Episode 41
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
اس نے علی کو بھی کال کرکے ڈاکٹر کے ہاں آنے کا کہہ دیا تھا….. چند پل بعد وہ تینوں ہوسپٹل میں تھے….. ماہی کے ٹیسٹ کرلیے گۓ تھے…. ارجنٹ رپورٹس تیار کروانے کا کہا تھا….. آخر یوشع کا سوشل سرکل بھی تو کتنا بڑا ہے….. دو تین گھنٹے انتظار کے بعد رپورٹ بھی آگئ تھی….مگر رپورٹ کو دیکھ کر ہوش اڑے تھے….. سب سے پہلے یوشع نے خود دیکھی تھی….. اس کے ہاتھ سے رپورٹ گرتے گرتے بچی تھی….. اس نے ماہی کو دیکھا…. وہ بھی اسی کو دیکھ رہی تھی……
میں جھوٹ نہیں بول رہی…..” وقت بتاۓ گا کس نے شرمندہ ہونا ہے…..”
یوشع نے آنکھیں میچی تھی….
علی نے یوشع سے رپورٹ لے کر خود ریڈ کی….. اس نے یوشع کو دیکھا…..
مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی یوشع کہ تم اس حد تک گرجاؤ گے’ سب سے زیادہ میں نے تم پر بھروسہ کیا تھا’ اپنی بہن سے زیادہ تمھاری باتوں پر یقین کیا تھا……” وہ رپورٹس یوشع کے ہاتھ میں واپس تھماتا آگے بڑھ گیا….. ماہی کے قریب رکا….. اس کو دیکھا… اس کے سر پر ہاتھ رکھا…..
جیسا میں نے کل کہا تھا اگر بات سچ ثابت ہوئ تو تمھارا بھائ ہر موڑ پر تمھارے ساتھ کھڑا ہے’ میں اب ہر موڑ پر تمھارے ساتھ کھڑا ہو کیونکہ جس پر مجھے خود سے زیادہ یقین اور اعتماد تھا اس نے بےدردی سے آج توڑ دیا…..” یوشع کو دیکھ کر کہا….. وہ تو بس ہاتھ میں پکڑی فائل کو ہی دیکھ رہا تھا….. اس کہ رپورٹ یوزیٹیو تھی…. یعنی وہ اسکی عزت کے ساتھ کھیل چکا….. وہ اس کہ عزت خراب کرچکا…. علی نے ماہی کو دیکھا….
سوری فور ایوریتھنگ……” علی نم آنکھوں سے آگے بڑھ گیا….. یوشع کی تو دنیا ہی تہس نہس ہوگئ تھی…..
اگر رپورٹ پوزیٹیو آئ تو تمھیں ماہی کو اپنی بیوی ماننا ہی ہوگا’ المیرا کو بھولنا ہوگا…..”
یوشع نے نفی میں گردن ہلائ…..
نہیں یہ میرے بس میں نہیں ہے’ المیرا کو بھولنا اپنی سانسوں کو بند کرنا’ یہ میرے بس میں نہیں…..”
**
گھر آتے ہی یوشع واشروم میں جاکر بند ہوگیا تھا….کتنے ہی پل گزرے گھڑی کی سوئیاں گھوم رہی تھی… مگر یوشع باہر نہیں آیا… کتنا ہی وقت گزرنے کے بعد وہ باہر آیا تھا…. بظاہر تو وہ فریش لگ رہا تھا مگر اسکی آنکھیں حد سے زیادہ لال ہورہی تھی…. ناک بھی لال تھی…. اس نے بیڈ پر بیٹھی ماہی کو دیکھا…. غصے سے دماغ کی رگیں ابھرنے لگی تھی….. ماہی بھی اس کو غصے سے خود کی طرف بڑھتا دیکھ بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئ…. اس نے اس کے بازوؤں کو دبوچا….
آگر آج کے بعد تم مجھے میرے روم کے اندر یا میرے روم کے آس پاس بھی نظر آئ تو جان سے ماردوں گا تمھیں آئ سمجھ…..” وہ دھاڑا تھا….
اس نے ڈر کر آنکھیں بند کی…..
میں تمھاری بیوی ہو اب تو رپورٹس میں بھی آگیا ہے کہ کیا سچ ہے کیا جھوٹ’ اس کمرے پہ میرا بھی حق ہے……” وہ بھی روانی سے بولی….
یوشع نے اس کے جبڑے کو بھینچا…..
میں نے تمھیں اپنے نکاح میں ضرور لے لیا ہے ماہین عمران مگر تمھیں اپنی بیوی کے روپ میں اب تک تسلیم نہیں کیا ہے؟؟؟ اس کمرے پر اس کمرے کی ہر ایک چیز پر اور مجھ پر صرف المیرا کا حق ہوگا اور یہ حق میں کبھی کسی کو نہیں دو گا…..”
