Episode 36
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
کمرے تک آتے اسکی سانسیں بری طرح پھول چکی تھیں۔۔اور بھوری آنکھیں شدت سے بہہ رہی تھیں۔۔۔وقت جیسے گزرا ہی نہیں تھا۔۔وہ وہیں تھیں جہاں آج سے چھے سال پہلے تھی۔۔خوف ٫ نفرت اور غم آج بھی اسکے لیے وہی تھا۔۔۔بیتا وقت جیسا بیتا نہیں تھا بلکہ اسے اندر سے ختم کر گیا تھا۔۔دل درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔۔۔کمرے میں رکھی ہر چیز جیسے اسکا مذاق اڑا رہی تھی کہ وہ پچھلے برسوں سے جس افریت سے بھاگ رہی تھی وہی آج پھر منہ کھولے اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
ایک شخص کی محبت نے اسکے لیے بربادی کے دروازے کھولے تھے اور اس دروازہ سے باہر دھکا دینے والے ہاتھ وقاص کے تھے۔۔۔وہ کیسے بھول جاتی وہ تکلیف جسے اس نے برسوں برداشت کیا تھا۔۔۔اور مدواہ کرنے والے نے تو آج تک بات کو دہرایا ہی نہیں تھا..یہ بات اسے تڑپاتی تھی اسکی بے نیازی ہر بار اسے شک پہنچاتی تھی مگر اسکا گزرے وقت کو یاد نا کرنا ایک طرح سے اسکے لیے اچھا کہ وہ ماضی میں کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔مگر آج اپنی گھر کی دہلیز پر کھڑے وقاص نے برسوں سے دبے زخموں کو چھڑ دیا تھا جن پر بمشکل کھرنڈ آ سکا تھا۔۔۔۔
دل کا زخم پھر سے تازہ ہو گیا تھا۔۔۔تبھی آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔اس سے پہلے وہ مزید بکھرتی دروازہ کھلا اور عصرہ بیگم اور رانیہ اندر داخل ہوئیں۔۔۔انھوں آتے ہی غم سے بے حال ہوتی نیناں کو گلے لگا لیا۔۔اور وہ جو ضبط کی آخری حد پہ تھی بکھرتی چلی گئیں۔۔برسوں سے دبے غم درد اور اذیت کو جیسے رہائی مل گئی تھی۔۔تڑپ تڑپ کر روتی وہ عصرہ بیگم کے ساتھ رانیہ کی آنکھیں بھی نم کر گئی۔۔۔۔اسکی کمر سہلاتے ان کے پاس لفظ نہیں تھے کہ وہ اسے تسلی دے پاتیں۔۔اور تسلی سے کہاں وہ ناسور بھرنا تھا جو برسوں سے اسکے سینے میں سانسیں روک رہا تھا۔۔۔
” بس چپ زری!!…”
بدوقت بولتے انھوں نے جیسے اسے تسلی دی مگر اس نے کہاں سنبھلنا تھا۔۔مزید بکھرتے وہ ہوش گنواتی انکی بانہوں میں گرتی چلی گئی۔۔۔بند ہوتی پلکوں تلے اسنے عصرہ اور رانیہ کو چیختے دیکھا تھا۔۔۔مگر وہ ستمگر کہیں نہیں تھا جو اس سب کی وجہ تھا۔۔۔دل میں ایک ہوک سی اٹھی اور وہ دنیا مافیہا سے بے خبر ہو گئی۔۔۔
” زری بھابھی!!!!۔۔۔۔۔”
رانیہ کے لبوں سے اسکا نام چیخ کی صورت نکلا۔۔بمشکل اسے سنبھالتے وہ اسے گرنے سے بچا گئی تھی۔۔۔۔۔
آج اسکے کزن کی شادی تھی اور جانتی تھی اسکی شمولیت ناگریز تھی۔۔۔وہ گیدرنگز میں جانا کب کا چھوڑ چکی تھی لیکن اب صارم کی شادی ایک ایسی جگہ تھی جہاں سے بھاگنا ناممکن تھا۔۔۔ مجبوراً وہ فیمیلی کی ساتھ جا کے خریداری کر آئی تھی جو کسی شادی کے فنکشنز کے لحاظ سے قطعی مناسب نا تھی۔۔۔ مگر اب اسکے گھر والے اسکے معاملات میں بولنا چھوڑ چکے تھے۔۔۔۔
