Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima NovelM80070 Mein Kese Kaho (Episode - 18)
Mein Kese Kaho (Episode - 18)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima
زین پری۔چلو بچو۔۔ناٸلہ آفندی انکےپاس آکر بولی تو وہ دونوں اپنی اپنی سوچوں سے باہر آۓ۔۔
پھر ناٸلہ آفندی نے انہیں ایک مون سا بنا تھا اس پہ بیٹھا دیا۔۔وہ مون چلنا شروع ہوا تو پری زیب نے جلدی سے زین کا بازو تھام لیا۔۔۔
پھر مون جب اندر ہال میں پہہنچا تو ہر طرف سے ویڈیو اور فوٹو بننے لگی۔۔
پھر جب مون سٹیج کےپاس رکا تو پٹاخے اور انار جلاۓ تو پری اپنے دھیان میں بیٹھی تھی تو اسکا ڈوپٹہ پھسل کر ساٸیڈ پہ ہوا تو انار چلنے سے ڈوپٹے نے فورا آگ پکڑ لی۔زین نے گھبرا کر ہاتھوں سے ہی آگ بجھانے لگا۔۔اور تب تک ویٹر پانی لے آیا اس نے جلدی سے پانی ڈالا۔مگر زین کےہاتھ کافی زیادہ جل گٸے تھے۔۔۔
پری زیب ساکت سی بیٹھی تھی۔۔
پری تم ٹھیک ہو۔۔زین نے جلدی سےاسکے پاس بیٹھ کر اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامتے ہوۓ کہا۔۔
تب تک سب اکھٹے ہو گٸے تھے۔اور ساٸرہ تیزی سے اسکی طرف بڑھی تو پری زیب اسکے گلےلگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔
اسکے اس قدر رونے پہ سب طرف چہ مگوٸیاں شروع ہو گٸی تھی۔اور وہاں موجود زین، فاریہ ،ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی اسکے رونے کی اصل وجہ جانتے تھے۔۔مگر باقی سب کو لگ رہا تھا کہ وہ گھبرا کر رو پڑی ہے۔۔
بس میری جان ،کچھ نہیں ہوا۔۔جمال قریشی نےپاس آکر سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
وہ انکے سینے کیساتھ لگ گٸی۔۔
پھر بمشکل سب نے اسے چپ کروایا۔اورپھر انکا فوٹو شوٹ ہوا۔۔
اور رسم کے مطابق آج پری زیب اور زین کو ادھر سے پری زیب کے میکے جانا تھا۔۔تو وہ ادھر چلےگٸے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب کپڑے چینج کرکے سب کیساتھ بیٹھے زین کیساتھ آکر بیٹھ گٸی۔۔احمر اور احمد کیرم کھیل رہے تھے۔ساٸرہ اور فاریہ کچن میں کافی بنا رہی تھی۔۔
لیجٸے کافی پی لیجٸے جناب۔ساٸرہ نے اندر آکر کہا۔
پری میری جان ادھرآٶ۔۔ساٸرہ نے کہا۔۔تووہ زین کے پاس سے اٹھ کر ساٸرہ کے پاس آکر اسکے ساتھ لپٹ کر بیٹھ گٸی۔
بچے جو بھی آج ہوا اسے بھول جاٶ۔اور تم ہنستی مسکراتی ہی اچھی لگتی ہو۔۔وہ اسکا ماتھا چومتے ہوۓ بولی۔۔
جی بھابھی بس بہت ڈر گٸی تھی۔وہ دھیمے سے لہجے میں بولی۔۔
پھر وہ دونوں کتنی دیر باتیں کرتی رہیں۔
ساٸرہ بس کرو۔اب ان دونوں کو جانے دو روم میں۔تھکے ہوۓ ہیں وہ۔احمد نے کہا۔۔
