Hawas by Urwa Fatima NovelM80058 Hawas (Episode 10)
Hawas (Episode 10)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Hawas by Urwa Fatima
جی؟؟ نمرہ کے رشتے کے لئے ، فرحت نے جانچتی نظروں سے سامنے بیٹھی خاتون کو دیکھا
آپ کی چھوٹی بیٹی کا نام نمرہ ہی ہے نا، شاہ میر نے تو یہی نام بتایا تھا مجھے ، خاتون گویا ہوئیں
جی جی نمرہ ہی ہے،
نائلہ چاۓ لے کہ آؤ بیٹا آنٹی کے لیے اور کباب بھی تل لینا، فرحت کچن میں نائلہ کو سمجھانے کے لیے آئیں
امی کون ہیں یہ اور یہاں کیوں آئی ہیں، نائلہ نے پوچھا
بلال کی پھوپھی کی نند ہیں ، نمرہ کے رشتے کے لیے آئی ہیں، فرحت نے دبی دبی آواز میں خوشی سے بتایا
نمرہ کے رشتے کے لیے، نائلہ نے اچھل کر کہا
اتنا حیران کیوں ہو رہی ہو کوئی انوکھی بات تو نہیں کی ،،
لیکن امی نمرہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے،
کوئی چھوٹی نہیں ہے کالج جانے لگ گئی ہے اور میں کونسا ابھی بیاہنے لگی ہوں اسکو،
اتنے بڑے گھر سے رشتہ آیا ہے، فرحت نے لالچ سے کہا اور واپس ڈرائنگ روم ميں آگئیں
ارے بہن آپ نے نام تو بتایا نہیں اپنا، فرحت نے خاتون سے پوچھا
نگینہ نام نے میرا، خاتون نے گردن اکڑا کر کہا
آپ نے نمرہ کو نائلہ کی منگنی میں پسند کیا ہو گا، فرحت نے بات بڑھانے کی خاطر پوچھا
میں نے نہیں میرے بیٹے نے، مجھے تو یہ بھی نہیں پتا کہ میں کس کا رشتہ لینے آئی ہوں، بس شاہ میر نے کہا اور مجھے آنا پڑا،، نگینہ نے بے پرواہی سے کہا
فرحت شرمندہ سی ہوئیں
۔۔
۔۔
تم یہاں ایسے کیوں کھڑی ہو جیسے جن بھوت دیکھ لیا ہو، نائلہ ٹی سیٹ لینے کے لیے کمرے میں جانے لگی تو نمرہ کو دروازے میں گم سم سا کھڑے پایا
نمرہ، کیا ہوا ہے، نمرہ کے کوئی جواب نا دینے پر نائلہ نے دوبارہ پوچھا
ہاں ، کچھ نہیں ہوا، نمرہ نے ہونٹوں پہ زبان پھیرتے ہوۓ کہا
فرحت نے نمرہ اور نائلہ کی آواز سن کر پیچھے مڑ کر دیکھا
نمرہ یہاں آو بیٹا، فرحت نے نمرہ کو آواز دی
نمرہ رف سے حلیے میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی
اسلام و علیکم !
وعلیکم السلام ، آپ نمرہ ہو؟ نگینہ نے نمرہ کو سر سے پاؤں تک دیکھا
جج جی میں ہوں نمرہ،،
ایسی کوئی خوبصورت تو نہیں ہو، لیکن کیا کر سکتی ہوں میں شاہ میر کی پسند ہو، خیر یہ میرا کارڈ ہے اس نمبر پہ فون کر کے بتا دیجیے گا جو بھی آپ کا جواب ہو کیونکہ میں دوبارہ ان تنگ اور گندی گلیوں میں نہیں آنا چاہتی، نگینہ نے بیگ سے کارڈ نکال کر ٹیبل پر رکھا اور تکبر سے چور لہجے میں تمام باتیں کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں
نگینہ کے جاتے ہی نمرہ نائلہ نے ایک ساتھ فرحت کی طرف دیکھا
ایسے کیا دیکھ رہی ہو دونوں مجھے ،،
امی یہ کیا بکواس کر کے گئیں ہیں ہم نے کہا ہے کیا ان کو کے اپنے رائیس زادے کا رشتہ لے کے آئیں
لعنت ہو متکبر عورت، نائلہ نے غصے میں بولنا شروع کر دیا
خاموش ہو جاؤ نائلہ اور خبردار جو اپنے باپ کو یہ پٹیاں پڑھائیں تو ایسا تو کچھ نہیں کہا نگینہ نے
بیٹوں کی مائیں ایسی ہی ہوتیں ہیں اور بیٹا بھی امیر کبیر، فرحت نے نائلہ کو جھاڑ دیا