چھے سالوں میں اس نے اپنا بی اے کمپلیٹ کر لیا تھا اور مزید پڑھائی کو خیر آباد کہتے وہ گھر کی ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔بہت کم باہر نکلتی تھی ہر وقت وہ اپنے کمرے میں کتابوں میں گم رہتی ۔۔اسکی ایسی حالت نے گھر والوں کو پریشان ضرور کیا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ عادی ہوتے گئے۔۔گزرے سالوں میں اسکے لیے بہت سے رشتے آئے تھے لیکن وہ ہر بار نا کر دیتی ۔۔۔اور وجہ سے اسکے سوا کوئی واقف نا تھا۔۔۔دل کا درد آج بھی ویسا ہی تھا۔۔۔اسے خود سے دور جانے کا کہہ تو دیا تھا لیکن اسکا دور جانا اسے اندر سے توڑ گیا تھا۔۔۔
محبت نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔۔۔چھے سالوں
جن بارہا اسے نے کوشش کی وہ اس سے رابطہ کر سکے مگر ہر بار ہمت جواب دے جاتی۔۔۔ وہ امریکہ میں تھا اور یہ بات وہ بخوبی جانتی تھی۔۔۔تبھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے وہ اس سے رابطہ کر گئی مگر وہ شائد بہت نالاں تھا جو اس کی کسی بات کو سننا نہیں چاہتا تھا تبھی اسکی کالز,مسجیز کو اگنور کر دیا کرتا۔۔۔اور حبا اپنے تڑپتے دل کو سنبھالتی اسکے لوٹ آنے کی منتظر تھی جو ایسا روٹھا تھا کہ منانے میں نہیں آرہا تھا۔۔۔۔۔
آج مہندی تھی جس کے لیے اسنے ڈل گولڈ کا ایک فراک لیا تھا۔۔فراک کی لمبائی ٹخنوں تک تھی۔۔چوڑی دار پاجامہ اور ساتھ شیفون کا دوپٹہ سوٹ کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہا تھا۔۔۔۔ہلکے میک اپ اور کھلے بالوں میں وہ بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی۔۔کانوں میں دمکتے سلور جھمکے ایک الگ ہی منظر پیش کر رہے تھے۔۔۔۔
آئینے میں اپنے عکس کو ایک نظر دیکھتے وہ پائوں میں سینڈل پہنتی باہر نکل گئی۔۔جہاں گھر والے اپنی تیاریوں میں مشغول تھے۔۔۔
جہاز سے نکلتے اسنے ایک گہری سانس اس فضا میں لی جہاں اسکی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزرا تھا۔۔۔اود جس فضا سے وہ برسوں سے دور تھا۔۔۔وجہ؟؟؟ صرف ایک دشمن جاں کا کہا۔۔ جسے وہ کبھی نہیں ٹال سکا تھا۔۔۔ صرف اسکا کہا مان کے اس نے بہت سے لوگوں کے ساتھ زیادتی کی تھی۔۔اور اس سب میں اگر کسی کے ساتھ وہ بے انتہا زیادتی کا مرتکب ہوا تھا تو وہ اسکا یار تھا جس کے بنا وہ سانس نہیں لے پاتا تھا ۔۔۔۔مگر اب اسکے بنا وہ پورے چھے سال گزار آیا تھا۔۔۔
بیتے وقت میں اگر اس کی یاد آئی بھی تھی تو وہ نظر انداز کر گیا تھا مگر آج جب وہ اس فضا میں سانس لے رہا تھا جہاں وہ کمیںنہ بھی سانس لے رہا تھا تو اب اسکی یاد اسے تڑپا رہی تھی۔۔۔ آنکھیں بے چینی سے سامنے خلا میں دیکھ رہی تھیں۔۔۔گہری سانس لیتے وہ سن گلاسز آنکھوں پر لگاتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
