Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima NovelM80070 Mein Kese Kaho (Episode - 10)
Mein Kese Kaho (Episode - 10)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Mein Kese Kaho By Umme Emman Fatima
میرا نام زین آفندی ہے،وہ ہولے سے بولا۔۔
تمہارا نام زین نہیں آج سے کیوٹ بھولا ہوگا“فاریہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
زین اسکی مسکراہٹ میں کھو ہی گیا تھا۔۔
پھر کالج کے پورے چار سال میں وہ دونوں بہت اچھے دوست بن چکے تھے۔۔وہ فاریہ کا بھولا تھا اور فاریہ اسکی سوہنی۔۔
فاریہ نے اسکے اندر اعتماد بھرا تھا۔اسکی خوبیاں وہ گن گن کے سامنے رکھتی تھی کہ زین آفندی جو خود سے شرم محسوس کرتا تھا خود پہ فخر کرنے لگا۔۔
أور پھر وہ دونوں ایک دوسرے کے کلوز تو تھے ہی۔مگر انکی سالگرہ بھی ایک ہی دن ہوتی تھی۔۔
اس دن بھی زین بہت خوش تھا کیونکہ دونوں ایم بی اے میں ایڈمیشن لے چکے تھے اور دونوں کی آج برتھ ڈے تھی اور وہ فاریہ کو پرپوز کرنا چاہتا تھا مگر اس نے اس سے پہلے اپنی مام کو اسکے گھر رشتہ دیکر بھیجا تھا اور اپنی مام سے رشتہ پکا ہونے کا سن کر وہ فاریہ کوخود پرپوز کرکے اسکی خوشی کا اندازہ لگانا چاہتا تھا۔۔۔اور اس لٸے وہ اپنی مام کے ہاتھ اسکے گھر پارٹی کا انویٹیشن بھیج کر خود پارٹی کی تیاریاں مکمل کر رہا تھا۔
۔اور کچھ دیر بعد ناٸلہ آفندی اندر داخل ہوٸی تو وہ انکا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر بےچین ہوگٕا۔۔
مام “آپ ٹھیک ہیں؟ زین نے پوچھا۔۔۔
ناٸلہ آفندی نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔
کک“کیا ہوا؟ اس نے اٹکتے لہجے میں پوچھا۔۔
تمہاری سوہنی نے تم سے شادی سے انکار کردیا۔۔ناٸلہ آفندی کہہ کر رو پڑی۔۔
نہیں“نہیں۔۔وہ مجھ سے شادی سے انکار نہیں کر سکتی۔وہ بہت محبت کرتی ہے۔اس نے کہا تھا میرے کیوٹ بھولے تم میری جان ہو“وہ متوحش لہجے میں بولا۔۔
پھر وہ دوڑتا ہوا باہر نکل گیا۔۔ناٸلہ آفندی اسکے پیچھے بھاگی۔۔
مگر وہ زن سے گاڑی اڑاتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین نے گاڑی فاریہ کے گھر کے سامنے کھڑی کی اور دروازہ کھٹکھٹایا۔۔فاریہ نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑے زین کو اسکی آنکھیں سرخ محسوس ہوٸی۔ایسا لگ رہا تھا وہ روتی رہی ہے۔۔
سوہنی کیا ہوا ہے آپ کو؟کیوں کر رہی ہیں آپ ایسا؟ وہ تڑپ کر بولا۔۔
مسٹر زین آفندی یہاں سے ابھی اور اسی وقت دفع ہو جاٸیں۔ورنہ مجھے پولیس کو بلوانا پڑے گا۔۔فاریہ نےغصے سے کہا۔۔
