📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="8"]
55020 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

المیرا لاؤنج میں صوفے پہ گھٹنوں پر سر رکھے بیٹھ تھی….. دو دن نکاح میں رہ گۓ تھے…. کل ان کی مہندی کی رسم تھی اور پرسوں نکاح…. سب تیاریاں مکمل تھی….. اس کو اپنی شادی کی بالکل خوشی نہیں تھی….. کوئ نہیں تھا اس کا اپنا سب ہی تو چھوڑ گۓ وہ بالکل اکیلی اور تنہا رہ گئ تھی…. اتنا بڑا گھر اور اس گھر میں اس کے علاوہ کوئ نہیں…. ملازموں کی فوج تھی… وہ بھی اس وقت سب اپنے کوارٹروں میں تھیں….. تن تنہا اور بالکل اکیلی اس گھر میں….. زندگی کتنی اکیلی اور تلخ ہوگئ تھی….. خان کے جانے کے چند دن بعد ہی وکیل بھی آگیا تھا المیرا کے پاس اس کو اس کا حصہ دینے جو المیرا نے لینے سے انکار کردیا….. آدھی پراپرٹی جہانزیب کے نام اور باقی کی آدھی اس نے چیریٹی میں دے دی تھی غریب یتیم بچوں کیلۓ….. اب اس کے پاس صرف یہ گھر تھا جس کو دو دن بعد تالا لگ جانا ہے….. جہانزیب بھی شادی میں نہیں آیا تھا سچ سامنے آنے کے بعد اس نے المیرا سے کوئ رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی المیرا نے اس سے کوئ رابطہ کیا تھا……. بس اب صرف ایک یوشع تھا اس کے پاس….
اب بھلا ایسا ہوسکتا ہے کیا ہمارا یوشع المیرا کو اکیلا چھوڑ دے نہیں بالکل نہیں…..
خان کے جانے کے بعد ایک پل بھی یوشع نے المیرا کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا….. چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ گزارے… رات بھی اس کو سلا کر ہی اپنے گھر واپس جاتا….. اور اب بھی یوشع نے ہیرو کی طرح لاؤنج میں اینٹری ماری…..
ذرا صبر نہیں ہے ہمارے یوشع کو تو بھئ….. کل مہندی ہے اور مجال ہے جو ہمارے یوشع کی بےچین ہڈیوں کو تھوڑا چین مل جاۓ…. گھر میں ٹک کر بیٹھ جاۓ….. یہ کبھی ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا گھر میں…..

وہ صوفے پر بیٹھا….. المیرا نے سر اٹھا کر اس کو دیکھا… آنکھیں چھوٹی کرکے اس کو گھورا….. یوشع نے بھی یہی عمل دہرایا…..
اٹھے اور جاۓ اپنے گھر…..”
توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے…..”
اس نے کانوں کو ہاتھ گایا…..
ہونے والے شوہر کے ساتھ یہ سلوک’ کیا بنے گا میرا؟؟؟
وہ اس کی اس نوٹنکی پر مسکرائ…..
جی بالکل بلکہ اس سے بھی زیادہ برا کروں گی میں’ اگر آپ نہیں گۓ’ کل مہندی ہے اور ایک دن بھی آپ سے صبر نہیں ہورہا’ آپ مجھے کل رات کو ہی دیکھے گے بلکہ میں ایک کام کرتی ہو ابھی سے آپ سے پردہ کرلیتی ہوں’ کل مہندی میں بھی میں گھونگھٹ ڈال کر بیٹھو گی’ اب آپ صرف مجھے شادی والی رات کو ہی دیکھے گے…..”
اس نے دوپٹے سے گھونگھٹ ڈالنا چاہا…..
اللّه اللّه توبہ استغفراللّه… گندی چڑیل ایسا ظلم مت کر میرے ساتھ……”
وہ ایک ہی دم چینخا تھا…..
المیرا کو غصہ چڑھا…..وہ جو ہمیشہ صرف خالی پیلی دھمکی دیتی تھی کہ تمھیں جان سے مار دوں گی’ تمھیں گنجا کردو گی آج اس نے یوشع کے بالوں کو پکڑ کر کھینچ ہی دیا تھا…..
اب بولو…..”
اللّه’ چھوڑ دے ہونے والے شوہر کے ساتھ یہ ظلم کررہی ہے ‘ اللّه پوچھے’ کتنا خراب زمانہ آگیا ہے’ شوہر کو مارا جارہا ہے’ افففف میرے نازک نازک سلکی بال….”
اس کی نوٹنکیاں عروج پر تھی….
اب بولو گے گندی چڑیل……”
میری پیاری جان نہیں بولوں گا گندی چڑیل’ اس سے پہلے میرے نازک سلکی بال تمھارے ہاتھ میں آجاۓ اور میں واقعی شادی سے پہلے گنجا ہوجاؤ’ تمھیں ایک گنجے سے شادی کرنی پڑجاۓ’ تو میری پیاری جان بال چھوڑ دو…..”
المیرا نے بال چھوڑے….
یوشع نے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بالوں کو درست کیا…..
اس کی طرف گھوما…..
میری پیاری جان…..”
بہت ہی پیار سے کہا….. آنکھوں کو گول گول گھمایا…..
آج کے بعد میں تمھیں گندی چڑیل گندی چڑیل گندی چڑیل ہی بولوں گا’ روز بولوں گا’ دن رات بولوں گا’ صبح و شام بولوں گا’ کرلوں کیا کرو گی…..”
یوشع…..”
اس نے کشن اٹھا کر یوشع کے مارا…..
یوشع نے بھی کشن اٹھا کر اس کو مارا……

ہاۓےے رے شادی سے پہلے لڑائ ہوگئ المیرا اور یوشع میں…. کیا بنے گا ان دونوں کا….

