📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="8"]
55020 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

میں پہنچ کر ان چاروں نے چنری کے کونوں کو چاروں طرف سے پکڑا تھا…. زینب اور جہانزیب آگے… علی اور حماد پیچھے تھے….لان میں جمع سب کی نظریں اس پری پیکر کی طرف اٹھی تھی…. کیمرہ مین المیرا کی ویڈیو بنارہا تھا… یوشع دادی کے ساتھ سٹیج پر رکھے صوفے پر بیٹھا باتیں کرنے میں مصروف تھا جب اس کی نظر اس دشمن جاں پر پڑی جو اس وقت خوبصورتی کی زندہ مثال بنی ہوئ تھی…. چند پل کیلۓ نظریں ہٹنے سے انکاری ہوگئ تھی بے اختیار منہ سے ماشااللّه نکلا تھا…. دادی نے بھی المیرا کی بالائیں اتاری تھی وہ قدم قدم چلتی اسٹیج تک آرہی تھی…. کچھ کی نظروں میں المیرا کیلۓ ستائش تھی سواۓ ماہی اور خدیجہ بیگم کے…. کچھ کی نظروں میں حسد جلن…. کوئ خوش تھا تو کوئ ناخوش…. یوشع کی نظریں تو ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی…. اس سے پہلے کہاں اس نے المیرا کو کبھی اتنا سجا سنورا دیکھا تھا…. وہ تو ہمیشہ سادگی میں ہی رہتی تھی…. ماہی کی نظر یوشع پر پڑی دل میں المیرا کیلۓ اور زیادہ نفرت پیدا ہوگئ… دل بجھا تھا…. یوشع صوفے سے اٹھا….. قدم قدم چلتا اسٹیج کی بنی سیڑھیوں تک آیا… اپنا ہاتھ المیرا کی طرف بڑھایا…. المیرا نے نظریں اٹھا کر یوشع کو دیکھا…. وہ مسکرایا… المیرا نے دل میں نظر اتاری…. وہ بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھا….. بلیک کلر اسکی گوری رنگت پہ خوب جچتا تھا وہ زیادہ تر بلیک کلر ہی استعمال کرتا تھا… بلیک ہی بوٹ…. بالوں کو جیل سے سیٹ کۓ…. ہاتھ میں برینڈڈ واچ…. وہ بے حد خوبصورت لگ رہا تھا…. اوپر سے اس کی گہری براؤن آنکھیں اور اس کے دائیں گال پہ پڑتا اس کا ڈمپل اس کی خوبصورتی کو اور چار چاند لگا دیتے تھے…. المیرا نے بھی مسکراتے ہوۓ اپنا نازک ہاتھ اسکی چوڑی ہتھیلی پر رکھا…. لان میں سیٹیوں کی آوازیں گونجی تھی…. المیرا اسٹیج پر چڑھی…. اور اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئ….. دادی نے نظریں اتاری تھی…. کچھ پل بعد منگنی کا شور اٹھا تھا…. یوشع ایکسکیوز کرتا اسٹیج سے نیچے اترا تھا…. حماد کی نظریں یوشع پر تھی جو ماہی کی طرف بڑھ رہا تھا…. حماد جب سے یہاں آیا ہے اور جب سے اس نے ماہی کو دیکھا ہے اسے ماہی کچھ عجیب سی لگی تھی…. حماد نے بہت بار ماہی کی نظریں یوشع کی طرف اٹھتی دیکھی تھی کچھ حد تک تو وہ سمجھ بھی گیا تھا مگر مکمل طور پر شیور نہیں ہوا تھا….. یوشع ماہی کے قریب پہنچا….”چلو یار تم یہاں اکیلی کیا کررہی ہو؟؟ آؤ چلو….” وہ ماہی کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنے لگا تھا….