📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="229"]
58118 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے وہ گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔نظریں سامنے موجود پینٹنگ پر مرکوز تھیں۔۔پورے کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی قائم تھی۔۔کھڑکی سے چھلکتا آسمان بھی ابر آلود تھا۔۔۔گہری سیاہی ہر طرف پھیلی تھی۔۔۔بلکل اسکی نگاہوں کی طرح جہاں موجود سیاہی باہر پھیلی سیاہی کو مات دے رہی تھی۔۔۔۔

لب بھینچے اسکی سوچوں کا مرکز صرف زری ہی تھی۔۔۔جو فلحال کمرے سے غائب تھی۔۔۔۔رات کے دس بج رہے تھے اور ایسے میں وہ باہر بیٹھی اپنے گرد خود ساختہ دیوار قائم کیے ہوئے تھی۔۔۔نہیں جانتی تھی کہ یہ دیوار ذوالنون اسامہ کے لیے توڑنا بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔۔۔

لیکن ابھی اسکا ارادہ ایسا کچھ بھی کرنے کا نہیں تھا۔۔۔۔دماغ ابھی بے پناہی سوچوں کی آماجگاہ بنا اسے اپنے شکنجے میں کسے ہوئے تھا۔۔۔۔۔

کلک کی خفیف سی آواز نے اسے چونکایا۔۔۔گردن گھما کر دیکھا تو وہ اندر داخل ہو رہی تھی۔۔۔۔صبح کی طرح اب بھی وہ سرخ لباس میں ہوش اڑانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ اسے دیکھتیں اسامہ کی سیاہ آنکھیں چمک اٹھیں تھیں۔۔۔۔۔

وہ جو یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ سو چکا ہو گا یا پھر سٹڈی میں ہوگا لیکن اسے سامنے بیڈ پر براجمان دیکھ چونک گئی۔۔۔۔۔اسکی بھرپور نظریں خود پر مرکوز پا کر وہ جھجھکی۔۔لیکن اب باہر جانا بھی ناممکن تھا ۔۔تبھی دل کو مضبوط کرتے وہ ڈریسنگ کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔۔

” رہنے دو۔۔۔۔ یہ رنگ تم پر بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔”

اسے کپڑے چینج کرنے کی نیت سے اندر جاتے پا کر وہ سرعت سے بولا تو وہ جھٹکا کھا کر رکی۔۔اسکی ایسی فرمائش زری کے لیے بہت حیران کن تھی۔۔۔۔پچھلے ہفتے کی لاپرواہی کے بعد اب یہ بے سروپا فرمائش اسکا خون کھولا گئی۔۔۔

کبھی وہ اتنا مہربان بنتا تھا اور کبھی اتنا ہی انجان۔۔۔۔وہ جس دور سے گزر رہی ایسے اسکا ایسا رویہ اسے بہت کھلا تھا۔۔۔۔۔۔تبھی کمال مہارت سے اسکی بات کو اگنور کرتے وہ اندر گھس گئی ۔۔۔۔۔۔

” ہنہ آیا بڑا۔۔۔۔رنگ اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔”

سر جھٹک کر اسکی نکل اتارتے وہ اپنے لیے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔۔۔پیچھے وہ اسکی اتنی جرآت پر حیران رہ گیا تھا۔۔۔۔

اپنی بات کا اتنی بے دردی سے اگنور ہونا اسے مشتعل کر گیا۔۔۔۔۔۔اسکی پیار سے کی گئی فرمائش وہ بڑے آرام سے اسکے منہ پر مار گئی تھی۔۔۔اور یہ بات اسامہ کے لیے برادشت کرنا کم از کم مشکل تھا۔۔۔۔

” شادی کے بعد یہ کچھ زیادہ پھیل نہیں گئی…..؟”

اپنی ٹھوڑی کھجاتے وہ نظریں دروازے پر جمائے دھیرے سے بڑبڑایا۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں خفگی نمایاں تھی۔۔جس سے فلحال وہ بے پرواہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکے باہر آنے تک وہ کلس کلس کر اپنا تقریباً سارا خون جلا چکا تھا۔۔۔ایسی ہتک کا سامنا آج تک نہیں ہوا تھا جتنی پچھلے ہفتے سے وہ برداشت کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔اور بے شک ایسا رویہ صرف وہی اسکے ساتھ روا رکھ سکتی تھی۔۔۔۔۔۔

