Episode 40 Last
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
گاڑی چلاتے اسکی نظریں سامنے روڈ پر مرکوز تھیں۔۔۔۔ذہن گویا تانے بانے بن رہا تھا۔۔گزرے دو ماہ میں وہ گویا خود سے بھی ناراض تھا تبھی تو کہیں آیا گیا نہیں تھا۔۔۔اس دن ہوئے ذوالنون سے سامنے کے بعد وہ چاہ کر بھی دوبارہ اسکا سامنا نہیں کر سکا تھا۔۔اگر یہ فرار تھا تو ہاں حیدر نواز اس سے چھپ رہا تھا۔۔۔مگر کب تک کل اسے پتا چلا تھا کہ وہ پچھلے دو ماہ سے امریکہ تھا۔۔۔کیوں تھا؟؟؟ اس سے بات سے وہ بے خبر تھا۔۔۔۔
آج وہ اپنے شرٹس لینے مال آیا تھا کہ سامنے وہ دشمن جاں کھڑی تھی جسے وہ پچھلے دو ماہ سے بھلائے بیٹھا تھا۔۔۔۔مگر آج گویا سب کچھ واضح کرنا دینا چاہتا تھا تبھی اسے زبردستی اپنے ساتھ لے آیا۔۔۔۔مگر اسکی ہراساں نظریں اور بہتے آنسو اسے ڈسٹرب کر رہے تھے۔۔۔۔تبھی لب بھینچ ایک نگاہ اسکے مڑے چہرے کو دیکھتے اس نے کار روکی۔۔سامنے تاحد نگاہ سمندر تھا۔۔۔
گاڑی بند کرتے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا اور اسکی سائیڈ کا دور کھولتے ہاتھ سامنے کیا تو وہ جو رونے کا شغل فرما رہی تھی اسکے اتنے ریلکس انداز پر جیسے تپ کر انگارہ ہوئی۔۔۔۔
” جہاں سے لے کے آئے ہو وہیں چھوڑ کر آئو۔۔۔ورنہ باخدا اسی سمندر میں کود کر اپنی جان دے دوں گی۔۔۔۔۔”
اسکے بے تاثر چہرے کو دیکھتے وہ لرزتے لہجے میں بولتے گویا حیدر کو ہتھے سے اکھاڑ گئی۔۔۔اتنی بے اعتباری؟؟؟؟؟ جبڑے کس کر اسکی کلائی کھینچتے وہ اسے ایک جھٹکے سے باہر نکال گیا۔۔اسکی اتنی بے دردی پر حبا کی چیخ بے ساختہ تھی۔۔۔۔۔
” آئیندہ یہ دھمکی دینے سے پہلے جان لینا کہ حیدر نواز 6 پہلے کی طرح خاموش نہیں رہے گا۔۔۔بلکہ اس دفعہ تمہیں جان سے مارنے کا کام میں خود انجام دوں گا۔۔۔۔بولو لوں جان تمہاری؟؟؟۔۔۔ بے وفا لڑکی!!!۔۔۔۔۔۔”
ابھی وہ جھٹکے سے سنبھلی ہی نا تھی کہ وہ اسکی کلائی چھوڑ کر اسکی گردن ہلکے سے دبوچے خلق کے بل غراتا حبا کی روح فنا کر گیا۔۔۔وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسکا غصے کی شدت سے دہکتا چہرہ دیکھتی رہ گئی جہاں 6 سالوں کی تڑپ رقم تھی اور آنکھوں میں اذیت کا الگ ہی جہاں آباد تھا۔۔۔۔۔۔ اسکا بے وفا لڑکی کہنا گویا تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ۔۔۔کیا وہ بے وفا تھی؟؟؟؟؟
” حیدر!!!!۔۔۔۔۔۔”
بے آواز لبوں کی جنبش اور سنہری آنکھوں سے بہتے آنسو کانپتا بدن اور ناہموار سانسیں ۔۔۔۔۔۔۔کچھ بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں تھا۔۔۔۔مگر اس
خوبصورت چہرے نے اسکے چھے سال نگل لیے تھے۔۔۔اسے در بدر کیا تھا۔۔۔اپنوں سے دور کیا تھا۔۔خود سے دور کیا تھا۔۔کیا وہ قابل معافی تھی؟؟؟؟؟
” جی چاہتا ہے تمہں یہیں موت کے گھاٹ اتار دوں مگر یہ دل آج بھی تم جیسی کے لیے 6 سال پہلے کی دھڑکتا ہے۔۔۔۔اور اسی منہوس دل نے حیدر نواز کو کسی انتہائی قدم سے روک رکھا ہے۔۔۔سمجھی تم ۔۔۔۔۔۔”
اسکے آنکھوں میں اپنی ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں گھاڑتے وہ سرسراتے لہجے میں بولتا اسے جھٹکے سے چھوڑ گیا۔۔۔جبکہ اسکے لہجے کا سرد پن حبا کی سانسیں روک گیا۔۔۔وہ جو اسے سہارے کھڑی تھی ایک جھٹکے سے زمین بوس ہوئی۔۔۔۔۔وہ ایک چھبتی نظر اس پر ڈالتے رخ موڑ گیا کہ وہ نازک جان مزید کسی سختی کو برداشت نہیں کر پائے گی۔۔۔۔۔
” تت۔۔تو کیا اسی محبت کے واسطے تم ایک بار بھی مجھے معاف نہیں کر سکتے حیدر؟؟؟؟..۔۔۔۔۔”
وہ سامنے ڈوبتے سورج پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔۔دل عجیب طرح سے دھڑکتا اسے پاگل کر رہا تھا۔۔۔کافی دیر بعد عقب سے ابھرتی اسکی نم آواز گویا دل چیر گئی۔۔۔۔وہ تڑپ کر پلٹا اور اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا گیا۔۔۔برسوں کے تڑپتے دل کو سکون ملا تھا۔۔اور جو خود پر ضبط کیے کھڑی تھی اسکا سہارا پاتے ہی بکھر گئی۔…ناجانے کتنے ہی آنسو حیدر کی آنکھوں سے نکلتے اسکے کندھے میں جذب ہو گئے۔۔۔دوسری طرف وہ جانتی تھی کہ اسکے چھے سالوں کی ہر اذیت کی ذمہدار وہ خود تھی تبھی معافی مانگ لی۔۔ہاں وہ غلط تھی شائد دوست کی محبت میں اندھی ہو گئی تھی تبھی یہ نا دیکھ سکی جو اسے دیکھ کر جیتا تھا اسے کیسے وہ ایک اندھیری قبر میں اتار رہی ہے۔۔۔ آج جب ان آنکھوں میں موجود اذیت کو دیکھا تو گویا دل تڑپ اٹھا۔۔۔۔۔
” تمہیں یہ دل ہزار بار بھی معاف کر سکتا ہے ۔۔۔”
جھک کر اسکا سر چومتے وہ جذبات کی شدت سے مغلوب لہجے میں بولتا اسکا دل دھڑکا گیا۔۔۔۔۔کیا وہ اس قابل تھی کہ اسے ایسا چاہا جاتا؟؟؟
” کل میری فیملی آئے گی تمہارے گھر اور اتنا یاد رکھنا اس بار انکار کیا تو اسی سمندر میں غرق کروں گا جہاں ابھی کودنے کی دھمکی دے رہی تھی تم!!!!!۔۔۔۔۔”
اسے خود سے الگ کرتے وہ شرارتی لہجے میں بولتا حبا کا دل دھڑکا گیا۔۔۔وہ کان کی لوئوں تک سرخ پڑتی سر جھکائے مسکرا دی اور اسکی مسکراہٹ دیکھتے حیدر نے جذبات کی رو میں بہتے جھک کر اسکی پیشانی چوم لی۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ وہ ازل سے اسکی تھی کیسے ممکن تھا کہ اسے نا ملتی آسمان کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھتے وہ جاندار سا مسکرایا دل میں سکون سا اترا تھا۔۔۔۔مگر اب بھی ایک کام باقی تھا اور وہ جانتا تھا وہ ذات وہاں بھی اسکا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔۔۔۔۔۔
” ہم کل واپس جا رہے ہیں…..”
