📱 Download the mobile app free
[favorite_button post_id="17168"]
51895 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Rozan e Zindaan Episode 13

سم کارڈ ری پلیس ہوتے ہی سبرین کے موبائل پر دس مس کال ظاہر ہوئیں۔
ان میں کچھ فریا کی تھی، اور کچھ جعفر یزدانی اور صالحہ یزدانی کے ساتھ کچھ اور لوگ۔۔
صالحہ اور جعفر صاحب کی کالز پر اس نے سوچا “کیا جو حادثہ میرے ساتھ ہوا ،ہوسکتا ہے مام ڈیڈ کو اب میری فکر ہوئی ہو” سبرین کا دل ان کی طرف کھینچنے لگا۔۔یقیناً مام اسے پریشان ہوکر واپس بلانے کے لئے کال کررہی ہوگی۔۔اس امید سے اس نے صالحہ کو کال بیک کی۔
“مام۔۔۔۔”
“تو بالآخر تم نے مجھے کال کرہی لی۔۔ “صالحہ کی غصیلی آواز رسیور سے نکل کر سبرین کو تو صدمے سے گنگ کرگئی۔۔۔۔یہ اس کی سوچ سے بالکل الٹ ہوا تھا۔ “آخر کب تک باہر رہنے کا ارادہ ہے؟ فوراً گھر واپس آؤ۔” صالحہ نے دھونس بھری آواز میں کہا۔
جملے “گھر آؤ” سبرین کو گہرائی سے چھبے تھے۔۔
“کیا اب بھی وہ گھر میرا ہے؟”
” سبرین ، اگر تم اب بھی واپس نہیں آرہی تو پھر کبھی زندگی میں واپس مت آنا۔۔نہ کبھی مجھے اور اپنے ڈیڈ کوکسی موڑ پر پہچاننے کی کوشش کرنا۔”صالحہ نے آخری حربہ بلیک میلنگ کا آزمایا۔۔۔۔اور ساتھ ہی فون بند کردیا۔
آخر کچھ دیر کی ہچکچاہٹ کے بعد سبرین نے یہ فیصلہ کر لیا کہ اسے واپس جانا چاہیئے۔
کچھ بھی تھا۔۔ جعفر صاحب اور صالحہ نے اسے پال پوس کر بڑا کیا تھا۔۔ اس کا گھر جانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ حنان بخاری کی ریکارڈنگ اپنی ماں اور باپ کو سنائے۔۔ تاکہ ان کو بھی آبش کے اصل رنگ پتا چلے۔(یہ اس کی نادانی ہی تو تھی، جو ایسا سمجھ رہی تھی )
٭٭٭٭
ایک گھنٹے بعد وہ گاڑی ڈرائیو کرکے یزدانی ریزڈینسی آگئی۔
حالانکہ اسے اس گھر سے نکلے صرف ایک مہینہ ہی ہوا تھا لیکن ایک اجنبی احساس اس کے دل کو چھو گیا۔۔ جیسے یہاں رہنے والے سارے لوگ بدل چکے ہوں یہ اس کی چھٹی حس تھی جو اسے احساس دلارہی تھی۔ لیکن اس پر صرف ایک ہی دھن سوار تھی کہ کسی طرح آبش کا اصل چہرہ مام ڈیڈ کو دکھاسکے۔۔
پارکنگ ایریا میں ایک طرف کار کو پارک کرکے وہ اندر داخل ہوئی۔۔ جعفر صاحب ،صالحہ یزدانی اور آبش لیونگ روم میں موجود تھے۔
جس لمحے سبرین نے آبش کے چہرے کو دیکھا اس کے اندر نفرت سی بھڑک اٹھی۔
” ڈیڈ۔۔۔۔ مام۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس نے میرا ڈیزائن چرایا ہے۔۔ اور وہ۔۔۔۔۔۔ ”
“سبی۔۔۔ مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں، کہ تم مجھ پر باہر کیا الزام لگاتی ہو ، لیکن تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ پر میرے ہی گھر میں کیچڑ اچھالنے کی؟ ” آبش کے چہرے پر ایک تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔ “میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔”
