📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="8"]
55020 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51

یوشع ریلنگ پر ہاتھ رکھے بالکونی میں کھڑا تھا…… ٹھنڈی تازہ ہوا آتی اس کے بالوں کو لہرارہی تھی…. آج ایک مہینہ ہوگیا تھا ماہی کو اس دنیا سے گۓ مگر وقت تھا کہ جیسے سب کیلۓ رک گیا تھا…. ایک مہینے سے کسی نے ہنس کر نہیں ریکھا تھا….. اس ایک مہینے میں یوشع نے تو اب تک اپنے بیٹے کو بھی نہیں دیکھا تھا کہ وہ کیسا ہے کیسا نہیں…. اب بھی وہ آنکھیں بند کۓ بالکونی میں کھڑا اس موسم کو محسوس کررہا تھا…..
ماہی کے جانے کے ایک ہفتے بعد یوشع کو ماہی کی بیماری کا علم ہوا تھا….. ماہی کی موت نے سب گھر والوں کو توڑ کر رکھ دیا تھا….. ماہی کی موت کے ایک ہفتے بعد علی لان میں کرسی پر آنکھیں بند کرکے بیٹھا تھا…. اس کی آنکھوں کے گوشے بھیگے ہوۓ تھے….. سامنے شیشے کی میز پر ماہی کی تصویر رکھی تھی….. ماہی تھی کہ بھول ہی نہیں رہی تھی…. کسی کا رونا کم ہی نہیں ہورہا تھا….. دو دن پہلے میرہادی کو ہوسپٹل سے ڈسچارج کیا گیا تھا…. وہ اس قدر ویک تھا کہ کوئ ہڈیوں کا ڈھانچہ معلوم ہوتا وہ بیمار تھا اس لۓ اس کو چار دن تک مشین میں رکھا گیا تھا اور اب دو دن پہلے ہی یعنی ماہی کی موت کے چار دن بعد وہ گھر آیا تھا…. علی ہادی کو اپنے گھر ہی لے آیا تھا کیونکہ یہاں اس کی دیکھ بھال کیلۓ سب تھے اور اب زاور کے ساتھ ساتھ میرہادی کا خیال زینب رکھ رہی تھی تو کبھی مسزعمران…..
صاحب جی کوئ آپ سے ملنے آیا ہے…..” گارڈ نے آکر اطلاع دی….
کون ہے؟؟؟؟” علی نے بند نگاہوں سے پوچھا….
پتا نہیں صاحب وہ کہتی ہے کہ وہ ڈاکٹر ہے’ ماہین بیبی کا ٹریٹمنٹ وہی کرتی تھی’ اور اب وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے……” علی نے آنکھیں کھولی….
اندر بھیج دو…..” جی صاحب کرتا گارڈ چلا گیا…. کچھ دیر بعد جینز اور لونگ شرٹ میں ملبوس ایک لڑکی وہاں آئ…. کاندھے پر بیگ لٹکا ہوا تھا…… علی بھی اٹھ کھڑا ہوا…. سلام دعا کی گئ…..
آپ؟؟؟” علی نے پوچھا……
جی میرا نام ماریہ ہے’ پروفیشن سے ایک ڈاکٹر’ نو مہینے ماہی میرے سے ہی اپنا ٹریٹمنٹ کرواتی رہی ہے’ جس دن اس کو ہوسپٹل لایا گیا اس وقت میں لیو پر تھی’ نیکسٹ ڈے جب آئ تو ماہی کے بارے میں پتا چلا’ مجھے بہت دکھ ہے اس کا اللّه آپ سب کو آپ کے گھر والوں کو صبر جمیل عطا کرے آمین……”
ہممم آمین ٹھینکس’ وہ سب تو ٹھیک ہے یہاں آنے کا کوئ خاص مقصد…..”
جی کیونکہ میرے پاس ماہی کی ایک امانت رکھی ہے وہ آپکو دینی ہے’ لاسٹ ٹائم جب میری اس سے ملاقات ہوئ تھی تو اس نے مجھے یہ دیا تھا…….” ماریہ نے اپنے بیگ سے ایک لفافہ نکال کر علی کو دیا…..
اس نے مجھ سے کہا تھا کہ یہ لفافہ میں اس کے بھائ کو دو’ مجھے بھی نہیں معلوم کہ اس میں کیا ہے کیا نہیں کیونکہ یہ اس کی امانت تھی میں نے کھول کر نہیں دیکھا…..” علی نے لفافہ ہاتھ میں پکڑا…..
