📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="8"]
55020 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 40

یوشع اپنے فام ہاؤس پر اس بڑے سے ہال میں صوفے سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موندیں بیٹھا تھا…. اس کا موبائل رنگ ہوا….. اس نے آنکھیں کھولی….. اس کی آنکھیں نم تھی….. آنکھیں لال ہورہی تھی….. وہ اب تک اپنے گھر نہیں گیا تھا….. اس نے موبائل اٹھایا….. حماد کالنگ….. اس نے یس کرکے فون کان سے لگایا…..
بڈی کیسے ہو یار؟؟؟ ویسے کتنی بری بات ہے میں تو سمجھ رہا تھا کہ اگر میں شادی میں نہیں آؤ گا تو تم دونوں مجھے کڈنیپ کرکے اپنی شادی میں لے جاؤ گے’ مگر کڈنیپنگ تو دور کی بات ہے تم دونوں نے تو ایک کال کرکے بھی نہیں پوچھا کہ کیوں نہیں آۓ شادی میں’ کیا بات ہےچپ کیوں ہو؟؟ کچھ تو بولو…..” ہممم ویسے مجھے لگ رہا ہے کہ خوشی کے مارے الفاظ ہی نہیں نکل رہے ہونگے’ کیونکہ آج اتنا بڑا خوشی کا دن جو ہے’ المیرا خان سے نکاح جو ہے ہمارے یوشع یوسفزئ کا’ فائنلی آج المیرا تمھاری ہوجاۓ گی…..”
اس وقت حماد جلتی پر تیل کا کام کرگیا تھا….. یوشع کی نم آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر برسا…..
یوشع کیا بات ہے کچھ تو بولو؟؟
یوشع چپ رہا….
یوشع….” حماد اب پریشان ہوا تھا اس کی مسلسل خاموشی سے……
یوشع تم مجھے اب پریشان کررہے ہو یار کچھ بولو’ یوں چپ تو نہ رہو……”
حماد یار……”
یوشع سے اب بولا بھی نہیں جارہا تھا گلے میں گلٹی سی ابھر رہی تھی…..
اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھا وہ پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑا ہوا……
یوشع تم رو رہے ہو؟؟ یوشع کیا ہوا ہے؟؟ علی کہاں ہے؟؟ المیرا کیسی ہے؟؟؟ یوں چپ مت رہو مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے سب سچ بتاؤ؟؟
یوشع نے ماہی کے گھر جانے سے لے کر المیرا کے چھوڑ کر جانے تک کہ ساری داستان سنادی تھی…..
یوشع تم بیوقوف تھے کیا؟؟ تم اتنے میچیور مین ہوکر امیچیور کیوں بن گۓ؟؟ کہاں چلی گئ تھی تمھاری ذہانت’ اوہو گوڈ’ یہ کیا کردیا تم نے’ میرا پتا ہے اس وقت کیا دل کررہا ہے یوشع یوسفزئ کہ تم میرے سامنے آؤ اور میں تمھارے منہ پر اتنی زور کا رکھ کر دو کہ تمھاری عقل جو گھٹنوں میں چلی گئ ہے وہ واپس سے اپنی جگہہ فٹ ہوجاۓ…..”
مائنڈ یور لینگویج حماد ابراہیم….”
مائنڈ کے بچے چپ کر……”
حماد کو تپ ہی تو چڑھ گئ تھی اس کی بات سن کر……
ایک تو سارا کھیل بگاڑ کر رکھ دیا اور پھر مجھے کہتے ہو مائنڈ یور لینگویج’ کیسے اتنی آسانی سے تم ماہی سے نکاح کرسکتے ہو؟؟؟ کیسے المیرا کو خود سے دور جانے دے سکتے ہو’اوہ گوڈ…..”
حماد نے سر کو تھاما…..
یوشع کسیے کسی لڑکی کے ہاتھوں تم اتنی آسانی سے بیوقوف بن سکتے ہو’ کیسے نکاح کرسکتے ہو…..”
یوشع نے آئبرو اچکائ…..
میں نے اسکی عزت…..”
