Episode 24
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
ان کے آس پاس کا منظر بدلنے لگا تھا…. وہ کئ سال پیچھے جارہے تھے…. اتنا پیچھے کہ ابھی المیرا بھی اس دنیا میں نہیں آئ تھی…. انہیں وہ سب یاد آنے لگا تھا نائلہ سے ان کی پہلی ملاقات کالج میں ہوئ تھی…. وہ اچھے دوست بن گۓ تھے…. پھر یونی میں بھی ساتھ تھے…. ان دونوں کہ دوستی کب محبت میں بدلی انہیں خود بھی علم نہیں ہوا تھا… وہ دونوں کب ایک دوسرے کیلۓ اتنے اہم ہوگۓ انہیں خود بھی خبر نہ ہوئ…. اس کے بعد خان کا نائلہ کو پرپوز کرنا’ نائلہ کا ہاں کہہ دینا…. خان کا نائلہ کے گھر رشتہ بھیجنا… دونوں گھروں کا خوشی خوشی راضی ہوجانا…. اور پھر خیر خیریت سے اس خوبصورت دن کا بھی آجانا’ جب نائلہ زوہیب… نائلہ خان بن کر اس گھر میں آئ تھی…. وہ ایک مناسب جسامت’مناسب قد’ مناسب رنگت کی خوبصورت نین نقش کی ایک خوبصورت لڑکی تھی…. تھوڑی چلبل سی’ شرارتی سی لڑکی تھی…. نائلہ کے آنے سے یہ گھر کھل سا اٹھا تھا…. کبھی وہ بچوں جیسی شرارتیں کرتی… کبھی خان کو تنگ کرنا…. کبھی خود خان سے ناراض ہوجانا… اور خان کے ناراض ہونے پر نائلہ کو انہیں منانا…. وہ سب کی خوشیوں کا خیال رکھنے والی ایک حساس لڑکی تھی… خان کی ماں(زہرہ بیگم) سے بھی بالکل سگی ماؤں جیسا پیار لیا تھا…. نائلہ ان کی خدمت بھی تو خوب کرتی تھی…. ہر طرف خوشیاں تھی…. اگر کسی چیز کی کمی تھی تو وہ تھی اولاد کی….. تین سال شادی کو ہوگۓ تھے…. مگر اب تک اولاد نہیں ہوئ تھی…. نائلہ نے تو دوسری شادی کی بھی اجازت دے دی تھی “اگر میں آپکو کبھی اولاد نہ دے سکی تو آپ دوسری شادی کرلینا’ اور اس دن وہ سب سے زیادہ ناراض ہوۓ تھے کہ منانے پر بھی نہیں مان رہے تھے کہ تم نے ایسی بات کی تو کی کیوں؟ خان نے نائلہ کو اس دن کندھوں سے تھام کر کہا تھا’ نائلہ اگر آئندہ تم نے ایسی کوئ بات دوبارہ کی تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا’ تمھارے علاوہ کبھی کوئ دوسری عورت اس زندگی میں نہیں آۓ گی’ میں دوسری شادی کبھی نہیں کروں گا’ میں اپنا پیار کبھی نہیں بانٹوں گا….’ اور پھر نائلہ نے بھی کبھی دوسری شادی کی بات نہیں کی تھی…. وقت کا کام ہے گزرنا… حالات کوئ بھی ہو وقت گزرتا چلا جاتا ہے…. وقت کی سب سے اچھی بات بھی یہی ہے کہ یہ کسی کیلۓ رکتا نہیں ہے…. وقت گزررہا تھا اور ان دونوں کی محبت بھی ہمیشہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہی تھی…. کبھی کم نہیں ہوئ تھی.. انہوں نے کتنی ہی دعائیں مانگی تھی اولاد کیلۓ اور آخر اللّه نے انکی سن لی تھی…. شادی کے سات سال بعد المیرا اس دنیا میں