امی بلال کی امی تو ایسی نہیں ہیں وہ بھی تو بیٹے کی ماں ہیں،
نائلہ بلال فیکٹریوں والا بھی نہیں ہے، فرحت نے طنز کیا
نمرہ برتن اٹھاواو خامخواہ خوامخواہ اتنی محنت کی،نائلہ نے غصے سے برتن سمیٹنا شروع کر دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روہان اوۓ رک جا یار،
روہان لائبریری جا رہا تھا کے پیچھے سے ارحم کی آواز آئی
ہاں بول، روہان نے بغیر مڑے جواب دیا
توبہ ہے رک تو جا کب سے تیرے پیچھے بھاگ رہا ہوں، ارحم نے جھک کر گھٹنوں پہ دونوں ہاتھ رکھے
رک گیا ہوں نا بول بھی دو میں نے لائبریری جانا ہے،،۔
یہاں نہیں باہر چلو سیریس بات ہے،
اور اگر سیریس بات نا ہوئی تو تیرا سر پھاڑ دینا ہے میں نے، پڑھنے بھی نہیں دیتا، روہان نے گراؤنڈ کا رخ کیا
وہ وہاں فٹ بال گراؤنڈ چلو وہاں کوئی نہیں ہو گا، ارحم نے ہاتھ کے اشارے سے جگہ بتائی
۔۔
۔۔
ہاں ارحم بول کیا بات ہے،۔
روہان دیکھ مجھے غلط نہیں سمجھنا اور اگر بات بری بھی لگے تو مارنا نہیں یار،،
کیا بکواس کر رہا ہے ارحم سیدھی طرح بول ورنہ مار کھاۓ گا،،
میں نمرہ کو پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں، ارحم نے آنکھیں بند کر کے کہا
روہان بلکل خاموش رہا
ارحم نے ایک آنکھ کھول کے روہان کو دیکھا جو بلکل ساکت کھڑا تھا
روہان میں نے امی سے بھی کہا تھا کہ ماموں سے بات کریں میرے اور نمرہ کے رشتے کی لیکن امی نے ہمیشہ ٹال دیا
نائلہ آپی کی منگنی پہ میں نے دیکھا تھا بہت سے لوگ نمرہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے مجھ سے برداشت نہیں ہوا تو میں نے امی کو دوبارہ کہا لیکن انھوں نے کہا وہ بات نہیں کریں گی جب تک دونوں کی پڑھائی مکمل نہیں ہوتی،
ہاہہہہہہہہ اسی لیے تجھ سے بات کرنے کا سوچا، احم نے لمبا سانس خارج کیا
ارحم پھوپھو کی بات بلکل سہی ہے پہلے سٹڈی تو کمپلیٹ کر لو ابھی کیریر تو بنا لو شادی بھی کر لینا یار، روہان نے سمجھانا چاہا
ہاں سب ٹھیک ہے میں ابھی شادی کا کہہ بھی نہیں رہا میں بس منگنی کا کہہ رہا ہوں تاکہ سب کو پتہ ہو کہ نمرہ میری ہے، ارحم نے سر جھکائے بات مکمل کی
اچھا ٹھیک ہے میں امی ابو سے بات کروں گا لیکن مجھے بتاؤ کیا نمرہ بھی تمہیں پسند کرتی ہے، روہان نے بے تاثر لہجے میں سوال کیا
ہاں یار مجھے لگتا ہے ایسا، ارحم نے دانتوں کی نمائش کی
اچھا چل اب لیکچر کا ٹقئم ہو گیا ہے
روہان نے ڈیپارٹمنٹ کی راہ لی تو ارحم بھی ساتھ چل پڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے کھانے سے فارغ ہو کر رضا صاحب اور فرحت لان میں جا بیٹھے
رضا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے، فرحت نے تمہید باندھی
ہاں بولو فرحت،
آج ایک خاتون آئی تھیں ہمارے گھر، کہہ رہی تھیں بلال کی پھوپھو کی نند ہوں
اچھا خیر سے آئیں تھیں نا، رضا صاحب نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوۓ پوچھا
رضا انکا ایک ہی بیٹا ہے شاہ میر
شاہ میر گروپ آف انڈسٹریز کا اکلوتا مالک،۔
اچھا ماشاء الله لیکن وہ آئیں کیوں تھیں یہ تو بتاؤ
