Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima NovelM80070 Mein Kese Kaho (Episode - 24)
Mein Kese Kaho (Episode - 24)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima
سچ میں میں بہت خوش ہوں تم دونوں کیلٸے۔۔ناٸلہ آفندی نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
میں بھی بہتتتتتت خوش ہوں،،پری زیب نے اٹھلا کر کہا۔
ہمیشہ خوش رہو میرے بچو“پتا ہے جب ناٸلہ ماں بننے والی ہوٸی میرے تصور میں ناٸلہ جیسی کیوٹ سی بیٹی آتی تھی۔مگر جب زین ہوا خوش تو تھا مگر دل میں ہمیشہ بیٹی کی خواہش رہی۔وہ اب خدا نے پری جیسی بہو دیکر میری بیٹی کی خواہش بھی پوری کردی۔۔زبیر آفندی نے نم لہجے میں کہا۔۔
ناٸلہ آفندی کی آنکھوں میں کرب سا اتر آیا۔۔پھر وہ اپنے چہرے پہ بشاشت لاتے ہوۓ زین کیطرف متوجہ ہوٸی۔
زین میری جان،اب بتاٸیے کدھر جانا ہے آپ دونوں کو ہنی مون کیلٸے۔۔ناٸلہ آفندی نےپوچھا۔۔
مام میں بتاٶں۔۔۔پری زیب نے جلدی سے پوچھا۔۔
جی میری جان ضروز۔۔۔
مام میں لندن،پیرس نہیں جانا چاہتی مجھے اپنے آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی نیلم کو دیکھنا ہے۔وہ چمکتی آنکھوں سے بولی۔۔
واٶ یہ بہت اچھا آٸیڈیا ہے۔
ہم پھر اسکے بعد وادی نلتر میں جاٸیں گے۔۔پتا ہے وہ بھی اس قدر پرفسوں وادی ہے کہ اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔وہاں کا جنگل بھی بہت خوبصورت ہے۔زین نے مسکرا کر کہا۔۔
نہیں میں نہیں جانا کسی جنگل ونگل میں۔پری زیب نے چڑ کر جواب دیا۔۔
زین کے چہرے پہ مسکراہٹ آگٸی۔۔
ہاں ویسے۔۔پھر سے کوٸی ڈاکو مل گٸے تو انہیں تم پسند آگٸی تو میں کیا کرونگا۔۔۔
شٹ اپ۔وہ تپ کر بولی۔
ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی مسکرا دٸیے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب تو وادی نیلم میں آکر پاگل ہو گٸی تھی۔۔
اونچے اونچے پہاڑ“پربت۔جھیلیں دیکھ دیکھ کر وہ ایکساٸٹمنٹ میں چیخیں مارتی۔۔
زین اسکی ایکساٸٹمنٹ پہ خوش تھا۔۔
پھر وہ ایک ریزورٹ میں آ گٸے۔پھر وہ پورے ریزورٹ کو گھوم پھر کر دیکھ رہے تھے کہ ایک جگہ پہ انہیں ہجوم دیکھاٸی دیا۔
وہ دونوں اس طرف آۓ تو وہی مری والے بزرگ وہاں بیٹھے لوگوں کو کچھ قصے سنا رہے تھے۔۔
زین اور پری زیب بھی زرا فاصلے پہ بیٹھ گٸے۔۔
ابو بکر پٹھان صدقات کے بارے میں بتا رہے تھے۔
