Episode 38 3rd Last
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
وہ گھر کیسے پہنچا تھا یہ صرف ذوالنون اسامہ اور اسکا اللہ جانتے تھے۔۔۔دل کی درد حد سے سوا تھا۔۔اور سیاہ آنکھیں ضبط سے لال تھیں۔۔بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سامنے ہوتا تو اسے کھینچ کر سینے سے لگاتے اپنے تمام درد کہہ دیتا جو برسوں سے سینے میں دفن دل کو مردہ کر رہے تھے۔۔۔مگر ستم یہ تھا کہ وہ آج بھی اس سے نفرت کا دعویدار تھا تبھی تو اسے دیکھتے بھاگ گیا تھا۔۔۔اور وہ ہمیشہ کی طرح خالی ہاتھ تھا۔۔۔۔
قسمت ہر بار اسکا ہاتھ چھوڑتی اسے خلا میں معلق کر دیتی تھی اور وہ جانتا تھا یہ اسکے اپنے گناہ تھے جو اسکے رستے میں آ رہے تھے۔۔۔برسوں کی ریاضت محنت سب کام نہیں آرہا تھا اللہ آج بھی اس سے ناراض تھے نا اسکی معافی کام آرہی تھی نا اسکی ندامت۔۔برسوں سے دہکتے صحرا میں کیا گیا وہ سفر بھی کسی کام نہیں آرہا تھا۔۔ اور وہ جانتا تھا جب تک انسان معاف نا کریں تب تک اللہ بھی معاف نہیں کرتا۔۔۔اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ انسان معاف نہیں کرتے اور یہاں تو اسنے ایک پاکدامن لڑکی کا کردار بھرے بازار میں داغدار کیا تھا کیا وہ اسے معاف کرتی؟؟؟؟ کبھی نہیں عورت ہر چیز معاف کر سکتی مگر اپنے کردار پہ آئی بات کبھی معاف نہیں کرتی۔۔۔وہ جانتا تھا زری کی آنکھوں میں موجود آخری شکوہ مگر وہ ڈرتا تھا اگر اسنے معاف نا کیا تو؟؟؟
یہ تو ذوالنون اسامہ کی جان سولی پر لٹکایا اسے بے جان کر رہا تھا۔۔۔ایک طرف اسکی زندگی تھی اور ایک طرف اسکی سانسیں اور وہ دونوں اس سے خفا تھیں۔۔۔اور خفا کرنے والا بھی وہ خود تھا۔۔۔بے بسی کے شدید احساس تلے وہ اپنے سیاہ جلتی آنکھیں زور سے میچ گیا۔۔۔۔
کمرے میں چھائی ویرانگی اس بات کی گواہ تھی کہ وہ کمرے نہیں تھی اور وہ جانتا تھا کہ وہ کہاں ہو گی۔۔کل انکی فلائٹ تھی تبھی تو وہ آج پورا دن اپنے گھر گزارنے گئی تھی۔۔اور یہ خواہش بھی ابیہا کی تھی۔۔۔۔۔۔ کل ہی اسکے گھر والے آئے تھے۔۔احساس ندامت سے جھکے آصف صاحب کے کندھے اور انکی اہلیہ کی بھیگی پلکیں اسے موم ہر گز نا کرتیں جو وہ ابیہا کی گود میں موجود طلحہ کو نا دیکھتی تو۔۔۔وہ اسکی بہن کا بیٹا تھا جس کے باپ نے اسے ذلت کی پستیوں میں پھینکا تھا۔۔۔مگر وہ شخص اسکی بہن کا شوہر اور اسکے بیٹے کا باپ تھا۔۔۔معاف کرنا مشکل ہی سہی پر ممکن تھا اسی لیے تو وہ نا چاہتے ہوئے بھی وقاص اور رابعہ بیگم کو معاف کر گئی تھی۔۔۔جب اپنی بربادی کی بنیادی وجہ کے ساتھ وہ رہ سکتی تھی تو انکو بھی معاف کر سکتی تھی جنہوں نے اسے صرف دھکا دیا تھا۔۔۔۔