مجھ سے محبت کرتی ہیں نہ آپ ۔۔تو پھر یہ سب کیوں کر رہی؟وہ نم لہجے میں بولا۔۔
تم نے میرے گھر پرپوز بھیجا۔تم نے خود کو کبھی دیکھا ہے۔تم میرے قابل ہو کیا؟ میرا تمہار کوٸی جوڑ نہیں ہے یہ جانتے ہو نہ۔۔فاریہ نے چلا کر کہا۔
میں جانتا ہوں سوہنی میں پیارا نہیں ہوں مگر میں آپ کو زندگی بھر کبھی دکھ نہیں دونگا“وہ تڑپ کر بولا۔۔
دفع ہو جاٶ یہاں سے۔۔فاریہ نے غصے سے کہا۔۔
سوہنی،آپ مجھے نہی چھوڑ سکتی آپ تو میری واحد خوشی ہو“میں آپ کے بنا مر جاٶں گا۔۔وہ تڑپ کر بولا۔
تو مر جاٶ بوجھ کم ہو جاۓ گا دھرتی سے۔اور تم زرا آٸینے میں خود کو دیکھنا کیا ہو تم۔تمہارے دوست تمہیں فرعون کی لاش جو کہتے ہیں وہ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔وہ اس پہ چلاٸی۔۔
اور دروازہ زور سے بند کر دیا
وہ اسکی بات پہ ساکت ہو گیا۔۔پھر وہ تھکے قدموں کیساتھ چلتا ہوا گاڑی تک آیا اور پھر زیڈ اینڈ این انڈسٹری کے سامنے اس نے گاڑی روکی اور اسکی تیسری منزل پہ پہنچ کر کود گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکو دس دن کے بعد ہوش آیا تو وہ خالی خالی نظروں سے چھت کو گھورتا رہتا۔۔اور پھر کچھ دیر کے بعد اسکو چھٹی ہو گٸی۔مگر وہ پیرالاٸزد ہو چکا تھا۔اس نے اپنی انیکسی میں اسکی تصویریں لگا رکھی تھی۔وہ دن رات وہیل چیٸر پہ بیٹھا اسے دیکھتا رہتا اور روتا رہتا تھا۔۔
پھر روتے روتے وہ غصہ کرنے لگا۔پھر وہ نفرت کی ان دیکھی آگ میں جھلسنے لگا۔۔پھر ایک سال بعد اس نے پراپر میڈیسن لینی شروع کردی۔اور میڈیسن سے اسکا جسم پھول گیا۔مگر ایک سال مزید مسلسل کیٸر سے وہ اپنے پاٶں پہ کھڑا ہو گیا تھا۔۔
پھر اس نے جم جواٸن کرکے خود کو فٹ کیا۔اور پھر یونیورسٹی میں دوبارہ ایڈمیشن لیا۔مگر اسکی زندگی میں ہلچل مچانے پری زیب آ گٸی۔وہ اسکے بھولے پن اور خوبصورتی میں ابھی جکڑا ہی تھا مگر پری زیب نے اپنی برتھ پہ جو پکس سینڈ کی اس نے زین کو ساکت کر دیا۔
اسکے اندر نفرت کی چنگاری پھر سے آگ کی صورت اختیار کر گٸی۔اور اس نے فاریہ اور احمر کے رشتے کا سنا تو یہ بات اسے پاگل کر گٸی۔اس نے احمر کی لاڈلی بہن اور فاریہ کی جان پری زیب کو اپنے بدلے کا ہتھیار بنا لیا۔۔
اور وہ آج فاریہ کو سبق سکھانا چاہتا تھا مگر احمر نے پھر سے انٹری ماردی۔اور اس چیز نے اسے مزید پاگل کر دیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال۔۔۔۔
زین نے سرخ آنکھوں سے وال کلاک پہ ٹاٸم دیکھا جہاں رات کے دو بج رہے تھے۔۔پھر اس نے موباٸل اٹھا کر دیکھا تو پری زیب کی پچپن مسڈ کال اور سو کے قریب میسیج تھے۔۔