وہ وہ نمرہ کا رشتہ لے کر آئیں تھیں اپنے بیٹے کے لیے، فرحت نے نظروں کو رضا صاحب کے چہرے پہ مرکوز رکھا
نمرہ کے رشتے کے لیے، لیکن نمرہ تو ابھی بہت چھوٹی ہے اور خیر سے نائلہ کی شادی تو ہوجائے اس میں بھی کم وقت ہی رہ گیا ہے نمرہ کا رشتہ بیچ میں کہاں سے آ گیا، رضا صاحب نے بات کو ٹالنا چاہا
رضا اچھے رشتے روز روز نہیں ملتے عقل سے کام لیں، انکو رشتوں کی کمی تھوڑی ہے یہ تو اللّٰه کا کرم ہے کہ وہ ہمارے گھر رشتہ لے کر آ گئیں اور ہم کون سا ابھی بیاہ دئیں گے نمرہ کو،
منگنی کر دیتے ہیں اور شادی سال دو رک کے کر دئیں گے، فرحت نے تفصیل بتائی
ابو میں آپ کو بتاتی ہوں وہ عورت دو من میک اپ تھوپ کے یہاں کیوں آئی تھی نائلہ جو چاۓ دینے کے کیے آئی تھی ماں کی باتیں سن کے غصے سے بولی
نائلہ تمیز سے بات کرو اور جاؤ اندر ہم ضروری بات کر رہے ہیں، فرحت نے دانت پیس کر کہا
نائلہ نے سراسر نظرانداز کر کے بولنا شروع کیا
ابو وہ عورت ہمارے گھر آئی تھی یہ بتانے کے وہ بہت امیر ہیں اور بہت ہی عالی شان گھر میں رہتی ہیں
ہمارا گھر ان کے شایانِ شان نہیں ہے اور نا ہی نمرہ کوئی خاص خوبصورت ہے جس کے لیے وہ بار بار آئیں گی کیونکہ آج بھی وہ اپنے بیٹے کے مجبور کرنے پر آئی تھیں لحاظہ ہمارا جو بھی جواب ہو انکو فون پہ بتا دیا جاۓ، نائلہ نے تمام باتیں رضا صاحب کو بتا دئیں
فرحت یہ کیا کہہ رہی ہے وہ عورت یہ سب کہہ کے گئیں ہیں اور تم پھر بھی مجھے راضی کرنے پر لگی ہو، رضا صاحب کے ماتھے پر بل پڑے
نہیں رضا اس عورت نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جتنا یہ فتنا کھڑا کر رہی ہے فرحت نے نائلہ کی طرف اشارہ کیا
امی میں فتنا کر رہی ہوں، نائلہ کو صدمہ لگا
ایک منٹ لڑنا بند کرو دونوں، رضا صاحب نے غصے سے کہا
نائلہ وہ عورت بلال کی رشتہ دار تھی نا،،
جی ابو،،
تم ایک کام کرو بلال کو کال کرو اور سب بتاؤ دیکھو وہ کیا کہتا ہے اس ورت اور اس کے بیٹے کے بارے میں، اس کے بعد ہی میں اس رشتے کے بارے مہین سوچوں گا، رضا صاحب نے بات ہی ختم کر دی
فرحت نے گھور کر نائلہ کو دیکھا اور منہ پھیر لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تو ہمارے نصیب جاگ گئے کے آپ نے ہمیں بزاتِ خود کال کی،
نائلہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی بلال کی محبت بھفی اواز اس کے کانوں میں پڑی
اسلام و علیکم کیسے ہیں آپ،
نائلہ نے تیزی سے چلتی سانسوں کو کنٹرول کرتے ہوۓ سوال کیا
میں الحمد اللہ بلکل ٹھیک اور اب تو ذیادہ ٹھیک ہو گیا ہون آپکی آواز جو سن لی ہے
بلال مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے،،۔
جی بولیں میں سن رہا ہوں،
شاہ میر کیسا انسان ہے بلال،،
شاہ میر کا نام سنتے ہی بلال نے تیوری چڑھائی
آپ کیوں پوچھ رہی ہیں نائلہ
آج اسکی امی آئیں تھیں نمرہ کے لئے رشتہ لے کر، اپنے پیسے کا بھی برابر رعب جھاڑ کے گئیں ہیں مجھے تو تب سے ہی شدید غصہ آیا ہوا ہے لیکن ابو نے کہا کے پہلے اپ سے بات کروں پھر ہی ہم کوئی فیصلہ لیں گے، نائلہ نے آج کی روداد سنائی
جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا، بلال نے اپنے طرف سے آہستہ آواز میں کہا تھا لیکن پھر بھی نائلہ سن چکی تھی
کس بات کا. ڈر بلال،،
نائلہ شاہ میر ایک گھٹیا انسان ہے جس کو عورت کی عزت کا بلکل پاس نہیں ہے
تیس سال کا ہو چکا ہے لیکن اب تک نو عمر لڑکوں کی طرح شوقین مزاج کے یا یوں کہو دل پھنک ہے،،
شاہ میر تیس سال کا ہے، نائلہ نے حیرت سے پوچھا
جی وہ تیس سال کا ہے اور پیسے کے نشے میں غرق ہو چکا ہے میں اس کو بچپن سے جانتا ہوں
اب. تک لاتعداد گرل فرینڈز ہیں اسکی اور دو بار شادی کر چکا ہے وہ الگ بات ہے کہ دونوں شادیاں ایک ماہ بھی نہیں چلیں، اس کا کام ہی کم عمر لڑکیوں کو پھنسانا ہے، بلال نے رک کر سانس لیا
یا اللّٰه اس کی ماں پھر بھی منہ اٹھا کے آگئی رشتہ لینے شرم ہی نہیں ہے ان لوگوں میں تو، یہ تمام باتیں سن کر نائلہ آگ بگولا ہو گئی
دیکھیں نائلہ آپ کو میں نے یہ سب اس لیے بتایا کیونکہ آپ ہماری فیملی کا حصہ بننے جا رہی ہیں اور آپ کی فیملی بھی میری طرح ہے اس لیے میں نے آپ کو سب سچ بتا دیا آگے آپ لوگوں کا جو فیصلہ ہو گا وہ آپ اپنی مرضی سے کریں. گے اس میں میں یا میری فیملی انوالو نہیں ہوں گے،
آپ سمجھ رہی ہیں نا میں کیا کہہ رہا ہوں ،،
جی بلال بہت شکریہ آپ کا اور میں ابو کو کہہ دوں گی کہ آپ کا نام کہیں نا آۓ
اوکے پھر بات ہوتی یے اللّٰه حافظ
اللّٰه حافظ بلال
نائلہ نے فون رکھ کر رضا صاحب اور فرحت کے کمرے کی طرف قدم بڑھا دئیے
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اندر آ جاؤں ابو، روہان نے دوازے کے باہر سے اجازت مانگی
آ جاؤ بیٹا باہر کیوں کھڑے ہو،
امی آج اتنی جلدی سو بھی گئیں، روہان نے سر تک کمبل لیے فرحت کو دیکھ کر پوچھا
ہاں پارہ چڑھا ہوا تھا آج، رضا صاحب ریک سے بک نکال کر واپس کرسی پہ بیٹھے
اچھا ابو میں آپ دونوں سے ایک ضروری بات کرنے ایا تھا خیر آپ بتا دینا بعد میں امی کو
ہاں بولو میں سن رہا ہوں، رضا صاحب نے بک ٹیبل پر رکھی اور روہان کی طرف متوجہ ہوئے
آج یونیورسٹی میں ارحم ملا تھا اس نے مجھ سے کہا کہ میں، میں آپ لوگوں سے بات کروں اس کے اور نمرہ کے رشتے کی،
اس نے تم سے کیوں کہا اپنی ماں کو کیوں نہیں بھیجا، رضاصاحب سیدھے ہو کد بیٹھے
ابو اس نے پھو پھو سے بات کی تھی انھوں نے کہا کہ سٹڈی کمپلیٹ ہونے تک وہ ایسی کوئی بات نہیں کریں گی،۔
ہاں تو بیٹا ٹھیک کہا نا تمہاری پھوپھو نے پہلے اسی قابل تو ہو جاۓ وہ، رضا صاحب نے جوابً کہا
جی ابو لیکن وہ چاہتا ہے منگنی ہو جائے شادی جب مرضی ہو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ اس کو بس یقین آ جائے کہ نمرہ کی شادی سی سے ہو گی روہان نے پوری بات بتائی
ویسے روہان اپنی نمرہ کے لیے میں نے بچپن سے ہی ادحم کا ہی سوچا ہے گھر کا بچا ہے اور دونوں ایک ساتھ کتنے اچھے لگتے ہیں نا، رضا صاحب نے دل کی بات کہی
میں ہرگز اپنی بیٹی تمہارے بھانجے کے نام نہیں کروں گی، فرحت یک دم منہ سے کمبل ہٹا کر اٹھ بیٹھیں
کیوں کیا برائی ہے ارحم میں، رضا صاحب غصے سے بولے