وہ طنزیہ مسکرائ…..
اپنا تو تم مجھے پہلے ہی چکے ہو’ اور تمھارے کہنے سے کچھ نہیں ہوجاۓ گا شرعی طور پر اب میں تمھاری بیوی ہو’ تم پر تمھاری ہر ایک چیز پر میرا حق ہے’ میں ماہین عمران نہیں اب ماہین یوشع یوسفزئ بن چکی ہو…..” وہ بھی غصے سے بولی……
یوشع کا ہاتھ ایک بار پھر اٹھا تھا….. وہ جو مشہور تھا کہ لڑکیوں کی عزت کرتا ہے…. کسی لڑکی پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے اسکی تربیت آڑے آجاتی تھی….. آج وہ اپنی تربیت کو بھول گیا تھا….اس نے اپنے والدین سے سیکھا تھا عورتوں کی عزت کرنا…. اس نے اپنے باپ سے سیکھا تھا ایک عورت اپنی بیوی سے کس طرح سے محبت کی جاتی ہے مگر آج وہ سب کچھ بھول گیا تھا…. آج وہ اپنی ماں کی وہ باتیں بھی بھول گیا تھا جس نے کہا تھا اپنی مردانگی عورت پر ہاتھ اٹھا کر کبھی ظاہر مت کرنا…. وہ بھول گیا اپنے باپ کا اپنی ماں کیلۓ وہ پیار جس سے اس نے سیکھا تھا کہ اپنی بیوی کی کیسے عزت کی جاتی ہے…. آج وہ سب کچھ بھول گیا تھا اپنے غصے میں…. آج وہ عورت پر ہاتھ اٹھارہا تھا…. آج وہ اسکی ناقدری کررہا ہے مگر وقت یوشع کو بتاۓ گا کہ اگر کسی چیز کی ناقدری کی جاۓ تو وہ چیز آپ سے چھین لی جاتی ہے…. پھر وہ انسان ہی کیوں نہ ہو…. مرد پر غصہ بھی اسی وجہ سے حرام رکھا گیا ہے کیونکہ وہ اپنے غصے میں سب کچھ بھول جاتا ہے کہ وہ کیا کررہا ہے کیا نہیں…. غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد اس کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے جو کیا غلط کیا…. مگر جب تک احساس ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے…..
وہ اس کا تھپڑ کہا کر بیڈ پر گری تھی…. غصے سے اس نے اسے بازوؤں سے دبوچ کر اسے اٹھایا….. وہ اس کو تھامتا دروازے کی طرف بڑھا….. دروازہ کھولتے ہی اس نے اس کو باہر دھکا دیا……. اس نے گریل کو تھاما…. وہ گرتے گرتے بچی تھی…..
آج کے بعد میرے روم میں مت آنا ماہین عمران ورنہ اس سے برا حشر کرو گا تمھارا’ میں اپنے آس پاس بھی تمھارا وجود برداشت نہیں کرو گا’ مرجاؤ کہیں جاکے مگر میری جان چھوڑو’ اس گھر کے کسی بھی کونے میں رہو مگر میرے روم میں ہرگز نہیں…..” اس نے غصے سے دروازہ بند کیا…..
پہلے اسکی خوشبو میں نے خود پر طاری کی…..
پھے اس پھول سے ملنے کی تیاری کی….
اتنا دکھ تھا مجھ کو تیرے لوٹ کے جانے کا….
میں نے گھر کے دروازوں سے بھی منہ ماری کی…..
اس میں تو ہمت ہی نہیں ہورہی تھی کہ وہ ایک قدم بھی آگے بڑھاۓ…. وہ کانپنے لگی تھی…. اس قدر توہین کہ اس کو روم سے نکال دیا گیا….. اس کی کیا غلطی ہے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا جارہا ہے؟؟؟ مرجاؤ کہیں جاکے مگر میری جان چھوڑدو….” اس نے نفی میں گردن ہلائ…. اس قدر نفرت…. آنسوں ابل ابل کر باہر نکلتے پورے گال کو بھگوچکے تھے…. تم کبھی خوش نہیں رہ پاؤں گی ماہین عمران’ ہمیشہ اسکے پیار کیلۓ تڑپتی رہو گی……” وہ گریل کو تھامتی وہی بیٹھ گئ…. دعا کرنا ماہین عمران تم کبھی یوشع کا غصے سے بھرپور وجود نہ دیکھو ورنہ کیا ہوگا’ میں بھی نہیں جانتا’ جس دن تم نے اس کا غصے سے بھرپور وجود دیکھ لیا ایک لفظ بولنے سے پہلے کئ بار سوچوں گی…..”