” میری بات کی تمہاری نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے نا…..؟

تکیہ سیدھا کرنے کے لیے بڑھا اسکا ہاتھ بے دردی سے اپنی گرفت میں لیتے وہ سرد لہجے میں بولتا اسے سہما گیا۔۔۔سیاہ آنکھوں کی ٹھنڈک روح تک سرائیت کرتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

” نہیں ہے۔۔۔کیا کر لو گے۔۔۔۔۔۔؟”

اپنی کلائی چھڑانے کی تگ ود میں وہ کلس کر بولی تو اسکے لبوں پر دل جلاتی مسکراہٹ بکھری۔۔۔۔۔۔۔سیاہ لان کے سوٹ میں ملبوس وہ سادگی میں اسکے دل میں اترتی چلی گئی۔۔۔۔۔

” میں۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ میں تمہارے گرد خودساختہ قائم کی گئی دیواروں کو گرانے میں لمحہ نہیں لگائوں گا مسز۔۔۔۔۔۔”

اسکے سرخی مائل نقوش دیکھتے وہ گہرے لہجے میں بولتا زری کو ساکت کر گیا۔۔۔۔لفظوں کی نسبت لہجہ مار ڈالنے کی حد تک سفاک تھا۔۔۔۔اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سی لہر دوڑتی چلی گئی۔۔۔۔بھوری آنکھوں میں خوف کے ساتھ نمکین پانی بھی ابھرا تھا جو سیاہ آنکھوں سے پوشیدہ نا رہ سکا۔۔۔۔۔۔

” جانتی ہو تمہارے یہ آنسو مجھے سب سے زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔۔۔۔”

تھکے تھکے لہجے میں بولتے وہ گہری سانس لیتا اپنی گرفت ہلکی کر گیا۔۔۔۔مگر اتنی ہلکی بھی نہیں کہ وہ اپنا ہاتھ چھڑا سکتی۔۔۔۔۔

” اس سب کے باوجود ان آنسوئوں کی وجہ ہمیشہ سے تم رہے ہو۔۔۔۔۔”

نا چاہتے ہوئے بھی وہ شکوہ کر گئی تو وہ شکست خوردہ سا مسکرا دیا۔۔۔۔سیاہ آنکھیں زمانوں کی تھکن سمیٹ لائیں تھیں۔۔۔ اور بھوری آنکھیں نمکین پانیوں سے لبریز تھیں۔۔۔۔احساسات مختلف تھے مگر ان کی شدت ایک سی تھی۔۔۔۔جس نے انھیں ازل سے باندھ رکھا تھا۔۔۔ایک خاک ہونے کو مچل رہا تھا اور ایک برسوں پہلے خاک ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔

” مگر اب میں ہی ان آنکھوں میں محبت کے دیے جلانا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”

ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسو صاف کرتا وہ نرمی سے بولا۔۔۔۔لہجہ جذبات سے گندھا ہوا تھا۔۔۔۔۔مگر اسکی نرمی نے زری کو مزید تڑپا دیا۔۔۔۔۔

” اور جو ہو چکا ہے اسکا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟”

ٹھہرے مضبوط لہجے میں بولتی وہ اسے ساکت کر گئی۔۔۔۔وہ یک ٹک اسکی بھوری آنکھوں میں دیکھتا رہ گیا جہاں اذیت ک ایک الگ جہاں آباد تھا۔۔۔جہاں معافی کی طلب تھی۔۔جہاں مداوہ درکار تھا۔۔۔۔اور یہ سب اسکے لیے ناقابل برداشت تھا۔۔تبھی وہ سرعت سے نظریں چرا گیا۔۔۔اور ایک امید سے اسکی طرف دیکھتی زری طنزیہ مسکرا دی۔۔۔۔۔۔

