92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064 92 Ninety Two (Episode - 21)
92 Ninety Two (Episode - 21)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
92 Ninety Two By Maira Hani
احد ایک واحد دوست تھا زاہران کا جو کچھ عرصہ پہلےہی پاکستان سے اسی کی یونیورسٹی سے اسکالرشپ پر وہاں آیا تھا زاہران سے اسکی اچھی خاصی دوستی ہوگئ تھی…. وہ کوئ بھی بات بلاجھجک اس سے بتا دیتا تھا … اب بھی ایشل کے معاملہ اسی کے سپرد کیا تھا. ایشل کے بارے میں سب کچھ وہ اسے پہلے ہی بتا چکا تھا…… وہ کن کن حالات سے گزری تھی اور اس سے کیسے ملا تھا..اور پھر اس کی حالت کے پیش نظر اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا… احد نے بھی اس فیصلے میں اسکی تائید کی تھی ….
احد کو اگلے دو گھنٹے میں نکاح تمام انتظامات کرنے کا کہہ کر کال کاٹ دی اور کار ایک شاپنگ مال کی جانب موڑ دی جہاں سے. ایشل کا بڑائیڈل ڈریس خریدنا تھا…. نکاح جن حالات میں اور جتنی جلدی ہو رہا تھا….
اس کے لیے ممکن تو نہ تھا…کہ تمام رسم و رواج کا خیال رکھ کر انہیں پورا کرتا لیکن جو کچھ اس کے بس وہ کرنا چاہتا تھا.. ایشل کی خوشیوں کی خاطر وہ اسے دنیا کی ہر خوشی دینا چاہتا تھا….
اے ڈی کو ہسپتال سے چھٹی مل گئ تھی اور وہ گھر آچکا تھا…. اسے گھر پہنچا کر آریان بھی واپش اپنے گھر چکا تھا جبکہ بحرام کی کچھ خبر نہیں تھی وہ کہاں تھا.. اے ڈی کو آپریشن تھیٹر شفٹ کر تے ہی وہ ہسپتال سے باہر نکل گیا تھا اور اس کے بعد کہاں گیا یہ صرف اسے ہی معلوم تھا…..
شاہ نور اسکے لیے باول میں سوپ لیے کمرے میں داخل ہوئ.. اے ڈی ہر ہلکی غنودگی چھائ ہوئ تھی… شاہ نور باول سائیڈ پر رکھتی اسے اٹھانے لگی..
رکھ دو میں بعد میں پی لوں گا.. بھی دل نہیں چاہ رہا… اے ڈی جان بوجھ کر اسے تنگ کرنے کے لیے بولا.. شاہ نور کے ماتھے پر بل پڑگۓ..
کیوں نہیں پینا؟
پتہ ہے کتنی مشکل سے بنا کر لائ ہوں.. فرسٹ ٹائم بنایا ہے میں نے پتہ نہیں تمہیں پسند بھی آۓ گا بھی یہاں نہیں.شاہ نور کے چہرے پر ساتھ ہی پریشانی کے آثار چھا گۓ.. اپنی انگلی دانتوں میں دباتے ہوۓ بولی .
تبھی اے ڈی کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی شاہ نور جلدی سے اسکی طرف بڑھی کیا ہوا تم ٹھیک ہو ؟
ہاں بس بازو میں درد ہو رہا ہے کچھ ذرا اپنا ہاتھ دینا تبھی شاہ نور نے اسے سہارا دینے کے لیے جلدی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اسی لمحے اے ڈی نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے ہوۓ اپنی طرف کھینچ لیا…شاہ نور اس اچانک افتاد پر سنبھل نہ پا ئ. اور سیدھا اے ڈی کے سینے پر جاگری…
میری جان کے ہاتھوں سی بنئ کوئ بھی چیز ہو مجھے کیسے پسند نہیں آۓ گی .. جب تم مجھے اتنی پسند ہو تو…
اے ڈی اسکے بالوں میں منہ چھپاتے ہوۓ ..بولا.. لبوں پر ایک جاندار مسکراہٹ رینگ گئ..