ایک لڑکا کھڑا ہو گیا سوال کرنے کیلٸے تو وہ اسکی طرف دیکھنے لگے۔۔
ڈاکٹر ابو بکر کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ہم سے اگر کوٸی مانگنے آۓ تو وہ جھوٹ بول کر مانگے کہ اسکی ماں یا بہن بیمار ہے تو کیا اس پہ اعتبارکرنا چاہیے۔۔
ابوبکر پٹھان اسکی بات پہ سر ہلا کرسراہنے لگے کہ اچھا سوال پوچھا۔۔۔
بیٹے ہم نہیں جانتے کہ اس نے سچ بولا کہ جھوٹ اب اگر نہ دیں تو وہ سچ بول رہا ہوا تو کیا آپکےسر بدگمانی کا گناہ نہیں ہوگا۔
اور خیر اگر وہ جھوٹا بھی ہوا آپ نے پھر بھی مدد کی تو اللہ کو دینے والا ہاتھ بہت پسند۔تو اللہ کی رضا حاصل ہو گی اور پھر سب سے بڑھ کر صدقہ بلاٶں کو ٹالتا ہے سواۓ موت کے۔ابو بکر پٹھان نے پرفسوں لہجے میں جواب دیا۔
پری زیب نے ستاٸشی نظروں سے انہیں دیکھا مگر زین کا چہرہ سپاٹ تھا۔۔
چلو اٹھو ہم صدقہ دینے چلیں۔۔پری زیب نےکہا۔۔
کیا پاگل ہو گٸی ہو کیا؟ زین نے آنکھیں پھلا کر پوچھا۔
لو اس میں پاگل ہونے والی کیا بات ہے۔پری زیب جھلا کر بولی۔۔
اچھا صبح دے دینگے۔۔زین نے کہا۔۔
ٹھیک ہے مگر تم نکال کے ابھی رکھ دوصدقے کی نیت سے۔۔
اوکے میری بیوٹی کوٸین۔۔زین نے اسکی ناک دبا کر کہا۔۔
پھر وہ کچھ دیر ابوبکر پٹھان کے پاس بیٹھے۔اور پھر اپنے روم میں چلے آۓ۔۔
پری زیب کمبل اوڑھ کر آنکھیں بند کر کے لیٹی تھی زین نیم دراز سا ایک بازو رخسار کے نیچے رکھ کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔
کیا ہے تمہیں،کب سے گھور رہے ہو۔۔۔وہ تپ کر بولی۔۔
زین نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا۔۔
میری ہو تو میری مرضی جتنا مرضی گھوروں۔زین بولا۔
زین مجھے چھوڑوں۔۔۔۔
شششششششش۔۔کچھ مت بولوں آج صرف مجھے سنوں۔۔
زین نے اسکے لبوں پہ انگی رکھ کر کہا۔۔
پھر اس نےہولے سے اسکے کان کی لو کو لبوں سے چھوا۔
یہ زلف اگر کھل کے بکھر جائے تو اچھا
اس رات کی تقدیر سنور جائے تو اچھا
جس طرح سے تھوڑی سی ترے ساتھ کٹی ہے
باقی بھی اسی طرح گزر جائے تو اچھا
دنیا کی نگاہوں میں بھلا کیا ہے برا کیا
یہ بوجھ اگر دل سے اتر جائے تو اچھا
ویسے تو تمہیں نے مجھے برباد کیا ہے
الزام کسی اور کے سر جائے تو اچھا ۔۔۔
(ساحر لدھیانوی)
وہ اسکے کان میں گنگنانے لگا۔پری زیب اسکے حصار میں سمٹ گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیضان کب سے لونگ روم میں ادھرسے ادھر ٹہل رہا تھا۔۔
