Episode 39 2nd Last
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
اسے بیڈ پر لٹاتے وہ وہیں جھکا اسکا معصوم رویا
رویا چہرہ دیکھتا رہا۔۔۔جہاں بھیگی پلکیں گالوں پر سایہ فگن تھیں اور گالوں پر آنسوئوں کے نشان تھے سرخ مرطوب ہونٹ سوجے ہوئے تھے اسکی یہ حالت اسامہ کے دل پر آرے چلا رہی تھی کہاں سوچا تھا اسنے ایسا وہ تو سرپرائز دینا چاہتا تھا کہ مسلسل دو مہینے کی کوشش کے بعد وہ کم سے کم چل سکتا تھا۔۔۔
اتنی مہارت نہیں تھی چال میں لیکن وہ ہار نہیں مان سکتا تھا تبھی درد کو فراموش کرتا وقت سے پہلے ٹھیک ہو چکا تھا۔۔۔۔ لیکن ابھی بھی اسے چلتے وقت تھوڑی دقت کا سامنا تھا گھٹنوں میں ٹیسیں اٹھتی تھیں جو وہ برداشت کر رہا تھا۔۔۔
اب بھی اسے اٹھا کر کمرے تک لاتے اسے ٹانگوں میں درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔بے شک وہ نازک تھی لیکن چھے سالوں کی محتاجی کے بعد اب جب وہ چل رہا تھا تو اتنا بوجھ بھی ناقابل برداشت تھا۔۔۔
تبھی لب بھینچ کر اسکے پہلو میں بیٹھتے وہ اسکے ماتھے پر جھکا ۔۔۔دہکتا لمس پیشانی پر چھوڑتے وہ اسی طرح جھکا اسکے گالوں پر اپنا قبضہ جما گیا۔۔۔۔ملائم گال چومتے اسے اپنی دل کی دھڑکن بڑھتی محسوس ہوئی دل گویا سینے سے باہر آنے کو مچلا تھا۔۔۔تبھی لب دانتوں میں دباتے وہ ایک نظر اسکی بند پلکوں کو دیکھتا اسکے لبوں پر جھکا سیاہ جلتی آنکھیں موندے کو کئی لمحے اسکے نرم لمس کو محسوس کرتا رہا۔۔۔۔
وہ اپنے لبوں پر اسکی شیو کی چھبن محسوس کرتے کسمسائی تھی جسے دیکھتے وہ نرمی سے پیچھے ہٹا اسکا لمس اتنا نرم تھا کہ وہ نیند سے بیدار نا ہو سکی اور نا ایسا وہ چاہتا تھا۔۔۔۔اس وقت وہ اسکے کسی سوال کے لیے تیار نا تھا ۔۔۔۔تبھی دونوں ہاتھ اسکے سر کے اردگرد رکھتے اسکی بند آنکھوں کو دیکھا۔۔۔۔
” تم کوئی کھلونہ نہیں ہو نیناں!!… نہ ہی ذوالنون اسامہ نے تمہیں کھلونہ سمجھا ہے تم میری زیست کا وہ حاصل ہو جس کے لیے میں نے ننگے پائوں چھے سال دہکتے صحرا میں سفر کیا ہے۔۔۔۔تمہیں کیسے دھوکہ دے سکتا ہوں؟؟؟ ۔۔۔۔ہاں کہہ نہیں سکتا مگر ذوالنون اسامہ کو تم سے بے انتہا محبت ہے اور یہ محبت مجھے تبھی ہو گئی تھی جب پہلی بار ان بھورے نینوں کو یونی کے کوریڈور میں دیکھا تھا۔۔۔۔”
جھک کر اسکی بند پلکیں چومتے وہ جذبات کی شدت سے بوجھل لہجے میں بولتا کئی ان کہے راز افشاں کر رہا تھا اور اپنے جذبات کی رو میں وہ یہ نا جان سکا کہ اسکے لمس کو محسوس کرتی زری پلکیں لرز اٹھیں تھیں۔۔وہ اسکے لمس سے جاگ چکی تھی اور اسکے لفظ گویا اسکی روح پر ثبت ہو رہے تھے۔۔۔ہنوز اپنی دھن میں گم وہ کہتا جا رہا تھا۔۔۔۔