وہ جو کل رات اسکے کمرے سے بھاگی صبح بھی باہر نا نکلی اور نا اسنے کوشش کی سامنے کی۔۔ابھی وہ رات کے نو بج رہے تھے جب لوٹا تھا۔۔۔۔ وہ کچن میں کھانا بنا رہی تھی اس سے پہلے اسکی آہٹ محسوس کرتے پھر سے بھاگ جاتی دروازے پر رکتے اسنے سنجیدگی سے کہتے ایک نظر اسکے گھبرائے چہرے پر ڈالی اور پلٹ کر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
اسکے جاتے ہی اسنے نظریں اٹھا کر اسکی پشت دیکھی ۔۔۔شہزادوں سی آن بان لیے وہ شخص ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھا۔۔۔اسکی موجودگی ہمیشہ زری کا دل سہما دیا کرتی تھی۔۔۔۔۔اب بھی گہری سانس لیتے اسنے خود کو پرسکون کیا۔۔۔گھر جانے کا سن کا دل خوشی سے لبریز ہوا تھا۔۔کم سے کم اس تنہائی سے نجات ملتی۔۔۔تبھی سرعت سے گیس آف کرتے کمرے کی طرف بڑھی تاکے پیکنگ کر سکے۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی وہ واشروم میں گھسا تاکہ فریش ہو سکے۔۔۔تولیے سے سر صاف کرتے وہ باہر نکلا تو رف سے جینز اور لوز شرٹ میں اسکا سراپا الگ منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔6 سالوں نے اسکی وجاہت میں مزید اضافہ کیا تھا۔۔۔۔۔چہرے پر مزید گھنی ہوتی شیو اور آنکھوں میں چھایا جمود ہر چیز پرکشش تھی۔۔۔
آئینے کے سامنے آتے اسنے سر کے بال ایسے ہی ہاتھ سنوارے پرفیوم سپرے کی اور تولیہ بیڈ پر پھینک کر باہر کی طرف بڑھا۔۔جہاں پھیلی بریانی کی خوشبو بھوک کو بڑھا رہی تھی۔۔۔۔کچن میں دیکھا تو وہ دشمن جاں غائب تھی۔۔۔تبھی اسکی کمرے کی طرف بڑھتے اسکے لب جاندار سا مسکرائے تھے۔۔۔۔
وہ الماری سے کپڑے نکال رہی تھی کہ ناک کی آواز پر اسے پہلے وہ کچھ بول پاتی وہ دھڑ سے دروازہ کھولتا اندر بڑھ آیا اور اسکی ایسی دیدہ دلیری زری کا دل سہما گئی۔۔وہ حیران نظروں سے اسے دیکھتی رہ گئی جس نے ناک کا تکلف ہی کیا تھا۔۔۔۔اگر ناک کر لیا تھا تو ٹھہر جاتا اور اجازت کا انتظار کرتا مگر وہ جانتی تھی ڈھٹائی ذوالنون اسامہ پر ختم تھی تبھی لب بھینچ کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔دل سینے میں الگ سہم رہا تھا مگر وہ مظبوطی سے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
” کھانا لگائو!!!!۔۔۔۔۔”
اسکی سوالیہ نظروں پر وہ مختصر بولا۔۔۔جس پر وہ سر ہلاتے آگے بڑھی کہ ہاتھوں میں موجود کپڑے بیڈ پر رکھ سکے۔۔۔وہ کپڑے رکھ کر مڑی تھی کہ اسکے چوڑے سینے سے ٹکرا گئی جو ناجانے کب اسکے عقب میں آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔اس چانک تصادم پر جہاں اسامہ کے لب مسکرائے تھے وہیں زری کی ہوائیاں اڑی تھیں۔۔۔۔۔۔اسکے مظبوط بازو کو تھامتے وہ خود کو سنبھالے ہوئے تھی۔۔۔۔سر اٹھا کر اسے دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔سیاہ آنکھوں کی چمک جگنوؤں کو مات دے رہی تھی۔۔۔۔وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا کشادہ پیشانی،چمکتی آنکھیں اور عنابی لب جن کے اطراف میں اگی ہلکی شیو الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ سالوں پہلے بھی اسکے دل کی دھڑکن روک سکتا تھا اور وہ آج بھی دھڑکنوں پر غالب تھا۔۔۔ زری کو لگا دل گویا سینہ چیر کر باہر آ نکلے گا۔۔بھوری آنکھیں ہراساں ہوئیں۔۔۔
جبکہ وہ یوں اسے سامنے پا کر کر الگ ہی جہاں میں تھا۔۔۔سیاہ آنکھیں اسکے ہر نقش کو چومتی سرشار تھیں۔۔۔۔وہ آج تک نہیں جان پایا تھا کہ وہ کیوں اسکے لیے اتنی ضروری تھی؟؟؟ کیوں اسکا دل اسے دیکھ کر دھڑکتا تھا۔۔۔بیتے چھے سال گویا کہیں غائب ہو گئے تھے وہ آج بھی ویسے ہی جان لیوا تھی جیسے پہلے تھی۔۔۔۔۔
” کیا تمہیں حق تھا کہ تم مجھے چھے سال خود سے اور اس حسین منظر سے محروم رکھتی؟؟؟؟……”
اسکی جھکی آنکھوں پر نظریں جمائے وہ عجیب سے لہجے میں بولا تو اسکی سانسوں کی تپش سے زری کو اپنے گال دہکتے ہوئے محسوس ہوئے۔۔۔۔۔جبکہ مدھم لہجے میں پوچھا گیا سوال اور پیچھے چھپے معنی جذبات کی حدت اسے سر سے پائوں تک سنسنا گئی۔۔۔۔۔اسکا دل چاہا وہ کہیں غائب ہو جائے اسکا سامنا ہمیشہ اسے بوکھلا دیتا تھا۔۔۔اور اب تو اسکی نزدیکی نے حواس بے حال کیے تھے۔۔۔۔
” ہمم۔۔۔ بولو!!!!۔۔۔۔۔”
کمال جرات سے اسکی کمر میں بازو حائل کرتے وہ دوسرے ہاتھ سے اسکی تھوڑی اونچی کرتا مدھم سا بولا تو لہجہ جذبات کی شدت سے بوجھل تھا۔۔۔۔حالات کی نزاکت کو سمجھتے زری کے ہوش اڑے۔۔۔۔۔اتنی قربت بھی محال تھی۔۔۔۔
” پپ۔۔۔پتا نہیں۔۔۔۔..”