شاہ نور آنکھے پھاڑے اسکی اس حرکت پر اسکی طرف دیکھنے لگی.
جلدی سے اسے الگ ہوتھی ..اسکے چوڑے سینے پر ہلکہ سا ایک مکہ جڑ دیا..
کتنے چالاک انسان ہو تم.! ..میری تو جان ہی نکال دی تھی…
جلدی سے یہ سوپ ختم کرو…ورنہ مجھ سے برا نہیں ہوگا کچھ بھی…شاہ نور ایک گھوری سے نوازتے ہوۓ.. سخت لہجے میں اسے آڈر دیتے ہوۓ بولی..
اچھا ایک شرط پر پیوؤنگا…
وہ کیا ؟
شاہ نور اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولی….
تم ادھر ہی میرے پاس بیٹھی رہو…
شاہ نور اسے گھورتی ہوئ اسکے پاس ہی بیٹھ گئ. اچھا ٹھیک ہے…….
اب پی کیوں نہیں رہے ؟اسے ویسے ہی بیٹھے دیکھ کر ..
چڑ کر بولی..
میں کیسے پیوں میرا بازو تو زخمی ہے … گولی چونکہ بائیں بازو پر لگی تھی. .لیکن وہ صرف شاہ نور کو تنگ کر نا چاہتا تھا…جس میں اسے اب کافی مزہ آرہا تھا…
شاہ نور دانت پیستی ہوئ سائیڈ ٹیبل سے باول اٹھا کر اسے سوپ پلانے لگی…
اس کے چہرے کے زاویے دیکھ کر اے ڈی کا ہلکہ سا قہقہہ ابھرا..
جس پر شاہ نور کو مزید تپ چڑھ گئ.. نخرے تو دیکھو ذرا اس کے ڈرامے باز کہیں کا….. شاہ نور دانت پیستے ہوۓ دل ہی دل میں بڑبڑا رہی تھی..
زاہران نے شاپنگ مال کے پاس گاڑی روکی ایشل اب کچھ کچھ اپنے حواسوں میں واپس آچکی تھی.. زاہران اسکی طرف کا دروازہ کھولتے ہوۓ اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ اندر کی طرف چل پڑا..
سب سے پہلے ایک جوس کارنر پر پہنچ کر اسے ایج فریش لیمن جوس پلایا جس سے اسکا نشہ کافی حد تک اتر چکا تھا…..
اسنے یلو شرٹ اور بلیک جینز اوپر بلیک کلر کا فر والی جیکٹ پہنے بالوں کی لمبی پونی ٹیل بناۓ ….سرخ ہوتی آنکھوں سے زاہران کی طرف دیکھا..
زاہران بھی جیسے اس کی حالت ہی بہتر ہونے کے انتظار میں تھا…
اب کیسا فیل کر رہی ہو ؟
زاہران نے نرمی سے پوچھا..
ہمم ٹھیک ہوں .
اچھا چلو پھر شاپنگ کر لیتے ہیں تھوڑی دیر بعد نکاح ہے .. تم بس اپنا بڑائیڈل ڈریس دیکھ لو اور ساتھ کچھ ضروری جیولری .. باقی سب بعد میں لیتے رہیں گے اب وقت نہیں باقی سب چیزوں کا..
نکاح ک.کک..کس کا نکاح؟
نکاح والی بات پر ایشل نے چونک کر اسکی طرف دیکھا .
تمہارا اور میرا اور کسکا….
زاہران جوس کا لگاس لبوں سے لگاتے ہوۓ عام سے انداز میں بولا..
.واٹ؟.ایشل کی آنکھوں کے سامنے یک دم اندھیرا چھا گیا
میرا اور تمہارا نکاح ؟؟کیا بکواس ہے؟؟
ت…تت. تمم ایسا کیسے کر سکتے ہو میرے ساتھ … مجھ سے پوچھے بغیر .
