Episode 37
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
سامنے بیڈ پر وہ دنیا مافیہا سے بے خبر تھی۔۔اور وہ اس پر اپنی جلتی نگاہیں جمائے ساکت تھا ۔۔۔ناجانے کتنا وقت بیت گیا تھا مگر وہ مستقل بے ہوش تھی۔۔۔ڈاکٹر کے مطابق وہ اعصابی کمزوری کی وجہ سے بے ہوش ہوئی تھی۔۔مگر اسامہ جانتا تھا کہ یہ اعصابی کمزوری کس وجہ سے تھی۔۔بیتے سالوں میں عدم تحفظ٫تنہائی اور ڈر کے ساتھ جینا کسی بھی عام انسان کو کمزور کر سکتا تھا وہ تو پھر ایک نازک جان تھی۔۔۔۔۔۔
اسکی یہ حالت اسے اذیت دے رہی تھی۔۔۔مگر اس سب کی وجہ وہ خود تھا یہ بات وہ بخوبی جانتا تھا۔۔۔تبھی تو لب خاموش تھے۔۔۔نا کسی معافی کی طلب تھی نا کسی مداوے کا ارادہ تھا۔۔۔طلب تھی تو اسکی اور ارادہ تھا تو اسے تمام عمر خود سے جوڑ کے رکھنے کا۔۔۔۔بھوری آنکھوں میں معافی کی تڑپ وہ دیکھ سکتا تھا۔۔۔مگر وہ اس سب سے گریزپا تھا کہ یہ سب اسکی سرشت میں نہیں تھا۔۔۔معافی مداوہ سب کچھ ذوالنون اسامہ کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔۔۔
لب بھینچ کر نظروں کا رخ موڑتے وہ اس سے پہلے واشروم کا رخ کرتا زری ہلکی سی کراہ سمیت اپنی آنکھیں کھول گئی۔۔۔تبھی سرعت سے وہ اسکی طرف بڑھا جو اٹھنے کی ناکام کوشش میں پھر سے بے دم ہوتی بیڈ پر گر سی گئی تھی۔۔۔یہ سب دیکھتیں اسامہ کی سیاہ آنکھیں جل سی اٹھیں۔۔۔۔
” ایبک!!۔۔۔۔۔”
اونچی آواز میں ایبک کو بلاتے وہ بیڈ سے ایک قدم کے فاصلے پر رک گیا۔۔۔۔اور ایبک اسکی ایک پکار پر حاضر تھا۔۔۔۔۔
” رانیہ کو بلائو۔۔۔۔۔”
مختصراً کہہ کر وہ خاموشی سے اسکا زرد چہرہ دیکھنے لگا جہاں وہ بے آواز رو رہی تھی۔ایبک اسکے حکم پر فوراً غائب ہوا تھا۔۔۔۔۔اسے تسلی دینا بےکار تھا کہ یہ زخم بھرنا ناممکن تھا۔۔۔تبھی وہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ اسکی سلگتی نگاہوں کے ارتکاز نے زری کو جھنجھلا دیا۔۔۔۔گھور کر اسے دیکھا۔۔۔بھوری سرخ متورم آنکھوں کا وار گہرا تھا مگر مقابل بھی ذوالنون اسامہ تھا تبھی تو وہ ڈھٹائی سے اسے ہی دیکھتا رہا۔۔۔۔
” اتنا رونے سے کیا ہو گا؟؟…۔تمہارا وہ ناکام عاشق تو مرنے سے رہا ان آنسوئوں سے۔۔۔ہاں مگر اگر تم اسی طرح روتی رہی تو میں ضرور اسے مار ڈالوں گا!!!…..”
