📱 Download the mobile app free
Home > Tum Bahar E Zindagi by Sukaina Zaidi NovelM80068 > Tum Bahar E Zindagi (Episode 07)
[favorite_button post_id="16239"]
48914 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bahar E Zindagi (Episode 07)

Tum Bahar E Zindagi by Sukaina Zaidi

“نام نہیں پوچھا آپ کون ہے اور میرے گھر میں کیا کررہے ہیں”…وہ مضبوط لہجے میں بولی…

“تم شاید تبریز انکل کی بیٹی ہو…ہاں میں میں تبریز انکل کے دوست کا بیٹا ہوں کچھ ارصے ادھر ہی رکنے آیا ہوں”…میثم کے تفصیل بتانے پر وہ کچھ مطمعین ہوئی…

“آآ ٹھنڈا پانی ملے گا”…میثم نے یاد دیلایا…

“آہ! ہاں سوری یہ لیں”…علینہ نے جلدی سے فریج سے بوتل نکالی اور گلاس میں پانی دیا بت تک میثم کی نظریں علینہ پر ہی تھی…

“شکریہ لٹل گرل”…وہ مسکرا کر بولا…

“یہ مت دوبارہ مت بولیئے گا”…علینہ چونک کر غصے سے بولی لٹل گرل کہنے اسے کبیر کی یاد دیلاگیا تھا..

“شکریہ دوبارہ نہ بولوں”…میثم کنفیوز سا بولا…

“لٹل گرل”…وہ چبا کر بولی…

“لٹل گرل کو لٹل گرل نہ بولو تو کیا بولوں”…میثم نے سوالیاں آئبرو اچکائی…

“علینہ…علینہ نام نے میرا”…علینہ بولتی آگے بڑگئی…

“علینہ”…وہ مسکرا بولا…
🌟🌟🌟🌟🌟
میثم بلکل ضیغم کی طرح ہینڈسم ہے”…وفا ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی تبریز سے بولی جو ابھی آیا تھا اور اب فریش ہوتا موبائل یوز کررہا تھا اس کی بات پر چونک کر سر اٹھایا اور گھورا…

“یہ بات میثم سے بھی بولی ہے کیا”…

“ہاں”…

“کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے”

“نہ شرم ہوتی ہے نہ حیا ہوتی ہے یہاں صرف وفا ہوتی ہے”…وہ گردن اکڑا کر بولی

“واہ وفا تم نے تو شعر بول دیا”…

“ایسے شعر پر شاعر کی جگہ شعر خود خودکشی کرلے گا”…تبریز ہے طنز کیا…

“بس بس اچھا ایس پی زیادہ نہیں”…
🌟🌟🌟🌟🌟
“اسلام و علیکم”…وہ باہر سے آیا تو لاونچ میں بیٹھے وفا اور تبریز کو سلام کیا…

“وعلیکم سلام ارے بیٹا تنی صبح کہاں سے آرہے ہو”…وفا حیرت سے بولی…

“مسجد گیا تھا نماز پڑھنے”…میثم نے جواب دیا…

“تمہیں پتہ تھا کہا ہے مسجد”…

“آنٹی میرا بچپن اسلام آباد میں گزرا ہے بابا نے پورا شہر گھومایا ہوا ہے کہ اب تک یاد ہے”…میثم کی بات پر وفا مسکرائی…

“کیسے ہیں انکل”…میثم تبریز سے بولا جو موبائل میں لگا ہوا تھا اس کے جواب نہ دینے پر میثم نے لب بھینچ لیئے…

“تبریز میثم کچھ بول رہا ہے”…وفا شرمندگی سے بولی…

“دیکھ نہیں رہا وفا کام کررہا ہوں موبائل میں تم لوگوں کی طرح فالتو نہیں لگا ہوتا”…تبریز سخت لہجے میں بولتا کمرے کی طرف بڑگیا…

“سوری بیٹا آج کل بہت بزی چل رہے ہیں حمزہ کے کیس میں بھی الجھے ہوئے ہیں اپر سے دو تین اور بھی کیس ہیں”…وفا شرمندگی سے بولی…

