📱 Download the mobile app free
Home > Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80088 > Aroos e Atish Episode 59 The Silence After Justice
[favorite_button post_id="16986"]
54258 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 59 The Silence After Justice

کچھ دن کے آرام کے بعد آخرکار نیسا رامے کی ٹانگ کافی حد تک ٹھیک ہو گئی۔ وہ اسپتال کے فالو اَپ کا انتظار بھی نہ کر سکی اور سیدھی دفتر جا پہنچی۔

اینی ایمبروز نے اسے دیکھتے ہی خوشی سے کہا،
“تم آخرکار واپس آ ہی گئیں! سچ بتاؤں تو تمہارے بغیر میرے کام کرنے کا دل ہی نہیں لگ رہا تھا۔”

نیسا مسکرا دی۔
“تم تو بڑی میٹھی باتیں کرنے لگی ہو!”

اینی نے آہ بھری۔
“مجھے اب بھی بہت گِلٹ ہوتا ہے! اگر میں اس رات تمہارے ساتھ اُس ڈنر پر جانے پر اصرار کرتی تو وہ گھٹیا لوگ تمہیں اس طرح دھوکہ نہ دے پاتے…”

نیسا چونک گئی۔ اس نے فوراً اینی کو ایک نسبتاً سنسان راہداری میں کھینچ لیا۔

“کیا… سب کو اس بارے میں پتا چل گیا ہے؟”

اینی نے اِدھر اُدھر دیکھ کر دھیمی آواز میں کہا،
“نہیں۔ آفس میں کسی کو اصل وجہ نہیں معلوم۔ سب یہی سمجھتے ہیں کہ تم نے اچانک لیو اس لیے لی تھی کیونکہ تمہاری ٹانگ زخمی ہو گئی تھی۔ ڈائریکٹر نے یہی بتایا۔ سب لوگ اسپتال آ کر تمہیں دیکھنا چاہتے تھے، مگر انہوں نے منع کر دیا تھا۔”

نیسا خاموشی سے سر ہلا گئی۔

ڈائریکٹر بُرے انسان نہیں تھے، مگر وہ خود کو بچانے کا ہنر خوب جانتے تھے۔ بہت سی باتوں پر پردہ ڈال دینا اور کسی معاملے میں کھل کر کھڑے نہ ہونا ان کی عادت تھی۔

“تو اگر کسی کو شک بھی ہو، تب بھی کسی نے زبان نہیں کھولی،” اینی نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
“فکر نہ کرو۔ بس یہی کہتے رہنا کہ ٹانگ حادثاتی طور پر زخمی ہو گئی تھی۔”

“ہمم…”

نیسا کو بھی یہی مناسب لگا۔ وہ ایک عورت تھی، اس کی عزت اور ساکھ اس کے لیے بہت اہم تھی۔ اگر بات پھیل جاتی تو نقصان اسی کا ہوتا۔

“اوہ ہاں نیسا! ایک زبردست خبر ہے!”
اینی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

نیسا ہنس دی۔
“ایسی کیا خوشخبری ہے؟”

اینی نے دھیمی مگر پرجوش آواز میں کہا،
“فہاد قسار اور فَیضان اشراف اب اس کمپنی میں نہیں رہے!”

“کیا؟”
نیسا واقعی حیران رہ گئی۔

“مجھے بھی پوری وجہ معلوم نہیں،” اینی نے کہا۔
“لیکن جس دن تم اسپتال میں تھیں، اگلے ہی دن میں نے فَیضان اشراف کو کارڈ بورڈ کا ڈبہ اٹھائے آفس سے نکلتے دیکھا۔ اس کا چہرہ لٹکا ہوا تھا، بڑا بے بس لگ رہا تھا!”

“اور فہاد قسار…”
اینی نے آواز اور دبا دی۔
“بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس کے شیئرز کم کر دیے اور اسے چینگاساس کی ایک ذیلی کمپنی میں ٹرانسفر کر کے ایک چھوٹے سے ڈیپارٹمنٹ کا مینیجر بنا دیا۔ یہ نکالنے سے بھی بدتر سزا ہے! اتنی پسماندہ جگہ پر جا کر وہ کیا کرے گا؟ یہ تو کھلی اذیت ہے! ہاہ… مزہ آ گیا!”

“نیسا؟”
اینی نے چونک کر اسے دیکھا۔
“تم کہاں کھو گئی ہو؟”

نیسا جیسے خواب سے جاگی۔ اس نے زبردستی مسکراہٹ سجائی، مگر اس کے دل میں عجیب ہلچل مچ چکی تھی۔

اسے اسپتال کا وہ لمحہ یاد آ گیا، جب میرک کاردار نے اس سے پوچھا تھا کہ اگر اختیار ملے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا کرے گی۔
اور اس کا وہ بے ساختہ جملہ—
“بس یہی چاہتی ہوں کہ وہ لوگ دوبارہ کبھی میری زندگی میں نہ آئیں…”

اور میرک کا وہ پُرسکون سا جواب:
“سمجھ گیا۔”

نیسا نے گہرا سانس لیا اور سر جھٹک دیا۔
یہ ممکن ہی نہیں تھا… میرک آخر اتنا بااختیار کیسے ہو سکتا تھا؟
یقیناً یہ محض ایک اتفاق ہوگا۔

“نیسا! تم یہاں ہو!”
اچانک ایک اور کولیگ گھبراہٹ میں اس کی طرف آئی۔

“میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی! تم نے فون کیوں ساتھ نہیں رکھا؟”

نیسا چونک گئی۔
“کیا ہوا؟”

کولیگ نے نیچے کی طرف اشارہ کیا۔
“لاؤنج میں کوئی تمہیں ڈھونڈ رہا ہے۔ ایک خوبصورت نوجوان… خود کو تمہارا چھوٹا بھائی بتا رہا ہے۔ وہ کافی پریشان لگ رہا ہے، تمہیں کئی بار کال کی مگر تم نے اٹینڈ نہیں کی۔ جلدی جا کر دیکھو!”

نیسا کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔

نِیار ایک سمجھدار بچہ تھا۔ چاہے وہ کتنا ہی دکھی کیوں نہ ہو، وہ کبھی آفس آ کر ہنگامہ نہیں کرتا تھا۔
اگر وہ یہاں آیا تھا… تو صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی تھی—

“نِیار!”
نیسا بھاگتی ہوئی نیچے پہنچی۔
“کیا ہوا؟ امّی کی طبیعت پھر خراب ہو گئی ہے کیا؟”