📱 Download the mobile app free
Home > Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80088 > Aroos e Atish Episode 36 Interrupted Night
[favorite_button post_id="16986"]
54258 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aroos e Atish Episode 36 Interrupted Night

میرک نے یکدم سانس روکی اور نیسا کو اپنی بانہوں میں کھینچ لیا۔ اس کی کمر اس کے ایک ہاتھ میں باآسانی سما گئی، تو اس نے دوسرے ہاتھ سے اس کی ٹھوڑی اوپر کی۔
جب اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تو وہ بہار کے چشموں کی طرح شفاف تھیں۔ اس کے گیلاسی لب ہلکے سے کھلے ہوئے تھے، جیسے خاموش سی دعوت دے رہے ہوں۔
میرک نے محسوس کیا کہ اس کے اندر آگ کا الاؤ بھڑک اٹھا ہے۔
نیسا نے اس کی تپتی نگاہوں سے بچنے کی کوشش کی۔ اس کے گال سرخ ہو چکے تھے اور سانسیں بے ترتیب تھیں۔ وہ اس کے غیرمعمولی طور پر گرم سینے، مضبوط دل کی دھڑکنوں اور مردانگی کی شدت کو محسوس کر سکتی تھی… جیسے وہ پگھلنے لگی ہو۔
اس سے پہلے کہ اس کے ہونٹ اس تک پہنچتے، اس نے ہلکے سے اسے پیچھے دھکیل دیا۔
“نہیں…”
وہ شرمندہ سی مسکرائی۔
“مجھے ابھی کھانا بھی بنانا ہے۔”
میرک رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک گہری سی چمک ابھری۔
“آج رات…”
نیسا کی آواز نرم اور کمزور تھی۔ وہ لفظ ادا کرتے ہوئے بری طرح لجا گئی۔
“آج صوفے پر مت سونا۔ وہ آرام دہ نہیں ہے۔ کمرے میں سو جانا۔”
میرک چند لمحے گم سا ہو گیا۔ شاید یہ اس کی اب تک کی سب سے بڑی ہمت تھی۔ اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے اس کے سرخ کان پر انگوٹھا پھیرا اور بھاری آواز میں کہا،
“ٹھیک ہے۔”
کھانے کے فوراً بعد میرک باتھ روم میں چلا گیا۔ وہ عام طور پر دس منٹ میں نہا لیتا تھا، مگر آج تقریباً ایک گھنٹہ لگ گیا۔
نیسا نے پھل کاٹ لیے تھے، ٹی وی بھی دیکھ لیا تھا، مگر وہ اب تک باہر نہیں آیا تھا۔ بس کبھی کبھار پانی کے بہنے کی آواز آتی۔
اس کا چہرہ گرم ہو گیا۔ وہ کپڑے بدل کر نائٹ ڈریس پہننے چلی گئی۔ بستر کے کنارے بیٹھی وہ گھبراہٹ میں اپنے ہاتھوں کی جگہ طے ہی نہ کر پا رہی تھی۔
بعد میں وہ اس کے ساتھ کیا کرے گا؟
وہ قد آور اور مضبوط تھا… یقیناً عام آدمی سے زیادہ طاقتور…
یہ سوچ کر نیسا ہنس پڑی، پھر فوراً شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ اس کے خیالات حد سے زیادہ بے باک ہو رہے تھے۔
اسی لمحے باتھ روم میں پانی بند ہونے کی آواز آئی۔
نیسا چونک گئی اور اپنے لباس کے کنارے کو مضبوطی سے تھام لیا۔
میرک کے قدموں کی آواز قریب آتی سنائی دی۔
نیسا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ بیک وقت گھبرائی ہوئی بھی تھی اور کسی انجانی توقع میں بھی۔
اس نے پہلے صرف ناولوں میں شادی کی راتوں کے بارے میں پڑھا تھا۔ کم عمری میں وہ ایسے مناظر کا خواب دیکھا کرتی تھی—اپنے محبوب سے شادی، ایک ناقابلِ فراموش رات…
اگرچہ یہ اس کی شادی کی رات نہیں تھی، مگر میرک کے ساتھ یہ اس کا پہلا لمحہ ہونے والا تھا۔
نیسا کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ چاہتی تھی کہ سب کچھ ویسا ہی ہو جیسا ناولوں میں ہوتا ہے، تاکہ وہ عمر بھر ان لمحات کو یاد کر سکے۔
مگر اسی وقت دروازے پر زور دار دستک ہوئی۔
نیسا چونک گئی۔
اور دروازہ کھولتے ہی اس کی حیرت اور بڑھ گئی۔
نِیار باہر کھڑا تھا۔ اس کا چہرہ بری طرح سوجا ہوا تھا۔ وہ نیسا کو دیکھتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