پلکیں جھکائے وہ اسکے بڑھتے اصرار پر مدھم سا بولی تو اسامہ دلکشی سے مسکراتا اسکی پلکوں پر جھکا۔۔۔۔۔دہکتا لمس آنکھوں پر محسوس کرتے زری کا دل بے ہنگم انداز میں دھڑکا تھا۔۔۔۔۔
” اسامہ پلیز!!!!۔۔۔۔۔”
اسکی سانسیں اپنے لبوں پر محسوس کرتے وہ پوری جان سے لرزتی دھیرے سے بولی تو اسامہ کو لگا اسکا دل گویا سینے کی دیوار توڑ کر باہر نکل آئے گا۔۔۔۔۔کسی کی قربت اتنی اثرانداز ہو سکتی ہے؟؟؟؟ جیسے اسکی ہو رہی تھی۔۔۔۔اسکا وجود اپنے بازوؤں میں محسوس کرتے اسکی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتیں جا رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
” کیا اب بھی انکار ضروری ہے؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔”
حصار تنگ کرتے وہ گھمبیر آواز میں بولا تو نظریں اسکے لرزتے لبوں پر ساکت تھیں۔۔ایک الگ ہی فسوں تھا جس نے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔جبکہ اسکا ایسا بے باک سوال اور دہکتا سلگتا لمس وجود کو خاک کر رہا تھا۔۔۔زبان گویا تالو سے جا چپکی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” اور اگر میں تمہارے انکار کو اہمیت نا دوں تو؟؟؟؟۔۔۔۔۔”
اسے یوں ہی بت بنے دیکھ وہ سرد لہجے میں بولا تو زری نے چونک کر پلکیں اٹھائیں۔۔۔جہاں وہ نظروں میں دنیا جہاں کے جذبے سمائے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔چہرہ جذبات کی شدت سے دہک رہا تھا۔۔۔سیاہ آنکھوں کی لپک اتنی شدید تھی کہ اسے اپنا چہرہ جلتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔
” مم۔۔۔میں کھانا لگا دیتی ہوں…….”
اسکے سوال کو نظرانداز کرتے وہ لرزتے لہجے میں بولتی کسمسائی تو اسامہ کے گرد چھایا فسوں چھن سے ٹوٹا۔۔۔۔وہ ہوش میں آتا اسے اپنے حصار سے آزاد کر گیا۔۔۔۔اسکے چھوڑتے ہی اس سے پہلے وہ وہاں سے غائب ہوتی اپنی کلائی اسکی گرفت میں محسوس کرتے وہیں ساکت ہوئی۔۔۔۔۔
” یہ فرار ہر بار مجھے روک نہیں سکے گا نیناں!!!!۔۔۔۔۔۔”
اسکی کلائی جہاں نبض دھڑک رہی اپنے دہکتے لب رکھتے وہ گھمبیر لہجے میں بولا تو زری کو اپنا دل خلق میں آتا محسوس ہوا۔۔لہجہ ان دیکھی آگ میں جل رہا تھا جس کی تپش زری نے بخوبی محسوس کی تھی۔۔۔۔۔وہ لمس کوئی انگارہ تھا جو اسکی کلائی پر دہک رہا تھا۔۔۔۔اور لمس سے زیادہ وہ الفاظ سانس روک رہے تھے۔۔۔۔مڑ کر اسے دیکھا تو اپنی سیاہ آنکھوں میں چھبن لیے اسے دیکھتا اسکے پورے وجود کو سنسنا گیا۔۔۔۔لرز کر رخ موڑتے وہ سرعت سے باہر لپکی۔۔۔۔جبکہ اسکی پشت کو دیکھتے اسنے اپنے لب ضبط سے میچے تھے۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان واپسی ایک ایسی چیز تھی جس کا اسامہ سے زیادہ زری کو شدت سے انتظار تھا۔۔۔۔۔۔کل رات کے بعد جہاز میں ٹیک آف تک اسنے ضرورت کے علاؤہ کوئی بات نا کی تھی۔۔۔زری اسکے رویے کو لے کر پریشان تھی مگر پرسکون بھی تھی۔۔۔۔۔اسکی قربت برداشت کرنا اسکی ناراضگی برداشت کرنے سے زیادہ مشکل تھا ۔۔۔تبھی وہ لب سیے خاموش تھی۔۔۔۔۔
گھر پہنچنے تک وہ پھر سے وہ اجنبی بن گئے تھے جو وہ پچھلے 3 ماہ سے تھے۔۔۔۔۔عصرہ بیگم اسامہ کو اپنے پیروں پر کھڑا دیکھ فرط مسرت سے ساکت رہ گئیں۔۔کیا ایسا ممکن تھا؟؟؟۔۔۔لیکن اللہ نے نکی سن لی تھی تبھی وہ ٹھیک ہو گیا تھا۔۔۔۔۔مسکراہٹ تھی کہ لبوں سے جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
برسوں بعد بیٹے کو یوں خوش اور مطمئن دیکھ کر انکا دل سجدہ شکر کے لیے جھکا جا رہا تھا۔۔۔کیا وہ اس سب کی حقدار تھیں۔۔۔یہ سب انکی اوقات سے بڑھ کر تھا جن سے انھیں نوازا گیا تھا۔۔۔رانیہ کی کسی بات پر مسکراتے اسامہ کو دیکھتے انکے مسکرائے تھے اور آنکھوں میں ابراہیم صاحب کو یاد کرتے نمی آئی تھی جو رجب صاحب سے پوشیدہ نا رہ سکی تھی۔۔۔تبھی انکے گرد حصار قائم کرتے وہ انھیں اپنی پناہوں میں لیتے پرسکون کر گئے۔۔۔۔۔برسوں کا سفر تمام ہوا تھا۔۔۔اپنے بھائی کی امانت کو آج خوش دیکھ کر ان کا دل بھی پرسکون تھا۔۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر اسی اجنبیت کی راہ پر چل پڑے تھے جہاں وہ کافی عرصے سے چل رہے تھے۔۔۔دو اجنبی گویا ایک کمرے میں آ پہنچے تھے۔۔۔۔۔اسامہ آفس جاتا تو رات گئے آتا جب زری سو چکی ہوتی تھی۔۔۔۔تبھی انکا سامنا نا ہونے کے برابر تھا۔۔۔عہ اسے نظرانداز کر رہا تھا یہ بات وہ جانتی تھی۔۔۔۔۔اسکا یہ رویہ محسوس کرتے وہ بے چین تھی مگر کر بھی کیا سکتی تھی تبھی خاموشی سے اندر ہی اندر گھل رہی تھی۔۔۔۔۔