یوشع پلیز…” اس نےاپنا ہاتھ چھڑوایا تھا…. یوشع نے حیرانگی سے اسے دیکھا….آر یو اوکے؟؟ کیا ہوگیا ہے تمہیں میں لاسٹ ویک سے تمہارا یہ روڈ بیہیو دیکھ رہا ہو’ تمھارے بڈی کی انگیجمنٹ ہے اور تم ذرا بھی مجھے خوش نہیں لگ رہی….”جلدی خیال نہیں آگیا تمہیں میری خوشی کا” اس نے طنزیہ لہجے میں کہا….اوکے’ تو پھر بتاؤ ایسا کیا ہوا ہے؟؟ جو تم خوش نہیں ہو…. بیکوز اٹس سچ آ پلیزنٹ ڈے آف مائ لائف اور اس دن تم اداس ہو یہ مجھے گوارا نہیں’ جلدی بتاؤ دیکھو سب بلارہے ہیں…. یوشع نے سٹیج کی طرف دیکھا جہاں سب اسے بلارہے تھے… اس کے منتظر تھے…. حماد مشکوک نظروں سے ماہی کو دیکھ رہا تھا…. یار بتانا ہے تو بتاؤ ورنہ چلو…” اس نے ایک پار پھر اس کی کلائ پکڑی…. وہ مڑا تھا…. اس نے قدم آگے بڑھاۓ تھے….آئ لو یو آ لوٹ….” یوشع کے قدم آگے بڑھنے سے انکاری ہوۓ تھے…. آنکھوں میں حیرت ابھری تھی…. مگر پھر وہ مسکرا کر پلٹا…. مزاق اچھا کرلیتی ہو ماہی’ کب سے سیکھا؟؟”آئ رئیلی وانٹ ٹو یو” لوک ماہی’ انف’ اگر تو یہ تمھارا واقعی کوئ مزاق ہے تو اس ٹائم مجھے تمھارا یہ مزاق بالکل پسند نہیں آیا’ آئندہ مجھ سے اس قسم کے گھٹیا قسم کے مزاق مت کرنا….”آئ رئیلی سپینڈ مائ ہول لائف وید یو’ آئ رئیلی لو یو’ اٹس آ رئیل نوٹ آ فن…”یوشع نے گہری سانس خارج کی…. یوشع کا دل کیا اس کے منہ پر رکھ کر دے مگر ضبط کرگیا….”اوکے ماہین عمران لسن’ وئ آر جسٹ آ بیسٹ فرینڈز نتھنگ ایلز’ یونو ویری ویل ٹوڈے از مائ انگیجمنٹ وید المیرا خان’ آئ رئیلی لو ہر’ یوشع یوسفزئ کی لائف میں نہ المیرا سے پہلے کوئ تھا نہ اس کے بعد کوئ ہوگا’ میرا پہلا اور آخری عشق ہے وہ’ ہم دوست تھے’ ہیں اور رہے گے’ اس سے زیادہ کی مجھ سے امید مت رکھنا’ اب اگر تم نے آنا ہے تو آؤ ورنہ کھڑی رہو’ کیونکہ تمھارے ہونے یا نہ ہونے سے نہ ہی یوشع ہوسفزئ کہ انگیجمنٹ رکے گی اور نہ ہی شادی’ میری شادی صرف المیرا سے ہوگی ہر حال میں’ پھر چاہے کوئ خوش ہو یا نہ ہو’ یو آر ویری ڈس آپوآئینٹڈ ٹو می….” وہ مڑا تھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اسٹیج کی طرف بڑھ گیا تھا… وہ وہیں بجھے دل نم آنکھوں سے کھڑی اس کو جاتا دیکھ رہی تھی… اس نے تو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر اپنی محبت کا اظہار کیا تھا… اسے تو لگا تھا کہ یوشع اس کے جزبات کی قدر کرے گا مگر وہ تو بےحس بن گیا….. اس نے اس کے جزبات کی بالکل قدر نہیں کی….. اس کی محبت کو دو کوڑی کا بنا کر رکھ دیا… اسے تو بس اپنی خوشیاں اپنی محبت نظر آرہی ہے….اس کی محبت محبت….میری محبت کچھ نہیں….🙃ایوریتھنگ از آل رائٹ…” علی نے پوچھا… سب کی ہی نظریں یوشع پر تھی….