کیا پروو ہے تمھارے پاس یوشع یوسفزئ کہ تم نے اس کی عزت خراب کی ہے…”
حماد اس کی بات کو بیچ میں کاٹتا غصے سے بولا…..
ہیو اینی پروو؟؟ ٹیل می….”
یوشع تم یہ کیوں بھول گۓ کہ وہ ماہین عمران ہے اور تمھیں اپنا بنانے کیلۓ یہ اس کی کوئ چال بھی تو ہوسکتی ہے…..”
یوشع کی آنکھیں حیرت سے پھٹی…. اتنی بڑی بات وہ کیسے بھول سکتا ہے…..
اوہ گوڈ…..” اب یوشع نے اپنے سر کو تھاما تھا…..
یوشع کیسے تم بھول سکتے ہو اس کی وہ سب باتیں اس نے کہا تھا تمھیں اپنا بنانے کیلۓ ہر حد تک جاۓ گی اور اس کی آخری حد یہ تھی’ کیوں بھول گۓ میری ان باتوں کو جو میں نے تم سے کی تھی؟؟ میں نے بھی کہا تھا وہ تمھیں اپنا بنانے کیلۓ ہر حد تک جاۓ گی اور اسکی سازشوں کو ناکام تم نے بنانا ہے’ کیسے بنانا ہے؟؟ وہ تم خود سوچو گے تو کیسے کیسے بھول سکتے ہوتم سب کچھ’ کیسے پھنس سکتے ہو اتنی آسانی سے اس کے جال میں’ اس نے تمھیں اپنا بنالیا’ کردیا اس نے تمھیں المیرا سے دور’ میں تمہاری جگہہ ہوتا تو اسی وقت اس کے منہ پر رکھ کر دیتا خود ہی سب سچ اگل دیتی…..”
اور ایک یہی کام تو ہمارے یوشع یوسفزئ نے سیکھا نہیں…… عورتوں پر ہاتھ اٹھانا اس کی فطرت میں شامل نہیں……
یوشع تم ایک لڑکی سے ہار گۓ’ مجھے شق ہونے لگا ہے تم پر کہ تم دی گریٹ یوشع یوسفزئ ہوں’ کون ہو تم؟؟ ایک لوزر انسان جس نے سارا کھیل اپنے ہاتھوں سے خود خراب کردیا….”
حماد اگر یہ بات سچ ثابت ہوئ کہ اسکی عزت خراب ہوچکی ہے پھر کیا کرو گا؟؟ اور اس کے وہ الفاظ جو کانوں میں گونجے تھے کہ میرے پہ سے ہٹو’ چھوڑو مجھے وہ سب….”
یوشع یوشع….”
حماد مضطرب سا کمرے میں چکر کاٹنے لگا تھا…..
وہ سب اسکا ایک ناٹک بھی تو ہوسکتا ہے اپنے کھیل کو مضبوط بنانے کیلۓ’ تمھیں اپنے جال میں پھنسانے کیلۓ…..”
اور اگر یہ اس کا کوئ کھیل نہ ہوا پھر….” یوشع نے پوچھا…. حماد نے گہری سانس خارج کی…..
آج کل ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے انسان جھوٹ بول سکتا ہے مگر ایک میڈیکل رپورٹ نہیں….”
یوشع صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا…. یوشع کا دماغ اب کام کرنے لگا تھا… جب سے تو اس کی سوچوں پر بس المیرا حاوی تھی….. وہ ہر بات کو کیسے بھول سکتا ہے……
یوشع اب بھی وقت ہے سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے’ اسکے ٹیسٹ کرواؤ’ اس میں سچ آجاۓ گا’ اگر رپورٹ سچ ہوئ یہ سب باتیں سچ ہوئ تو تمھیں اس کو اپنی بیوی ماننا پڑے گا’ بیوی والی عزت دینی ہوگی ورنہ تمھارا حشر میں بگاڑ دوں گا اور اگر رپورٹ نیگیٹو ہوئ’ یہ سب باتیں جھوٹ نکلی تو تم اس کا حشر بگاڑ دینا…..”
