92 Ninety Two By Maira Hani NovelM80064 92 Ninety Two (Episode - 20)
92 Ninety Two (Episode - 20)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
92 Ninety Two By Maira Hani
روک دو بس یہیں…
شارام کے اشارے پر سمیر نے گاڑی آریان کے فلیٹ سے تھوڑا پیچھے کر کے روک کر ایک سائیڈ پر لگا دی…..
آریان گاڑی سے اترا پھر مشال کی طرف کا دروازہ کھول کر اسے ہاتھ پکڑ کر باہر نکالا مشال چلتی ہوئ گھر کے اندر چلی گئ جبکہ آریان بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوۓ…
گاڑی کی چابیاں گیٹ کے پاس کھڑے گارڈ کی طرف بڑھادیں وہ آریان کی گاڑی سے سامان نکال کر اسے اندر لے گیا.. اور گیٹ بند کیا..
شارام کچھ پل ساری کاروائ ہوتے دیکھتا رہا..
ہمم ٹھیک ہے اب چلو ..سمیر جو کب سے اسکی حرکتیں نوٹ کر رہا تھا اب اکتا چکا تھا..
کوئ فائدہ ہے یہاں آنے کا؟؟
جانتے ہو وہ اسکی بیوی ہے کوئ ایسی ویسی حرکت کی تو نتیجہ بہت برا بھی ہو سکتا ہے اور تمہیں کوئ کمی ہے لڑکیوں کی؟
میری مانو چھوڑ دو اس لڑکی کی جان ایسے ہی پرابلمز نہ بناؤ اپنے لیے. پہلے ہی تمہارے اتنے اتنے دن گھر سے غائب رہنے کی وجہ سے تیرے ڈیڈ میری دھلائ کر دیتے ہیں اچھی خاصی آئیندہ انہیں نہ بتایا کر کے تو میرے ساتھ فالتو کی ڈانٹ سنو اور ادھر تیرے ششکے ہی ختم نہیں ہوتے… سمیر اس پربرہم ہوتا ہوا بولا..
جس کا شارام پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا… ہوتا بھی کیسے وہ تو ازلی ڈھیٹ انسان تھا . اپنی ذات کے فائدہ کےبارے میں ہی سوچتا ہر وقت اور صرف وہی کام کرتا جس سے اسے نفع ہو..
چلو اب واپس چلتے ہیں… باۓ دا وے تھینکس یہاں تک لانے کے لیے…… موبائل کی سکرین پر تیزی سے انگلیاں چلاتے ہوۓ اس کی کسی بھی بات کا اثر لیے بنا مصروف سے انداز میں بولا..
جس پر سمیر مزید تپ گیا.. لیکن. کچھ بھی بولے بغیر خاموشی سے گاڑی بیک کر نا شروع کر دی …
وہ تینوں اس وقت آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے سے نظریں چڑا رہے تھے ..اے ڈی اپنی مخصوص سربراہی کرسی پر بیٹھے اپنے دونوں ہاتھ کرسی کی دونوں اطراف پر جماۓ نظریں اپنے سامنے بیٹھے بحرام پر مرکوز کیے ہوۓ تھا..
آریان بھی بحرام سے تھوڑے فاصلے پر کرسی پر سر جھکاۓ بیٹھا تھا…ان تینوں کے درمیان ایک لمبا سا لکڑی کا گول میز تھا….وہ تینوں اس وقت بنگلہ 92 کے سینٹرل روم میں موجود تھے ..جہاں کسی بھی کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے سب کو. اکھٹا کیا جاتا تھا….آج اس کٹہرے میں baais
جسے اس نے پچھلے دس سالوں سے اپنے چھوٹے بھائ کی طرح شفقت اور محبت سے سنبھالا تھا اور اسکا خیال رکھا تھا… اسکے سر پر ہاتھ رکھ اسکو سہارا دیا تھا…
پھر اسی نے اس کی عزت کو پامال کرنے کی کوشش کی اے ڈی کی آنکھوں میں غصہ نہیں تھا آج بلکہ تکلیف اور کرب کے تاثرات اسکے چہرے سے صاف عیاں تھے. …….آریان کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہ تھی….وہ بھی بے بس سا ایک طرف بیٹھا اپنے ہاتھوں کی انگلیاں مسل رہا تھا….