” میں ضد جنوں میں آکر جو کچھ کیا اسکی قیمت میں نے چھ سال چکائی ہے جان!!!… اور جانتی ہو ہر رات میں نے کانٹوں پر بسر کی ہے۔۔۔۔ یہ سب نہیں چاہتا تھا مگر ناجانے کب کیسے یہ سب ہو گیا۔۔۔۔میں تم سے معافی مانگنا چاہتا ہوں مگر کہیں اندر میرے دل میں یہ ڈر ہے کہ اگر تم نے مجھے معاف نا کیا تو؟؟؟ ۔۔۔یہ تو میری جان نکالتا ہے نین!!! ۔۔۔۔اسلیے چاہ کر بھی میں معافی نہیں مانگ سکتا۔۔۔۔۔۔اگر آج بھی تمہارے دل میں میرے لیے محبت ہے تو سمجھ جائو یار تمہارا اسامہ بہت مشکل میں ہے۔۔۔۔تم سے دوری برداشت نہیں اور تمہارا قرب سانسیں روک دیتا ہے۔۔۔۔”
تھکے تھکے لہجے میں بولتے وہ ضبط کی شدت سے لب بھینچتا سر اسکے سر سے جوڑتا پلکیں موند گیا۔۔۔۔جب کہ وہ جو اسکی باتیں سن رہی تھی اسکی ذات قیامت کی زد میں آگئی تھی۔۔۔کہاں محسوس کیا تھا اسنے ایسا احساس جو آج اسکے لفظوں کو سن کے ہوا تھا۔۔۔۔۔ وہ تو اپنی کہہ کہ شائد پرسکون ہو گیا تھا مگر زرنین ریحان پر تو قیامتیں گزر گئیں تھیں۔۔۔۔
کیا وہ شرمندہ تھا؟؟ معافی مانگنا چاہتا تھا؟؟ کیا سے احساس تھا کہ اسنے کیا کیا تھا؟؟؟ اگر تھا تو چپ کیوں تھا اور اب جب یہ آشکار ہو گیا تھا کہ وہ کس ڈر سے چپ تھا زری کے دل میں موجود ساری کدورت پل میں غائب ہوئی تھی۔۔۔اور چھے سال پہلے دبی ہوئی محبت انگڑائی لے بیدار ہوئی تھی۔۔۔۔وہ اس شخص کو ہزار بار معاف کر سکتی تھی کیونکہ روز اول سے وہ شخص اسکے دل کی مسند پر بڑی شان سے براجمان تھا۔۔۔جو کچھ اسنے کیا تھا ناقابل برداشت تھا ناقابل معافی تھا مگر زرنین ریحان کا دل آج بھی ذوالنون اسامہ کے لیے اسی شدت سے دھڑکتا تھا جیسا وہ چھے سال پہلے دھڑکا تھا اور اس احساس نے زری کس سر سے پائوں تک سنسنا دیا۔۔کیا وہ اسے معاف کر دیتی جو اسکی روح کا قاتل تھا؟؟؟؟
دل اور دماغ کی اس جنت سے گھبرا کے اسنے پلکیں وا کیں تو کتنے ہی جما آنسو آنکھوں سے بہتے کنپٹیوں میں جذب ہو گئے۔۔۔نگاہ سامنے ہی رگ جاں سے قریب جھکے اسامہ کی بند پلکوں سے ٹکرائی۔۔۔۔۔اسکی سانسیں اپنے لبوں پر محسوس کرتی وہ دل و جاں سے کانپی تھی اور اسکے وجود کی ہلچل اسامہ کو ہوش کی دنیا میں لے آئی وہ ہلکا سے پیچھے ہٹا اور اسکی بھیگی آنکھیں دیکھیں جہاں فلحال کوئی احساس نا تھا صرف آنسو تھے جنھوں نے اسکا دل چیرا۔۔۔۔
” نیناں!!…مم۔۔۔۔۔۔”
وہ اس سے پہلے کوئی بات کرتا وہ جھٹکے سے اٹھتی اسکا حصار توڑ کر چھلانگ لگا کر بستر سے اترتی سامنے کھڑی ہوئی۔۔ اسکی اتنی تیزی اسامہ کو ہکا بکا کر گئی وہ حیرت سے گنگ ہوتا اسے دیکھتا رہ گیا جو لمبے لمبے سانس لیتی سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔دسپٹے سے بے نیاز اسکا گداز وجود اسامہ کی سیاہ آنکھیں دہکا گیا۔۔۔۔
” آئندہ میرے قریب مت آنا!!! سمجھے۔۔۔۔۔”