کبھی کبھی زندگی سے زیادہ بے رحم کوئی نہیں ہوتا یہ آپکو وہاں تک جھکا دیتی جہاں کبھی آپ مڑ کر نا دیکھیں جیسے آج زرنین ریحان کے ساتھ ہوا تھا۔۔۔وہ کبھی نا معاف کرتی ان سب کو جو وہ صرف لوگ ہوتے یا انکا اس سے کوئی رشتہ نا ہوتا۔۔مگر وہ اسکی بہن کا سسرال تھا اور تمام حقائق کو سامنے رکھ کر اسنے یہ زہر کا پیالہ بڑے صبر سے پیا تھا کہ ایسے زہر بھرے گھونٹ کو وہ برسوں سے پیتی آ رہی تھی۔۔۔۔
مگر ان سب کو معاف کرتے وقت اسنے ایک کاٹ دار نظر اس پر ضرور ڈالی تھی جو اس سب کی جڑ تھا۔۔مگر وہ بھی ایسا انسان تھا کہ کمال بے نیازی سے نظریں پھیرتا اسکا دل چیر گیا۔۔۔کیا اسکے لیے اسکی انا اتنی بڑی تھی کہ اسکی زندگی تباہی کر کے بھی وہ
شحص معافی نہیں مانگ سکتا تھا۔۔۔۔ایک شکوہ پوری شدت سے ابھرا تھا۔۔مگر شائد اس شکوے کو زبان تک لانا ناممکن تھا اسکے لیے۔۔۔جیسے ذوالنون اسامہ کے لیے جھکنا ناممکن تھا۔۔۔۔
وہ جھک بھی جاتا جو وہ اسے معاف کر دیتی مگر وہ جانتا تھا وہ اسے کبھی نا معاف کرتی تبھی تو ہر بار نظریں چرا جاتا تھا کہ احساس ندامت بہتر تھا دھتکار سے۔۔۔۔زوالنون اسامہ کو دھتکار سے نفرت تھی تبھی تو ہر بار اسکا نازک دل توڑ دیتا تھا۔۔۔جانتا تھا کہ مداواہ مشکل ہی سہی پر ممکن تھا مگر معافی ہرگز ممکن نا تھی۔۔۔اگر اسے یہ اسکی انا لگتی تھی تو ہاں تھا وہ انا پرست ۔۔مگر یہ انا پرست اسکے لیے خاک ہو سکتا تھا یہ بات شاید زری نہیں جانتی تھی۔۔۔۔تبھی تو بدگمانیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔۔۔۔
اور یہ بدگمانیاں اسامہ کے لیے اتنا معنی نہیں رکھتی تھیں جتنا یہ معنی رکھتا تھا کہ اسکی نیناں اسکے پاس تھی اسکے سامنے تھی۔۔۔اسکے لیے یہی بہت تھا۔۔۔۔۔ آنکھوں میں نفرت لیے ہی سہی پر اسے دیکھتی تو تھی۔۔منہ سے انگارے ہی برساتی تھی مگر اسکی آواز اسکے کان سن سکتے تھے۔۔۔اس سے نفرت کرتی تھی مگر وہ اسے چھو سکتا تھا اسکا لمس محسوس کر سکتا تھا۔۔اسکی دھڑکنیں سن سکتا تھا اسکے لیے یہی اسکی منزل تھی۔۔۔۔اگر اس سب میں وہ جنونی تھا تو ہاں اسکے معاملے میں وہ برسوں سے جنونی تھا۔۔۔۔اسے صرف اسکی طلب تھی تبھی تو برسوں سے بےچین تھا۔۔اور آج جب وہ سامنے تھی تو دل الگ ہی لے پر دھڑکتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ سب ٹھیک کر دے گا۔۔۔اور یہ سب کیسے کرنا تھا یہ بات ذوالنون اسامہ بخوبی جانتا تھا۔۔۔۔
ان سب کے بیچ وہ بیتا وقت نہیں گویا خزانہ تھا جو اسے برسوں کی آبلہ پائی کے بعد حاصل ہوا تھا۔۔بیا کی مسکراہٹ طلحہ کی شرارتیں اور ویڈیو کال پر موجود ولید ہر چیز پرفیکٹ تھی مگر کمی تھی تو اس جنت کی جو برسوں منوں مٹی کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔۔۔بھوری آنکھوں میں جہاں برسوں بعد سکوں اترا تھا تو دل کی کسک اب بھی ویسی ہی تھی۔۔۔