کیا میں نے آج تک تم دونوں کو کسی چیز کی کمی محسوس ہونے دی ہے؟ اے ڈی ایک دم سے سیدھا ہوتے ہوۓ ان دونوں کی جانب دیکھتے ہوۓ بولا.. دونوں نے جھٹ سے نفی میں سر ہلایا… بحرام کا شرم کے مارے سر اوپر نہیں اٹھ رہا تھا… وہ اس دن سے پچھتاوے کی آگ میں جل رہا تھا… لیکن ان پچھتاوے کا کیا فائدہ اب..اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خود کو ختم کر لیتا..
اے ڈی نے اپنی میز پر.پھینکی اور رعب دار آواز میں بولا
کیوں کیا تم نے ایسا بحرام ؟کیا بگاڑا تھا میں نے تمہارا؟کیوں تم نے مجھ سے میری روح کھینچنے کی کوشش کی ؟؟؟؟
کیوں ؟؟؟.جانتے ہو وہ کتنی اہم ہے میرے لیے؟؟؟
اے ڈی ایک دم غصے سے دھاڑا .. اسکی دھاڑ سے وہ دونوں ڈر گۓ… بحرام کا سر شر مندگی سے مزید جھک گیا……
کیوں مسٹر بحرام بیڈلے ؟؟
جانتے ہو کتنی محبت ہے مجھے اس سے …..
اے ڈی کی آنکھوں میں سرخی آئ..
اس وقت وہ جس شدید کرب سے گزر رہا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا….غصے سے اسکی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں گویا ان میں خون اتر آیا ہو….
جانتے ہو مجھ اس سے کتنی محبت ہے ؟
وہ کانپتے ہوۓ جسم کے ساتھ آہستہ آہستہ اپنی کرسی سے اٹھا اور لڑکھڑاتے ہوۓ قدموں کے ساتھ چلتا ہوا بحرام کے قریب آیا.. اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ کر بحرام بھی جلدی سے اٹھ کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا…
وہ میری روح میں بستی ہے baais اگر اسے کچھ ہو جاتا تو
اگر اسے کچھ ہو جاتا تو… جانتے ہو کیا ہوتا اے ڈی خان کے ساتھ ؟
بحرام نفی میں سر ہلاتے ہوۓ تکلیف سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا. .
مرجاتا اے ڈی خان!!!
تمہارا قصور نہیں ہے بحرام بیڈلے .اے ڈی نے آج تک جس جس چیز سے بھی محبت کی ہے اسے کھودیا ہے….جس لڑکی سے مجھے محبت ہوئ اسی کی عزت اپنے ہاتھوں سے خراب کی میں نے پہلے اور پھر.:,,,,,, اے ڈی میز سے گن اٹھا کر اسکا ریوالور آن کرتے ہوۓ … بولا.. اور پھر میں نے اس سے نکاح کر لیا جانتے ہو کیوں ؟میں اس سے پہلے بھی تو نکاح کر سکتا تھا نہ؟؟ لیکن میں نے ایسا نہیں کیا جانتے ہو کیوں؟
کیونکہ یہ محبت مجھے راس ہی نہیں آتی بحرام .پہلے ماما پاپا پھر آئینہ پھر شاہ نور جسے تم نے مجھ سے دور کرنے. کوشش کی اے ڈی گن اسکے سینے پر رکھتے ہوۓ بولا ….آریان جلدی سے اسکی طرف بڑھا..
لیکن تمہارا قصور اتنا نہیں ہے بحرام جتنا بڑا جرم میرا ہے..مجھے اس سے محبت تھی میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے پہلے اسکی عزت لوٹی اور پھر ؟ پھر اسے زبردستی نکاح کر لیا؟؟ایک دم سے گن کا رخ اپنی طر ف موڑ کر کانپتے ہاتھوں سے گن چلادئ….گولی کی زور دار آواز کمرے میں گونجی…
میں تو سب سے پہلے خود کا مجرم ہوں… دھیرے سے اے ڈی کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر زمین پر گر پڑی..
آریان اور بحرام آنکھے پھاڑے سامنے کا منظر دیکھنے لگے…..آریان بھاگتا ہوا اے ڈی کے قریب آیا…….