انکا ولیمہ پینڈنگ تھا جو اگلے ماہ کو ہونا تھا اسکے لیے عصرہ بیگم نے خاص تاکید کی تھی کہ وہ اسامہ کے ساتھ جا کے شاپنگ کر آئے تبھی وہ تیار ہو کر اسکا ویٹ کر رہی تھی جو آفس سے آ رہا تھا۔۔۔۔۔سیاہ سادہ سوٹ جس پر اسنے قیمتی شال لے رکھی تھی۔۔۔بھوری آنکھوں میں ہلکی سرخی تھی جو انھیں مزید پر کشش بنا رہی تھی۔۔۔۔۔بال نہانے کے بعد ہلکی سی کیچر کی گرفت میں قید کمر پر بکھرے تھے جنھیں وہ شال اور دوپٹے سے چھپا گئی تھی۔۔۔۔
باہر ہارن بجا تو وہ سرعت سے باہر لپکی۔۔۔جہاں سامنے ہی گاڑی میں بلیو ٹکسیڈو پہنے پراڈو کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔کوٹ غائب تھا شرٹ کے بٹن کھلے تھے جہاں پر چمکتا سیاہ ٹیٹو الگ ہی منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔وہ سرعت سے نگاہ چراتی فرنٹ ڈور کھول کر بیٹھی۔۔۔۔۔۔
” اسلام علیکم!!!!!۔۔۔۔۔”
اسے چپ چاپ گاڑی چلاتے دیکھ وہ خاموشی توڑنے کو مدھم سا بولی تو وہ ایک نظر اسے دیکھتا سر ہلا گیا گویا اسکے سوال کا جواب دیا گیا تھا۔۔۔۔۔اسکے ایسے سرد انداز پر وہ دل مسوس کر رخ پھیر گئی۔۔۔۔۔شاپنگ مال کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کرتے وہ باہر نکلا تو وہ بھی اپنی چادر سنبھالتی نیچے اتری۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ اندر جاتے وہ نہیں جانتی تھی کیا ہوا مگر اسنے اسامہ کو سب کچھ بھول کر بھاگتے دیکھا تھا۔۔۔۔وہ حیرت سے پلٹی تو وہ سامنے ڈگمگاتے قدموں سے بھاگتا کوئی دیوانہ لگ رہا تھا۔۔۔۔۔اسکی چال میں اب بھی ہلکی لڑکھڑاہٹ تھی تبھی وہ ہمواری سے بھاگ نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ ہق دق سامنے دیکھ رہی تھی جہاں وہ گاڑیوں کے ہجوم میں بھاگ رہا تھا کون تھا جس کے لیے وہ یوں ہوش سے بیگانہ ہوتا ہر چیز فراموش کر گیا تھا حتی کہ اسکی ذات بھی۔۔۔۔بے یقین نظروں سے اسکی پشت دیکھتے زری کا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ سامنے موجود اپنے یار کو گلے لگانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔۔۔۔ سڑک پر موجود ٹریفک گویا اسکی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔۔۔۔۔پیچھے فٹ پاتھ پر کھڑی زری اسے یوں دیوانہ وار اپنی جان سے بے نیاز یوں کسی کے پیچھے بھاگتے دیکھ ساکت ہوئی۔۔۔۔جبکہ جس کے لیے وہ دیوانہ وار بھاگ رہا تھا وہ تو شائد اسکی موجودگی سے انجان تھا۔۔۔گاڑیوں کا اژدھام الگ جان ہولا گیا۔۔۔۔ تبھی اسے یوں موت کے منہ میں جاتے دیکھ وہ خلق کے بل چیخی تھی۔۔۔۔۔
اسامہ!!!!!!!۔۔۔۔۔۔”
مگر وہ جو آج اپنے لڑکھڑاتے قدموں سمیت اسکی طرف بھاگ رہا تھا۔۔۔۔۔آنکھیں اپنی بے بسی پر سرعت سے بھیگی تھیں۔۔۔۔۔ہواس اس قدر انتشار کا شکار تھے کہ وہ اسے آواز دے کر پکار بھی نا سکا ۔۔۔ ہوش و خرد سے بیگانہ وہ تو اس بات سے بھی انجان تھا کہ تیز رفتار میں آتی گاڑیاں اسکی جان بھی لے سکتی تھیں۔۔۔۔ گاڑیوں کے ہارن کے باوجود اسکی تیز پکار ایک پل کو اسے ساکت کر گئی اور اسکے ساتھ ایک اور وجود کو بھی جو اپنی گاڑی کا لاک کھول رہا تھا۔۔۔۔تیز ہوتی دھڑکنوں سمیت وہ رکا اور مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔جو سامنے پارکنگ میں کھڑی تھی فاصلہ تھوڑا تھا مگر اسے صدیوں کا لگا۔۔۔۔۔دل عجیب سے احساس تلے تیزی سے دھڑکا تھا۔۔۔۔
