📱 Download the mobile app free
Home > 92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064 > 92 Ninety Two (Episode - 19)
[favorite_button post_id="16109"]
44581 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

92 Ninety Two (Episode - 19)

92 Ninety Two By Maira Hani

زاہران کی آنکھ کھلی تو نظر سامنے لگے وال کلاک پر پڑی رات کے گیارہ بج رہے تھے….. وہ اٹھ کر بیٹھا بے وقت سونے کی وجہ سے اسکا سر کافی بھاری ہورہا تھا . اسنے آس پاس نظر دوڑائ کمرہ خالی تھا….وہ سویا کب تھا اسے یاد آیا چار پانج بجے کر قریب وہ بے حوش ہو گر گیا تھا اور اب جب اسکی آنکھ کھلی تو وہ اپنے کمرے میں تھا….اسے یہاں کون لایا ؟اسکے ذہن میں مختلف سوالات آرہے تھے. . وہ آہستہ آہستہ بیڈ سے اٹھا پیروں میں سلیپر اڑیستا ہوا کمرے کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا..

جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا سامنے سے آتی ایشل سے ٹکرا گیا… افف ہو دھیان سے چلا کر و نہ ایشل اپنے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی..

اوہ تم اٹھ گۓ؟؟ تھینکس گاڈ.. اب کیسی طبیعت ہے تمہاری ؟؟میں تمہیں دیکھنے ہی آرہی تھی اندر

ایشل اسے دیکھتے ہوۓ پر جوش انداز میں بولی….

ہمم ٹھیک ہوں میں اب.

ہاں تم جلدی ٹھیک ہو جاؤ گے ڈاکٹر نے کہا تھا… بس ریسٹ کرو اور کچھ میڈیسنز دی ہیں وہ ٹا ئم پر لینا…وہ منگوا لی ہیں میں نے .تمہارے کمرے میں ہی پڑی ہیں….

ڈاکٹر ؟ڈاکٹر کو کس نے بلایا تھا.. زاہران حیرانی سے بولا..

ایشل نے ساری روداد اسکے گوشے گزار کر دی…

ہمم تھینکس …تم نے میرا اتنا خیال رکھا اور ڈاکٹر کو بھی بوالیا…تم ہو بہت ہمت والی ویسے زاہران اسے سراہتے ہوۓ بولا…

ارے کوئ بات نہیں یہ تو فرض تھا میرا اور تم نے بھی تو رہنے کے لیے جگہ دی ہے نہ مجھے یہاں اسکے لیے میں بہت شکر گزار ہوں تمہاری…

.ایشل معصومیت سے بولی.

جس پر زاہران مسکراپڑا کوئ بات نہیں میرا بھی یہ فرض ایک اکیلی بے سہارا لڑکی کو بیچ راستے میں اکیلا تو نہیں چھوڑ کر جا سکتا تھا نا.بولتے ہوۓ اسکی نظر ایشل کی گھٹنوں سے پھٹی ہوئ جینز پر پڑی اور زخمی پیر پر پڑی جس سے خون نکل کر اب جم چکا تھا…

یہ تمہیں کیا ہوا؟

زاہران اسکے پیر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا…

وہ کچھ نہیں بس واپس آتے ہوۓ گر گئ تھی…ایشل اپنا زخمی پیر پیچھے کرتے ہوۓ بولی.

گر گئ تھی کیا مطلب؟دھیان سے چلتی نہ.

ہاں دھیان تھا ہی کہاں پیچھے تو وہ لگے ہوۓ تھے پتہ نہیں گھر کیسے پہنچی ہوں..

ایشل لاپرواہ سے انداز میں بولی…

کون کون لگا ہوا تھا تمہارا پیچھے ؟زاہران نا سمجھی سے بولا..

یوسف کمال پاشا اور کون

اب یہ یوسف کمال پاشا کون ہے؟ وہی جو لوگ اس دن تمہارے پیچھے تھے جن سے بچنے کے لیے تم نے مجھ سے مدد لی تھی…؟.

ارے نہیں وہ تو میرے ڈیڈ کے لوگ تھے..

تو پھر یہ کون تھے؟

زاہران سوال پہ سوال کر رہا تھا..

یہ وہ میرے ڈیڈ نے جن کے ساتھ ڈیل کی ہے میری..ساتھ

ایشل کے چہرے پر ایک اداسی سی چھاگئ..

اوہ اچھا. زاہران افسوس سے ایشل کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا..

تو تمہیں آج نہیں جانا چاہیے تھا ادھر بلکہ تمہیں تو گھر سے ہی نہیں نکلنا چاہیے ابھی کچھ دن جتنا ہو سکے اتنی احتیاط کرو تو بہتر ہے.