بحرام اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہا……
ما م….ڈیڈ….!!…آئینہ….آہ …
شاہ نور……..!!!!!آہ…اے ڈی خان تجھے کبھی محبت راس نہ آئ ………..
خون میں لت پت پڑا اے ڈی خان سرد آنکھوں سے اوپر چھت کی طرف دیکھ رہا تھا…..
آریان کی چیخیں بلند ہوئ تو بحرام بھی واپس اپنے ہوش میں آیا اور اے ڈی کی طرف بھاگتے ہوۓ بڑھا ..
گولی چونکے بازو پر لگی تھی اس لیے پورا بازو خون سے لت پت ہو چکا تھا.. بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ بےخوش ہوگیا ..آریان چیختا ہوا کمرے سے باہر نکلا… سب گارڈز اور سادے ملازمین بھاگتے ہوۓ اسکے پاس آۓ.. اسکی چیخوں سے پورا 92 بنگلہ دہل کر رہ گیا تھا….. اندر کمرے میں ایل ڈی پر کوئ مووی دیکھتی شاہ نور کے ہاتھ سے رمورٹ گر پڑ ا… اسنے لرز کر اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا .. ننگے پاؤں بغیر دوپٹے کے باہر بھاگی ….
سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی آنکھوں کے گرد اندھیرا چھاگیا ..یوں لگا جیسے کسی نے روح کھینچ لی ہو اسکے جسم سے .آریان اود بحرام مل کر خون سے لت پت نیم مردہ حالت میں اے ڈی خان کو اٹھا کر باہر کی طرف جارہے تھے…انکے پیچھے پیچھے گارڈز کی ایک فوج تھی…یہاں یوں سمجھ لیں بنگلے کے تمام گارڈز ہی اس وقت ان کے پیچھے پیچھے بھاگ رہے تھے .
شاہ نور کو تو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آرہا ہو…
جیسے وہ یہ کسی فلم کا منظر دیکھ رہی ہو…..
وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھے زمین کے ساتھ ہی فرش پر بیٹھتی چلی گئ…..
ایک ملازمہ اسکی طرف بڑھی اور اسے ہلا کی اٹھا نا چاہا لیکن.. وہ ساکت سی ایک ہی جگہ پر بیٹھی رہی…..
ملازمہ نے ہاتھ بڑھا کر اسکی نبض چیک جو کافی مدھم ہو چکی تھی…. اسکا جسم ٹھنڈا پڑ رہا تھا..
ہوش میں آئیں ..میڈم آپکی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ…لیکن اسی لمحے شاہ نور کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا اور وہ بند ہو گئیں…..
ملازمہ نے کچن میں کام کرتی دوسری ملازمہ کو جلدی سے آواز دی دونوں اسے اٹھا کر مشکل سے اندر کمرے میں لائیں اور بیڈ پر لٹا دیا ..
اے ڈی کو سٹریچر پر ڈالے آریان اور بحرام اور ساتھ اسکے گارڈز اور ڈاکٹر کی ایک فوج ساتھ ساتھ بھاگ رہے تھے…..
چند ہی منٹ میں میڈیا کے لوگ بھی پہنچ گۓ وہاں.. لوگوں کا ایک جم غفیر لگ چکا تھا.. اے ڈی خان نے خود کو گولی مار لی یہ خبر ہر طرف گردش
کر رہی تھی…
آپریشن تھیٹر کا دروازہ بند ہوا تو ڈاکٹر کے علاوہ سب لوگ باہر رہ گۓ. آریان کے چہرے پر پسینے کی بوندیں صاف واضح تھیں.. جسے وہ بار بار صاف کرتا. لیکن پھر نمودار ہو جاتیں….بحرام کی حالت اس سے بھی بد تر تھی جو سزا اسے ملنی چاہیے تھی وہی سزا اے ڈی نے خود کو دے دی دکھ پچھتاواا. احساس ندامت تکلیف کرب کے آثار کیا کچھ نہیں تھا اسکے چہرے پر ..
