Tum Bahar E Zindagi by Sukaina Zaidi NovelM80068 Tum Bahar E Zindagi (Episode 01)
Tum Bahar E Zindagi (Episode 01)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Tum Bahar E Zindagi by Sukaina Zaidi
وہ گاڑی کی ونڈو سے بار بار کبھی بار دیکھتا کبھی اپنی سفید کلائی پر بندی گھڑی کو آخر کار گاڑی منزل پر آکر رکی گارڈ نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا وہ ایک پاوں لینڈ کروزر کے گیٹ پر رکھتا اور ایک باہر کی طرف رکھتا کھڑا ہوا لوگوں کا ایک سلاب جمع تھا ہر طرف سے ایک ہی آواز آرہی تھی…
“حمزہ شاہ زندہ آباد”..
“حمزہ شاہ زندہ آباد”…
وہ لوگوں کو ہاتھ بلند کرتا یقین دیلارہا تھا کہ وہ عوام کے ساتھ ہے وہ گارڈز کے دائرے میں آگے بڑرہا تھا کہ ایکدم دھماکہ جیسی آواز آئی…
“واٹ دا ہیل”…وہ جھنجھلا کر اٹھا اتنا پیار خواب دیکھ رہا تھا لیکن ان دونوں نے سارا مزا خراب کردیا حمزہ نے بیزاری سے دونوں کو دیکھا کو آپس میں ایک دوسرے کو خوانخوار نظروں گھور رہے تھے..
“اب کیا مسلئہ ہوگیا”…حمزہ بلینکٹ سائڈ پر رکھتا ان دونوں کے پاس جاکر کھڑا ہوا…
“بھائی اس سے بولیں دوبارہ میرے موبائل کو ہاتھ مت لگائے”…سمیر بولا…
“کیوں بھئی تمہارا موبائل کہاں ہے”…حمزہ اپنی اکلوتی اور لاڈلی بہن کی پیشانی کو چمتا بولا…
“بھائی میرا موبائل خراب ہوگیا تھا اسے صیح کروانے کے لیئے دیا تھا اب تک نہیں کروایا”…علینہ معصومیت سے بولی…
“کیوں نہیں صیح کروایا”…
“بھائی یاد نہیں رہا جلد ہی کروادوگا لیکن اس سے بولیں یہ میرا موبائل یوز مت کریں”…سمیر نے علینہ کو دیکھا کہ جو بڑے لاڈ سے حمزہ کے ساتھ لگے کھڑی تھی…
“کیوں اگر یوز کرلے گی تو کیا ہوجائے گا”…حمزہ نے سوالیاں آئبرو اچکائی…
“بھائی یہ میرے موبائل میں میک آپ اور کوکنگز گیمز ڈاولوڈ کرتی ہے میرے دوست دیکھتے ہیں تو بہت مذاق بناتے ہیں”…وہ بےبسی سے بولا…
“اچھا اچھا زیادہ مظلوم عوام مت بنو میرا کریڈٹ کارڈ لے جانا اسے نیا موبائل لادینا”…حمزہ بولتا فریش ہونے بڑگیا علینہ نے حمزہ کے جاتے ہی اسے زبان چڑائی اور بھاگی…
“رکو چڑیل بھاگ کہاں رہی ہو”…سیمر بولتا اس کے پیچھے بھاگا…
“ارے ارے پاگل ہو گئے ہو صبح صبح کیا شور مچا رکھا ہے گھر میں”…وفا چلاتی باہر آئی اسُ کے حولیہ سے معلوم ہورہا تھا وہ ابھی ان دونوں کے شور سے اٹھی ہے…
“سوری ٹو سے ماما لیکن صبح نے اسے دوپہر کھتے ہیں”…سمیر ہنس کر بولا اور وفا کا گال کھینچا…
“ہٹی پیچھے رات سونے دیتے ہو تم لیگ باپ تمہارا رات دیر سے آتا ہے بھائی تمہارا تمہارے باپ سے بھی دیر میں آتا ہے سو تو آخر کب”…وفا جھنجھلا کر بولی…