انگلی اٹھا کر وارن کرتے لہجے میں بولتی وہ اسے مزید حیران کر گئی۔۔۔اسکے لفظوں سے زیادہ وہ اسکے انداز پر بگڑا۔۔ہتھے سے اکھڑتا وہ لب بھینچ ایک تیکھی نگاہ اسے دوپٹے سے بے نیاز وجود پر ڈالتے تیزی سے چلتا اسکے نزدیک آیا اور اسکی یہ ڈھٹائی دیکھتے زری کی آنکھیں پھیلیں۔۔۔ایک تو اسکا اپنے پیروں پر چلنا زری کی جان ہلکان کر رہا تھا۔۔دوسرا اسکا پراسرار طریقے سے اپنی جانب بڑھنا سانس روک رہا تھا۔۔۔۔۔وہ سرعت سے مڑ کر بھاگنے لگی کی کلائی اس بے رحم کی گرفت میں آئی جسے وہ کھینچتا اسے اپنے سینے کا حصہ بنا گیا۔۔۔۔
جہاں اسکے سینے سے لگنے پر اسامہ کی دھڑکنیں تیز ہوئیں وہیں زری اس درجہ قربت پر سانسیں بھی روک گئی۔۔۔ آنکھیں پھیلائے وہ اسکی سیاہ آنکھوں میں دیکھے گئی جہاں غضب کی سرخیاں تھیں۔۔۔اسکی آنکھوں کی لپک اتنی شدید تھی کہ وہ سر سے پائوں تک لرز اٹھی۔۔۔۔
” میں آئندہ تو کیا ہر پل تمہارے قریب آئوں گا!!…رگ جاں سے بھی قریب آئؤں گا روک سکتی ہو مجھے ؟؟؟ ۔۔۔۔۔”
ایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کرتے دوسرے سے اسکے بال گردن سے پکڑتے وہ اسکا سر اونچا کرتا سرسراتے لہجے میں بولتا اسکی روح فنا کر گیا۔۔سءاہ آنکھوں کے تقاضے روح کو جھنجھوڑ رہے تھے۔۔۔وہ سر سے پائوں تک لرزتی سرعت سے پلکیں موند گئی زبان گویا تالو سے جاچپکی تھی۔۔۔۔اسکی ایسی حالت دیکھتے وہ کچھ پل پہلے اسکا شیرنی جیسا روپ یاد کرتے گہرا سا مسکرایا۔۔۔یعنی وہ صرف دور ہی شیرنی بن سکتی پاس آتے ہی اسکی حالت اسامہ کو لطف دے گئی۔۔۔۔۔
شرارت سے حصار تنگ کرتے وہ اسکی گردن پر جھکا اور وہ جو آنکھیں بند کیے وہاں سے غائب ہونے کی دعا کر رہی تھی اسکے شدت بھرے لمس پر سانس لینا بھول گئی۔۔۔۔حیرت سے پھٹی آنکھیں اسکے سیاہ گھنے بالوں پر جمی تھیں۔۔۔۔۔مزاحمت کی ہمت بچی ہی کہاں تھی جو وہ کرتی۔۔۔۔۔۔ جبکہ وہ اسکی گردن پر جا بجا اپنا دہکتا لمس چھوڑتا کسی اور جہاں میں تھا۔۔۔رگوں میں اترتا سکون اسکا دل الگ ہی لے پر دھڑکا رہا تھا۔۔۔۔۔
” سانس لو جان!!!!۔۔۔۔”
مدھم خوابناک لہجے میں بولتے وہ سر اٹھائے بولا۔۔۔اسکی لہجے کا بوجھل پن آنکھوں کی جنوں خیزیاں زری کی روح فنا کر گئیں۔۔۔۔۔۔گال گویا تپ اٹھے تھے ۔۔۔لب لرزش کا شکار ہوتے اسامہ کا حلق خشک کر گئے ۔۔۔
” تمم۔۔۔۔۔۔”
وہ جذبات کی شدت سے مغلوب ہوتا اس سے پہلے اسکے لبوں پر جھکتا وہ اسے کندھوں سے تھامتے مدھم سا بولی۔۔۔
” انہوں۔۔۔۔ آپ !!!!۔۔۔۔”
سر نفی میں ہلا کر وہ اسکی بھوری آنکھوں میں اپنی سیاہ آنکھیں گھاڑے تحکم بھرے لہجے میں سرزنش کرتے دوبارہ اسکے لبوں پر جھکتا انہیں اپنی شدت بھری گرفت میں لے گیا۔۔گویا کچھ دیر پہلے کی گئی اسکی بدتمیزی کا جواب دے رہا ہو ۔۔۔۔۔لمس اتنا شدت بھرا تھا کہ اسکا دل دھڑکنا بھول گیا۔۔اسکی شرٹ مٹھیوں میں جکڑتے وہ پلکیں موند گئی ۔۔۔جانتی تھی کہ اسے پیچھے ہٹانا ناممکن تھا وہ اپنی ضد پوری کر کے ہی پیچھے ہٹتا۔۔۔اور یہی ہوا تھا اپنی ضد پوری کرتے وہ پیچھے ہٹنے سے پہلے اسکی لرزتی ٹھوڑی چومتا اسے اپنے حصار سے آزاد کر گیا۔۔۔جانتا تھا مزید منمانی اس نازک جان پر گراں گزرتی۔۔۔۔