وہ سرعت سے دیوانہ وار بھاگی کہ اسکی پکار بھی ذوالنون کو ہوش میں نا لا سکی تھی۔۔۔چادر وہیں گر گئی تھی دوپٹہ بھی کندھوں پر جھول رہا تھا بال بکھرتے چلے گئے آنکھیں سرعت سے بھیگی تھیں۔۔۔اور دل گویا پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو مچلا۔۔۔۔۔جبکہ اسکی دیوانگی کو دیکھتے وہ عجیب طرح سے مسکرایا۔۔۔۔اور اسکا مسکرانا سامنے زری کو جیتے جی مار گیا۔۔۔۔۔وقت گویا پلٹا تھا اور ہر چیز پیچھے چلی گئی تھی۔۔ سامنے تھا تو صرف وہ جو اسکی زندگی تھا جو برسوں سے دل کی سب سے اونچی مسند پر بڑی شان سے براجمان تھا۔۔۔۔۔۔۔
اسے دیکھتے ذوالنون کے لب ہولے سے ہلے تھے جن کی جنبش بھاگ کر آتی زری نے محسوس کی اور اپنی جگہ ساکت ہو گئی۔۔۔۔۔ آج وہ موت کی آغوش میں جاتا شخص کیا کہہ گیا تھا۔۔۔۔۔اس سے پہلے وہ ہوش میں آتی پھر سے اسکی طرف بڑھتی پیچھے موجود کسی خاتون نے اسکا بازو پکڑا تبھی وہ چونک کر پلٹی مگر پیچھے سے ابھرتے تیز ہارن کے آوازیں گویا اسکا دل چیر گئیں۔۔۔۔۔ اسکا دل گویا دھڑکنا بھول گیا تھا سرعت سے رخ پھیرتے وہ پھٹی پھٹی بے یقین نظروں سے سامنے دیکھتے وہیں بیٹھتی چلی گئی۔۔۔ ٹانگوں سے گویا جان نکل گئی تھی۔۔۔۔کیا ان کا ساتھ اتنی قلیل مدت کے لیے تھا؟؟؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔۔
اسامہ نام کی پکار سنتے وہ گاڑی کا لاک کھولنا بھول گیا سرعت سے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے کوئی مرد رخ موڑے کھڑا تھا۔۔۔۔وہ کبھی نا رکتا جو سامنے فٹ پاتھ پر زری کو نا دیکھتا۔۔۔وہ اگر یہاں تھی تو سامنے کھڑا مرد ضرور اسامہ تھا۔۔۔۔۔۔وہ ساکت سا اسے دیکھتا رہ گیا جو آج اپنے پیروں پر کھڑا تھا۔۔۔۔۔
اچانک زری کو روڈ کی طرف بھاگتے دیکھ وہ سارا معاملہ سمجھ گیا تبھی سرعت سے اسکی طرف لپکا جو گویا پھر اسی اندھی کھائی میں گرنے والا تھا جہاں سے وہ بمشکل نکل سکا تھا۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس شخص کو بچانے کے بھاگ رہے تھے جس نے انھیں اذیت دی تھی مگر وہ ایک شخص انکی جان تھا اور یہ بات دونوں جانتے تھے تبھی ہر احساس کو جھٹکتے بھاگے تھے۔۔۔۔۔
اسے کسی خاتون نے پکڑا تھا تبھی وہ پلٹی تھی مگر حیدر کے حواس ٹھیک تھے تبھی تو تیزی سے دھڑکتے دل سمیت وہ سامنے سے آتی کار کو دیکھتے اپنی پوری رفتار سے بھاگا تھا اور اسکا بازو کھینچا جو بلکل بے جان تھا ۔۔۔اسکا کھینچنا تھا کہ وہ کٹی شاخ کی مانند کھینچا آ کر اسکے سینے سے لگا۔۔۔جھٹکا لگنے سے وہ توازن نا سنبھالتے گرا تھا تبھی تیز بریک کی آوازیں اور ہارنز سڑک پر گونج اٹھے تھے۔۔۔
وہ فٹ پاتھ کے پاس گرے تھے وہ نیچے تھا اور اوپر اسامہ تھا جس کا کندھا شائد فٹ پاتھ سے لگا تھا تبھی ہلکی سی کراہ اسکے لبوں سے نکلی تھی۔۔۔۔جبکہ اسکے وجود کا وزن اور کھردری سڑک دونوں نے حیدر کو تکلیف دی تھی لیکن وہ آج سب فراموش کر گیا تھا۔۔۔۔۔
” تم ٹھیک ہو؟؟؟…….” گاڑیوں کے رکتے ہی وہ اٹھا اور اسے بھی تھام کر اٹھایا جو تھوڑی دقت سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔تمام تر علاج کے باوجود بھی وہ تھوڑی بہت دقت کا شکار رہتا تھا۔۔۔۔۔اسکا ہاتھ تھامنا تھا کہ اسے دیکھتے اسامہ نے خود پر بندھے تمام بند توڑ دیے اور اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔دل اتنی شدت سے دھڑکا تھا کہ اسکی دھڑکنیں سنتے حیدر کی آنکھیں بھی نم ہوئی ۔۔۔۔
اسکے گرد حصار کھینچتے وہ بھی اسے شدت سے خود میں بھینچ گیا۔۔۔۔برسوں بعد یہ حالی سینہ پھر سے آباد ہوا تھا۔۔۔تبھی تو وہ دونوں جذبات کی الگ رو میں بہتے وقت اور جگہ بھول گئے۔۔۔۔۔
” مجھے معاف کر دو یار۔۔۔۔اب یہ دل مزید دوری برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”
مزید اسکی گردن میں سر گھساتے اسامہ بھیگی آواز میں بولا تو حیدر اسکے بچپنے پر نم آنکھوں سے مسکرا دیا۔۔۔وہ آج بھی ویسا تھا۔۔۔ اسکے لیے شدید پاگل!!!!۔۔۔۔۔
” تجھے تو معاف تب کروں جب تجھ سے ناراض ہوتا۔۔۔تو تو دل ہے میرا تجھ سے ناراض کیسے رہ سکتا ہوں……..”
