Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima NovelM80070 Mein Kese Kaho (Episode - 13)
Mein Kese Kaho (Episode - 13)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima
ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی لاٶنج میں بیٹھے چاۓ پی رہے تھے۔۔
زبیر میں تو سچ میں بہت ریلیکس فیل کر رہی ہو،فاٸنلی میرے بیٹے کی زندگی میں خوشیوں نے دستک دی ہے۔۔
جان یہ مجھے نہیں لگتا کہ زیادہ دیر تک اسکی زندگی میں خوشیاں رہیں گی۔۔اس منحوس فاریہ کے ہوتے ہوۓ آپ کا بیٹا خوش کیسے رہ سکتا ہے۔زبیر آفندی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
اللہ نہ کرے۔کس طرح کی باتیں کر رہے آپ۔۔۔ناٸلہ آفندی نے دہل کر کہا۔۔
زبیر آفندی نے ناگواری سے سر جھٹک دیا۔۔
پری زیب۔۔۔کچھ دیر بعد ناٸلہ آفندی کی سرسراتی آواز پہ چونک کر انہوں نے بھی مڑ کر دیکھا۔۔۔تو پری زیب باہر سے لاٶنج میں آ رہی تھی۔۔وہ دونوں جلدی سے اٹھ کر کھڑے ہو گٸے۔۔
اور پھر وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھی۔اور اسکو تھام کر صوفے پہ بیٹھایا۔۔۔
پری میری بچی ،کیا ہوا ہے؟ ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔
پری زیب نے انہیں زخمی نگاہوں سے دیکھا۔۔
آپ جانتی تھی نہ کہ فری آپی ہی زین کی سوہنی ہے۔۔اس نے بھیگے لہجے میں پوچھا۔۔
ناٸلہ آفندی اسکی بات پہ سر جھکا کر رہ گٸی۔
کیووووں۔۔۔۔وہ آواز بھینچ کر بولی۔
آپ بھی جانتی تھی۔زین بھی جانتا تھا اور فری آپی بھی جانتی تھی۔آپ سب نے مجھے دھوکے میں رکھا۔آخرکیوں۔۔۔وہ چیخ کر بولی۔۔
پری زیب بچے،پانی پٸیو۔۔ناٸلہ آفندی نے گھبرا کر کہا۔
نفرت کرتاہے آپ کا بیٹا مجھ سے،وہ کہتا ہے کہ مجھ جیسی لڑکیوں سے نفرت ہے اسے۔۔اور مجھے میرے ناکردہ گناہوں کی سزا دینا چاہتا ہے۔۔وہ گھٹے گھٹے انداز میں بولی۔
ایم سو سوری پری ریب۔۔مجھے لگا کہ زین فری کو بھلا دے گا مگر مجھے نہیں پتا تھا کہ زین کی سوہنی تمہاری ہونے والی بھابھی ہے۔۔اور مجھے جب پتا چلا تو بہت دیر ہو گٸی تھی۔۔ناٸلہ آفندی نے نم لہجے میں کہا۔۔
اب میں کیا کروں،بتاٸیں مجھے کدھر جاٶں۔؟ وہ تڑپ کر بولی۔۔۔
نہیں بچے آپ کہیں نہیں جاٸیں گی۔۔بلکہ اسی گھر میں رہیں گی۔آپ تو وہ پری زیب ہیں جو کبھی کسی پہ ہوتا ظلم برداشت نہیں کرتی تو خود پہ ظلم کیسے برداشت کر سکتی ہیں آپ۔۔۔
زین بھلے میرا بیٹا ہے۔۔مگر اس وقت وہ غلط ہے۔آپ یہاں رہ کر اپنے حق کیلٸے لڑیں۔۔اور میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔۔ناٸلہ آفندی نے محبت سے اسکا ہاتھ تھام کر کہا۔۔
وہ انکے سینے کیساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔
پھر ناٸلہ آفندی نے اسے روم میں جانے کا کہا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب بھاری دل کیساتھ زین کے روم میں داخل ہوٸی۔تو وہ ستمگر اسے دہکتی آگ میں دھکیل کر خود مزے سے نرم گرم بستر میں استراحت فرما رہا تھا۔۔