المیرا نے گہری سانس خارج کی….
اوکے جو مرضی بولوں بھاڑ میں جاؤں’ اللّه کرے جب تم برات لے کر آرہے ہو تو شادی والے دن ہی تم گٹر میں گرجاؤ…..” اور میں تمھیں دیکھ دیکھ کر زور زور سے ہنسو…..
استغفراللّه’ کتنی گندی ہو تم…..” یوشع نے برا منہ بنایا…..
وہ بھی منہ پھلا کر بیٹھی….. مگر اس کا دل لگ گیا تھا یوشع کے آنے سے…..
یوشع نے مسکراتے ہوۓ اس کو دیکھا……
اے ادھر دیکھو نہ…..” اس نے اس کے بازو پر چٹکی کاٹی…..
نہیں کرنی مجھے آپ سے بات….” اس نے اپنا بازو سہلایا…..
اچھا نہ دیکھو تو…..” وہ کتنے پیار سے کہہ رہا تھا…. اس نے اس کا رخ اپنی طرف کیا…..
یہ دیکھو سوری…..” اس نے کان پکڑے……
المیرا نے اس کے کندھے پر سر ٹکایا…… ساری ناراضگی غائب…. وہ ناراض تھی ہی کب….
ایک بات کہو مانوں گی….”
بولے….”
آج تو اپنے پیار کا اظہار کردوں’ کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے……”
اس نے سر اٹھایا……
میں اظہار کرچکی…..”
وہ میں نے زبردستی کروایا تھا’ میں چاہتا ہو تم خود اظہار کرو’ دل سے کرو…..”
شہری اظہار بھلے ہی زبردستی کروایا ہو’ مگر اس وقت جو کہا سچ کہا تھا’ دل سے کہا تھا’ میں صرف آپکی ہوں’ صرف آپکی…..”
جیسے آپ ہمیشہ مجھے کہتے ہیں کہ میں آپکے دل کی دھڑکن’ آپکی سانسیں’ آپکی زندگی ہو’ اس طرح سے آپ بھی میرے سب کچھ ہے…..”
تمھیں پتا ہے المیرا محبت میں اظہار کیوں ضروری ہے؟؟ محبت میں رابطہ کیوں ضروری ہے؟؟
کیونکہ رابطہ اور اظہار کرنے سے ایک دوسرے کی ویلیو کا ایک دوسرے کی ایمپورٹینس کا پتہ چلتا ہے’ مگر آج کل ہم نے یہ ٹرینڈ بنالیا ہے کہ محبت میں اظہار ضروری نہیں’ محبت میں رابطہ ضروری نہیں’
جبکہ ایسا کچھ نہیں ہے’ اگر کوئ ہزارہاں بار بھی مجھے یہ کہے گا نہ کہ محبت میں اظہار ضروری نہیں تو میں ہر بار اس کی بات کو رد کردوں گا’ کیونکہ محبت میں ہی تو اظہار ضروری ہے’ میں ایسے رشتے کو بالکل نہیں مانتا المیرا جس میں چند دن بعد ہی اس محبت میں چاشنی ختم ہوجاۓ’
لگا کر پودے بھول جانے سے تو وہ بھی مرجھا جاتے ہیں’ اگر ہم ان کی کیئر نہیں کرے گے’ ٹائم سے اسکی ہارویسٹنگ نہیں کرے گے’ ٹائم سے ان کو پانی نہیں دے گے’ ان کی دھوپ چھاؤں کا خیال نہیں رکھے گے تو ایک دن وہ پودے مرجھا جاۓ گے’ ان کی بہتر نشوونما کیلۓ ہمیں انہیں ٹائم دینا ہوگا’ ان کی کیئر کرنی ہوگی’ اسی طرح سے مجھے لگتا ہے محبت بھی پھول پودوں کی طرح بہت نازک ہوتی ہے’ جس کو ہمیشہ پروان چڑھانے کیلۓ ہمیں اظہار کی ضرورت پڑتی ہے’ محبت کو ہمیشہ قائم برقرا رکھنے کیلۓ ایک دوسرے کو ٹائم دینا پڑتا ہے’ ایک دوسرے کیلۓ ٹائم نکالنا پڑتا ہے’ ایک دوسرے کی کیئر کرنی پڑتی ہے’ ایک دوسرے کو سمجھنا پڑتا ہے’ بار بار اپنی محبت کا اظہار کرنا پڑتا ہے’ کبھی کبھی محبّت کے اظہار کے لئے لفظ کم پڑ جاتے ہیں،
لفظوں کا ذخیرہ جتنا بھی ہو لیکن بات جب اظہار کی آتی ہے تو زبان ساتھ نہیں دیتی، یوں لگتا ہے جیسے زبان نے سہی موقع پر بیوفائی کی ہے،
یوں تو محبّت اگر ہے اور احساس میں شدت ہوتی ہے تو آپ کے دل کی آواز دوسرے شخص تک پہنچ جاتی ہے، کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی، بس احساس ہی کافی ہوتا ہے، لیکن جس طرح سوکھے ہوئے شجر کو اگر وقتاً فوقتاً پانی سے سینچا نہ جائے تو وہ آخر کار دھیرے دھیرے ختم ہو جاتا ہے،
ٹھیک اسی طرح محبّت کو زندہ رکھنے کے لئے، تروتازہ رکھنے کے لئے وقتاً فوقتاً محبّت کا اظہار بھی ضروری ہے ، ضروری نہیں کہ صرف آپکے سچے جذبے آپکے احساس کی ترجمانی کریں، بلکے انہیں کبھی کبھی لفظوں کی بھی ضرورت پیش آتی ہے، ورنہ محبّت ختم تو نہیں ہوتی لیکن شاید شدّت میں کمی ضرور آجاتی ہے،
مجھے تم سے محبّت کے لئے لفظوں کا سہارا نہیں چاہیے، کیونکے میں نے تم سے بنا کسی شرط کہ محبّت کی ہے، نہ کوئی غرض ہے، اور نہ ہی کوئی وعدہ، نہ ہی یہ شرط کے اگر مجھے تم سے محبّت ہے تو تمھیں بھی مجھ سے محبّت کرنی ہوگی،
وہ کہتے ہیں نہ کے محبّت کی طبیعت میں زبردستی نہیں ہوتی ” !
مجھے محبّت ہے تو بس ہے ! میری محبّت لفظوں کی محتاج نہیں…. مگر اظہار ضروری ہوتا ہے
تاکہ وہ کبھی آپ کی طرف سے بےزار نہ ہو’ اسے ہمیشہ آپکا اظہار کرنا یاد رہے گا’ محبت خوبصورت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی المیرا’ بس ایک جملہ بھی کافی ہوتا ہے اظہار محبت کیلۓ’ بس صرف ایک جملہ کہ “مجھے آپ سے محبت ہے” مگر شرط یہ کہ اس جملے میں خلوص اپنائیت ہو’ تاکہ جس سے آپ محبت کا اظہار کررہے ہیں اس کو آپکے اس جملے میں خلوص نظر آۓ’ آنکھوں میں محبت کا جلتا دیا نظر آۓ’ کیونکہ سامنے والا ہمارے لفظوں سے ہی ہمارے خلوص کا اندازہ لگاتا ہے’
اور یہ تو ہمارے نبی کا فرمان بھی ہے کہ جس سے تم محبت کرو نہ اللّه کی رضا کیلۓ اسے بتاؤ بھی کہ مجھے آپ سے محبت ہے’ اسے بتاؤ بھی تاکہ وہ بھی آپ کیلۓ اچھے جزبات رکھے’ محبت جو ہوتی ہے اظہار کی محتاج تو نہیں ہوتی’ مگر محبت میں اظہار ضروری ضرور ہوتا ہے’ ہر بات دل میں رکھنے کی نہیں ہوتی’ کچھ زباں سے کہنے کہ بھی ہوتی ہے’ اور وہ کہہ بھی دینی چاہیے…..”
اسی لۓ المیرا میں بھی ہمیشہ تم سے اپنی محبت کا اظہار کرتا رہتا ہو’ اور بدلے میں صرف یہ چاہتا ہو کہ تم بھی اپنی محبت کا اظہار کرو…..” اس لۓ اب بتاؤ کہ کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے’ اگر اظہار کرنا چاہو تو کردو’ ورنہ زبردستی میں نہیں کرو گا…..” کیونکہ پرسوں تو تم نے میرا ہو ہی جانا ہے…..”
المیرا مسکرائ….اظہار تو وہ کردے مگر اظہار کے بعد جو اس کو ڈر لاحق ہوتا ہے کہ وہ اسے کھو نہ دے اس ڈر کا کیا کرے’ مگر یوشع نے کہا تھا اس دن بھی کہ اظہار کرنے سے کوئ کسی کو نہیں کھوتا…..

“تمہاری باتیں میری آنکھوں کے سامنے رقص کرتی ہیں…..
تمہارے الفاظ ذہن کو پرسکون رکھتے ہیں تمہاری صورت میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتی ہے تمہاری موجودگی میری حیات کو بڑھاتی ہے……
اور تم ہو کہ
اب بھی پوچھتے ہو کہ تم میرے لیے کیا ہو؟؟؟
تو سن لو جان من
تم میری جان ہو جاناں!!!”

یوشع مسکرایا…. شعرو شاعری میں محبت… ہممم انٹریسٹڈ……

شفائے جاں – – – !!
میرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ ڈالو تاکہ میرے ہاتھوں کی لکیروں سے بری آفات کا سایہ ہٹ کر اسکی جگہ خوش بختی کی جگہ لے سکے
لمسِ جاں!!
اور اپنی انگلیاں میری آنکھوں پر رکھو تاکہ میری پتلیوں میں ہمیشہ کے لئے آپکا لمس ٹہرسکے….. اور ساری دنیا آپکی عکس میں ڈھل جائے…..”
یوشع مسکرایا…. واہ…..