دل کا درد آج بھی ویسا ہی تھا جیسا برسوں پہلے تھا۔۔۔مگر اپنے دل کو پائوں تلے رکھنا اسے خوب آتا تھا تبھی سپاٹ چہرہ لیے وہ آگے بڑھتا چلا گیا۔۔چال میں الگ ہی بے نیازی تھی۔۔گئے وقت نے اسے مزید نکھارا تھا۔۔۔۔ اب اسکی منزل وہ دو لوگ تھے جو اسکی چلتی سانسوں کی وجہ تھے۔۔بہت ہو گیا ہجر اب وقت ملاقات کا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا اسے کہاں جانا ہے۔۔۔۔
کمرہ میں ہر سو اندھیرا تھا سوائے راکنگ چئیر کے جہاں سائیڈ لیمپ کی روشنی روشن تھی۔۔۔۔وہ دھیرے سے چئیر پر جھولتا لایعنی سوچوں میں گم تھا۔۔۔تانے بانے صرف ایک زات سے ملتے جس سے وہ بے خبر نہیں تھا۔۔۔۔بیتے وقت میں وہ ہر طرف سے اسکے گرد موجود تھا۔۔۔۔۔
اب بھی ہاتھ میں پکڑے سیل فون کی سکرین روشن تھی اور وہاں مسکراتا چہرہ اسکے لیے انجان نہیں تھا۔۔۔۔۔وہ غالباً کسی شادی کی تصویر تھی جہاں وہ ہلکے پھلکے میک اپ میں ڈال گولڈ کا ٹخنوں کو چھوتا فراک زیب تن کیے حوروں کو مات دے رہی تھی۔۔۔ہوا کے دوش پر لہراتے اسکے گولڈن برائون بال اسے ہمیشہ مبہوت کر دیتے تھے اب بھی وہ مدہوش سا اسے دیکھے جا رہا تھا۔۔۔جس کے لمس سے وہ کئی سالوں سے دور تھا۔۔۔۔۔
” کون کہتا ہے کہ محبت ہو جانے کے بعد نفرت ہو سکتی ہے۔۔۔۔؟؟؟؟ مجھے تو لگتا ہے محبت ہو جانے کے بعد مزید صرف محبت ہی ہو جاتی ہے نفرت نہیں۔۔۔۔۔۔یہ تو ایک خول ہے جو ہم خود پر چڑھاتے ہیں ورنہ اندر تو وہی محبت سانس لیتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
انگلی سے اسکے ایک ایک نقش کو چھوتے وہ سرگوشی سے بولتا چلا گیا۔۔۔۔ آنکھوں میں زمانوں کی تھکن نمایاں تھی۔۔۔۔نظریں اسکے باہر مسکراتے لبوں پر مرکوز تھیں لیکن وہ جانتا تھا کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنا درد چھپا تھا۔۔۔۔۔۔۔
تھکن سے دکھتی آنکھوں کو دھیرے سے میچتے وہ سر پیچھے کرسی پر ٹکا گیا۔۔۔بند آنکھوں میں بھی وہی شبیہ تھی جو اسکے موبائل کی سکرین پر چمک رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔دل ایک اٹل فیصلہ لیتا اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔وہ جانتا تھا اب اسے کیا کرنا ہے۔۔۔
پورے فنکشن میں وہ بہت بے چین رہی تھی وجہ عاصم کی لو دیتی نظریں تھی۔۔وہ اسکا خالہ زاد تھا اور بچپن ان لوگوں نے ساتھ مل کر گزارا تھا۔۔۔ مگر اب اس سے بات کرتے وہ محتاط ہو گئی تھی جانتی تھی وہ اسکے لیے جذبات رکھتا ہے اور یہ چیز حبا کے لیے بہت خوشگوار نہیں تھی۔۔۔
اب بھی وہ اسے بوفے کے پاس روک چکا تھا۔۔۔ذومعنی باتوں نے اسکا ننھا دل سہما دیا تھا۔۔تبھی تو مشکل سے جان چھڑاتے وہ سرعت سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔جبکہ یہ منظر دیکھتی کسی کی آنکھوں میں انگارے دہک رہے تھے۔۔۔جبڑے کس کر ایک نظر عاصم کو دیکھتے وہ آہستگی سے وہاں سے ہٹ گیا۔۔۔۔