تو ساٸرہ پری زیب کو زین کو کمرے میں لے جانے کا کہہ کر خود برتن اٹھانے لگ گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب اپنی جگہ پہ آکربیٹھی تو زین بھی چلتا ہوا اسکے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔۔
تم نے مجھ سے کوٸی وعدہ کیا تھا۔۔زین نے کہا۔۔
جی۔۔وہ سر جھکا گٸی۔۔زین اسکی فرمانبرداری پہ مسکرا دیا۔۔
تو پھر میں جو چاہتا ہوں وہ ملے گا مجھے۔۔زین اسکی گود میں سر رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
آپ کا حق ہے۔۔وہ ہولے سے بولی۔۔
ہووووں۔۔تم پہ فرمانبرداری اچھی نہی لگ رہی وہ اسکے رخسار کو چھوتے ہوۓ بولا۔۔
آپ جو کرنا چاہتے جلدی کریں۔۔پھر مجھے سونا ہے۔۔وہ جلدی سے بولی۔۔
کیا مطلب۔۔زین نے ناسمجھی سے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔
مطلب کہ آپ مجھ سے اپنا حق لینا چایتے ہیں۔۔وہ جھجھکتے ہوۓ بولی۔۔
واٹ۔۔زین ایک جھٹکے سے اٹھ کربیٹھ گیا۔۔
تم“تم مجھے ایسا سمجھتی ہو۔۔اوووہ ماٸی گاڈ تمہیں لگا میں تم سے یہ مانگو گا۔۔زین نے سرخ چہرے کیساتھ کہا۔۔
تو اور کیا چاہیے مجھ سے آپ کو۔۔؟یہی تو چاہیے ہوتا ہے آپ جیسے مردوں کو۔۔وہ نظریں چرا کر بولی۔۔۔
زین نے اسے بازو سے تھام کر ایک جھٹکے سے کھینچا تو وہ کٹی ہوٸی پتنگ کی مانند اسکی طرف کھینچی چلی آٸی۔پھر زین نے اسکے دونوں بازو پکڑ کر کمر کے پیچھے لگاۓ۔۔
حق کی بات رہنے دو پری زیب۔یہ اگر مجھے حق لینا ہی ہوتا تو میں بنا اجازت کے تم سے لے سکتا ہوں۔مگر میں ایسا نہیں ہو۔۔نہ تو زبردستی کرونگا نہ تمہاری مجبوری کا فاٸدہ اٹھاٶں گا۔۔وہ چبا چبا کر بولا۔۔
تو پھر مجھ سے کیا چاہیے۔۔وہ حیرت سے پوچھنے لگی۔۔
میں نے تمہارے ساتھ جو اب تک ناٹک کیا۔میں اب اسکو حقیقت بنانا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے فرینڈ بننا چاہتا ہوں۔زین نے گہرا سانس بھر کر کہا۔۔
دوستی اور تم سے۔۔وہ غصے سے اٹھ کر بولی۔۔
آ گٸی اپنی اصلیت پہ واپس۔۔تم خود کو بہت اچھا سمجھتی ہو جبکہ تم ایک خودپسند“ایڈیٹ اور بدتمیز لڑکی ہو۔۔زین نے تپ کرکہا۔
واہ واہ۔۔کیا کہنے تم تو جیسے کوٸی فرشتے ہو۔وہ بھی تنک کر بولی۔۔۔
اووففففف۔بس بہت ہوگیا۔اب جان چھوڑو میری۔۔زین نے ہاتھ جوڑے۔۔
تم تو مجھے ہی چھوڑ دو تاکہ تمہاری منحوس شکل دیکھنے سے بچ جاۓ۔۔اللہ میاں کچھ ایسا کریں کہ انکی شکل مجھے نظر نہ آۓ۔وہ دعاٸیہ انداز میں بولی۔۔
بھاڑ میں جاٶ تم۔۔زین نے تپ کر کہا اور بیڈ کی دوسری ساٸیڈ پہ آ کر لیٹ گیا۔۔۔
اٹھو“یہ میرا بیڈ ہے۔وہ کمر پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔۔
واہ کیا کہنے محترمہ کے۔ ابھی مجھے حق لینے کا کہہ رہی تھی اور اب بیڈ پہ لیٹنا برداشت نہیں۔وہ تڑخ کر بولی۔۔
مجھے جو لگا کہہ دیا۔۔اس بات پہ اب مٹی ڈالو۔۔مگر اب بات سونے کی ہے تو میں ادھر بیڈ پہ نہیں سونے دونگی تمہیں۔۔۔اور
گھر میں ہم بیڈ شیٸر کرتے ہیں تو اب یہاں بھی کر لیتے ہیں۔وہ جلدی سے اسکی بات کاٹ کر بولا۔۔
ادھر تمہارا بیڈ جہازی ساٸز ہے۔۔اسکے باوجود تم میرے کو تکیہ سمجھ کر بازو رکھتے ہو تو یہ تو پھر چھوٹا سا ہے۔یہاں تو رات کو گدا سمجھ کر میرے اوپر ہی آ جاٶ گے۔۔
پھر بات مکمل کرکے اس نے بےاختیار آنکھیں میچ لی۔۔۔
اوفففف۔۔کیا بول رہی ہوں میں۔۔وہ بڑبڑاٸی۔۔
اگزیکٹلی۔۔تمہیں خود نہیں پتا کیا بولتی ہو تم۔۔اور تماشا مت بناٶ۔اور آرام سے سو جاٶ۔۔زین نے کہا اورکروٹ لے لی۔۔
توبہ کتنے تیز کان ہے اسکے۔۔
وہ دل ہی دل میں اسے صلواتیں سناتی چہرہ دوسری طرف کرکے سو گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین کے موباٸل بجنے پہ پری زیب نے ناگواری سے سر اٹھا کر دیکھا۔۔پھر زین نے موباٸل اٹھا کر کان کو لگایا تو دوسری طرف زبیر آفندی تھے۔۔
ہیلو ڈیڈ۔۔اس نے موباٸل کان پہ لگا کرکہا۔۔
زین بیٹے فورا تیار ہوجاٶ ہم آ رہے ہیں اور اور پھر ایٸرپورٹ کیلٸے نکلنا تمہیں کیونکہ اس بار لندن کأ بزنس ٹور تم کروگے۔صفدر اور خان جی تمہارے ساتھ جاٸیں گے۔زبیر آفندی نے کہا۔
جی ڈیڈ ٹھیک ہے۔۔زین نے فون بند کیا اور پری زیب کا کندھا ہلا کر اسے اٹھانے لگا۔۔
کیا ہے؟ وہ ٹوٹ کر پڑی۔۔
مام ڈیڈ لینے آ رہے ہیں۔اٹھو تیارہو جاٶ۔۔زین نے غصہ ضبط کرکے جواب دیا۔۔
واٹ اتنی صبح۔۔؟ اس نے حیرت سے پوچھا۔۔
زین نے اسے ساری بات بتاٸی۔۔
واٶ۔۔مطلب مجھے چند دن تمہاری شکل نہ دیکھنے کا شرف حاصل ہونے والا ہے۔۔زین اسکی بات پہ کھول کر رہ گیا۔۔
وہ غصے سے اٹھ کر نہانے گھس گیا۔۔اور پری زیب جلدی سے نکل کر باہر آٸی تو حسب توقع سب جاگ رہے تھے۔۔
بھابھی۔وہ مام ڈیڈ لینے آ رہے ہیں۔وہ ساٸرہ کےپاس آکر بولی۔۔
کیا لیکن ہم نے تو رات ڈنرکا کہا تھا۔ساٸرہ نےگھبرا کر کہا۔۔
آپ صرف چاۓ کا انتظام کرلیں وہ اس ٹاٸم چاۓ پیتے ہیں تو پھر ہمیں گھر جاکر زین کی پیکنگ بھی کرنی ہے۔وہ بارہ بجے کی فلاٸٹ سے لندن بزنس ٹورکیلٸے جا رہے ہیں۔۔۔۔۔
لیکن گڑیا زین تو ابھی سٹڈی کرتا ہے۔۔اور پھر شادی کو دن ہی کتنے ہوۓ کہ وہ تمہیں چھوڑ کر اکیلا ہی جا رہا ہے۔۔احمر نے کہا۔۔۔۔
بھیا ڈونٹ وری۔میں اکیلی نہیں ہونگی۔مام ڈیڈ گھر ہی ہونگے اور رہی سٹڈی کرنے کے باوجود بزنس ٹور تو ڈیڈ ہمیشہ سے زین کوبہت آگے دیکھنا چاہتے تو وہ اپنی میٹنگز میں ساتھ رکھتے ہٕیں۔