میں نمرہ کی شادی شاہ میر سے ہی کروں گی میں نے. فیصلہ کر لیا ہے،،
تم ہوتی کون ہو اکیلے اتنے بڑے فیصلے لینے والی، مت بھولو ابھی زندہ ہوں میں،رضا صاحب نے غصے میں تنبیہ کی
رضا بات کو سمجھیں شاہ میر کڑوروں ی جائداد کا اکیلا وارث ہے اور وہ ارحم ایک فیکٹری میں تیسرے حصے کا روادار ہے بس،
شاہ میر سے شادی کے بعد ہماری نمرہ ملکہ کی طرح حکومت کرے گی راج کرے گی،فرحت یک دم ڈھیلی پڑ گئیں
مجھے پھر بھی ارحم عزیز ہے اور تم۔۔۔
قطعہ کلامی کے لیے معذرت ابو لیکن یہ لالچ کی پٹی میں ہی اتار سکتی ہوں امی کی آنکھوں سے،رضا صاحب کے بات مکمل کرنے سے پہلے نائلہ کمرے میں داخل ہوئی
امی اب غور سے سنیے گا امید ہے شاہ میر کے پیسے کا بھوت اتر جاۓ گا
نائلہ نے بولنس شروع کیا
ابو شاہ میر اپنے ماں باپ کای اکلوتی اولاد ہے اور شاہ میر گروپ آف انڈسٹریز کا اکلوتی وارث ہے
یہ. تو وہ تعارف ہے جو اس کی ماں کروا کر گئی تھی
اس کا اصل تعارف یہ ہے کہ
شاہ میر ایک تیس سال کا پکی عمر کا مرد ہے اور اپنی دولت کے نشے میں اندھا ہے جس کو صیحح غلط اور حرام حلال میں فرق ہی نہیں پڑتا
آج تک اس کی لاتعداد گرل فرینڈز ہیں اور دو بار شادی کر چکا ہے اور دونوں کو چھواڑ چکا ہے
اس شخص کا کام ہی یہی ہے
اب بھی آپ کو ارحم سے بہترلگ رہا ہے تو جائیے شوق سے کیجیے اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے تباہ ،
نائلہ نے ساری حقیقت بتا دی
یا اللہ کیسا گھٹیا مرد ہے اور میری معصوم بچی کے پیچھے پڑ گیا ہے اللّٰه غارت کرے اس کو،فرحت نے سر پکڑ لیا
دیکھ لیا لالچ کا انجام، وہ تو شکر ہے میں تمہاری باتوں میں نہیں آ گیا
ورنہ نا جانے کیا ستم ہو جاتا میری بچی پہ، رضا صاحب نے فرحت کو گھرکا
مجھے کونسا معلوم تھا کہ قپنے خبیث لوگ ہیں ، فرحت شرمندہ ہوئیں
تمہیں کچھ بھی نہیں معلوم تھا اور پھر بھی تم ارحم پر اس آدمی کو ترجیح دے رہی تھی ، شرم کرو فرحت بیگم، ،، رضا صاحب نے بیوی کو شرم دلائی
اور نائلہ ذرا بلال کو فون ملانا میں خود تفصیل سے بات کرنا ہوں اس سے
کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ امیر زادہ کوئی ایسی ویسی حرکت نا کر بیٹھے
۔۔
۔۔
یہ لیں ابو بلال سے بات کریں
اسلام کے علیکم بیٹا جی کیسے ہیں ،
الحمدللہ بلکل ٹھیک ہوں انکل آپ سنائیں
ماشاء الله ماشاء الله
اچھا بیٹا یہ شاہ میر والی بات سے پریشان ہو گیا ہوں میں، اس معاملےکو کیسے ختم کریں کیونکہ وہ شخص جو ان کاموں کا عادی ہے ایسے تو خاموش نہیں ہو گا ، رضا صاحب پریشانی سے گویا ہوۓ
جی انکل ایسا ہی ہے وہ وارداتی آدمی ہے میری مانیں تو اگر کوئی رشتہ ہے تو نمرہ کی منگنی یا بہتر ہے نکاح کر دئیں کیونکہ انکل میں اس شخص کو بچپن سے جانتا ہوں یہ اپنی خوشی کے لیے کچھ بھی کر جاتا ہے، باقی انکل آپ جو بھی فیصلہ کریں ہمارا نام مت لیجیۓ گا اس میں، بلال نے آخر میں التجا کی
تمہارا اتنا ہی احسان ہے بیٹا تم نے حقیقت بتا دی ہمیں ورنہ ہم انجانے میں تو کوئی غلط فیصلہ ہی کر بیٹھتے، رضا صاحب مشکور سے بولے
ارے نہیں انکل نمرہ بھی تو میری بہن ہے ایسے مت کہیں ،