یہااا ایوریتھنگ از پرفیکٹلی….” یوشع نے اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل کیا تھا…. دادی نے یوشع کے ہاتھوں میں رنگ دی…. نیو ڈیزائن کی نیو رنگ بنوائ گئ تھی…. یوشع نے المیرا کو اپنے نام کی انگوٹھی پہنائ….. دور کھڑی ماہی نے سختی سے آنکھیں میچی تھی….. اس سے یہاں کھڑا ہونا دوبھر ہورہا تھا…. وہ یہاں سے دور بھاگ جانا چاہتی تھی…. المیرا یوشع کو رنگ پہنانے لگی تھی جب ایک نظر سٹیج پر کھڑے سب لوگوں پر ڈالی…. نظریں خان پر جاکہ ٹہر گئ جو اسٹیج پر ہی یوسف صاحب کے ساتھ کھڑے تھے…. خان بھی المیرا کو ہی دیکھ رہے تھے…..چلو بیٹا رنگ پہناؤ دیر ہورہی ہے….. دادی نے کہا…. اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا…. مگر اس کی نظریں اب بھی خان پر جمی تھی… المیرا کے ساتھ کھڑے جہانزیب نے المیرا کے سر پر ہاتھ رکھا…. المیرا نے نظریں جھکائ…. جہانزیب کو دیکھ کر زخمی سا مسکرائ….خان قدم آگے بڑھانے لگے تھے…. مگر رک گۓ…. المیرا رنگ پہنا چکی تھی…. ایک بار پھر تالیوں سیٹیوں کی آوازیں گونجی تھی….. خان کا دل کٹا تھا… کیا وہ واقعی اتنا دور ہوگئ ہے مجھ سے کہ ایک دفعہ بھی مجھے پکار نہ سکی……” انہوں نے دل میں سوچا تھا…. اس نے آج انگیجمنٹ کرلی تھی باپ سے سر پر ہاتھ رکھواۓ بغیر باپ کی دعائیں لیے بغیر’ دل تڑپ اٹھا تھا…. (انکل وقت کے رہتے اس کو اپنے سینے سے لگالے کہیں ایسا نہ ہو وقت ہاتھوں سے نکل جاۓ…)” یوشع کی کہی بات کانوں میں گونجی…. کیا واقعی وقت میرے ہاتھوں سے نکل گیا ہے…. وہ سب ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے…. خدیجہ منہ بناتے اسٹیج سے اتری تھی…. ماہی گھر کے اندر کی طرف بڑھ گئ تھی…. آج کے فنکشن میں ان کے بزنس پارٹنر بھی تھے…. کچھ لڑکیاں کھڑی باتیں کررہی تھی…. حسد بھری نظروں سے اس خوبصورت جوڑے کو دیکھ رہے تھے…. جو ایک ساتھ کتنے پیارے اور خوبصورت لگ رہے ہیں….واہ بھئ کیا قسمت پائ ہے المیرا خان نے……کب کس کی کھل جاۓ کیا پتا چلتا ہے….مینیو کھول دیا گیا تھا…. سب کھانے میں مصروف ہوگۓ تھے…. اور جنموں کے بھوکے علی’ حماد اور جہانزیب کھانے پہ ٹوٹے ہوۓ تھے اور وہ دونوں سٹیج پر بیٹھے تھے…. المیرا نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی… جب یوشع نے اس کا مومی ہاتھ اپنی گرفت میں لیا…. اس نےنظریں اٹھا کر یوشع کو دیکھا…. آج وہ جتنا اپنی قسمت پر رشک کرتی اتنا کم تھا…..اسے اس کی محبت اس کا عشق مل گیا تھا…. ایم آلویز وید یو مائ لو….” وہ مسکرائ… وہ بھی مسکرایا….وہ تینوں اسٹیج پر چڑھے تھے….اوۓ ہوۓ لو برڈز’ رومانس چل رہا ہے ہاں’ حماد نے کہا…..اور تم سب آگۓ کباب میں ہڈی’میرے رومانس کے دشمن….’ یوشع نے بھی بنا کسی لحاظ سے کہا کسی کی بھی پرواہ کۓ بغیر…..حماد نے منہ بنایا…. وہ دونوں ہنسے تھے….