کمفرٹ لٸے اور بازوٶں میں تکیہ دبوچے وہ شرٹ لیس اوندھے منہ سو رہا تھا۔۔
اپنی بےعزتی اور ذلت کو یاد کرکے اسکی آنکھیں پھر سے بھیگنے لگی۔۔
پھر اس نے کپڑے چینج کرکے فجر کی نماز قضا کی۔کیونکہ آج اسکی فجر کی نماز رہ گٸی تھی۔(اور جمال قریشی صاحب ہمیشہ کہتے تھے۔نماز قضا ہو جاۓ تو مکروہ ٹاٸم نکال کر فوری قضا ادا کریں۔۔کیونکہ زندگی کا بھروسہ نہیں۔۔۔۔)
پھر نماز پڑھ کر وہ پھر جاۓنماز اکھٹا کرکے کچھ دیر کھڑی رہی۔۔۔۔
پھر وہ چلتی ہوٸی زین کے پاس آٸی۔۔اور ساٸیڈ ٹیبل پہ پڑا پانی کا جگ اٹھا کر اس پہ انڈیل دیا۔۔
زین ہڑبڑا کر اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔اور پھر زرا حواس درست ہوۓ تو پری زیب اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
واٹ نان سینس۔۔وہ چلایا۔۔
پری زیب نے ہاتھ میں پکڑا جگ اٹھا کر زور سے زمین پہ پھینکا۔
اور کرچیاں پورے کمرے میں پھیل گٸی۔۔
تمہارا دماغ ٹھکانے پہ ہے پری زیب ؟وہ چلایا۔۔
چلاٶ مت تم مجھ پہ۔۔اور آواز نیچی ہی رکھنا۔۔ورنہ اونچی آوازوں کا یہاں مقابلہ ہوگا،اور تمہارے نوکروں کی فوج کے سامنے تماشا بن جاٶ گے تم۔۔وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر چبا چبا کر بولی۔۔
زین لب بھینچ کر رہ گیا۔۔
اور پھر وہ اطمینان سے بیڈ کی دوسری ساٸیڈ پہ جاکر لیٹ گٸی۔
زین غصے سے بل کھا کر رہ گیا۔پھر پیر پٹخ کر باہر نکل گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین باہر آکر دھپ سے صوفے پہ بیٹھ گیا۔ناٸلہ آفندی نے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا۔۔
آپ کی بہو نے میرے ہی کمرے سے نکال دیا مجھے۔۔زین نے تپ کر کہا۔
تصیح کر لیں برخوردار،میرا نہیں بلکہ ہمارا بولٸے ۔۔کیونکہ وہ کمرا پری زیب کا بھی ہے۔۔زبیر آفندی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
آج جو تم نے مجھے پری زیب کے سامنے کتنا شرمندہ کیا ہے بتا نہیں سکتی۔وہ بچی پوری رات انیکسی میں بیٹھی روتی رہی۔
محبت نہیں ہے مان لیا“انسانیت تو تھی نہ اسی کے ناتے بھول جاتے سب کچھ۔ناٸلہ آفندی نے تلخ لہجے میں کہا۔۔
آپ دونوں اسکا ساتھ کیوں دے رہے ہیں۔؟ زین تپا۔۔
کیونکہ ہم ظالم کا ساتھ نہیں دیتے۔۔ناٸلہ آفندی کی بات پہ وہ جھلا کر اٹھ کر باہر آ گیا۔۔۔
کتنی دیر وہ لان میں بیٹھا کڑھتا رہا۔۔پھر اسے فاریہ کا طنزیہ انداز یاد آیا۔تو وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔اور غصے سے کمرے میں چلا آیا۔۔۔
دیکھو مجھے پریشان کرکے کیسے سو رہی ہے۔۔زین نے کڑھ کر سوچا۔۔۔
پری زیب۔۔پھر اس نے پری کا کندھا ہلا کر آواز دی۔۔
یار سونے دو نہ۔۔وہ غنودگی میں بولی۔۔