ہال کے کاریڈور میں چلتے اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے پیچھے کوئی ہے۔۔۔۔یہ سوچ آتے ہی اسکے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔۔۔۔۔تیز تیز قدم اٹھاتے وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی مگر اس سے پہلے وہ کاریڈور مڑتی پیچھے سے کوئی اسے اپنی گرفت میں لیتا کارنر پر موجود کمرے میں گھس گیا۔۔۔۔۔۔۔
ایسی آفتاد پر اسکی دھڑکنیں تک تھم سی گئیں تھیں۔۔۔وہ موم کا مجسمہ بنی مقابل کی بانہوں میں ساکت تھی جو اسکی پشت پر موجود تھا۔۔اور جس کی تیز سانسیں وہ اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
تیز گرم سانسیں اسکے رونگٹے کھڑے کر رہیں تھیں۔۔۔۔ایسی صورتحال کا اسنے کب سوچا تھا۔۔۔تبھی وہ مزاحمت کی ہمت بھی نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔۔بس سانس روکے اسکے حصار میں قید کھڑی تھی جو شاید اسکی خوشبو محسوس کرتا بےخود ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
” آئیندہ میں تمہیں اس کمینے انسان کے ساتھ نا دیکھوں۔۔۔۔ سمجھی۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟”
اسکی کان کے قریب دہکتی سرگوشی اسے پور پور لرزا گئی تھی۔۔۔۔۔ آواز مار ڈالنے کی حد تک بھاری اور گھمبیر تھی۔۔۔۔۔اور اس میں موجود تنبیہ اسے سن کر گئی تھی۔۔۔۔۔۔
” میں امید کروں گا کہ تم مجھے مزید زحمت نہیں دو گی۔۔۔۔۔”
اسکے گرد اپنی گرفت مزید سخت کرتا وہ سفاکی سے بولا تو وہ خوف کی شدت سے کانپتی سر اثبات میں ہلا گئی۔۔ آنکھیں الگ سمندر بہا رہیں تھیں اور لب کپکپاہٹ کا شکار تھے۔۔۔۔اسکی ایسی اطاعت مقابل کے لبوں پر مسکراہٹ لے آئی تھی۔۔۔۔۔۔
” ہممم گڈ گرل!!!!…….”
اسکی کان کی لو دھیرے سے چھوتے وہ مڑ کر سرعت سے باہر نکل گیا۔۔۔پیچھے وہ مقابل کی جرآت پر سر سے پائوں تک لرزتی بیٹھتی چلی گئی۔۔۔۔ کتنے ہی آنسو بے مول ہوتے اسکی آنکھوں سے بہتے چلے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” حیدر۔۔۔”
لبوں نے بے آواز جنبش کی تھی۔۔وہ اس شخص کو کیسے نا پہچانتی جو رگ جاں سے بھی قریب تھا۔۔۔۔ آنکھیں تواتر سے بہتی چلی گئیں۔۔۔اور دل اپنے دھڑکنیں تیز کر گیا۔۔۔۔
یہ پرل کانٹیننٹل ہوٹل تھا جہاں اسکی ایک میٹنگ تھی۔۔ایسی آئوٹ ڈور میٹنگز وہ اٹینڈ نہیں کرتا تھا مگر آج رجب صاحب کی طبیعت ناسازی اسے یہاں کے آئی تھی۔۔۔۔
سیاہ ٹو پیس میں ڈارک بلیو جاگرز پہنے وہ دلکشی کی حدوں کو چھو رہا تھا۔۔۔۔مگر سیاہ آنکھوں میں چھائی بے نیازی ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی۔۔۔۔
