Rozan e Zindaan by Raqs e Bismil Rozan-e-Zindaan: Modern Romance A Ruthless Love Story NovelM80093 Rozan e Zindaan Episode 11
Rozan e Zindaan Episode 11
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
براہِ راست ویڈیو میں توقف آجانے سے ۔۔جنت کا دل جیسے کسی انجانے خوف سے کانپ اٹھا۔۔
اس کے بعد اچانک جو شخص اسے لائیو ویڈیو میں نظر آیا۔۔ وہ وہی پراسرار شخص تھا جو گرپ فروٹ ریسٹورنٹ میں آیا تھا۔۔ جس نے سبرین کی سائیڈ لے کر ان تینوں کی بے عزتی کی تھی۔
بعد میں اس نے پتا کروایا تھا تو معلوم ہوا یہ آدمی کوئی مشہور شخصیت نہیں بلکہ ایک عام سا وکیل ہے۔
اسنے سنا تھا کہ یہ آدمی وکلاء میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔۔ لیکن اپنی اس نمایاں پہچان کے باوجود بھی،وہ کیمپبیل خاندان سے کسی طور میچ نہیں رکھتا تھا۔۔۔
ٹھیک اسی وقت جنت کا سیل فون بجنے لگا۔۔کسی نے اسے فون کرکے بتایا کہ زین کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔
“کوئی راستہ ڈھونڈھ کر اس کی بیل کرواؤ۔”جنت یکدم پریشان ہوئی۔۔ اگر زین نے منہ کھولا تو وہ بچ نہیں سکے گی۔
“ویل۔۔۔ مجھے ڈر ہے، کہ یہ ممکن نہیں، شیث صاحب نے اس کی مضبوط سفارش کی ہے کہ زین کو ہمیشہ کے لئے اندر کریں۔ہم شیث صاحب کے اثر و رسوخ کے آگے کچھ نہیں کرسکتے۔ہم ان کا غصہ افورڈ نہیں کرسکتے۔”اجنبی آواز میں بے بسی تھی۔
یہ سن کر جنت کا دل ڈوبنے لگا۔
“کوشش کرکے زین تک یہ بات پہنچاؤ کہ وہ اپنا منہ بند رکھے۔ورنہ اس کی فیملی کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں ہوگی۔”جنت نے دھمکی دی۔
“آل رایٹ۔۔”دوسری طرف جو بھی تھا۔۔ ہنکارا بھر کر چپ ہوگیا۔
٭٭٭٭
ہاسپٹل میں۔۔۔۔
چہرے پر درد کی وجہ سے سبرین کی آنکھ کھل گئی۔
اس نے آنکھیں پوری طرح کھول کر اردگرد دیکھا ۔۔ خود کو ہاسپٹل کے بیڈ پر دیکھ کر حیران ہوئی۔
“مجھے کس نے ہاسپٹل بھیجا؟'”اس نے حیرانی سے سوچا، تبھی شہزام کا خوبصورت چہرہ اس کے ذہن کی اسکرین پر لہرایا۔
“تم جاگ گئی۔”اس کے پاس آدمی کی آواز ابھری۔
اس نے آواز کے سمت سر گھما کر دیکھا۔۔ شہزام صوفہ پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“ایک شادی شدہ عورت ہوکر تم اکیلی ایک پب میں بیٹھ کر ڈرنک کررہی تھی؟ کوئی شرم ہوتی ہے۔۔کوئی حیا ہوتی ہے۔”
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی،اس کے الفاظ واقعی بھی دل کو لگ گئے۔۔ایسا لگا جیسے کسی نے ٹھنڈے پانی کی بھری بالٹی اس کے اوپر ڈال دی ہو۔۔وہ شرم سے گڑ سی گئی۔
“تم صحیح کہتے ہو۔۔۔ میں واقعی یہ بھول گئی تھی کہ میں شادی شدہ ہوں۔”افسردگی اور بے بسی اس کے لہجے سے عیاں تھی۔
