Visal-e-Javedan by Malaika Sheikh NovelM80050 Episode 39 Part 02
Episode 39 Part 02
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
المیرا اپنے روم میں کھڑکی کے پاس کھڑی تھی…. دو دن ہوگۓ تھے اس کی اور یوشع کی ملاقات کو…. مگر وہ ملاقات….. یوشع کے آنسو وہ سب نہیں بھول پارہی تھی….. یوشع کے آنسوؤں میں اس کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہورہا تھا….. جب وہ اس کو چھوڑ آئ تھی جب اس نے پہلی بار یوشع کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے اور وہ صرف اسی کیلۓ رویا تھا…. اور آج اتنے سالوں بعد اس نے یوشع کی آنکھوں میں پھر آنسوں دیکھے تھے…. مگر ابھی المیر کو کیا معلوم کہ اس کے جانے کے بعد وہ ان چار سالوں میں بس روتا ہی رہا ہے اگر اس کو معلوم ہوجاۓ تو شاید وہ آج ہی یوشع کے پاس چلی جاۓ…..
المیرا…..” ایمان نے پیچھے سے پکارا…..
ہممم بولو…..” اس نے کھڑکی سے باہر دیکھتے جواب دیا….
وہ آیا ہے…..”
وہ کون؟؟ نام کیا ہے؟؟؟؟” المیرا نے اب تک ایمان کو نہیں دیکھا……
علی آیا ہے وہ کہتا ہے کہ وہ یوشع کا بھائ ہے…..” اور یہ دونوں نام المیرا کے ہوش اڑانے کیلۓ کافی تھے….. اس نے پلٹ کر ماہی کو دیکھا مگر اس کے پیچھے کھڑے علی کو دیکھ کر زیادہ ہوش اڑے تھے…… وہ قدم قدم چلتا آگے آیا….. المیرا نے منہ موڑ لیا….
کیا کرنے آۓ ہیں آپ یہاں’ جاۓ یہاں سے’ اور گھر کا کس نے بتایا؟؟؟؟”
چلا جاؤ گا میں یہاں رکنے کیلۓ آیا بھی نہیں ہو المیرا خان…..” علی کا چبھتا ہوا لہجہ المیرا کیلۓ کافی تھا…..
اور گھر کا کس نے بتایا ہنہ یہ بھی کوئ پوچھنے والی بات ہے المیرا خان’ تمھیں کیا لگتا ہے تم اسی شہر میں رہو گی اور تمھارے گھر کا پتا نہیں چلے گا’ دی گریٹ بزنس مین علی عمران ہو ‘ ایک گھر کا پتا لگانا میرے لۓ کوئ مشکل نہیں’ پانچ سال سے پتا ہے کیوں نہیں پتا لگایا تمھارا کیونکہ ہمیں لگتا تھا کہ تم واقعی دبئ میں جہانزیب کے ساتھ ہو’ مگر ہم سے اتنا بڑا جھوٹ بولا جاۓ گا یہ کبھی نہیں سوچا تھا’ اور اب پتا ہے میں کہاں سے آرہا ہو تمھارے ماموں کے گھر سے ان سے لڑکر یہ پوچھ کر کہ انہوں نے ہم سے جھوٹ کیوں بولا تو انہوں نے پتا ہے کیا کہا مجھ سے کہ انہیں جھوٹ بولنے کیلۓ تم نے کہا تھا’ تم نے ان سے کہا تھا کہ وہ ہمیں کہہ دے کہ میں دبئ جہانزیب کے پاس ہو مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ المیرا خان نے جھوٹ تک بولنا شروع کردیا ہے…..” المیرا کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا….. وہ علی کی طرف مڑی…
ہاں بولا ہے جھوٹ تو اور کیا کرتی میں بتاۓ مجھے اگر جھوٹ نہ بولتی تو اور کیا کرتی…..” وہ بھی غصے سے چینخی تھی….