زین کے ماتھے پہ بل آ گٸے۔۔
دوبارہ پھر سے فون بجا تو زین نے کال کاٹ کے موباٸل ساٸیڈ پہ رکھ دیا۔۔
پھر دوبارہ سے فون بجا تو زین کی آنکھوں میں غصہ اتر آیا۔۔
کیا تکلیف ہے تمہیں پری زیب“وہ کال رسیو کر کے دھاڑا۔۔
زین میں پریشان ہو گٸی تھی آپ فون نہیں اٹھا رہے تھے۔۔وہ سہم کر بولی۔۔
مر نہیں گیا میں۔۔ یہیں ہوں۔۔اور جان بوجھ کر فون نہیں اٹھا رہا تھا۔نہیں بات کرنا چاہتا میں تم سے۔جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی تم میری۔۔وہ غصے سے بولتا چلا گیا۔۔
پری زیب اسکے اتنا غصہ کرنے پہ گھبرا گٸی۔۔
زز“زین میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ۔۔۔۔
گڈ ناٸٹ پری زیب،اس نے کہہ کر فون کاٹ دیا۔۔
کچھ دیر بعد میسیج ٹون بجی تو اس نے میسیج دیکھا تو پری زیب کا ہی تھا۔
پلیز زین“مجھ سے کچھ غلطی ہوٸی کیا۔اگر ہوٸی تو مجھے معاف کردیں۔۔زین نے میسیج پڑھا اور پھر موباٸل ساٸلنٹ پہ لگا کر آنکھوں پہ بازو رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاریہ کی آدھی رات کو آنکھ کھلی تو پری زیب بستر میں نہیں تھی۔وہ جلدی سے اٹھ کر باہر آٸی تو پری زیب لاٶنج میں بیٹھی رو رہی تھی۔۔۔وہ جلدی سے اسکی طرف بڑھی
پری میری جان کیا ہوا ہے؟ فاریہ نے اسکاچہرہ اپنی طرف کرتے ہوۓ پوچھا۔۔
فری آپی۔۔مجھے بہت درد ہو رہا ہے ۔۔زین مجھ سے ناراض ہیں میرے سے شاید کوٸی غلطی ہو گٸی ہے۔۔وہ مجھ سے بات نہیں کر رہے۔وہ فاریہ کے گلے لگ کر روتے ہوۓ بولی۔۔
فاریہ اس کی زین کیلٸے محبت میں شدت دیکھ کر سن پڑ گٸی تھی۔۔
پھر فاریہ بمشکل اسے اٹھا کر روم میں لاٸی اور سلیپنگ پلز دیکر اسے سلایا۔۔۔
یہ تم نہیں ہو سکتے زین آفندی۔مجھ سے نفرت ہے تمہیں مگر اس کا بدلہ معصوم سی پری زیب سے کیسے لے سکتے ہو۔۔تم سے اس قدر محبت کرنے لگی ہے وہ کہ تمہاری زرا سی ناراضگی نے پری زیب جیسی مضبوط اور پراعتماد لڑکی کو ہلا دیا ہے۔۔وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوٸی۔اور پھر لاٸٹ بند کرکے وہ سو گٸی۔۔
صبح فجر ٹاٸم جب اٹھی تونماز پڑھ کر اس نے رکشہ کروایا اور آفندی ولا کے سامنے پہنچ گٸی۔۔
مجھے مسز ناٸلہ آفندی سے ملنا ہے۔اس نے کہا۔۔
کارڈ ہے آپکے پاس؟ گارڈ نے پوچھا۔۔
نہیں میرے پاس کوٸی کارڈ نہیں ہے۔بس ایک کام کرو اہنی میڈم کا فون ملاٶ اور انکو بولو۔فاریہ محمود صابری ان سے ملنا چاہتی ہے۔فاریہ نے تلخ لہجے میں کہا۔گارڈ جلدی سے فون ملانے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناٸلہ آفندی ابھی جم روم سے نکل کر فریش ہونے کیلٸے اپنے روم کیطرف بڑھی تو انکا موباٸل بجنے لگا۔۔