اسے الگ کرتے وہ تمام گلے شکوے دور کرتے ہلکے پھلکے لہجے میں بولا تو اسکی ایسی محبت پر اسامہ کا دل بھر گیا۔۔۔واقعی وہ اللہ کا تحفہ تھا جس کی اسنے ناقدری کی تھی۔۔۔۔لیکں اللہ نے وقتی طور پر اسے دور ضرور کیا تھا مگر پھر واپس کر دیا تھا جس کا وہ دل وجان سے شکر گزار تھا۔۔۔۔۔
” زری وہاں ہے اسامہ چلو!!!۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ مزید کچھ کہتا حیدر اسے ہوش میں لاتا اسکی توجہ زری کی طرف مبذول کر گیا جہاں وہ کچھ خواتین کے جھرمٹ میں سر جھکائے سڑک کنارے گھٹنوں کے بل بیٹھی تھی۔۔۔اسکی ایسی حالت دیکھتے اسامہ کا دل کسی نے مٹھی میں لے کرمسلا تھا تبھی سرعت سے اسکی طرف لپکا تھا۔۔۔۔۔
جب کہ دوسری طرف ہارنز کی آواز سنتی زری وہیں ساکت ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔اسے لگا اسنے اسے کھو دیا جسے ابھی پایا بھی نا تھا۔۔۔۔اسکے منہ سے نکلی معافی کی استدعا وہ بھی ایسی صورتحال میں اسکا دل خاک کر گئی تھی۔۔۔۔۔کیا تھا وہ شخص جو معافی مانگ بھی رہا تھا تو وہاں جہاں اسکی جان گویا نکلنے کو تھی۔۔۔۔۔۔سڑک کنارے بیٹھے اسکے تمام گلے شکوے دم توڑ گئے وہ جانتی تھی آج اگر اس شخص کو کچھ ہو جاتا تو وہ جیتے جی مر جاتی۔۔۔۔۔
تمام تکلیفیں آج آنسوئوں کے سنگ بہتیں اپنا وجود کھوتیں چلیں گئیں۔۔۔وہ خود اسکے لیے کتنا ضروری تھا وہ آج جان گئی تھی۔۔۔۔اج اگر کے سر پر آسمان تھا تو اسکی وجہ وہ تھا۔۔۔۔ اور اگر پیروں تلے زمین تھی وہ بھی اسکی وجہ سے تھی۔۔۔۔وہ وہیں بیٹھی اپنا غم غلط کر رہی تھی کہ کندھے پر محسوس ہوتا لمس اسے ہوش میں لا گیا۔۔۔۔سامنے سر اٹھا کر دیکھا تو وہی تھا جو ہر بار چوٹ دینے کے باوجود اسکے دل میں اول روز کی طرح براجمان تھا۔۔۔۔اسکا مقام آج بھی ویسا تھا جیسا 6 سال پہلے تھا۔۔۔۔۔
” آ ریو اوکے؟؟؟۔۔۔۔۔”
اسے کھڑا کرتے وہ نرمی سے بولا تو وہ ضبط کھو کر بکھرتی اسکے سینے میں سما گئی۔۔۔۔برسوں کے آنسو آج بھی اسی کے سینے پر بہہ رہے تھے جو ہر بار اسکی اذیت کا سبب بنتا تھا۔۔۔۔۔مگر وہ ستمگر بھی تھا اور وہی اسکے دل کے ایوانوں کا بادشاہ بھی تھا۔۔۔۔۔
” مجھے لگا میں تمہیں کھو دوں گی…۔۔۔۔”
اسکے سینے میں سر چھپائے وہ ہچکیوں کے درمیان بولتی اسکے روح کو سرشار کر گئی۔۔۔۔دل بے طرح سے دھڑکتا ذوالنون کو ساکت کر گیا ۔۔۔۔۔لبوں پر زبان پھیرتے خود کو سنبھالتے اسکا دوپٹہ ٹھیک کیا اور دھیرے سے بولا۔۔۔
” ایسا کبھی نہیں ہو گا۔۔۔۔۔۔اٹس اوکے میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔” لہجہ نرم تھا تو الفاظ دل کو چھو رہے تھے ۔۔۔۔اسے نرمی سے خود سے الگ کیا تو وہ بھی جگہ کا خیال کرتی سنبھل کر اپنا چہرہ صاف کرنے لگی ۔۔
” ریلیکس بھابھی آپکا بندہ بلکل ٹھیک ہے ایک بھی ڈینٹ نہیں پڑنے دیا میں نے۔۔۔۔لیکن اس چکر میں میرے کافی پرزے ہل گئے ہیں۔۔۔۔۔یہ منہوس تو 6 سالوں میں مزید پھیلا ہے۔۔۔۔۔”
اسامہ کے ساتھ کھڑے حیدر کو شوخ آواز اسے پرسکون کر گئی۔۔۔واقعی آج وہ نا ہوتا تو ؟؟ یہ “تو” جان نکال رہا تھا تبھی وہ ممنون نظروں سے اسے دیکھتی ہلکا سا مسکرائی تھی ۔۔۔۔
” تو میری جان تھا کیسے ممکن تھا تیرے ہوتے مجھے کھرونچ بھی آتی ۔۔۔۔۔”
اسے سینے سے لگاتے اسامہ جذبات سے شدت سے بوجھل لہجے میں بولا تو اسکے احساسات سمجھتا حیدر بھی غمگین ہوا ۔۔۔یہ حصار یہ گرفت 6 سال غائب رہی تھی اور لگا تھا گویا کبھی یہ حصار نا ملے گا لیکن آج جب وہ سینے سے لگا تھا تو دل کی حالت عجب تھی۔۔۔۔۔۔برسوں بعد گویا کسی نے سینے کے رستے زخموں پر نرم پھاہے رکھے تھے۔۔۔اسے سینے سے لگائے اسامہ نے نم آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا جہاں آج پھیلا مدھم اندھیرا بھی اسکی زندگی میں چھائی روشنی کو کم نا کر سکا تھا۔۔۔۔
گھر واپسی پر وہ دونوں اکیلے تھے حیدر انہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔کافی دیر سب میں بیٹھنے کے بعد وہ اوپر آئی کیونکہ اسامہ کب سے اوپر آ گیا تھا۔۔۔۔۔صرف وہی تھی جو رانیہ کے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
ہلکے دروازہ کھولا تو سامنے کو شرٹ لیس اپنے کندھے پر مرہم لگا رہا تھا جہاں کوئی خراش تھی۔۔۔اسے یوں دیکھ کر وہ سرعت سے اسکی طرف لپکی جو شیشے میں اسے آتا دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
” یہ کیا ہوا؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔”
اسکے ہاتھ سے مرہم لیتے وہ پریشان لہجے میں بولی تو اسکی طرف دیکھتے اسامہ کے لب اسکی فکرمندی پر مسکرائے تھے۔۔۔۔۔۔۔سیاہ جوڑے میں بالوں کا جوڑا بنائے وہ دھلے چہرے کے باوجود اسکے دل میں ہلچل مچا گئی۔۔۔۔۔بھوری آنکھوں میں چھایا تفکر اسامہ کا دل گدگدا گیا۔۔۔۔
” جب گرا تھا تب آئی تھی چوٹ!!!۔۔۔۔”