ہاں یاد ہی نہیں رہا مجھے بس دماغ گھوما ہوا تھا میرا ایشل اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولی…

اچھا چلو اس پر کچھ لگا لو زاہران نے اسکے پیر کی طرف اشارہ کیا. نہیں خیر ہے کوئ بات نہیں ٹھیک ہو جاۓ گا…

رکو میں لگا دیتا ہوں.. ن.نہیں.نہیں.رہنے.

دو

ایشل اسکے کہنے کے باوجود بھی وہاں سے جانے لگی جب زاہران نے اسے اٹھا کر صوفے پر بیٹھایا.م بیٹھو ادھر میں فرسٹ ایڈ لے کر آتا ہوں..

ایشل منہ بناتے ہوۓ بیٹھ گئ..

تھوڑی دیر بعد زاہران فرسٹ ایڈ باکس اٹھاۓ اسکی طرف بڑھا.. اسکا پیر سیدھا کیا اور کاٹن سے زخم صاف کرنے لگا پھر بینڈیج کرنے لگا.تبھی ایشل بولی.

ویسے تم کیوں بے خوش ہوگۓ تھے؟ڈاکٹر نے کہا تمنے بہت زیادہ سٹریس لیا ہے کسی چیز کا . ؟

.ایشل سوالیہ انداز میں بولی..

زاہران کے چلتے ہوۓ ہاتھ ایک دم سے رکے ..

.اسنے ایشل کی طرف دیکھا..

وہ سب پھر کبھی بتاؤں گا تمہیں ابھی ایسا کرو ریسٹ کرو… اور جاکر سو جاؤ..وہ ایشل کی نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا………..

ہمم اوکے ایشل کی بھی نیند سے بری حالت ہورہی تھی اب وہ آہستہ سے اٹھی اور لنگڑاتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ.. اسکے جانے کے بعد زاہران بھی فرسٹ ایڈ باکس اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا…….

اے ڈی چینجنگ روم سے تیارہو کر باہر نکلا تو سامنے پر سکون سی سوئ ہوئ شاہ نور پر نظر پڑی تو اب تک نیند کی وادیوں میں پوری طرح غرق تھی….

اے ڈی نے اسکی طرف نظر ڈالی چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ رینگ گئ… تبھی اے ڈی کو ایک شرارت سوجھی اسنے میز پر پڑا ٹاول اٹھا کر شاہ نور پھینکا وہ ہر بڑا کر اٹھ بیٹھی جیسے ہی اسکی سمجھ میں ساری بات آئ اسنے گھور کر اے ڈی کی طرف دیکھا..

گڈ مارننگ مائ بیوٹیفل وائف

اے ڈی پر شوخ لہجے میں بولا.

جس پر شاہ نور اسے گھوری ست نوازتے ہوۓ اٹھ گئ یہ کیا طریقہ تھا اٹھانے کا ؟

شاہ نور اپنے بال پونی میں قید کرتی ہوئ اے ڈی کی طرف بڑھی..

میرا دل نہیں کر رہا تھا اکیلے ناشتہ کرنے کو تو سوچا تمہیں بھی اٹھا دوں.. اے ڈی اسکے ہاتھ سے پونی کھینچ کر اتارتے ہوۓ بولا جس سے اسنے مشکل سے اپنے لمبے سلکی بال قید کیے تھے . وہ دوبارہ ڈھلک کر اسکے کندھوں پر بکھڑ گۓ…

میں باہر لاؤنج میں ناشتے کی ٹیبل پر تمہارا انتظار کر رہا ہوں تم جلدی سے فریش ہو کر آجانا.. اسکے گال تھپتھپاتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گیا..

شاہ نور نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے لیکن اس سے پہلے ہی وہ جاچکا تھا کمرے سے .. .

بدتمیز انسان !!شاہ نور پیر پٹختی ہوئ واشروم کی طرف بڑھ گئ….

جاہل احمق !!! گدھے کی اولادوں. .

یہ کسے اٹھا کر لے آۓ ہو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟.پاشا سامنے زمین پر دوزانو بیٹھے. ہٹے کٹے نوجوان کو گلے سے پکڑ کر دبوچتے ہوۓ بولا….

پ..پہ پتہ..پتہ..نہیں باس ہم تو اپنی طرف سے ایشل کو ہی لاۓ تھے. میں نے ٹھیک سے دیکھا تھا ایشل ہی تھی یہی

کپڑے پہنے ہوۓ تھے…جس وقت میں نے اسے اغوا کیا اس وقت اسکا چہرہ دوسری طرف تھا میں دیکھ نہیں سکا.. ایشل انہیں کپڑوں میں تھی…کیا پتہ انہوں نے اپنے لباس تبدیل کر لیے ہوں… ایشل کو شک ہو گیا اس لیے.. وہ…..وہ بھاگ گئ.

