Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80088 Aroos e Atish Episode 39 Cold Distance, Warm Concern
Aroos e Atish Episode 39 Cold Distance, Warm Concern
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
نیسا آہستہ آہستہ ایک طرف سے آگے بڑھی، اس کے چہرے پر مکمل سکون اور ٹھہراؤ تھا۔
اب ایہام کو اس کی نیت سمجھ آ گئی تھی۔ اس نے غنڈوں کی ٹھوس ویڈیو شہادت جمع کر لی تھی، اور وہ سینئر طلبہ سولہ برس کی عمر پار کر چکے تھے، اس لیے قانونی طور پر ان پر مقدمہ بن سکتا تھا۔ بس ویڈیو پولیس کے حوالے کرنی تھی اور کیس دائر ہونا تھا—اور ان کی زندگی بھر کے لیے کریمنل ریکارڈ بن جاتا۔
نیسا نے سرد نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
“تم لوگ صرف نِیار ہی کو تنگ نہیں کرتے، ہے نا؟” اس نے پُراعتماد لہجے میں کہا۔
“میں نے پولیس کو اطلاع دے دی ہے۔ وہ آتے ہی تفتیش کریں گے۔”
سب کچھ اس کے قابو میں تھا۔
پولیس آئی، طلبہ کو حراست میں لیا گیا اور معمول کے مطابق تفتیش ہوئی۔ انہوں نے بدمعاشی کا اعتراف کر لیا اور الزامات ثابت ہو گئے۔ نتیجہ اطمینان بخش تھا۔ نیسا نے آخرکار نِیار کا بدلہ لے لیا۔
“زیڈ، تمہاری بیوی واقعی کمال ہے،” فرزان، جس کے پولیس میں جاننے والے تھے، خبر سن کر داد دیے بغیر نہ رہ سکا۔
“تم سے بھی زیادہ سمجھ دار ہے اور قانون جانتی ہے۔ یہ قدم لاجواب تھا!”
ایہام ہنس دیا۔ شادی کے بعد سے نیسا اسے مسلسل حیران کر رہی تھی۔ بس یہ تھا کہ… اس میں اس کا بھی کچھ حصہ تھا، چاہے کریڈٹ نہ سہی۔ آخرکار، لڑکوں کو پیٹنے والا وہی تھا۔
نیسا کے مزاج کو دیکھتے ہوئے، وہ توقع کر رہا تھا کہ کم از کم وہ اس کے لیے کوئی انعام رکھے گی یا بھرپور کھانا ہی بنا دے گی۔ مگر اس نے کچھ نہیں کیا۔
بلکہ اسے یوں بھی محسوس ہونے لگا تھا کہ حالیہ دنوں میں وہ اس سے کہیں زیادہ سرد ہو گئی ہے۔ وہ اب ایک ہی کمرے میں سونے کی بات بھی نہیں چھیڑتی تھی۔ ایہام نے چند بار اشارہ دیا—نیسا جتنی سمجھ دار تھی، بات سمجھ جانی چاہیے تھی—مگر وہ انجان بن کر مختلف بہانے بناتی رہی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اب بھی صوفے پر ہی سو رہا تھا۔
ایہام نے آہ بھری۔ اس کے سرد چہرے پر گہری شکن پڑی تھی۔ وہ سوچوں میں ایسا گم تھا کہ اسے یہ بھی احساس نہ ہوا کہ سگریٹ اس کی انگلیوں کو جلانے کے قریب ہے۔
“اوئے، زیڈ!” زارِم نے تیزی سے آگے بڑھ کر سگریٹ چھین لی۔
ایہام چونک کر ہوش میں آیا۔
زارِم نے پہلی بار اسے اس قدر گم دیکھا تھا۔
“کس سوچ میں پڑے ہو؟” اس نے ہاتھ ہلا کر پوچھا۔
“اوہ ہاں، سینٹرولِس سے خبر آئی ہے۔ ہاہ… تمہارے دوسرے چچا نے تمہارے دادا سے کہا ہے کہ تمہارے لیے بیوی چن لی جائے!”