شہری اپ نے آج کسی کو سرپرائز دینا تھا بھول گۓ کیا…”جان یوشع میں بھول سکتا ہو کیا؟؟”اوۓ کیسا سرپرائز ہمیں بھی بتاؤ؟؟؟علی نے بےتابی سے پوچھا….ابھی پتا چل جاۓ گا….” یوشع یہ کہتا صوفے سے اٹھا…. مائیک اپنے ہاتھ میں لیا….لیڈیز اینڈ جینٹل مین…” سب نے اسٹیج کی طرف دیکھا….سب سے پہلے تو میں آپ سب کا تہہ دل سے شکرگزار ہو کہ آج آپ سب یہاں آۓ ہمارے لۓ وقت نکالا’ اتنی بیسٹ ویشز کیلۓ جو آپ سب سے ملی’ ٹھینک یو سو مچ فور ایوریتھنگ’ مگر ان سب سے ہٹ کر آج میرے پاس دو خاص لوگوں کیلۓ سرپرائز ہے اور اب آپ سب سوچ رہے ہونگے کہ وہ دو خاص لوگ کون ہے تو لیڈیز اینڈ جینٹل مین وہ بھی ابھی آپ کو پتا چل جاۓ گا’ اینڈ ایم شیور کہ جس کیلۓ یہ سرپرائز رکھا گیا ہے انہیں تھوڑی دیر میں حیرت کے جھٹکے لگنے والے ہیں….” وہاں بیٹھے سب مسکراۓ تھے…. زینب بھی کھانا کھاتے یوشع کی سن رہی تھی…. یوشع نے ایک نظر اپنے سب فیملی ممبرز پر ڈالی…. سب سے پہلے اپنے ڈیڈ پھر علی کے موم ڈیڈ اور اس کے بعد زینب کے موم ڈیڈ پر جو بیٹھے مسکرارہے تھے…. المیرا بھی اٹھ کھڑی ہوئ…. یوشع نے ایک نظر علی اور پھر زینب پر ڈالی…. وہ دونوں ہی بہت توجہ سے یوشع کو سن رہے تھے…. یوشع نے ایک بار پھر بولنا شروع کیا….آج یہاں میری انگیجمنٹ تو تھی ہی مگر میرے علاوہ ایک خوبصورت جوڑی اور ہے جس کی آج انگیجمنٹ ہے….”یہ کس کی انگیجمنٹ کروانے لگا ہے اب…” علی نے کہا….پتا چل جاۓ گا صبر رکھ” حماد نے کہا….سو لیڈیز اینڈ جینٹل مین وہ خوبصورت جوڑی جسکی آج انگیجمنٹ ہے وہ کوئ اور نہیں’ میرا جگری یار میرا آدھا دل’ آدھا گردہ’ علی عمران ہے…..” علی کی طرف نگاہیں گھما کر کہا….. لان میں بیٹھے سب ہی نفوس نے قہقہہ لگایا تھا…. اور میری پیاری چھوٹی بہن زینب سیال….” وہ جو وہاں بیٹھی رائس سے لطف اندوز ہورہی تھی پہلے علی اور پھر اپنے نام پر چاول حلق میں اٹکے تھے اس نے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگایا…. حیرت سے یوشع کو دیکھا اور اس کی بعد اپنے ماں باپ کو کہ ان کا کیا ری ایکشن ہے مگر وہ تو پرسکون بیٹھے ہیں….. لان میں تالیوں کی آواز گونج رہی تھی….. علی اب بھی حیرانگی کی کیفیت میں کھڑا تھا منہ کھل گیا تھا…. حماد نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا منہ بند کیا تھا… بند کرلے بھائ نہیں تو مکھیاں مچھر سب گھس جاۓ گے…” اس نے بھی فٹ منہ بند کیا تھا…. اگلے ہی پل وہ خوشی کے مارے پاگل ہوا تھا…. یوشع کو زور سے خود میں بھینچا تھا…..یار تو کتنا اچھا ہے….” ابے اوۓ چھوڑ میری نازک ہڈیاں…..” وہاں بیٹھے سب لوگ مسکرارہے تھے… زینب اپنی جگہہ سے اٹھ کھڑی ہوئ تھی….