صالحہ کے خوبصورت نقوش سبرین کا الزام سن کر بگڑ گئے تھے۔
“آخر تم اپنی بہن کے پیچھے ہاتھ دھو کر کیوں پڑی ہو؟ جب بھی آتی ہو کوئی نہ کوئی نیا الزام لگادیتی ہو۔۔ میں پوچھتی ہوں آخر اس نے تمہارا کوئی قرض کھایا ہے؟”
صالحہ کی بات پر سبرین نے فون نکالا۔۔
“میرے پاس ثبوت موجود ہے۔” اس نے فون سے ریکارڈڈ ویڈیو چلادی۔۔
آبش نے اچھی طرح حنان بخاری کی آواز پہچانی تھی۔اس کے
تاثرات یکدم بدل گئے۔
تاہم اس نے جلد ہی اپنے آپ کو کمپوز کرلیا۔۔ اور معصومیت سے غمگین انداز میں بولی۔
“مجھے نہیں پتا کہ کون سے فضول شخص سے تم نے یہ ریکارڈنگ حاصل کی ہے؟ یہ حنان بخاری کون ہے؟ میں تو اسے جانتی تک نہیں۔”
سبرین نے رخ موڑ کر جعفر صاحب کو قدرے سرخ نمناک آنکھوں سے دیکھا۔
“ڈیڈ! آبش نے دس ہزار ڈالر حنان بخاری کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کئے تھے، جسے آپ اب بھی آسانی سے چیک کر سکتے ہیں۔ وہ ایک دیہی علاقے میں پلی بڑھی ہے۔ اور آپ کے سکھانے کے بعد ہی تھوڑی بہت ڈیزائن کرنا سیکھی ہے۔ لیکن کم عرصے میں پھر بھی کتنا سیکھ سکتی تھی؟اور اتنا شاندار ڈیزائن کیسے تیار کر سکتی تھی؟”
“مام ۔۔۔ڈیڈ میں نے سچ میں ایسا کچھ نہیں کیا ہے۔”مگر مچھ جیسے آنسو آبش کی آنکھوں سے بہتے گال بھگونے لگے۔۔ جس پر صالحہ تڑپ اٹھی۔
صالحہ نے سبرین کے طرف ہاتھ بڑھایا۔
“سبی۔۔۔ یہ ریکارڈنگ مجھے دکھانا۔”
کافی عرصہ بعد جب سبرین نے صالحہ کو اپنے نک نام “سبی” سے پکارتے ہوئے سنا۔ اس نرم دل لڑکی اور سچی لڑکی کا دل اس کی طرف جیسے پگھل سا گیا۔۔۔ سبرین نے بخوشی فون اس کے حوالے کیا۔
صالحہ نے اس سے فون لے کرریکارڈڈ فائل نکالی اور ڈیلیٹ کردی۔ سبرین تو اس عمل پر حیرانگی سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی اس قدر بھی سنگدل ہوسکتا ہے ؟
“مام۔۔۔۔آپ۔۔۔ کیوں؟؟؟ سبرین اتنی شاکڈ تھی کہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کہے؟ یہ بالکل اچانک اور اس کی توقع کے الٹ عمل تھا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ فون ان سے لیتی۔۔صالحہ اپنا کام کرچکی تھی۔۔ اب سبرین کے پاس سوائے کفِ افسوس کے کچھ نہ بچا تھا۔
صالحہ کی نگاہوں میں ایک بار پھر سرد تاثر تھا۔
“میں تمہیں اس جعلی ریکارڈنگ کی وجہ سے اپنی بہن کی ساکھ اور مستقبل برباد کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ بات کو زیادہ مت کھینچو۔”
سبرین شدید شاک سے کانپی۔۔۔اس وقت اس کے منہ سے بے اختیار ایک کھوکھلی سی ہنسی نکلی۔