آئ تھی… کتنی ہی دعاؤں سے المیرا کو مانگا تھا….. آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب انہوں نے پہلی دفعہ اس پنک کمبل میں لپٹی اس پھول جیسی گڑیا کو اپنی گود میں اٹھایا تھا…. خان کی خوشی کا تو کوئ ٹھکانہ ہی نہیں تھا…. ایک باپ بننے کی خوشی کیا ہوتی ہے کوئ اس وقت خان سے پوچھتا….. (صوفے پر بیٹھے بند پلکوں کی باڑ توڑ کر ایک موتی ٹوٹ کر گرا تھا… وہ زخمی سا مسکراۓ تھے) انہوں نے المیرا کی پیشانی کو چوما تھا…. اور اس کے بعد اس پنک کمبل میں لپٹی بچی کو نائلہ کے ساتھ لیٹایا تھا…. نائلہ کی پیشانی کو چوما تھا…. “آج میں بہت خوش ہو نائلہ’ اتنا خوش کہ میں اگر بیاں بھی کرنا چاہوں تو الفاظ بھی کم پڑجاۓ…. میں نے کہا تھا نہ “اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے” بس کبھی ناامید مت ہونا’ کیونکہ ناامیدی ایک کفر ہے…. آج ہمیں ہمارے صبر کا پھل مل گیا ہے….” آج تم نے مجھے دنیا کی سب سے بڑی خوشی دی ہے…. آج ہم مکمل ہوگۓ ہیں…. تھینک یو’ تھینک یو سو مچ…. خان نے ایک بار پھر نائلہ کی پیشانی کو چوما تھا… وہ بھی نم آنکھوں سے مسکرائ تھی…. گھر میں خوشیاں آگئ تھی المیرا کے آنے سے…. سب کا آنا جانا لگ گیا تھا…. مبارکبادیں دی جارہی تھی…. المیرا کے نام کے کتنے ہی صدقے دیے گۓ تھے… دیگیں بنوائ گئ تھی…. غریبوںکو کھانا کھلایا گیا تھا…. صدقات’ خیرات سب کچھ کیا گیا تھا…. پورا گھر خوشیوں سے بھر سا گیا تھا…. آنے والے وقت سے بےخبر سب اپنی خوشی میں مگن تھے…… ______________________آج المیرا پندرہ دن کی ہوگئ تھی…. وہ رورہی تھی….. نائلہ اسے چپ کروانے کی کوشش کررہی تھی….. مگر وہ چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی…. فیڈر خالی تھا… انہوں نے المیرا کو بیڈ پر لٹایا اور خود اس کا فیڈر بنانے روم سے نکلی تھی….. دادی اپنے روم میں تھی اور خان بھی آفس گۓ ہوۓ تھے….وہ سیڑھیوں سے بے دھیانی میں اتررہی تھی… انہیں وہاں پہ گرا ہوا تیل نظر نہ آیا…. پیر تیل پر رکھتے ہی زور سے پاؤں پھسلا تھا… ایک زوردار چینخ حلق سے برآمد ہوئ تھی اور وہ سیڑھیوں سے لڑھکتی ہوئ نیچے آگری تھی…. سر زور سے زمین پر لگا تھا… اتنی بھی ہمت نہیں ہوسکی کہ کسی کو آواز دے دیں…. آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا اور وہ وہیں حوش و خرد سے بیگانہ ہوگئ…. اتنے میں ملازمہ وہاں آئ تھی… ہاتھ میں دودھ کا گلاس پکڑ رکھا تھا…. “بیگم صاحبہ!! گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرا تھا… گلاس ٹوٹ گیا تھا… کانچ ہی کانچ ہر طرف پھیل گیا… دودھ بھی چاروں طرف پھیل گیا تھا… وہ بھاگ کر نائلہ کے پاس آئ تھی….