوارہ لڑکوں نے نے اسے کالج سے گھر آتے ہوۓ راستے میں اغوا کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا….اے ڈی کو وہ کالج کے پچھلے سنسان حصے میں جھاڑیوں میں نیم مردہ حالت میں پڑی ہوئ ملی تھی…. .

کیا ؟؟؟؟شاہ نور دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے…

ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ اے ڈی کے بازؤں میں ہی دم توڑ گئ..

کیا. ؟؟؟

شاک کی وجہ سے شاہ نور کے منہ سے ایک ہلکی سی چیخ نکلی…

آریان کے چہرے پر بھی تکلیف کے آثار واضح جیسے وہ اپنی آپ بیتی سنارہا ہو… شاہ نور نے دکھ سے اسکی طرف دیکھا…..

کچھ پل رکنے کے بعد آریان دوبارہ شروع ہوا…اے ڈی اس دن کے بعد سے جیسے اپنے ہواس کھو بیٹھا تھا.. پاگلوں جیسی حالت ہوگئ تھی اسکی… بہت مشکل سے ہم اسے واپس زندگی کی طرف لاۓ لیکن اسکے اندر انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی… اسنے ان سب کو ڈھونڈنا شروع کر دیا.. اور بالا آخر ڈھونڈ کر ان سب پر کیس کر دیا….

کیس کی نوعیت کافی سنگین تھی ہائ کورٹ تک پہنچ گیا…لیکن اس ملک میں انصاف ملنا اتنا آسان نہیں ہے..

آریان کی آنکھوں میں نمی آگئ…..

پھر ؟ .پھر کیا ہوا..

شاہ نور اس سے مخاطب ہوئ…

جس دن کوٹ کی پہلی پیشی تھی… اس دن ان میں سے دو لڑکے آۓ.. اور آتھئیر کو دھمکی دی.کے کیس واپس لے لے ورنہ انجام بہت برا ہوگا.. لیکن وہ اسکے فیصلے اٹل ہوتے تھے وار وہ ان سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹتا تھا..آتھئیر نے انکی دھمکی کا کوئ اثر نہیں لیا. .. پیشی. ایک ہفتے بعد لیکن..

لیکن کیا ؟شاہ نور پھر بول پڑی..

آتھیئر کے پیرنٹس خان صاحب اور مسز خان ایک ایک قریبی عزیز کی بیمار پرسی کے لیے گۓ ہوتھے واپسی پر انہی لوگوں نے گاڑی رکوا کر گھیرے میں لے لی اور انہیں باہر نکال کر ان پر گولیوں کی برسات کر دی … و ہ دونوں موقع پر ہی دم توڑ گۓ……..شاہ نور ایک شاک کی سی کیفیت میں اسکی طرف دیکھنے لگی جیسے اسے یقین نہ آرہا ہو اس سب پر…

اس دن کے بعد سے وہ والا اے ڈی بھی انہی کے ساتھ ہی مر گیا تھا.. اے ڈی نے فیصلہ کر لیا کے وہ اپنی فیملی کو تو نہیں بچا لیکن اور جتنے بھی گھروں کی عزتیں پامال ہونے جا رہی ہیں انہیں ضرور بچاۓ گا.. اے ڈی کے ڈیڈ شہر کے بہت بڑے بزنس مین تھے.. کافی بڑی بڑی کمپنیز کے مالک تھے…. وہ سب کچھ اے ڈی کی ملکیت میں آگیا…..اے ڈی نے اپنا وہ گھر بیچ دیا…..اور کمپنیز اور ساری پراپرٹی بیچ کر سارے پیسے سے اپنا ایک الگ گینگ بنایا آفس .. اور پھر یہ 92 بنگلا……. خرید لیا…

اے ڈی اور ہم سب مل کر ریپ کیسز کو ڈیل کرتے ہیں بہت ساری لڑکیوں کی عزتوں کو نقصان پہنچنے سے بچایا بھی ہے…. اور جن کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہوجاۓ . اے ڈی اسکے مجرم نہیں چھوڑتا پھر..ہمارا کام ہوتا ہے ان تک پہنچ کر انکو ڈھونڈ کر اے ڈی تک پہنچانا پھر اے ڈی انسے خود نبٹتا ہے… جانتی ہو اس بنگلے کا نام 92 کیوں ہے ؟

نہیں..شاہ نور نے نفی میں سر ہلایا..