اسنے تکلیف سے آنکھیں میچ لیں…
اور ادھر ہی پڑے لکڑی کے بینچ پر ڈھے سا گیا…
آریان نے سرد نظروں سے اسکی طرف دیکھا اور پھر اپنا رخ موڑ لیا…
آریان کی آنکھ کھلی… تو فریش ہو کر سیدھا کچن کی طرف بڑھا…
آج خلاف معمول ایشل وہاں نہیں.. ورنہ روز اس کے اٹھنے سے پہلے ہی کچھ نہ کچھ الٹا سیدھا اسکے ناشتے کے لیے بنا چکی ہوتی……. اسے کھانا وغیرہ بنانا تو نہیں آتا تھا.. لیکن وہ یوٹیوب سے مختلف تراکیب دیکھ کر ان کو فالو کرتی جن میں سے کچھ میں وہ کامیاب ہو جاتی اور کسی میں بس چیزیں ہی ضائع کرتی…..
ایشل کو ادھر آۓ ایک ماہ ہوچکا تھا…
ان ایک ماہ میں اس میں اور ایشل میں اچھی خاصی دوستی ہو چکی تھی……
زاہران میں ایک خاص تبدیلی جو ایشل کے آنے سے آئ تھی وہ یہ تھی کے وہ مینٹیلی طور پر کافی حد تک سٹیبل ہو چکا تھا… جب بھی وہ اکیلا بیٹھتا….ایشل اسکے سر پہنچ جاتی اور اپنی الٹی سیدھی باتوں سے اسکا دماغ گھوما دیتی جس سے زاہران کو یہی بھول جاتا کہ وہ کیا سوچ رہا تھا….
ایشل کو پڑھانے کی ذمہ داری بھی زاہران نے خود ہی لی تھی…
اسے وہ خودی پڑھاتا تھا…. وہ کافی ذہین تھی اس بات کا اندازہ زاہران بہت پہلے ہی لگا چکا تھا…..
جب کچن میں ایشل نظر نہ آئ…تو اسنے اپنا رخ ایشل کے کمرے کی طرف کیا………
کمرے کا دروازہ نوک کیا… اندر سے کوئ آواز نہیں آئ……..
ایشل دروزاہ کھولو ایشل ….
لیکن کوئ جواب نہیں آیا..
ایشل تم سن رہی ہو دروازہ کھولو ایشل یار کیا کر رہی ہو.. لیٹ ہورہا ہوں میں ناشتہ کون بناۓ گا……
کافی دیر انتظار کرنے کے بعد بھی جب اندر سے کوئ جواب نہیں آیا… تو زہران نے ایک جھٹکے سے دروازے کو دھکا دیا…. جو اب کھل چکا تھا.. سامنے کا منظر دیکھ کر اسکا دماغ گھوم گیا.. کمرے کا سارا دماغ بکھڑا پڑا تھا……
بیڈ کی چادر تک نیچے زمین پر پڑی تھی…..
اسکی نظر ایشل پر پڑی جو ہر چیز سے بے خبر بے ہوشی کی حالت میں سو رہی تھی.
وہ اتنی دیر تک تو کبھی نہیں سوتی تھی..
زاہران کو کچھ تشویش ہوئ…..
اسنے آگے بڑھ کر ایشل کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تبھی اس کا ہاتھ کسی چیز سے ٹکڑایا…..
.
اسنے پاس پڑے تکیہ ہٹایا جس کے نیچے سے ایک انجکسن کی کی سرینج اور ایک شیشے کی بوتل ملی…جو کسی سفوف سے بھری ہوئ تھی .
اگلے ہی لمحے زاہران کے جسم میں جیسے ایک کرنٹ سا دور گیا ہو….
ایشل اٹھو
کیا کیا ہے تم نے ؟؟
اسنے آگے بڑھ کر ددھیا رنگ کی شفاف سی نازک کلائ پکڑی اسے سیدھا کیا.. انجکشن کے جابجا نشانات تھے….
زاہران نے ایک نظر اسکے معصوم سے چہرے پر ڈالی. … جہاں دنیا جہاں کا سکون نظر آرہا تھا اس وقت لیکن یہ سکون اسنے نشے کا استعمال کر کے حاصل کیا تھا..
زاہران نے تکلیف سے اسکی طرف دیکھا….. وقت اور حالات کی سختیوں نے اس معصوم سی کلی کو کچل کی کر رکھ دیا.تھا…اسکے ذہن کے سامنے ایشل کی شرارتیں اور الٹی سیدھی حرکتیں گردش کرنے لگ گئیں……
اسنے ایشل کو اٹھا کر بیڈ پر سیدھا کر کے لٹا دیا…اور اس پر کمفٹر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گیا.. وہ جانتا تھا اب جب تک نشے کا اثر کچھ کم نہیں ہوتا وہ ہوش میں نہیں آۓ گی…..