کاش وہ وہاں موجود ہوتیں توہر چیز مکمل ہوتی مگر یہی کاش اسکے دل میں انی کی مانند کھبا ہوا تھا۔۔۔برسوں بعد اپنے گھر میں اسکی اور ابیہا کی ہنسی گونج رہی تھی کبھی آنسوں بہتے تو کبھی ہنسی گونجتی جو بھی تھا وہ برسوں بعد ملا وہ اجر تھا جس کے لیے اسنے برسوں سے دہکتے صحرا میں سفر کیا تھا۔۔۔اور آج اگر صلہ ملا تھا تو وہ کسی جنت سے کم نا تھا۔۔۔۔
” آپی اپنے اسامہ بھائی کو معاف کر دیا؟؟…”
وہ ولید کی کسی بات پر مسکرا رہی تھی کہ ابیہا کا سوال اسکے لبوں کی مسکراہٹ چھین گیا۔۔وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ولید طلحہ کی جانب متوجہ تھا جو لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا قلقاریاں مار رہا تھا۔۔۔۔
” پتا نہیں۔۔۔۔”
نظریں چرا کر اسکے سوال کو گول کرتے وہ اس سے پہلے اٹھ جاتی کہ ابیہا اسکا ہاتھ تھام کر اسے روک گئی۔۔۔۔
” وہ نادم ہیں اور شاید معافی بھی مانگنا چاہتے ہیں۔۔لیکن مانگ نہیں پا رہے۔۔۔اگر آپ وقاص کو معاف کر سکتی ہیں تو انکو بھی معاف کر دیں نا۔۔۔۔۔”
وہ اسکا زرد چہرہ اور بھوری بھیگی آنکھوں میں دیکھتی نرمی سے بولی تو کتنے ہی آنسو اسکی آنکھوں سے بہتے گالوں پر اتر آئے۔۔ ولید کی کال شائد کٹ گئی تھی یا طلحہ نے کوئی بٹن پریس کیا تھا لیکن جو بھی تھا لیپ ٹاپ تاریک تھا۔۔۔۔۔
دل سینے کی دیواروں سے ٹکراتا اسے پاگل کر رہا تھا۔۔
” وہ نادم ہو تو میں اسے بھی معاف کردوں بیا مشکل سے ہی پر کر دوں۔۔۔۔۔لیکن وہ نادم نہیں ہے اسنے آج تک ایک لفظ نہیں کہا کہ وہ غلط تھا یا اس ے کچھ غلط کیا تھا۔۔۔اسکی آنکھوں میں سوائے ضد کے کچھ نہیں ہے۔۔وہ جنونی ہے بس اور کچھ نہیں ۔۔”
تھکے تھکے لہجے میں بولتے وہ سر اسکے کندھے پر ٹکا گئی کتنے ہی آنسو بے مول ہوتے ابیہا کے کندھے میں جذب ہو گئے۔۔۔۔۔اور اسکا سر سہلاتے وہ اسے یہ نا بتا سکی کی وہ غلط تھی۔۔وہ ضد میں ہی تھا لیکن اسکا جنون ہی اسکی محبت تھا جس میں وہ برسوں سے اسکے پیچھے پاگل تھا اسکی سیاہ آنکھوں کی چمک یہ راز افشا کار دیتی تھی کہ ذوالنون اسامہ کو زرنین اسامہ سے کتنی محبت تھی۔۔۔مگر شائد وہ اسکی محبت سے انجان تھی یا انجان بننا چاہتی تھی۔۔۔لیکں وہ اسے سمجھا نا سکی۔۔۔اور اب تو وقت بھی نا تھا کل شام کی انکی فلائٹ تھی اور وہ اسی لیے آج اسکے پاس آئی تھی تاکہ وہ کچھ وقت گزار سکیں۔۔۔۔۔اب صرف ایک دعا تھی جو وہ کر سکتی تھی اور ابیہا کا دل اور لب اسکی بہتری اور آسانی کی لیے دعاگو تھے۔۔۔۔۔۔