وہ وضاحت دیتے ہوۓ بولی۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔میں تمہیں تمہارا ڈریس دیتی ہوں جوتم نے پہن کر جانا ہے اور پھر فاریہ تمہیں تیار ہونے میں مدد کر دے گی۔۔۔۔ساٸرہ نےکہا۔۔تو وہ اثبات میں سر ہلا کر رہ گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی آ چکے تھے۔۔سب انکے ساتھ بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے۔اور ساتھ چاۓ بھی پی رہے تھے۔۔کچھ دیر بعد فاریہ اور پری زیب بھی نیچے آتی دیکھاٸی دی۔۔
پری زیب نے ریڈ کلر کی کلیوں والی فراک پہنی تھی۔
زین کی نظریں تو اس پہ ٹھہر ہی گٸی تھی۔۔
پھر کچھ دیر بعد مکلاوے کی رسم پوری کرکے پری زیب انکے ساتھ رخصت ہو چکی تھی۔
آفندی ولا پہنچے تو ناٸلہ آفندی نے اسے زین کی پیکنگ کرنے کو کہا تو وہ سیدھی روم میں ہی چلی آٸی۔۔
پھر زین کیساتھ مل کر اس نے اسکی پیکنگ کرواٸی اور کچھ دیر بعد زین ایٸرپورٹ کیلٸے نکل گیا۔۔توپری زیب بھی لان کیطرف نکل آٸی۔کچھ دیر لان میں ٹہلنے کے بعد وہ دوپہر میں سو گٸی۔۔شام کو جب وہ اٹھ کر باہر آٸی تو ناٸلہ آفندی لاٶنج میں ہی بیٹھی۔۔
السلام علیکم مام۔وہ سلام کرکے انکے پاس بیٹھ گٸی۔۔
کیسی ہو میرے جان۔انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔
ایم فاٸن مام۔۔وہ دھیمے سے لہجے میں بولی۔۔
شام میں ایک پارٹی ہے تم بھی چل رہی ہو ساتھ۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔۔تو پری زیب نے اثبات میں سر ہلادیا۔
اور پھر وہ پری زیب سے سارا دن کی روادار سننے لگی۔
چاۓ پٸیو گی آپ۔۔ اچانک پری زیب نے پوچھا۔۔
ہاں پٸیوں گی۔میں بتول بی بی کو کہتی ہوں۔۔۔
نہیں مام میں بنا کر لاتی ہوں۔پری زیب نے کہااور چاۓ بنانے چلی گٸی۔۔
پھر کچھ دیر بعد وہ چاۓ بنا کر لے آٸی اور انہیں چاۓ پکڑا کر خود سامنے صوفے پہ بیٹھ گٸی۔۔
مام ٹی وی چلا لوں کیا؟ اس نے جھجھکتے ہوۓ پوچھا۔۔
شیور بچے۔۔وہ مسکرا کر بولی۔۔
تو پری زیب چاۓ پیتے ہوۓ ساتھ شو دیکھنے لگ گٸی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلیک کلرکی ساڑھی میں پری زیب نے ڈارک میک اپ کیا تھا۔
پھر وہ اپنے گرد شال اوڑھتی باہر نکل آٸی۔۔اور لاٶنج میں بیٹھ کر ناٸلہ آفندی کا انتظار کرنے لگی۔۔
کچھ دیر بعد سکن ساڑھی پہنے ناٸلہ آفندی باہر آٸی تو پری زیب کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گٸی۔۔
ماشاءاللہ،بہت پیاری لگ رہی ہو۔ناٸلہ آفندی نے ستاٸشی لہجے میں کہا۔۔
تھینک یو مام۔۔۔۔۔۔