لیکن یہ نشہ آور اشیاء اس تک پہنچی کیسے اسکا دماغ یہ سوچنے سے قاصر تھا کیونکہ وہ تو سارا دن گھر سے بھی نہیں نکلتی تھی…. زاہران کمرے کا دروازہ بند کرتا اپنی کنپٹیاں مسلتا لاؤنج میں ہی صوفے پر بیٹھ گیا….
شاہ نور کے چہرے پر پانی کے چھینٹے پرے تو وہ ایک دم سے ہر بڑا کر اٹھ بیٹھی ….
ملازمہ بوتل میں سے پانی اپنی ہتھیلی پر ڈال کر اسکے چہرے پر چھڑکتے ہوۓ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی….
شاہ نور ہر بڑا کر اٹھ بیٹھی سامنے دو ملازمہ اسکے دائیں بائیں کھڑی تھیں….
سامنے آریان کھڑا اسکی طرف ہی دیکھ رہا تھا…ت.تم…
اب کیسی طبیعت ہے آپ کی بھابھی ؟؟
آریان فکر مندی سے بولا..
وہ کیا .ہوا … اسے… وہ.. ٹھیک..تو ہیں نہ … شاہ نور اپنی بھوکھلاہٹ پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ بولی….اسکا دل کسی انجانے خوف کے تحت کسی اور ہی لہہ پر دھڑک رہا تھا…
جی اے ڈی سر اب ٹھیک ہیں……ڈاکٹر نے آپریشن کرکے گولی نکال دی ہے….اب خطرے سے باہر ہیں.. آپ کو یاد کر رہیں کافی اگر آپ کی طبیعت بہتر ہو تو میرے ساتھ ہسپتال چلیں گی؟؟
اور شاہ نور کو لگا اسے جیسے نئ زندگی مل گئ…
دن کا تقریبا ایک بج رہا تھا…جب ایشل دروازہ کھول کر لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ اپنے کمرے سے باہر نکلی…..
زاہران کچن میں ہی دوپہر کے کھانے کی تیاری کر رہا تھا… جب نظر باہر رکھی فریج میں سے کچھ ٹٹولتی ایشل پر پڑی… وہ جلدی سے باہر آیا… اور جگ سے پانی ڈال کر گلاس اسکی طرف بڑھایا ..
ایشل نے تشکر بھرے تاثرات سے اسکی طرف دیکھا…..
اور پانی کا گلاس جھٹ سے اپنے خشک ہوتے لبوں سے لگا کر گٹا گٹ پی گئ.. کانپتے ہاتھوں سے گلاس واپس کیا اور پھر ادھر ہی صوفے پر ڈھے سی گئ. ..
زاہران نے دکھ سے اسکی طرف دیکھا . الجھے بکھڑے ہوۓ بال. .
سوکھے لب ..آنکھوں. کے نیچے سیاہ ہلکے ..
پچھلے دو تین دن میں وہ کتنا بدل گئ تھی .دو
دن پہلے اسے لیزا کی موت کی خبر ملی تھی ..
جسے اس نے اندر تک توڑ کر رکھ دیا..تھا… پاشا نے لیزا کی بازیابی کے بدلے ایشل کو مانگا.تھا…
اپنی جان سے عزیز دوست کو موت کےمنہ میں جاتا نہیں دیکھ سکتی تھی .. لہزا وہ جانے کے لیے تیار ہوگئ…..
زاہران اپنی طرف سے اپنے تمام ذرائع استعمال کر کے لیزا کی بازیابی کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہا تھا… وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایشل کسی توڑ بھی اس شیطان صفت گھٹیا انسان کے ہاتھ لگے…..
لیکن ایشل اپنی ضد پر اڑی رہی وہ جانتی تھی اگر وہ نہ گئ تو وہ درندہ صفت شخص اسکی جان لینے میں ایک پل بھی نہیں لگاۓ…لحاظہ اسنے جانے کا فیصلہ کر لیا..
لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا……
جس دن ایشل نے پاشا کے پاس جانا تھا اسی رات لیزا موقع پاکر وہاں سے بھاگ نکلی وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایشل پاشا کی حوس کا نشانہ بن کر اپنی پوری زندگی برباد کر ڈالے…
لیکن بدقسمتی سے وہ پاشا کے کچھ آدمیوں کی نظر میں آگئ…
جنہوں نے دور تک اسکا پیچھا کیا….
لیکن ایک اکیلی بیچاری لڑکی کہاں تک بھاگ سکتی تھی.. پاشا کے آدمیوں نے اسے پکڑتے ہی اس پڑ گولیوں کی بوچھاڑ کر دہی….
اور اسکی جان سے پیاری دوست موقع پر ہی دم توڑ گئ….
وہ وقت ایشل کی زندگی کا سب سے کٹھن وقت تھا…جب لیزا کے ہی نمبر سے اسے لیزا کی ڈیڈ باڈی کی پکس بھیجی گئیں….
ایشل تو جیسے اس دن کے بعد سے اپنے حواس کھو بیٹھی تھی..
وہ خود کو ہی ایشل کی موت کا ذمہ دار ٹھہرا رہی تھی…..
وہ جانتی تھی….اگر اس دن وہ اس ریسٹورینٹ میں جاتی ہی..نہ تو کچھ بھی نہ ہوتا….
یہ سب اسکے لیے اتنا اذیت ناک تھا کہ اسے ڈرگس کا سہارا لینا پڑا ..ایک یہی واحد حل تھا.. اسکے پاس جس کے بعد وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو کر سکون سے نیند کی وادیوں میں اتر جاتی تھی…..
کچھ کھاؤگی ؟؟
زاہران اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ بولا؟.
نہیں مجھے بھوک نہیں ..
کیوں؟
کل رات سے تم نے کچھ نہیں کھایا اور ان بھی بھوک نہیں ہے؟
ایشل بغیر کوئ جواب دیے خاموشی سے چہرہ دوسری طرف موڑ گئ…….
کیوں کر رہی ہو اپنے ساتھ ایسا ؟؟ہاں.کیوں اپنی جان کی دشمن بن گئ ہو.
زاہران تکلیف سے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا…
میں جو کچھ بھی اپنے ساتھ کر رہی ہوں.. اسکا تم سے کوئ لینا دینا نہیں… ہے…. تمہیں میری فکر کرنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے……
سرد مہری سے کہتے ہوۓ ..اٹھ کر واپس اپنے کمرے میں چلی گئ….
زاہران اسے کمرے تک جاتا دیکھتا رہا…وہ اسے خود کو نقصان پہنچاتے نہیں دیکھ سکتا تھا…
تبھی اس نے اپنے ذہن میں ایک فیصلہ کر لیا…..
وہ اس وقت اے ڈی کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی…
جب اے ڈی نےدوسرا ہاتھ اسکی کمر پڑ رکھا..
بس کردو شاہ نور دیکھو بلکل ٹھیک ہوں میں کچھ بھی نہیں ہوا مجھے…
تم ایسے ہی خومخواہ میں اتنے آنسو ضائع کر رہی ہو.
پتہ ہے تمہارے رونے سے مجھے کتنی تکلیف ہو رہی.ہے..کیا تم نہیں چاہتی میں جلدی ٹھیک ہو جاؤں؟؟
اے ڈی کی آخری بات پر اسنے جلدی سے سر اٹھا کر اے ڈی کی طرف دیکھا…
اور اثبات میں سر ہلادیا…
تو پھر چپ کر جاؤ پلیز…..
شاہ نور نے دوپٹے سے اپنے آنسو پونچھے اور شکایتی نظروں سے اسکی طرف دیکھا..
کیوں کیا تم نے اپنے ساتھ ایسا ہاں..کیوں؟؟
ایک پل کے لیے بھی تمہیں میرا خیال نہیں آیا….
کتنے خود غرض ہو تم..شاہ نور اسے شرٹ کے کالر سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوۓ بولی…
جس پر اے ڈی کے چہرے پر ہلکی سی مسکان آگئ.. ویسے جو بھی کیا اچھا ہی کیا.. مجھے پتہ ہوتا..اسی بہانے تم خود چل کر میرے اتنے قریب آجاؤگی.تو میں کب کا خود کو گولی مار چکا ہوتا…
اے ڈی شاہ نور کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا..