پاشا نے جیسے ہی اسکے گلے پر سے اپنا بھاری بھرکم ہاتھ اٹھایا وہ کھینچ کھینچ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا .

اسکی بات سن کر پاشا پیچھے کرسی کے ساتھ رسیوں سے جکڑی ہوئ لیزا کی طرف بڑھا…

پاشا کو اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ خوف سے بری. طرح کانپ رہی تھی…

پاشا نے اسکے منہ پر بندھی ہوئ پٹی کھینچ کر اتاری..

اے لڑکی !! سچ سچ بتاؤ کیا کھیل کھیل رہی ہو ہمارے ساتھ ؟؟؟

پاشا اسکے بالوں کو زور سے پکڑتے ہوۓ بولا..

ک..کک.کچھ …نہیں….میں..نے کچھ …نہیں کیا…

سچ سچ بتاؤ ایشل کہاں ہے ؟؟

پاشا غصے سے بولا. ..کہاں چھپا کر رکھا ہوا ہے اسے ؟؟…

تبھی ایک اور بالوں کی پیچھے پونی باندھے نوجوان اندر کمرے میں داخل ہوا.

کچھ پتہ چلا ایشل کا ؟

پاشا اسے دیکھتے ہی جھٹ سے بولا..

اس نوجوان نے ادب سے سے جھکاتے ہوۓ سر نفی میں ہلادیا…

.

پاشا نے اپنی گن اسکے سینے پر تانی..تو پھر کسی کام کے نہیں تم ایک دوفٹ کی لڑکی تم لوگوں کی گرفت میں نہیں آسکی ..

جو ناکام لوٹے پاشا کے پاس اسکے لیے کوئ جگہ نہیں ہے ساتھ ہی گولی کی زوردار آواز گونجی تھوڑی دیر بعد وہ زمین میں پڑا بری طرح تڑپ رہا تھا.. پاشا نے گن سے اٹھتے ہوۓ دھویں..کو ایک پھونک ماری اور پاس کھڑے باڈی گاڈ کی طرف بڑھا دی…

سامنے کا منظر دیکھ کر لیزا کی آنکھیں باہر آگئیں……

اس لڑکی سے پتہ کرواؤ سب کچھ زبان کھلواؤ ااسکی اور ایشل تک کسی بھی طرح یہ خبر پہنچاؤ اسکی چہیتی سہیلی ہمارے قبضے میں ہے اس تک پہنچنے کے لیے یہی ایک واحد راستہ ہے…

پاشا وہاں پر کھڑے سب گارڈز کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا…دھیان رکھان یہ بچ کر جانی نہیں چاہیے اگر یہ بھاگی یہاں سے تو تم سب کی گردنیں.اتارنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگاؤں گا میں..

پاشا غصے سے دھاڑتے ہوۓ بولا.. لیزا کے قریب آیا اسکے منہ پر پٹی دوبارہ باندھی تمہیں اس سب کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی..پاشا کے ساتھ کھیل کھیلا ہے تم نے .تم شاید جانتی نہیں پاشا کے ساتھ کھیلنے کا انجام کیا ہوتا ہے ؟

پاشا خون خوار نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا پھر کمرے سے باہر نکل گیا .

آریان نے مشال کی سائیڈ کا دروازہ کھول کر اسے بٹھایا گاڑی کا بیک ڈور کھول کر سارے شاپنگ بیگز رکھے آج اس نے مشال کو کافی ساری شاپنگ کروائ تھی.. اور اسکا مشال کے ساتھ دن بھی کافی اچھا گزرا تھا….

بیک ڈور بند کر کے وہ فرنٹ سینٹ پر بیٹھتے ہوۓ گاڑی…سٹارٹ کرنے لگا.. ٹھنڈ کی وجہ سے اسکا انجن کافی ٹھنڈا ہو چکا تھا….

اسنے مشال پر نظر ڈالی جو ٹھنڈ کی وجہ سے اپنے کندھوں کے گرد گرم شال ڈالے سمٹی بیٹھی تھی..

سردی تو نہیں لگ رہی مشال ؟

آریان گاڑی سٹارٹ کرتے ہوۓ بولا….

ہم..نہیں ٹھیک ہوں میں مشال نے نرمی سے جواب دیا..