“کوئی بات نہیں آنٹی”…میثم بامشکل مسکرا کر بولا اور اپنے کمرے کی طرف بڑگیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
“کیا حال ہے میری جان کے”…وفا حمزہ کی پیسانی چمتی بولی جو ابھی زیان کے ساتھ ناشتہ کرنے آیا تھا سب اس وقت ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے…

“آپ کے بھتیجے نے سونے نہیں دیا مجھے”…حمزہ منہ بناتا بولا…

“اچھا جی خودُ بار بار بولے جارہے تھے مووی دیکھتے ہیں ایر الزام مجھ پر”….زیان تپ کر بولا…

“گڑیا نیند پوری ہوگئی”…حمزہ علینہ کو چیئر پر بیٹھتا دیکھ کر بولا جو اس کے برابر ہی بیٹھی تھی…

“جی بھائی بہت ساری”…وہ معصومیت سے بولی…

“اور آپ بتائیں نیند صیح آئی”…حمزہ اب میثم سے بولا جو خاموشی سے ناشتے میں لگا ہوا تھا حمزہ کے بولنے پر چونکا…

“ہاں بلکل”…

“ڈر تو نہیں لگا ہمارے گھر ایک عدد چڑیل بھی موجود ہے”…سمیر علینہ کی طرف اشارہ کرتا بولا جس پر میثم نے مسکرانے پر اتفاق کیا…

“پری بولتے تو زیادہ بہتر تھا”…زیان علینہ کا بنا منہ دیکھ کر بولا…

“وفا چائے جلدی دو مجھے دیر ہورہی ہے”…تبریز پولیس وردی پہنے تیار سا چیئر پر بیٹھا بولا وفا کچن سے سب کے لیئے چائے لائی…

“شکریہ میرا موبائل بھی دے دینا روم میں ہے”…تبریز جلدی سے بولا…

“اچھا لاتی ہوں تم سب کو چائے دو”…وفا تبریز سے بولتی کمرے کی طرف بڑی…

“واہ پھوپھو کے ہاتھ کی چائے کی کیا بات ہے”…زیان مزہ سے بولا تو تبریا بھی مسکرایا میثم نے اپنے کپ اٹھایا جو ابھی تبریز نے رکھا تھا سب کے ساتھ وفا تبریز کو موبائل دیتی بیٹھی…

“یہ کس نے بنائی ہے”…میثم ایک گھونٹ لیتا بولا…

“میں نے کیوں کیا ہوا”…وفا پریشانی سے بولی البتہ تبریز نے گرم گرم چائے جلدی ختم کی…

“یہ…سوری کچھ نہیں”…میثم نے کپ کو گھورا…

“کیا ہوا بیٹا بتاؤ”…وفا بولی…

“شاید آپ نے چینی کی جگہ نمک ڈال دیا ہے”…میثم نرمی سے بولا…

“اوو غلطی سے ڈیڈ کی چائے آپ کے پاس آگئی ہوگئی”…سمیر سمجھ کر بولا میثم نے تبریز کو دیکھا جو اسے سخت نظروں سے گھور رہا تھا…

“آپ کو شوگر ہے جو چینی کی جگہ نمک”…میثم نے بات ادھوری چھوڑی…

“نہیں یہ میری بیوی کی اسپیشل چائے ہےجو صرف مجھ بدنصیب کو ملتی ہے لیکن آج میں نے یہ شرف تمہیں بھی بخش دیا”…تبریز بولا جلدی سے اٹھا اور خدا حافظ کہتا نکل گیا…

“یہ لو تمہاری چائے”…وفا جلدی سے دوسری چائے لائی اور اس کے سامنے کپ رکھا…
🌟🌟🌟🌟🌟
“کبیر جلدی کر چلنا نہیں ہے”…عالیان اس سے بولا جو صوفے پر لیٹا موبائل میں لگا ہوا تھا…

