Aroos e Atish by Sadz Hassan Billionaire Romance NovelM80088 Aroos e Atish Episode 41 The Dangerous Soup
Aroos e Atish Episode 41 The Dangerous Soup
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
لَیما حَیان کافی دیر تک کچن میں رہی تو نیسا رامے کو خدشہ ہوا کہ کہیں وہ جل نہ گئی ہو۔ وہ فوراً اُٹھ کر کچن کی طرف گئی۔
وہاں کا منظر دیکھ کر وہ ٹھٹک گئی۔
لَیما چولہے پر رکھے برتن کو دیکھتے ہوئے ایسے ہنس رہی تھی جیسے کوئی پاگل عورت ہو۔
“لَیما؟ کیا ہوا ہے؟” نیسا نے گھبرا کر پوچھا۔
“یہ جو خوشبو تم صبح سے محسوس کر رہی تھیں نا…” لَیما نے ہنسی روکتے ہوئے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا، “بس زیادہ ردِعمل مت دینا، ٹھیک ہے؟”
“کیا بات ہے؟”
“یہ سب جڑی بوٹیاں ہیں۔” لَیما نے ایک ایک چیز اٹھا کر سمجھانا شروع کیا، “یہ جنسنگ کے قتلے ہیں، یہ کالا مشروم، یہ سونف…
اور باقی عام چیزیں ہیں—گو جی بیریز، ادرک وغیرہ۔”
نیسا کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
“یہ سب کس لیے ہیں؟ ایہام نے میرے لیے یہ سوپ کیوں بنایا ہے؟”
“یہ عورتوں کی خواہش بڑھانے والی چیزیں ہیں!” لَیما پھر ہنس پڑی۔
“شکر ہے تم نے ابھی پیا نہیں۔ ایک پیالی پی لو تو یقین کرو، بھیڑیے کی طرح بے قابو ہو جاؤ گی۔ پھر ایہام تمہارا مقابلہ نہیں کر پائے گا!”
نیسا کا چہرہ یکدم سرخ ہو گیا۔
“تو مطلب یہ ہے…” لَیما نے شرارتی انداز میں اس کے گلے میں بازو ڈال دیا،
“تمہاری حالت یہ ہے کہ تمہیں ماہواری ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ رات کو تم بہت ایکٹو رہو؟”
“لَیما!” نیسا نے شرما کر اسے روک دیا۔
“اچھا اچھا، بس۔” لَیما نے ہنستے ہوئے اسے واپس بستر تک پہنچایا۔
جو بھی ایہام کا ارادہ تھا، یہ سوپ نیسا کے لیے ہرگز نہیں تھا۔ لَیما نے اس کے لیے شہد ملا گرم پانی بنا دیا۔
“اچھا، ایک سنجیدہ بات بھی ہے۔”
نیسا فوراً سنجیدہ ہو گئی۔
“کیا بات ہے؟”
“آج میں فَہّاد قَسّار کے آفس کے پاس سے گزری تھی۔ وہ کائرہ مالویک سے بات کر رہے تھے۔ تمہارا ذکر ہو رہا تھا۔”
نیسا کا دل بیٹھ سا گیا۔
فَہّاد قَسّار کائرہ کا ماموں تھا اور کمپنی کا بڑا شیئر ہولڈر بھی۔ نیسا نے کائرہ کو تھپڑ مارا تھا، شکایت ہونا لازمی تھی۔
“گھبراؤ مت۔” لَیما نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔
“حیرت کی بات یہ ہے کہ کائرہ تمہیں برا بھلا کہہ رہی تھی، مگر فَہّاد نے کچھ نہیں کہا۔ بلکہ تمہاری تعریف کر رہے تھے۔ لگ رہا تھا جیسے وہ تمہیں سیلز ٹیم لیڈر بنانا چاہتے ہوں!”
“کیا؟” نیسا کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“شاید وہ صلاحیت کو رشتے سے اوپر رکھتے ہوں؟” لَیما نے سوچتے ہوئے کہا۔
“سیلز کے دو سینئر لوگ جا چکے ہیں، کمپنی کو قابل لوگ چاہییں۔ نیسا، شاید یہ موقع ہو!”
نیسا خاموش ہو گئی۔
ایہام کی باتیں اسے یاد آ گئیں۔
“لَیما…” نیسا نے دھیرے سے کہا،
“اگر تم بڑی شیئر ہولڈر ہوتیں اور تمہاری بھانجی کو کسی ملازم نے مارا ہوتا، تو کیا تم اُس ملازم کو ترقی دیتیں؟
اور اگر وہ ملازم قابل ہو، تو کیا وہ تمہاری بھانجی کی دوست بنتی… یا دشمن؟”