بیگم صاحبہ اٹھے….. دادی… دادی….دادی اپنے روم سے نکلی تھی…. نائلہ کو زمین پر بےہوش پڑے دیکھا تھا…. خون نہیں نکلا تھا…. نائلہ وہ پریشان ہوگئ تھی…. ملازمہ انہیں ہوش میں لانے کی کوشش کررہی تھی…. تم ایمبولینس کو کال کرو جلدی جاؤ…. گارڈ کو بلاؤ…. کچھ دیر تک ایمبولینس آگئ تھی…. انہیں ہسپتال لے جایا گیا…. دادی اور ایک ملازمہ نائلہ کے ساتھ تھی…. خان آفس میں میٹنگ میں مصروف تھے…. مگر دل میں ایک بےچینی سی ہونے لگی تھی…. پریزینٹر کھڑا اپنی پریزینٹیشن دے رہا تھا…. جسے وہ بےزار دل کے ساتھ سن رہے تھے… بار بار ٹائم دیکھتے…. انہیں اپنی بےچینی کی وجہ سمجھ نہیں آرہی تھی…. جب ان کا سائلنٹ پہ لگا موبائل وائبریٹ ہوا… ایک نظر موبائل پر ڈالی…. امی جان کے الفاظ جگمگارہے تھے…. وہ ایکسکیوز کرکے باہر آگۓ تھے…..السلام علیکم امی جان!!! سب خیریت ہے نہ آپ نے اس ٹائم کال کی…. مگر دوسری طرف سے جو خبر انہیں دی گئ تھی…. موبائل ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا تھا…. پیروں تلے سے زمین سرکتی ہوئ محسوس ہورہی تھی… ان کا سیکرٹری امجد بھی ساتھ ہی تھا….”سر ایوریتھنگ از آل رائٹ’ آر یو اوکے….’ مگر وہ کہاں کسی کی سن رہے تھے جو جواب دیتے اسے…. ان کے کانوں میں تو بس زہرہ بیگم کی روتی ہوئ آواز گونج رہی تھی…. “نائلہ سیڑھیوں سے گرگئ ہے’ ہم اسے ہسپتال لاۓ ہیں خان تم جلدی آجاؤ یہاں’ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں یے’ کوئ بھی ڈاکٹر کچھ ٹھیک سے نہیں بتارہے….””سر آپ ٹھیک ہے…’ امجد نے بازو پکڑ کر ہلایا تھا… وہ جیسے اب ہوش میں آۓ تھے…. خالی نظروں سے امجد کا چہرہ دیکھا…. اپنے آس پاس کا منظر دیکھا….. وہ یہاں کیا کررہے ہیں؟؟؟ انہیں تو نائلہ کے پاس ہسپتال میں ہونا چاہیے… وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ آگے کی طرف بڑھے تھے… امجد بھی ساتھ ہی گیا تھا…. سر آپ مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے’ آپ مجھے بتاۓ کہاں جانا ہے؟؟ میں آپ کو لے چلتا ہو اور وہ بنا کچھ بولے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گۓ تھے… لڑکھڑاتی زبان میں انہوں نے ہوسپٹل کا نام بتایا تھا اور اگلے پندرہ منٹ بعد وہ ہوسپٹل میں موجود تھے….. ایک ملازمہ ادھر ہی کھڑی تھی… زہرہ بیگم خان کے سینے سے لگی رورہی تھی…. امی جان المیرا کدھر ہے…؟؟وہ گھر ہے ملازمہ کے پاس….ڈاکٹر کیا کہتے ہیں؟؟؟اور یہ سب کیسے ہوا؟؟؟پتا نہیں بیٹا’ شاید سیڑھیوں سے پیر سلیپ ہوگیا تھا’ جب ہم نے دیکھا تو بےہوش پڑی تھی… وہ زاروقطار روتے ہوۓ بتارہی تھی…. بیٹا تم پوچھو ڈاکٹر سے… وہ کچھ نہیں بتارہے ہیں؟؟؟