بے تاثر مگر سلگتے لہجے میں اتنی ٹھنڈک تھی کہ وہ ساکت رہ گئی۔۔۔سیاہ آنکھوں میں اتنی لپک اور آگ تھی جیسے وہ واقعی اسے جان سے مار ڈالے گا۔۔۔۔۔وہ رونا بھول کر اسے دیکھتی رہ گئی جو بظاہر اتنا پرسکون لگ رہا تھا کہ اسکے اندر کون کون سے طوفان اٹھ رہے تھے یہ جاننا ناممکن تھا۔۔۔مگر ان سیاہ آنکھوں کی تپش اتنی تیز تھی کہ زری کو بے ساختہ اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
وہ خائف ہوتی رخ موڑ گئی اور اسکی اس حرکت نے اسامہ کو جلتے کوئلوں پر پھینکا تھا۔۔تبھی جبڑے کس کر وہ سرعت سے وہیل چئیر کے بٹن پریس کرتا اس تک پہنچا جو بیڈ کے سرے پر رخ موڑے لیٹی اسے سلگا گئی تھی۔۔۔۔
” اس کمینے انسان کے ایک بار سامنے نے تمہیں دنیا سے بے خبر کردیا اور پھر بھی تم ان سب کے لیے آنسو بہا رہی ہو جو سالوں سے تمہیں مرا سمجھ چکے ہیں۔۔۔۔مگر میں جو چھے سالوں سے اذیت کے جہنم میں سلگ رہا ہوں اور تمہارے سامنے بھی موجود ہوں پھر بھی تم مجھ سے منہ موڑ رہی ہو۔۔۔۔۔جانتی ہو تمہارا مجھ سے نظریں پھیرنا مجھے کتنی تکلیف دیتا ہے؟؟….جانتی ہوتی تو کبھی ذوالنون اسامہ کو نظر انداز کرنے کی حماقت نا کرتی مسز ذوالنون!!!!۔۔۔۔۔”
جھک کر اسکا بازو اپنی سخت گرفت میں لیتے وہ کھینچ کر خود سے قریب کرتے سلگتے لہجے میں بولا نہیں اسکے کان میں غرایا تھا۔۔۔۔اسکے لہجے کی لپک اور سانسوں کی تپش نے زری کو جھلسا دیا۔۔۔وہ ساکت نظروں سے اسکا سرخ چہرہ دیکھتی رہ گئی جو غصے سے دہک رہا تھا۔۔۔۔زبان گویا اسے کے قہر سے تالو سے چپک گئی تھی۔۔اسکا ایسا انداز چھے سال پہلے اسنے اسی کوریڈور میں دیکھا تھا جہاں وہ اس سے پہلی بار ملی تھی۔۔ چھے سال پہلے بھی اسے اپنی فاش غلطی کا احساس ہو گیا تھا اور احساس آج بھی ہوا تھا۔۔کیونکہ آج اسکے لہجے میں ایک نامعلوم سا شکوہ بول رہا تھا۔۔جو اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔۔اسنے ہر بار کی طرح آج بھی اسکے لفظ چھین لیے تھے تبھی بھوری آنکھیں سرعت سے بھیگتی چلی گئیں۔۔اور وہ جو سب کچھ تہس نہس کرنے کے در پر تھا لب بھینچ گیا۔۔۔سیاہ آنکھوں کا غضب پل میں تھما تھا۔۔۔
” مجھے ہر بار بدترین بننے پر مجبور مت کیا کرو جاناں!!!۔۔۔۔”
اپنی گرفت ہلکی کرتے جھک کر اسکی بھیگی آنکھیں نرمی سے چومتے وہ سرگوشی میں بولا تو اسکے لمس اور لفظوں کی نرمی نے زری کا دل گداز کیا۔۔۔تبھی نظریں اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے وہ دھیرے سے بولی۔۔۔۔
” تم ہو ہی بدترین!!….”