واسق انکا جلدی پتا کرواٶ۔کدھر گٸےہیں وہ لوگ۔ہو سکے تو مافیا تک بات پہنچا دوو۔انکو بتاٶ کہ زین آفندی بہت بڑے بزنس مین کا بیٹا ہے۔بلینرز کا مالک ہے۔۔وہ یہ بات سن کر پاگلوں کیطرح پیچھے لگیں گے اسکے تو ہم زین تک پہنچ سکیں گے۔۔اسکی ماں نے بہت چھپا کر بھیجا ہے گھر کے نوکروں کو بھی پتا نہیں۔۔فیضان سرخ آنکھوں سے بولا۔۔۔
واسق سرہلا کر باہر نکل گیا۔۔
تم دونوں کا جینا حرام کر دونگا۔فیضان نے غرا کر کہا۔۔
اورپھر لاٶنج میں رکھی ہر چیز اٹھا اٹھا کر زمین پہ پٹخنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثانیہ ایک کلب میں بیٹھی طاٸرانہ نگاہ سے ارد گرد دیکھ رہی تھی اور پھر اکتا کر اس نے سگریٹ سلگاٸی۔۔
اسکے سرخ لپ اسٹک سے رنگین ہونٹوں تلے سگریٹ سب کو اسکی طرف متوجہ کر رہا تھا۔مگر وہ ہر ایک سے لاپرواہ بیٹھی تھی۔وہ آج ایک ڈیل کیلٸے آٸی تھی۔۔
کچھ دیر بعد ایک شخص اندر داخل ہوا۔اور چلتا ہوا اسکے ٹیبل پہ پہنچا۔
ہاۓ ثانی۔۔وہ ہاتھ بڑھاتے ہوۓ بولا۔۔
سوری میں مردوں سے ہاتھ نہیں ملاتی۔۔وہ ناگواری سے بولی۔۔
ہاہاہاہا“ثانی ویسے بڑی عجیب ہو تم اور تم ہمیشہ میک اپ میں ہی رہتی ہو تمہاری اصل شکل کوٸی بھی نہیں جانتا۔کبھی ہمیں دیدار کروا دو۔۔وہ شخص دانت نکال کر ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔
جس دن میرا اصلی چہرہ دیکھ لو گے تم تو اگلے دن تمہاری لاش شہر کے بیچوں بیچ لٹکی ہو گی۔۔
تیری تو۔۔۔اسکا گارڈ تیزی سے آگے بڑھا مگر چیختا ہوا وہ الٹ کر دیکھا اوراسکےکندھے سے خون نکل رہا تھا۔۔
وہ شخص غصے سے کھڑا ہو گیا۔
بیٹھ جاٶ مراد علی۔ورنہ تم لوگوں کی لاشیں یہاں بکھر جاۓ گی۔۔اور میرے آدمی چاروں طرف پھیلے ہیں۔۔ثانیہ نے سردلہجے میں کہا۔۔۔
مراد علی کھولتے ہوۓ دماغ کیساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
ڈیل بتاٶ۔۔وہ سرد انداز میں بولی۔۔۔
ایک بزنس ٹاٸیکون زبیر آفندی ہے اسکا بیٹا زبردست آسامی ہے۔اسکو اور اسکی بہو کو کڈنیپ کرنا ہے۔
ثانیہ تیزی سے سیدھی ہوکر بیٹھ گٸی۔
کیا نام لیا تم نے۔۔۔؟ وہ آگے ہوکر بولی۔۔۔
زبیر آفندی۔۔۔۔۔۔
ثانیہ نے زور سے آنکھیں میچ کر خودکو ریلیکس کیا۔۔
وہ شخص جب باہر نکلتا اسکے ساتھ گارڈ دیکھےہیں۔ہم کڈنیپ کرینگے تو خون خرابہ ہوگا۔جو کہ میں کرتی نہیں۔۔
نہیں ہوگا خون خرابہ۔مراد علی بولا۔۔
کیوں تمہیں ایسا کیوں لگتا۔۔ثانیہ نے چونک کر پوچھا۔۔