لفٹ سے نکلتے وہ اپنی گود میں رکھے ٹیب پر میٹنگز کی ڈیٹیل دیکھ رہا تھا جب دل بے طرح سے دھڑکتا اسے ساکت کر گیا۔۔۔۔سرعت سے سر اٹھاتے اسنے سامنے دیکھا تو لگا وہ اگلی سانس نہیں لے پائے گا۔۔۔۔سیاہ آنکھیں ساکت و جامد سامنے کھڑے شخص پر جمی تھیں جو اسے یوں وہیل چئیر پر بیٹھے دیکھ اپنی ہستی سمیت کھڑے قد سے گرا تھا۔۔۔۔
کہاں سوچا تھا ایسا سامنا اور ایسی حالت میں سامنا؟؟….دل تھے پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو مچل رہے تھے۔۔۔۔ٹیب کہاں تھا اور وہ وہاں کیوں آیا تھا وہ سب فراموش کرتا سرعت سے وہیل چئیر کے بٹن دباتا اسکی طرف لپکا جسے گلے لگانے کو وہ پچھلے چھے سال سے تڑپ رہا تھا۔۔۔دل کی دھڑکن حد سے سوا تھی۔۔اور سیاہ ہراساں نظریں ایسے اس چہرے پر جمی تھیں جو چھے سالوں سے اسکی نظروں سے اوجھل تھا۔۔۔۔جیسے وہ نظریں ہٹائے گا اور وہ سامنے سے غائب ہو جائے گا۔۔۔گلے میں آنسوئوں کا پھندا سا اٹکتا اسکی سانسیں روک رہا تھا۔۔۔
جبکہ اسے یوں اپنی طرف آتا دیکھ ناجانے کیا ہوا تھا کہ حیدر نواز کے قدموں نے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔۔۔اور اسے یوں واپسی کے لیے مڑتے دیکھ ذوالنون اسامہ کی جان لبوں پر آئی تھی۔۔۔
” حیدر!!!!!۔۔۔۔۔”
تڑپ کر پکارتے وہ اس سے پہلے اس تک پہنچتا وہ سرعت سے سیڑھیاں پھلانگتا نظروں سے اوجھل ہو گیا۔۔۔اور پیچھے وہ اپنی کمزوری سمیت اس راہ کو تکتا رہ گیا جہاں سے وہ گیا تھا۔۔بے بسی تھی کہ حد سے سوا تھی اپنی کمزوری کبھی اسے بری نہیں لگی تھی جتنی آج لگ رہی تھی۔۔۔۔دل برسوں سے بچھڑے یار کو گلے لگانے کے لیے ترس رہا تھا مگر وہ آج اسکی جگہ اپنائے اسے تنہا چھوڑ گیا۔۔۔دل کا درد شدت پکڑتا اسکی سیاہ آنکھوں کو نم کر گیا۔۔۔۔
باہر پھیلی مدھم روشنی میں سفید برف چمک رہی تھی۔۔گھر کے باہر لگے پول کی روشنی اتنی تو ضرور تھی کی وہ سامنے بنے گھروں کو دیکھ سکتی تھی۔۔جہاں کھڑکیوں سے جھانکتی روشنی میں اندر زندگیاں سانس لے رہیں تھے۔۔اس پورے ایریے میں ان کا گھر ایسا تھا جہاں روشنی کم تھی۔۔وجہ وہ خود تھی کیونکہ اسے روشنی سے وخشت ہوتی تھی۔۔۔اور اسامہ کی غیر موجودگی میں وہ آرام سے سارے گھر کی لائٹس آف کر کے لیونگ ایریا کی کھڑکی میں آ کے بیٹھ جاتی جہاں سے وہ ہر طرف دیکھ سکتی تھی۔۔نہیں دیکھنا چاہتی تھی تو اپنے اندر پھیلے اندھیرے کو یا پھر اسامہ کی سیاہ آنکھوں میں جہاں اسکی محبت سانس لیتی تھی۔۔۔۔۔۔
بارہا اسکے سامنے خود کو ہارتا محسوس کیا تھا مگر مجال ہے جو اس نے خود پر سے یہ خول اترنے دیا ہو۔۔۔یہاں آئے انھیں دو ماہ ہو چکے تھے اور ان دو ماہ میں وہ بہت کم باہر گئے تھے۔۔وہ ہمہ وقت اسکی دل جوئی میں مگن رہتا تھا مگر زری کے گرد جو فصیلیں کھڑی تھیں انھیں نا پاٹ سکا۔۔۔اور اب تو وہ پتا نہیں کہاں بزی رہتا تھا جو لیٹ گھر آتا تھا۔۔۔وہ جو یہ ظاہر کرتی تھی کہ اسے پرواہ نہیں مگر اس انجان شہر میں اسکا یوں اسے اکیلے چھوڑ جانا اسے کھلنے لگا تھا۔۔۔۔۔