انہوں نے نمبر دیکھا تو گارڈ کا تھا۔۔
اس کو کیا کام پڑگیا صبح صبح۔۔ناٸلہ آفندی بڑبڑاٸی۔۔
ہیلو یس اعظم۔۔۔انہوں نے کال رسیو کرکے کہا۔۔
میم کوٸی فاریہ محمود آٸیں ہیں۔کہہ رہی آپ سے ملنا چاہتی ہے۔۔
ناٸلہ آفندی گارڈ کی بات سن کر شاکڈ رہ گٸی۔
وہ تیزی سے باہر نکلی اور گاڑی میں بیثھ کر گیٹ کے پاس آٸی جہاں فاریہ کھڑی تھی۔۔
گارڈ نے انہیں دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا ۔۔
ناٸلہ آفندی نے کار فاریہ کے پاس کھڑی کی اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اسے بیٹھنے کو کہا۔
فاریہ کے بیٹھتے ہی انہوں نے گاڑی چلادی ۔پھر کچھ دور جاکر انہوں نے گاڑی ایک ساٸیڈ پہ روکی۔۔
اترو۔۔۔انہوں نے کہا اور خود بھی وہ گاڑی سےاتر کر باہر نکل آٸیں تھی۔
کیا چاہتی ہو تم؟ ناٸلہ آفندی نے چلا کر پوچھا۔۔۔
آپ کے بیٹے کو آپکا اصلی روپ دیکھانا چاہتی ہوں ۔اس کی آٸیڈیل ماں اصل میں ایک بناوٹی عورت ہے یہ بتانا چاہتی ہوں میں۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔اور میرے بیٹے کی زندگی میں تم دوبارہ کیوں آٸی ہو۔۔ناٸلہ آفندی نے غصے سے کہا۔۔۔
میں نہیں آٸی بلکہ آپ کا بیٹا میری زندگی میں دوبارہ آیا ہے اور اس کیلٸے وہ پری زیب کو استعمال کر رہا ہے۔۔فاریہ نے تلخ لیجے میں کہا۔۔
تم پری زیب کو کیسے جانتی ہو؟ ناٸلہ آفندی نے چونک کر پوچھا۔۔
پری زیب میری ہونے والی نند ہے“۔۔۔فاریہ نے گویا انکے سر پہ دھماکا کیا تھا۔۔
وہ منہ پہ ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
کل اس نے ٹریٹ دی اور جانتے ہیں سب کچھ میری پسند کاکیا اور رات سے پری زیب سے بھی بے رخی اختیار کی ہے۔وہ لڑکی پوری رات روٸی ہے۔منتیں کرتی رہی زین کی کہ اس سے بات کر لے مگر آپکے بیٹے کو زرا ترس نہیں آیااس پہ۔۔کیونکہ وہ مجھ سے بدلہ لینے کیلٸے پری زیب کو استعمال کر رہاہے تو میں اسکو ایسا کرنے نہیں دونگی۔اسکو آپ کی اصلیت بتاٶں گی۔کہ اس سرپراٸز پارٹی کے دن ہوا کیا تھا اور میں نے کیوں اس سے اتنے سخت لہجے میں بات کی۔اور یہ بھی کہ آپ میرے باپ کی موت کی ذمہ دار ہیں۔آپ کے دٸیے ہوۓ دکھ نے انہیں چارپاٸی پہ لگا دیا تھا۔فاریہ مسلسل بولتی چلی گٸی۔۔
ناٸلہ آفندی کے چہرے پہ ایک سایہ سا لہرا گیا۔۔
پھر وہ تلخ انداز میں مسکراٸی۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے ساڑھے چار سال بعد اسکو تم سب بتاٶ گی تو وہ مان جاۓ گا۔جبکہ میں نے پری زیب کو تمہاری کلاس کی ہونے کے باوجود اپنایا ہی نہیں بلکہ اپنے بیٹے کو خود اسکی طرف ماٸل کیا۔۔