باہر پھیلی مدھم روشنی میں سفید برف چمک رہی تھی۔۔گھر کے باہر لگے پول کی روشنی اتنی تو ضرور تھی کی وہ سامنے بنے گھروں کو دیکھ سکتی تھی۔۔جہاں کھڑکیوں سے جھانکتی روشنی میں اندر زندگیاں سانس لے رہیں تھے۔۔اس پورے ایریے میں ان کا گھر ایسا تھا جہاں روشنی کم تھی۔۔وجہ وہ خود تھی کیونکہ اسے روشنی سے وخشت ہوتی تھی۔۔۔اور اسامہ کی غیر موجودگی میں وہ آرام سے سارے گھر کی لائٹس آف کر کے لیونگ ایریا کی کھڑکی میں آ کے بیٹھ جاتی جہاں سے وہ ہر طرف دیکھ سکتی تھی۔۔نہیں دیکھنا چاہتی تھی تو اپنے اندر پھیلے اندھیرے کو یا پھر اسامہ کی سیاہ آنکھوں میں جہاں اسکی محبت سانس لیتی تھی۔۔۔۔۔۔
بارہا اسکے سامنے خود کو ہارتا محسوس کیا تھا مگر مجال ہے جو اس نے خود پر سے یہ خول اترنے دیا ہو۔۔۔یہاں آئے انھیں دو ماہ ہو چکے تھے اور ان دو ماہ میں وہ بہت کم باہر گئے تھے۔۔وہ ہمہ وقت اسکی دل جوئی میں مگن رہتا تھا مگر زری کے گرد جو فصیلیں کھڑی تھیں انھیں نا پاٹ سکا۔۔۔اور اب تو وہ پتا نہیں کہاں بزی رہتا تھا جو لیٹ گھر آتا تھا۔۔۔وہ جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ اسے پرواہ نہیں مگر اس انجان شہر میں اسکا یوں اسے اکیلے چھوڑ جانا اسے کھلنے لگا تھا۔۔۔۔۔
وہ اتنا بے حس نہیں تھا جو اسے یوں اکیلا چھوڑ دیتا باہر مین ڈور پر ایک گارڈ موجود تھا۔۔لیکن اسکی یہ فکرمندی بھی اسکے دل کو موم نہیں بنا سکی۔۔۔مگر کل سے وہ خود میں ایک گھٹن محسوس کر رہی تھی۔۔حبس اتنا تھا کہ وہ خود کو ہلکان کیے جا رہی تھی مگر دل تھا کہ سنبھل ہی نا رہا تھا۔۔۔اسکی ایسی بے اعتنائی اسے تڑپا رہی تھی۔۔۔۔
اس وقت وہاں شام کے 6 بج رہے تھے مگر برفباری کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا جیسے گہری رات اتر آئی ہو۔۔۔نیوی بلیو گرم سوٹ میں وہ کندھوں پر شال ڈالے فلور کشن پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔سیاہ بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے اتنی سردی معلوم نہیں ہو رہی تھی۔۔مگر سامنے کھڑکی سے آتی ٹھندی یخ ہوا نے اسکی ناک سرخ کر ڈالی تھی۔۔۔بھوری آنکھوں میں زمانے کی تھکن نمایاں تھی۔۔۔عنابی لب سردی سے مزید سرخ ہو گئے تھے۔۔وہ خوبصورت نہیں تھی مگر پر کشش تھی۔۔اور ذوالنون اسامہ کے لیے تو وہ کسی حور سے کم نہیں تھی۔۔۔۔
وہ بامقصد اسے یوں ہی دیکھتا رہتا تھا۔۔اور نفرت ہونے کے باوجود وہ اسکی گہری نظروں سے گھبرا جایا کرتی تھی۔۔۔۔