اسکا ایک آدمی صفدر ہے اس کے منہ سے نکلا کہ سر زین اور میم پری آزاد کشمیر گٸے ہیں۔۔
ثانیہ نے زور سے لب بھینچ لٸے۔۔۔
ٹھیک ہے میں کل ہی آزاد کشمیر روانہ ہو جاٶنگی۔۔ثانیہ نے کہااور پھر گلے میں اسکارف ڈال کر نکل گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ثانیہ گھر آکر کپڑے چینج کٸے اور پھر تہہ خانے کی سیڑھیاں اتر کر وہ نیچے چلنے لگی اور ایک دروازے سے نکل کر آگے پھر سیڑھیاں چڑھ کر وہ ایک دوسرے گھر میں پہنچ چکی تھی۔۔۔
پھر وہ اسکے لاٶنج میں داخل ہو کر ایک واٸرلیس فون سے نمبر ملانے لگی۔۔
ہیلو۔۔کوٹھی نمبر فاٸیو زیرو تھری میں ایک کڈنیپر گروپ ہے مراد علی انکا سرغنہ ہے۔۔ثانیہ آواز بدل کر بولی۔
آپ کون بول رہی ہیں۔ابسپکٹر نے پوچھا۔۔
میں کون ہوں اس سے تمہیں مطلب نہیں ہونا چاہیے جو بتایا وہ کرنا تو کرو۔۔ثانیہ نے کہہ کر فون کاٹ دیا۔۔
پھر وہ اسکارف گلے میں لیکراطمینان سے باہر نکل کر سڑک پہ چلنے لگی۔۔
پھر ٹیکسی رکوا کر اس میں بیٹھ کر اڈریس سمجھانے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صفدر ابھی آفندی ولا سے واپس اپنے فلیٹ میں آیا تھا۔۔
اس نے آکرکپڑے چینج کٸے اور پھر چاۓ بنانے کیلٸے چولہے پہ چڑھاٸی ہی تھی کہ ڈوربیل بجی۔۔
وہ آنچ ہلکی کرکے باہر آیااور دروازہ کھولا توباہر کھڑی ثانیہ کو دیکھ کر جھٹکا لگا۔۔
تتتت۔۔تم۔وہ ہکلا کر بولا۔
جججج۔جی۔۔میں۔ثانیہ نے کہا اور پھر اسے پیچھے ہٹا کر تیزی سے اندر آٸی۔۔
بیٹھو نہ۔۔صفدر نے مسکرا کر کہا۔۔
تمہارا باس آزاد کشمیرہے۔۔ثانیہ نے لاٶنج کا جاٸزہ لیتے ہوۓ پوچھا۔
تمہیں کیسے پتا۔۔؟ صفدر نے گڑبڑا کر پوچھا۔۔
آدھی دنیا کو پتا چل گیا ہے۔اور اسے اغوا ٕ کرنے کا پلان بنایا جارہا۔۔
تمہیں کس نے کہا۔اوریہ بات تو میرے میم اور سر کے علاوہ کوٸی نہیں جانتا۔۔صفدر نےکہا۔۔
تو فیضان کےسیکریٹری واسق کو خواب آیا تھا۔۔ثانیہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔
اووووووہ گاڈ۔صفدر نےسر پکڑ کر کہا۔۔
اب اوووہ گاڈ مت کرو اور چلو ہمیں آزاد کشمیر پہنچنا ہے۔۔راولاکورٹ کی فلاٸٹ کرواٶ میم ناٸلہ سے بول کر۔مگر انہیں پریشان مت کرنا یہ سب بتا کر۔۔ثانیہ نے کہا۔۔
صفدر اثبات میں سر ہلا کر باہر نکل گیا۔۔پھر کچھ دیر بعد وہ اندر آیا اور چاۓ بھی ساتھ لےآیا۔۔
بس چاۓ پی کر میں پیکنگ کرتاہوں پھر ہم ایٸرپورٹ کیلٸے نکل رہے ہیں۔تم بھی سامان پیک کر کے ایٸرپورٹ آ جانا۔