وہ اتنا بے حس نہیں تھا جو اسے یوں اکیلا چھوڑ دیتا باہر مین ڈور پر ایک گارڈ موجود تھا۔۔لیکن اسکی یہ فکرمندی بھی اسکے دل کو موم نہیں بنا سکی۔۔۔مگر کل سے وہ خود میں ایک گھٹن محسوس کر رہی تھی۔۔حبس اتنا تھا کہ وہ خود کو ہلکان کیے جا رہی تھی مگر دل تھا کہ سنبھل ہی نا رہا تھا۔۔۔اسکی ایسی بے اعتنائی اسے تڑپا رہی تھی۔۔۔۔
اس وقت وہاں شام کے 6 بج رہے تھے مگر برفباری کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا جیسے گہری رات اتر آئی ہو۔۔۔نیوی بلیو گرم سوٹ میں وہ کندھوں پر شال ڈالے فلور کشن پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔سیاہ بال کندھوں پر بکھرے ہوئے تھے ہیٹر آن ہونے کی وجہ سے اتنی سردی معلوم نہیں ہو رہی تھی۔۔مگر سامنے کھڑکی سے آتی ٹھندی یخ ہوا نے اسکی ناک سرخ کر ڈالی تھی۔۔۔بھوری آنکھوں میں زمانے کی تھکن نمایاں تھی۔۔۔عنابی لب سردی سے مزید سرخ ہو گئے تھے۔۔وہ خوبصورت نہیں تھی مگر پر کشش تھی۔۔اور ذوالنون اسامہ کے لیے تو وہ کسی حور سے کم نہیں تھی۔۔۔۔
وہ بامقصد اسے یوں ہی دیکھتا رہتا تھا۔۔اور نفرت ہونے کے باوجود وہ اسکی گہری نظروں سے گھبرا جایا کرتی تھی۔۔۔۔
نامحسوس سی خوشبو ناک کے نتھنوں سے ٹکرائی تو وہ گہرا سانس لیتی پلکیں موند گئی۔۔۔جبکہ پیچھے سے وہ ٹکٹکی باندھے اس میں کھویا ہوا تھا ۔۔ کھڑکی سے آتی مدھم روشنی میں وہ ماراوئی مخلوق معلوم ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ جو ابھی اندر آیا تھا اسے یوں دنیا مافیہا سے بے خبر دیکھ کر کھو سا گیا تھا۔۔۔۔ دو ماہ میں وہ بلکل اجنبی بن گئے تھے۔۔۔اور اس بات کا احساس اسے بھی تھا۔۔۔۔سیاہ آنکھوں میں تکلیف سی ابھری تبھی وہ گہری سانس لیتا رخ پھیر گیا۔۔۔۔
” نیناں۔۔۔”
مدھم آواز میں اسے مخاطب کرتے وہ اپنی وہیل چئیر چلاتا سامنے صوفے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔جبکی اسکی پکار کے مطلب کو سمجھتی وہ دھیرے سے اٹھ گئی اور سویچ بورڈ پر ہاتھ مارتے لائٹس آن کر دیں۔۔۔روشنی ہوتے ہی اسکی نگاہ سامنے اٹھی جہاں وہ سیاہ ٹو پیس میں رؤف سا لگ رہا تھا بال بکھرے ہوئے تھے اور سینے کے دو بٹن بھی کھلے تھے جہاں سے وہ ٹیٹو جھانکتا اسے پلکیں جھکانے پر مجبور کر گیا۔۔۔
دل عجیب سے احساس تلے دھڑکتا اسے لرزا رہا تھا۔۔۔پلکیں بار بار نم ہو رہی تھی۔۔جبھی اسے سیگریٹ سلگاتے دیکھ وہ خود سلگ گئی۔۔۔۔۔۔
” انسان میں کوئی لحاظ ہوتا ہے۔۔۔ آپکو زرا سا بھی اندازہ ہے کہ میں یہاں اکیلی کیسے رہتی ہوں؟؟…اس سے اچھی تو میں پاکستان تھی وہاں کم ازکم آپکی امی اور رانیہ تو تھے نا۔۔۔۔۔یہاں تو مجھے اپنے جیسے ہاتھ پائوں کاٹ کر ایک کونے میں پھینک دیا جہاں نا میں کسی سے بات کر سکتی ہوں نا کچھ اور۔۔۔۔احساس نام کی کوئی چیز ہوتی ہے ذوالنون اسامہ!….”