“اب میں نے یہ دیکھ لیا، آپ دونوں کو بالکل بھی یہ پرواہ نہیں کہ ریکارڈنگ اصلی تھی یا جعلی، آپ کو صرف اور صرف اس کی پرواہ ہے۔کتنے بے حس لوگ ہیں آپ؟کیا واقعی میں میں آپ کی بیٹی ہوں؟” دکھ سے اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
جعفر یزدانی نے اشتعال میں آکر میز پر ہاتھ مارا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
“اگر میں پہلے جانتا ہوتا کہ تم آگے چل کر اس طرح کا خطرہ بنو گی ، تو میں تم جیسی لڑکی کو اسی وقت چھوڑ دیتا۔ تم نے جو عظیم کام کیا ہے۔۔ پہلے اسے دیکھو۔۔۔ تم نے لائیو ویڈیو کے دوران جو شرمناک کام کیا، اس سے اپنی ساکھ تو کھو ہی دی۔۔ لیکن ہمارا سر بھی شرم سے جھکا دیا ہے۔ کیا کوئی بھی شریف آدمی مستقبل میں تم سے شادی کرسکے گا؟ دوم تمہاری حرکتوں کی وجہ سے سمٹ کمپنی اپنے ملنے والے پروجیکٹ سے بھی محروم ہوگئی ہے۔۔ تم ہمارے لئے صرف نقصان کی وجہ ہو۔”
“مجھے نہیں معلوم کہ آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ” سبرین نے روتے ہوئے مسلسل نفی میں سر ہلایا۔ “کیا میرے والدین کی حیثیت سے ،آپ لوگ میرے لئے بالکل بھی پریشان نہیں ہوئے؟ جب میں نے اس قدر بھیانک واقعے کا سامنا کیا تھا؟”
وہ گنگ تھی۔
“بہت اچھے کام کیئے ہیں تم نے۔”صالحہ نے طعنہ مارا۔ “کوئی تعجب نہیں جو ایزد نے تمہیں دھتکار دیا۔”
سبرین کے الفاظ اس کے تَھرکتے ہوئے لبوں کے اندر جیسے سِل گئے تھے۔اس کی ساری اُمیدیں اور اِن لوگوں سے وابِستہ ساری توقعات اُس کے وجود میں کہیں ٹُوٹ کر اپنی موت آپ مرگئیں ۔اِتنی بیوقوف کیسے تھی وہ؟ اُسے یہاں واپس نہیں آنا چاہیئے تھا۔ اِن لوگوں کی نظَر میں سچ کی کوئی اہمیت نہیں تھی، اِن کے لئے اہم صِرف اور صِرف آبش یزدانی تھی۔وہ اُن کے لئے ایک ايسا خزانہ تھی جسے وہ ایک بار اپنی لاپرواہی سے کھو چکے تھے اور اب وہ انہیں بیس سال بعد ملی تھی ،کیسے وہ اس پر کسی کی انگلی برداشت کرتے؟
نااُميد ہوکر سبرین نے صالحہ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
” مجھے میرا سیل واپس کریں تاکہ میں یہاں سے جاسکوں، مجھ جیسی شرمناک لڑکی اِس گھر میں آنے کی بالکل بھی مستحق نہیں، نہ ہی آپ سے ریلیٹڈ ہونے کی مستحق ہے۔”
“کیا تُم اب یہاں سے جاکر اِس خاندان کو شَرمِندہ کرنے اور کسی نئے مسئلے سے دوچار کرنے کا منصوبہ بنانا چاہ رہی ہو؟”
اب کہ جعفرصاحب نے صالحہ کے اندازمیں طعنہ مارا۔
” بہتر ہے کہ گھر پر رہو،اور اپنے کئے کرتوتوں پر غور کرو۔۔جب اپنی ہٹ دھرمی چھوڑو گی تب میں تمہیں جانے دوں گا۔”جعفر یزدانی نے بات ختم کرتے ہی تالی بجائی تھی،اچانک ہی کچھ باڈی گارڈز اندر آگئے اور سبرین کو دونوں طرف سے جکڑلیا۔
“تُم لوگ کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہو؟ مجھے اغوا کروا رہے ہو؟” سبرین تو جیسے حیرت و غصے سے پاگل ہورہی تھی۔ اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کا خاندان اتنا ظالم ہوگا؟