وہ واپس صوفے پر بیٹھا…. حماد بھی بیڈ پر واپس بیٹھا….
میں نے تم سے کہا تھا یوشع ایک عورت کو قابو کرنا کوئ مشکل کام نہیں ہے’ وہ ایک کمزور عورت ہے اور تم ایک مضبوط مرد’ اس کو قابو کرو’ اور ایک بات اگر یہ سب سچ نکلا تو المیرا کو بھول جانا اور اگر یہ سب جھوٹ نکلا تو ماہی کو ڈائیورس دے کر فارغ کرو’ المیرا کو جاکے سب سچ بتاؤ’ اس سے نکاح کرو اور ایک خوشحال زندگی بسر کرو اور یہ کام جلد سے جلد کرو ابھی کرو…..”
یوشع نے سر کو تھاما…. کیوں اس کا دماغ کام نہیں کررہا تھا…. کیوں وہ سب کچھ بھول سکتا ہے……
میں ابھی کچھ نہیں کرسکتا آج علی کی بارات ہے اور میں نہیں چاہتا کہ اسکی بارات خراب ہو’ اب کل کرو گا جو کرو گا….”
مجھے امید ہے یوشع اب تم سب کچھ ٹھیک کرلو گے کوئ غلطی نہیں کرو گے….”
ہمممم…..”
یوشع نے کال کاٹ کر موبائل سائید میں رکھا…..
اوہ گوڈ…..” وہ اپنے سر کو تھامتا بیک سے ٹیک لگاگیا…..
آئ رئیلی لو یو…. مجھے اسطرح کے مزاق بالکل پسند نہیں….. اٹس نوٹ آ جوک آٹس آ رئیل….آئ رئیلی وانٹ یو…..
انگیجمنٹ کی باتیں ذہن میں گردش کرنے لگی تھی…..
کیا ہے اس میں ایسا جو مجھ میں نہیں ہے….. میں اس سے زیادہ خوبصورت ہو…. تھیں تو میں اپنا ہر حال میں بناکر رہو گی یوشع پھر چاہے مجھے اس کی لۓ کسی بھی حد تک جانا پڑے…. دیکھتے ہیں اس کھیل میں جیت کس کی ہوگی…..
یوشع طنزیہ مسکرایا…..
مبارک ہو ماہین عمران یعنی جیت تمھاری ہوئ ہوگئ’ آج پہلی بار یوشع یوسفزئ زندگی میں اگر کسی سے ہارا ہے تو وہ تم ہو ماہین عمران’ یوشع یوسفزئ ایک لڑکی سے ہار گیا….”
یوشع کی آنکھوں میں خون اترا…..
وہ تمھیں اپنا بنانے کیلۓ کسی بھی حد تک جاۓ گی یوشع…..” گاڑی میں کی گئ باتیں ذہن میں گردش کرنے لگی تھی…. ایک کے بعد ایک بات ذہن میں محورقص تھی…..
اگر رپورٹ سچ ہوئ تو تمھیں اس کو اپنی بیوی ماننا پڑے گا…..
یوشع سیدھا ہوکر بیٹھا……
یہ میرے لۓ ناممکن ہے’ میں اسے کبھی المیرا کی جگہہ نہیں دوں گا…..”
اور اگر رپورٹ نیگیٹو آئ تو تم اس کا حشر بگاڑ دینا….. یوشع کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آئ…..
تم تو گئ ماہین عمران’ اب تمھیں یوشع کے قہر سے کوئ نہیں بچاسکتا’ اب تمھیں معلوم ہوگا یوشع کیا چیز ہے’ ابھی تک تم نے محبت سے بھرپور وجود دیکھا ہے نہ اب تم غصے سے بھرپور وجود دیکھو گی میرا ماہین عمران’ اب تمھیں معلوم ہوگا’ تمھارا عشق کا بھوت تو اب میں اتارو گا…..”
یوشع نے موبائل اٹھا کر کسی کو کال ملائ….. کچھ دیر بات کرنے کے بعد فون واپس رکھ دیا….. اس کے چہرے پر ایک سکون سا تھا….