شہزام کی آنکھوں میں غصے کی لہر سی ابھری تھی۔۔ آج سے پہلے وہی تھی ،جو یہ اقرار بار بار کرتی تھی، اسے زچ کرتی تھی،اور اب وہ یہ کہہ رہی کہ وہ واقعی بھول گئی ہے کہ وہ ایک شادی شدہ عورت ہے۔اس کا سیدھا مطلب یہی ہوا کہ وہ ہر بات کو رد کرنا چاہتی تھی۔
“تم نے اب بھی اپنی غلطی سے کچھ نہیں سیکھا۔اگر میں وہاں نہ آتا تو تمہاری زندگی ہمیشہ کے لئے برباد ہوجاتی، تمہیں بھلے نہ ہو لیکن مجھے اپنی عزت کا خیال ہے۔”
“پریشان نہ ہو،کوئی بھی یہ بات نہیں جانتا کہ میری شادی تم سے ہوئی ہے۔” اس کی بات پر سبرین سخت رنجیدہ ہوئی تھی، پہلے وہ یہی سمجھی کہ اسے اس کا خیال ہے،لیکن اب بات واضح ہوگئی کہ نہیں۔۔۔ شہزام سوری کو صرف اور صرف اپنے وقار کا خیال ہے تبھی اس نے سبرین کی عزت بچائی۔
شہزام کو اس کے لئے دیئے رویئے سے سخت دلی تکلیف ہوئی۔
“ویل، ایسا لگتا ہے میں نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کردیا۔۔مجھے تم کو بچانا ہی نہیں چاہیئے تھا۔۔ٹھیک کہا نا۔؟”
اس کی غلط فہمیوں کا سبرین کے پاس جواب نہیں تھا۔ وہ صفائی دیتے دیتے تھک گئی تھی۔۔اس نے بالکل بھی بحث نہیں کی۔۔
اس نے اپنی نظر پھیر لی اور کمبل میں دبک گئی۔
اس کے چہرے کے زخم دیکھ کر شہزام کافی بے آرام ہوا تھا۔
شہزام کو اپنے احساسات سمجھ میں نہیں آرہے تھے کہ آخر اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔۔ جب وہ بے ہوش تھی۔۔تو اس کا دل چاہ رہا تھا زین کو قتل کرڈالے۔۔اور اب جب وہ ہوش میں تھی تو وہ مسلسل اسے طعنے دے رہا تھا کہ وہ خود کی حفاظت نہیں کرسکتی۔
یہ دیکھ کر کہ وہ بالکل خاموش ہے۔۔ کچھ نہیں بول رہی۔۔ کوئی احتجاج نہیں کررہی۔۔ اس سے لڑ نہیں رہی۔۔ اس سے بحث نہیں کررہی۔۔ وہ سخت دلی تکلیف محسوس کرنے لگا۔۔۔ لیکن منہ سے اظہار کرنے میں اس کی خود ساختہ انا آڑے آرہی تھی۔
وارڈ میں بالکل خاموشی سی چھاگئی۔۔دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر چپ خود سے لڑرہے تھے۔۔
“زین نے ہر بات کا اقرار کرلیا۔۔۔۔۔”۔اس وقت شیث اپنی ہی دھن میں بولتا اندر آیا۔۔”ہیں ں ں ۔۔۔یہ تم دونوں کو کیا ہوا؟” وہ حیران ہوا۔۔
ایک تو صوفے پر منہ سجا کر جیسے دنیا سے ناراض بیٹھا تھا۔۔ جب کہ دوسرا فرد کمبل میں وجود چھپائے ہوئے تھا۔
ماحول کافی بیزار بیزار سا لگ رہا تھا۔
“اس نے کیا کہا ہے؟” شہزام نے سرد لہجے میں پوچھا۔
“اس نے یہ اقرار کیا ہے کہ وہ بھابھی کا ہائی اسکول کے وقت کا دوست تھا۔وہ اس سے محبت کرتا تھا، لیکن بھابھی نے اس کی بدصورتی اور غربت کی وجہ سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔تب سےاس نے بھابھی کے خلاف بغض رکھا ہوا تھا۔جب اس نے بھابھی کو تنہا ڈرنک کرتے دیکھا تو اس نے اس کمزور لمحہ سے فائدہ اٹھانا چاہا۔تاکہ اسے برباد کرسکے۔”شیث نے آخری جملے ہچکچا کر آہستہ ادا کیئے۔