کیونکہ اے ڈی اب 92 درندے نما انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے… اب بھی ہم ایک کیس کے سلسلے میں ہی دوسرے شہر گۓ ہوۓ تھےم وہاں سے چھ لوگوں کو پکڑ کر لاۓ ہیں جنہوں نے کچھ دن پہلے ہی ایک کم سن لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا…..

اے ڈی نے ایک خاص ادارہ بنایا ہے.. جس میں اسی طرح کی لڑکیوں کو سہارا دیا جاتا یے.. انکی پڑھائ رہن سہن کھانے پینے ہر طرح کی ضروریات پوری کی جاتیں ہیں…. جانتی ہو ایسی لڑکیوں کو پھر کوئ بھی قبول نہیں کرتا ..ہم جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں.. اس میں لڑکی کو ہی قصوروار ٹھرایا جاتا ہے.. اور بدنامی کے ڈر سے انکا منہ بند کر وادیا جاتا ہے… یہی وجہ ہے ان کے مجرم کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں …انہیں کوئ پوچھنے والا نہیں ہے…

تو اسکا مطلب وہ ایک کرمنل نہیں ہے کیا؟

دنیا والوں کی نظر میں ہم سب کرمنلز ہی ہیں.. لیکن حقیقت کوئ..نہیں جانتا…

تو یہ سب کام لیگل طریقے سے بھی تو ہو سکتا ہے…..نہ میرا مطلب ہے اگر پولیس…

ابھی وہ آگے کچھ کہتی کے آریان نے اسکی بات کاٹ دی….

کیا تم نے کبھی سنا ہے……کہ زیادتی کرنے والے فلاں انسان کو سزاۓ موت سنا کر پھانسی دے دی گئ ہو؟.. ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کو انصاف کہاں ملتا ہے. حق دار کو اسکا حق نہیں ملتا..چھیننا پڑتا ہے .

اسکی باتوں سے شاہ نور خاموش ہو کر نظریں جھکا گئ .

اے ڈی سے جو غلطی ہوئ وہی مجھ سے بھی ہوئ ہے.. میں اپنے بارے میں تو کچھ نہیں جانتا پتہ نہیں وہ مجھے کبھی قبول کرے گی یہ نہیں .. نکاح سے اسکا ازالہ تو ممکن نہیں ہے…میں جانتا ہوں لیکن میں آپ سے بس اتنا ہی کہوں گا وہ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ مجھے پہلے ہی ہو گیا..تھا میں بس یہی کہوں گا..ان کو کبھی مت چھوڑیے گا.. کیونکہ انکے پاس رشتوں کی بہت کمی ہے یا یوں کہہ لیں رشتے کیں ہی نہیں ان کے پاس پہلے اپنی بہن پھر ماں باپ سب کو کھو دیا باری باری.. بہت عرصے بعد ہمارے اے ڈی کے چہرے پر مسکراہٹ آئ ہے وہ مت چھینیے گا…. باقی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے..

شاہ نور خاموشی سے اسکی باتیں سن رہی تھی…اسنے اثبات میں سر ہلایا..

اسکے دل کا ایک بوجھ آج ہلکا ہوگیا تھا کہ. اس کا شریک حیات ویسا نہیں جیسا وہ سمجھ رہی ہے بلکہ وہ تو بے سہارا لڑکیوں کی عزتوں کی حفاظت کرتا ہے .. اور جس کے ساتھ بھی ظلم ہو اسکے مجرم کو سزا دیتا ہے… .

آپ کا بہت شکریہ آپ نے مجھے اے ڈی کے بارے میں ساری حقیقیت بتائ….

شاہ نور نے تشکر بھری نظروں سے آریان کی طرف دیکھا….