“کہاں”…

“یونی اور کہاں”…

“توُ چل میں آتا ہوں”…

“آج کس کے ساتھ ملاقات کرنے جارہے ہوں”…عالیان اس کے ہر دوسرے دن دوسری لڑکی سے ملنے پر بولا…

“توُ کیوں جل رہا ہے نکل نہ”…کبیر چڑ کر بولا عالیان نفی میں سر ہلاتا نگل گیا…
🌟🌟🌟🌟🌟
“ہیلو ایس پی تبریز طلال شاہ اسپیکنگ”…تبریز نامعلوم نمبر سے کال اٹھاتا بولا…

“ہیلو ایس پی صاحب کیسے مجاز ہیں آپ کے”…دوسری طرف سے اجنبی آواز سنادی…

“بہت گرم”..

“اووو ہونا بھی چاہیئے ویسے بڑی سست سروس ہے آپ کی اب تک بیٹے پر فائرنگ کرنے والے کو پکڑ نہیں پائے”…مقابل طنزیا انداز میں بولا…

“تم سے مطلب کون بات کررہا ہے اور کیوں”…

“ایس پی بس یہ بولنے کے لیئے کال کی ہے تمہارے مجرم میرے پاس ہے اگر زندہ بچ گئے تو صبح ہونے سے پہلے تھانے کے پیچھے گھانس میں مل جائے گے”…مقابل نے اپنی کہے کر کال کاٹ دی تبریز ہیلو ہیلو کرتا رہے گیا”…
🌟🌟🌟🌟🌟
“کیا ایک کپ کوفی مل سکتی ہے”…میثم علینہ کے پیچھے کھڑا ہوتا بولا وہ بدک کر دور ہوئی…

“ماما سے بول دیں میثم بھائی”…علینہ جھجھکتی بولی…

“تمہارے دو بھائی موجود ہیں توُ بھائی کو بس بھائی تک رکھو”…میثم بدمزہ ہوکر بولا…

“آپ مجھ سے بڑے ہیں”…علینہ چبا کر بولی…

“تبریز انکل بھی بڑے ہیں انُ کو بھی بھائی بولنا”…میثم نے انوکھی بات کہہ ڈالی…

“علینہ سمیر تمہیں بلارہا ہے”…زیان ادھر آتا بولا اس کو نظروں میں وارن تھی کہ یہاں سے جاؤ علینہ جلدی سے آگے بڑگئی…
🌟🌟🌟🌟🌟
“کل سے نوٹ کررہا ہوں مجھے گھور گھور کر دیکھ رہے ہو تمہیں یاد دیلادو میں ایک شریف لڑکا ہوں لڑکی نہیں جو گھورے جارہے ہو”…میثم بولا..

“بڑے ہوشیار ہو میں اس طرح نظر رکھ رہا تھا کہ تمہیں معلوم نہ ہو”…زیان ہنس کر بولا…

“ایک میجر کا بیٹا ہوں”…

“اوو”…

“مجھ پر نظر رکھنے آئے ہو کیا”…میثم کوفی کا کپ لبو کو لگاتا بولا…

“وہ کیا ہے نہ جب تک میں سامنے والے کو صیح سے جان نہ لو مجھے چین نہیں آتا”…

“آو ریلی”…وہ بےساختہ ہنسا…

“جی بلکل اور تم پر تو میری خاص نظر ہے کیونکہ ایک غیر جوان لڑکا میرے گھر میں موجود ہے تو خیال تو رکھنا پڑھتا ہے نہ”…وہ غیر پر زور دیتا بولا…

“یہ تمہارا گھر نہیں ہے…وہ جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو زیان نے لب بینچھے…

“تو تمہارا بھی نہیں ہے”…زیان بھی اس ہی کے انداز میں بولا…

“کوئی تو بات ہے تم میں بیٹا معلوم کرکے رہوگا”…

“شوق سے نظر رکھو معلوم ہوجائے تو مجھے ضرور بتانا”…وہ بولا اور کپ میز پر رکھا اور کھڑا ہوتا بولا…

“مزہ آئے گا بہت مزہ”…میثم پرسرار قہقہہ لگاتا بولا اور آگے بڑگیا…