“میں صرف اپنی ضِدی بیٹی کو ایک سبق سِکھانا چاہتا ہوں۔ اسے سیڑھیوں سے اوپر کمرے میں بند کردو۔”
آبش جلدی سے آگے بڑھی۔
“ایسا مت کریں، ڈیڈ۔ آفٹر آل، سبی ابھی چھوٹی ہے اور نادان بھی،سب سے بڑی بات کہ یہاں ہمیشہ ہی مہمان ملنے آتے ہیں۔یہ بالکل بھی اچھا نہ ہوگا اگر کوئی اوپر سے اس کی چیخ سن لے، یہ اچھا نہیں ہوگا۔۔ سوچیں ڈیڈ۔”
جعفر یزدانی آبش کی بات پر واقعی چکرا کر رہ گیا۔ جب یہ تصور کیا کہ اگر کوئی مہمان ملنے آجائے اور سبرین کی چیخ سنے تو یہ بالکل بھی ان کے لئے اچھا نہ ہوگا۔۔اسی سوچ کے آتے ہی وہ آبش کے شیطانی مشورے پر راضی ہوگیا۔۔
“ٹھیک کہہ رہی ہو، پھر اسے اپنے پرانے پیننگٹن والے گھر میں لاک کرتے ہیں”۔
سبرین تو یہ سن کر گھبراگئی۔۔ اور اندر ہی اندر ڈر و خوف سے لرزنے لگی۔۔ پچھلے سالوں میں وہ صرف ایک بار وہاں عبادت کی غرض سے سب کے ساتھ گئی تھی، پیننگٹن والے گھر کو 50 سے 60 سال پہلے یزدانی خاندان نے چھوڑ کر شہر والے گھر میں رہائش اختیار کی تھی،حالانکہ اس گھر کی تزئین و آرائش کی گئی تھی۔ لیکن اس کے چاروں طرف ویران علاقہ تھا اور کافی خوفناک بھی۔
سبرین پر اب کُھلا کہ آبش نے ڈیڈ کی بات میں اُس کے لئے کیوں مَداخلت کی۔
“آبش۔۔۔ یو بچ۔۔۔” وہ جیسے صدمہ سے چیخی۔
صالحہ نے سبرین کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا۔
“بکواس بند کرو! تمہاری بہن تمہاری بہتری کے لیے سفارش کر رہی ہے پھر بھی تم اس کی توہین کر رہی ہو ۔ تم واقعی ایک خطرناک لڑکی بن چکی ہو! ”
“جلدی سے اسے وہاں لے جاؤ۔” جعفر یزدانی کا غصے کے مارے چہرہ سرخ ہوا۔ سبرین کی اس تبدیلی پر وہ سخت پریشان تھا ۔اس نے سوچا “آخر کس بات نے سبرین کو ایسا بدتمیز اور خطرناک بنادیا ہے۔؟”
دورانِ سفر سبرین کو بالکل بھی اندازہ نہ ہوا کہ کتنا فاصلہ طے ہوا ہے؟ وہ مسلسل روتے روتے تھک کر غنودگی میں چلی گئی تھی، جب آنکھ کھلی تو وہ اس پرانے الگ تھلگ ویرانے والے گھر میں پہنچ چکی تھی۔ اسے گھسیٹتے ہوئے باڈی گارڈز نے ایک اندھیرے کمرے میں پھینک دیا۔۔ باہر کا دروازہ بند کرکے لاک لگا دیا گیا۔۔ اس کمرے کی کھڑکیوں تک پر تختے لگا کر کیلیں ٹھونک دی گئیں۔
سب سے بڑی بات یہ کہ نہ یہاں بجلی تھی نہ پانی۔ ایک کمبل بھی دستیاب نہیں تھا۔
جبکہ اس کا فون صالحہ ہتھیا چکی تھی، اب اسے پتا نہیں چل رہا تھا
کہ وقت کیا ہوا ہے؟
٭٭٭٭
پورا دو منزلہ یہ پرانا مکان سیاہ رنگ کا تھا۔ جب ہوا چلتی تھی اور اس کے نتیجے میں دروازوں کے ساتھ کھڑکیوں کے پَٹِ ٹکراتے تھے ،اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوفناک آواز سن کر رونگٹھے کھڑے ہوجاتے تھے۔کمزور دل کے انسان کے لئے اس ویرانے میں ایک رات رہنا بھی موت کے منہ میں جانے کے برابر تھا۔