اسکے نرمی سے چھوڑنے پر وہ اپنی بھوری آنکھیں وا کرتی اسے دیکھے گئی جو لبوں پر شرارتی مسکان سجائے سیاہ چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اپنے لبوں پر دہکتا اسکا لمس اب بھی زری کا روم روم سنسنا رہا تھا۔۔۔۔۔بکھرے بال اور اپنی قربت سے اسکا بکھرا سراپا دیکھتے اسامہ کے دل میں ہلچل مچی۔۔۔وہ جینز کی پاکٹ میں ہاتھ گھساتا مزید پھیل کر کھڑا ہوا کہ زری حائف سی ہوتی سرعت سے پیچھے ہٹی۔۔۔۔
” تم پاس آنے کی بات کر رہی تھی اور میں نے تو تمہاری سانسوں تک پر قبضہ جما لیا چاکلیٹ کوئین!!!۔۔۔اب بھی کہو پاس مت آنا۔۔۔۔۔”
اسکی بھیگی آنکھوں میں جھانکتے وہ شرارت سے لبریز لہجے میں بولتا اسے خود میں سمٹنے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔اپنے لیے اس طرز تخاطب کو سنتی وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی جو دل و جاں سے مسکراتا اسکے دل پر قہر ڈھا رہا تھا۔۔۔۔۔اسے یوں اپنی طرف متوجہ پا کر وہ اس سے پہلے اسکی طرف بڑھتا وہ سرعت سے دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔۔
” آئی ہیٹ یو!!!!!…”
دروازے کی طرف بھاگتے وہ دھڑکتے دل سمیت جتنی اونچی آواز میں کہہ سکتی تھی کہہ کے بھاگ گئی اور پیچھے اسکا جاندار قہقہ اسکی سماعتوں میں اترتا اسے شرم سے سرخ کر گیا۔۔۔۔۔۔۔
” حبا!!!!۔۔۔۔۔”
وہ آج اتنے دنوں بعد شاپنگ مال آئی تھی گزرے دو ماہ میں حیدر نے بے شمار کالز کیں تھیں جو وہ کبھی اٹھا لیتی کبھی نہیں۔۔۔لیکن حیرت کی بات صرف یہ تھی کہ اسنے دوبارہ کبھی ملنے کا نہیں کہا تھا۔۔۔اور یہ ایک طرح اسکے لیے بہتر بھی تھا تبھی ریلکس تھی۔۔۔اسکا لہجہ بھی چھبتا ہوا تھا۔۔۔۔۔یعنی وہ گزری باتیں بھولا نہیں تھا۔۔۔۔ایک یہی چیز حبا کو تکلیف دیتی تھی۔۔۔۔
اب بھی وہ ایک تو اس کے ڈر سے دوسرا اپنی آدم بیزار روح سے مجبور کم ہی باہر نکلتی تھی لیکن آج کچھ ضروری چیزیں لینی تھی تبھی وہ مال آئی تھی ۔۔اسے سے پہلے وہ اپنی امی کے لیے خاک لینے سامنے موجود شاپ پر جاتی عقب سے ابھرتی گھمبیر پکار پر کرنٹ کھا کر پلٹی۔۔۔۔۔جہاں سامنے وہ بلیو جینز پر سفید شرٹ پہنے بلیک جاگرز میں رف سے خلیے میں کھڑا تھا۔۔۔ آنکھوں پر لگے شیڈز فلحال آنکھوں کے تاثرات کو چھپا گئے تھے۔۔۔۔برسوں بعد اسکا سامنا اسے پتھر کر گیا تھا۔۔بیتے وقت نے اسکی شحصیت کو مزید نکھارا تھا تبھی تو وہ ماحول پر چھایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
” حیدر!!!!۔۔۔۔۔”