امی جان آپ چپ کرے’ آپکی طبیعت خراب ہوجاۓ گی’ آپ یہاں بیٹھے’ نائلہ کو کچھ نہیں ہوگا’ آپریشن چل رہا ہے’ ابھی ڈاکٹر باہر آجاۓ گے…. کچھ نہیں ہوگا نائلہ کو… کچھ نہیں ہوگا…. وہ شاید اپنی ماں سے زیادہ خود کو تسلی دے ریے تھے… دل ہی دل میں دعا کررہے تھے اس کی سلامتی کیلۓ… کچھ دیر بعد لال بتی بجھ گئ تھی…. ڈاکٹر باہر آگۓ تھے… خان ڈاکٹر کی طرف بڑھے تھے…. ڈاکٹر کیسی ہے میری وائف؟؟؟ وہ ٹھیک ہے نہ؟؟؟ڈاکٹر نے خان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا….ایم سوری’ شی از نو مور….. خان لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹے تھے…. امجد نے آگے بڑھ کر انہیں تھاما تھا… ہم نے بہت کوشش کی انہیں بچانے کی مگر شاید وہ اپنی زندگی اتنی ہی لکھوا کر آئ تھی… ایم سوری….ڈاکٹر آگے بڑھ گیا تھا…. خان زمین پر بیٹھتے چلے گۓ تھے…. جسم میں طاقت نہیں رہی تھی… سب کچھ گھوم کر رہ گیا تھا…. “صبح ہی تو وہ نائلہ کو صحیح سلامت’ ہنستا ‘ مسکراتا ہوا چھوڑ کر آۓ تھے اور اب یہ سب اچانک…. ______________________جسم میں طاقت نہیں رہی تھی…. سب کچھ گھوم کر رہ گیا تھا…. کب نائلہ کی ڈیڈ باڈی کوگھر لایا گیا…. کب رشتے داروں کا آنا سٹارٹ ہوا… کب نائلہ کے گھر والے آۓ… وہ کن کن سے ملے… کسی چیز پہ دھیان نہیں تھا…. آنکھ میں ایک آنسوں نہیں تھا… مگر دل کٹ رہا تھا اور پھر وہ روۓ تھے…. نائلہ کے جنازے کے پاس بیٹھ کر اور اتنا روۓ تھے کہ سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا…. ایک ہفتہ کس قدر اس گھر میں خوشیاں منائ گئ تھی….’ مگر آج ہو کا عالم تھا…’ کھلکھلاہٹوں کی جگہہ رونے’ چینخنے کی آوازیں تھی اور انہی آوازوں میں اس معصوم بچی کی بھی آواز شامل تھی… شاید ماں کے لمس کو محسوس کرنا چاہتی تھی…. اپنی ماں کی گود میں آنا چاہتی تھی…. المیرا کے رونے کی آواز سن کر تو دل اور بھر کر آرہا تھا….” کب جنازہ اٹھایا گیا… کب نماز جنازہ ادا کی گئ… کب وہ قبرستان پہنچے…. کب نائلہ کی تدفین کی گئ…. کب وہ واپس آۓ…’ کہاں کسی چیز کی خبر تھی…. کب کس چیز کا ہوش تھا…. گھر آکر وہ سیدھا اپنے روم میں آۓ تھے… جہاں ان کی کزنیں المیرا کو لے کر بیٹھی تھی… انہوں نے المیرا کو گود میں لیا تھا… “انہوں نے دیکھا تھا’ المیرا گود میں آتے ہی سوتے ہوۓ میں مسکرائ تھی’ شاید اسے باپ کی گود میں سکوں مل گیا تھا” وہ ایک بار پھر زاروقطار المیرا کو اپنے سینے سے لگا کر روۓ تھے…. مگر وہ معصوم ہر چیز سے بے خبر سونے میں مصروف تھی…. ان کیلۓ وقت رک گیا تھا… سب کچھ تھا بس نائلہ کی کمی تھی… نائلہ کے جانے کے بعد انہوں نے مسکرانا چھوڑ دیا تھا…. ہر شے میں اداسی تھی…. ماضی کی یادیں چھٹنے لگی تھی…. انہوں نے آنکھیں کھولی تھی…. سارا منظر بدل گیا تھا… وہ اپنے حال میں تھے… صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھیں چھت کو دیکھ رہے تھے….’ آنسوں نکل کر کانوں میں جزب ہوجاتے….'”نائلہ کیوں چلئ گئ تھی تم مجھے اکیلا چھوڑکر’ المیرا کا بھی خیال نہیں کیا’ وہ پندرہ دن کی بچی کیسے رہیں گی’ نائلہ میں سمجھ رہا تھا تم میرے دل سے نکل گئ ہو’ مگر مجھے آج احساس ہورہا ہے تم کبھی اس دل سے نکلی ہی نہیں’ تم اس دل کے ایک کونے میں قید تھی’ اگر آج تم ہوتی تو ہم سب خوش ہوتے اور شاید میں اپنی بیٹی سے بھی دور نہ ہوا ہوتا…..”وہ چھت کو دیکھتے نائلہ سے دل میں مخاطب تھے’ آنسوں اب بھی نکل رہے تھے…….””مجھے معاف کردینا نائلہ میں خدیجہ کی خوبصورتی میں اس قدر اندھا ہوتا چلا گیا کہ .مجھے یہ تک بھول گیا کہ میری ایک بیٹی ہے اور وہ میری محبت کیلۓ ترستی ہوگی….’ انہوں نے آنکھیں بند کرلی تھی….”نائلہ کیا المیرا مجھے معاف کردے گی؟؟ میں کیسے اس کی پاس واپس جاؤں؟؟ اس کو اپنے سینے سے لگاؤں؟؟ میں نے تو کبھی اپنی بیٹی سے پیار سے بات بھی نہیں کی’ دو گھڑی اس کے پاس بیٹھ کر اس سے حال نہیں پوچھا’ کبھی اس کی کوئ بات نہیں سنی’ کبھی اسے اپنے سینے سے نہیں لگایا….” آنسوں بند پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نکل رہے تھے…. انہوں نے آنکھیں کھولی تھی… المیرا کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھا….”مجھے معاف کردینا میری بچی….’ وہ ٹیک چھوڑ کر بیٹھے تھے…. اپنی آنکھوں کو رگڑ کر آنسوں صاف کیے تھے اور ایک بار پھر ٹیک لگا کر المیرا کے روم کے بند دروازے کو دیکھنے لگے….’اس بند دروازے سے اندر جاۓ تو المیرا بیڈ پر کمبل اوڑھے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی… پیروں کو کھڑا کیے ہاتھوں میں اپنی ماں کی تصویروں کے ایلبم کو گھٹنوں پر رکھے تصویروں کو دیکھ رہی تھی… وہ بالکل اپنی ماں جیسی تھی… ایک تصویر پر وہ رکی… جس میں خان اور نائلہ دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے…. المیرا نے تصویر پر ہاتھ پھیرا… وہ دونوں کتنے خوبصورت لگ رہے تھے ایک ساتھ اس تصویر میں….”ماما آپ کو پتا ہے اگلے ہفتے یعنی جمعہ والے دن میری انگیجمنٹ ہے یوشع کے ساتھ اور میں بہت خوش ہو’ ماما سب کچھ ہوتے ہوۓ بھی صرف ایک چیز کی کمی ہوتی ہے اور وہ کمی آپ ہے’ اور بابا…’ وہ تو یہاں ہوتے ہوۓ بھی یہاں نہیں ہوتے’ بابا کا ہونا یا نا ہونا ایک جیسا ہوتا ہے’ ماما…’ بابا نے مجھے کبھی پیار نہیں کیا’ کبھی شفقت بھرا ہاتھ میرے سر پر نہیں رکھا’ کبھی مجھے اپنے سینے سے نہیں لگایا’ مگر میں کبھی ان سے نفرت نہیں کرسکی’ مگر اب میں بھی ناراض ہوگئ ہو ان سے’ میں ناراض ہوگئ ہو بابا سے…ایک آنسو ٹوٹ کر تصویر پر گرا تھا….”