اس نے روتے ہوۓ منہ پر ہاتھ رکھا…. تم ساری زندگی میرے نکاح میں رہو گی’ پل پل میرے پیار کیلۓ تڑپتی رہو گی’ مگر کبھی میرا پیار حاصل نہیں کرپاؤ گی’ تمہاری یہی سزا ہے’ مرجاؤ کہیں جاکر مگر میری جان چھوڑ دو…..” وہ خود کے وجود کو سنبھالتی اٹھ کھڑی ہوئ….. وہ نفی میں گردن ہلاتی آگے کی طرف بھاگی…….. دوسرے روم میں جاکر اس نے خود کو بند کرلیا….
*
یوشع نے روم کا دروازہ کھولا…. آج ایک ہفتہ ہوگیا تھا ان کے نکاح کو اور اس پورے ہفتے میں یوشع نے اپنے باپ سے کوئ ملاقات نہیں کی…. وہ جس کو باپ کا دیدار کیے بغیر ایک پل چین نہیں ملتا تھا….. لاہور بھی وہ اگر جاتے تو یوشع صبح اٹھتے ہی پہلے ان سے ویڈیو کالنگ کرتا اچھی طرح ان کی خبر گیری کرنے کے بعد اپنے کام کرتا تھا…. اور ایک یہ وقت تھا کہ اس نے ایک ہفتے سے باپ کا دیدار نہیں کیا تھا…. وہ تو خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا تھا باپ سے کیسے نظریں ملاۓ….. مگر آج اس کاضبط ٹوٹ گیا تھا….. آج وہ اپنے باپ کے پاس آہی گیا….. وہ یوسف صاحب کے قریب آیا….. وہ چیئر پر آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے…. وہ زمین پر ان کے قدموں میں بیٹھا….. اپنا سر ان کی گود میں رکھا…. یوسف صاحب نے آنکھیں کھولی…. سیدھے ہوکر بیٹھے یوشع کو دیکھا….. ایک اداس سی مسکراہٹ نے لبوں کو چھوا….. انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا….
یاد آگئ اپنے باپ کی….” یوشع کی آنکھیں ایک بار پھر بھیگنے لگی تھی….. وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلارہے تھے…. یوشع نے اپنی گود میں رکھے ہاتھ اٹھا کر اپنے باپ کی گود میں رکھے اپنے بازؤں میں اپنا چہرہ چھپایا….
یوشع بیٹا…..” مگر وہ رونے لگا تھا….
اے یوشع پاگل ہوگۓ ہو کیا؟؟ کیوں رورہے ہو؟؟؟ انہوں نے اس کا سر اٹھایا….
بابا سب مجھے گنہگار سمجھتے ہیں’ ایک ہفتے سے علی نے بھی مجھ سے کوئ بات نہیں کی وہ بھی مجھے گنہگار سمجھتا ہے’ المیرا بھی مجھے گنہگار سمجھتی ہے’ وہ رپورٹس بھی کہتی ہے کہ میں نے گناہ کیا ہے’ میں گنہگار ہو’ بابا کیا آپ کو بھی میں گنہگار لگتا ہوکیا؟؟؟
نہیں بیٹا مجھے یقین ہے اپنے بیٹے پر میرے بیٹے نے کچھ نہیں کیا میرا بیٹا میرا غرور ہے’ میرا مان ہے اور مجھے امید ہے میرا بیٹا میرا یہ غرور کبھی ٹوٹنے نہیں دے گا’ مجھے یقین ہے تم پر کہ تم نے کچھ نہیں کیا….”
بابا وہ رپورٹس وہ رپورٹس بھی کہتی ہے کہ میں نے گناہ…..”
آنسوں آنکھوں سے بہہ رہے تھے….. یوسف صاحب چپ ہوگۓ….
بیٹا وہ رپورٹس جھوٹی بھی تو ہوسکتی ہے…..” انہوں نے دل میں کہا…. یوشع سے وہ یہ بات نہیں کہہ سکتے تھے کیونکہ ایک بار پھر اس کا دماغ گھوم جانا ہے اور اب وہ ماہی کے ساتھ کیا کر گزرے اسےشاید خود بھی علم نہ ہو…. کیونکہ وہ ایک بار یوشع کو ماہی پہ ہاتھ اٹھاتا دیکھ چکے تھے….. یوشع کی تو اس وقت سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی بند ہوچکی ہے…. جس فیز سے وہ اس وقت گزررہا ہے شاید کوئ نہ سمجھ پاۓ…. جس پر گزرتی ہے صرف وہی اس کرب کو جان سکتا ہے… اس کے علاوہ کوئ نہیں…..