” جو چیز انسان کے بس میں نا ہو اسکا دعوا کرنا میرے نزدیک حماقت کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔اور اس وقت تمہارے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔”

اپنا ہاتھ چھڑا کر تلخی سے اسکی ذات کے پرخچے اڑاتی وہ ایک نظر اسکی مفلوج ٹانگوں کو دیکھتے اس سے پہلے اٹھتی کہ وہ جھپٹ کر اسکی کلائی دبوچتا اس شدت سے اپنی طرف کھینچ گیا کہ وہ تمام تر کوششوں کے باوجود اسکے مضبوط سینے کا حصہ بن گئی۔۔۔۔۔۔

” ذوالنون اسامہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔۔۔۔اور تمہارا دل تو بہت آسان ہدف ہے زرنین جبیل۔۔۔۔بہت جلد یہ ریاست بھی میری ملکیت ہو گی۔۔۔۔۔کیونکہ ذوالنون اسامہ کھوکھلے دعوے نہیں کرتا۔۔۔اتنا تو تم بھی جانتی ہو۔۔۔۔۔”

اسکی سرخ پڑتی بھوری آنکھوں میں اپنی سیاہ آنکھیں گھاڑتا وہ سفاکی سے چبا چبا کر بولتا اسکا ننھا سا دل سہما گیا۔۔۔۔۔وہ جو پہلے ہی اس تصادم پر اپنی دھڑکنیں منتشر کر بیٹھا تھا اب تو دھڑکنا بھول گیا۔۔۔۔۔۔زری کے اتنے سے طنز نے اسے روح تک تڑپا دیا تھا۔۔۔ایک فیصلہ تھا جو ابھی ہوا تھا۔۔۔۔۔اور جو اٹل تھا۔۔۔۔۔

لہجہ مار ڈالنے کی حد تک سفاک تھا۔۔۔اور سیاہ آنکھوں میں اتنی ٹھنڈک تھی کہ وہ روح تک لرزا اٹھی۔۔۔۔۔گلابی لب کپکپا اٹھے تھے۔۔۔۔۔اور اسکے لٹھے کی مانند سفید چہرے کو دیکھتے اسکی نظریں بھٹکتیں ان کپکپاتے لبوں پر آ ٹھہریں تو آپ ہی آپ ان میں خمار سا اترتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

” اس کے لیے مجھے تمہاری اجازت درکار نہیں ہے۔۔۔کیونکہ تم میری ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”

اس سے پہلے وہ جھکتا کہ اسکی بھوری آنکھوں میں پھیلا ہراس دیکھتے وہ مضبوطی سے بولتے اسکے چہرے پر جھکتا چلا گیا تو اسنے تڑپ کر آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔۔۔روکنا محال تھا کہ وہ سائے کی طرح اس پر چھایا ہوا تھا۔۔۔

وقت جیسے رک سا گیا تھا۔۔۔۔اور جذبات مچل اٹھے تھے۔۔۔۔اسکی دھڑکنیں اپنے سینے پر محسوس کرتے اسکا اپنا دل بے قابو تھا۔۔۔۔۔اسکی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتے وہ اسکا سر تکیے پر ٹکا گیا۔۔۔۔۔۔جب شدت طوالت اختیار کرنے لگی تو وہ بے بسی سے رو دی۔۔۔۔۔۔۔اور اسے یوں بے بس پا کر وہ ہلکا سا پیچھے ہٹا۔۔۔۔۔۔گہرے سانس لیتے وہ غور سے اسے دیکھتا رہا جو اسکی اتنی سی شدت سے بے حال تھی۔۔۔۔۔۔سرخ چہرہ،بھیگی پلکیں اور سرخ کپکپاتے لب سب کچھ جان لیوا تھا۔۔۔۔۔جس نے کئی پل اسکا دل روک رکھا۔۔۔۔۔۔۔۔

” تم ذوالنون اسامہ کی زیست کا حاصل ہو نیناں۔۔۔۔۔”