**

خوبصورت پھولوں سے کمرہ سجا ہوا تھا…. پورے کمرے میں جلتی کینڈل لائٹس فریگنینس تازہ پھولوں کی مہک ایک رومانوی ماحول تھا….. بیڈ پر ایک لڑکی سرخ جوڑے میں سجی بیٹھی تھی….. وہ بہت زیادہ پریشان لگ رہی تھی…. علی روم میں داخل ہوا….. زینب کو خود کے انتظار میں بیڈ پر بیٹھا دیکھ اداس سی مسکراہٹ لبوں پر آئ….. وہ قدم قدم چلتا بیڈ تک آیا… سلام کرتا بیڈ پر بیٹھا…. زینب کے چہرے کو غور سے دیکھا….. دو انگلیاں اس کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کیا…..
کیا بات ہے اداس لگ رہی ہو؟؟؟؟
اس نے نگاہیں اٹھا کر علی کو دیکھا……
مجھے المیرا کی بہت فکر ہورہی ہے’ جو بھی ہوا بالکل اچھا نہیں ہوا’ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا’ مجھے اب تک اس بات پر یقین نہیں ہے کہ یوشع بھائ ایسا کرسکتے ہیں’ میرا دل یہ ماننے کو راضی ہی نہیں ہے…..”
علی بیڈ پر لیٹا….. ایک پیر زمین پر تو دوسرا بیڈ پر کھڑا کر رکھا تھا….المیرا کی فکر نہ کرو وہ ٹھیک ہے لاہور میں اپنے ماموں کے گھر ہے’ اور یقین تو مجھے بھی نہیں ہے اب تک…..”
آپ سے ایک بات کہو مگر آپ غصہ مت کیجیے گا ورنہ میں ناراض ہوجاؤں گی….”
علی نے نگاہیں زینب کی طرف کی…. آج وہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہے اور وہ اس کی تعریف تک نہ کرسکا…. یہ مومنٹ ان دونوں کے اپنے ہیں اور وہ ان لمحوں میں اپنی پریشانی ڈسکس کررہے ہیں…..
بولو….” وہ ہاتھوں کہ انگلیاں مروڑنے لگی تھی….
مجھے لگتا ہے ماہی جھوٹ بول رہی ہے وہ یوشع بھائ پر جھوٹے الزام لگارہی ہے یہ ماہی کی کوئ سازش بھی تو ہوسکتی ہے بھائ کے خلاف’ مگر اب آپ دیکھے غصہ مت کیجئے گا مجھے جو صحیح لگا میں نے وہ کہہ دیا’ اب نہ ڈانٹنا نہ غصہ کرنا ورنہ میں سچ میں ناراض ہوجاؤں گی’ پھر آپ سے بات نہیں کرو گی’ آپ کل ڈانٹ لینا پرسوں ڈانٹ لینا مگر آج نہیں…..”
علی کو ہنسی آگئ أس کو اس طرح بولتا دیکھ….. وہ بولی بھی تو ایک ہی دم بچوں کی طرح تھی آنکھیں بند کیے روانی سے….. وہ بول تو گئ تھی مگر اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہی علی غصہ ہی نہ کرجاۓ کہ میری بہن کے بارے میں ایسا بولنے کی ہمت کیسے کی؟؟ اس نے ایک آنکھ کھول کر علی کو دیکھا….. وہ لیٹا اس کو دیکھتا مسکرارہا تھا…. اس نے دوسری آنکھ بھی کھولی…. شکر ہے نہیں ڈانٹا…… اب علی اس کو کیا کہے اس نے شاید کچھ غلط بھی نہیں کہا…. ابھی تو علی کو بھی کنفرم نہیں ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ….. زینب بھی اس کے سینے پر سر رکھ کر خاموشی سے لیٹی…. علی نے اس کے گرد اپنے بازؤں کا گھیرا کیا…..
منہ دیکھائ نہیں لینی کیا میری جان نے…..”
وہ خاموشی سے اس کے بلیک کرتے پر لگے بٹن پر انگلی پھیرنے لگی….. علی نے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے…. وہ اس کا لمس محسوس کرتی آنکھیں بند کرگئ….. ایک نئ صبح ان کی منتظر تھی…..