کوئ بات نہیں یہ سب تو میں نے آپ کو بتانا ہی تھا… اور اے ڈی کو میں آپ کے یہاں ہونے کے متعلق ساری تفصیل بتا چکا ہوں وہ تھوڑی دیر میں آتے ہی ہونگے اس کیے اپنی حالت ٹھیک کر لیں اور میں نے آپ کو جو کچھ بھی بتایا ہے اسکا شک نہیں ہونے دینا ذرا بھی…

کیونکہ اگر انہوں آپ کو اب تک کچھ نہیں بتایا تو اسکا مطلب ہے وہ کسی خاص وقت کا انتظار کر رہے تھے اور تبھی بتائیں گے آپ کو ساری حقیقت آپ فکر نہ کریں انہیں کچھ پتہ نہیں چلے گا…

زاہران ایشل کے کمرے میں داخل ہوا.. وہ اسکے دیے گۓ کمرے میں اپنی کتابوں کا ڈھیر لگا کر بیٹھی ہوئ تھی. اور پڑھنے میں مصروف تھی..

آریان دروازہ کھٹکھٹا کر کمرے میں داخل ہوا..ایشل نے اسکی طرف دیکھا.. سوری میں پڑھ رہی تھی اس لیے میں نے تمہیں دیکھا نہیں..

کوئ بات نہیں تم پڑھو..صبح کالج جاؤ گی کیا تم؟

نہیں اب میں کالج تو نہیں جا سکتی میں نے آن لائن سٹڈی میں شفٹ کر وادیا. ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کالج جانا اب میرے لیے ٹھیک نہیں ہے ڈیڈ اور انکے گارڈز مجھے ڈھونڈ رہے ہونگے ہر طرف…

ہمم یہ صحیح کیا تم نے.. گڈ..چلو تم پڑھو پھر میں چلتا ہوں….کسی چیز کی ضرورت ہوئ تو مجھے بتا دینا…زاہران نرمی سے کہتا ہوا. کمرے سے نکل گیا..

اوکے ایشل اسکی طرف دیکھ کر مسکرا کر جواب دیتے ہوۓ دوبارہ اپنی کتابوں ہر جھک گئ.

صبح زاہران کی آواز دھڑام کی آواز پر کھلی. …اسنے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا ٹائم دیکھا صبح کے ساتھ بج رہے تھے… افف میں اتنی دیر تک سوتا رہا…

ویسے وہ عموما پانچ بجے تک اٹھ جاتا تھا.. ایک بار پھر اسے کچھ گر نے کی آواز آئ وہ چونکا .وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا پیروں میں سلیپر اڑیستا ہوا کمرے سے باہر نکلا..

کچن میں سے شور کی آوازیں آرہی تھیں..کچن میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر ایشل پر پڑی .. بالوں کی لمبی سی پونی باندھے ہاتھوں میں دستانے پہنے فرش سے بکھڑے ہوۓ برتن اٹھانے کے لیے جھکی ہوئ تھی…

زہران نے حیرانی سے ادھر ادھر نظریں گھومائ کچن کی حالت خاصی بگڑ چکی .. جو برتن شیلفز پر ایک ترتیب سے رکھے گۓ تھے اب زمیں بوس ہوچکے تھے.

.

تم ادھر کیا کر رہی ہو ؟زاہران نے اسے مخاطب کیا…

وہ اسکی آواز پر ایک دم سے اچھل کر پیچھے مڑی..

اوہ اٹھ گۓ آپ.. میں وہ کچن میں سوچا کچھ بنا لوں مجھے ناشتہ جلدی کرنے کی عادت ہے نہ کالج کی وجہ سے لیکن مجھے کچھ بنانا نہیں آتا… آج تک کبھی کچن میں قدم نہیں رکھا میں نے .. لیکن میں نے سوچا مجھے ٹرائ کرنا چاہیے.. ایسے ہی تو سیکھوں گی میں.. وہ بولتی جارہی تھی ساتھ ساتھ نیچے گرے برتن اٹھاتی جارہی تھی . تبھی ایک پلیٹ دوبارہ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین بوس ہوئ اور دو حصوں میں بٹ گئ..

زاہران نے اسے ایک گھوری نوازہ..

وہ انگلی دانتوں تلے دباتے ہوۓ زاہران کی طرف دیکھنے لگی..

اگر کچھ آتا نہیں تو کچن میں آنے کا فائدہ باہر نکلو میں بناتا ہوں.. اچھا دومنٹ وی باقی برتن سمیٹنے لگی تبھی اسکے ہاتھ سے ایک کانچ کا گلاس دوبارہ پھسل کر گرنے لگا….جو اسنے جلدی سے آگے ہو کر اسکے ہاتھ سے پکڑ لیا…

اور اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا تم باہر جاسکتی ہو…ایک نظر کچن کی بگڑی ہوئ حالت پر ڈالی….