شہزام یہ سن کر سخت حیران ہو کر سبرین کو دیکھنے لگا۔
“کیا یہ سچ ہے؟”
سبرین نے سر ہلایا۔۔
“یہ سچ ہے کہ اسکول کے زمانے میں اس شخص کی ریپوٹیشن اچھی نہیں تھی۔۔وہ ہمیشہ لڑکیوں کے پیچھے رہتا تھا۔۔ ان سے بدتمیزی کرتا تھا۔۔اکثر لڑکیوں کے ریسٹ روم میں تانک جھانک کرتا دکھائی دیتا تھا۔میں نہیں جانتی کہ بات کیسے بگڑ گئی کہ اس نے مجھ سے بغض باندھ لیا۔۔”
شیث نے یہ سن کر ٹھنڈی سانس ہوا کے سپرد کی۔
“ساری بات قسمت کی ہے بھابھی۔۔ جب بدبختی آتی ہے انسان ایسے ہی پھنس جاتا ہے۔۔ آپ فکرمند نہ ہوں۔۔ وہ اب ساری عمر جیل میں سڑے گا۔” شیث نے اسے دل سے تسلی دی تھی۔
سبرین نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری لیکن کہا کچھ نہیں ۔
شہزام نے ایک نظر سبرین پر ڈالی اور شیث سے پوچھا۔
“لائیو ویڈیو کے دوران بہت سے لوگ اسے دیکھ رہے تھے۔ کیا اس کا چہرہ دکھائی دے رہا تھا؟ ”
شیث نے شرمندگی سے سر ہلایا۔۔
“تاہم ، جو کچھ بھی ویڈیو سے ہٹانا تھا وہ جلدی ہٹادیا گیا تھا۔ویڈیو آن لائین نہیں پھیلی ۔۔لیکن ۔۔میلبورین کے کافی لوگ اس وقت دیکھ رہے تھے، اور یقیناً بہت سے لوگ جان چکے ہونگے۔”
سبرین کی کمبل پر گرفت سخت ہوگئی۔۔یہ سوچ کر کہ یزدانی خاندان ویسے بھی اسےپسند نہیں کرتا ۔۔۔اور اب تو بس نفرت ہی رہتی ہے۔ اب واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔
وہ اپنے ذہنی انتشار کی وجہ سے جیسے خود پر ہنسی ۔
“اٹس اوکے ،میں پریشان نہیں ہوں۔”جیسے شہزام سے زیادہ خود کو تسلی دی۔
سچی بات کہ کسی کو بھی اس کی پرواہ نہیں تھی۔
“تم جاکر پولیس والوں کو یہ بیان دینے پر فورس کرو کہ سبرین ایک انڈر کور ایجنٹ ہے، اگر وہ پولیس کے ساتھ کو آپیریٹ نہ کرتی تو پولیس کبھی بھی زین جیسے جرائم پیشہ لوگوں تک نہ پہنچ پاتی جو لوگ غیرقانونی طور پر گندی لائیو ویڈیو براڈ کاسٹ کرتے ہیں۔”
سبرین یہ سن کر اپنی جگہ پر سن ہو گئی۔۔۔۔اس نے نظر اٹھا کر شہزام کو تذبذب سے دیکھا۔۔
کیا اسے یہ ڈر ہے کہ سبرین کی وجہ سے اس کی ساکھ تباہ ہوگئی؟ یا اسے واقعی میں اس کی پرواہ ہے؟؟۔۔۔وہ یہ بات سمجھ نہ پائی۔
شیث نے شہزام کا خیال سن کر تھمبز اپ کا اشارہ کیا۔
“اوسم۔۔،اس طرح سے مجھے یقین ہے لوگ بھابھی کے بارے میں برائی کی بجائے تعریف کریں گے۔۔۔۔ میں یہ معاملہ بس ابھی ہی نمٹا لیتا ہوں۔”
شیث کے جانے کے بعد سبرین نے اپنا رخ شہزام کے طرف کیا۔
“آج کے لئے تمہاری شکر گزار ہوں”
شہزام سکون سے آگے جھکا اور ہنکارا۔
“اب تم واقعی میں انسانوں کی طرح بات کررہی ہو۔”
یہ سن کر جیسے سبرین کے الفاظ کھوگئے۔
ان چند دنوں کے دوران اس کے ساتھ اتنا کچھ ہوچکا تھا کہ اب سبرین میں بالکل بھی سکت نہیں تھی کہ بحث کرسکے۔
“کیا کچھ کھانا چاہو گی؟” شہزام نے پوچھ لیا۔