“میں تو بولتی ہوں ماما بھائی کی شادی کروادیں خودُ ہی گھر پر ملیں گے وہ”…علینہ مزہ سے جوس پیتی بولی…
“تم اپنی زبان بند رکھو باپ اور حمزہ کے ساتھ جیسے بند ہوتی ہے”…وفا نے جھڑکا وہ واقعی اس کی بیٹی تھی جیسے وہ برہان کے سامنے بلکل معصوم بن جاتی تھی یہ ہی عادت علینہ میں تھی وہ تبریز اور حمزہ کے سامنے بہت معصوم بن جاتی اور سیمیر بیچارے کی خوب کلاس لگواتی…
“نیکی کا تو زمانہ ہی نہیں ہے علینہ تبریز”…علینہ بڑبڑاتی آگے بڑگئی…
“اس کو چھوڑیں یہ تو ہے ہی میسنی”…سمیر نے وفا کو ٹھنڈا کروانا چاہا…
“تمیز سے بیٹی ہے میری”…وفا بولی…
“تو مجھے کیا لونڈے کے بازار سے لائی تھی”…سمیر جل کر بولا…
“نہیں فت پات سے اٹھایا تھا”…پیچھے سے آتے حمزہ نے کہا…
“صیح ہے بیٹا کام کے وقت ہی صرف آپ لوگوں کو میں یاد آتا ہوں”…
“صفائی کروانے کے لیئے بھی”…کمرے کی طرف جاتے وفا نے بھی کہا تو حمزہ کا قہقہہ نکلا…
“یہ ہی اوقات ہے تمہاری”…حمزہ مزید جلاتا کچن کی طرف بڑا…
🌟🌟🌟🌟🌟
وہ بہت سکون سے سورہا تھا لیکن کچھ منٹ بعد اسُ لگا وہ اپنی جگہ سے کھسک رہا تھا کوئی اسے کھیچ رہا تھا ابھی وہ آنکھیں کھولتا کہ دھڑم سے وہ بیڈ کے نیچے تھا وہ چیخ کے اٹھا اور سامنے کھڑے وامش اور حماد اور انا کو دیکھا تو حلق پھاڑ کر ہنس رہے تھے….
“یہ کیا بےہودگی ہے”…رامش چلایا…
“اسے بہودگی نہیں اسے آج کل کے زمانے میں پرینک کہتے ہیں برو”…وامش قہقہہ کے درمیان بولا…
“تیرے پرینک کی ایسی کی تیسی”…رامش مشکل سے کھڑا ہوتا آگے بڑا تو تینوں ہنستے باہر بھاگے…
“آرام سے آرام سے”…برہان نے انا کو پکڑتے کہا تینوں اس کے پاس آکر کھڑے ہوگئے تھے عون بھی اپنے کمرے سے نکلتا آیا…
“رامش جہان سکندر کی طرح تم بھی تو رات کہئی ڈولی بن کر تو نہیں جاتے”…عون نے رامش کو دیکھتے ہنس کر کہا…
“کیا مطلب”…رامش ناسمجھی سے بولا اور سب کو دیکھا تینوں کے علاوہ برہان بھی اسے دیکھتے مسکراہٹ دبا رہا تھا صوفے پر بیٹھا ہمیشہ سے سنجیدہ رہنے والا زیان بھی نا ہسنے کی پوری کوشش کررہا تھا رامش جلدی سے لاونج میں لگے شیشے کے سامنے گیا ہس میں اپنی شکل دیکھ کر ایک پل کو خودُ ہی ڈرگیا آنکھوں پر کاجل ہونٹوں پر لال لپ اسٹ پیشانی میں بڑا سا ایک ٹیکا ناک پر نوس پن کی جگہ کاجل سے ایک نگ کی طرح بنایا ہوا تھا دیکھ کر رامش کا چہرہ لال ہوگیا تھا…
“یہ ہماری کرامت ہے چاچو”…حماد اور وامش ساتھ بولے…
“اور چیزیں میری”…انا نے فخر سے بتایا…
