📱 Download the mobile app free
Home > Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80088 > Aroos e Atish Episode 62 The Line He Will Never Cross
[favorite_button post_id="16986"]
54258 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 62 The Line He Will Never Cross

“کیا تم سب مر گئے ہو؟!”
زارمہ نے اردگرد کھڑے مزدوروں پر چیختے ہوئے کہا۔ “میں نے تمہیں تماشا دیکھنے کے پیسے دیے ہیں؟ آؤ اور میری مدد کرو!”

میرک کاردار کی نظر قاتلانہ تھی۔ مزدور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، مگر کسی میں آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔

زارمہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے نکل کر گر پڑے گا۔ وہ سامنے کھڑے شخص کو گھورتی رہ گئی۔ دباؤ بڑھتا جا رہا تھا، اس کے قدم جیسے زمین میں جم گئے تھے۔

“نـ… نیسا!”
آخرکار وہ خوف سے ٹوٹ گئی اور چیخ کر بولی، “کیا تم اپنے شوہر کو قابو میں نہیں رکھو گی؟! مـ… میں بتا رہی ہوں، اگر اس نے مجھے نقصان پہنچایا تو مـ… میں پولیس کو بلا لوں گی! اسے پھر سے گرفتار کروا کے جیل بھجوا دوں گی!”

میرک کے ہاتھ کی گرفت مزید سخت ہو گئی۔ اس کے ہونٹوں پر جمی برفانی مسکراہٹ خوفناک تھی۔

زارمہ درد سے چیخ اٹھی۔ اس کے گھٹنے کانپ گئے اور وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر گئی۔

“رامے خاندان کی وارث گالی ایسے دیتی ہے جیسے سانس لے رہی ہو؟”
میرک نے طنز کیا۔ “کیا رامے خاندان اتنا غریب ہے کہ ماؤتھ واش بھی نہیں خرید سکتا؟”

یہ کہتے ہی اس نے اسے زور سے جھٹکا دے کر پرے پھینک دیا۔
زارمہ دیوار سے زور سے ٹکرائی!

نیسا نے فوراً آگے بڑھ کر میرک کا بازو پکڑ لیا اور نفی میں سر ہلایا۔

میرک نے گہری سانس لی۔

عام حالات میں وہ عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا، مگر زارمہ مسلسل اس کی حدیں پار کر رہی تھی، اسے مجبور کر رہی تھی کہ وہ اپنی آخری لکیر بھی توڑ دے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ جب ہاتھ اٹھایا ہی ہے تو آج اس ظالم عورت کو چھوڑا نہیں جائے گا۔

مگر نیسا اس کا بازو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھی۔ اس کی آنکھوں میں فکر اور التجا تھی، جس نے میرک کے دل کو نرم کر دیا۔

وہ جانتا تھا…
وہ زارمہ کے لیے نہیں، اس کے لیے ڈر رہی تھی۔

اسے خوف تھا کہ اگر واقعی زارمہ کو شدید نقصان پہنچا، تو وہ ایک بار پھر گرفتار ہو جائے گا، ایک بار پھر جیل…

میرک نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ اسے دیکھا اور یقین دلانے والے انداز میں اس کے گرد بازو ڈال لیے کہ سب اس کے قابو میں ہے۔

“واقعی، میری بیوی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ وہ کون ہے،”
وہ سرد لہجے میں بولا۔
“مگر مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ میری بیوی ہے—وہ عورت جسے میں زندگی بھر اپنی جان سے بھی بڑھ کر بچاؤں گا۔

جو بھی اسے ستانے کی جرأت کرے گا، اسے سب سے پہلے مجھ سے گزرنا ہوگا!”

نیسا خاموشی سے میرک کے پیچھے پیچھے گھر لوٹی۔

زارمہ کو کچھ حاصل نہ ہوا۔ میرک کی طاقت سے خوفزدہ ہو کر وہ اپنے آدمیوں کے ساتھ واپس چلی گئی۔

میرک نے ایک ایک کر کے بکھرا ہوا فرنیچر واپس رکھا۔ اس نے پوری دوپہر گھر کو سمیٹنے میں لگا دی۔

اس نے نیسا کو ایک انگلی تک اٹھانے نہیں دی۔ سب کچھ خود کیا۔

نیسا کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
زارمہ کے سامنے اس کے لیے کھڑے ہونے اور اس کے کہے ہوئے الفاظ یاد آتے ہی اس کے دل میں جذبات کا طوفان اُمڈ آیا، آنسو بےقابو ہو گئے۔

“کیا ہوا؟”
اس کی بھاری آواز اچانک سنائی دی۔
“اندر جاؤ۔”

نیسا کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اسے روتے ہوئے دیکھے۔ اس نے نظریں جھکائے چابیاں نکالیں۔

گھر میں داخل ہوتے ہی وہ لپک کر اس کے جوتے بدلوانے لگی۔

پھر بغیر پانی پیے، فریج سے گوشت اور سبزیاں نکالیں، اور فوراً کچن میں جا کر کھانا بنانے لگ گئی۔

میرک اسے دیکھتا رہا۔
اس کی عورت اتنی محنت کر رہی تھی—اس کے دل میں ایک چبھن سی ہوئی۔

وہ آہستہ آہستہ کچن کی طرف بڑھا اور مسکرا کر بولا،
“کافی دیر ہو گئی ہے۔ آج کھانا نہ بنائیں۔ باہر کھا لیتے ہیں، کیسا رہے گا؟”

نیسا کے ہاتھ رک گئے۔ وہ گھبرا کر اس کی طرف دیکھنے لگی، پھر فوراً نظریں جھکا لیں۔

“مـ… میں بس ابھی تیار کر لوں گی…”
اس کی آواز اتنی ہلکی تھی کہ سنائی دینا مشکل تھا۔
“یہ آپ کے پسندیدہ ہیں… باہر کے کھانے سے بہتر ہوں گے۔ بس تھوڑا سا وقت دے دیں…”

یہ کہتے ہوئے اسے خود بھی عجیب سا لگا۔ اس نے پھر سے نظریں اٹھائیں۔
“کیا آپ کو بھوک لگی ہے؟ مجھے معاف کیجیے… آپ نے پوری دوپہر کام کیا ہے۔
ہم باہر ہی کھا لیتے ہیں اگر آپ چاہیں! ریگالیا ہوٹل چلیں؟”

میرک اسے دیر تک دیکھتا رہا۔
پھر ہلکی سی ہنسی کے ساتھ بولا،

“ریگالیا ہوٹل کافی مہنگا ہے… کیا تم افورڈ کر سکتی ہو؟”