اووووہ ہیرو۔مجھے آرڈر مت دو۔اورپیکنگ ویکنگ کیاکرنے تیرے بیاہ میں نہیں جارہے۔۔وہ اسے ٹوکتے ہوۓ بولی۔۔
صفدر لب بھینچ کر رہ گیا۔۔
پھر وہ دونوں کچھ گھنٹوں بعد راولا کورٹ ایٸرپورٹ تھے۔کیونکہ آج زین اور پری ادھر ہوٹل میں ہی ٹھہرے تھے۔۔
پھر وہ جلد ہی زین اور پری کوڈھونڈ چکے تھے۔مگر انکے آس پاس انہیں کچھ آدمی مشکوک دیکھاٸی دٸیے۔۔
صفدر بےچین ہو گیا۔۔
اب کیا کرنا ہے ثانیہ۔وہ لب کاٹتے ہوۓ بولا۔۔
واٹ دا ہیل۔ثانیہ دوربین لگا کر بولی۔
کیا ہوا؟۔۔۔
زین اور پری زیب پہ ایک شخص نشانے تانے کھڑا ہے۔۔ثانیہ نے کہا اور پھر تیزی سے دوڑ لگا دی صفدر بھی گھبرا کر اسکے پیچھے بھاگا۔۔فضا میں دو گولیوں کی آواز گونجی اور ثانیہ زمین پہ گرتی چلی گٸی۔۔صفدر ساکت سا اسے خون میں لت پت دیکھ رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین اور پری زیب آج راولا کورٹ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔
جب وہ ادھر پہنچےتو انکے بہت سے فین آ گٸے اور لڑکیاں تو زین سے چمٹ رہی تھی۔پری زیب کچھ دیر تو برداشت کرتی رہی پھر پیر پٹخ کر وہ وہاں سے نکل آٸی۔
پری میری بات تو سنو۔۔
کوٸی بات نہیں سننی تمہاری مجھے اپنی شکل مت دیکھاٶ۔۔وہ تپی۔۔
ارے کتنا جلتی ہو تم۔۔۔زین نے اسے بانہوں میں بھر کر کہا۔۔
تو نہ جلوں کیا؟ وہ منہ بنا کر بولی۔۔
ضرور جلو۔۔تمہیں پتا جب تم اسطرح حق جماتی ہو تو میری جان نکال لیتی ہو۔وہ اسکےسر سے سر ٹکرا کر بولا۔۔۔
تم بہت بدتمیز ہو زین۔مجھے جلانےکیلٸے سب کرتے ہو۔اگر میں نے کسی لڑکے سے افیٸر چلا لیا تو۔۔۔؟
تو میں جان لے لونگا۔۔زین نے اسکی کلاٸیاں مڑور کر اسکے گدی سے پکڑ کر چہرہ اوپرکرتے ہوۓ کہا۔۔
کس کی ،میری کیا؟ وہ بولی۔۔۔
اپنی جان کون لیتا ہے اس لڑکے کی جان لے لونگا۔وہ اسکی ٹھوڑی پہ لب رکھتے ہوٸے بولا۔۔
اور میں اسکے آگےآ جاٶں گی اسے بچانے کیلٸے۔۔وہ شرارتی انداز میں بولی۔۔
شششششش۔بکواس مت کرو۔۔زین نے لبوں پہ ہاتھ رکھ کرکہا۔۔۔
اور اسی وقت انہیں گولیوں کی گونج سناٸی دی۔۔پری زیب چیخ مارکر زین کے گلے لگ گٸی۔۔زین نے پریشان ہو کرسامنے اکھٹے ہوتے ہجوم کو دیکھا۔۔
پری ادھر کچھ ہوا ہے۔۔۔
پری زیب نے جلدی سے سر اٹھاکر دیکھا اور پھر وہ دونوں تیزی سے اس ہجوم کیطرف بڑھے۔۔
جب وہ ہجوم کو چیڑتے ہوۓ آگے پہنچے تو صفدر ساکت بیٹھا تھا۔۔
صفدر۔۔زین بولا۔۔
ثثث۔ثانیہ۔۔پری زیب ہکلا کر بولی۔