ٹھینک یو’ آپ بیٹھے تو…..”
نہیں میں بیٹھنے نہیں آئ مجھے بس جانا ہے’ یہ اس کی امانت تھی میرے پاس تو میں بس یہی دینے آئ تھی…..”
ماہی کو کب سے کینسر تھا آپ بتاسکتی ہے؟؟؟”
جی شاید بہت پرانا’ جس کا پتا اس کو لاسٹ سٹیج پر پہنچ کر چلا ہے وہ بھی اس وقت جب وہ فرسٹ ٹائم میرے پاس آئ تھی’ اس وقت اس کی پریگننسی کو ون ویک ہی ہوا تھا’ میں نے اس کے کچھ ٹیسٹ کیے تھے تب رپورٹس میں آیا تھا اور اپنی بیماری کا جان کر وہ ایک ہی دم کچھ ٹوٹ سی گئ تھی’ اس کے بعد وہ باقاعدہ چیک اپ کیلۓ آتی رہی ہے اور میری ایک اچھی دوست بھی بن گئ تھی’ مگر……” ماریہ چپ ہوگئی…
مگر کیا؟؟؟ علی نے پوچھا…..
اس کا علاج ممکن تھا میں نے اس سے بہت کہا کہ علاج کراولے مگر انکار کرتی رہی……”
تو وہ انکار کیوں کرے گی؟؟؟؟؟”
آئ تھنک ماہی نے اس لفافے میں سب کچھ لکھ دیا ہے’ اس نے بتایا تھا کہ اس نے اس لفافہ میں سب کچھ لکھ دیا ہے آپ ریڈ کرلیجۓ گا آپکو آپکے سارے سوالوں کے جواب مل جائیں میں اب چلتی ہو……” وہ جانے کیلۓ مڑگئ تھی…..
ایک منٹ ڈاکٹر……” وہ رک گئ…..
ہم نے اس کا بلڈ ٹیسٹ پہلے بھی کروایا تھا مگر ان رپورٹس میں ایسا کچھ نہیں تھا…..”
اس بارے میں میں کیا کہہ سکتی ہو’ وہ ٹیسٹ میں نے تو نہیں کۓ تھے…..”
اور ہاں ایک بات تو میں بھول ہی گئ ماہی کا بیٹا کیسا ہے؟؟؟؟”
جی وہ اب بہتر ہے’ ابھی تو ہمارے پاس ہی ہے….”
چلے ٹھیک ہے اگر اس کی طبیعت خراب ہو تو میرے پاس ہی لے آئیں گا…..”
جی مگر ایک بات اور’ ماہی کو کینسر تھا تو اس کا بےبی پر تو ایفیکٹ نہیں پڑے گا’ مطلب اس میں تو کوئ ڈیزیز نہیں ہے……”
نہیں بےبی بالکل ٹھیک ہے’ کونکہ ایسے معاملات میں ہم ماں کو ایک ڈرگ دیتے ہیں ہر مدر میں ایک فوڈ پائپ ہوتا ہے جو بےبی تک فیڈ فراہم کرتا ہے تو وہ ڈرگ اس ڈیزیز کو آگے جانے سے روک کے رکھتا ہے’ اور ماہی بھی یہی چاہتی تھی کہ بس اس کا بچہ بچ جاۓ’ اور ایسا ہی ہوا وہ خود چلی گئ مگر بچے کو کچھ نہیں ہونے دیا……”
ہمممم ٹھینک یو…..”
خدا حافظ…..” ماریہ چلی گئ….. علی اپنے ہاتھ میں پکڑے اس بند لفافے کو دیکھ رہا تھا…. دل بہت بےچین ہورہا تھا کہ اس میں کیا لکھا ہوگا کیا نہیں….. وہ لفافے کو لے کر اندر کی طرف بڑھ گیا…. اپنے روم میں بیڈ پر بیٹھ کر اس نے وہ لفافہ کھولا اور پھر اس کو ریڈ کرنے لگا……’
کیسے ہو بھائ آپ؟؟ یقینا بہت اچھے ہونگے’ میری دعا ہے آپ ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہے’
شادو آباد رہے’ جب تک آپکو یہ لفافہ ملے گا نہ بھائ تب تک میں آپ سب سے بہت دور جاچکی ہوگی’ ایک ایسی جگہہ جہاں سے کبھی کوئ واپس نہیں آیا’ آپ مجھے مس تو کرتے ہوگے ہے نہ بھائ……” علی نے نم آنکھوں سے اثبات میں سر ہلایا ہاں گڑیا روز مس کرتا ہو دن رات کرتا ہو……”
اچھا اچھا اب رونے مت لگ جانا عورتوں کی طرح سینٹی مت ہونا……” وہ ہلکا سا مسکرایا…..