وہ جو اس انتظار میں تھا کہ لائٹس جلا کر وہ اپنے کمرے میں بند ہو جائے گی اسے یوں اپنے سامنے ڈٹتے دیکھ چونک گیا۔۔۔۔اسکا سرخ چہرہ بھیگی بھوری آنکھیں اسامہ کو ساکت کر گئیں۔۔۔اسے یوں اوٹ آف کنٹرول ہوتے دیکھ وہ لب بھینچ گیا۔۔۔جبکہ وہ اسے یوں خاموش پا کر تن فن کرتی اسکے مقابل آ گئی۔۔۔
” آپکی سو کالڈ محبت بس اتنی تھی کہ مجھے اپنے زندگی میں لے آتے ہی وہ ہوا ہو گئی۔؟؟۔۔جو اب مجھے یوں یہاں لاوارثوں کی طرح پھینک کر آپ باہر خود غائب ہو جاتے ہیں۔۔۔”
اسکی خاموشی پر وہ بپھر کر کہتی اسے آگ لگا گئی۔۔۔وہ سختی سے پلکیں موند کر گہرا سانس لیتا وہیل چئیر کا رخ موڑ گیا۔۔وہ اس وقت بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔اور نا ہی وضاحت دینا اسکی سرشت میں تھا۔۔تبھی اسے نظر انداز کرتا اس سے پہلے آگے بڑھتا وہ غم و غصّے سے پاگل ہوتی تیزی سے اسکے سامنے آئی۔۔۔جس پر اسنے خاموش مگر تنبیہی نظروں سے اسے دیکھا مگر اثر کسے تھا۔۔۔۔
” یا یہ بے اعتنائی اس لیے ہے کہ آپ مجھے حاصل نہیں کر سکے ابھی تک… جو آپکی اپنی کمزوری ہے ذوالنون اسامہ!!!۔۔..”
غصے سے پاگل ہوتے اسنے جن لفظوں کا استعمال کیا تھا وہ ذوالنون کے لیے ناقابل برداشت تھے۔۔وہ لفظ برداشت کر بھی جاتا مگر اسکی نظروں کو اپنی مفلوج ٹانگوں پر پھسلتے دیکھ وہ غصے کی شدت سے پاگل ہوتا سرعت سے ٹیک چھوڑتا اپنے پیروں پر کھڑا ہوتا اسے کندھوں سے تھام کر نزدیک کر گیا۔۔۔۔
“لفظ وہی کہو جن کا انجام تم برداشت کر سکو جان!!!… تمہیں بتایا تھا نا کہ ذوالنون جبیل کی محبت ان پہیوں کی محتاج نہیں ہے مسز۔۔۔اور یہ پہیے کبھی بھی ذوالنون اسامہ کی کمزوری نہیں رہے۔۔۔اور نا ہی تم کبھی میری دسترس سے باہر رہی ہو۔۔اگر فاصلے ابھی بھی ہیں تو وجہ میری مرضی ہے ورنہ تمہیں حاصل کرنا میرے لیے کبھی بھی مشکل نہیں رہا زرنین جبیل۔۔۔۔۔۔”
اسکے سامنے اپنے پورے قد سے کھڑے ہوتے وہ اسکی آنکھوں میں اپنے سیاہ کانچ گاڑتا اسے روح تک لرزا گیا۔۔۔۔۔لہجہ جنون کی دہکتی آگ سے سلگ رہا تھا۔۔۔اور آنکھوں میں غضب کی سرخیاں تھیں جنھوں نے اسے ساکت کر دیا۔۔۔۔۔
سیاہ ٹو پیس پہنے وہ اپنی پوری وجاہت سے اسکے سامنے اپنے قد سے کھڑا اسکی دھڑکنوں کو روک گیا تھا۔۔۔کندھوں پر جمی اسکی بے رحم گرفت الگ تڑپا رہی تھی۔۔۔۔بے یقین نظروں سے اسے خود پر سایہ بنا دیکھتے زری کا رواں رواں کانپ اٹھا۔۔۔۔۔۔اور دل کی دھڑکن حد سے سوا تھی۔۔۔۔۔۔۔ریڑھ کی ہڈی اسکے لہجے سے ٹپکتے جنون سے خائف ہوتی سنسنا اٹھی تھی۔۔۔