انہوں نے کبھی میرے آنسوں صاف نہیں کیے….’ اس نے خود ہی بےدردی سے اپنے آنسوں کو رگڑ ڈالا تھا…. “مس یو آ لوٹ ماما’ مس یو….’ اس نے ایلبم کو اپنے سینے سے لگایا….. پاس رکھا موبائل رنگ ہوا…. اس نے بھیگی پکلوں سے نمبر دیکھا…. کال یس کرکے موبائل کان سے لگایا…”مینی مینی ہیپی کونگریٹس جان یوشع’ یار اگر میں سچ بتاؤں تو مجھے یقین ہی نہیں آرہا کہ تمھارے بابا مان گۓ ہیں’ دادی کی کال آئ تھی ڈیڈ کے پاس’ انہوں نے بتایا کہ اگلے جمعہ ہماری انگیجمنٹ ہے….’ تم کچھ بول کیوں نہیں رہی….”آپ بولنے کا موقعہ دے گے تو بولو گی…. مبارک ہو آپ کو بھی” اس نے آواز کو ہموار بنانے کی کوشش کی تھی مگر ہر بار کی طرح ناکام ہوگئ تھی…. “مہرو تم رو رہی ہو…” ہر بار کی طرح آج بھی یوشع نے المیرا کی آواز سے اس کی حالت کا اندازہ لگالیا تھا…. نہیں میں کیوں رو گی…’جھوٹ…’ تم رو رہی ہو…المیرا کچھ پل کیلۓ خاموش ہوگئ…. دوسری طرف بھی خاموشی چھاگئ تھی…. صرف ایک دوسرے کی سانسوں کی آوازیں سن رہے تھے…..”میں ماما سے باتیں کررہی تھی….’ نائلہ کی تصویر کو دیکھ کر کہا… ایلبم اب بھی کھلا ہوا تھا….”باتیں کرتے کرتے دل بھر گیا….’ یوشع اب بھی چپ رہا..’شہری میں سچ کہہ رہی ہو….'”جانتا ہو مہرو’ مگر تمھیں تسلی دینے کیلۓ میرے پاس بھی الفاظ نہیں ہے’ کیونکہ میری بھی ماما نہیں ہے’ اور مجھے بھی جب اپنی ماما کی بہت یاد آتی ہے تو ان کی تصویروں سے باتیں کرتا ہو’ دل بھر آتا ہے….” یوشع کا لہجہ بھی اداسی میں بدل گیا تھا…. “ایم سو سوری میں نے تمھیں بھی اداس کردیا…”تمھیں پتا ہے تمھارا سوری کہنا مجھے بالکل نہیں پسند…. اچھا اچھا ٹھیک ہے میں نے سوری واپس لیا….یوشع مسکرایا…. گڈاب ذرا جناب یہ بتاۓ شوپنگ پر کب لے کر جاۓ گے صرف ون ویک ہے ہماری انگیجمنٹ کو اور تیاری کافی ساری…..”میں آپ کا نوکر’ ارے جب کہے گی جب لے جاۓ گے’ آپ حکم کرے’ ہم غلام بن جاۓ گے….”بس بس اتنی تابعداری اچھی نہیں ہوتی….’ المیرا کا موڈ بہتر ہورہا تھا…. یوشع اس سے کال پہ ہنسی مزاق کررہا تھا…. مزاحیہ چٹکلے سنا رہا تھا اور یوشع تو روتے ہوۓ کو ہنسا دیتا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ المیرا کو اداس چھوڑ کر خود سکون سے رہ لے.. وہ تو پھر اس کی زندگی ہے…. وہ اپنی باتیں کرنے میں مصروف ہوگۓ تھے…… *********جاری ہے