سب سے پہلے تو آپ میری امانت کا بہت خیال رکھنا میرا بیٹا میرہادی’ اس کو میری کمی محسوس مت ہونے دینا’ اچھا بہت ہوگئ یہ سب باتیں اب سنے بھائ اب جو میں لکھنے جارہی ہو وہ شاید آپ کو بہت رلاۓ مگر آپ کے لۓ حقیقت کا جاننا بہت ضروری ہے’ کیونکہ میں جانتی ہو یوشع آپ کو کبھی حقیقت نہیں بتاۓ گے’ اس لۓ میں آج سارا سچ لکھنے جارہی ہو…….” اور پھر اس کے بعد وہ سب کچھ جو بھی ماہی نے اس میں لکھا تھا وہ سب کچھ پڑھتا گیا……. آنسو ٹپ ٹپ اس کی گود میں گررہے تھے…… اور پھر اس کے آخری کے الفاط جو اس پیپر پر لکھے تھے تو وہ یہ تھے…..
خداحافظ بھائ….. فقط آپکی گڑیا…… آخری کے الفاط مٹے مٹے تھے جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ بہت روئ ہے اور آنسوں ٹوٹ ٹوٹ کر لفافے پر گرتے رہیں ہے……علی نے اپنے ہاتھوں کو نیچے گرایا….. اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس نے یہ سب کیا پڑھا ہے اتنی تکلیف اکیلے برداشت کرگئ کبھی کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی….. وہ رونے لگا تھا اور پھر چہرے پر ہاتھ رکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رودیا……. زینب روم میں آئ علی کو یوں روتا دیکھ اس کے پاس آئ….
علی کیا ہوا ہے آپ کو اس طرح سے کیوں رورہے ہیں؟ علی کچھ تو بولے……” زینب نے چہرے پر سے اس کے ہاتھ ہٹاۓ…..
زینب ماہی……” اس سے کچھ نہیں بولا گیا….. اس نے وہ لفافہ زینب کے آگے کردیا تھا جیسے جیسے زینب پڑھتی گئ ویسے ویسے اس کا دل ڈوبتا جارہا تھا…. جب تک وہ پڑھ کر فری ہوئ اس کی آنکھیں بھی اشک بار ہوچکی تھی….. اس کے پاس کوئ الفاظ نہیں تھے کہ وہ علی کو کوئ تسلی دے سکے….. اس نے بس علی کو اپنے گلے سے لگالیا…. وہ اس کے گلے لگ کر رونے لگا…… وہ بھی رورہی تھی…… کتنی ہی دیر وہ اس کے گلے لگا رہا ہے…..
ماہی اتنی تکلیف میں تھی زینب اور اس نے ہم میں سے کسی کو کچھ نہیں بتایا’ اس نے ہمیں چند سیکنڈ میں پرایا کردیا تھا’ کچھ تو بتاتی وہ کیوں چلی گئ چپ چاپ’ ایک بار تو کہتی مجھ سے کہ بھائ میں تکلیف میں ہو میں اپنی جان تک اس پر وار دیتا’ وہ میری گڑیا تھی’ وہ سب سے زیادہ مجھ سے اٹیچ تھی’ اس نے کبھی کوئ خاص دوست بھی نہیں بنائ مجھ سے ہمیشہ کہتی تھی جس کے پاس آپ جیسا بھائ ہو’ جو بھائ کم دوست بن کر زیادہ رہتا ہے تو اسے کسی اور دوست کی کیا ضرورت’ اور اب بھائ تو دور کی بات اس نے تو ایک دوست بن کر بھی شئیر نہیں کی’ وہ ہم بس سے روٹھ کر ہم سے دور چلی گئ…..” ایک بار پھر اس کے آنسو زینب کے کندھے پر ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے….. اس کے پاس کوئ الفاط نہیں تھے کہ وہ کچھ بول سکے….. وہ بس علی کی کمر پر ہاتھ پھیرتی رہی……

یوشع روم میں ہی تن تنہا بیٹھا تھا….جب علی بھاگتا ہوا روم میں آیا…. یوشع علی کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا…..
