📱 Download the mobile app free
Home > Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima NovelM80070 > Mein Kese Kaho (Episode - 1)
[favorite_button post_id="16301"]
47728 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mein Kese Kaho (Episode - 1)

Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima

ریڈ سپورٹس کار یونیورسٹی کے سامنے رکی اور ایک سانولا سا پرکشش لڑکا باہر نکلا اور اندر داخل ہو گیا۔۔یونی کی ہر لڑکی اسے دیکھ کر آہیں بھر رہی تھی اور وہ ہر ایک کی نظروں سے بےنیاز چلتا ہوا اپنے کلاس روم کیطرف بڑھ گیا۔۔

وہ کلاس بھی اکیلا ہی لیتا تھا اس کلاس میں آنے کی کسی کو اجازت نہیں تھی۔

(اور وہ کوٸی عام لڑکانہی تھا۔وہ دنیا کے نمبر ون بزنس ٹاٸیکون زبیر آفندی کا بیٹا زین آفندی تھا۔۔جو لڑکیوں سے اس قدر نفرت کرتا تھا کہ اس قدر امیر ہونے کے باوجود ایک لڑکی بھی اسکی فرینڈ نہی تھی۔کوٸی لڑکی اسکی کوٸی چیزکو چھو لیتی تھی تو وہ اس چیز کو ہی جلا دیتا تھا۔۔۔)

کلاس روم میں داخل ہوکر اس نے اپنے سارے سبجیکٹس کے پیریڈز لٸے اور پھر وہ وہاں سے واپسی کیلٸے نکلتا چلا گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبیر مجھے آپ سے بات کرنی ہے…ناٸلہ آفندی نے اپنے شوہر سے کہا۔۔

“جی میری جان بولیں“زبیر آفندی نے فاٸلز سے سر اٹھاۓ بغیر کہا۔۔

زین کی شادی کروادیں..وہ ہولے سے لہجے میں بولی۔۔

دماغ خراب ہے آپکا جو ایسی بات کہہ دی آپ نے.جانتی ہیں نہ کہ وہ بمشکل خود کو سنبھال پایا ہے،چار سال بعد اس نے اپنی سٹڈی کو پھر سے سٹارٹ کیا ہے۔۔اس نے چار سال لگادٸیے خود کو پھر سے کھڑا کرنے میں،اور پلیز اسکے سامنے یہ مت کہنا ورنہ میں نہیں جانتا کیسے سنبھال پاٶں گا اسے میں۔۔زبیر آفندی نے سخت لہجے میں کہا۔۔

ناٸلہ آفندی افسردہ ہو گٸ تھی۔انکی آنکھیں بےاختیار چھلک اٹھی۔۔پھر وہ خود کو سنبھالتے کھڑکی میں آٸی اور باہر لان میں بیٹھے زین کو دیکھنے لگی جو بک ہاتھ میں لٸے پڑھ رہا تھا۔۔

پھر وہ سر جھٹک کر واپس آکر بیٹھ گٸی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری ۔۔۔۔۔پری بیٹے کدھر ہو آپ؟۔۔

پری زیب نے نیچے سے آتی آوازوں پہ چونک کر دیکھا اور پھر تیزی سے سیڑھیاں اترتی نیچے آ گٸی۔۔

یہ گھرانہ پروفیسر جمال قریشی کا تھا،،،،جو کہ اپنے دو بیٹوں احمد قریشی ،احمر قریشی اور ایک اکلوتی لاڈلی بیٹی پری زیب کے ساتھ رہتے تھے۔۔انکی زوجہ کا انتقال دس سال پہلے ہو گیا تھا۔۔

اور احمد قریشی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا تھا ۔۔احمد کا ٹرانسفر لاہور سے کراچی ہو گیا تھا تو اس لٸے باقی سب بھی انکے ساتھ آ گٸے تھے،اوراحمد شادی شدہ ہےاوراسکی شادی کو چھ سال ہو گٸے تھے انکی ایک ہی بیٹی پری وش تھی اور انکی کوٸی اولاد نہی تھی۔۔۔۔