اوکے .

ایشل کندھے اچکاتے ہوۓ باہر نکل گئ..اور جاکر سامنے ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھ گئ..

کیا لو گی ناشتے میں؟.

کچن میں سے زاہران کی آواز آئ..

وہ جلدی سے دوبارہ کچن کی طرف بڑھی..

میں تو ٹوسٹ اور چاۓ کے ساتھ ناشتہ کرتی ہوں ..ہمیشہ..

لیکن اگر تم کچھ اور بنارہے ہو تو میں بھی وہی کھالوں گی…

وہ زاہران کو بڑی مہارت سے پراٹھے بناتے ہوۓ دیکھ چکی..

زاہران نے پیچھے مڑ کر دیکھا.. وہ اسی کی طرف دیکھ رہی تھی…. ایک شرارتی سی مسکراہٹ اسکی طرف اچھال کر واپس بھاگ گئ.

بے وقوف لڑکی !

زاہران سر جھٹکتے ہوۓ دوبارہ اپنے کام میں متوجہ ہوگیا.. اب اپتہ نہیں میرے گھر کا کیا حال کرے گی… میری زندگی میں سکون نہیں ہے نا پاکستان میں مل سکا نا ادھر نصیب ہوا..

زاہران اپنی حالت پر افسوس کرتے ہوۓ بولا…

اے ڈی کو آریان ادھر آنے سے پہلے ساری تفصیل سے آگاہ کر چکا تھا.. وہ جیسے ہی اندر داخل ہوا اسکی نظر سب سے پہلے شاہ نور پر پڑی.. چہرے خطرناک حد تک سنجیدگی چھائ ہوئ تھی..

تم ٹھیک ہو شاہ نور.. جی.. شاہ نور نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا…اور اسکے قریب آکر کھڑی ہوگئ.

تمہارا بہت بہت شکریہ آریان میری عزت کی حفاظت کرنے کے لیے…لہجہ سپاٹ تھا ..چہرے پر کسی بھی قسم کا کوئ تاثر نہیں تھا..

آریان نے دکھ سے اسکی طرف دیکھا.. آج ایک بار پھر وہ ٹوٹ گیا تھا.. آریان اور بحرام کو ہمیشہ ایک بڑے بھائ کی حیثیت سے انکی سرپرستی کی انکا خیال رکھا.. وہ دونوں ہی اسکے دل کے بہت قریب تھے….

بحرام کی اس حرکت کے بعد وہ بری طرح ٹوٹ گیا تھا….وہ اس سے اس قسم کی گھٹیا حرکت کی توقع کبھی خواب میں بھی نہیں کر سکتا تھا..

شاہ نور نے بھی اے ڈی کے تاثرات نوٹ کی جو معمول سے بہت زیادہ سنجیدہ تھے…

Baais

کو اےایس سیل میں ڈال دیا ہے.اے ایس سیل.Athier secret cell

تھا جہاں مجرموں کو لاکر قید کر دیا جاتا تھا اور پھر اے ڈی خود ہی انکوسزا دیتا تھا..

ہمم ٹھیک کیا.. اسکا حساب میں بعد میں کروں باہر گارڈز کی بھاری سیکیورٹی ہونی چاہیے..

کسی قسم کی کوئ کوتاہی برداشت نہیں کروں گا. میں. وہ سرد لہجے میں بولا.. آریان نے اسکی بات پر اثبات میں سر ہلادیا..

اوکے تم بھی گھر جاؤ اب بھابھی ویٹ کر رہی ہونگی تمہارا اور اپنا خیال رکھنا.. اسکے کندھے کو تھپتھپاتے ہوۓ وہاں سے باہر نکل گیا… چلو شاہ نور

شاہ نور بھی اسکے پیچھے پیچھے چل پڑی.. آریان نے اے ڈی کے تاثرات دیکھتے ہوۓ شاہ نور کو اشارہ کیا.شاہ نور نےبھی انگھوٹے کے اشارے سے اسے بتایا کے میں سب سنھبال لوں گی..