یہ لو……” علی نے لفافہ آگے بڑھایا….
کیا ہے یہ؟؟؟؟” پڑھ لو خود……” یوشع نے لفافہ ہاتھ میں پکڑا… علی کی لال ہوتی آنکھوں کو دیکھا….. اور پھر لفافہ ریڈ کرنے لگا….. وہ پڑھ کرفارغ ہوچکا تھا مگر الفاظ ختم ہوگۓ تھے اس کے پاس کچھ بھی کہنے کو نہیں تھا….. وہ وہی زمین پر بیٹھتا چلا گیا…. ہاتھوں کو گود میں گرایا….. کیا بولے وہ کیا نہیں…..
اگر سچ کا تمھیں معلوم تھا یوشع تو کیوں سب کی نظروں میں گرے رہے’ کیوں نہیں سچ بتایا سب کو؟؟؟ کیوں کیا ایسا؟؟؟؟”
کیا بتاتا بولو مجھے؟؟؟ میں ویسے بھی تو سب کی نظروں میں گرا ہوا تھا تو اب سچ بتا کر کیا کرتا’ جب میں کہہ رہا تھا علی کے مجھے نہیں یاد کچھ’ میں نے کچھ نہیں کیا تو اس وقت تو یقین نہیں کیا تم سب نے’ اور پھر اب تم چاہتے تھے کہ میں ماہی کو سب کی نظروں میں گرادیتا’ میں نے سب کچھ سیکھا ہے مگر ایک عورت کو دوسروں کی نظروں میں ذلیل کرنا نہیں’ اس نے غلط میرے ساتھ کیا تھا اس کی سزا بھی میں خود طے کرچکا تھا’ اس لۓ کبھی کسی کو کچھ نہیں بتایا’ اور جس کو سچ بتانا چاہا اس نے سنا نہیں تو دوسروں کو بتاکر کیا کرتا’ المیرا تو ہے نہیں میرے پاس’ تو کیا کرتا سچ بتاکر’ نہیں علی اتنا گرا ہوا نہیں ہو کہ اپنی خوشیوں کی خاطر کسی عورت کو ذلیل کرتا پھیرو’ ہاں اس میں جو لکھا ہے سچ لکھا ہے میں نے اس پر ہاتھ اٹھایا کیونکہ وہ قصوروار تھی میں نے خود سزا دی اسے’ میں نے ہمیشہ اسکو دھتکارا’ اس کو غصے میں آکر بہت کچھ غلط کہا ہے مگر میں نے کبھی یہ نہیں چاہا تھا علی کے وہ یوں ہم سے دور جاۓ’ مجھے احساس تھا میں اس کے ساتھ زندگی گزارنے کیلۓ تیار تھا’ اس کی پریگننسی کے بعد میں تو اس کو یہاں سے دور لے کر جانا چاہتا تھا وہاں اس کے ساتھ اچھی زندگی گزارنا چاہتا تھا مگر شاید واقعی بہت دیر کردی میں نے لوٹنے میں’ میرا کوئ قصور نہیں میں نے بہت بار اس سے پوچھنے کی کوشش کی مجھے بتاؤ کس تکلیف میں ہو مگر اس نے نہیں بتایا’ پھر میں نے بھی نہیں پوچھا’ مگر مجھے نہیں اندازہ تھا کہ وہ کینسر جیسے مؤذی مرض سے لڑرہی ہے’ نہیں معلوم تھا مجھے علی بالکل بھی نہیں…..” آنسو ٹوٹ کر گود میں گرا تھا…. علی نے اس کو گلے سے لگایا…. ایک بار پھر دونوں کی آنکھیں اشک بار تھی……
***

اب ہے تو قدر کرلو کیونکہ ایک بار گۓ تو واپس نہیں آۓ گے’ کیونکہ ہمیں لوٹ کر آنے کی عادت نہیں ہے یوشع یوسفزئ’ ایک بار منہ موڑلیا تو ساری زندگی پچھتاؤ گے’ کہ یہ میں نے کیا کردیا…….” ماہی کے ایک رات کہے گے الفاظ اس کے ذہن میں گونجے تھے…….