یوشع ابھی گھر میں داخل ہوا تھا…. وہ دبے قدموں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا….. ابھی باپ سے سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے ایک بار سچ سامنے آجاۓ پھر بابا سے ملاقات….. وہ سیدھا اپنے روم میں گیا تھا…. دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا…. وہ دروازے پر رک گیا….. اسے کچھ عجیب لگا تھا یہاں پر کچھ تو چینج تھا مگر کیا…. وہ سمجھ نہ پایا….. ابھی یوشع کے علم میں یہ بات نہیں آئ تھی کہ ماہی اس کے گھر پر آچکی ہے…. وہ وارڈروب کی طرف بڑھ گیا…. وہ دو دن سے ایک ہی سوٹ میں تھا…..وہ اب فریش ہونا چاہتا ہے…. اس نے دونوں پٹ اوپن کۓ…. ماتھے پر بل آۓ…. لیڈیز سوٹ…. آنکھوں میں حیرانگی بھی آئ…. حیرانگی اس وجہ سے نہیں تھی کہ لیڈیز سوٹ رکھے ہیں بلکہ اس بات پر تھی کہ یہ وہ سوٹ نہیں تھے جو اس نے خود سے المیرا کیلۓ رکھے تھے کہ شادی کہ بعد وہ یہ بھرے ہوۓ سوٹ پہنے گی….. یہ کوئ اور ہی لیڈیز سوٹ تھے….. اس نے ایک دو کپڑے چیک کۓ….. اندازہ لگانے میں اسے ایک منٹ نہیں لگا کہ یہ کس کے سوٹ ہے… اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا…. اس نے غصے سے وارڈروب کے دونوں پٹ بند کۓ….. پیچھے مڑا…. وہ پیچھے ہی کھڑی اس کو دیکھتی مسکرارہی تھی…..
المیرا کے سوٹ کہاں ہیں؟؟؟ اس نے قدم اس کی طرف بڑھاۓ…..
جب المیرا ہی نہیں ہے تو اس کے سوٹ کا کیا کام وہ سارے سوٹ میں نے سندس کو دے دیے ہیں…..”
یوشع نے غصے سے گہری سانس خارج کی….. یوشع کا ہاتھ اٹھا تھا اور ٹھاہ کرکے ماہین عمران کے منہ پر پانچوں انگلیاں ثبت کرگیا تھا…..
اب اترے گا عشق کا بھوت ماہین عمران کا….
وہ گرتے گرتے بچی تھی…. وہ منہ پر ہاتھ رکھے حیرت بھری نگاہوں سے زمین کو دیکھ رہی تھی…. وہ نازوں لاڈوں میں پلی لڑکی جس پر ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ہے کسی نے آج تک دانٹا بھی نہیں تھا اور آج یوشع کا بھاری ہاتھ منہ پر پڑتے ہی چودہ طبق روشن ہوگۓ تھے…. یوشع نے غصے سے اس کو بازؤں سے پکڑ کر سیدھا کیا…. پیچھے دیوار کے ساتھ لگایا…..
اس کمرے کی ہر ایک چیز پر صرف المیرا خان کا حق ہے’ اس کمرے میں لیڈیز چیزیں رکھی جاۓ گی تو صرف المیرا خان کی آئ سمجھ…..” اس کی انگلیاں اس کے بازو پر پیوست تھی….. اس کی آنکھوں میں آنسوں آۓ…..
تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا….” اس نے اس کے کالر کو اپنی مٹھی میں جکڑا….. ایک اور غلطی کرگئ ماہین عمران….
اس نے غصے میں اپنے کالر کو چھڑایا تھا….. ایک بار پھر یوشع کا ہاتھ اٹھا تھا…. وہ ایک بار پھر گرتے گرتے بچی تھی….. یوشع نے پھر اس کو بازؤں سے پکڑ کر سیدھا کیا…. اس کے ہونٹ کے پاس سے خون نکلنے لگا تھا…… یوشع نے اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑا…..
آآآآ…..”