گریٹ المیرا خان ڈیٹس گریٹ’ ایک منٹ میں اتنا پرایا کردوں گی کبھی نہیں سوچا تھا…..” علی نے اسے بازو سے تھاما……
تمھیں صرف زبان سے بہن نہیں بولا تھا المیرا خان تمھیں دل سے بہن مانا تھا’ جیسی عزت محبت ماہی کیلۓ اس دل میں تھی جیسا مقام اس کا تھا اسی مقام پر بالکل اس کے برابر تمھیں رکھا تھا’ کبھی تمھیں ماہی سے کم نہیں سمجھا میں نے’ مگر تم نے شاید کبھی مجھے بھائ دل سے مانا ہی نہیں کیونکہ اگر تم مانتی تو ہم سے اتنا بڑا جھوٹ نہ بولتی’ یوں پانچ سال تک ہم سے چھپ کر نہ رہتی’ اینی وے نہ رکھو کوئ رشتہ’ نہیں ضرورت تمھاری’ مگر تمھیں جاننا پڑے گا اب سب کچھ کہ تمھارے جانے کے بعد کیا ہوا تھا……”
مجھے کچھ نہیں جاننا’ بہتر ہوگا آپ یہاں سے چلے جاۓ……” وہ ایک بار پھر منہ موڑ کر کھڑی ہوگئ……
بس ہوگیا المیرا خان میں یہاں تمھاری سننے نہیں آیا سنانے آیا ہو وہ سب جو ان پانچ سالوں میں ہوگیا ہے تمھارے جانے کے بعد’ تاکہ تمھیں بھی معلوم ہو کہ کیسے کیسے دکھوں سے گزر کر آۓ ہیں’ تب تمھیں شاید یوشع پر تھوڑا ترس آجاۓ……”
نام مت لے ان کا میرے سامنے…..” اس نے غصے سے انگلی اٹھا کر وارن کیا….. علی طنزیہ مسکرایا….
یہ وہی یوشع ہے جس پر تم دل وجان سے مرا کرتی تھی……”
مرا کرتی تھی نہ پاسٹ تھا وہ سب جو کہ اب ختم ہوچکا ہے’ میرے دل میں ان کیلۓ کوئ محبت نہیں ہے…….” علی ایک بار پھر مسکرایا….
اب بھی جھوٹ بول رہی ہو’ تمھارے دل میں آج بھی یوشع کیلۓ وہی محبت وہی عزت وہی رتبہ وہی مقام ہے’ تم جتنا مرضی کہہ لو زبان سے مگر تمہاری آنکھیں سچ بتا ہی دے گی’ اور ہاں واقعی صحیح کہا تم نے تمھیں یوشع سے محبت نہیں ہے تمھیں تو یوشع سے عشق ہے رائٹ نہ’ اور ہاں آج تمھیں سننا ہوگا سب کچھ….”
نہ مجھے یوشع سے عشق ہے اور نہ ہی مجھے کچھ سننا ہے’ آپ جاسکتے ہیں یہاں سے….”
چلا تو میں ویسے بھی جاؤ گا مگر سچ بتاۓ بغیر نہیں’ اور تم سنو گی بھی….”
نہیں سننا جاۓ آپ پلیز’ مجھے کچھ نہیں سننا…..” تمہارے جانے بعد جو بھی ہوا نہ المیرا یہ سب سننے کیلۓ اپنے اندر ہمت پیدا کرلینا’ کیونکہ بعد میں تم بہت رونے والی ہو…..”
نہ میں رورہی نہ میں سن رہی…..”
اووو پلیز شٹ اپ اور اب سنو……”
ماضی:
ہوا تو کچھ نہیں غالب بس تھوڑا سا مان ٹوٹا ہے”
تھوڑے سے لوگ بچھڑے ہیں’ تھوڑے سے خواب بکھرے ہیں”
تھوڑی سی نیندیں اڑگئ ہے اور تھوڑی سی خوشیاں چھن گئ ہے”
ہوا تو کچھ نہیں غالب بس اپنا آپ گنوایا ہے”
آنکھوں کو برسنا سیکھایا ہے’ چاہتوں کا صلہ پایا ہے”
ہوا تو کچھ نہیں غالب بس کسی اپنے نے بہت رلایا ہے……”
المیرا جب تک یوشع کو چھوڑ کرگئ جب تک شام ہوچکی تھی….. مایوں کہ رسم کینسل کردی گئ تھی…. سب مہمانوں کو منع کردیا گیا تھا….. یوسف صاحب کو بھی سب کچھ پتا چل گیا تھا…. مگر ان کی اب تک یوشع سے ملاقات نہیں ہوئ تھی…. ائیرپورٹ سے آنے کے بعد یوشع سیدھا اپنے فام ہاؤس چلا گیا تھا….. باپ کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہورہی تھی….. رات ہوگئ تھی….. جہاں آج گھر میں خوشیوں کا سماں ہونا تھا وہاں سوگ منایا جارہا تھا….. سب کی زبانوں کو قفل لگ چکا تھا….. سب ایک دوسرے سے نظریں چراۓ پھررہے تھے….. ماہی اپنے روم میں بیٹھی تھی…. علی بھی روم میں آیا….