جو اسکی شرٹ کا کالر جھنجھورنے کے لیے اس پر جھکی ہوئ تھی…..
جلدی سے پیچھے ہوکر بیٹھی اور خون خوار نظروں سے اے ڈی کی طرف دیکھنے لگی..
جس پر اے ڈی کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئ.. اور واپس کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا..
زاہران کسی ضروری کام سے باہر گیا تھا… جب واپس آیا تو اسے ایشل کہیں نظر نہیں آئ. پورا فلیٹ چیک کرنے کے بعد بھی جب اسکا کچھ پتہ نہ چلا.. تو اسکو کال کرنے لگا.. تھوڑی دیر بعد سامنے میز پر سے موبائل کی رنگ ٹون بجنے کی آواز آئ.
اسکا سیل فون سامنے میز پر پڑ اہوا تھا…….
افف کہاں چلی گئ یہ پاگل لڑکی.. اور موبائل بھی ادھر ہی پڑا ہو ا ہے..
کہیں کچھ کر ہی نہ لے اپنے ساتھ… دل میں عجیب قسم مے وسوسے آرہےتھے.. وہ کار کی چابیاں اٹھاتے ہوۓ.. جلدی سے فلیٹ لاک کر کے باہر نکلا..
تھوڑی ہی دیر کی ڈرائیور کے بعد اسے سڑک کے کنارے ایشل چلتی ہوئ دکھائ دی…
وہ جلدی سے کار روک کر باہر نکل کر ایشل کی طرف بڑھا .
ایشل ایشل ادھر کیا کر رہی ہو..
اسے کندھے سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا.
وہ نشے میں پوری طرح دھت لڑکھڑاتے قدموں سے گرنے ہی والی تھی کے زاہران نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر اسے سہارا دے کر کھڑا کیا.. اور. اپنے ساتھ لگاۓ کار کی طرف بڑھا ..
نظر اسکے ہاتھ میں پکڑے جلتی ہوئ سگریٹ کی طرف گئ… تو دماغ کی رگیں تن گئیں…
اپنے کھولتے عصاب کے ساتھ اسکے ہاتھ سے سگریٹ لے کر زمین پر پھینک کر مسل دی.. یی..ی..یہ کیا..کر رہے..ہو…دو …مجھے…..پ.پینی…تھی…
ایشل اسے اٹھانے کے لیے واپس زمین پر بیٹھنی لگی….
جب زاہران نے جلدی سے است گودمیں اٹھا.. کر کار کا بیک ڈور کھول کر اسے پیچھے لٹادیا.. اور دروازہ اچھی طرح لاک کر دیا…
وہ اس وقت اپنے حوش میں ہی نہیں تھی.. اسکے منہ میں جو اول فول آرہا تھا بولتی جارہی تھی . زاہران تکلیف سے اسکی طرف دیکھا…پھر موبائل پر ایک نمبر ڈائل کر کے کان سے لگا لیا..
.ہیلو ہاں دو گھنٹے کے اندر اندر نکاح کے سب انتظامات کر والو….
تقریبا آٹھ بجے میں ایشل کو لے کر آجاؤں گا…. سب تیاریاں مکمل ہونی چاہیں.. دوسری جانب موجود شخص بھی شاید اس کے اسی حکم کا منتظر تھا جلدی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ ……اسے سب کچھ ہینڈل کر لینے کی یقین دہانی کر وائ..
دو چار اور ضروری باتوں کے بعد زاہران نے کال کاٹ دی..
بس ایشل اب میں تمہیں خود کومزید نقصان پہنچتے نہیں دیکھ سکتا……
میں تمہیں اپنی زندگی میں شامل کر کے تمہارے سارے دکھ ختم نہ سہی لیکن کم ضرور کر سکتا ہوں….میں تمہیں ہر وہ خوشی دو نگا جس سے آج تک تم محروم رہی ہو.. تمہارے ساتھ ایک سچے
پاک اور مضبوط رشتے میں بندھ کر تمہارا. محافظ بنوگا.. تمہیں کبھی بھی کوئ آنچ نہیں آنے دونگا…دل میں تہییہ کرتے ہوۓ..
ایک نظر اس کے نشے میں دھت وجود پر ڈالتے ہوۓ… کار سٹارٹ کرتے ہوۓ آگے بڑھ گیا.