شہزام کے پوچھنے پر سبرین کو یاد آیا کہ اس نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔۔ اور اب اس کا خالی پیٹ بھی احتجاج کررہا تھا۔۔
“تم تکلیف مت کرو، میں اپنے سیل فون پر کھانے کا آرڈر کرلوں گی۔” سبرین کا لہجہ فارمل ہوا۔
“ٹھیک۔۔” شہزام نے اسے لب بھینچ کر گھورا۔۔”اگر تم کو بات کرنے کا سلیقہ نہیں آتا تو بہتر ہے خاموش رہا کرو۔۔”اسے سبرین کی بات پر سخت بےعزتی فیل ہوئی۔
بجائے اس سے کہنے کے وہ موبائل پر کھانا منگوانے کا بتا رہی تھی کیا اس کی نظر میں وہ اتنا ہی کوئی ظالم شخص تھا؟
” لیٹ کرصرف آرام کرو، میں تمہارے کھانے کے لئے کچھ لاتا ہوں۔”
اس کے جانے کے بعد سبرین جیسے خود پر ہنس دی۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ اس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بلکہ اصل میں اس کے پاس ایسا کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔
آفٹر آل ، یہ ایزد کا ماموں تھا۔۔۔ جو کسی بھی وقت اسے چھوڑ سکتا تھا۔
بیس منٹ بعد شہزام کھانے کے ڈبوں کے ساتھ وارد ہوا۔
سبرین نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اپنے جسم کو سہارا دے کر اٹھنے میں ناکام رہی۔۔ اس کی جسم میں توانائی ہی نہیں رہی تھی۔
“رکو۔۔۔ ڈاکٹر نے زیادہ حرکت کرنے سے منع کیا ہے۔۔ ری کور ہونے میں کم از کم دو دن لگیں گے۔”
بات کرنے کے ساتھ ساتھ اس نے سبرین کو سہارا دے کر پیچھے تکیہ رکھ کر بٹھایا۔اتنی سی قربت سے بھی سبرین کے رخسار پر شرم سے لالی پھیل چکی تھی۔
سبرین نے ہاتھ بڑھا کر سوپ خود سے پینا چاہا لیکن ڈرپ لگے ہاتھ سے وہ اسپون پکڑ نہیں پارہی تھی۔
“خاموش بیٹھو، حرکت مت کرو۔” شہزام نے حکم دیا۔۔ اور خود بڑھ کر اسپون سے اسے سوپ پلانے لگا۔
سبرین اس کے روئیے پر دل میں کافی حیران ہوئی آج سے پہلے اس نے شہزام کا انداز سرد ہی دیکھا تھا۔۔ یہ اس کا نیا روپ سبرین سے بمشکل ہضم ہوا۔
اس کے باوجود بھی کہ سبرین کا معدہ اپ سیٹ تھا۔۔بناء پرواہ کئیے اس نے سوپ کا گھونٹ بھرا۔۔۔ اور حیرت انگیز طور اس کا ذائقہ اسے اچھا لگا۔۔ وہ سمجھی تھی ہاسپٹل کے سامنے کھانا ذائقہ دار نہیں ملتا ہوگا۔۔
اس ڈر سے کہ کہیں وہ اسے کھلاتے ہوئے بیزار نہ ہوجائے۔۔ اس نے تیزی سے بڑے بڑے گھونٹ بھر کر سوپ ختم کیا۔۔
“بس۔۔۔ میرا پیٹ بھر گیا”۔
“نہیں۔۔۔ تھوڑا اور کھاؤ۔” شہزام کی گھنی بھنویں تن گئیں۔اور خاموشی سے اسے کھلاتا رہا۔
سبرین کے پاس سوائے خاموشی سے اس کا حکم ماننے کے اور کوئی چارہ نہ رہا۔
سبرین وقتاً فوقتاً اسے چوری چوری دیکھ رہی تھی۔
آدمی کا چہرہ اس کے بہت قریب تھا۔۔ وہ اس کا ایک ایک نقش دھیان سے دیکھ رہی تھی۔۔ اس کی آنکھوں میں اسے کھلاتے وقت کوئی بے صبرا پن نہیں تھا۔۔ بلکہ اس کی تیز اور تیکھی نگاہیں سبرین کے ورم زدہ چہرے کا مسلسل طواف کررہی تھیں۔