یوشع نے بالکونی میں کھڑے اپنی پلکیں اٹھائ…… آنکھوں میں نمی تھی…… ہاتھ میں پکڑی ماہی کی تصویر کو دیکھا…..
کیوں کیا ماہی ایسا’ تم اتنی بچگانہ حرکت کرجاؤ گی یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا’ کوئ ایسا بھی کرسکتا ہے کیا’ کتنا پوچھا بتادو کس تکلیف میں ہو مگر نہیں ہیروئن تو بننا تھا نہ ہر دکھ ہر تکلیف اکیلے برداشت کرگئ اور کسی سے کوئ گلہ نہیں’ ہنہ تم نے کہا تھا میں تمھیں یاد نہ کرو مگر دیکھو تو یار مجھے تم سے محبت نہیں تھی پھر بھی تمہاری کتنی یاد آتی ہے’ جانتی ہو کیوں کیونکہ مجھے تمھاری عادت جو ہوگئ تھی’ اور جانتی ہو نہ تم کہ عادت محبت سے کئ زیادہ جان لیوہ ہوتی ہے’ اچھے عذاب میں ڈال گئ ہو تم تو ماہی’ اگر زندگی سے جانا ہی تھا تو اپنی عادت بھی مت ڈالتی’ کمرے میں ہر جگہہ تم محسوس ہوتی ہو’ کہیں ہنستی مسکراتی’ کہیں روتی سسکتی’ کہیں مجھ سے لڑتی جھگڑتی تو کہیں اپنے لاڈ اٹھواتی’ ایک بار تو مجھ پر بھروسہ کرتی صرف ایک بار تو بتاتی اپنی بیماری کا’ جانا تھا تو اتنی مشکلوں سے مجھے حاصل بھی مت کرتی’ خود بھی چلی گئ اور المیرا کو بھی مجھ سے دور کردیا وہ تو میری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی’ اور تم کہہ کر گئ ہوکہ میں اس سے شادی کرلو’ ہنہ ماہی کیا سمجھ لیا ہے مجھ کو میرے دل کو میری زندگی کو کوئ کھلونا تو نہیں ہے’ جب جس کا دل چاہا زندگی میں آیا اور جب دل کیا ہمیشہ کیلۓ چلے گۓ’ کھلونا سمجھ لیا ہے نہ تم نے المیرا نے مجھے کہ بس اپنی مرضی سے کھیلنا ہے’ بہت غلط کیا ماہی تم نے بہت غلط…….” یوشع نے آنکھوں میں آئ نمی صاف کی…..
صحیح کہا تھا تم نے’ صحیح کہتے ہیں لوگ’ صحیح کہا تھا ان بزرگ نے کہ جو میسر ہے اس کی قدر کرلو’ ورنہ اگر قدر نہ کی جاۓ تو وہ چیز آپ سے چھین لی جاتی ہے پھر چاہے وہ رزق ہو یا انسان’ اور اب کردیا گیا تم کو بھی مجھ سے دور’ ہوسکے تو معاف کرنا ماہی’ مگر غلطی تمہاری بھی ہے کیا تھا جو ایک بار بتادیتی اپنی بیماری کا’ مگر نہیں تیس مارخان بھی تو بننا تھا میڈم نے’ بہت غلط کیا تم نے ماہی جو بھی کیا…….”
**

یوشع غصے سے ڈور کھولتا اندر داخل ہوا تھا….. ماریہ اس کو دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئ…..
یہ کیا بدتمیزی ہے کس کی اجازت سے اندر آۓ ہو’ گیٹ لاسٹ…..” مگر وہ اس کی ایک بھی سنے بغیر اس کے قریب پہنچا….. غصے سے اسکے بازو کو اپنی گرفت میں لیا…..
ہاؤ ڈئیر یو ٹو ٹچ مائ باڈی……” ماریہ کا ہاتھ اٹھا تھا….. مگر یوشع نے اسے تھام لیا…..