ایہام کی نگاہ گہری ہو گئی۔ اس نے سختی سے سگریٹ ایش ٹرے میں بجھا دی۔
“تمہارے خاندان کے لوگ؟ بس مصیبتیں کھڑی کرنا جانتے ہیں،” فرزان فکرمندی سے بولا۔
“اگر تم ایک دن واپس گئے تو، نیسا—”
“وہ میرے ساتھ نہیں ہو گی،” ایہام نے دھیمی آواز میں کہا۔
“ہم دو مختلف دنیاؤں کے لوگ ہیں۔ ہمارا ایک ہونا ممکن نہیں۔”
فرزان اور زارِم رُک گئے اور ایک دوسرے کو دیکھا۔ دونوں سمجھ رہے تھے کہ سامنے والا کیا سوچ رہا ہے۔
کوئی احمق بھی دیکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ایہام نیسا کو چاہنے لگا ہے، مگر وہ چہرہ سپاٹ رکھ کر یہی کہتا رہا کہ “یہ شادی محض ایک پردہ ہے” اور وہ صرف شوہر ہونے کے ناتے ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔
وہ خود سے جھوٹ بول رہا تھا۔ نیسا کب کی اس کے دل میں جگہ بنا چکی تھی۔ جس دن جدائی آئی اور اسے دل سے نکالنا پڑا—کون جانے وہ درد کیسے سہے گا۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد، ایہام نے اچانک پوچھا،
“کیا تم کسی اچھے گائناکولوجسٹ کو جانتے ہو؟”
زارِم اور فرزان اسے یوں دیکھنے لگے جیسے بھوت دیکھ لیا ہو۔
“ک… کیا؟” زارِم ہنسنا چاہتا تھا مگر ہمت نہ ہوئی۔ اس نے ایہام کو اوپر سے نیچے تک دیکھا، بھنویں اٹھائیں اور چیخ اٹھا،
“زیڈ! میرے یار! وہ حاملہ ہو گئی؟!”
ایہام نے تیوری چڑھائی اور آنکھیں گھما دیں۔
فرزان نے پیشانی سکیڑی۔ “پہلے اسے بات مکمل کرنے دو۔”
ایہام نے کھنکھار کر کہا،
“میں بس یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ عورتوں کی صحت کے لیے کیا بہتر ہوتا ہے۔”
اس بار زارِم خود کو نہ روک سکا۔ وہ قہقہہ لگاتے ہوئے اپنے منہ میں موجود مشروب تھوک بیٹھا۔
فرزان نے اسے ایسے دیکھا جیسے کسی بیوقوف کو دیکھتا ہے۔
ایہام کی گھوری اور گہری ہو گئی۔
حال ہی میں نیسا کی نظر کبھی شکوک سے بھری، کبھی مایوس دکھائی دیتی تھی۔ وہ اکثر اداس رہتی تھی۔ مگر اسے یاد ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس نے ایسا کیا کہہ دیا جس سے غلط فہمی پیدا ہو گئی ہو—اور اسی لمحے صبح باتھ روم میں نظر آنے والے سینیٹری پیڈز اس کے ذہن میں چمک گئے۔
اس نے سنا تھا کہ ماہواری سے پہلے عورتوں کا موڈ بدل جاتا ہے۔ یہ عام بات تھی۔ کیا نیسا کی سردمہری اسی وجہ سے تھی؟ یہ تو ان دنوں کی کیفیت کی وضاحت کر سکتا تھا۔
اس نے نیسا کو ماہواری کے درد میں تڑپتے دیکھا تھا—بستر پر سکڑی ہوئی، چہرہ زرد، پسینے میں شرابور۔ وہ خود اس درد کو نہیں جانتا تھا، مگر چاہتا تھا کہ وہ بہتر محسوس کرے۔
“اگر تم نہیں جانتے تو میں کسی اور سے پوچھ لوں گا،” اس نے دونوں کو بےنیازی سے دیکھا۔
زارِم نے اس کے کندھے میں بازو ڈال کر ہنستے ہوئے سینہ ٹھونکا۔
“اوروں سے کیوں؟ ضرورت نہیں۔ میں ماہر ہوں!
سنو… میرے پاس ایک خفیہ نسخہ ہے!” اس نے رازدارانہ لہجے میں کہا۔
“یہ اسے دے دو، اور میں ضمانت دیتا ہوں کہ جب وہ اسے استعمال کرے گی تو—”
(جاری ہے…)