اسکے بال سنوارتے وہ سر اسکے ماتھے پر ٹکاتا گھمبیر لہجے میں بولا۔۔لہجہ جذبات کی شدت سے دہک رہا تھا۔۔۔۔۔اور وہ اپنے چہرے پر اسکی گرم سانسیں محسوس کرتے سرتاپا لرز رہی تھی۔۔۔اسکی اتنی سی قربت نے اسے تڑپا دیا تھا۔۔۔۔۔سختی سے پلیکں میچے وہ نظریں ملانے سے قاصر تھی۔۔۔۔۔۔

” بہت جلد چیزیں میرے اختیار میں ہوں گی مسز۔۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔۔۔۔”

اسکی پیشانی نرمی سے چومتے وہ پر اسرار لہجے میں بول کر اپنی جگہ لیٹ گیا۔۔۔۔۔۔اور وہ اسکی بات کا مطلب سمجھے بنا کروٹ بدلتی سر تک کمفرٹر اوڑھ گئی۔۔۔۔۔کیونکہ اب اٹھنا محال تھا۔۔۔۔پیچھے اسکی پشت دیکھتے اسامہ کے لب بڑی پیاری مسکراہٹ میں ڈھلتے چلے گئے۔۔۔۔۔اب بس صبح کا انتظار تھا۔۔۔۔۔دھیرے سے پلکیں میچتے اسکی آنکھوں میں اسی کا عکس تھا جس کا لمس ابھی اسکے لبوں پر دہک رہا تھا۔۔۔۔۔۔

آج صبح کا سورج بہت سے انکشافات کا سامنا کروانے والا تھا۔۔۔۔وقاص سات بجے سکینہ بی کے گھر سے نکلا تھا۔۔۔اب منزل آصف ولا کے بجائے ابراہیم مینشن تھی۔۔۔۔برق رفتاری سے گاڑی چلاتے اسکی آنکھوں میں ہراس اور ابیہا کا عکس موجود تھا۔۔۔دل دھڑک دھڑک جا رہا تھا۔۔۔ناجانے حالات کیا کروٹ لیتے۔۔۔۔۔؟؟؟؟

اسکی گاڑی ابرہیم مینشن کے باہر رکی تب صبح کے دس بج رہے تھے۔۔۔۔گہری سانس لیتے اسنے ہارن پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔گیٹ کھولنے سے پہلے ایک گارڈ اسکی طرف آیا ۔۔۔۔

” جی سر۔۔۔ آپکو کس سے ملنا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟”

مؤدب لہجے میں استفسار کیا تو وہ بے اختیار زری کا نام لے گیا۔۔۔۔۔گارڈ چونکہ اپنے چھوٹے صاحب کی بیوی کو جانتے تھے تبھی گیٹ کھول دیا۔۔۔۔۔۔ڈرائیو سے پر گاڑی روکتے اسکی نگاہیں مینشن کی خوبصورتی کو دیکھتیں ساکت تھیں۔۔۔۔۔۔اتنی آسائشات اور شان وشوکت اسکی وہم وگمان میں بھی نہیں تھیں۔۔۔تبھی وہ دنگ تھا۔۔۔۔

دروازے کھولتے اسکے ہاتھوں میں واضح کپکپاہٹ تھی۔۔۔۔اور دل کی دھڑکنیں سست تھیں۔۔۔ناجانے وہ کیسے اسکا سامنا کرتا۔۔۔۔؟؟؟؟

سامنے موجود ایک اور ملازم نے اس سے استفسار کیا تو اسکا جواب وہی تھی۔۔۔۔وہ اسے لے کر سیدھا اندر ڈائننگ ہال کی طرف بڑھا۔۔۔کیونکہ وہ انکی چھوٹی بیگم کا ماموں زاد تھا۔۔۔۔۔۔ملازم کی معیت میں چلتے وہ جانتا تھا کہ وہ اسے پہچاننے سے بھی انکار کر دے گی ملنا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔۔

آج ان کی شادی کے بعد وہ سب پہلی بار مل کر ناشتہ کر رہے تھے۔۔۔۔سربراہی کرسی پر رجب صاحب بیٹھے تھے اور دائیں طرف عصرہ بیگم انکے سامنے رانیہ اور رجب صاحب کے مقابل اسامہ بیٹھ ہوا جس کی بائیں طرف کنفیوز سی زری بیٹھی تھی۔۔۔۔پچھلے ہفتے میں بار ہا وہ ان سب کے ساتھ کھانا کھا چکی تھی مگر رات گزری بے اختیاریاں اسے نظریں چرانے پر مجبور کر رہیں تھیں۔۔۔۔صبح وہ اسکے جاگنے سے پہلے ہی کمرے سے غائب تھی۔۔۔۔سامنا کرنا محال تھا کہ ان نظروں میں بسے جذبات کا مقابلہ اس کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔۔

برائون آنکھوں کے ہم رنگ ٹخنوں کو چھوتے فراک میں سر پر دوپٹہ ٹکائے وہ سادگی میں بھی اسامہ کے دل کو بے اختیار کر رہی تھی۔۔۔گزری رات نے اسکے جذبات پر بندھا بند توڑ دیا تھا تبھی نظریں بھٹک بھٹک کر اسکے سرخی مائل چہرے کا طواف کر رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔

” اگلے سنڈے میری امریکہ کی فلائٹ ہے۔۔۔۔۔”

بنا کسی کو مخاطب کیے وہ سنجیدگی سے سب کےسر بم گراتا جوس پینے میں مگن تھا۔۔۔جبکہ باقی نفوس حیرت سے اسکا چہرہ دیکھ رہے تھے جو بے تاثر تھا۔۔۔۔۔

” مگر ایسے اچانک۔۔۔۔؟؟؟؟ اور مجھے نہیں بتا ہماری کوئی میٹنگ بھی ہے وہاں تو تمہارا اچانک وہاں جانا مجھے سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔؟؟؟؟”

سب سے پہلے بولنے والے رجب صاحب تھے۔۔جن کا کیا گیا سوال سب کے دماغ میں تھا۔۔۔۔۔۔۔

” جی بلکل کوئی میٹنگ نہیں ہے۔۔۔۔اور میں اکیلا نہیں جارہا بلکہ زری بھی میرے ساتھ جائے گی۔۔۔۔”

انکے کیوں کا جواب دیے بنا وہ گہری نظروں سے زری کو دیکھتے گویا ہوا تو وہ حیرت کی زیادتی سے سن رہ گئی۔۔۔۔۔۔

” ہممم اوکے۔۔۔۔۔”

رجب صاحب عصرہ بیگم اور رانیہ کے درمیان مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا جس پر وہ دھیرے سے سر ہلاتے اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔جبکہ ان سب کی معنی خیز مسکراہٹ نے پہلے سے ہونق بنی زری کو مزید خجل کر دیا۔۔۔۔وہ سمجھ گئی کہ وہ سب انکے ہنی مون کا سوچ رہے تھے۔۔۔۔۔۔اور انکی تردید کرنے کی زحمت اسامہ نے نہیں کی تھی۔۔۔تبھی وہ اپنی جگہ شرمندہ ہوتی سر جھکا گئی۔۔۔۔۔۔

اور اسے یوں سب کے سامنے سرخ ہوتے دیکھ اسامہ کے لب جاندار انداز میں مسکرائے تھے۔۔۔۔سیاہ آنکھیں جگنوئوں کی مانند چمک اٹھیں تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔

” ہنی مون پر جانا بیسٹ آئیڈیا ہے آپکا بھائی۔۔۔۔۔”

رانیہ نے ابکی بار چہکتے ہوئے سراہا تو زری سے بیٹھنا محال ہو گیا۔۔اس سے پہلے وہ اٹھ کر جاتی کہ نظر سامنے مین دروازے کی طرف اٹھی اور ساکت ہو گئی۔۔۔۔