اٹھو میرے بستر سے۔اور وہ صوفے پہ جاکر سو جاٶ۔زین نے کمفرٹ کھینچ کر کہا۔
وہ اٹھ کر اسے گھورنے لگی
یہ کام تم خود کیوں نہیں کر لیتے۔تم وہاں جاکر سو جاٶ۔۔وہ کہہ کر کمفرٹ لیکر لیٹ گٸی۔زین نے جھلا کر اسے دیکھا۔۔
اور پھر صوفے پہ آکر لیٹ گیا۔۔اور بمشکل پھر اسکی آنکھ لگی۔۔
پھر کافی دیر بعد آنکھ کھلی تو بارہ بج رہے تھے۔زین اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔اسکی گردن سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھی۔۔
پھر اس نے بیڈ پہ سکون سے لیٹی پری زیب کو دیکھا۔پھر وہ چلتا ہوا اسکے پاس آکر اسے دیکھنے لگا۔۔
وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کر سو رہی تھی۔زین اسے غور سے دیکھنے لگا۔۔
وہ بلاشبہ بہت حسین لگ رہی تھی۔سوتے میں اسکے چہرے پہ پھیلی معصومیت نے پل بھر کیلٸے زین کو مدہوش کر دیا تھا۔پھر سر جھٹک کر وہ اسے ہلانے لگا۔۔
پری زیب اٹھو۔۔کھانے پہ ویٹ ہو رہا ہوگا۔زین نے کہا۔۔
بھابھی جانو سونے دیں نہ،وہ نیند میں ہی بولی۔۔
بھابھی جانو۔۔اسکومیں بھابھی جانو لگ رہا ہو“زین حیرت سے بڑبڑایا۔۔
اوفففففف۔۔پری کی بچی اٹھو“یہ تمہارا گھر نہیں ہے۔آفندی ولا ہے۔زین نے اسکا کمفرٹ کھینچ کر کہا۔۔
پری نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولی۔
کک،کیا ہوا؟ وہ جلدی سے زین کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
زین نے اسکی نیند سے بوجھل لرزتی پلکوں سے بمشکل اپنی نظروں کو ہٹایا۔۔
اٹھو اور اٹھ کر تیار ہو جاٶ۔پھر ہمیں اپنے گاٶں جانا ہے اور وہی سے واپس آ کر ہمارا ولیمہ ہوگا،زین نے کہا۔۔
میں کہیں نہیں جاٶں گی تمہارے ساتھ۔وہ تڑخ کر بولی۔۔
میں دیکھ رہا ہوں تم تمیز بھولتی جا رہی ہو“زین نے ناگواری سے کہا۔۔
میں بندے کی شکل دیکھ کر تمیز سے بات کرتی ہوں“اپنی شکل دیکھو آٸینے میں اور پھر مجھ پہ اپنے حکم صادر کرنا۔۔وہ کمرپہ ہاتھ رکھ کر بولی۔
زین نے آنکھیں میچ کر اپنے غصے پہ قابو کیا۔
پھر جھلا کر واشروم کیطرف بڑھ گیا۔۔۔
پری زیب اطمینان سے کفرٹ لیکر پھر سے لیٹ گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیگم جاکر بچوں کو اٹھاٸیں۔ہماری تین بچے لاہور کی فلاٸٹ ہے۔۔پھر گاٶں بھی پہنچنا ہے۔زبیرآفندی نے کہا۔۔
پھر اس سے پہلے ناٸلہ آفندی جاتی۔پری زیب نے اندر آکر سلام کیا۔۔۔
لیجٸے ہماری بہو تو آ گٸی۔۔ناٸلہ آفندی نے مسکرا کر کہہا
پری زیب بچے، بس آپ جلدی سے تیارہوکر آ جاٸیں تو پھر ہمیں گاٶں جانا ہے۔
لیکن آنٹی جانا ضروری ہے کیا؟۔پری زیب نے سر جھکا کرپوچھا۔۔
جی بچے جانا ضروری ہے۔زین کی دادو تو نہیں ہے انکی سگی بہن ہے ماسی جی ۔۔تو انکو ملنے جانا بہت ضروری ہے۔انکے ہاں کوٸی رسم و رواج ہے۔اور زرا انوکھے قسم کے ہیں۔تو پلیز ماٸنڈ مت کرنا،ناٸلہ آفندی نے کہا۔تو پری زیب نےاثبات میں سرہلا دیا۔۔