اے روح من_ مجھے تم سے محبت نہیں عشق ہوا ہے محبت تو ہر کسی سے ہو سکتی ہے__
کسی کے لفظوں سے
کسی ناول کے کردار سے
لمبی سڑک سے
زرد پتوں سے
مجھے عشق ہوا ہے تم سے
اور عشق ہر کسی سے نہیں ہوتا
عشق بس ایک سے ہوتا ہے
اے روح من…..
اور میرا عشق تم سے شروع اور تم پر ختم……
میں بس اتنا جانتی ہو شہری کہ تمہاری اور اپنی آخری سانس تک’ تمھارے جسم کے نحیف البدن ہونے تک’اپنی عمر کے آخری حصے تک میں بس تم سے محبت کرو گی’ تمھاری وفادار رہوں گی’ تمھیں ہمیشہ اپنی بانہوں میں سمیٹ کر رکھوں گی’ میں بس اتنی محبت کرو گی تم سے’ کیونکہ میری محبت کبھی بوڑھی نہیں ہوگی…..” تم صرف میرے ہو یوشع یوسفزئ اب تم اسے حق سمجھو یا قبضہ…..” اس نے اس کے دل پر انگلی رکھ کر اس پہ حق جتایا….. اس کا یہی حق جتانا تو اس کو پسند ہے….. وہ گہرائ سے مسکرایا…. اتنی ہی گہرائ سے ڈمپل واضح ہوا….. المیرا نے ڈمپل کو دیکھا…. کتنی خواہش ہے اس کہ کہ وہ اس کہ ڈمپل کو اپنے لبوں سے چھوۓ…… بس انتظار ہے تو اس چیز کا کہ وہ اس کے لۓ حلال ہوجاۓ…. اس کا محرم بن جاۓ….
یوشع نے مسکراتے اثبات میں سر ہلایا….
بس میری ایک چھوٹی سی خواہش ہے یوشع…. پرسوں جب ہمارا نکاح ہوجاۓ گا’ جب ہم ایک دوسرے کے محرم بن جاۓ گے’ ہم ایک دوسرے کی لۓ حلال ہونگے تب میں چاہتی ہو میں ایک نماز آپ کے ساتھ پڑھوں’ ہم دونوں اپنے رب کا شکر ادا کرے’ اور شکر ادا کرنے کے بعد آپ مجھے سورہ رحمن کی تلاوت کرکے سناؤ اور جب آپ اس آیت پر پہنچے کہ “تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے” تو میں بس آپ کو دیکھو’ اور اس کے بعد آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر پھر اپنے رب کا شکر ادا کرو’ ہاں یوشع آپ میرے لۓ کسی نعمت سے کم نہیں ہے….”
یوشع کے دل کو کتنا قرار ملا تھا ان خوبصورت الفاظوں سے’ اس خوبصورت اظہارے محبت سے…..” کتنی نیک خیالات لڑکی اس کی شریک حیات بننے جارہی ہے…..”
یوشع نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا…..
اوکے اب میں چلتا ہو…..” وہ اس کے بالوں پر اپنے لب رکھتا اٹھ کھڑا ہوا…..
اس نے قدم آگے بڑھادیے تھے…. وہ وہی صوفے پر بیٹھی اس کو جاتا دیکھتی رہی….. دل ایک ہی دم بےچین ہوگیا تھا اس کو جاتا دیکھ….. ایسے لگ رہا ہے جیسے وہ جا تو رہا ہے مگر شاید کبھی نہ واپس آنے کیلۓ…. دل میں ایک عجیب بےچینی ہونے لگی تھی….اور دوسری طرف بھی حال مختلف نہ تھا….. دل تو اس کا بھی بےچین ہوگیا تھا….
یا خدا…..” اب اچانک کیا ہوگیا ہے؟؟
مگر دل کی بےچینی بڑھ رہی تھی…..
شہری….” وہ رکا… پلٹا… المیرا صوفے سے اٹھ کر اس کے پاس آئ…. اس کو دیکھا…. وہ اس کے سینے سے لگی….. یوشع نے بھی اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا کیا….. وہ اس کے سینے سے لگی اس کی دھڑکنوں کی رفتار سنتی رہی…. اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا….. دونوں کے دل بےچین ہوگۓ….. مگر دونوں میں سے کسی نے بھی ایک دوسرے کو کچھ نہیں بتایا…… اس نے سر اٹھا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا…… وہ کالی گہری آنکھیں جو گہری براؤن آنکھوں میں جھانکنے کی گستاخی نہیں کرتی تھی…… براؤن آنکھوں میں جھانکنے سے پہلے ہی کالی آنکھیں حیاء سے جھک جاتی تھی…. آج وہی کالی آنکھیں ان براؤن آنکھوں میں جھانک رہی تھی….. کالی آنکھیں کتنی ہی دیر براؤن آنکھوں میں بنا پلک جھپکے جھانکتی رہی…… اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کا دیکھتی رہی….. المیرا نے ہاتھوں کے پیالوں میں یوشع کا چہرہ بھر کر اس کا سر نیچے جھکایا….. اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے کچھ پل کیلۓ کھڑی رہی…. یوشع آنکھیں بند کیے اس کے لمس کو اپنی پیشانی پہ محسوس کرتا رہا….. آج پہلی بار وہ اس کے لمس کو محسوس کررہا تھا…… وہ اس سے دور ہٹی….. مگر وہ آنکھیں بند کیے کھڑا رہا….. اس کے لمس کو محسوس کرتا رہا….. چند پل بعد اس نے آہستہ سے اپنی پلکیں اٹھائیں….. وہ سامنے ہی نظریں جھکاۓ کھڑی تھی…..
ٹھینک یو…..”
اس نے نگاہ اٹھائ….
کیوں آج دل یوشع کو خود سے دور بھیجنے پر راضی نہیں ہورہا….. کیوں اسے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اگر جاۓ گا تو کبھی واپس نہیں آۓ گا….. کیا اس کا یہ ڈر واقعی سچ ثابت ہوجاۓ گا کہ جس دن آپ سے اپنے پیار کا اظہار کیا اس دن ایسا لگتا ہے آپ کو کھو دوں گی….. وہ یوں ہی کھڑے ایک دوسرے کے نین نقش کو دیکھتے رہے…. دل دونوں کے بےچین مگر بتانا کسی نے نہیں….. یوشع اسے بتانا چاہتا تھا کہ آج ماہی نے مجھے بلایا ہے…. میں اس کے گھر جاؤں گا اس کے پاس….. وہ اسے بتانا چاہتا تھا….. مگر آج الفاظ نکلنے سے انکاری ہورہے تھے…..
جیسے جب کسی کا اس دنیا سے جانے کا وقت آتا ہے تو وہ بھی چپ ہوجاتا ہے…… پھر اس کے بھی الفاظ نہیں نکلتے….. اور وہ اسی خاموشی سے اس دنیا سے چلاجاتا ہے….. شاید جدائ کے وقت میں بھی الفاظ نکلنے سے انکاری ہوتے ہیں…. دل میں کتنی تکلیف ہوتی ہے اتنی تکیلف کہ ہم رو رو کر چینخ چینخ کر دوسروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم تکیلف میں ہے…. مگر گلے میں گلٹی اتنی ابھر جاتی ہے کہ آواز ہی نہیں نکلتی….. ہم کسی کو چاہ کر بھی کچھ نہیں بتا پاتے…… اور پھر انہی تکلیفوں سے ہم گھٹ گھٹ کر لڑ رہے ہوتے ہیں….. زندہ ہوکر بھی مر جاتے ہیں……
یوشع بھی بس چپ کھڑا اس کو دیکھتا رہا….. وہ بھی چپ رہی…… دونوں ہی آنکھوں کی دید بجھاتے رہے….. کیا واقعی اب وہ گھڑی آگئ ہے کہ جب انہوں نے الگ ہوجانا ہے…. آخری دیدار یار کہ پھر ملاقات ہونہ ہو….
ٹیک کئیر…..” یوشع اس کا گال تھپتھپاتا باہر نکل گیا….
فی امان اللّه…..” آج بھی ہر بار کی طرح المیرا نے اس کو دعا دی….. وہ چلا گیا…. مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ سب کچھ ہی اپنے ساتھ لے گیا ہے….
وہ چلا گیا کبھی نہ واپس آنے کیلۓ…..