وہ مر جاتی مگر اسکا سامنا نا کرتی۔۔لیکن۔کاش وہ جیسا سوچتی ویسا ہی ہوتا۔۔۔۔۔قسمت میں اسامہ کا ساتھ لکھا تھا تو وہ لاکھ بھاگی مگر مقدر پھر بھی وہی بنا۔۔۔اور اب جب وہ اپنے ماضی سے بھاگ رہی تھی تو وہ منہ کھولے اسکے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔۔جہاں منہ موڑ کے بھاگنا اب محال تھا۔۔۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں بے اختیار سست پڑیں تھیں۔۔۔۔۔۔اور بھوری آنکھوں میں اذیت کا ایک طوفان اٹھا تھا۔۔۔۔۔اسے یوں بے بنا دیکھ سب نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔باقی سب تو حیران تھے مگر اسامہ کو اپنا فشار خون بڑھتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔

وہ کیسے اسے بھول سکتا تھا۔۔۔۔؟؟؟۔ وہ وہی تھا جو کبھی زری کے لیے کسی اژدھے سے کم۔نہیں رہا تھا۔۔۔اور آج وہ انکی دہلیز پر اکھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔

” تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی یہاں آنے کی……؟؟؟؟ اور تمہیں اندر آنے کا نے دیا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ ایبککککککک۔۔۔۔۔۔۔”

غصے سے چبا چبا کر بولتے وہ آخر میں اس شدت سے چلایا کہ زری کا سکتا بھی ٹوٹ گیا۔۔۔۔۔۔۔وہ چونک کر حواسوں میں آئی۔۔۔۔۔۔

” نہیں ممم۔۔۔۔میری بات سنو اسامہ۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔۔”

اسے یوں غصے سے پاگل ہوتے دیکھ وہ سرعت سے بولا تو غصے کی شدت سے پاگل ہوتے ذوالنون نے ہاتھ مار کر ساری پلیٹس گرا دیں۔۔۔۔۔۔

” شٹ اپ۔۔۔جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔۔گیٹ آئوٹ فرام ہیر رائٹ نائو۔۔۔۔۔گیٹ آئوٹ۔۔۔۔۔۔”

اپنی وہیل چئیر پیچھے کرتے وہ اسکی طرف بڑھتا خلق کے بل غرایا تو وہ جو اسکی منت کرنے لگا تھا اسے یوں وہیل چیئر کا محتاج دیکھ کر ساکت رہ گیا۔۔۔۔۔وہ۔سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسی شاندار پرسنالٹی کا حامل شخص وہیل چیئر کا محتاج تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

” اسامہ!!!!! ریلکس۔۔۔۔۔یہ کیا رویہ ہے آپکا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟ آپکو کس سے ملنا ہے بیٹے۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟”

اسی یوں آپے سے باہر ہوتے دیکھ رجب صاحب تنبیہی لہجے میں اسے چپ کراتے وقاص سے گویا ہوئے مگر وہ متوجہ کہاں تھا اسکی حیران نظریں اسامہ پر ساکت تھیں۔۔۔۔

اسکی نظروں کو یوں اسامہ پر ساکت دیکھ کر زری کے وجود میں ہلچل ہوئی وہ دھیرے سے چلتی آگے بڑھی۔۔۔۔۔

” کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔۔؟؟؟؟؟”

اسکے عین مقابل آکر رکتے وہ ضبط کی شدت سے لرزتے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔

” مم۔۔میں تم سے ملنا چاہتا تھا۔۔پلیز۔۔۔۔”

وہ گھٹے گھٹے لہجے میں ندامت سے بولتا اسے ہتھے سے اکھاڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔

” نکل جائو اس گھر سے ابھی کے ابھی۔۔۔۔”

انگلی اٹھا کر دروازے کے طرف اشارہ کرتے وہ خلق کے بل غراتی اسے ساکت کر گئی۔۔۔۔آنکھیں لہو رنگ بھیگی ہوئیں تھیں۔۔۔اور میں ہلکورے لیتا درد وہاں موجود تمام نفوس کو تڑپا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” مم۔۔میری بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ اس سے پہلے اپنی بات مکمل کرتا کہ مقابل کا سرعت سے اٹھتا ہاتھ اسکا گال سرخ گیا۔۔۔۔لب بھینچے وہ سختی سے آنکھیں میچتے سر جھکا گیا۔۔۔۔۔نظریں اسکے پائوں پر جمیں تھیں جو اسکے کانوں میں سیسہ انڈھیلتی اسے روح تک تڑپا رہی تھی۔۔۔۔۔