اور اے ڈی کے پیچھے پیچھے باہر نکل گئ… گاڑی ڈرائیور کرتے ہوۓ اے ڈی نے ایک بار بھی اسکی طرف مڑ کر نہیں دیکھا…. نہ اس سے کوئ بات کی بس آگے دیکھ کر ڈرایئو کرنے میں مصروف تھا..

وجہ شاہ نور جانتی تھی… وہ بار بار اے ڈی کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی… وہ جانتی تھی اسے بہت تکلیف ہوئ اور وہ کس درد سے گزر رہا تھا شاہ نور کو بخوبی اندازہ ہو گیا تھا…

آج اسکے چہرے پر ایک حد سے زیادہ سنجیدگی چھائ ہوئ تھی…..

گاڑی پورچ میں کھڑی کرنے کے بعد وہ شاہ نور کا ہاتھ پکڑے راہداری عبور کرتے اسے اپنے کمرے میں لے کر آیا…

تبھی ملازمہ ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوئ.

کھانا کھالو شاہ نور اور اسکے بعد سوجانا رات بہت ہو گئ ہے…. میں کچھ ضروری کام نبٹا لوں پھر آتا ہوں سرد لہجے میں کہتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گیا. .

یہ کہاں رکھوں ملازمہ شاہ نور سے مخاطب ہوئ ..

ادھر رکھ دو ..شاہ نور بے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا.

آریان جیسے ہی گھر میں داخل ہوا.. اسکی نظر باہر لاؤنج میں ہی صوفے پر سوۓ ہوۓ وجود پر پڑی … اسکے قدم ٹھٹھکے..

وہ چلتا ہوا اسکے قریب گیا..

مشال نیند میں پوری طرح غرق تھی… اسکے بھورے لمبے ریشمی بال بکھڑ کر ادھے صوفے سے نیچے گر رہے تھے .. اسکی لمبی پیروں تک آتی فراق آدھی زمین کو چھو ڑہی تھی..

وہ کچھ پل مبہوت سا اسکی طرف دیکھنے لگا…

اسکے چہرے پر بلا کی معصومیت چھائ ہوئ تھی….

ہاتھ. بڑھا کر اسکے چہرے پر پھیرا.. جس کا اس پر کوئ اثر نہیں ہوا….

تبھی کچن سے نکلتی ملازمہ پر نظر پڑی.. وہ سلام کرکے اسکی طرف بڑھی….

کھانا لاؤں أپ کے لیے سر!

نہیں رہنے دو یہ یہاں کیوں سورہی ہے؟

آریان نے مشال کی طرف دیکھتے ہوۓ اشارہ کیا…

وہ ..یہ کافی دیر سے ادھر ہی چکر لگا رہی تھیں شاید انتظار کر رہی تھیں آپکا ..پھر کچھ دیر ادھر ہی بیٹھی رہیں.. اور یہیں سو گئیں…

تو کوئ کمفرٹر وغیرہ ڈال دینا تھا اس پر اتنی ٹھنڈ میں کب سے ویسے ہی سوئ ہوئ ہے… ؟تم کیا کر رہی تھی.آریان اس پر برہم ہوا

وہ سوری میں باورچی جانے کا ضروری کام نمٹا رہی تھی…

اچھا جاؤ تم جا کر کام کرو اپنا..

آریان کے چہرے پر بل پر گۓ تھے…

اسنے آگے بڑھ کر مشال کو گود میں اٹھایا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا .

بیڈ پر لٹایا. پھر بلینکٹ اوڑھائ اسکے اوپر..

اپنا سیل فون اور گھڑی ایک سائڈ پر رکھی…

پھر خود بھی بیڈ کی دوسری طرف آکر لیٹ گیا.. آج وہ کافی تھک چکا تھا….

ایک نظر پاس بے خبر سوئ مشال پر ڈالی… ویسے تو مجھ سے بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتی رہتی ہو اور آج میرے انتظار میں باہر لاؤنج میں ہی سوگئ…

مسز آریان شاویز…..