جب ایک بار منع کیا تھا کہ میرے کالر کو پکڑنے کا حق صرف المیرا خان کا ہے’ کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ میرے کالر تک پہنچے تو کیوں پکڑا میرے کالر کو……”
وہ دھاڑا تھا….. وہ کانپنے لگی تھی…..
جھوٹے الزام لگاۓ نہ تم نے میرے پر بولو……” وہ دھاڑرہا تھا….
اتنے میں ہی بس ہوگئ ماہین عمران’ تھیں تو اب پتا لگے گا کہ میں کیا چیز ہو’ بولو…..”
یوشع مجھے درد ہورہا ہے چھوڑو….”
اس نے بال چھوڑنے کی بجاۓ اس پر اپنی گرفت اور سخت کی تھی……
آآآآ…..
جو پوچھا ہے وہ جواب دو…..”
می میں نے کوئ الزام نہیں لگاۓ…..”
یوشع نے اس کے بالوں کو چھوڑا…..
جھوٹ…..” اس نے اس کے جبڑے کو سختی سے پکڑا تھا……
جھوٹ بول رہی ہو تم…..”
کیا پروو ہے تمھارے پاس کہ میں جھوٹ بول رہی ہو…..”
پروو چاہیے نہ تمھیں….” یوشع طنزیہ مسکرایا…..
مجھے بھی چاہیے……”
اس نے اس کو بازؤں سے مضبوطی سے تھاما…..
یاد رکھنا ماہین عمران اگر یہ پروو ہوگیا کہ میں نے کچھ نہیں کیا تمھارے ساتھ تم پاک ہو’ تو تمھارا وہ حشر کرو گا کہ دیکھتی رہ جاؤں گی’ تمھیں زندگی بھر اپنے نکاح میں رکھو گا’ مجھ سے پیار کرتی ہو اس لۓ مجھ سے شادی کی نہ’ یاد رکھنا پل پل میرے پیار کیلۓ تڑپو گی’ پل پل اذیت بھرا گزاروں گی’ ساری زندگی ایک کونے میں کباڑ خانے کی طرح پڑی رہو گی’ اور میں پتا ہے کیا کرو گا جاکہ اپنی مہرو کو واپس لاؤ گا’ تمھارے سامنے اس سے نکاح کرو گا’ اس کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزاروں گا’ اس کمرے میں وہ رہے گی تم نہیں’ اگر اگر ان سب کے بعد کبھی مجھے تم پر ترس آگیا نہ تو ماہین عمران تمھیں اپناؤ گا تب بھی نہیں اس وقت تمھارے ہاتھوں میں ڈائیورس پیپر تھماکر تمھیں تھمارے گھر بھیج دو گا…..”
ایک تو میری عزت خراب کی اور تمھیں شرمندہ ہونے کی بجاۓ الٹا مجھے باتیں سنارہے ہو…..”
کس کو شرمندہ ہونا چاہیے اور کس کو نہیں یہ تو ابھی تھوڑی دیر میں پتا لگ جاۓ گا’ چلو میرے ساتھ…..”
وہ اس کی کلائ تھامے آگے بڑھنے لگا تھا…..
کہاں لے کر جارہے ہو چھوڑو مجھے…..”
تھیں پروو چاہیے نہ میں دو گا تمھیں پروو چلو…..”
کہاں پر؟؟؟
ڈاکٹر کے پاس…..” ماہی کی آنکھیں حیرت سے پھٹی….. وہ اس کی کلائ تھامے آگے بڑھنے لگا….
یوشع چھوڑو مجھے’ یوشع مجھے چکر….” اس نے سر کو تھاما…. یوشع نے مڑ کر اس کو دیکھا…. اس کی کلائ چھوڑی…..
صرف دو منٹ ہے ماہین عمران تمھارے پاس ‘ آرہا ہو تمھارے بھائ کو کال کرکے’ اس کے بعد اگر تم مر بھی رہی ہوں گی نہ تو بھی تمھیں ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤ گا’ اونلی ٹو منٹ…..” وہ روم سے باہر نکل گیا…..
اور اس کیلۓ دو منٹ بھی کافی تھے…..
__________

جاری ہے__