علی دور ہٹا…. زینب نے اپنے باپ کو دیکھا وہ بھی اپنی جگہہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے…. اس کے دل کی ڈھڑکنیں بڑھ گئ تھی یا شاید ڈر رہی تھی…. وہ بس اپنے باپ کے جواب کی منتظر تھی…..انکل آنٹی’ تو کیا آپ کو اپنی شہزادی جیسی گڑیا کیلۓ (علی کو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ کھڑا کیا) میرا یہ پاگل سا بندر دوست آپ کو اپنے داماد کی شکل میں منظور ہے…..”سیال صاحب نے علی کو دیکھا…. جو کھڑا مسکرارہا تھا….کیا انکل’ اب اتنا بھی کیا سوچنا’ ہاں کہہ دے اور ویسے بھی آپ کو پتا تو ہے یہ ایک دوسرے سے کتنی محبت کرتے ہیں’ کم اون انکل سے یس…. یار خرچہ بچے گا….. اور ویسے بھی یہ سب پہلے سے طے تھا….” وہاں بیٹھے سب یوشع کی باتوں پر مسکرارہے تھے…. زینب کا منہ کھلا تھا اتنا بڑا پلان اور اسے پتا بھی نہیں….. زینب نے غصے سے المیرا کو دیکھا جو کھڑی مسکراتی ہوئ زینب کو ہی دیکھ رہی تھی……المیرا کی بچی تم تو بچو میرے ہاتھوں سے’ مجھے بتا نہیں سکتی تھی….” وہ دل میں المیرا کو کوس رہی تھی….. سیال صاحب نے تھمزاپ کا اشارہ کیا تھا…. وہاں بیٹھے سب نفوس نے تالیاں بجائ تھی….. یوشع نے زینب کو اسٹیج پر بلایا….. سیال صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا اور اسے اپنے ساتھ لے کر اسٹیج کی طرف بڑھے تھے….. وہ خوشی اور حیرانگی کی ملی جلی کیفیت سے سٹیج تک آئ تھی….. رنگ لائ گئ تھی…… ان دونوں نے ایک دوسرے کو رنگ پہنائ…. اور اس سب سین میں ماہین عمران خاموش تماشائ بنی یہ سب کاروائ ہوتی دیکھ رہی تھی…. اس کے جان سے زیادہ عزیز اکلوتے بھائ کی انگیجمنٹ ہورہی تھی اور وہ اداس بجھے دل کے ساتھ کھڑی تھی…..وہ کہتے ہیں نہ جب دل کی دنیا اداس ہو تو ہمیں اپنے آس پاس کے ماحول سے بھی کوئ غرض نہیں ہوتی…. ہمیں ہمارا آس پاس کا ماحول بھی اداس لگتا ہے فقط ایک دل کے اداس ہونے سے….. اس کیلۓ تو آج کا دن سب سے بڑا خوشی کا دن ہونا چاہیے تھا مگر اسے کوئ فرق نہیں پڑرہا تھا…. دل کی دنیا اداس تھی….. ویران تھی…. یوشع کسی اور کا ہے…. سٹیج پر وہ سب ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے تھے…. اور وہ اداس تھی…. سب اپنی خوشی میں مگن تھے… اس کا خیال کسی نے نہیں کیا…. فقط ایک دل کے اداس ہونے سےہر شے میں اداسی ہے🙃یار ہر جگہہ تو ہم ساتھ ساتھ رہے ہیں تو آج کے موقعے پر میں تجھے پیچھے کیسے چھوڑ سکتا تھا….. “ٹھینکس یار….” علی نے تہہ دل سے شکریہ ادا کیا تھا…. وہ زینب کی طرف مڑا تھا….. ہلکا سا اس کے کان کے قریب جھکا تھا…..سرپرائز انگیجمنٹ مبارک ہو جان علی…..” وہ شرمائی تھی…. خوشیاں ہی خوشیاں تھی…. کچھ دیر بعد وہ سب اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگۓ تھے…….. ***********________جاری ہے________