بابا کی کیوں پھر اس نے میرا یقین نہیں کیا وہ کیوں مجھے چھوڑ کر چلی گئ’ اسے کیوں ایک بار بھی میرا خیال نہیں آیا’بابا اسکے بغیر نہیں رہا جارہا’ ایسا لگتا ہے میرا میرا دل ابھی تکلیف کے مارے پھٹ جاۓ گا’وہ وہ کیوں چلی گئ مجھے چھوڑ کر ‘کیوں اس نے میرا یقین نہیں کیا؟؟ کیوں نہیں کیا’ میں تھک گیا ہوں بابا اب اس دنیا سے’ یہ دنیا بہت جھوٹی ہے’ بابا آپ کے بیٹے کی روح پر زخم لگا دیے گۓ ہیں جو رس رہے ہیں’ دل تکلیف کے مارے پھٹ رہا ہے’ میں تھک گیا ہو بابا……”
وہ اپنا چہرہ ہتھیلی میں گراۓ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا….یوشع صاحب نیچے بیٹھے…. اس کو اپنےگلے سے لگایا…. وہ ایک جوان مرد ہوکر آج اپنے باپ کے گلے لگے بچوں کہ طرح پھوٹ پھوٹ کر رورہا تھا…. جیسے بچپن میں بچے اپنے پسندیدہ کھلونے کیلۓ اپنے والدین کے سامنے زمین پر لوٹ پوٹ ہوکر روتے ہیں گڑگڑاتے ہیں اور پھر انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے رونے سے ان کو وہ چیز دے دی جاۓ گی… ایسے ہی آج یوشع بھی چھوٹے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رورہا تھا اپنی پسندیدہ عورت کیلۓ….. یوسف صاحب نے بھی اسے رونے دیا….. کتنی ہی دیر بعد وہ جاکر چپ ہوا تھا…. یوسف صاحب نے اس کو خود سے دور کیا…. آنکھیں لال….. ناک لال…. اسکی رنگت بھی پھیکی پڑرہی تھی….. یوسف صاحب نے اس کے ماتھے کو چوما…..
وہ واپس آجاۓ گی’ اللّه سے امید رکھو کیونکہ وہ امیدوں کو ٹوٹنے نہیں دیتا’
بس ایک گلہ ہے تم سے تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے اس معاملے میں…..
بیٹا جو تم ماہی کے ساتھ بیہیو کررہے ہو بہت غلط ہے’ اس کے ساتھ ایسا مت کرو’ وہ اب تمھاری بیوی ہے اسے اپنا لو…..” یوشع نے نفی میں گردن ہلائ….
بیٹا اس دن سے ڈرو جب تم سے تمھاری بیوی کے بارے میں سوال پوچھا جاۓ گا کہ تم نے کتنے حقوق ادا کیے’ بیوی کے ساتھ کیا معاملات کیے؟؟؟ مجھے بہت افسوس ہوا تھا اس دن جب میں نے تمھیں ماہی پر ہاتھ اٹھاتے دیکھا’ ہم نے یہ تو نہیں سیکھایا تھا اپنے بیٹے کو کہ ایک عورت پر ہاتھ اٹھایا جاۓ…..” یوشع نے گردن جھکائ……
وہ خاموشی سے ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا…. وہ بھی خاموش ہوگۓ…. اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا…. اس نے آنکھیں بند کی…. اسے اب سکون ملنے لگا تھا….. ایک ہفتے سے وہ سویا نہیں تھا…. اب تو نیند کی وجہ سے آنکھیں بھی دکھنے لگی تھی اس کی اور اب وہ سونا چاہتا ہے اپنے باپ کی گود میں سر رکھ کر کہ پھر کبھی آنکھ نہ کھلے’ ان تکلیفوں ان اذیتوں سے جان چھوٹ جاۓ….. مگر انسان کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے’ ہوتا تو وہی ہے جو ہمارا رب چاہتا ہے جو ہمارے نصیب میں لکھ دیا جاتا یے…..
اور پھر اللّه اپنے محبوب بندوں کو ہی تو آزمائشوں میں ڈالتا ہے’ اور پھر وہ چاہتا ہے کہ تم ان آزمائشوں پر صبر کرو… اور اس کی طرف لوٹ جاؤ…. اور پھر وہ تمھیں کہیں رسوا نہیں ہونے دے گا…. تمھارے دکھوں کو خوشیوں میں بدل دے گا… اور پھر وہ تمھاری پسندیدہ چیز بھی تم تک لاۓ گا مقررہ وقت پر اور پھر تم حیران رہ جاؤں گے… بس صبر سے کام لو… اللّه پر بھروسہ رکھو…. اور پھر
“بےشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے”
پس ہمیں صبر کرنے کی دیر ہوتی ہے اور پھر اللّه انصاف کرنا شروع کردیتا ہے…….
باہر کھڑی ماہی نے بھی ساری باتیں سن لی تھی…. وہ بھی روتی ہوئ اپنے کمرے کی طرف بھاگی…..
*
جاری ہے_____