بھائ آپ…..” وہ بیڈ سے اٹھی….
وہ علی کے قریب آنے لگی تھی…..
وہی رک جاؤ ماہی…..” اس کے چلتے قدم رک گۓ تھے….
علی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا….. چند پل اس کو دیکھتا رہا….
تم نے ایسا کیوں کیا ماہی؟؟؟
کیا مطلب بھائ؟؟؟ اس کا دل گھبرانے لگا تھا…..
کیوں تم نے یوشع پہ جھوٹے الزام لگاۓ کہ اس نے تمھارے ساتھ…..”
بھائ….” اسے حیرانگی ہوئ…..
آپ کو میری بات پر یقین نہیں….”
وہ دیوار سے ٹیک لگاۓ خاموشی سے اس کو دیکھے گیا….
تم یوشع سے محبت کرتی ہو نہ؟؟؟
ہوش تو اب صحیح معنوں میں اڑے تھے ماہی کے….. بھائ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئ؟؟؟
سوچ رہی ہوگی کہ مجھے یہ بات کیسے معلوم پڑی…..
بھا…..”
چپ بالکل چپ مت بلاؤ مجھے بھائ….”
علی کی آواز میں نمی گھلنے لگی تھی…..
تمھیں کیا لگتا ہے یوشع اور تم اس بات کو چھپا جاؤ گے تو مجھے کیا معلوم نہیں پڑے گا اس بات…..” تمھیں کیا لگتا ہے میں اندھا ہو’ بیوقوف ہو’ میرے پاس عقل و شعور نام کی کوئ چیز نہیں ہے…..” اس کی آواز تھوڑی تیز ہوئ تھی مگر پھر خود ہی مدھم کرگیا کہ ماما بابا تک یہ آواز نا پہنچ جاۓ…..
بھائ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟؟ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا…..”
اب تمھیں کچھ سمجھ آۓ گا بھی نہیں ماہی’ نہ ہی تم بچی ہو اور نہ ہی بیوقوف’ جو تمھیں میری باتیں سمجھ نہ آۓ….
کیا لگتا ہے تمھیں مجھے کچھ نظر نہیں آتا کیا؟؟ کے تم نے یوشع سے بات کرنا بند کررکھی تھی’ ایک دن اگر تمھاری یوشع سے بات نہیں ہوتی تھی تم اس کے سر پر کھڑی اس سے لڑرہی ہوتی تھی کہ مجھ سے بات کیوں نہیں کررہے؟؟ اور اب تم نے سات مہینوں سے بات کرنا بند کر رکھی ہے’ کیا مجھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا؟؟؟
یوشع کی انگیجمنٹ کے بعد سے تمھارا خود کو روم میں بند کرلینا’ جہاں پر یوشع کا ہونا وہاں سے تمھارا غائب ہوجانا’ اندھا سمجھ رکھا تھا کیا کہ تم جو مرضی کرو گی اور مجھے کچھ نظر نہیں آۓ گا’ تمھیں لگتا تھا کہ تم دونوں یہ بات چھپا جاؤ گے تو کیا مجھے معلوم نہیں ہوگا…..”
معلوم تو مجھے اسی دن ہوگیا تھا جس دن تمھارے سامنے یوشع کی انگیجمنٹ کی بات کی گئ تھی’ تب تم اچانک لاؤنج میں سے اٹھ کر چلی گئ تھی’ تمھارے جانے کے بعد میں بھی تمھارے پیچھے اٹھ کر آیا تھا کہ پوچھو تو صحیح کہ اچانک میری گڑیا کو کیا ہوگیا؟؟؟ مگر تمھارے روم کے باہر میرے قدم رک گۓ’ مجھے اپنی سماعتوں پر شک ہونے لگا تھا کہ میں جس کو سن رہا ہو وہ میری گڑیا ہے’ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ جس کو میں اپنی چھوڑی گڑیا سمجھ رہا ہوں وہ تو اب بڑی ہوچکی ہے’ اتنی بڑی کہ دوسروں سے نفرت کرنے لگی ہے’ دوسروں کے خلاف سازشیں کرنے لگ گئ ہے’ اس دن یہی کہا تھا نہ تم نے کہ مجھے نفرت ہے المیرا خان تم سے نفرت’ یوشع کو مجھ سے کوئ نہیں چھین سکتا’ تم اس کو اپنا ہر حال میں بناکر رہوں گی…..”