” کیسے ہوتے ہیں بچھڑنے والے
ہم یہ سوچیں بھی تو ڈر جاتے ہیں “


وہ بجھے دل کے ساتھ ماہی کے گھر پہنچا…. گھر پہ کوئ نہیں… وہ ماہی کے روم کی طرف بڑھ گیا….. روم میں پہنچا…. ماہی اسے دیکھ کر بیڈ سے اٹھی….
آگۓ تم’ آؤ بیٹھو نہ….”
میں بیٹھنے نہیں آیا جو بات کرنی ہے وہ کرو’ پھر میں جارہا ہو…..”
کیا ہوگیا یوشع….” اب میرے ساتھ بھی ایسا کرو گے…..”
اس نے اس کا ہاتھ تھاما…. یوشع نے اپنا ہاتھ چھڑوایا…..
گھر والے کہاں ہیں؟؟؟؟
ماما بابا تو پچھلے دو دن سے چاچو کے گھر ہیں’ تمھیں نہیں معلوم کیا ان کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا تو وہ وہاں گۓ ہیں’ کل صبح واپس آجاۓ گے….”
اور علی وہ کہاں ہے؟؟؟
علی بھائ تو شادی میں گۓ ہیں’ کوئ دور کے ریلیٹو ہے ان کے ہاں گۓ ہیں…..”
ہممم ٹھیک ہے’ تم نے جو بات کرنی ہے وہ کرو’ پھر میں بھی جاؤ…..”
کیا ہوگیا یوشع ابھی تو تم آۓ ہو اور ابھی سے جانے کی لگ گئ’ بیٹھ کر بات کرتے ہیں نہ اور ویسے بھی ہم دوست ہے……”
تصحیح کرلو دوست تھے ہیں نہیں’ ہمارے درمیان کی دوستی بہت پہلے ختم ہوچکی ہے…..”
شہری…..” کیا ہم….”
ایک منٹ ماہین عمران….”
فرسٹ آف آل یہ کہ مجھے شہری بلانے کا حق صرف المیرا کے پاس ہے’ کیونکہ یہ نام اس نے ہی مجھے دیا تھا’ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ کوئ مجھے شہری کہہ کر بلاۓ’ آج تک علی نے بھی مجھے شہری کہہ کر نہیں بلایا تو تم کون ہو؟؟ جب اس سے پہلے تم نے کبھی شہری نہیں بلایا تو اب کیوں بلارہی ہو؟؟ میرا نام یوشع ہے یوشع یوسفزئ’ بہتر ہوگا مجھے اسی نام سے بلاؤ’ اب اپنی بات پوری کرلو…..”
اس کا لہجہ بالکل سپاٹ تھا…..
ماہی کے اندر تک آگ لگ گئ…. مگر کنٹرول کرگئ…..
کیونکہ ابھی غصہ کرنا اس کا پلان بگاڑ سکتا ہے……
اوکے یوشع…..” وہ مسکرائ…
کیا ہم دوبارہ دوست نہیں بن سکتے اور ویسے بھی کل تمھاری مہندی ہے تو کیا دو پل میرے ساتھ نہیں گزار سکتے…..”
اس وقت اس کے لہجے میں اداسی’ معصومیت اور تھکاوٹ تھی…..
یوشع کو مجبوراً ماننا پڑا…..
اوکے ٹھیک ہے…..”
یہ ہوئ نہ بات’ تم بیٹھو میں تمھارے لۓ کچھ لے کر آئ…..”
ماہی اس کی ضرورت نہیں ہے’ ہم بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں…..”
اتنے مہینوں بعد ہم ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے سے بات کرے گے’ تو کیا میں اب اتنا بھی نہ کرو….”
معصومیت ہی معصومیت…..
اچھا اوکے مگر جلدی آنا…..”
ہاےے گڈ تم بیٹھو’ میں یوں گئ یوں آئ…..” وہ چٹکی بجاکر روم سے نکلی…..
یوشع سنگل صوفے پر بیٹھا…..
ماتھے کو دو انگلیوں سے مسلا….. سر میں درد….
سوچوں پر پھر المیرا حاوی ہوگئ….. وہ اپنے ماتھے کو مسلتا کچھ سوچ کر مسکرایا…. محبوب کا پہلا محبت بھرا لمس……
کچھ پل بعد ماہی کولڈ ڈرنک کے دو گلاس لے کر روم میں داخل ہوئ…. ایک یوشع کو دیا…. ایک خود لے کر اسی کے سامنے رکھے سنگل صوفے پر بیٹھی…..
یوشع بتاؤ نہ یار کیا ہم دوبارہ دوست نہیں بن سکتے….”
بن سکتے ہیں اگر تم دوستی کی حد تک رہو اس سے آگے نہ بڑھو تو…..”
اچھا نہ ٹھیک ہے نہیں بڑھ رہی اور ویسے بھی کل تمھاری مہندی ہے اور تمھاری شادی کے بعد میں آؤٹ آف سٹی چلی جاؤں گی کیونکہ مجھ سے نہیں دیکھا جاۓ گا تم دونوں کو ایک ساتھ’ اس لۓ میں تم دونوں کی زندگی سے دور چلی جاؤ گی’ تم دونوں ہمیشہ خوش رہنا ایک ساتھ’ المیرا بہت اچھی ہے تمہارا بہت خیال رکھے گی….”
یوشع نے اثبات میں سر ہلایا…..
آؤٹ آف سٹی جانے کا پلان ابھی بنایا ہے یا پہلے سے بناکر رکھا ہوا ہے’ کیونکہ علی نے مجھے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا’ اور علی نے تم سے وجہ نہیں پوچھی کہ کیوں جارہی ہو؟؟؟؟
تم تو بس باتیں ہی کیے جارہے ہو’ یہ کولڈ ڈرنک تو پی لو رونہ گرم ہوجاۓ گی….”
ہمم پیتا ہو….”
یوشع نے گلاس لبوں سے لگایا…..
ماہی نے بھی گلاس لبوں سے لگاتے تیکھی نظروں سے یوشع کو دیکھا…. طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر آئ…..
اس نے گلاس ہٹایا….
جواب تو دوں میرے سوالوں کا….”
یہ پلان میں نے ابھی بنایا ہے’ بھائ کو کیا جواب دوں گی یہ بھی سوچ لوں گی….
ہممم صحیح….” یوشع نے ایک بار پھر گلاس لبوں سے لگایا….
وہ ایک بار پھر اس کو دیکھ کر مسکرائ…..
یوشع اب ہماری فرینڈشپ ہوگئ ہے تو فرینڈشپ والا ایک ہگ کردو….”
ماہی صاف بات ہے’ ہماری فرینڈ شپ بھلے ہی ہوگئ ہو’ مگر مجھے نہیں لگتا کہ اب ہم پہلے جیسے دوست بن پاۓ گے’ جو رشتہ جو عزت تمھیں اس دل میں دے رکھی تھی’ وہ اب ختم ہوچکی ہے’ کیونکہ ایک بار جب کوئ دل سے اتر جاۓ تو اتنی آسانی سے دوبارہ نہیں چڑھتا’ اسی لۓ تمھیں بھی اب وقت لگے گا واپس سے تمھیں یوشع یوسفزئ کے دل میں اپنا پہلا جیسا مقام بنانے میں……”
ماہی کو پھر غصہ چڑھا مگر پھر ضبط کرگئ…..
ہاں اتنا ضرور کرسکتا ہو’ ہگ تو نہیں مگر ہینڈشپ ضرور کرلوں گا…..”
یوشع نے مسکراتے ہوۓ اپنا ہاتھ آگے بڑھایا…..
اوکے کوئ نہیں یہی صحیح….”
اس نے اس سے ہاتھ ملایا…..
یوشع کے سر میں ایک بار پھر درد کی شدید ٹیس اٹھی…. دو انگلیوں سے پھر ماتھے کو مسلا….
اوکے میں چلتا ہو….”
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنے لگا تھا…. وہ صوفے سے اٹھا…..
لڑکھڑا کر واپس صوفے پر بیٹھا….
واٹ ہیپنڈ یوشع’ آر یو اوکے؟؟؟”
ہمم اوکے…..” وہ ایک بار پھر کھڑا ہوا….. دوقدم آگے بڑھاۓ…. سر حد سے زیادہ گھومنے لگا تھا….. وہ لڑکھڑا کر ایک بار پھر گرنے لگا تھا….
ماہی نے آگے بڑھ کر اسے تھاما…
یوشع تم ٹھیک نہیں لگ رہے یار….”
وہ حد سے زیادہ اس کے قریب تھی….
یوشع نے آنکھیں بند کرکے سر کو جھٹکا دیا…..
میں ٹھیک ہو’ تم ذرا دور….”
اس نے ماہی کو خود سے دور کیا…. دو قدم اور آگے بڑھاۓ……
اس کے قدموں میں لڑکھڑاہٹ تھی….
یوشع تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے یار’ تم ادھر بیڈ پہ چلو’ وہ اسے سہارا دیتی بیڈ تک لائ….
پتا نہیں چکر آرہے ہیں….” یوشع سے خود کا وجود سنبھالنا مشکل ہورہا تھا…… اس نے اپنا سارا وزن ماہی پر ڈال رکھا تھا…. وہ مشکلوں سے اسے بیڈ تک لائ…. وہ اسے بیڈ پر لٹانے لگی تھی…..
وہ خود بھی اس کے ساتھ ہی بیڈ پر گری….
وہ نیچے اور یوشع اس کے اوپر تھا….. یوشع کے لب اس کی گردن پر رکھے گۓ……..
______