سبرین تقریبا~ پاگل ہونے کے قریب تھی۔ ٹھنڈے بستر کi طرف لپکتے ہوئے ، اس میں بالکل بھی حرکت کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔وہ اندھیرے سے خوفزدہ رہتی تھی،تبھی اندھیرے کمرے میں ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔
تبھی کھڑکی کے طرف سے کھٹکا ہوا وہ ڈر کر اچھل پڑی، اس نے دیکھا کہ کھڑکی کھل گئی ہے، وہ ڈرتے ڈرتے وہاں ایک امید سے بھاگی۔ایک بوڑھی عورت نے کھڑکی سے چاولوں کا پیالہ اندر کیا۔
سبرین نے فورا~ اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور التجا کی۔
“خالہ جی! م۔۔۔۔میں آپ سے التجا کرتی ہوں کہ م۔۔۔مجھے جانے دیں۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے، تو کم از کم بلب روشن کریں۔ اور م۔۔۔مجھے بستر اور ایک کمبل دیں۔۔یہاں سردی بہت ہے۔ اور ۔۔۔اور ۔۔ یہ اندھیرا۔۔۔بہت خوفناک ہے۔۔ پلیز۔۔ ”
“ہرگز نہیں، یہ بڑے صاحب اور میڈم کا آرڈر ہے۔” بوڑھی عورت نے بے رحمی سے اس کی گرفت سے ہاتھ کھینچا۔ پھر ۔۔۔۔ کھڑکی ایک زوردار آواز کے ساتھ بند ہوگئی۔
اس بھیانک اندھیرے میں کھڑا ہونا سبرین کے لئے بہت مشکل تھا۔۔اس کی سانس تھمنے لگی تھی، خوف کے باعث وہ بمشکل سانس لے پارہی تھی۔
آخر اس سے ایسا کیا برا ہوا تھا ؟ جو ہر ایک اس کے خلاف کھڑا ہوگیا تھا۔اور اسے تکلیف پہنچا رہا تھا۔اس کا وقار چھین لیا گیا تھا۔ اب اس کی آزادی اور زندگی چھینی جارہی تھی۔
اسے آبش سے سخت نفرت محسوس ہوئی، ساتھ ہی جعفر یزدانی،صالحہ یزدانی اور ایزد سے دل کی گہرائی سے نفرت ہوئی۔
تاہم وہ خود کو ایسے تو حالات پر چھوڑ نہیں سکتی تھی۔وہ زندہ رہنا چاہتی تھی، اور ان سب سے بدلہ لینا چاہتی تھی۔۔اس کے لئے زندہ رہنا اشد ضروری تھا ۔
یہ سوچ کر اس نے چاول کا پیالہ آگے کیا اور بھوک نہ ہوتے ہوئے بھی زبردستی مٹھی بھر کر منہ میں ٹھونسے۔ لیکن منہ میں جاتے ہی اس کے ذائقے اور بدبو سے اسے بے اختیار ابکائی آئی۔۔ چاول باسی تھے۔
اس خیال کے آتے ہی اپنی بے بسی پر آنکھوں سے آنسو بناء کسی رکاوٹ کے بہنے لگے۔
اندھیرے میں اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ بس پھٹی پھٹی آنکھوں سے بمشکل اندھیرے کو گھورے جا رہی تھی۔
اگر کوئی اسے بچانے نہ آسکا ۔تو یقینا وہ اس اندھیرے گھر سے زندگی بھر باہر نکل نہ پائے گی۔
کمرے سے باہر۔۔۔مین گیٹ سے کچھ فاصلے پر بوڑھی عورت نے کال ملائی۔
“چھوٹی بی بی،آپ نے جس طرح حکم دیا تھا، میں نے ویسے ہی کیا ہے۔”
“آل رائٹ، اب کل درجہ حرارت کم کرنا۔ مجھے امید ہے وہ اس گھر میں ہی سردی سے ٹھٹھر کر مرجائے گی۔”
“چھوٹی بی بی، فکر مت کریں، جس طرح کی آج کل سردی ہے وہ
بمشکل چار دن ہی زندہ رہ پائے گی۔”
٭٭٭٭