لرزتے لہجے میں بولتے آج اسکے لہجے میں نفرت کہیں نہیں تھی بلکہ ایک نامعلوم سی تھکن تھی جس نے اسامہ کو بے چین کیا۔۔۔۔
” میں جانتا ہوں۔۔۔لیکں اب تم بھی جان لو کہ تمہیں تمام عمر اسی بدترین شخص کے ساتھ رہنا ہے!!!…..۔۔”
اس کی تمام تر مزاہمت کو نظر انداز کرتے وہ اسے سینے سے لگاتے مسکراتے مگر تھکے لہجے میں بولتا زری کو واقعی بے رحم لگا۔۔۔لیکن اب تمام عمر اسے انہی پناہوں میں رہنا تھا کیونکہ فرار ناممکن تھا۔۔۔ کیونکہ ذوالنون اسامہ اسے مار تو سکتا تھا مگر خود سے الگ نہیں کر سکتا تھا یہ بات زرنین ریحان بخوبی جانتی تھی۔۔۔۔۔۔
” وہ کل واپسی پر ابھی تک گھر سے باہر نہیں نکلی تھی۔۔ناجانے کیسا خوف تھا کہ وہ باہر نکلنے سے گریزپا تھی۔۔۔کل شام کا حیدر کا رویہ بےحد عجیب تھا یہ حیدر اس حیدر سے قطعی مختلف تھا جو آج سے چھے سال پہلا تھا۔۔۔تبھی تو پہلی بار اسکی قربت نے حبا کا نازک دل سہما دیا تھا۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ وہ لوٹ کر آئے گا مگر اسکی واپسی اسکی دھڑکنیں روک دے گی یہ نہیں پتا تھا۔۔۔۔بیڈ پر آڑی ترچھی لیٹی وہ اسے ہی سوچ رہی تھی جو اسکے دل پر اول روز کی طرح براجمان تھا۔۔۔۔
سیل فون کی رنگ ٹون نے اسے خیالوں سے باہر نکالا۔۔نمر انون تھا کچھ ہچکچا کر وہ کال اٹینڈ کر گئی۔۔۔دوسری طرف گہری خاموشی تھی۔۔۔تبھی بنا کچھ بولے وہ الجھن کا شکار ہوتی اس سے پہلے کہ کال کاٹتی دفتا گہری سانسوں کی آواز نے اسے ساکت کر دیا۔۔۔
” کیسی ہو؟؟..۔۔”
گھمبیر لہجہ میں بولا گیا جملہ اسکی سانسیں روک گیا۔۔۔لفظوں کی ٹھنڈک روح تک کو سہما رہی تھی۔۔۔
” حیدر؟؟…”
سرسراتی آواز میں بولتے وہ اٹھ کے بیٹھ گئی۔۔جبکہ دوسری جانب اسکے درست جواب پر ہلکا سا قہقہ لگاتے وہ خاصا مخظوظ ہوا تھا۔۔اور اسکے اسے رویے پر حبا کی زبان تالو چپک گئی دل تھا کہ پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو مچلا۔۔۔
” کل شام میں تمہارا ویٹ کروں گا سویٹ ہارٹ!!۔۔۔۔”
بنا جواب کی پرواہ کیے اپنی بات کہتے وہ اسے خاصا عجیب لگا۔۔۔لہجہ تحکم آمیز تھا۔۔یوں جیسے وہ انکار نہیں کر سکتی۔۔۔۔اسکے پر اسرار لہجے نے حبا کی سانسیں روک دیں۔۔۔ عرق آلود ہوتی پیشانی کو بائیں ہاتھ سے صاف کرتے اسکی سماعتیں اسکی طرف متوجہ تھیں جو اب اسکے بولنے کا منتظر تھا۔۔۔
اور بولنا فلحال اسکے لیے ناممکن تھا تبھی دھڑکتے دل سمیت وہ سرعت سے کال کاٹ گئی۔۔۔۔کال کٹتے ہی میسج ٹون بھی جہاں پرل ہوٹل کا ایڈریس درج تھا۔۔وقت شام 4 بجے کا تھا۔۔۔۔۔ دل پر ہاتھ رکھے وہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔مقابل دور بیٹھا اسکی سانسیں روکنے کی صلاحیت رکھتا تھا اگر وہ قریب آگیا تو؟؟؟؟۔۔۔۔یہ تو اسکی جان نکال رہا تھا۔۔۔۔۔