اور پری زیب یہاں آکر اب ایم بی اے میں ایڈمیشن لے چکی تھی اور کل اسکی پہلی کلاس تھی۔۔

جی بابا۔۔۔۔۔آپ نے بلایا مجھے؟ پری زیب نے جمال قریشی کے پاس آکر پوچھا۔۔

“یہ پنشن ملی تھی تواپنی بیٹی کے تین سوٹ لایا کہ یونیورسٹی میں ضرورت پڑنی ہے“وہ پرجوش انداز میں بولے۔۔

“بابا اسکی کیا ضرورت تھی“بھیا اور بھابھی بھی کل پانچ سوٹ لیکرآۓ تھے،اور میرے تو پہلے بھی اتنے سوٹ ہیں۔۔”وہ جلدی سے بولی۔۔

“یونیورسٹی میں جانتی بھی ہو کہ یہ کپڑوں کا کتنا کامپیٹیشن ہوتا ہے“اور میری جان تمہیں کسی سے کم نہیں لگنا“ساٸرہ بھابھی نےپاس آکر کہا۔۔۔

“اوفففف “میری پیاری بھابھی جان۔مجھے وہاں کوٸی فیشن شو میں نہی جانا اور آپ جانتی ہی ہیں میں صرف پڑھاٸی کرتی ہوں باقی کسی چیز میں انٹرسٹ نہیں لیتی۔۔وہ ساٸرہ کے گلے لگتے ہوۓ لاڈ سے بولی۔۔

“وہ تو میری شہزادی پڑھاٸی میں سب سے آگے اسی لٸے ہے۔مگر میں چاہتی کہ کپڑے بھی اچھے سے اچھے پہنو۔اور سب سے الگ لگو“ساٸرہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔

پری زیب انکی بات پہ مسکرادی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“پری زیب بچے“یہ اتنی صبح کیوں اٹھ کر صفاٸیاں کر رہی ہیں آپ؟ احمد نے پوچھا۔۔۔

“کیونکہ نو بجے مجھے یونیورسٹی پہنچنا ہے“تو اس لٸے صبح صبح کام کر رہی ہوں،،، ،پری زیب نے جواب دیا۔۔

“بچے یہ سب کرنے کی ضرورت نہی ہے ساٸرہ کر لے گی“اور ساٸرہ تمہیں چاہیے تھا کہ یہ سب خود کرو۔۔”حمد نے کہا۔۔

صاحب ،میں بھی اسے منع کر رہی ہوں مگر یہ مان ہی نہیں رہی“ساٸرہ نے نم لہجے میں کہا۔۔

“بھیا“پری وش کتنی چھوٹی ہے اور بھابھی بیچاری اسکو بھی سنبھالتی اور باقی گھر کے کام بھی کرتی ہے اور اگر میں یہ تھوڑا سا کام کر لونگی تو گھس نہیں جاٶنگی“اور خبردار میری سویٹ سی بھابھی کو کچھ کہا آپ نے۔۔۔وہ ساٸرہ کے گلے لگتے ہوۓ احمد سے نروٹھے لہجے میں بولی۔۔

سوری“سوری آٸندہ نہی کہوں گا“احمد نے کان پکڑ کر کہا۔۔

“چلیں بھابھی “جاکر آرام کریں کیونکہ آپ پوری رات کی جاگی ہیں پری کیساتھ“اب وہ بھی سوٸی ہے تو آپ بھی سو جاٸیں“پری زیب نے مسکرا کر کہا۔۔

ساٸرہ نے محبت سے اپنی پیاری سی نند کو دیکھا جو کہ اسکے لٸے کسی فیری سےکم نہی تھی۔۔وہ بہت پراعتماد اور مخلص تھی۔۔۔۔پھر ساٸرہ اپنے روم کیطرف بڑھ گٸی۔۔۔