میں ..میں..یہ نکاح نہیں کروں گی. .ایشل. ایک دم سے چلاتے ہوۓ بولی..
زاہران نے اس پر کوئ خاص توجہ نہیں دی جیسے وہ اسکا ری ایکشن پہلے سے جانتا ہو….ایسا نہیں تھا کہ ایشل زاہران کو پسند نہیں کرتی تھی….وہ بھی زاہران کے ساتھ کافی حد تک اٹیج ہو چکی تھی… ان میں کافی حد تک دوستی ہو چکی تھی لیکن.. پچھلے گزرے کچھ دنوں میں اس پر جو حالات گزرے ان سب سے اسکے اندر ایک چڑچڑا پن سا آگیا تھا…
وہ زاہران کی تقریبا ہر بات کا ہی کوئ الٹا جواب دیتی بلاوجہ اس ہر چیخ اٹھتی.. زاہران جانتا تھا وہ مینٹلی طور پر کافی اپ سیٹ ہے اس لیے ہمیشہ اسکی باتیں اگنور کر جاتا.
نکاح اگر عام حالات میں ہوتا ..ایشل نارمل ہوتی.. تو آرام سے مان جانتی….. کیونکہ ان گزرے دنوں میں وہ بھی زاہران کو کافی حد تک جان چکی تھی …
لیکن اس وقت وہ اپنے حواسوں میں نہیں تھی.. اس لیے زاہران حسب معمول خاموش رہا…
چلو زاہران اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ اپنے ساتھ لگاتے …
ایک بوتیک کی شاپ میں داخل ہوگیا…
چھوڑو میرا ہاتھ…کوئ ….ن…نکاح….نہیں کرنا …مجھے ..تم سے… ایشل پوری قوت سے اسکی گرفت سے اپنی نازک سی کلائ کھینچتے ہوۓ بولی…..
جو زاہران کی بھاری اور مضبوط گرفت کے آگے بے بس تھی…
ان کے سائز کا ایک بڑائیڈل ڈریس دکھائیں ….
زاہران دکاندار سے مخاطب ہوا..
ایشل کی کلائ ابھی بھی اسکے ہاتھ میں تھی…
جی بیٹھیے کس کلر میں دکھاؤں آپ کو..
کونسا کلر پسند ہے تمہیں. ایشل نے اسکی بات پر خونخوار نظروں سے اسکی طرف دیکھا.
ایسا کریں ریڈ میں دکھا دیں یس یہ
I think its perfect for u !
زاہران ایک ڈیپ ریڈ کلر کا نفیس سا کام والا لہنگا اسلکے ساتھ لگایا.. ایشل نے حقارت سے منہ دوسری طرف پھیر لیا…..
تھوڑی دیر بعد اسکے ساتھ کی کچھ میچنگ جیولری اور کچھ اور ضروری چیزیں خرید کر وہ ایشل کو بمشکل گاڑی تک لاتا ہوا .. خود بھی گاڑی میں بیٹھ گیا.
تھوڑی دیر بعد گاڑی ایک سیلون کے سامنے روکی.
ایشل کی سائیڈ کا دروازہ کھولا لیکن وہ نہیں اتری پھر خودی بازو سے پکڑ کر کھینچ کر باہر نکالا..
سارا سامان اٹھاۓ وہ اندر کی طرف بڑھا .
بیوٹیشن کو ایشل کے متعلق ہر چیز سے آگاہ کر کے وہاں سے نکل گیا ..
خود گاڑی میں ہی اسکا انتظار کرنے لگا…اسکی حالت کے پیش نظر اسے وہاں اکیلا چھوڑ کر کوئ رسک نہیں لینا چاہتا تھا…
تقریبا ایک گھنٹے بعد وہ تیار ہو کر اپنے بھاری بھرکم لہنگے کو سنھالتے ہوۓ باہر نکلی…تو زاہرام اسے دیکھتے ہی دنگ رہ گیا….وہ اس وقت بلا کی حسین لگ رہی تھی..