ماہی کی آنکھوں میں آنسوں آۓ تھے….
علی ٹیک لگاۓ بجھے دل سے ہلکا سا مسکرایا…..
مبارک ہو ماہین عمران اس کھیل میں جیت تمھاری ہوگئ’ بنالیا تم نے یوشع کو اپنا’ کردیا المیرا کو یوشع سے دور…..”
اس دن سب کچھ جاننے کے بعد بھی میں چپ رہا کہ میں کرہی کیا سکتا ہو؟؟ مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ میری خاموشی کا تم اس قدر فائدہ اٹھالوں گی’ یوشع پر اتنا بڑا الزام لگادو گی…..”
بھائ میں سچ کہہ رہی ہو’ یوشع نے میرے ساتھ….”
مجھے دیکھو ماہی میں اپنی بہن کی محبت میں کتنا خودغرض بن گیا…..” وہ قدم قدم چلتا اس کے قریب آیا…. دونوں بازؤں سے اس کو تھاما….
تمھارا بھائ تمھاری محبت میں خودغرض بن گیا’ تمھیں پتا ہے میں نے تمھارا نکاح یوشع کے ساتھ کیوں کروایا ہے؟؟؟ کیونکہ جتنا یوشع نے مجھے بتایا اس حساب سے یوشع مجھے غلط لگا تھا’ اب میں نے بھلے ہی تمھارا نکاح یوشع کے ساتھ کروادیا ہو’ تمھاری محبت تمھیں دے دی ہو’ بھلے ہی مجھے اپنے عزیزوں کے دل ہی کیوں نہ توڑنے پڑگۓ ہو’ تمھیں تو تمھارے بھائ نے ساری خوشیاں دے دی نا’ کیونکہ میں نے تمھارے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائ تھی کہ تمھیں تمھاری ساری خوشیاں دوں گا’ تمھارے بھائ نے لوگوں کے دل کر توڑ کر اپنی قسم تو پوری کردی مگر یاد رکھنا تم کبھی بھی یوشع کے ساتھ خوش نہیں رہ پاؤ گی’تم جانتی ہو یوشع نے چپ چاپ تمھارے ساتھ اتنی آسانی سے نکاح کیوں کرلیا؟؟؟ میں بتاتا ہو…..”
کیونکہ اسے اس بات کا ابھی صحیح سے علم نہیں ہے کہ اس نے واقعی تمھارے ساتھ کچھ کیا ہے یا نہیں’ جس دن سچ بات کا اسے علم ہوگیا کہ اس نے تمھارے ساتھ کچھ نہیں کیا’ وہ اسی دن تمھیں چھوڑ دے گا اور تمھارا وہ حال کرے گا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتی’ اور اس وقت تمھارا بھائ بھی تمھارے لۓ کچھ نہیں کرپاۓ گا’ یوشع تمھاری سوچ سے بھی اوپر کی چیز ہے ماہین عمران وہ جب تک چپ ہےچپ ہے’ جس دن وہ بولا نہ تو تمھاری بولتی بند کردے گا’ تمھیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا’ کیونکہ تم نے اب تک یوشع کو جانا نہیں ہے کہ وہ اصل میں ہے کیا؟؟ تم لوگوں نے اس کا اب تک صرف محبت سے بھرپور وجود دیکھا ہے’ اس کو ہنستا مسکراتا دیکھا ہے’ اس کا غصے سے بھرا وجود نہیں دیکھا’ دعا کرنا کہ کبھی تم اس کا غصے سے بھرپور وجود نہ دیکھو’ کیونکہ جس دن تم نے اس کا غصے سے بھرپور وجود دیکھ لیا تو تمھاری ساری عقل ٹھکانے پر آجاۓ گی’ اس کے سامنےایک لفظ بھی بولنے سے پہلے کئ بار سوچو گی’
یوشع نے بھلے ہی تم پرترس کہا کر’ خود کو گنہگار سمجھ کر تم سے نکاح کرلیا ہو’ مگر یاد رکھنا وہ زندگی بھر تمھیں اپناۓ گا نہیں’ تم ساری زندگی اس کے پیار کیلۓ تڑپتی رہ جاؤ گی کیونکہ تمھاری سزا یہی ہے…..”