نامحسوس سی خوشبو ناک کے نتھنوں سے ٹکرائی تو وہ گہرا سانس لیتی پلکیں موند گئی۔۔۔جبکہ پیچھے سے وہ ٹکٹکی باندھے اس میں کھویا ہوا تھا ۔۔ کھڑکی سے آتی مدھم روشنی میں وہ ماراوئی مخلوق معلوم ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ جو ابھی اندر آیا تھا اسے یوں دنیا مافیہا سے بے خبر دیکھ کر کھو سا گیا تھا۔۔۔۔ دو ماہ میں وہ بلکل اجنبی بن گئے تھے۔۔۔اور اس بات کا احساس اسے بھی تھا۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں تکلیف سی ابھری تبھی وہ گہری سانس لیتا رخ پھیر گیا۔۔۔۔
” نیناں۔۔۔”
مدھم آواز میں اسے مخاطب کرتے وہ اپنی وہیل چئیر چلاتا سامنے صوفے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔جبکی اسکی پکار کے مطلب کو سمجھتی وہ دھیرے سے اٹھ گئی اور سویچ بورڈ پر ہاتھ مارتے لائٹس آن کر دیں۔۔۔روشنی ہوتے ہی اسکی نگاہ سامنے اٹھی جہاں وہ سیاہ ٹو پیس میں رؤف سا لگ رہا تھا بال بکھرے ہوئے تھے اور سینے کے دو بٹن بھی کھلے تھے جہاں سے وہ ٹیٹو جھانکتا اسے پلکیں جھکانے پر مجبور کر گیا۔۔۔
دل عجیب سے احساس تلے دھڑکتا اسے لرزا رہا تھا۔۔۔پلکیں بار بار نم ہو رہی تھی۔۔جبھی اسے سیگریٹ سلگاتے دیکھ وہ خود سلگ گئی۔۔۔۔۔۔
” انسان میں کوئی لحاظ ہوتا ہے۔۔۔ آپکو زرا سا بھی اندازہ ہے کہ میں یہاں اکیلی کیسے رہتی ہوں؟؟…اس سے اچھی تو میں پاکستان تھی وہاں کم ازکم آپکی امی اور رانیہ تو تھے نا۔۔۔۔۔یہاں تو مجھے اپنے جیسے ہاتھ پائوں کاٹ کر ایک کونے میں پھینک دیا جہاں نا میں کسی سے بات کر سکتی ہوں نا کچھ اور۔۔۔۔احساس نام کی کوئی چیز ہوتی ہے ذوالنون اسامہ!….”
وہ جو اس انتظار میں تھا کہ لائٹس جلا کر وہ اپنے کمرے میں بند ہو جائے گی اسے یوں اپنے سامنے ڈٹتے دیکھ چونک گیا۔۔۔۔اسکا سرخ چہرہ بھیگی بھوری آنکھیں اسامہ کو ساکت کر گئیں۔۔۔اسے یوں اوٹ آف کنٹرول ہوتے دیکھ وہ لب بھینچ گیا۔۔۔جبکہ وہ اسے یوں خاموش پا کر تن فن کرتی اسکے مقابل آ گئی۔۔۔
” آپکی سو کالڈ محبت بس اتنی تھی کہ مجھے اپنے زندگی میں لے آتے ہی وہ ہوا ہو گئی۔؟؟۔۔جو اب مجھے یوں یہاں لاوارثوں کی طرح پھینک کر آپ باہر خود غائب ہو جاتے ہیں۔۔۔”
اسکی خاموشی پر وہ بپھر کر کہتی اسے آگ لگا گئی۔۔۔وہ سختی سے پلکیں موند کر گہرا سانس لیتا وہیل چئیر کا رخ موڑ گیا۔۔وہ اس وقت بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔اور نا ہی وضاحت دینا اسکی سرشت میں تھا۔۔تبھی اسے نظر انداز کرتا اس سے پہلے آگے بڑھتا وہ غم و غصّے سے پاگل ہوتی تیزی سے اسکے سامنے آئی۔۔۔جس پر اسنے خاموش مگر تنبیہی نظروں سے اسے دیکھا مگر اثر کسے تھا۔۔۔۔
” یا یہ بے اعتنائی اس لیے ہے کہ آپ مجھے حاصل نہیں کر سکے ابھی تک… جو آپکی اپنی کمزوری ہے ذوالنون اسامہ!!!۔۔..”