صبح اپنے معمول پر ہوئ تھی….. مگر آج کی یہ صبح کسی کیلۓ اچھی نہیں تھی….. یوشع بیڈ پر لیٹا سورہا تھا….. اس کی آنکھوں میں جنبش ہوئ تھی…. ماتھے پہ بل آۓ….. اس نے ہاتھ اٹھا کر ماتھے کو مسلا…. اس کی آنکھیں بند تھی…. سر میں شدید درد ہورہا تھا…. آنکھیں کھلنے سے انکاری تھی….. اس کے کانوں میں کسی کی سسکیوں کی آواز گونجی…. اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی….. مندی مندی سی نظر چھت پر گئ….. اس نے پوری آنکھیں کھولی….
یہ تو اس کے روم کی چھت نہیں ہے…..
وہ فوراً اٹھ کر بیٹھا…. نظر زمین پر بیٹھ کر روتی ماہی پر پڑی….. اس نے حیرت بھری نظروں سے پہلے ماہی کو پھر ماہی کے روم کو اور پھر اپنے آپ کو دیکھا…..
میری شرٹ….”
اس نے خالی نظروں سے ایک بار پھر ماہی کو دیکھا…. پھر بغیر شرٹ کے اپنے وجود کو دیکھا…..
خطرے کی بو محسوس ہوئ…..
یااللّه!! اس نے فوراً اپنی شرٹ پہنی….. چھلانگ مار کر بیڈ سے نیچے اترا…..
ماہی کیا ہوا ہے؟؟ ایسے کیوں رورہی ہو؟؟”
اسکی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی’ ایک ڈر تھا…..
کہ وہ جو سوچ رہا ہے وہ بات سچ نہ ہوجاۓ…..
اس نے ماہی کے بازو کو تھاما…..
دور ہٹو مجھ سے گھٹیا انسان….. “
اس نے آئبرو اچکائ……
ماہی کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ گی؟؟؟؟
کیا تمہیں کچھ یاد نہیں رات میں تم نے کیا کیا؟؟؟؟
ماہی….. “
اس نے ایک بار سر کو تھاما…..
گریٹ یوشع یوسفزئ…..” کسی کی عزت کے ساتھ کھیل گۓ ہو اور یاد بھی نہیں…..”
نہیں…..” وہ نفی میں گردن ہلاتا پیچھے ہٹا….. اس نے اپنے سر کو تھاما….
میں نے بھائ کو بھی بلالیا ہے’ میں نے تم پر بھروسہ کیا اور تم…..”
نہیں تم جھوٹ بول رہی ہو’ میں نے کچھ نہیں کیا……”
اسے کچھ کیوں نہیں یاد آرہا……
اس نے سر پر زور دینے کی کوشش کی…..
علی روم میں داخل ہوا….. ماہی دوڑ کر علی کے سینے سے لگی…..
بھائ اس نے میرے ساتھ’ میری عزت’ بھائ آپکی بہن کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں رہی……”
یوشع نے نفی میں گردن ہلائ…. اسے کچھ کیوں یاد نہیں آرہا…..
علی نے حیرانگی کی کیفیت میں اپنے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روتی ماہی کو دیکھا اور اسی حیرانگی سے یوشع کو دیکھا……
وہ نفی میں گردن ہلارہا تھا……
وہ جس کو کسی سے ڈر نہیں لگتا تھا…. وہ جس کے غصے سے سب ڈرتے تھے….. آج وہ خود ڈر رہا تھا…. اس کے چہرے پر سواۓ ڈر کے اور کچھ نہیں تھا…..
علی کو غصہ چڑھا…. روم میں داخل ہوتے مسز عمران اور عمران صاحب بھی ماہی کی بات سن چکے تھے…..
یوشع تم……” علی نے اس کا کالر پکڑا….
علی پلیز’ میں نے میں نے کچھ نہیں کیا’ مجھے کچھ یاد نہیں آرہا…..”
یوشع نے ایک بار پھر سر کو تھاما….. ماہی اپنے باپ کے سینے سے لگی رورہی تھی…..
یوشع نے ایک بار پھر سر پر زور دیا….. دماغ کی رگیں ابھرنے لگی تھی…… اسے یاد آرہا تھا…… علی نے اس کا کالر چھوڑا…..
وہ ماہی کے ساتھ بیٹھا باتیں کررہا تھا…… اس کے سر میں درد تھا بہت زیادہ…. اس نے کولڈ ڈرنک پی….. اس کو چکر آنے لگے تھے….. ماہی نے اسے تھام رکھا تھا….. وہ اس کے ساتھ بیڈ پر اس کے اوپر گرا تھا….. اس کے لب اس کی گردن پر تھے….. وہ سب سوچ رہا تھا…..
یوشع کا چہرہ سفید پڑنے لگا…..
عمران صاحب نے یوشع پر ہاتھ اٹھانا چاہا…. علی نے روک دیا…..
نہیں بابا خدا کیلۓ ایسا مت کرنا…..”
یوشع نے ایک بار پھر سر پر زور دیا……
اس نے اس پر اپنی گرفت سخت کی تھی….. یوشع کی آنکھیں حیرت سے پھٹی…..
ماہی کی آواز کانوں میں گونجی تھی…. یوشع یہ کیا کررہے ہو؟؟ ہٹو میرے پہ سے….. یوشع چھوڑو مجھے…..”
مگر اس نے اس پر اپنی گرفت سخت کی تھی…..
اسے یاد آگیا تھا مگر اس سے آگے اسے کچھ اور کیوں نہیں یاد آرہا…..
اس نے ایک نظر ماہی کو دیکھا……
وہ اپنے سر کو تھامتا زمین پر بیٹھتا چلا گیا…..
یااللّه یہ میں نے کیا کردیا……
وہ یوشع جو مشہور تھا کہ لڑکیوں کی عزت کرتا ہے’ اپنی جان سے کھیل جاۓ گا مگر کسی کی عزت سے نہیں’ یہ عزت کی ہے یوشع یوسفزئ تم نے ماہین عمران کی’ کیا بگاڑا تھا میری بیٹی نے جو تم نے ایسا کیا؟؟ کسی کو منہ دیکھانے کے لائق نہیں چھوڑا…..” مسز عمران غصے سے پھنکاری تھی…..
علی نکاح خواہ کا انتظام کرو’ ان دونوں کا نکاح ابھی ہوگا’ تمھیں ذرا بھی شرم نہیں آئ تمھاری آج مہندی تھی’ کل نکاح بھی ہوجاتا کیا ضرورت پڑی تھی تمھیں یہ سب کرنے کی’ اتنی بھی شرم حیاء نہیں بچی تھی تم میں’ علی یوسف صاحب کو بھی کال کرکے بلاؤ’ تاکہ انہیں بھی معلوم پڑے ان کے چہتے لاڈلے اکلوتے بیٹے نے کیا حرکتیں کی ہے……”
نہیں نہیں بابا کو کچھ مت بتانا’ وہ وہ برداشت نہیں کرپاۓ گے’ خدا کیلۓ انہیں کچھ مت بتانا….”
اس کے تو ذہن میں المیرا سوار تھی کہ المیرا کا سامنا کیسے کرو گا…..”
ناک کٹوا کر رکھ دی اس لڑکے نے شام میں سب مہمانوں نے آجانا ہے کیا جواب دے گے ان کو کہ یوشع یوسفزئ نے کیا حرکتیں کی ہے’ ایک لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیل گیا…..”
یوشع نے کانوں پر ہاتھ رکھے…..
عمران صاحب بھی غصے سے یوشع کو گھور رہے تھے انہیں امید نہیں تھی کہ وہ ایسی حرکتیں کرے گا….. ماہی اب تک کھڑی رو رہی تھی…..
علی صرف آدھا گھنٹہ ہیں تمھارے پاس تم نے جو کرنا ہے کرو ان کا نکاح ابھی ہوگا’ میں بھی دیکھتی ہو کون نکاح سے انکار کرتا ہے…..”
یوشع نے نفی میں گردن ہلائ…..
ماما آپ جاۓ یہاں سے ماہی کو لے کر جاۓ….”
تم چلو میرے ساتھ…..”
وہ ماہی کا ہاتھ تھامے باہر نکل گئ…..
بابا پلیز آپ بھی جاۓ یہاں سے’ مجھے یوشع سے بات کرنی ہے…”
اس نے تمھاری بہن کے ساتھ اتنا غلط کیا تمھیں اب بھی اس کے ساتھ بات کرنی ہے’ تمھیں اب بھی اپنی دوستی نظر آرہی ہے……”
ہاں آرہی ہے مجھے دوستی نظر’ کیونکہ میرا دل ماننے کو اب تک تیار نہیں ہے کہ یوشع یوسفزئ کسی کے ساتھ ایسی حرکتیں کرے گا’ جتنا میں نے یوشع کو جانا ہے اتنا کسی نے نہیں جانا اور اب پلیز آپ جاۓ یہاں سے مجھے بات کرنے دے…..”
تم بہت پچھتاؤ گے علی جب حقیقت تمھارے سامنے آۓ گی…..”
وہ بھی کہتے روم سے نکل گۓ……
یوشع گردن جھکاۓ بیٹھا تھا…. علی بھی گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا…..
یوشع مجھے صرف سچ جاننا ہے……” علی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا…..
تمہیں اپنی بہن کی باتوں پر یقین نہیں ہے…..”
یوشع میں نے صرف سچ سننا ہے…..”
مجھے کچھ یاد نہیں آرہا علی’ مجھے کچھ نہیں یاد کہ میں نے کچھ کیا ہو…..”
مجھے بس اتنا یاد ہے تمھاری بہن نے خود مجھے فون کرکے بلایا تھا کہ بات کرنی ہے’ میرے سر میں درد ہورہا تھا’ ماہی کولڈ ڈرنک لے کر آئ ہے ‘ ہم نے بات کی ہے’ اس کے بعد جب میں جانے لگا ہو تو مجھے چکر آگۓ تھے وہ مجھے سنبھال رہی تھی’ ہم بیڈ پر ایک ساتھ گرے تھے’ میں اس کے اوپر تھا’ میرے لب اسکی گردن پر رکھے گۓ تھے اور پھر……” وہ خاموش ہوگیا….. آگے وہ کیسے بتاۓ…….
اور پھر کیا؟؟؟
میں ہوش میں نہیں تھا’ میں نے اس پر اپنی گرفت سخت کی تھی میرے کانوں میں اس کے بس یہ الفاظ گونجے تھے کہ یوشع ہٹو میرے پہ سے’ چھوڑو مجھے کیا کررہے ہو؟؟”
اس کے بعد کیا ہوا کیا نہیں مجھے کچھ نہیں یاد…..”
المیرا کی قسم کہا کر کہتا ہو مجھے کچھ نہیں یاد…..”
علی نے غصے میں مٹھی کو بھینچا…..
علی میں نکاح نہیں کرو گا’ میں المیرا سے محبت کرتا ہو میں صرف اس سے نکاح کرو گا’ میرا یقین کر علی مجھے کچھ نہیں یاد…..”
نکاح تو تمھادا ماہین عمران کہ ساتھ ہی ہوگا’ تم میری بہن کی عزت خراب کرچکے ہو’ کون اس سے شادی کرے گا اب’ تمھارے بقول کہ تمھارے لب اسکی گردن پر رکھے گۓ تھے’ تم نے اس پر اپنی گرفت بھی سخت کی’ اور اس کی آواز بھی تمھارے کانوں میں گونجی کہ وہ تمھیں خود سے دور کررہی تھی ہٹو میرے پر سے چھوڑو مجھے…..”
یوشع نے اپنا سر تھاما….. علی اٹھ کھڑا ہوا….. تیار ہوجاؤں یوشع یوسفزئ نکاح کیلۓ…..”
وہ روم سے نکل گیا…..
آنسو ٹوٹ کر یوشع کے گال پر لڑھکا…..
یااللّه یہ کیسا امتحان لے رہا ہے اپنے گنہگار بندے کا’ اگر ماہی کو ہی میرا نصیب بنایا ہوا تھا تو کیوں المیرا کو میری زندگی میں بھیجا؟؟ کیوں اس کو میری زندگی بنایا؟؟ یا اللّه میں نہیں جانتا میں نے کچھ کیا بھی ہے یا نہیں مگر آپ سب جانتے ہیں’ یا اللّه میری مدد کر’ مجھے ہمت دے کے میں المیرا کا سامنا کرسکوں’ یا اللّه میری مدد کر مجھے سب یاد آجاۓ رات میں کیا ہوا تھا کیا نہیں…..”
ہوشع کا ذہن بالکل کام نہیں کررہا تھا اس وقت’ کہ وہ کیا کرے کیا نہ کرے’ ایک طرف ماہی جس کی عزت کے ساتھ کھیلنے کا الزام لگایا گیا ہے تو دوسری طرف المیرا جس سے کل نکاح ہونا ہے’ اسے بھول گیا اس وقت سب کچھ حماد کی وہ باتیں’ کہ ماہی تمھیں پانے کیلۓ کسی بھی حد تک جاسکتی ہے’ اسے یہ بھی بھول گیا کہ ماہی نے بھی کہا تھا کہ تمھیں اپنا ہر حال میں بناکر ہی رہوں گی’ اس کا ذہن مفلوج ہوچکا تھا….. اسے کچھ یاد نہیں آرہا تھا….. ایسے موقعوں پر کس کا ذہن کام کرتا ہے…..
___________