بے آواز لبوں کی جنبش دور سے چشمے کے پیچھے چھپی حیدر کی آنکھوں نے صاف محسوس کی تھی تبھی عنابی لبوں پر ایک ہلکی مسکان ابھری۔۔۔۔۔جسے دیکھتے حبا فورا ہوش میں آتی سیدھی ہوئی اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو گویا آج فرصت سے اسے نہارنے آیا تھا۔۔۔۔
” مجھے تم سے بات کرنی ہے کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔۔انہوں انکار نہیں سنوں گا……”
اپنے نظروں سے اسکا بے چین ہونا محسوس کرتے وہ بڑے دوستانہ لہجے میں بولا کہ جیسے انکے درمیان بڑھتے خوشگوار تعلقات رہے ہوں۔۔۔اسکی ایسی ڈیمانڈ پر حبا کا دماغ بھک سے اڑا تبھی دہل کر انکار کرتی کے اسکے کھلتے لبوں کو دیکھتے وہ سرد لہجے میں ٹوکتا آگے بڑھ کر خود اسکا ہاتھ تھامے آگے بڑھا۔۔۔۔۔۔
جبکہ اسکی ایسی جرات وہ بھی پبلک پلیس کر حبا کو ساکت کر گئی تھی۔۔تبھی تو بنا کسی مزاہمت کے اسکے ساتھ کھنچی چلی گئی جو اسے پارکنگ میں موجود اپنی گاڑی تک لے آیا تھا۔۔۔۔اس سے پہلے وہ اسے گاڑی میں بٹھاتا کہ وہ ہوش میں آتی سرعت سے اپنا ہاتھ کھینچ گئی۔۔۔۔
” جج۔۔جو بھی بات کرنی ہے کرو میں سن رہی ہوں۔۔۔۔۔”
اسے اپنی جانب سرد نظروں سے دیکھتے پا کر وہ حلق تر کرتی اٹک کر بولی۔۔۔وہ جو اسکے ہاتھ چھڑانے پر مشتعل ہوا تھا اسکی ایسی بے اعتباری ہتھے سے اکھاڑ گئی۔۔۔۔۔۔جبڑے کس کے وہ جھٹکے سے اسے کندھوں سے تھامتا اپنے قریب کر گیا۔۔۔۔۔
وہ اسکی ایسی جنوں خیزی دیکھتی ساکت ہو گئی۔۔۔اسکی انکھوں کی لپک اتنی شدید تھی کہ حبا کو اپنا وجود جلتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
” مجھے جو بات کرنی ہے وہ میں جہاں میرا دل چاہے گا وہاں کروں گا سمجھیں!!!!۔۔۔۔۔ مجھے مجبور مت کرو کہ میں تم سے گزرے چھے سالوں کا حساب لے لوں۔۔۔۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں اپنی آنکھیں گھاڑتے وہ سرسراتے لہجے میں بولتا حبا کی بولتی بند کر گیا وہ جو اسکی قربت سے بے حال تھی اسکے لفظوں کر مزید حراساں ہوئی۔۔۔۔۔۔
” چلو!!!!!۔۔۔۔۔۔”
اسکے لیے دروازہ کھولتے وہ سرد لہجے میں بولا کہ گاڑی کو دیکھتے حبا مزید گھبراتی سر نفی میں ہلا گئی۔۔۔۔۔ناجانے کیوں آج اسکے تیور اسے ڈرا رہے تھے۔۔۔۔۔دل گویا بند ہونے کو تھا۔۔۔۔
” حح۔۔۔حیدر پلیز۔۔۔۔۔۔”
مدھم منمناتی آواز میں بولتے وہ اسے مزید طیش دلا گئی۔۔۔۔۔
” شٹ اپ!!!!۔۔۔۔۔۔”
تیکھے لہجے میں بولتے وہ واقعی اسکی زبان تالو سے چپکا گیا۔۔۔کھینچ کر ے فرنٹ سیٹ پر بٹھاتے وہ سرعت سے دوسری سائیڈ سے آتے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔۔۔۔انگیشن میں چابی گھماتے اسنے ایک نظر اسے دیکھا جو بے آواز رو رہی تھی۔۔۔۔۔لب بھینچ کر اسنے سپیڈ بڑھاتے اس نے گاڑی انجان راستوں پر موڑی تو حبا کی جان صحیح معنوں میں خلق میں آئی تھی۔۔۔۔۔