“زبردست مجھے فخر ہے کہ میری اور زین کی روایت اب تک قائم ہے خوش رہو جیتے رہو اور میرا سر فخر سے بلند کرتے رہو”…بڑے ہی فخر سے عون نے بچوں کو سرایا…
“واٹ چاچو یہ کیا بول رہے ہیں آپ یہ حرکتیں کرنی کی عمر ہے ان کی بائس بیس سال کے نوجوان ہے لیکن حرکتیں ٹین ایج والی”…عون کی بات پر رامش جل کر بولا…
“اچھا ابھی تو جاؤ تم حولیہ دروست کرو اپنا”…خاموش بیٹھے زیان نے رامش سے کہا تو وہ اس زور کی چپت وامش حماد کو لگاتا اپنی کمرے کی طرف بڑا انا کھڑی ہنس رہی تھی…
“تم بھی اپنا حولیہ ٹھیک کرو جاؤ”…زیان نے سرد نظریں انا پر ڈالتے کہا تو وہ لب بیھنچے اپنے کمرے کی طرف بڑگئی زیان اور انا کی کبھی نہیں بنی تھی…
“آج کا دن اب سکون سے گزرے گا”…حماد کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے وامش نے کہا اور دونوں اپنی باتوں میں لگ گئے جب تک کسی کو تنگ نہ کرلیں ایسا لگاتا تھا دونوں کو جیسے کھانا نہیں کھایا ہو…
تائیس سالوں میں بجت کچھ بدلہ تھا سب سے بڑا وقت لوگ سب کچھ بدل چکا تھا لیکن کچھ چیزیں اکبر ولا کی ویسی ہی تھی کیف اور مریم کے والدین روڈ ایکسڈنٹ میں انتقال کرگئے تھے سیما شاہ کا بھی انتقال ہوچکا تھا گھر میں بزرگوں میں صرف اب مصطفیٰ شاہ اور ہانیہ بیگم ہی بچے تھے مشعل برہان کا ایک بیٹا تھا تیئس سال زیان کا گھر کا بڑا بیٹا وہ بلکل برہان کی کاپی تھا لیکن اسُ کا غصہ برہان سے بھی دگنہ تھا وہ سنجیدہ ہی رہتا تھا برہان کی ایک بیٹی بھی تھی انیس سال کی ارم بس ٹھیک تھی نا زیان کی طرح سنجیدہ نا وامش حماد کی طرح طوفانِ زندگی شاہ ذر آیت کے دو بیٹے تھے رامش وامش ٹوئنز دونوں میں بس ڈمپل کا فرخ تھا وامش کے ڈمپل گال پر پڑھتے تھے اور وامش کے آنکھوں کے کناروں پر تھے تو ٹوئنز لیکن عادتیں بلکل الگ تھا رامش سنجیدہ طبیت کا مالک تھا اور وامش اتنا ہی قیامت مچا کر رکھتا تھا عون کا ایک ہی بیٹا تھا حماد اٹھارہ سال کا وامش کا کرائم پاٹنر بلکل عون پر گیا تھا وہ کیف کی ایک ہی بیٹی تھی بیس سال کی انا عادتیں بلکل باپ پر گئی تھی وامش حماد کے ساتھ مل کر وہ بھی شروع ہوجاتی تھی بس ایک انسان سے ڈرتی تھی زیان شاہ سے یا تھوڑا بہت حمزہ سے ورنہ تو وہ چلِ بندی تھی ارسل بھی ان کے ساتھ ہی رہتا تھا ارسل کی بھی دو بیٹیاں تھی ایک اٹھارہ سال کی اریج اور سولہ سال کی اریحہ موسیٰ کی بس ایک بیٹی تھی دانیہ اٹھارہ سال کی اور ایک بیٹا رمیز سترہ سال کا حمنہ بیگم شوہر کی جدائی میں انتقال کرچکی تھی حجاب موسیٰ کے ساتھ بہت خوش تھی اور حجاب سے شادی پر موسیٰ بھی مطمعین اور بہت خوش تھا ماہم کا کسی نے پلٹ کر پوچھا تک نہیں تھا…