غصے سے پاگل ہوتے اسنے جن لفظوں کا استعمال کیا تھا وہ ذوالنون کے لیے ناقابل برداشت تھے۔۔وہ لفظ برداشت کر بھی جاتا مگر اسکی نظروں کو اپنی مفلوج ٹانگوں پر پھسلتے دیکھ وہ غصے کی شدت سے پاگل ہوتا سرعت سے ٹیک چھوڑتا اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا اسے کندھوں سے تھام کر نزدیک کر گیا۔۔۔۔
“لفظ وہی کہو جن کا انجام تم برداشت کر سکو جان!!!… تمہیں بتایا تھا نا کہ ذوالنون جبیل کی محبت ان پہیوں کی محتاج نہیں ہے مسز۔۔۔اور یہ پہیے کبھی بھی ذوالنون اسامہ کی کمزوری نہیں رہے۔۔۔اور نا ہی تم کبھی میری دسترس سے باہر رہی ہو۔۔اگر فاصلے ابھی بھی ہیں تو وجہ میری مرضی ہے ورنہ تمہیں حاصل کرنا میرے لیے کبھی بھی مشکل نہیں رہا زرنین جبیل۔۔۔۔۔۔”
اسکے سامنے اپنے پورے قد سے کھڑے ہوتے وہ اسکی آنکھوں میں اپنے سیاہ کانچ گاڑتا اسے روح تک لرزا گیا۔۔۔۔۔لہجہ جنون کی دہکتی آگ سے سلگ رہا تھا۔۔۔اور آنکھوں میں غضب کی سرخیاں تھیں جنھوں نے اسے ساکت کر دیا۔۔۔۔۔
سیاہ ٹو پیس پہنے وہ اپنی پوری وجاہت سے اسکے سامنے اپنے قد سے کھڑا اسکی دھڑکنوں کو روک گیا تھا۔۔۔کندھوں پر جمی اسکی بے رحم گرفت الگ تڑپا رہی تھی۔۔۔۔بے یقین نظروں سے اسے خود پر سایہ بنا دیکھتے زری کا رواں رواں کانپ اٹھا۔۔۔۔۔۔اور دل کی دھڑکن حد سے سوا تھی۔۔۔۔۔۔۔ریڑھ کی ہڈی اسکے لہجے سے ٹپکتے جنون سے خائف ہوتی سنسنا اٹھی تھی۔۔۔
وہ حیرت سے مر جانے کو تھی کہ کہاں وہ سہاروں کا محتاج شخص آج آپنے قدموں ہر مضبوطی سے کھڑا اسکی سانسیں روک رہا تھا۔۔۔۔کیا وہ جھوٹ بول رہا تھا یا اس ے ہر بار کی طرح اس بار بھی اسے دھوکہ دیا تھا۔۔۔۔دل میں درد سا اٹھا اور اسکا رواں رواں جل اٹھا غیض و غضب کی شدت سے کانپتے اسنے جھٹکے سے اسکے ہاتھوں سے خود چھڑایا اور ایک قدم پیچھے ہٹی۔۔۔۔۔اسکی سیاہ آنکھوں میں اپنی سرخ بھیگی بھوری آنکھیں گھاڑتے اسکی نازک ہاتھ اٹھا تھا اور ذوالنون اسامہ کا بایاں گال دہکا گیا۔۔۔وہ جو اس کے لیے تیار نا تھا ہلکا سا دائیں طرف جھکا۔۔۔سیاہ آنکھوں کو ضبط سے میچ کر کھولتے جبڑے کس کے اس سے پہلے وہ جوابی کاروائی کرتا وہ جھپٹ کر اسکا گریبان پکڑتی صحیح معنوں میں اسکے ہوش اڑا گئی۔۔۔۔
” ہمت بھی کیسے ہوئی تمہاری یہ کھیل کھیلنے کی؟؟ ہاں سمجھ کیا رکھا ہے تم نے کہ زرنین ریحان اتنی ازراں ہے کہ ہر بار تم اسے اپنے فریب میں پھنسا لو گے؟؟؟ کیا تمہارا یہ جنون اور تمہاری یہ ضد محض مجھے تڑپانے کے لیے ہے؟؟؟ کیوں اسامہ کیوں ؟؟؟ ہر بار مجھے اذیت دیتے ہو ؟ صرف اسلیے کہ میں نے برسوں پہلے تم سے محبت کا گناہ کیا تھا۔۔۔۔۔ جواب دو خاموش مت رہو ۔۔۔۔مجھے جواب چاہیے بولو ۔۔۔۔”