پھر وہ تیار ہونے کیلٸےروم کیطرف بڑھ گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین لاٶنج میں بیٹھا چاۓ پی رہا تھا کہ ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی بیگ گھسیٹتے پاس آ گٸے۔۔
زین اٹھو جاکر سامان رکھواٶ گاڑی میں۔اور بتول بی بی آپ جا کر پری زیب کو بلا لاٸیں۔۔ناٸلہ آفندی نے کہا۔اور پھر وہ لوگ باہر نکل گٸے۔اور زین بھی انکے پیچھے نکل آیا۔
پھر گاڑی میں سامان رکھوا کر وہ گاڑی میں بیٹھ کر پری زیب کا انتظار کرنےلگا۔۔پھر کافی دیر بعد وہ باہر نکلتی دیکھاٸی دی تب تک زین کا پارہ ہاٸی ہو چکا تھا۔
تم زرا جلدی نہیں آ سکتی تھی۔۔زین نے اسکے بیٹھتے ہی تپ کر کہا۔۔
کسی نے فورس نہیں کیا تھا کہ میرا ویٹ کرو۔چلے جاتے اکیلے ہی۔پری زیب نے اطمینان سے جواب دیا۔۔
زین غصے سے کھول کر رہ گیا۔۔پھر اس نے تیزی سے گاڑی باہر نکالی اور فل سپیڈ میں چلاتا وہ ایٸر پورٹ پہنچا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پری زیب پلین میں داخل ہوکر اطمینان سے جا کر اپنی سیٹ پہ بیٹھ گٸی۔کچھ پل بعد زین بھی اندر داخل ہوکر دھپ سے اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔۔
تم میرے ساتھ بیٹھو گے۔۔پری زیب نے آنکھیں پھیلا کر پوچھا۔۔
تو سر پہ بیٹھو کیا؟زین نے تنک کر پوچھا۔۔
تم سر پہ نہیں جوتے کی نوک پہ بیٹھنے کے قابل ہو۔وہ تنک کر بولی۔۔
شٹ اپ۔۔۔زین نے دانت پیس کر کہا۔۔
یو شٹ اپ۔پری زیب دانستہ اونچی آواز میں کہا۔
تو سب لوگ دیکھنے لگ گٸے۔۔
زین نے گڑبڑا کر ارد گرد دیکھا۔۔
آہستہ چلاٶ۔۔۔زین نے بھینچی ہوٸی آواز میں کہا۔۔
چلایا اونچی ہی جاتا ہے۔۔اطمینان بھرا جواب زین کو تپا گیا۔
پھر زین نے فیشن میگزین منگوا کر اسے دیکھنا شروع کر دیا۔۔
ٹھرکی کہیں کا۔۔پری زیب اسے گھورتے ہوۓ بڑبڑاٸی۔۔
پھر اس نے ایٸرہوسٹس کو قریب آنے کا اشارہ کیا۔۔
پلیز ون جوس اور ایک فیشن میگزین جس میں ہاٹ ہاٹ سے لڑکے ہوں۔وہ اونچی آواز میں بولی۔
زین اسکی بات پہ کھول کر رہ گیا۔۔
مس آپ جاٸیں۔اور کچھ بھی مت لے کر آٸیں۔۔زین نے کہا۔۔
کیوں نہ لیکر آۓ۔تم خود بھی تو آدھی ننگی آدھی ڈھکی لڑکیاں دیکھ رہے ہو۔۔جبکہ تمہارے ساتھ تمہاری ایک رات کی دولہن بیٹھی ہے۔پری زیب نے تپ کر اونچی آواز میں کہا۔۔۔
ششششش۔زین نے جلدی سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔
پری زیب اسکے لمس سے سن ہو گٸی۔وہ یک ٹک اسے دیکھی گٸی۔زین جلدی سے ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہٹ گیا۔۔اسے لگا تھاکہ اگر وہ مزید ان جھیل جیسی آنکھوں میں دیکھے گا تو اپنے حواس کھو دے گا
پری زیب بھی رخ پھیر کر اپنے آنسو ضبط کرنے لگی۔وہ ارادہ کر چکی تھی کہ وہ روۓ گی نہیں زین آفندی کو رولاۓ گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایٸر پورٹ سے نکل کر وہ سب باہر آۓ تو صفدر باہر گاڑیاں لیکر کھڑا تھا وہ صبح کی فلاٸٹ سے ہی آ گیا تھا۔۔