اور پھر پری زیب نے جمال قریشی صاحب ناشتہ تیارکرکے کھلایا اور پھر ساٸرہ جب اٹھ کر آٸیں تو وہ کچن بھی سمیٹ چکی تھی۔ ۔۔

“اووووہ ماٸی گاڈ“میری جان تم صبح سے کام میں لگی ہو“اور یہ تم نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں خودہی ناشتہ بنانے لگ گٸی“وہ شرمندگی سے بولی۔۔

“پھر کیا ہوا اگر ناشتہ بنا لیا تو“چلیں جلدی سے آپ ٹیبل پہ لگاٸیں کیونکہ مجھے پھر یونیورسٹی کیلٸے نکلنا ہے“پری زیب نے کہا ۔۔۔”اور پھر وہ جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب اندر یونی میں داخل ہوٸی تو سب اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔وہ اعتماد سے چلتی ہوٸی پرنسپل کے روم کیطرف چلی آٸی۔۔۔

پھر پرنسپل سےاس نےاپنا تعارف کروایا تو وہ اس سے مل کر بہت خوش ہوا۔۔۔

مس پری زیب آپ کا تعلیمی ریکارڈ بہت اچھا ہے اور ہو بھی کیوں نہ پروفیسر جمال قریشی کی بیٹی ہیں آپ“پرنسپل نے کہا۔۔

اور پھر پیون کو بلوا کر پری زیب کو کلاس روم میں چھوڑنے کا کہا۔۔

پری زیب نے جب کلاس روم میں قدم رکھا تو سب اسے ہی دیکھنے لگے وہ اونچی آواز میں سلام کرتی ہوٸی پچھلی چیٸر پہ بیٹھ گٸی۔۔

پھر فری پیریڈ میں وہ باہر آکر یونیورسٹی کو گھوم پھر کر دیکھنے لگی۔۔وہ چلتی چلتی ایک دروازے کے سامنے سے گزری تو اس پہ ڈونٹ ڈسٹرب کا بورڈ لگا تھا۔۔

یہ کس کا کمرہ ہے بھٸی،؟وہ حیرت سے بڑبڑاٸی۔پھر سر جھٹک کر وہ آگے بڑھ گٸی۔۔۔

پھر باقی کےپیریڈز لیکر وہ یونیورسٹی سے باہر نکل ہی رہی تھی کہ کسی کیساتھ اسکا زوردار تصادم ہوا۔۔۔۔اسکی ساری کتابیں زمین بوس ہو گٸی۔۔۔

“اےےےے“اندھے ہو کیا؟ اگر ٹکراٶ ہو ہی گیا تھا تو بکس اٹھانے میں ہی مدد کر دیتے یہ نہی تو کم از کم سوری ہی بھول دیتے“وہ ناگواری سے آگے بڑھتےاس لڑکے سے بولی۔

وہ لڑکا رک گیا تھا مگر مڑا نہی تھا۔۔پھر پری زیب کی بات پوری ہونے کے بعد وہ ایک جھٹکے سے مڑا اور لہو رنگ ہوتی آنکھوں سے اسے گھورنے لگا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج بھی زین آفندی معمول کے مطابق یونیورسٹی آیاتھا اور کلاسسز لینے کے بعد وہ اپنے معمول کے مطابق گھر جانے کیلٸےنکل ہی رہا تھا کہ گیٹ کے پاس اسکا کسی کیساتھ تصادم ہوا۔۔

وہ اگنور کرکے آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ پیچھے سے ایک لڑکی نے انتہاٸی بدتمیزی سے مخاطب کیا۔۔اسکی براٶن آنکھوں میں ناگواری اور غصے کی سرخی دوڑ گٸی۔وہ ایک جھٹکے سے مڑا اور اسے لہو رنگ آنکھوں سے گھورنے لگا اور پھر مضبوط قدموں کیساتھ چلتا ہوا اسکے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔۔

“تم جیسی یہاں نیچ لڑکیاں روز مجھے متوجہ کرنے کیلٸے مجھ سے جان بوجھ کر ٹکراتی ہیں۔۔مگر تم تو بڑی ہی تیز نکلی جب ٹکراٶ سے میری طرف سے رسپانس نہیں آیا تو مجھے پیچھے سے آواز دے دی“زین نے پاس جا کر طنزیہ انداز میں کہا۔۔

وہ لڑکی طنزیہ انداز میں مسکراٸی۔۔

“واہ واہ “کیا خوش فہمی ہے تمہیں“سیریٸسلی تمہیں لگتا کہ میں تمہاری توجہ حاصل کرنا چاہتی ہوں“تم میں ایسا کیا ہےکہ میں تمہاری توجہ حاصل کرنا چاہوں گی ۔”تم کوٸی سلمان خان،یا شاہ رخ ہو کیا،اور تم جیسوں کی پروا میری جوتی بھی نہیں کرتی۔وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔

زین غصے سے کھول کر رہا گیا۔۔۔

تمہأری۔۔۔ تمہاری ہمت کیسے ہوٸی مجھ سےاس طرح بات کرنے کی۔زین دھاڑا۔۔۔

“اگر بولنے کی ہمت رکھتے تو سننے کی بھی ہمت رکھا کریں مسٹر؟“وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔

تمہارا نام کیا ہے؟ زین نے خشک لہجے میٍں پوچھا۔۔

کیوں ؟ یونیورسٹی سے نکالنا کیا؟یا پھر اپنی ماما کو لیکر آنا ہے میری شکایت کرنے۔۔۔وہ استھہزاٸیہ لہجے میں بولی۔

“کسی بھول میں مت رہنا“میرے صرف ایک اشارے کی دیر ہے تم اس یونیورسٹی سے باہر ہونگی“زین نے چبھتے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔۔

“اللہ اللہ“کتنے عجیب ہو تم اور تھوڑے بیوقوف بھی“چلو خیر بتا دیتی ہوں تمہیں نام۔۔میرا نام پری زیب قریشی ہے۔۔۔جاٶ جو کرنا کر لو۔۔“وہ دل جلانے والے انداز میں کہہ کر وہاں سے آگے بڑھ گٸ۔۔

زین کا دماغ غصے سے پھٹنے والا ہو گیا تھا۔۔وہ اپنی کار کیطرف بڑھا اور آندھی طوفان کیطرح کار اوڑاتا گھر پہنچا۔اور اپنے کمرے کیطرف بڑھ گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پری زیب گھر آٸی تو ساٸرہ نے جلدی سے اسکے لٸےانار کا جوس لے آٸی۔۔

“کیسے چہرہ گرمی سے سرخ ہوا ہے۔۔جلدی سے یہ پٸیو اور جاکر فریش ہو جاٶ“تب تک میں چپاتی بناتی ہوں۔۔”ساٸرہ نے کہا۔۔۔

پری زیب اثبات میں سر ہلا جوس پینے لگی۔۔پھر وہ جوس ختم کرکے اٹھ کر اندر کپڑے چینج کرنے چلی گٸ۔۔

پھر وہ جب کپڑے چینج کرکے آٸی تو ساٸرہ کھانا رکھ کر اسی کا ویٹ کر رہی تھی۔

پھر وہ دونوں کھانا کھانے لگی۔۔۔

کیسا دن گزرا تمہارا؟ ساٸرہ نے پوچھا۔

بہت اچھا۔۔۔۔بٹ آتے آتے ایک بدتمیز سے ٹکراٶ ہو گیا تھا اسکی اچھی خاصی طبیعت صاف کی میں نے،،پری زیب نے مسکرا کر کہا۔۔۔