بھائ….”
مت بولو مجھے بھائ…..”
مجھے بھائ اب جب بولنا جب یہ بات سچ ثابت ہوجاۓ کہ تم ناپاک ہوچکی ہو’ ابھی یوشع کا مائنڈ آف ہوچکا ہے’ ظاہر سی بات ہے کسی کا بھی ہوسکتا ہے’مگر جب وہ ٹھنڈے دماغ سے بیٹھ کر اس بات کو سوچے گا اور اسے تھوڑا بھی شق ہوگیا کہ اس نے کچھ نہیں کیا تمھارے ساتھ’ تو وہ کیا کرے گا میں بھی نہیں جانتا’ مگر جو بھی ہوگا بہت غلط ہوگا’ اسی لۓ دعا کرنا کہ جو تم نے کہا ہے وہ سب سچ ہو’ تم نے اس پر جھوٹے الزام نہ لگاۓ ہو……”
علی اس کے بازوؤں کو چھوڑتا اس سے دور ہٹا…..
شادی کے بعد لڑکی کا اصل گھر اس کے شوہر کا گھر ہوتا ہے’صرف پانچ منٹ ہے تمھارے پاس اپنی پیکنگ کرو اور باہر آجاؤ میں ویٹ کررہا ہو…..”
علی نے الٹے قدم دروازے کی طرف بڑھاۓ تھے….
تم کبھی خوش نہیں رہ پاؤں گی ماہین عمران کیونکہ دوسروں کی خوشیاں چھین کر کبھی کوئ خوش نہیں رہ پایا’ بہت غلط کیا تم نے ماہی’ اگر کو یہ بات سچ ہے تو تمھارا بھائ ہر موڑ پر تمھارے ساتھ کھڑا ہے اور اگر کو یہ بات جھوٹ ثابت ہوئ تو بھول جانا کہ تمھارا کوئ بھائ ہے’ تم میرے دل سے اتر چکی ہو’بہت غلط کیا سب کی خوشیاں برباد کردی کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی’ دعا کرنا بس جو تم نے کہا وہ سب سچ ہو اگر جھوٹ نکلا تو جو بھی ہوگا اچھا نہیں ہوگا’ اس وقت تمھارا بھائ بھی تمھارے ساتھ نہیں ہوگا…..”
وہ نم آنکھوں سے باہر نکل گیا…..”
وہ روتے ہوۓ زمین پر بیٹھتی چلی گئ…..
ابھی سے بھائ کو کھودیا…..”
*
علی اسے لے کر یوشع کے گھر آگیا تھا…. کتنی ہی رات ہوگئ تھی مگر یوشع اب تک گھر نہیں آیا….. یوسف صاحب مضطرب سے لان میں ٹہل رہے تھے…. وہ دونوں ان کے قریب آۓ….انہوں نے ایک نظر ماہی کو دیکھا…. اس کے سر پر ہاتھ رکھا….
جاؤ یوشع کے روم میں چلی جاؤ…..”
وہ اثبات میں سر ہلاتی اندر کی طرف بڑھ گئ…..
یوشع کہاں پر ہے؟؟؟
وہ فام ہاؤس پر ہے…..”
میری کل سے اس سے کوئ بات نہیں ہوئ ہے’ نہ وہ میرا فون اٹھارہا ہے نہ وہ گھر پر آرہا ہے’ کیوں وہ مجھ سے نظریں ملانے سے کترارہا ہے؟؟ کیوں وہ اپنے باپ کو اور پریشان کررہا ہے…..”
علی نظریں جھکاۓ کھڑا ان کی سنتا رہا…..
بیٹا اگر تمھاری یوشع سے بات یا ملاقات ہوتو اسے کہہ دینا کہ خدا کیلۓ گھر آجاۓ’ مجھ سے نظریں مت چراۓ’ جو ہو نہ تھا ہوگیا اب ان سب کو نصیب کا لکھا سمجھ کر قبول کرلو’ کہہ دینا اس سے کہ اپنے بوڑھے باپ کو اور پریشان مت کرے گھر آجاۓ…..”