“یہ کیا ہوا؟”
نیسا نے اسے اندر کھینچ لیا۔
“کیا تم کسی سے لڑ پڑے ہو؟”
“نیسا…”
نِیار کی آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ سسکیاں لیتا رہا، مکمل جملہ بول ہی نہ سکا۔
نیسا گھبرا گئی۔ وہ میرک کو بالکل بھول چکی تھی۔
تب میرک کے ہلکے سے کھنکھارنے پر اسے ہوش آیا۔ اس نے آہستہ سے مڑ کر اس کی الجھی ہوئی، سوالیہ نگاہیں دیکھیں۔ اس کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔
وہ اس وقت زارمہ تھی، اور زارمہ کا کوئی چھوٹا بھائی نہیں تھا…
“ی…یہ میرا کزن ہے۔”
وہ زبردستی مسکرائی اور نِیار کو آنکھوں ہی آنکھوں میں خبردار کیا۔
نِیار چونکا۔ اس نے فوراً سمجھ لیا۔ اس کے سامنے کھڑا شخص وہی تھا جس سے اس کی بہن نے زارمہ کی جگہ شادی کی تھی۔ یہ راز فاش نہیں ہونا چاہیے تھا۔
“نِیار،”
نیسا نے نرمی سے کہا،
“اپنے بہنوئی کو سلام کرو۔”
نِیار نے فرمانبرداری سے میرک کو سلام کیا اور فوراً نیسا کے پیچھے چھپ گیا۔ وہ اس شخص کو ڈرتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے وجود میں عجیب سی رعب دار کیفیت تھی۔
کیا اس کی بہن روز اس کے ساتھ رہتے ہوئے دباؤ محسوس نہیں کرتی تھی؟
میرک نے کچھ کہے بغیر سر ہلایا، فرسٹ ایڈ باکس لیا اور نِیار کو صوفے پر بٹھایا۔ پھر خاموشی سے اس کے زخم صاف کرنے لگا۔
نِیار کو خاصی چوٹیں آئی تھیں۔ ماتھا بری طرح سوجا ہوا تھا، ٹانگ کی کھال چھل گئی تھی اور زخم پتلون سے چپک چکا تھا۔ ذرا سی حرکت بھی شدید درد دے رہی تھی۔
میرک جتنا بھی نرمی سے کام کر رہا تھا، نِیار پھر بھی درد سے زرد پڑا ہوا تھا اور پسینہ بہہ رہا تھا۔
“یہ کس نے کیا؟”
نیسا کی آواز کانپ گئی۔
“کس نے تمہیں مارا؟”
نِیار نے ہونٹ بھینچ لیے۔ ایک لفظ نہ بولا۔ نیسا کی بے چینی اور بڑھ گئی۔ وہ بار بار پوچھتی رہی، مگر وہ خاموش رہا۔
میرک نے نیسا کے کندھے پر ہاتھ رکھا، جیسے اسے پرسکون رہنے کا اشارہ دے رہا ہو، پھر نِیار کو بالکونی میں لے گیا۔
دروازہ بند ہوا۔ کچھ ہی دیر میں نیسا نے دیکھا کہ نِیار آنسو پونچھتے ہوئے میرک سے بات کر رہا ہے۔
جب میرک باہر آیا تو نیسا فوراً اس کے پاس گئی۔
“کیا ہوا ہے؟”
“اسے اسکول میں تنگ کیا جا رہا ہے۔”
میرک کی آواز سرد تھی، مگر بھنوؤں کے درمیان غصہ صاف جھلک رہا تھا۔
نیسا کا دل دکھ سے بھنچ گیا۔ آنسو پھر آنکھوں میں بھر آئے۔
“کچھ سینئر لڑکے ہیں۔ تمہارے کزن کو کمزور سمجھتے ہیں۔ اسکول جاتے آتے اسے گھیر لیتے ہیں، پیسے مانگتے ہیں۔ نہ دے تو مارتے ہیں۔”
میرک کے ہونٹ سخت ہو گئے۔
“آج بھی اس کے پاس کچھ نہیں تھا، تو اس کا سر دیوار سے دے مارا، بال نوچے۔ اسی لیے ماتھے کا زخم گہرا ہے۔”
نیسا نے ٹھنڈی سانس لی۔ وہ بالکونی کی طرف جانا چاہتی تھی مگر میرک نے روک لیا۔
“ابھی مت جاؤ،”
وہ اس کے کان کے قریب بولا۔
“اس عمر کے لڑکوں میں انا ہوتی ہے۔ وہ نہیں چاہے گا کہ تم اسے اس حالت میں دیکھو۔ پہلے اسے سنبھلنے دو۔”
“ہمم…”
نیسا نے سر ہلا دیا، مگر ایک بات نے اسے چونکا دیا۔
اس کا اپنا بھائی اسے کچھ نہیں بتا رہا تھا، مگر اپنے بہنوئی کو، جس سے وہ آج پہلی بار ملا تھا، سب کچھ کہہ دیا؟
میرک نے اس کی الجھن بھانپ لی اور مسکرا دیا۔
“کچھ باتیں صرف مرد، مردوں سے ہی کہتے ہیں۔”
نیسا نے سر ہلا کر اعتراض کیا۔
“وہ صرف سولہ سال کا ہے۔ کیسا مرد!؟”
“اسے کم مت سمجھو۔”
میرک ہنسا۔
“جب میں سولہ کا تھا، تو میں پہلے ہی—”
جملہ ادھورا رہ گیا۔ وہ خود ہی رک گیا۔
نیسا نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
“پہلے ہی کیا؟”