دوسری جانب وہ اسکے نمبر پر جگہ اور وقت ٹیکسٹ کرکے دلکشی سے مسکراتا سامنے دیکھنے لگا جہاں سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا بلکل اسکے جذبات کی طرح۔۔۔ آنکھیں ڈھلتے سورج کے کرنوں سے چمک رہیں تھیں۔۔۔۔کل صبح کا سورج ایک الگ ہی طوفان لے کر آنے والا تھا جس سے فلحال سب ہی بے خبر تھے۔۔۔۔وہ نہیں جانتا کہ کل کا سورج اسے ایک ایسی اونچائی سے گرانے والا تھا جو اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔۔۔۔۔
وہ سب دم سادھے اسے دیکھ رہے تھے جو سب کچھ بتا کر اب سر جھکائے ساکت بیٹھا تھا۔۔۔اور سب سے زیادہ تو حیران ابیہا تھی جس کے لیے یہ یقین کرنا ممکن نہیں تھا کہ جسے وہ چھے سالوں سے مرا سمجھ کر صبر کر چکی تھی وہ زندگی تھی۔۔۔۔دل۔کا درد آنکھوں کے رستے بہہ رہا تھا۔۔۔۔
وہ حق دق اسکا چہرہ دیکھ رہی جو یہ ہولناک سچائی بتا کر اب ساکت تھا۔۔۔وہ کبھی نا یقین کرتی جو اگر وہ اسے زری اور اسامہ کی تصویریں نا دیکھاتا۔۔۔جہاں بت بنی ایک پرکشش شخص کے پہلو میں بیٹھی تھی۔۔۔۔اگر تصویر سے نکل کر وہ اسے گلے مل سکتی تو وہ ایسا کر جاتی مگر یہ ناممکن تھا۔۔۔۔۔
کیا کیا نہیں یاد آیا تھا۔۔۔ساتھ بیتا بچپن اور جوانی کے دن اور پھر وہ سیاہ آندھی جو اسکا سب کچھ بہا کر لے گئی تھی۔۔۔۔جس کے اثرات اسنے چھے سال برداشت کیے تھے۔۔۔۔۔اور حیران تو باقی گھر والے بھی تھے آصف صاحب تو رابعہ بیگم کی سازش سن کر دم سادھے انھیں دیکھتے رہ گئے جو اتنی ظالم ہو سکتیں تھیں انھیں اندازہ تک نہیں تھا۔۔وہ جانتے تھے زاہدہ بیگم کے حق میں ان سے نا انصافی ہوئی تھی۔۔۔مگر وہ ان کا کلیجہ نوچنے کے در پر ہو گئیں تھیں یہ بات صاف صاحب کو شرمندگی اور دکھ سے زندہ زمین میں گاڑ گئی۔۔۔۔اور رابعہ بیگم تو اتنے سالوں میں لگنے والی ضربوں سے ہی خاک ہو گئیں تھی اب تو بکھر سی گئیں تھیں۔۔۔۔
” مجھے ان سے ملنا ہے وقاص !!!۔۔۔۔”
سب کچھ نظر انداز کرتے وہ لرزتے لہجے میں بول کر بات کے اختتام تک بلک بلک کر روتی وقاص کا دل چیر گئی۔۔۔وہ سرعت سے اٹھ کر اسے خود میں بھینچ گیا جو اسکی بانہوں میں اپنے ناقابل تلافی نقصان پر تڑپ تڑپ کر روتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔
وہ وقت سے پہلے وہاں پہنچ گیا تھا۔۔۔اور انتظار تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔دل گواہی دے رہا تھا کہ وہ ضرور آئے گی۔۔۔۔مگر پھر بھی ہر گزرتا لمحہ اسکی دھڑکنیں تیز کر رہا تھا۔۔۔تبھی بے چینی سے اٹھ کر وہ باہر آگیا۔۔۔یہ غالبا تھرڈ فلور تھا جہاں میٹنگ پلیس کے علاؤہ ریسٹورنٹ بھی تھا ۔۔۔وہ کاریڈور میں تھا اور اس سے پہلے لفٹ کی طرف بڑھتا کہ سامنے لفٹ کا دروازہ کھلا اور اس سے نکلنے والی شخصیت نے حیدر نواز کی دھڑکنیں روک دیں۔۔۔۔۔۔
وہ مر جاتا مگر یہ یقین نا کرتا جو سامنے نظر آرہا تھا۔۔۔وہیل چئیر پر بیٹھا وہ شخص کوئی اور نہیں اسکا اسامہ تھا جسے وہ بند آنکھوں سے بھی پہچان سکتا تھا۔۔۔مگر آج اسکا ایسے محتاج ہونا حیدر کو خاک کر گیا تھا۔۔۔۔دل تھا سینہ پھاڑ کر باہر آنے کو مچلا۔۔ساکت نظروں اسے دیکھتے وہ اپنی جگہ مجسمہ بنا ہوا تھا کہ دفتا اسنے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔اور اسکا دیکھنا حیدر نواز کو جیتے جی مار گیا۔۔۔وہ کیسے اس شخص سے بے خبر رہ سکتا تھا جو اسکے دل کی دھڑکن تھا۔۔۔۔
جبکہ وہ بے چین سا اسکی طرف لپکا تھا کہ اسے سینے سے لگا سکے مگر یہ حیدر نواز کا دل جانتا تھا کہ وہ کیسے اپنے قدموں پر کھڑا تھا۔۔۔۔اس شخص کا سامنا کرنا ناممکن تھا کہ اسے سینے سے لگانا؟؟…ناممکن!!!!!!۔۔۔۔تبھی تو سرعت سے سے رخ موڑ کر وہ پھٹتے دل سمیت سرعت سے بھاگا۔۔۔ وہ بھول گیا تھا کہ اسے کس سے ملنا تھا یاد تھا تو صرف یہ کہ وہ اس وقت اپنے یار کے ساتھ نہیں تھا جب اسے اسکی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔۔۔۔
احساس ندامت تھا کہ اسے خاک کر رہا تھا اور انکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جو وہ سرعت سے گلاسز لگا کر چھپا گیا ۔۔۔وہ کیسے اسکی طرف سے رخ موڑ کر آیا تھا یہ وہ جانتا تھا یا اس کا خدا۔۔۔۔ورنہ دل تو اسے سینے سے لگانے کو مچل رہا تھا۔۔۔۔۔پارکنگ میں کھڑی گاڑی کو سٹارٹ کرتے اسے ہاتھوں میں واضح لرزش تھی۔۔۔۔چابی گھماتے اسے دقت پیش آرہی تھی۔۔۔تبھی بے دم ہوتے وہ سر سٹیرنگ وہیل پر ٹکا گیا۔۔۔کتنے ہی آنسو بے مول ہوتے آنکھوں سے بہتے چلے گئے۔۔۔ آنکھوں میں بیتے وقتوں کی یادیں تھیں جہاں وہ زندگی سے بھرپور انداز میں مسکراتا اکثر اسکا دل روک دیا کرتا تھا۔۔۔اور آج؟؟..۔۔۔۔۔۔۔”
ایک وجود پارکنگ میں ماتم کناں تھا اور ایک وجود اوپر کاریڈور میں اپنی ذات کی نفی پر موم کا مجسمہ بنا ساکت تھا۔۔۔سیاہ آنکھوں میں اذیت ہی اذیت تھی۔۔۔اور لب خاموش تھے۔۔ نظریں وہیں جمی تھیں جہاں سے وہ گیا تھا۔۔۔۔
” رک جائو ایبک!!۔۔۔وہ نہیں رکے گا!!!۔۔۔”
اسے سے پہلے ایبک اسکے پیچھے جاتا کہ عقب سے ابھرتی اسکی بے تاثر آواز اسکے قدم روک گئی۔۔لہجہ بےجان تھا۔۔۔تبھی ایبک کی قدم ساکت ہوئے۔۔۔۔
” سر؟؟؟….”