المیرا یوشع کے گھر آئ تھی…. لاؤنج میں یوسف صاحب بیٹھے تھے….. وہ اٹھ کر اس کے پاس آۓ…. خیر ہے میری بیٹی صبح صبح یہاں….
بابا یوشع گھر پر ہے کیا؟؟؟
نہیں بیٹا’ میں رات کو جب گھر آیا تو مجھے لگا شاید اپنے روم میں سورہا ہوگا’ مگر صبح اٹھ کر پتا چلا کہ وہ جناب تو ساری رات گھر ہی نہیں آۓ’ میں کئ بار اس کا فون ٹراۓ کرچکا ہو’ بیل جارہی ہے مگر وہ اٹھا نہیں رہا…..”
کیا بات ہے کوئ بات ہوئ ہے بیٹا…..”
بابا میرا کل سے دل بہت بےچین ہورہا ہے’ کل وہ میرے ساتھ ہی تھے اس کے بعد تو ان کو گھر ہی آنا چاہیے تھا پھر وہ کہاں گۓ’ وہ میری بھی کال نہیں اٹھارہے’ میرا دل بہت گھبرارہا ہے…..”
اسے کچھ نہیں ہوگا کیوں ٹینشن لےرہی ہو’ کیا پتا کسی کام سے گیا ہو’ اس کا موبائل سائلنٹ پہ ہو اسے آواز نہ آرہی ہو…….”
المیرا کی آنکھوں میں آنسوں آۓ…..
اب وہ انہیں کیسے سمجھاۓ کہ یہ بےچینی کس چیز کی ہے’ کل رات سے اس کو کتنے عجیب عجیب سے وسوسے آرہے ہیں…..
آنے دو ذرا اس نالائق کو’ اس کی خیر نہیں میری بیٹی کو پریشان کررہا ہے’ اس کے تو میں کان کھینچوں گا…..”
وہ بجھے دل سے مسکرائ…..
اس نے علی کو کال ملائ…. علی نے کال اٹھائ….
بھائ یوشع آپکے ساتھ ہے…..” وہ چپ رہا….
بتاۓ نہ بھائ…..
ہممم میرے ساتھ ہے….”
کتنی بری بات ہے بندہ ایک کال یا میسج کرکے بتاہی دیتا ہے میں یہاں ہو’ میں کتنی پریشان ہورہی ہوں…..”
تم کہاں ہو؟؟؟
یوشع کے گھر….”
میرے گھر آجاؤ…..”
خیریت…..”
آجاؤ یار…..”
اوکے آتی ہو…..” اس نے موبائل رکھا
وہ علی بھائ کے گھر ہے وہ مجھے بلارہے ہیں’ میں ان کے جارہی ہو….”
اوکے بیٹا’ مگر ان دونوں نالائقوں سے کہہ دینا کہ تیاریاں بہت کرنی ہے آوارہ گردیاں مت کرے’ گھر آکر تیاریاں کرے…..”
جی بابا…..”
وہ چلی گئ…..
___________