جی انکل میں کہہ دوں گا…..”
گہری خاموشی……
ماہی یوشع کے روم میں داخل ہوئ تھی….وہ اندر کھڑی اس کے روم کو دیکھتی مسکرانے لگی تھی…..
ہاہاہاہاہا….” وہ زور زور سے ہنسنے لگی تھی…..
یوشع یوشع یوشع…..” وہ اسے پکارتی ہواؤں میں اڑنے لگی تھی….
وہ ایک دیوار کی طرف بڑھی…. اس پر بڑے سے فریم میں یوشع کی تصویر لگی تھی…..
اس نے تصویر پر ہاتھ پھیرا……
یوشع’ چچچچ…..”
ہاہاہا’ یوشع میں نے تم سے زیادہ بیوقوف انسان آج تک نہیں دیکھا’ تم اتنی آسانی سے میرے جال میں پھنس جاؤ گے’ میں نے سوچا بھی نہیں تھا’ یوشع اب تم پہ صرف میرا حق ہے’ صرف میرا’ اب صرف تم ہوگے اور میں’ ہمارے بیچ میں کوئ المیرا نہیں…..”
اس نے پورے کمرے پہ نظر دوڑائ تھی……
بیڈ کی طرف بڑھی…. بیڈ کی سائڈ ٹیبل سے ایک فریم اٹھایا…..
وہ المیرا کی پک تھی…..
المیرا….” آنکھوں میں نفرت تھی….
تم سے بیوقوف لڑکی بھی میں نے آج تک نہیں دیکھی’ چچچ’کیسے تم یوشع کو اتنی آسانی سے چھوڑ سکتی ہو میرے لۓ’ اففف کاش کہ تم اسکی بات سن لیتی’ ویسے اچھا ہی کیا جو تم نے اس کی ایک نہیں سنی’ ورنہ پھر تم اس سے دور کیسے جاتی؟؟ ہاہاہاہا’ دیکھو المیرا خان جیت گئ میں’ میرے اور یوشع کے بیچ کوئ نہیں آسکتا ‘ یوشع سے بچپن سے میں محبت کرتی آرہی ہو تو تم نے کیسے سوچ لیا کہ میں یوشع کو تمہارا اتنی آسانی سے ہونے دوں گی’ ٹھینک یو المیرا خان ٹھینک یو سو مچ’ ہماری زندگی سے دور جانے کیلۓ……”
اس نے گلے میں سے لوکٹ اتارا تھا یوشع کے نام کو جو المیرا نے دیا تھا…..
لوکٹ کو دیکھا…. اپنی مٹھی میں جکڑا…. المیرا کی تصویر کو غصے سے زمین پر پھینکا…..
فریم ٹوٹ گیا…. کانچ بکھر گیا……
(وقت سارا عشق کا بھوت اتار دے گا ماہین عمران کا کچھ ہی پل میں)
_______
اگلے دن بارات کی تیاریاں دھوم دھام سے کی گئ تھی….. آج المیرا یوشع کا نکاح ہونا تھا…. مگر قسمت اپنے کھیل کھیل گئ ان دونوں کے ساتھ… جہاں دو باراتیں جانی تھی… وہاں پر صرف ایک بارات جارہی تھی علی کی…. یوشع کیلۓ معزرت کرلی گئ تھی کہ اچانک بہت زیادہ طبیعت خراب ہوگئ ہے…… ہوسپٹل میں ایڈمٹ ہے….. شادی ڈیلے کردی گئ ہے…. زینب کے گھر والوں سے بھی کچھ نہیں چھپا تھا….. بارات کا زوروشور سے استقبال کیا جارہا تھا…. مگر دل کسی کا خوش نہیں تھا…. سب کے ہی دل بجھ گۓ تھے…. وہ جس کو شادی کی جلدی تھی….. اپنی شادی کیلۓ بہت خوش تھا آج اس کا دل رورہا تھا…. وہ دلہا بنا ہال میں اینٹر ہورہا تھا…. وہ آج حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہا تھا….. مگر اس کا دل رورہا تھا….. اس کا جان سے زیادہ عزیز دوست بھائیوں سے بھی بڑھ کر اس کی جان یوشع یوسفزئ اس کی شادی میں نہیں….. بظاہر تو وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی مگر آنکھیں اداس تھی…. شادی کی کوئ خوشی نہیں…..
___________
جاری ہے……