اسکے گریبان کس ہلکا سا جھٹکا دیتے وہ برسوں کا غبار نکال رہی تھی بھوری آنکھیں الگ سمندر بہاتیں اسامہ کو تڑپا رہی تھیں۔۔۔ان آنسوئوں سے زیادہ اسکے الفاظ سخت تھے مگر آج جب وہ اسے کٹہرے میں کھینچ لائی تھی تو اسکے پاس جواب نا تھا تبھی تو خاموشی سے اسکی کلائیاں تھامتے اپنے کالر سے اسکے ہاتھ ہٹائے۔۔۔وہ جو آج بھی اس کے منہ سے کچھ سننے کی خواں تھی اسکی چپ ایک بار پھر اسکا دل توڑ گئی۔۔۔۔۔
تبھی تو ہاتھوں کی گرفت ہلکی ہوتی اسکا گریبان چھوڑ گئی۔۔۔بھوری آنکھیں سیاہ آنکھوں میں چھائے جمود پر جمی تھیں جو اول روز کی طرح آج بھی سرد تھا۔۔نا کوئی تاثر نا کوئی شرمندگی۔۔کچھ نہیں تھا ۔۔۔اور یہی ایک چیز اسے تڑپا رہی تھی۔۔۔۔۔
” بیا غلط کہتی ہے کہ تم نادم ہو ۔۔۔تم شرمندہ تو کیا تمہیں تو احساس تک نہیں ہے کہ تم نے کیا کچھ چھین لیا مجھ سے ۔۔۔تم درندے ہو۔۔تم۔۔۔تم نے سب چھین لیا مجھ سے تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
دکھ اذیت سے بولتے وہ قابو سے باہر ہوتی خلق کے بل چلاتی اسامہ کا ضبط توڑ گئی۔۔وہ جو اسکے تھپڑ کس سہہ گیا تھا اسکے لفظوں سے ہتھے سے اکھڑتا اسکی کلائیوں کو چھوڑ کر اسکے کندھے سے تھامتا اپنے اتنے نزدیک کر گیا کہ دونوں کی سانسیں الجھنے لگیں۔۔۔۔
” وہ لفظ مت کہو جن کا بوجھ تمہاری نازک جان سہہ نا سکے۔۔۔۔اور آپنے ہاتھوں کو کنٹرول میں رکھو۔۔۔۔۔ ذوالنون اسامہ کو چھونے کی اجازت کسی کو نہیں ہے جاناں۔۔۔اسلیے اپنے نازک ہاتھوں کی سلامتی چاہتی ہو تو آئندہ یہ ہاتھ میرے گریبان اور چہرے تک نا پہنچیں ورنہ تم ایک الگ ذوالنون اسامہ کو دیکھو گی۔۔۔۔۔اور رہی بات دھوکے کی تو میں اس کی وضاحت دینا ضروری نہیں سمجھتا ۔۔۔۔۔۔”””
اسکے چہرے پر ہلکے سے پھونک مارتے وہ سرد ترین لہجے میں بولتا اسکی جان ہلکان کر گیا اسکا لہجا اتنا ٹھنڈا تھا کہ اسکی بولتی بند ہو گئی وہ خوف سے لرزتی پلکیں جھکا گئی۔۔۔۔اسے یوں خوفزدہ ہوتے دیکھ اسکے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔ ہلکے سے جھکتے اسکے ٹھنڈے ماتھے کو لبوں سے چھوتے وہ اسے کس کر سینے سے لگا گیا۔۔وہ جو خود پر مشکل سے ضبط کیے بیٹھی تھی اسکے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔۔
جانے کون کون سے دکھ تھے جو وہ اسی ستمگر کے سینے پر بہا رہی تھی جو اس سب کی وجہ تھا۔۔۔اسکی کمر سہلاتے ذوالنون کے لب خاموش تھے لفظوں سے تسلی نا سہی پر اسکا لمس اسے ڈھارس دے رہا تھا اپنے سینے پر رقص کرتی اسکی دھڑکنیں اسکا دل گدگدا رہی تھیں ۔۔۔۔سرشاری سے مسکراتے اسنے اپنی ٹھوڑی اسکے سر پر ٹکا دی۔۔۔اور وہ ناجانے کب تک روتی اسی کے سینے پر نیند کی وادیوں میں اترتی چلی گئی۔۔اسے یوں بے جان محسوس کرتے وہ چونکا جھک کر اسے دیکھا تو وہ بے خبر سو رہی تھی زیرلب مسکراتے وہ جھکا اور اسے اپنے بازوؤں میں اٹھائے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