ناٸلہ آفندی اور زبیر آفندی ایک گاڑی میں ڈراٸیور کیساتھ بیٹھ گٸے۔۔دوسری میں زین ،پری زیب اور صفدر بیٹھ گٸے۔۔اور زین ڈراٸیو کر رہا تھا اور پری زیب فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی تھی اور صفدر پچھلی سیٹ پہ۔۔۔
اچانک گاڑی چلاتے زین کی نظر سڑک پہ لفٹ کیلٸے روکتی لڑکی پہ پڑی۔۔
زین نے ایک دم گاڑی کو بریک لگاٸی تو پری زیب کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتے ٹکراتے بچا۔۔۔
وہ غصے سے اسے گھورنے لگی۔۔۔
ہیلو مسٹر مجھے بس یہاں سے کچھ دور تک لفٹ چاہیے۔۔وہ لڑکی جلدی سے ونڈو کے پاس آکر بولی۔۔
ضرور مس۔۔زین نے کہا۔تو وہ لڑکی جلدی سے دروازہ کھول کر بیٹھنے لگی مگر پچھلی سیٹ پہ بیٹھے صفدر کو دیکھ کر چونکی۔۔۔
تممم۔۔۔صفدر چلا کر بولا تو پری زیب اور زین نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔
کیا تم؟ وہ جلدی سے بیٹھتے ہوۓ بولی۔۔
سر آپ اسکو کہیں فورا گاڑی سے نکلے۔۔صفدر نے چڑ کر کہا۔۔
کیوں سر کیوں کہیں،تمہاری زبان میں درد ہے کیا“اس نے تنک کر پوچھا۔۔۔
زرا تمیز نہیں ہے آپ کو بات کرنے کی“صفدر نے تپ کر کہا۔۔۔
ہاں اور تم سے تو لوگ جگ کے جگ تمیز کے بڑھ کر لیکر جاتے ہیں۔۔۔۔
بس کرو تم دونوں۔ورنہ دونوں کو اتار دونگا۔۔زین نے ناگواری سے کہا۔۔
تو صفدر لب بھینچ کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔اور وہ لڑکی بھی جلدی سے سامنے دیکھنے لگی۔
زین نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔
مسٹر ہمارا کوٸی پیچھا کر رہا ہے۔۔اس لڑکی نے جلدی نے کہا۔تو وہ تینوں جلدی سے پیچھے دیکھنے لگے۔جہاں ایک جیپ انکا پیچھا کر رہی تھی۔۔
واٹ دا ہیل۔۔۔زین بڑبڑایا۔۔
سر مجھے لگتا یہ لڑکی بھی مشکوک ہے۔صفدر بولا۔۔
کیا بکواس کررہا ہے تو۔؟ اگر میں تمہاری دشمن ہوتی تو پیچھا ہو رہا بتاتی کیا؟ وہ لڑکی تنک کر بولی۔
ہاں تو ہوسکتا کہ اس میں تمہاری چال ہو۔۔صفدر نے گھورتے ہوۓ کہا۔۔اس لڑکی نے لب بھینچ لٸے۔۔
اور زین نے جلدی سے کچے راستے پہ گاڑی ڈال دی۔اور پھر وہاں سے ایک بل کھاتی سڑک آٸی تو اس پہ چڑھا دی۔۔اور وہ جیپ بھی ساتھ ہی پیچھے تھی۔۔
مجھے لگا کہ شاید وہم ہو مگر یہ تو سچ میں ہمارے پیچھے ہے۔زین بڑبڑایا۔۔
سر کون ہو سکتے ہیں یہ لوگ۔صفدر نے جلدی سے پوچھا۔۔
یونیورسٹی میں جن لوگوں نے دھاوا بولا تھا اور ڈیڈ نے سب کو جیل پہنچایا تھا۔ان لوگوں کی دھمکیاں کتنے دنوں سے آ رہی تھی۔۔اور میں اگنور کر رہا تھا۔۔زین نے ماتھا مسلتے ہوۓ جواب دیا۔۔
لیجٸے ان کو دیکھیے۔دھمکیاں ملنے کےباوجود سیرٸیس نہیں لیا۔
لیتے بھی کیسے تم سیریٸس۔۔مجھ سے نفرت میں کچھ نظر کہاں آ رہا تھا۔۔پری زیب نے تڑخ کر بولا۔۔
تم اپنی بکواس بند ہی رکھو۔۔زین دھاڑا۔۔۔