پھر وہ دونوں تیزی سے انکی طرف بڑھے۔۔
صفدر۔۔زین نے اسکے پاس جاکر کہا۔۔
صفدرنے سر اٹھا کر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا۔۔
پھر وہ تیزی سے سیدھا ہوا اور ثانیہ کو گود میں اٹھا کر کھڑا ہوگیا۔۔
سر ہمیں ثانیہ کو ہاسپیٹل لیکر جانا ہے۔۔وہ جلدی سے بولا۔۔
زین سر ہلا کر اپنی گاڑی کیطرف بھاگا۔۔اور پھر وہ سب گاڑی میں ثانیہ کو ڈال کر ہاسپیٹل کا راستہ پوچھ کر ہاسپیٹل روانہ ہوۓ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پچھلے آٹھ گھنٹوں سے وہ تینوں آپریشن تھیٹر کے سامنے کھڑے تھے۔۔صفدر نٕے تو ایک بار بھی بیٹھ کر نہیں دیکھا تھا۔۔وہ آپریشن تھیٹر کے باہر کھڑا بس زیرلب کچھ پڑھے جا رہا تھا۔۔
پھر کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آیا تو زین اور پری تیزی سے اسکی طرف بڑھے۔۔
ڈاکٹر کیسی ہیں ثانیہ جی۔زین نےپوچھا۔۔
شی ازفاٸن۔۔ماشاءاللہ ،،،آپ کی پیشنٹ بہت سٹرونگ ہیں۔دو گولیاں وہ بھی سینے میں لگی۔مگر پھر بھی وہ سرواٸیو کر چکی ماشاءاللہ،،،ڈاکٹر نےکہا۔۔
تو ان تینوں نے سکھ کا سانس لیا۔۔
صفدر تو خوشی کے مارے وہیں سجدہ ریز ہوگیا۔۔
پھر چوبیس گھنٹے بعد ثانیہ نے آنکھ کھولی تو وہ تینوں اسکے پاس کھڑے تھے۔۔
تم سب لوگ ٹھیک ہو۔۔وہ تیزی سے اٹھتے ہوۓ بولی۔۔
لگتا صفدر گولیوں کا اثر دماغ پہ ہو گیا ہے۔۔زین صفدر کے کان میں بولا۔۔
سر پہلے ہی پاگل ہے یہ۔صفدر نےمسکرا کر کہا۔۔
ہاں اور تو اس پاگل کے پیچھے پاگل ہے۔۔زین کی بات پہ صفدر جھینپ گیا۔۔
ثانیہ تمہیں پتا ہے صفدر بھاٸی تو تمہیں خون میں لت پت دیکھ کر حواس ہی کھو بیٹھے تھے۔۔پری زیب نے شرارتی انداز میں کہا۔۔۔۔۔
ثانیہ نے چونک کر دیکھا اور بےچینی سے لب کاٹ کر رخ پھیر گٸی۔۔۔
لیکن ثانیہ تم سے کسی کی کیا دشمنی؟ اور تم دونوں یہاں کیسے۔۔۔؟ زین نے پوچھا۔۔۔
دشمنی میرے سے نہیں آپ سے ہے۔۔ثانیہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
واٹ۔۔۔؟ یہ کیا کہہ رہی ہو تم؟ زین نے کہا۔۔
پھر صفدر اسے سب بتاتا چلا گیا۔۔۔
زین کا چہرہ یہ سب سن کر سرخ ہو گیا۔۔۔۔
میں چھوڑوں گا نہیں فیضان تمہیں۔۔۔زین نے غرا کر کہا۔
کیا مطلب۔۔؟زین اسکی تم سے کیا دشمنی۔۔۔پری زیب نے حیرت سے پوچھا۔۔
اسکی دشمنی یہ ہےکہ وہ تم سے محبت کا دعوےدار ہے اور مجھے ہٹا کر تمہیں پانا چاہتا ہے۔۔زین نے کہا۔۔
وہ تینوں ہکا بکا رہ گٸے۔۔۔۔