Tum Bahar E Zindagi by Sukaina Zaidi NovelM80068

Tum Bahar E Zindagi by Sukaina Zaidi NovelM80068 Last updated: 9 December 2025

[favorite_button post_id="16239"]
48,914 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Bahar E Zindagi by Sukaina Zaidi

Novel code: NovelM80068

"اسلام و علیکم کلاس"...
"وعلیکم سلام"...
"سو کلاس آج میں آپ لوگوں کو....آپ آپ نیو ہیں"...سر نے اس کی طرف اشارہ کیا جو خاموشی سے کونے میں بیٹھی تھی"...
"بہری ہو کیا سر بلارہے ہیں"...ایک لڑکے نے اس کا کندھا تھپتھایا تو وہ ڈر کر جیسے ہوش مین آئی اور جلدی سے کھڑی ہوئی...
"جی سر"...
"کیا نام ہے آپ کا"...سر نے سوال کیا پوری کلاس کی نظر اس پر ہی تھی...
"سیمل خان"...وہ مضبوط پٹھانی لہجے میں بولی...
"نسوار کھاتی ہو"...پیچھے سے کسی لڑکے نے سوال کیا تو پوری کلاس کا قہقہہ نکلا...
"شیٹ آپ"...سر چلائی تو خاموشی چاہ گئی...
"بیٹھ جائیں اوکے جتنا سلیبس آپ کے پاس موجود نہیں وہ کسی اسٹوڈنٹ سے لے لیئے گا یا اوف ہونے کے بعد میرے آفس آئے گا میں کسی اسٹوڈنٹ سے لے دوگا"...سر بولتے اپنا سبق پڑھانے لگے...
"چرس پی کر آئی ہو جو سن بیٹھی ہو"...اس کے خاموش بیٹھنے پر پہلے والے کے ساتھ جو لڑکا بیٹھا تھا وہ بولا کلاس میں دبی دبی ہنسی گونجی وامش نے ناگواری سے ان لڑکوں کو دیکھا جو امیر باپ کی بگڑی اولادیں تھی اور ہر لڑکی کا جینا حرام کرتی تھی یہ لڑکی بھی وامش کو معصوم لگی...
"ارے نسوار منہ میں رکھا ہے نہ اس لیئے نہیں بول رہی"...پہلے والا لڑکا پھر بولا وہ خاموش رہی...
"اوکے کلاس باقی کا کل کرتے ہیں"...سر کا پریٹ پورا ہوچکا تھا کلاس آہستہ آہستہ خالی ہورہی تھی وہ لڑکے جو دوست تھا اور جملے کس رہے تھے وہ بوڈ پر سامنے کھڑے تھے سیمل اتری اور اسُ لڑکے کی پشت کے قریب جاکر کھڑی ہوئی کلاس خالی ہوچکی تھی سیمل نے ایک لحمہ لگائے بغیر رکھ کر لات ماری کہ وہ منہ کے بل بلبلاتا گرا...
"یہ نسوار کا کمال تم بھی کھایا کرو"...سیمل جلانے والی مسکراہٹ لیئے بولی اور دوسرے کو دیکھا اور ایک زبردست سا تھپڑ مارا کہ وہ کراہ کررہے گیا وہ نازک ہاتھ کا تھپڑ کہئی سے معلوم ناہوتا تھا سیمل نے پہلے والے کو دیکھا جو اٹھنے کی کوشش کررہا تھا لیکن لگی اسُ کے زبردست تھی کہ وہ مضبوط ہوتے ہوئی بھی اب تک زمین پر تھا پھر دوسرے کو دیکھا جو فوری بھاگا تھا وہ مسکراتی باہر نکلی مسکراہٹ ہٹ کر اب پہلی والی سنجیدگی نے جگہ لے لی تھی وامش جو اپنی کتاب ڈیکس پر بھول گیا تھا وہ لینے آیا تھا اور ساری کاروائی دیکھی لبو پر خود باخود مسکراہٹ بکھر گئی...
"کیا لڑکی ہے شکل سے معصوم"...وہ بڑبڑایا...

Complete Novel Download link AVAILABLE