” کیا دیکھنے آئے ہو۔۔۔۔؟؟؟؟ یہی کہ جسے مل کر زندگی دفنایا تھا وہ کیسی ہے۔۔۔۔؟؟؟ یا پھر یہ کہ جسے عرصے سے مرا سمجھ رہے تھے وہ زندہ کیسے ہو گئی۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ میں زندہ نہیں ہوں۔۔۔نہیں ہوں زندہ ۔۔۔۔۔مر چکی ہوں۔۔۔۔تب ہی مر گئی تھی جب میری ماں نے اپنی آخری سانسیں لیں تھیں ۔۔۔سنا تم نے ۔۔۔سنا۔۔۔مر چکی ہوں میں ۔۔۔۔”

خلق کے بل چیختے وہ تڑپ تڑپ کر روتی چلی گئی۔۔بے جان قدموں سے زمین پر ڈھے گئی۔۔۔۔۔دوزانوں بیٹھتے وہ ان زخموں کو رو رہی تھی جو برسوں سے اسکے سینے کا ناسور بنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔

” زری!!!!!!……”

” وہیں رک جائو۔۔ہاتھ مت لگانا اسے۔۔۔۔۔”

وہ تڑپ کر آگے بڑھا کہ اسے تھام سکے مگر اسامہ کی غراتی آواز اسے اپنی جگہ روک گئی۔۔۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی اپنی جگہ رکا رہ گیا۔۔۔۔۔۔اور اسامہ کے اشارے پر رانیہ اور عصرہ بیگم آگے بڑھ کر اسے تھامتیں اندر بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔

” اب۔۔۔۔؟؟؟؟ سن لیا نا وہ تم سے نہیں ملنا چاہتی۔۔۔۔اب دفع ہو جائو یہاں سے۔۔۔۔۔۔”

خون آشام نظروں سے اسے گھورتے وہ حقارت سے بولا تو وہ مایوس سا اس سے پہلے پلٹتا رجب صاحب کی آواز اسکے قدموں کو روک گئی۔۔۔۔۔۔

” مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔ایبک انھیں میری سٹڈی میں لے جائو۔۔۔۔۔۔”

بنا اسامہ کو دیکھے وہ سنجیدگی سے گویا ہوئے تو وہ وقاص کو لیتا سٹڈی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔پیچھے ان کے حکم سن کر اسامہ پیج وتاب کھاتا انھیں گھور رہا تھا۔۔۔۔

” وہ اس گھر میں مہمان کی حیثیت سے آیا ہے ۔۔اور میرے گھر کی یہ تہذیب نہیں ہے کہ اسکے ساتھ ایسا رویہ رکھا جائے۔۔۔۔۔بہتر یہی ہے آپ اپنی زبان بند رکھیں ذوالنون۔۔۔۔۔”

اسکے بولنے سے پہلے وہ اسکی زبان بند کرتے سٹڈی کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔۔

” مہمان مائی فٹ۔۔۔۔۔۔۔”

طیش سے غراتے وہ صوفے کے ساتھ رکھا واز اٹھا کر پوری سے شدت سے نیچے فرش پر گرا گیا۔۔۔۔۔گہرے سانس لیتے اسکی آنکھوں میں ضبط کی سرخیاں تھیں۔۔۔۔

کمرہ میں ہر سو اندھیرا تھا سوائے راکنگ چئیر کے جہاں سائیڈ لیمپ کی روشنی روشن تھی۔۔۔۔وہ دھیرے سے چئیر پر جھولتا لایعنی سوچوں میں گم تھا۔۔۔تانے بانے صرف ایک زات سے ملتے جس سے وہ بے خبر نہیں تھا۔۔۔۔بیتے وقت میں وہ ہر طرف سے اسکے گرد موجود تھا۔۔۔۔۔