اچھا۔۔۔کیا ہوا تھا ویسے؟ ساٸرہ نے پوچھا۔

پری زیب اسےمزے لے لے کر سب واقعہ بتانے لگی۔۔۔۔

ارے یار۔۔۔۔۔کہیں وہ لڑکا تمہیں نقصان نہ پہنچا دے؟ساٸرہ نے کہا۔۔

بھابھی ڈونٹ وری۔۔،میں ہینڈل کر لونگی۔۔ہ جلدی سے بولی اور پھر وہ کھانے کے بعد برتن اٹھا کر کچن میں رکھنے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی لاٶنج میں اپنی این جی او کی خواتین کیساتھ بیٹھی تھی کہ زین کو غصے سے اندر داخل ہوتے دیکھ کر چونکی۔۔

وہ سلام کٸے بنا ہی سیڑھیاں پھلانگتا اپنے روم کیطرف جا رہا تھا۔۔۔۔

ایکسیوزمی۔۔۔۔۔میں زرا اپنے بیٹے کو دیکھ لوں،ناٸلہ نے کہا اور پھر تیزی سے زین کے پیچھے چلی آٸیں۔۔۔

وہ کمرے میں داخل ہوٸی تو زین پورا کمرہ تہس نہس کر چکا تھا۔۔۔

زین میری جان کیا ہوا ہے اتنے غصے میں کیوں ہو؟ ناٸلہ آفندی نے پوچھا۔۔۔

“کچھ نہیں ہوا مام“پلیز اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔وہ مضطرب لہجے میں بولا۔۔۔۔

ناٸلہ آفندی نے گہرا سانس بھرا اور چپ چاپ باہر نکل آٸیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھابھی میں زرا لاٸبریری جا رہی ہوں ؛کچھ بکس ایشو کروانی ہے تو بس ایک گھنٹے میں واپس آ جاٶں گی؛ پری زیب نے کہا۔۔اور باہر نکل گٸی۔۔

وہ کیب کروا کر لاٸبریری پہنچی اور بکس ریک سے وہ بکس نکالنے لگی جو اسے ایشو کروانی تھی“پھر وہ ٹیبل کے پاس آٸی تو اس پہ ایک انگلش ناول پڑا تھا۔اس نے جلدی سے وہ ناول کا نام پڑھا۔۔

اوووہ ماٸی گاڈ۔۔۔یہی تو تھا وہ ناول جو بھابھی مانگ رہی تھی۔وہ ناول اٹھا کر مڑی تو پیچھے کھڑے زین کو دیکھ کر چونکی۔۔۔

چورنی کہیں کی۔زین نے اسکے ہاتھ سے کتاب جھپٹتے ہوۓ کہا۔۔

“تمہیں میں چورنی لگتی ہوں ؟“وہ غصے سے کمر پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔۔

“ہاں تو اور کیا “تم نے میری ایشو کی ہوٸی بک بنا میری اجازت کے اٹھا لی اور آنکھیں بھی مجھے دیکھا رہی ہو اور آٸندہ میری کسی چیز کو ہاتھ مت لگانا“وہ سرد انداز میں بولا۔۔

تم نے ایشو ہی کرواٸی ہے جبکہ ایٹیٹیوڈ ایسے دیکھا رہے ہو جیسے خریدی ہوتی ہے“وہ تنک کر بولی۔۔

یہ اگر خریدی ہوٸی ہوتی تو پھر تم نے اسکو ہاتھ لگایا ہوتا توپھر میں اسکو آگ لگا دیتا۔وہ اسکی طرف مڑتے ہوۓ بولا۔۔

پری زیب کی آنکھوں میں شرارت ناچنے لگی۔وہ آگے بڑھتے ہوۓ اسکے سامنے کھڑی ہو گٸ۔۔

“لو تمہیں بھی چھو لیا ہے میں نے تو اب خود کو بھی جلا لو“وہ اسکے بازو کو چھو کر بولی۔۔

زین غصے سے بل کھا کر رہ گیا۔۔۔

“تم“تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟ وہ چلا کر بولا۔۔

انسان۔۔۔۔۔۔اطمینان سے جواب آیا۔۔

زین نے غصے سے ناول اسکو تھمایا اور لمبے لمبے ڈنگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔

پری زیب فاتحانہ انداز میں مسکرا دی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