کچھ دیر کی ڈرائیو کے بعد اسنے سنگل کے اشارے پر گاڑی روکی…

تبھی انکے برابر میں ایک کالے رنگ کی نئ چمکتی ہوئ مرسیڈیز آکر رکی.. جس میں ایک ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان سگریٹ کا دھواں اڑاتے نشے میں پوری طرح دھت تھے ..اونچی آواز میں لگے موسیقی کے مزے لوٹتے وہ دونوں اردگرد کے ماحول سے بلکل بے گانہ تھے….

تبھی ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ بیٹھے نوجوان کی نظر اپنے پاس کھڑی گاڑی میں بیٹھی مشال پر نظر پری..

وہ کچھ پل ساکت سا اسے دیکھتا رہا…. مشال بار بار اپنے کندھوں کے گرد شال کو ٹھیک کر رکی تھی جو بار بار ڈھلک کر نیچے چلی جاتی….

کدھر ہیلو ؟؟تھوڑی دیر بعد سمیر نے اسکی آنکھوں کے گرد چٹکی بجائ …

لوک

Look at her..

اسنے ہاتھ کے اشارے سے اسکی طرف توجہ دلائ. اسکے اشارے پر سمیر نے مشال کی طرف دیکھا..

سو واٹ؟؟

سمیر نے کندھے اچکاۓ..

Oh man!she is so pretty

اسنے ستائشی نظروں سے اسکی طرف دیکھا ….

لیو اٹ یار

آئ تھنک ساتھ میں ہے ہسبینڈ ہے اسکا.. اور ویسے بھی تجھے کونسا کمی ہے لڑکیوں کی.. ..

I want that girl..

وہ سگریٹ کھڑکی سے باہر پھینکتے ہوۓ بولا..

تبھی گرین سگنل آن ہوا اور ان کی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئ….پیچھا پیچھا کر اسکا پتہ کر کہاں رہتی ہے یہاں..

یار شارام ؟……سٹاپ اٹ یار

پتہ نہیں کون ہے اور ایسے اسکے پیچھے چلے جائیں…

میں کہہ رہا ہوں نا تو اسکے پیچھے چل بس مجھے کچھ نہیں پتا … اس پر وہ چڑ کر بولا.

شارام کی بات پر وہ خاموش ہوگیا……

اگر کوئ پرابلم ہوئ تو ؟

I will handle..

مجھ ہر چھوڑ دے برو میں ہو نہ شارام کا کوئ کچھ نہیں بگاڑ سکتا.. مغروانہ لہجے میں کہتے ہوۓ اسنے ہیڈ فونز کان سے لگا کر اپنے سیل فون کی پلے لسٹ میں موجود پہلا سانگ چلا دیا…

سیٹ کی بیک سے ٹیک لگا کر .

سامنے آریان کی گاڑی پر نظریں جمادیں..

سمیر نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر سر جھٹکتے ہوۓ گاڑی آریان کی گاڑی کے پیچھے ڈال دی.

شاہ نور بات سنو !ناشتے کے دوران اے ڈی نے شاہ نور کی طرف دیکھتے ہوۓ اسے مخاطب کیا.. جو بالوں کو جوڑے میں قید کیے.. پوری طرح ناشتہ کرنے میں مگن تھی..

ہاں بولو…

میں تم سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتا ہوں..

جی بولیں.

شاہ نور اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی…

میں بحرام کے سلسلے میں تم سے بات کرنا چاہتا تھا..جو کچھ بھی ہوا اسکے بعد بحرام تمہارا مجرم ہے میں چاہتا ہوں اس معاملے میں میں تمہاری راۓ لے لوں تم کیا سزا تجویز کرتی ہو اسکے لیے…

تم اسےمعاف کر و یا چاہے اسکی موت کی سزا سنادو مجھے تمہارے کسی فیصلے پر کوئ اعتراض نہیں ہوگا..

بحرام کا سن کر شاہ نور کے ہاتھ کچھ پل کے لیے رکے….

پھر کچھ سوچتے ہوۓ .بولی.

مجھ سے زیادہ تو وہ آپکا قصوروار ہے کیونکہ زیادہ تکلیف تو آپکو ہوئ ہے.. وہ تو کافی سالوں سے آپ کے ساتھ کے آپ بہتر جانتے ہیں اسے اور اسکے لیے بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں….

آپ کو جو مناسب لگے آپ وہی کریں مجھے کوئ اعتراض نہیں ہوگا .شاہ نور سپاٹ لہجے میں کہتی ہوئ.. دوبارہ اپنے ناشتے پر جھک گئ..

ہمم اوکے ……

اے ڈی پر سوچ انداز میں بولا…

وہ فیصلہ کر چکا تھا اسے اب کیا کرنا ہے .