ایبک کی پکار کر وہ ہوش میں آیا۔۔۔خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتے وہ اسے سننے سے قاصر تھا۔۔مگر اتنا جانتا تھا کہ وہ وہاں نہیں رک سکتا تھا۔۔۔۔۔
” گھر چلو!!!!۔۔۔۔۔”
دو ٹوک لہجے میں کہا گیا جملہ ایبک کو سمجھا گیا کہ انکار ممکن نا تھا۔۔۔تبھی بنا کچھ کہے وہ سرعت سے اسکی وہیل چئیر تھامتا لفٹ کی طرف واپس مڑ گیا۔۔۔اور یہ پہلی بار تھا کہ اسنے اسکی وہیل چئیر تھامی تھی ورنہ وہ کسی کو ایسا موقع نہیں دیتا تھا۔۔۔مگر آج ایسا ہوا تھا اور وجہ کیا تھی اس سے ایبک بخوبی واقف تھا۔۔۔۔۔
گرے ٹیل میکسی میں وہ ہلکی جیولری اور ہلکے پھلکے میک اپ میں بال اونچے جوڑے میں باندھے حوروں کو مات دے رہی تھی۔۔۔۔ناک میں پہنی نتھ الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی۔۔۔۔بھوری آنکھیں جھکی ہوئی الگ ہی منظر پیش کر رہیں تھیں۔۔۔۔اسکے پہلو میں بیٹھی ابیہا اور اسکی گود میں بیٹھا طلحہ منظر مکمل تھا۔۔۔اور اتنا دلکش تھا کہ اسامہ کو اس پر سے نظریں ہٹانا ناممکن لگا۔۔۔۔۔
تبھی ٹکٹکی باندھے اسکے دیکھتے اسکی دل کی حالت عجیب تھی۔۔۔سانسیں بے ترتیب تھیں۔۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں الگ ہی چمک تھی جو ہال میں موجود لائٹس کی روشنی کو مات دے رہی تھی۔۔۔۔ایک سفر تھا جو تمام ہوا تھا۔۔۔اور ایک سزا تھی جو پوری ہوئی تھی۔۔۔اور آج خود کو آزاد محسوس کرتے ذوالنون اسامہ کے دل کی دھڑکن الگ ہی لے پر دھڑک رہی تھی۔۔۔۔۔
اسکے لیے اسنے کیا کیا نہیں کیا تھا؟؟…دہکتے صحرا میں ننگے پائوں بھاگا تھا۔۔۔اور برسوں پچھتاوے کی آگ میں سلگا تھا تب جا کہ وہ اسکی پناہوں میں آئی تھی۔۔۔اور اب اسکی موجودگی اسکے دل کو روک رہی تھی۔۔۔کہاں سوچا تھا کہ اللہ کا کرم ایسے بھی ہوگا؟؟…اب جب سب اسکے سامنے تھا تو دل بے اختیار سجدہ شکر ادا کرنے کو مچل رہا تھا۔۔۔روم روم اس ذات کا شکرگزار تھا جس نے اسکے انتظار کو رائیگاں نہیں کیا تھا۔۔جسنے اسے اسکی اوقات سے بڑھ کر نوازہ تھا۔۔۔۔۔اور آج اپنے خواب کو یوں سچ ثابت ہوتے دیکھ اسامہ کا دل گداز ہوا جا رہا تھا۔۔۔تھا اس سے بڑھ کر کوئی رحمنٰ؟؟؟۔۔۔بے شک نہیں!!!۔۔۔۔۔۔