بہت ہی شاطر عورت ہیں آپ۔فاریہ نے نفرت سے کہا۔۔
تمیز سے بات کیا کرو مجھ سے“ناٸلہ آفندی نے ناگواری سے اسے کہا۔۔
آپکے بیٹے کو سچ ضرور بتاٶں گی میں۔تاکہ وہ پری کو دکھ دینے کیلٸے جو قدم اٹھا رہا ہے وہ روک سکے۔فاریہ کہہ کر مڑنے لگی تو ناٸلہ آفندی نےاسے روکا۔
۔
زین کو سب سچ بتا کر تم پری زیب کو زیادہ دکھ دے دو گی
اور ہو سکتا پھر زین اسکو چھوڑ کرتمہیں اپنانا چاہے تو جانتی ہی ہو پری زیب کے والد ہارٹ پیشنٹ ہیں،تو شاید وہ یہ صدمہ نہ سہہ پاۓ۔باقی اب تمہاری مرضی کہ تم بتا کر سب ختم کرنا یا پھر احمر کے کلوز ہوکر زین کو یہ احساس دلانا کہ تمہاری زندگی میں اب صرف احمر ہے۔۔۔ناٸلہ آفندی نے سنجیدگی سے کہا۔۔
فاریہ انکی باتوں پہ لب بھینچ کر رہ گٸی۔پھر وہ واپسی کیلٸے رکشہ کروا کر اس میں بیٹھ کر گھر کیطرف چل دی۔۔
پیچھے کھڑی ناٸلہ آفندی کی آنکھ سے ایک آنسو نکل کر انکے رخسار پہ لڑھک گیا۔انکے چہرے پہ کرب کی پرچھاٸیاں چھا گٸی۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاریہ نے رکشہ ایک پارک کے سامنے رکوایا اور پھر رکشے سے اتر کر وہ پارک میں داخل ہوٸی اور ایک بینچ پہ بیٹھ گٸی۔اور اسکی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گٸے۔۔
میں کیسے کہوں زین آفندی میں نے وہ جو دکھ تمہیں دیا اس نے مجھے بھی خالی کر دیا تھا۔۔برسوں سے میں جہاں تھی آج بھی وہی کھڑی ہوں ،وہ کرب سے آنکھیں میچ کر دل ہی دل میں زین سے مخاطب ہوٸی۔۔۔۔
پھر وہ سر جھکا کر ماضی کی اتاہ گہراٸیوں میں کھو گٸی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی۔۔۔۔
میں بہت خوش ہوں سوہنی،کیونکہ ہم اب یونیورسٹی میں بھی ساتھ ساتھ ہونگے۔۔ ۔۔زین نے فاریہ کا ہاتھ تھام کرپرجوش انداز میں کہا۔۔۔
ہاں بھولے ہماری دوستی یونیورسٹی میں بھی ایسے ہی مضبوط رہے گی۔۔
زین نے اسکی بات پہ اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔
اوکے بھولے میں چلتی ہوں مجھے آپی کیطرف سے اپنے ڈریس لیکرپھر گھر جانا ہے۔۔فاریہ نے کہا اور پھرزین کو خدا حافظ بول کر نکل گٸی۔۔
پھر وہ ساٸرہ کیطرف سے ڈریس لیکر گھرپہنچی تو زین کا فون آنے لگا۔۔
ہیلو میرے کیوٹ بھولے۔۔اداس بھی ہو گٸے ہو۔۔فاریہ فون کان کو لگاتے ہوۓ بولی۔۔
سوہنی،مام تم سے ملنے آ رہی ہیں۔۔ پلیز اچھے سے تیارہو جاٶ۔زین نے جلدی سےکہا۔۔
فاریہ کے چہرے پہ خوشی کے رنگ بکھر گٸے۔۔
پھر زین کے فون بند کرنے کے بعد وہ جلدی سے تیار ہونے لگی۔۔۔