یہی ہاتھ میں بھی اٹھا سکتا ہو ماریہ بیبی’ اور میں نے ہاتھ اٹھایا نہ تو منہ ٹوٹ جاۓ گا’ میں یہاں بات کرنے آیا ہو تو شرافت کے ساتھ مجھ سے بات کرلو’ اور اگر ایک بار پھر مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی غلطی کی تو یہ ہاتھ توڑ دو گا’ انڈرسٹینڈ…….” یوشع نے ایک جھٹکے سے اسکی کلائ کو چھوڑا تھا……
مجھے تم جیسے مردوں سے کوئ بات نہیں کرنی جس کو بیوی کی عزت تک کرنی نہ آتی ہو’ میں تمھیں ایک منٹ میں گارڈ سے کہہ کر باہر پھینکوا سکتی ہو’ انڈرسٹینڈ……” ماریہ نے بھی اس کے انداز میم انگلی اٹھا کر وارن کیا…..
اووو شٹ اپ’ نہ تم میں اتنی ہمت ہے اور نہ تمھارے ان گارڈ میں جو مجھے باہر پھینکے گے’ اگر میں کچھ کرنے پر آیا تو ابھی کہ ابھی صرف ایک فون کال پر تمھارا یہ ہوسپٹل ہمیشہ کیلۓ بندکرواسکتا ہو’ اور اب بہت ہوگئ فالتو کی بات میں تم جیسوں کے منہ نہیں لگتا مجھے بس اتنا جواب دو جب تم ماہی کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی تو اس دن جب میں آیا تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا اس کے بارے میں’ میں نے کہا تھا نہ کہ اگر کچھ چھپارہے ہو تو بتادو’ مگر نہیم بتایا کیوں نہیں بتایا تھا’اگر بتادیتی تو آج اسکی جان بچ جاتی’ وہ ہمارے درمیان ہوتی’ ایک ڈاکٹر کا کام اپنے پیشنٹ کی جان بچانا ہوتا ہے اس کی جان لینا نہیں……”
ہاں نہیں بتایا تھا اس دن اگر بتاتی تو کیا کرلیتے تم’ جیتے جی اس کی قدر نہیں کی اور اس کے مرنے کے بعد یہاں مجھ سے لڑنے آگۓ ہو……”
میں نے پوچھا مجھے اس دن سب کچھ کیوں نہیں بتایا تھا؟؟؟؟”
ماہی نے اپنی قسم دی تھی اس لۓ نہیں بتایا تھا اب جوش……”
اووو واؤ’ مطلب کلیپ کرنے کو دل کررہا ہے تمھارے لۓ اگر اپنی قسم توڑ دیتی تو کیا قیامت آجاتی تم پر بلکہ آج وہ بچ جاتی’ ماہی کی موت کی ذمہ دار تم ہو’ اگر کسی کی جان کی خاطر قسم توڑنی بھی پڑجاۓ تو توڑدینی چاہیے…..”
ماہی کی موت کی ذمہ دار میں نہیں یوشع یوسفزئ تم ہو’ ایک ڈاکٹر ہونے کی خاطر اس کی جان بچانے کیلۓ میں جو کچھ کرسکتی تھی میں نے وہ سب کیا’ مگر تم نے اس کیلۓ کیا کیا’کبھی اس کو بیوی کا رتبہ دیا’ کبھی اس کے ساتھ دو پل محبت کے گزارے’ کبھی اس کے چہرے پر چھائ وہ اداسی دیکھی’ کبھی تو اس کے چہرے کو اس کی آنکھوں کو پڑھتے جس میں کتنی تکلیفیں تھی’ مگر تم کیا جانو کبھی اس سے محبت کی ہوتی تواس کی تکلیفوں کو جانتے’ ماہی اگر اس دنیا سے گئ ہے تو صرف تمھاری وجہ سے’ مزید مجھے نہ تم سے کچھ سننا ہے اور نہ ہی کچھ کہنا ہے اب تم جاسکتے ہو وہ رہا دروازہ…..” یوشع نے الٹ قدم بڑھاۓ…..
اس کی موت کی ذمہ دار تم بھی ہو اگر اس دن سب کچھ بتادیتی تو اس کی جان بچ سکتی تھی’ تمھیں ڈاکٹر بننے کا کوئ حق نہیں ہے چھٹی لو اور گھر بیٹھو آرام سے…..” یوشع غصے سے دروازہ بند کرتا باہر نکل گیا…. اندر ماریہ غصے سے کھڑی اس بند دروازے کا دیکھتی رہی…….
**

جاری ہے__