آریان نے اسکے چہرے پر آئیں کچھ آوارہ لٹے پیچھے کی.. پھر مسکراتے ہوۓ … سائڈ لیمپ آف کرکے نائٹ بلب جلا کر خود بھی سوگیا…

شاہ نور کھانا کھا کر ادھر ادھر ٹہل رہی تھی.. اسے اے ڈی کی فکر ہورہی تھی… آج جو کچھ آریان نے اے ڈی کے بارے میں بتایا تھا ..وہ سب جاننے کے بعد شاہ نور کو کافی دکھ ہوا. اور اسکے دل میں اے ڈی کے لیے نرم جذبات پیدا ہو چکے تھے.. وہ اے ڈی سے باتیں کرنا چاہتی تھی.م لیکن وہ اس وقت پتہ نہیں کہاں تھا..

کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی جب وہ کمرے میں نہیں آیا ..تو شاہ نور. کی نیند سے بری حالت ہوچکی تھی…وہ کمرے سے باہر نکلی.. اور چلتے ہوۓ ..ایک بند کمرے کی برف بڑھ گئ.. جہاں وہ پہلے بھی کچھ دفعہ اے ڈی کو جاتے دیکھ چکی تھی..

وہ اس بند کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئ.. باہر ایک گارڈ کھڑا تھا.. جو شاہ نور کو دیکھ کر پیچھے ہوگیا..

کمرہ پوری طرح اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا….

سامنے ایک بڑے جہازی سائز صوفے پر اے ڈی اکیلا ٹانگ پر ٹانگ چڑھاۓ. .کسی گہری سوچ میں مبتلا بیٹھا تھا..

پاس ایش ٹرے پر کافی ساری آدھی جلدی بجھتی سگریٹس کا ڈھیر لگا ہوا تھا.. جو شاید وہ .پچھلے کچھ دیر سے پی رہا تھا….اب بھی وہ لائٹر کی مدد سے ایک سگریٹ سلگا رہا تھا جب شاہ نور آہستہ آہستہ قدم رکھتی اسکے قریب آئ…

اسنے پیچھے سے اے ڈی کے کندھے پر ڈرتے ڈرتے ہاتھ رکھا.

اے ڈی نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا….

شاہ نور کی طرف نظر پڑتے ہی اسے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا..

تم.. تم اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو سوئ کیوں نہیں ؟

شاہ نور اے ڈی کے پاس آکر بیٹھ گئ…

وہ….وہ…مجھے نیند نہیں آرہی تھی..

اسنے اے ڈی کی طرف سر اٹھا کر دیکھا.. جو اسی کی طرف حیرانی سے دیکھ رہا تھا…..

شاہ نور کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا بولے وہ چل کر یہاں تک آتو گئ تھی…

اے ڈی بے یقینی سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا..کیونکہ یہ پہلی بار تھی جب شاہ نور خود چل کر اسکے پاس آئ تھی.. ورنہ وہ ہمیشہ اس سے دور رہنے کی ہی کوشش کرتی..

سو جاؤ شاہ نور بہت رات ہوگئ ہے…

تم بھی سوجاؤ…

شاہ نور نے مختصر سا جواب دیا…

آتھیئر.

کیا تم نے نام لیا میرا ؟

اے ڈی نے اسکی طرف دیکھا.. آج پہلی بار اسنے اے ڈی کا نام لیا تھا….

ہاں..

کیوں نہیں لے سکتی..

اے ڈی کو خوشگوار حیرت کا احساس ہوا…

کیوں نہیں لے سکتی..تم نہیں لو گی تو اور کون لے گا… تمہارا ہی تو سب سے زیادہ حق ہے مجھ پر اے ڈی اسکے چہرے کے سامنے آۓ ہوۓ بال کان کے پیچھے کرتے ہوۓ بولا..

تھینکیو…

فور واٹ

For what ?

اے ڈی نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا..

..

میں تمہارے ساتھ خود کو بہت محفوظ سمجھتی ہوں.شاہ نور اسکے سینے پر سر رکھتے ہوۓ بولی.. اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اور کیا بولے..

اے ڈی کچھ پل ساکت سا بیٹھا رہا .جیسے اسے اپنے کانوں پر یقین نا آراہا ہو..یہ وہی شاہ نور تھی.

پھر سر جھکا کر اسکی طرف دیکھا..

جو شش و پنج میں مبتلا کر کے خود اسکے سینے میں سر چھپا کر سو چکی تھی.