اب بات حیدر ولا کی کرتے ہیں وفا اور تبریز کے دو بیٹے تھے اور ایک بیٹی بڑا بیٹا بئیس سال کا حمزہ جو غصب کی پرسینلٹی کا مالک تھا یونی میں دوسرے سال میں ہے پولیٹکس میں سیاست میں جانے کا بہت شوق تھا وفا کے بہت انکار پر بھی زبردستی وفا کو راضی کیا اور اب سیاست پڑھ رہے ہیں وفا اب بھی شکواہ کرتی تھی اسےُ ویسے ہی تبریز کی فکر رہتی تھی اور اب بیٹا بھی اس خطرناک لائن میں آگیا تھا سیاست میں قدم رکھ لیئے تھے اور بات کی جائے سمیر صاحب کے لیئے تو بس ایک ہی لائن ہے…
“آگ لگے بستی میں ہم ہے اپنی مستی میں”…
دنیا سے کوئی کام ہی نہیں بس گھر میں اپنی پرینک مچا کر رکھتے ہیں بیس سال یے ہے سیمر صاحب بزنس پڑھ رہے ہیں یونی میں دوسرا سال ہے پھر آتی ہے سب کی لاڈلی چاچو ماموں کزنز بھائی کی سب کی لاڈلی “علینہ تبریز شاہ” جی تو ویسے تو یہ زیادہ باپ کے ساتھ ہی پائی جاتی ہے یا حمزہ صاحب کے ساتھ چپکی ملے گی لاڈ جو دونوں اٹھاتے ہیں لاڈ تو زین بھی اس کے بہت اٹھاتا ہے وہ پورے خاندان میں سب سے چھوٹی اور نازک بچی جو ہے حساس بھی بہت ہے مقابلہ پورا کرتی ہے لیکن صرف گھر والوں سے باہر تو بس ابھی کالج جاتی ہے پندرہ سال کی ہے لیکن کشمیری گڑیا لگتی ہے گوری رنگت اسُ پر نیلی آنکھیں معصومیت بلا کی…تو جی اب بات کرتے ہیں زین صاحب کی زین کی ایک ہی بیٹی ہے فلک سترہ سال کی ہے زیاسہ بولتی بھی نہیں لیکن بور بھی ننیں بلکل جنت پر گئ ہے بس اس سے سمجھ آجائے گی کہ کیسی ہے ابراہیم باہر مل ہی شفٹ ہوگیا تھا جب سے اس کے والدین کا انتقال ہوا تھا طلال صاحب حرم بیگم بھی باہر ہی ابراہیم کے ساتھ رہتے تھے اور چار پانچ سال بعد پاکستان کا چکر لگا لیتے تھے…
🌟🌟🌟🌟🌟
“تم اٹھ رہے ہو کہ نہیں”…آخر کار جب صبر جواب دے گیا تو وہ چلا اٹھی لیکن جواب میں صرف خاموشی وہ آگے بڑی اور پانی کا جگ اٹھایا اور پورا جگ الٹ دیا وہ بدک کر کھڑا ہوا نیند اٹن چھو ہوئی…
“یہ کیا حرکت ہے وفا”…تبریز منہ پر ہاتھ پھرتا بولا…
“تم عزت کے لائق ہی نہیں ہو مسٹر تبریز”…وفا نے چھڑکا…
“سارا خواب برباد کردیا کتنا مزہ آرہا تھا میں کینیڈا کی سڑکوں پر پھر رہا تھا”…تبریز افسوس سے بولا…
“مسٹر تبریز خواب سے جاگ جائیں اور جلدی سے کچن کی طرف بڑیں آج اتوار ہے اور آج کا ناشتہ آپ نے بننا ہے وقت تو ناشتے کا نکل چکا لیکن آپ پھر بھی بنائیں آپ کے تینوں بچے ناشتے کے انتظار میں ہیں جلدی کریں”…وفا آوڈر دیتی کمرہ سیٹ کرنے لگی…
“افسوس ہے تمہاری قسمت پر تبریز”…تبریز خودُ بڑبڑاتا فریش ہونے بڑگیا ابھی ناشتہ بھی بنانا تھا…