علی کے گھر سب لاؤنج میں موجود تھے….. نکاح ہورہا تھا….. المیرا بھی وہی آئ…..
آنکھیں حیرت سے پھٹی….. یوشع نکاح نامے پر سائن کررہا تھا……
اس نے نکاح کرلیا….. یوشع نے نگاہیں اٹھائ…. اس کی خوشبو اس کو محسوس ہوگئ تھی…. وہ سامنے ہی کھڑی حیرت بھری نگاہوں سے یوشع کو دیکھ رہی تھی……
دعاں کروائ جارہی تھی….. سب دعا کررہے تھے…. مگر وہ بس المیرا کو دیکھ رہا تھا….. مبارکبادیں دینے کے بعد ایک دو گواہ اور نکاح خواہ چلاگیا…..
المیرا کی انکھ سے آنسوں برسے….
المیرا میری بات سنو!!!” یوشع اس کے پاس آیا…….
دور رہو مجھ سے’ قریب مت آنا میرے…..”
اس کے قدم وہی رک گۓ……
تم نے دھوکہ دیا’ یہ تمھاری محبت تھی’ تم نے نکاح کرلیا’ آج ہماری مہندی تھی….”
نہیں المیرا میری بات سنو!! میں تمھیں بتاتا ہو سب کچھ’ مگر میری بات سن لو…..”
اس کے لہجے میں کتنی التجا تھی…..
کیا سناؤ گے کہ کیسے نکاح کیا؟؟ کیا سناؤ گے تمھاری محبت جھوٹی تھی؟؟؟ کیا سناؤ گے کہ تم نے محبت کا جھوٹا ناٹک کیا؟؟ میرے جزبات کے ساتھ کھیلا؟؟؟ کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں؟؟؟ بولو؟؟ جواب دو؟؟
اس نے اپنی مٹھی میں اس کا کالر جکڑا……
وہ اس کو دیکھے جارہا تھا……
ماہی بھی وہاں آئ….. مسز عمران بھی تھی…..
یہ کیا تمھیں بتاۓ گا؟؟ میں تمھیں بتاتی ہوں اس نے کیا کیا ہے؟؟
المیرا کو سب کچھ بتایا گیا…..
وہ اس کا کالر چھوڑ کر دو قدم اس سے دور ہٹی……
یویویوشع…….” وہ نظریں جھکاۓ کھڑا تھا…. المیرا کو یقین نہیں آرہا تھا اس نے جو سنا وہ سب سچ ہے……”
المیرا نے ماہی کو دیکھا جو رونے لگی تھی…..
وہ ماہی کے قریب گئ……
اپنی انگیجمنٹ رنگ اتار کر اس کے ہاتھ میں رکھی….. گلے میں سے یوشع کے نام کا لوکٹ اتارا……. جو اس نے اس دن خود پہنایا تھا……
وہ بھی ماہی کی ہتھیلی پر رکھا…..
نکاح مبارک ہو…..”
اس کا دل ٹوٹ گیا…. بےدردی سے آج اس کا یقین اس کا مان توڑ دیا گیا تھا….. اس کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے گۓ تھے…..
وہ کسی سے کچھ بھی بولے بغیر کسی کو کچھ بھی کہہ بغیر وہاں سے جانے لگی تھی……
مسز عمران ماہی کو ایک بار پھر اندر لے گئ تھی….
یوشع نے المیرا کا ہاتھ تھام کر اس کو روکنا چاہا……
لیو مائ ہینڈ…..” منہ موڑے موڑے کہا…….
نہیں المیرا خدا کے واسطے میرے ساتھ ایسا ظلم مت کرو…..”
وہ غصے میں پیچھے مڑی…..
ظلم مت کرو ‘ ظلم تو میرے ساتھ کیا گیا ہے’ کیا بگاڑا تھا اس نے تمھارا جو تم نے اس کے ساتھ ایسا کیا؟؟ تم جانتے تھے یوشع میرا تمھارے علاوہ اب کوئ نہیں ہے ‘ نہ ماں ہے نہ باپ ہے نہ دادی ہے’ ایک تم تھے میرے اپنے’ آج تم بھی میرے اپنے نہ رہے’ آج ہماری مہندی تھی کچھ تو خیال کرلیتے کل نکاح بھی ہوجاتا’ تم سے ذرا بھی انتظا نہیں ہوا……”
المیرا…..” اس نے نفی میں گردن ہلائ……
تمھیں مجھ پر یقین نہیں…..”
سب سے زیادہ تمھی پر یقین تھا’ تم نے آج وہ بھی توڑ دیا…..”
یوشع کا بھی دل بری طرح ٹوٹا تھا…. ایک وقت تھا جب وہ اس کیلۓ دنیا سے لڑرہا تھا وہ لوگوں سے کہہ رہا تھا کہ اگر ساری دنیا بھی مجھےآکر کہے گی کہ المیرا بدکردار ہے تو کبھی کسی کی بات کا یقین نہیں کرو گا’ اس کے پاک دامن ہونے کی گواہی میں دو گا’ اور ایک آج کا وقت ہے جب وہ اس کو چھوڑ کر سب کی باتوں پر یقین کررہی ہے’
آہ!!! وہ یقین کیسے کرے گی جب اسے خود بھی یہ بات ابھی ٹھیک سے نہیں معلوم کہ اس نے ماہی کے ساتھ کچھ کیا بھی ہے یا نہیں…..”
نہیں…..” اس نے اسے دونوں بازؤں سے تھام کر دیوار کے ساتھ لگایا…. یہاں ان دونوں کے علاوہ بس ایک علی تھا…..
میں تمھیں کہیں نہیں جانے دوں گا تم ہمیشہ اپنی چلاتی ہو’ میں میں نہیں جانے دو گا تمھیں کہی بھی نہیں جاؤ گی مجھے چھوڑ کر ‘ میں تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا’ نہیں…..”
اسنے اپنا ماتھا اسکے ماتھے پر ٹکایا……
آنکھوں سے آنسوں جاری تھے دونوں کے….
المیرا نے منہ پرے کیا……
یوشع دور ہٹو!!!
اس نے نفی میں گردن ہلائ….
میں نے کہا دور ہٹو……”
میں نہیں جانے دو گا تمھیں کہیں…..” اس کے ہونٹ کپکپانے لگے تھے…..
آئ سیڈ لیو می….” اس نے اسے دھکا دیا تھا…..
سٹے آوے فرام می’ گھن آرہی ہے مجھے تمھارے وجود سے’ نفرت ہونے لگی ہے مجھے تمھارے وجود سے یوشع یوسفزئ…..”
یوشع کی سانسیں ساکت ہوئ تھی…..
آئ ہیٹ یو…..”
تم ایک حوس پرست انسان ہو’ میرے سامنے اچھے بننے کا ڈھونگ رچتے اور پیٹھ پیچھے یہ کام کرتے ہو’ یہ تمھاری محبت تھی’ اگر شادی ہی کسی اور سے کرنی تھی تو مجھ سے محبت ہی کیوں کی؟؟ کیوں آۓ میری زندگی میں؟؟ کیوں اپنے ہونے کا احساس دلایا؟؟ کیوں کیا تم نے یہ سب؟؟؟ تمھارا میرا رشتہ ختم’ ختم ہوگیا سب کچھ……”
کل رات تک وہ کہہ رہی تھی کہ صرف آپکی وفادار رہو گی’ صرف آپ سے محبت کرو گی…. اور آج اس نے سب کچھ ختم کردیا اس کی محبت دو پل میں ختم ہوگئ……
وہ قدم قدم چلتی اس کے قریب آئ…..
یوشع نے اسکی آنکھوں میں دیکھا……
جن میں مان ٹوٹنے کی تلکیف تھی……
کتنی تکیلف تھی ان آنکھوں میں……
ہیپی میریڈ لائف یوشع یوسفزئ……”
کل رات تک وہ کہہ رہی تھی اپنی آخری سانس تک آپ سے محبت کرو گی آپ کی وفادار رہوں گی…..” اور آج اس کی محبت اس کی وفاداری سب ختم ہوگئ…..
اس کے لہجے میں نفرت تھی…. یوشع نے آنکھیں بند کی…. وہ جو اگر اس کو یوشع یوسفزئ کہہ کر بھی بلاتی تھی تو ہمیشہ ان الفاظوں میں محبت ہوتی تھی….. مگر آج یوشع یوسفزئ کہنے میں نفرت تھی…. دو پل میں اسکی محبت نفرت میں بدل گئ……
وہ اس کے پاس سے گزر گئ…..