چلیں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا تو پری زیب نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔
پھر وہ دونوں باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھ گٸی۔۔اور ناٸلہ آفندی کا گارڈ بھی ساتھ تھا۔۔
گاڑی ایک عالیشان ہوٹل کے سامنے رکی۔پھر وہ دونوں ہوٹل میں داخل ہوٸی تو سارا میڈیا انکی طرف آ چکا تھا۔۔اور مسٹر فرخ جنہوں نے پارٹی دی تھی وہ بھی تیزی سے انکی طرف بڑھے اور پرجوش انداز میں انکا ویلکم کیا۔۔
پھر وہ انہیں لیکر ایک میز پہ آۓ اور وہاں میوزک ڈاٸریکٹر فیضان عرف فیضی بیٹھا تھا۔۔
ناٸلہ آفندی کو دیکھ کر وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔
ہاۓ مسز آفندی ناٸس ٹو میٹ یو۔۔وہ انکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوۓ بولا۔
ہاۓ فیضی کیسے ہو۔۔ناٸلہ آفندی نے مسکرا کر کہا۔۔
ایم فاٸن مسز آفندی۔۔وہ بات ناٸلہ آفندی سے کر رہا تھا مگر اسکی نظریں پری زیب پہ تھی۔۔
اگر میں غلط نہیں ہوں تو یہ آپ کی بہو ہے نہ۔فیضی نے مسکرا کر پوچھا۔۔
بالکل ٹھیک پہچانے۔۔یہ میری بہو ہی ہے۔۔۔
ماشاءاللہ ۔۔بہت ہی خوبصورت ہے۔۔وہ گہری نظروں سے اسکاجاٸزہ لیتے ہوۓ بولا۔۔
ناٸلہ آفندی مسکرا دی۔۔پھر کچھ دیر میں ہی پری زیب پارٹی سے بھی اکتا گٸی تھی۔۔۔۔
مام گھر چلیں۔۔وہ ناٸلہ آفندی کے پاس آکر کہنے لگی۔۔
ارے ایسے کیسے جاٸیں گے۔مجھے مسز آفندی نے بتایاکہ آپ گاتی بہت اچھا ہیں۔۔تو ایک سونگ ہوجاۓ۔۔فیضی نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔
تو پری زیب نے متذبذب انداز میں ناٸلہ آفندی کیطرف دیکھا تو انہوں نے آنکھوں سے اسے گانے کا اشارہ کیا۔۔تووہ فیضی کیساتھ اٹھ کر سٹیج کیطرف بڑھ گٸی۔۔
فیضی نے ماٸیک اسکی طرف بڑھایا تو پری زیب نے ماٸیک تھام لیا۔۔اور پھر ہال میں اسکی مسحورکن آواز گونجنے لگی۔۔
میری زندگی کے مالک میرے دل پہ ہاتھ رکھ دے
تیرے آنے کی خوشی میں میرا دم نکل نا جائے
تیرا حوصلہ بڑھے گا دامن تو تھام لے گا
رکھ دوں جو ہاتھ دل پر تیرا دل مچل نا جائے
اک طرف ہو ساری دُنیا اک طرف صورت تیری
ہم تُجھے دُنیا سے ہو کر بے خبر دیکھا کریں
مجھکو قبول تیری دُنیا میں رہنا لیکن
بھر جائے دل نا تیرا کہیں تو بدل نا جائے
تیرے آنے کی خوشی میں میرا دم نکل نا جائے
کر گئی دیوانہ مجھکو تیری یہ دیوانگی
تو مجھ اب ہے زندہ میں تو کہ جیسے مر گئی
میری زندگی کے مالک میرے دل پہ ہاتھ رکھ دے
تیرے آنے کی خوشی میں میرا دم نکل نا جائے
اس نے گانا ختم کیا تو پورے ہال میں تالیاں گونج اٹھی۔۔