اسکے چہرے پر جھولتی لٹ کو کان کے پیچھے کرتے وہ بوجھل لہجے میں بولا تو مرہم لگاتے اسکے ہاتھ کانپ گئے۔۔۔۔۔۔سینے پر پھیلا ٹیٹو کا جال اسے الگ دہکا رہا تھا۔۔۔۔ایک یہی چیز تھی جو اسکے وجود کا حصہ ہونے کے باوجود اسے شرم سے دوہرا کر دیا کرتی تھی۔۔۔۔۔اکثر اس ٹیٹو کی بے باکی اسے نظریں چرانے پر مجبور کر دیتی تھی۔۔۔۔۔
” آج میں نے تم سے روڈ پر کھڑے ہو کر کچھ کہا تھا؟؟؟۔۔۔۔۔”
اسکے کان پر انگلی پھیرتے بغور اسکے حسین نقوش دیکھتے وہ دھیرے سے سوالیہ ہوا تو زری پوری جان سے لرزتی ایک تو اسکا لمس جاں نکال رہا تھا دوسرا اسکا سوال دھڑکنیں روک گیا تھا۔۔۔۔۔۔مرہم ہاتھ سے گرتا زمین بوس ہوا تھا۔۔۔پلکیں گالوں پر سایہ فگن تھیں۔۔۔۔
” مجھے جواب چاہیے۔۔۔۔۔معاف کرو گی مجھے؟؟؟ ہر اس گناہ ہر اس جرم کے لیے جسنے جانے انجانے تمہیں تکلیف دی۔۔۔۔”
اسکی خاموشی پر اسکے گرد حصار کھینچھتے وہ مدھم لہجے میں بولتا چلا گیا۔۔۔۔لہجہ ماضی کے اذیت بھرے لمحات یاد کرتے ندامت کے احساس تلے الگ رہا تھا۔۔۔۔۔زری نے تڑپ کر آنکھیں میچیں۔۔۔۔۔دل بے طرح سے دھڑکتا اسے پاگل کر گیا۔۔۔کیا اب بھی وہ اسے معاف نا کرتی؟؟۔۔۔تمام شکوے تو وہیں ختم ہو گئے تھے جہاں وہ اسے موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ بھی تھک چکی تھی اتنی مسافت کے بعد اب تو آرام اسکا حق تھا اور یہ سکون اسے کہاں ملنا تھا وہ بخوبی جانتی تھی۔۔۔یہ حصار یہی اسکی پناہگاہ تھا۔۔۔۔وہ کیسے اس سے بھاگ سکتی تھی؟؟؟۔۔۔۔۔بھاگی تھی تو اللہ نے واپس اس شخص کی پناہوں میں دے ڈالا تو اب بھی بھاگ کے کہاں جاتی؟؟؟……اور سب سے ضروری کیا وہ بھاگنا چاہتی تھی؟؟؟؟ اس سوال کا جواب آج برسوں بعد ملا تھا۔۔۔۔
” بولو!!!!۔۔۔۔۔”
اسے یوں خاموش دیکھ کر وہ بے چینی سے بولا تو اسکی پلکیں تیزی سے بھیگی ۔۔۔۔۔لب لرز اٹھے اور دل گویا سینے سے نکلنے کو مچلا ۔۔۔۔۔۔لفظ کہنا محال تھا تبھی وہ سارے لخاظ بلائے تاک رکھتی اسکے سینے میں چھپ گئی ۔۔۔۔اسکی یہ دلکش ادا ذوالنون کو ساکت کر گئی تھی۔۔۔۔
” کیا میں سمجھوں کہ میرا انتظار تمام ہوا؟؟؟؟۔۔۔۔۔۔”
اسکے جھکے سر کو چومتے وہ دھیرے سے بولا تو زری کے لیے اپنے قدموں پر کھڑا رہنا محال ہو گیا۔۔۔۔دھڑکتے دل سمیت سر اثبات میں ہلاتے وہ مزید اسکے سینے میں چھپی۔۔سیاہ آنکھوں کا سامنا کرنے کی ہمت کہاں تھی…۔وہ برسوں پہلے بھی اسکے دل کی دنیا تہہ وبالا کر دیا تھا آج تو محرم بن کر ملا تھا کیسے ممکن تھا اسکی قربت اسے بدحواس نا کرتی؟؟؟۔۔۔۔۔
” مجھے تم سے بے پناہ محبت ہے نیناں!!!۔۔۔۔اور یہ محبت وقت کے ساتھ کب عشق میں بدل گئی نہیں جانتا۔۔۔۔پر اتنا جانتا ہوں آئم بلیسڈ!!!!!۔۔۔”
اسے سامنے کرتے وہ اسکی جھکی پلکوں کو دیکھتے بوجھل لہجے میں بولا تو زری کا دل دھڑکنا بھول گیا۔۔۔۔۔۔ سیاہ آنکھوں میں جذبے سلگ رہے تھے جن کی تپش نے اسے سرخ کر دیا۔۔۔۔۔
” کیا تم کچھ نہیں کہو گی چاکلیٹ کوئین؟؟؟……”
اسکی تھوڑی اونچی کرتے وہ اصرار بھرے لہجے میں بولا تو اسنے دھیرے سے پلکیں وا کیں۔۔۔۔سامنے ہی سیاہ نین دنیا جہاں کے جذبات خود میں سموئے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔جن کی لپک اتنی شدید تھی کہ اسے اپنا چہرہ جلتا محسوس ہوا۔۔۔۔اسکا طرز تخاطب جان لیوا تھا۔۔۔
” تم میری زیست کا حاصل ہو ذوالنون اسامہ!!!!۔۔۔۔۔۔زرنین اسامہ نے تمہیں دل سے معاف کیا۔۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ ٹرانس کی سی کیفیت میں بولی تو اسامہ کا دل ایک بہت مس کرتا اسے لرزا گیا۔۔۔ کیا اس اعتراف سے بڑھ کر کچھ خوبصورت تھا؟؟؟؟ بے شک کچھ نہیں یہی لفظ سننے کے لیے اس نے بنا آف کیے اتنا لمبا سفر برہنہ پا کیا تھا۔۔۔۔بے خود ہوتے وہ جھک کر اسکی گردن چھوتے آنکھیں موند گیا الفاظ کہاں تھے اسکے پاس کچھ کہنے کے لیے۔۔۔۔۔۔سارے لفظ تو وہ اپنے ایک اعتراف سے چرا گئی تھی۔۔۔۔۔۔حصار تنگ کرتے وہ اپنے لمس میں جنوں کی حدوں کو چھو رہا تھا۔۔۔۔
اپنی گردن پر اسکے دہکتے لبوں کا لمس محسوس کرتے وہ اسے کندھے سے تھامتی پلکیں موند گئی۔۔۔۔دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔مزید کچھ کہنا سننا رہ کہاں گیا تھا۔۔۔۔اب تو یہ قربت تھی ان کے درمیان جو ان کہی کہانیاں بیان کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اسے بازوؤں میں سمیٹتے وہ اسے اٹھا گیا۔۔۔۔اور آنے والے لمحات کا سوچتی زری اپنی سانس روک گئی۔۔۔۔۔
” سانس لو!!!!۔۔۔۔۔”
اسے بیڈ پر لیٹاتے وہ اسکے لبوں پر جھکتا بوجھل لہجے میں بولا تو اسکی سانسوں کی تپش اپنے لبوں پر محسوس کرتی زری جی جان سے کانپی تھی۔۔۔۔۔۔۔
” تم سوچ نہیں سکتی تمہیں پانے کے لیے میں نے دہکتے صحرا میں کتنا لمبا سفر طے کیا ہے۔۔۔۔ اور آج جب سفر تمام ہوا ہے تو اس خوبصورت منزل کو دیکھ کر میرا دل اس حقیقت کو ماننے سے انکار کر رہا ہے…….”