بہت شکریہ اوکے بیٹا خدا حافظ،
اللّٰه حافظ انکل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عابدہ تم میری چھوٹی بہن ہو مجھے بے انتہا پیار ہے تم سے اور اسی لیے میں اس پیار کو مزید بڑھانا چاہتا ہوں، اب میں جو تم سے کہنے جا رہا ہوں میرا مان رکھ لینا،،۔
بھائی جان آپ میرے لیے بہت عزت و احترام کے قابل ہیں آپ حکم کیا کریں گزارش نہ کیا کریں مجھے اچھا نہیں لگتا
عابدہ میں چاہتا ہوں کے تم ارحم سے مرہ کا نکاح کر دو،
رضا صاحب کی نظریں زمین پر مرکوز تھیں
بھائی جان یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میرا مطلب ہے ابھی سے یہ سب کیسے کر دئیں ابھی عمریں ہی کیا ہیں دونوں کی
نمرہ سولہ سترہ کی ہے اور ارحم انیس کا، نا کماتا ہے اور نا ہی سیٹل ہے
پہلے کسی قابل تو ہو جائیں دونون بچے پھر شادی بھی ہو جاۓ گی، عابدہ نے کہا
وہ سب ٹھیک ہے عابدہ لیکن میں بس نکاح کرنے کا کہہ رہا ہوں رخصتی تب کریں گے جب دونوں اس قابل ہو جائیں گے،
پھر بھی رضا بھائی اتنی جلدی کیا ہے مجھے بھی نمرہ بہت پسند ہے میں بھی اس کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہوں اور اعجاز بھی ایسا ہی چاہتے ہیں پھر اتنی ہڑبڑی میں کیوں کرنا ہے،،
عابدہ میری بیٹی سے ایک امیر زادہ شادی کرنا چاہتا ہے اور فرحت کی پوری کوشش ہے کہ نمرہ کا رشتہ وہاں کر دے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ جلد از جلد ارحم سے اسکا نکاح کر دوں تاکہ فرحت کو موقع نا ملے ایسی کوئی حرکت کرنے کا ، رضا صاحب نے بات گول مول کی
ٹھیک ہے بھائی جان آپ فون رکھیں میں اعجاز سے بات کر کے آپ کو شام تک بتاتی ہوں
چلو میں انتظار کروں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے واہ آج تو پھوپھو اپنے رانجھے کے ہمراہ آئی ہیں، روہان لاونج میں داخل ہوا تو عابدہ اور اعجاز کو بیٹھے دیکھا
روہان کی بات سن کر سب نے جاندار قہقہہ لگایا
بس بھائی بلائیں میری بیٹی کو میں اور اعجاز اسی کے لیے تو آۓ ہیں
جاؤ نائلہ بہن کو لے کر آؤ، فرحت نے نائلہ کو کہا
کچھ دیر بعد نائلہ نمرہ کو ساتھ لیے لاونج میں داخل ہوئی
ادھر میرے پاس آ کر بیٹھو نمرہ، عابدہ نے اپنے ساتھ جگہ بنا کر نمرہ کو بٹھایا
ہاتھ دو نمرہ، نمرہ نے ہاتھ آگے کیو اور عابدہ نے ایک سونے کی خوبصورت سی انگوٹھی اس کی انگلی میں پہنا دی،
آج سے یہ میری بیٹی ہے بھائی صاحب،
اعجاز نے بھی نمرہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر پانچ ہزار کا نوٹ دیا، جیتی رہو بیٹا جی
نمرہ نے مسکرا کر شکریہ ادا کیا
۔۔
۔۔
بھائی میں نے اور اعجاز نے سوچا ہے اس اتوار کو ارحم اور نمرہ کا نکاح کر لیتے ہیں بس چند قریبی لوگوں کو مدعو کریں گے اور گھر میں ہی سب ارینج کر لیتے ہیں، عابدہ نے کھانے کی ٹیبل پہ سب کے سامنے بات شروع کی
نمرہ کا سر مزید پلیٹ پر جھک گیا
جیسے تم لوگوں کو آسانی ہو عابدہ
بس پھر ٹھیک ہے بھابھی کل سے ہی شوپنگ شروع کرتے ہیں ، عابدہ نے خوشی سے کہا
عابدہ نکاح اگر نائلہ کی شادی کے ساتھ ہی کر لیتے تو اچھا تھا، فرحت نے عام سے لہجے میں کہا