اب بھی ہاتھ میں پکڑے سیل فون کی سکرین روشن تھی اور وہاں مسکراتا چہرہ اسکے لیے انجان نہیں تھا۔۔۔۔۔وہ غالباً کسی شادی کی تصویر تھی جہاں وہ ہلکے پھلکے میک اپ میں ڈال گولڈ کا ٹخنوں کو چھوتا فراک زیب تن کیے حوروں کو مات دے رہی تھی۔۔۔ہوا کے دوش پر لہراتے اسکے گولڈن برائون بال اسے ہمیشہ مبہوت کر دیتے تھے اب بھی وہ مدہوش سا اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔جس کے لمس سے وہ کئی سالوں سے دور تھا۔۔۔۔۔

” کون کہتا ہے کہ محبت ہو جانے کے بعد نفرت ہو سکتی ہے۔۔۔۔؟؟؟؟ مجھے تو لگتا ہے محبت ہو جانے کے بعد مزید صرف محبت ہی ہو جاتی ہے نفرت نہیں۔۔۔۔۔۔یہ تو ایک خول ہے جو ہم خود پر چڑھاتے ہیں ورنہ اندر تو وہی محبت سانس لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”

انگلی سے اسکے ایک ایک نقش کو چھوتے وہ سرگوشی سے بولتا چلا گیا۔۔۔۔ آنکھوں میں زمانوں کی تھکن نمایاں تھی۔۔۔۔نظریں اسکے باہر مسکراتے لبوں پر مرکوز تھیں لیکن وہ جانتا تھا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنا درد چھپا تھا۔۔۔۔۔۔۔

تھکن سے دکھتی آنکھوں کو دھیرے سے میچتے وہ سر پیچھے کرسی پر ٹکا گیا۔۔۔بند آنکھوں میں بھی وہی شبیہ تھی جو اسکے موبائل کی سکرین پر چمک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔

ہال کے کاریڈور میں چلتے اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے پیچھے کوئی ہے۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہی اسکے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔۔۔۔۔تیز تیز قدم اٹھاتے وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی مگر اس سے پہلے وہ کاریڈور مڑتی پیچھے سے کوئی اسے اپنی گرفت میں لیتا کارنر پر موجود کمرے میں گھس گیا۔۔۔۔۔۔۔

ایسی آفتاد پر اسکی دھڑکنیں تک سی گئیں تھیں۔۔۔وہ موم کا مجسمہ بنی مقابل کی بانہوں میں ساکت تھی جو اسکی پشت پر موجود تھا۔۔اور جس کی تیز سانسیں وہ اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔

تیز گرم سانسیں اسکے رونگٹے کھڑے کر رہیں تھیں۔۔۔۔ایسی صورتحال کا اسنے کب سوچا تھا۔۔۔تبھی وہ مزاحمت کی ہمت بھی نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔بس سانس روکے اسکے حصار میں قید کھڑی تھی جو شاید اسکی خوشبو محسوس کرتا بےخود ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔

” آئیندہ میں تمہیں اس کمینے انسان کے ساتھ نا دیکھوں۔۔۔۔ سمجھی۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”

اسکی کان کے قریب دہکتی سرگوشی اسے پور پور لرزا گئی تھی۔۔۔۔۔ آواز مار ڈالنے کی حد تک بھاری اور گھمبیر تھی۔۔۔۔۔اور اس میں موجود تنبیہ اسے سن کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔

” میں امید کروں گا کہ تم مجھے مزید زحمت نہیں دو گی۔۔۔۔۔”

اسکے گرد اپنی گرفت مزید سخت کرتا وہ سفاکی سے بولا تو وہ خوف کی شدت سے کانپتی سر اثبات میں ہلا گئی۔۔ آنکھیں الگ سمندر بہا رہیں تھیں اور لب کپکپاہٹ کا شکار تھے۔۔۔۔اسکی ایسی اطاعت مقابل کے لبوں پر مسکراہٹ لے آئی تھی۔۔۔۔۔۔

” ہممم گڈ گرل!!!!…….”

اسکی کان کی لو دھیرے سے چھوتے وہ مڑ کر سرعت سے باہر نکل گیا۔۔۔پیچھے وہ مقابل کی جرآت پر سر سے پائوں تک لرزتی بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔ کتنے ہی آنسو بے مول ہوتے اسکی آنکھوں سے بہتے چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