اسکی نم بند پلکوں کو چھوتے وہ بھاری لہجے میں بولا تو لہجہ جذبات کی شدت سے دہک رہا تھا۔۔۔جبکہ اسکی باتیں سنتے وہ خود کو آسمانوں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی۔۔کیا اس سے بڑھ کر ے کوئی چاہ سکتا تھا۔۔۔خود میں تبدیلی تو وہ دوماہ سے محسوس کر رہی تھی جانتی تھی اسکی محبت کی نفرت پر حاوی تھی۔۔۔وہ اسے ہزار بار بھی معاف کر سکتی تھی وہ اسکے دل کی اولین خواہش تھی جو اسکے صاف دل میں پیدا ہوئی تھی۔۔کیسے ممکن تھا وہ اسے معاف نا کرتی؟؟ وہ اگر ستمگر تھا تو مسیحا بھی تھا۔۔اور اسی مسیحائی اب بھی اسے پاگل کر رہی تھی۔۔۔۔دل کانوں میں دھڑک رہا تھا۔۔۔۔اور گال گویا تپ اٹھے تھے۔۔۔
” تم میرے لیے کیا ہو نہیں جانتا۔۔۔مگر زرنین جبیل کے بنا ذوالنون اسامہ نامکمل ہے۔۔۔۔۔”
گھمبیر لہجے میں بولتا وہ اسکے لبوں پر جھکتا چلا گیا۔۔۔۔لمس اتنا پر شدت تھا کہ اسے اپنا آپ جلتا ہوا محسوس ہوا سانسوں میں گھلتی اسکی سانسیں دل کےایوانوں کو پاگل کر رہیں تھیں۔۔۔باہر پھیلی چاند کی روشنی بھی انکے ملن پر مزید روشن ہوئی تھی ۔۔ایک سفر تھا جو تمام ہوا تھا جسکے لیے انھوں نے برسوں دہکتے صحرا کی خاک چھانی تھی۔۔۔۔۔
گرے ٹیل میکسی میں وہ ہلکی جیولری اور ہلکے پھلکے میک اپ میں بال اونچے جوڑے میں باندھے حوروں کو مات دے رہی تھی۔۔۔۔ناک میں پہنی نتھ الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی۔۔۔۔بھوری آنکھیں جھکی ہوئی الگ ہی منظر پیش کر رہیں تھیں۔۔۔۔اسکے ایک پہلو میں بیٹھی ابیہا اور اسکی گود میں بیٹھا طلحہ جبکہ دوسری طرف بیٹھی حبا منظر مکمل تھا۔۔۔اور اتنا دلکش تھا کہ اسامہ کو اس پر سے نظریں ہٹانا ناممکن لگا۔۔۔۔۔
تبھی ٹکٹکی باندھے اسکے دیکھتے اسکی دل کی حالت عجیب تھی۔۔۔سانسیں بے ترتیب تھیں۔۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں الگ ہی چمک تھی جو ہال میں موجود لائٹس کی روشنی کو مات دے رہی تھی۔۔۔۔ایک سفر تھا جو تمام ہوا تھا۔۔۔اور ایک سزا تھی جو پوری ہوئی تھی۔۔۔اور آج خود کو آزاد محسوس کرتے ذوالنون اسامہ کے دل کی دھڑکن الگ ہی لے پر دھڑک رہی تھی۔۔۔۔۔حیدر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ خود کو مکمل محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اسکے لیے اسنے کیا کیا نہیں کیا تھا؟؟…دہکتے صحرا میں ننگے پائوں بھاگا تھا۔۔۔اور برسوں پچھتاوے کی آگ میں سلگا تھا تب جا کہ وہ اسکی پناہوں میں آئی تھی۔۔۔اور اب اسکی موجودگی اسکے دل کو روک رہی تھی۔۔۔کہاں سوچا تھا کہ اللہ کا کرم ایسے بھی ہوگا؟؟…اب جب سب اسکے سامنے تھا تو دل بے اختیار سجدہ شکر ادا کرنے کو مچل رہا تھا۔۔۔روم روم اس ذات کا شکرگزار تھا جس نے اسکے انتظار کو رائیگاں نہیں کیا تھا۔۔جسنے اسے اسکی اوقات سے بڑھ کر نوازہ تھا۔۔۔۔۔اور آج اپنے خواب کو یوں سچ ثابت ہوتے دیکھ اسامہ کا دل گداز ہوا جا رہا تھا۔۔۔تھا اس سے بڑھ کر کوئی رحمنٰ؟؟؟۔۔۔بے شک نہیں!!!۔۔۔۔۔۔