وہ گنہگار نہیں تھا پھر بھی گنہگار بنادیا گیا تھا……”
المیرا کی نظروں میں اس کو گرادیا گیا تھا…..”

وہ بھی اس کے پیچھے گیا…..
المیرا خدا کیلۓ رک جاؤ…..”
علی اس کے راستے میں حائل ہوا تھا…..
اس نے یوشع کو پکڑا…..
یوشع اسے جانے دوں…..”
نہیں علی اسے روک وہ کہاں جاۓ گی یار’ اس کا کوئ نہیں ہے’ وہ بالکل اکیلی ہے…..”
اسے جانے دو…..”
علی چھوڑ مجھے……
وہ زمین پر بیٹھا تھا…..
المیرا میں تمھارے بغیر مر جاؤں گا واپس آجاؤ…..”
اس کے چلتے قدم ایک پل کیلۓ تھم گۓ تھے….. مگر صرف ایک پل کیلۓ….
یوشع نے اپنے ہاتھ پھیلاۓ….
المیرا خدا کیلۓ واپس آجاؤ…..” اس کی اواز آہستہ ہوگئ تھی……
وہ پیچھے دیکھے بغیر آگے بڑھ گئ…. وہ لاؤنج سے نکل گئ……

تیری ابتدا کوئی اور تھا…..
تیری انتہا کوئی اور تھا….

تیری بات ہم سے ہوئی تو کیا؟؟
تیرا آشنا کوئی اور تھا….

ہمیں شوق تھا بڑی دیر تک……
تیرے ساتھ شریکِ سفر رہیں……

تیرے ساتھ چل کے خبر ہوئی….
تیرا راستہ تو کوئی اور تھا…..


مجھے شوق تھا تیرے ساتھ کا
جو نہ مل سکا چلو خیر ہے
میری زندگی بھی گزر جاے گی
تو بھی جا چکا چلو خیر ہے
یہ جو بے بسی ہے چار سو
اور الجھے الجھے سے طور ہیں
تجھے سب خبر ہے مگر تو کیوں!
نہ سمجھ سکا, چلو خیر ہے
کبھی تم کو ضد تھی کہ میں ملوں
کبھی میں بضد تھی کہ تو ملے
یونہی دھیرے دھیرے ختم ہوا
یہ بھی سلسلہ چلو خیر ہے……!!


علی روک لے اسے…..”
تمھارا ماہی سے نکاح ہوچکا ہے’ اب المیرا سے تمھارا کوئ رشتہ نہیں…..”
علی…..” اس نے خالی نظروں سے علی کو دیکھا…..
علی نے نظریں جھکائ…….
وہ رونے لگا تھا…. اس کا سر گھوم رہا تھا…… چند پل لگے تھے یوشع کو اپا ہوش کھونے میں…. چند پل میں ہی وہ حوش و خرد سے بیگانہ علی کی بانہوں میں گرا تھا….
یوشع یوشع…..” اس نے اس کا گال تھپتھپایا…..
بابا…..” وہ چینخا تھا…. وہ روم سے نکل کر آۓ…. یوشع کے وجود کو دیکھا…. دوڑ کر اس کے پاس آۓ…..
علی اس کے گال کو تھپتھپاتا اسے ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا…..
یوشع یار اٹھو…..” وہ بالکل پاگل ہی تو ہورہا تھا اس کے وجود کو اس طرح دیکھ کر….. اس کا خان سے زیادہ عزیز دوست…. اس قدر عزیز ہوگیا کہ اپنی بہن سے زیادہ اس نے یوشع کا یقین کیا…. اس کے کہے پر یقیں کیا…..
________
المیرا بہت تیز ڈرائیونگ کررہی تھی…… انکھوں میں بار بار پانی جمع ہوجاتا….. جس کو بے دردی سے رگڑ دیتی…. پانی کی وجہ سے آس پاس کا منظر دھندلا ہوجاتا…… اس کے ذہن سے نہیں نکل رہی مسز عمران کی باتیں…. اس کا دل و دماغ بھی اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہیں کہ یوشع یہ سب کر سکتا ہے….. آس پاس کا منظر دھندلا ہونے لگا…. وہ بار بار آنسوں صاف کررہی تھی…..

جاری ہے_____