نہیں بھابھی میرا اکلوتا بیٹا ہے میں اس کے تمام فنکشنز الگ کرون گی کسی کے ساتھ نہیں
ہاں ہاں عابدہ جیسے تمہارا دل چاہے ویسے ہی کرنا باقی سب چھوڑو تم،رضا نے فرحت کو آنکھوں سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
میں تو ویسے ہی کہہ رہی تھی عابدہ جیسے تمہاری مرضی، فرحت نے منہ بسور کر کہا
نمرہ تم لوگ صبح تیار رہنا میں دس بجے ڈرائیور کو بھیجوں گی پھر کل تمہارے نکاح کا جوڑا کل فائنل کر لیتے ہیں، دن بھی تو کم ہیں اس لیے یہ تو کل ہی نمٹا لیتے ہیں ،
جی پھوپھو، نمرہ نے کھانا کھاتے ہوۓ جواب دیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارحم توبہ ہے ہٹ جاؤ شیشے کے آگے سے، فاریہ نے تقریباً ارحم کو دھکا ہی دیا
کیا مصیبت ہے چڑیل کہیں کی دلہا میں ہوں تم نہیں ، ارحم اپنی جگہ سے ایک انچ نا ہلا
ارحم کیا بدتمیزی ہے تم تیار ہو تو گئے ہو اب ہٹو مجھے فائنل ٹچ دینا ہے، فاریہ نے چینخ کر کہا
نہیں ہٹ رہا میں، ارحم نے اطمینان سے بالوں کو جیل سے سیٹ کرتے ہوۓ کہا
یا اللّٰه ارحم فاریہ کیوں پاگلوں کی طرح لڑ رہے ہو، ذرا تحمل اور برداشت نہیں ہے دونوں میں ، عابدہ شور سن کر فاریہ کے کمرے میں آ گئیں
مما یہ ہٹ ہی نہیں رہا مجھے ریڈی ہونا ہے ، فاریہ نے مسکین شکل بنا کر کہا
ہزار بار سمجھایا ہے بڑا بھائی ہے تمیز سے بات کیا کرو،،
ایک سال ہی بڑا ہے مما اسکی عزت نہیں ہوتی مجھ سے ، فاریہ نے ہاتھ جھلا کر کہا
عابدہ نے جوابً صرف فاریہ کو گھورا
چلو ارحم شاباش لاونج میں جو سامان میں نے رکھا ہے اس کو گاڑی میں رکھواو میں آ رہی ہوں
ارحم نے جاتے جاتے فاریہ کے سر پہ چپت رسید کی
ذلیل انسان، فاریہ نے تڑپ کر کہا
اب تم بھی آ جاؤ پہلے ہی بہت لیٹ ہو گئے ہیں عابدہ نے کمرے سے نکلتے ہوئے فاریہ سے کہا
چلیں چلیں ریڈی ہوں میں
فاریہ بھی ساتھ ہی چل دی
مما میں بہت خوش ہوں کہ نمرہ میری بھابھی بن رہی ہے، فاریہ نے خوشی سے کہا
میں بھی بہت خوش ہوں، چلو اب گاڑی میں بیٹھو تمہارے بابا بلا رہے ہیں کب سے،
۔۔
۔۔
رضا صاحب کے گھر کا لان جگمگ کر رہا تھا ہر چیز نفاست سے اور خوبصورت طریقے سے سجی ہوئی تھی ۔۔
لان میں ایک طرف سٹیج بنایا گیا تھا جہاں سے سب کو سٹیج آسانی سے نظر آ رہا تھا۔۔
ماشاءاللہ میری بیٹی کتنی پیاری لگ رہی ہے رضا، نمرہ پارلر سے آ کر کمرے میں بیٹھی تو فرحت اور رضا صاحب آ گئے
ہاں واقعی میری بیٹی پری لگ رہی ہے اور آج پرائی ہو جائے گی، رضا صاحب کی آنکھیں بھر آئیں
ابو آپ روئیے گا نہیں ورنہ میں آپ سے ذیادہ رونے لگ جاوں گی نمرہ کی آواز یک دم رندھ گئی
اوہو یہ ایموشنل سین بعد میں کرنا سب ، امی ابو چلیں باہر پھوپھو وغیرہ سب آ چکے ہیں ، ذیشان نے عجلت میں بتایا
سب باہر استقبال کے لیے چلے گئے اور نمرہ دھڑکتے دل کے ساتھ وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
سب کا اچھے سے اسقبال کیا گیا رضا صاحب نے ارحم کو گلے لگا کر پیار کیا