زاہران جلدی سے گاڑی سے اترا…
اور اسے سہارا دے کر گاڑی میں.بیٹھا…
وہ بیٹھتے ہی بیزاری سے اپنا رخ دوسری جانب موڑ گئ..جبکہ زاہران کی نظریں بار بار بھٹک بھٹک کر اسی کی طرف جا رہی تھیں.
تھوڑی دیر بعد وہ اپنے فلیٹ پر پہنچ چکے تھے…
ایشل کو لے کر وہ اپنی کمرے کی طرف بڑھا..
احد اسکا کمرہ بھی گلاب کے فریش پھولوں سے خوبصورتی سے سجا چکا تھا…اندر قدم رکھتے ہی زہران کو خوشگوار حیرت کا احساس ہوا ..اسے سب کے بارے میں نہیں پتہ تھا..نہ ہی اسنے احس سے ایسا کچھ کر نے کو کہا تھا یہ سب اس نے اپنی طرف سے ہی کیا…تھا..
زاہران ایشل کو کمرے میں بٹھا کر باہر آگیا…
تھوڑی دیر بعد احد مولوی صاحب اور گواہان کے ساتھ پہنچ چکاتھا…
اسکے ہاتھ میں ایک باکس تھا..جسے خوبصورتی سے پیک کیا گیا…
جلدی میں تیرے لیے بس اتنا ہی کر پایا.ہوں
قبول کیجیو..
احد اس کی طرف دیکھتے ہوۓ معصومیت سے بولا…
یہ نہ بھی لاتا تو بھی خیر تھی…تو نے پہلے ہی میرے لیے جو کچھ کیا ہے میں تو اسکا ہی احسان مند رہوں گا تیرا ساری زندگی…
زاہران مسکراتے ہوۓ اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولا…
تھوڑی دیر بعد نکاح کی تمام کاروائ مکمل کی گئ..
ایشل سے بھی اسنے کمرے میں جا کر جیسے تیسے سائن کر وا ہی لیے تھے..
نکاح ہوتے ہی سب لو گ واپس چلے گے..آحد بھی کچھ دیر اسکے پاس ہی بیٹھا رہا…..پھر ہلکی پھلکی گپ شپ کے بعد وہ بھی اٹھ گیا..
چل اب میں چلتا ہوں.یونی کا کچھ کام ہے ایک دو پروجیکٹس پینڈنگ پڑے ہیں…تو بھی ریسٹ کر اب کل ملتے ہیں پھر..
اللہ حافظ.
اسے گلاتے ہوۓ باہر نکل گیا..
زاہران دروازہ لاک کر کےاپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا.
وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا ..اسکی دلہن سجے سنورے روپ میں گھونگھٹ اوڑھے اسکا انتظار کرنے کی بجاۓ نشے میں پوری طرح دھت بیڈ پر آرے ترچھے انداز میں پڑی ہوئ تھی..
.ڈیپ ریڈ کلر کا بھاری بھرکم ڈیزائنر لہنگا آدھا بیڈ کے اوپر اور آدھا ڈھلک کر نیچے گرا ہوا تھا….آریان قدم قدم چلتا اسکے قریب آیا..اس چھوٹی سی لڑکی پر دلہن بن کتنا روپ آیا تھا آریان کا اس پر سے نظریں ہٹانا مشکل ہوگیا. دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا..
جب نظر اسکے پاس پڑے شیشے کی بوتل اور انجکشن پر پڑی.وہ لب بھینج کر رہ گیا.. جلدی سے سب کچھ اٹھا کر باہر پھینکا…
..پھر اسکو سیدھا کر کے بیڈ پرلٹایا اور کمفرٹر اوڑھا دیا .کیونکہ وہ جانتا تھا وہ اب سب تک ہی ہوش میں آۓ گی… اسکے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گیا….