سفید رنگ کے کرتا شلوار میں کاندھوں پر کالی شال لپیٹے ارحم کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا آہستہ آہستہ روہان کے ساتھ چلتا وہ سٹیج تک آگیا
آ جا سالے ساتھ بیٹھتے ہیں، ارحم نے روہان کو چھیڑا
میں تیری ناک توڑ دوں گا ارحم اب مجھے سالا کہا تو، روہان نے صوفے پر بیٹھ کر ارحم کو وارن کیا
ارحم نے قہقہہ لگایا
بھابھی نمرہ کہاں ہے مجھے اس سے کچھ بات کرنی ہے عابدہ نے فرحت سے کہا
وہ اندر سامنے والے کمرے میں بیٹھی ہے، فرحت نے بتایا
۔۔
نمرہ بیٹا عابدہ نے کمرے میں داخل ہو کر آواز دی
نمرہ نے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا
جی پھوپھو،
ماشاء الله کتنی پیاری لگ ہو رہی نمرہ اللّٰه نظرِ بد سے بچاۓ
عابدہ نے نمرہ کی بلائیں لیتے ہوۓ کہا
نمرہ کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیے وہ پھر سے گویا ہوئیں
نمرہ آج تم میرے بیٹے کے نام سے جڑنے والی ہو یعنی آج سے تم اور ارحم دکھ سکھ کے ساتھی ہو
کہنے کو یہ رشتہ برابری پر چلتا ہے لیکن نمرہ قربانی ہمیشہ عورت ہی دیتی ہے
میں تمہیں کوئی لمبا چؤڑا لیکچر نہیں دینے آئی بس اتنا کہنے آئی ہوں کہ ہمیشہ میرے بیٹے کے ساتھ رہنا اس کو کسی حال میں تنہا نا چھوڑنا کیونکہ میں تم دونوں کو خوش دیکھنا چاہتی ہوں،،
جی پھوپھو انشاء الله میں ہوری کوشش کروں گی ۔۔۔
اتنے میں ذیشان نے نکاح کے لے مولوی صاحب کے آنے کی اطلاع دی
اور ساتھ ہی نائلہ فرحت اور فاریہ بھی آ گئیں
نائلہ نے نمرہ کا گھونگھٹ نیچے کیا
بل روہان ذیشان اور رضا صاحب مولوی صاحب کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوۓ
نکاح شروع کیا گیا تو روہان نے بھی اپنا کیمرہ سنبھال لیا
۔۔۔
” نمرہ رضا ولد رضا علی عباس آپ کو حق مہر پچاس ہزار روپے سکہ رائج الوقت کے عوض ان گواہوں کی موجودگی میں ارحم علی ولد اعجاز عکی کے نکاح میں دیا جاتا ہے
کیا آپ کو قبول ہے ؟
“قبول ہے”
کیا آپ کو قبول ہے ؟
“قبول ہے”
کیا آپ کو قبول ہے ؟
“قبول ہے “
نمرہ نے ساتھ ساتھ بتائی گئی جگہوں پہ کپکپاتے ہاتھوں سے سائن کیا
۔۔
نمرہ کے بعد ارحم سے پوچھا گیا
دونوں طرف سے قبول ہے کی صورت میں منظوری پانے کے بعد مبارک مبارک کی آوازیں آنے لگیں
نمرہ کو ارحم کے برابر لا کر بیٹھایا گیا
“
نکاح مبارک مائی ڈئیر وائف ،ارحم نے ساتھ بیٹھی نمرہ کے کان میں سرگوشی کی
جس سے نمرہ مزید خود میں سمٹ گئی
ارحم کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی
بلال بھائی بات سنیں ، ارحم نے سٹیج کے پاس سے گزرتے بلال کو آواز لگائی
ہاں بولو ارحم
یار بلال بھائی رخصتی بھی آج ہی کروا دئیں نا
ارحم نے دنیا جہان کی معصومیت لیے کہا
صبر میرے بھائی صبر ، بلال نے ہنسی دباتے ہوئے کہا
۔۔
نمرہ کے موبائل پہ ایک میسج آیا تو اس نے ارحم کی طرف دیکھا جو بلال کے کان میں گھسا نا جانے کونسی راز کی باتیں کر رہا تھا
ارحم کو مصروف دیکھ نمرہ نے پرس سے موبائل نکالا سکرین پہ لکھا میسج نمرہ کا خون خشک کرنے کے لیے کافی تھا
نمرہ کی نظر موبائل پہ لکھی دو لفظی تحریر پر جم گئی
” نکاح مبارک ہو گڑیا
پچھتاوے کی صورت میں تحفہ جلد پا لو گی”
تمہارا شاہ میر