وہ جیسے جیسے کھارہی تھی، اس کا چہرہ نظروں کی تپش سے گرم ہورہا تھا۔
اس کا چہرہ سوجن کا شکار تھا، شہزام نے یہ اب غور کیا تھا۔۔جب اس نے اس کی کانوں کی لوب سرخ ہوتے دیکھیں۔۔
اس کی جلد کافی ملائم تھی۔وہ اس سے اس قدر شرمانے کی توقع نہیں کرپارہا تھا۔۔ جب وہ اسے کھلارہا تھا ۔۔ یہ اسے بہت دلچسپ لگا۔
“سوپ ختم کرنے کے بعد سبرین شہزام کی مدد سے بستر پر لیٹ گئی۔۔
“کیا تم نے میرا فون دیکھا؟”
“نو۔۔۔ شہزام نے نفی میں سر ہلایا۔”شاید کسی نے بیہوشی کے دوران تمہارا فون کہیں پھینک دیا ہو۔۔ میں تمہیں نیا دلواؤں گا۔”
شہزام کے بات ختم ہونے کے ساتھ ہی اس کا فون بجنے لگا تھا۔
وہ فون پر کالر آئی ڈی دیکھ کر باہر نکل گیا۔۔۔ جہاں ھادی اس کا انتظار کررہا تھا۔
“چھوٹے صاحب، میں نے بڈنگ والے واقعے کی تفتیش کی ہے۔میں نے سنا ہے کہ جب بڈنگ کے دوران آبش یزدانی نے اپنا ڈیزائن متعارف کروایا تو اسے دیکھ کر مس سبرین نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ اس کا ڈیزائن ہے جس کا ماسٹر پیس آبش نے چوری کیا ہے۔”
“کیا واقعی میں ایسا ہوا تھا؟” شہزام کی آنکھوں میں حیرت ابھری۔
“صدر ثروت جہانگیر نے اسے کہا کہ وہ ثبوت پیش کرے۔مس یزدانی نے دعویٰ سے کہا کہ اس کا ثبوت اس کے لیپ ٹاپ میں موجود ہے۔۔۔لیکن چیک کرنے کے بعد اس نے بتایا کہ کسی نے اسے ختم کردیا ہے۔ اس نے امپریل ڈیزائن کے حنان پر الزام لگایا کہ ڈیزائن اس نے نکال کر فائل ڈیلیٹ کی ہے۔۔ بی کاز وہی اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔۔۔اس کے بعد انہیں امپرئیل ڈیزائن والوں نے جاب سے فارغ کردیا۔۔ اور ساتھ ہی انہیں سب کے سامنے گھسیٹ کر وینو سے باہر پھنکوادیا گیا۔”
“باہر گھسیٹ کر پھنکوایا گیا؟؟؟”۔ شہزام نے دنگ ہوکر ہادی کا جملہ دہرایا۔
“جی ہاں۔۔” ھادی نے اثبات میں سر ہلایا۔ شہزام کے ساتھ برسوں سے ساتھ رہتے ہوئے وہ شہزام کا مزاج آشنا ہوچکا تھا۔۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس وقت چھوٹے صاحب کا غصہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
“کیا تم کو یہ معلوم ہوا کہ کون سا ڈیزائن سمیٹ نے کل ڈسپلے کیا تھا؟” شہزام نے تجسس سے پوچھا۔۔ اسے شک ہوا تھا لیکن بہرحال یقین دہانی ضروری تھی۔
“میں نے کسی سے کہہ کر اس کی تصویر حاصل کی ہے۔۔”اس نے اپنا سیل فون شہزام کے طرف بڑھا دیا۔ڈیزائن دیکھ کر شہزام کی آنکھیں انگارہ بن گئیں۔۔
اس نے ایسا ہی ڈیزائن سبرین کے لیپ ٹاپ میں دیکھا تھا، یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا آبش کا تھا۔
اب اسے تعجب نہیں ہوا جب اس نے سبرین کی کل شام والی حالت یاد کی۔۔ تبھی سبرین اس پر غصہ تھی، کہ اس نے کیوں شہزام کے کہنے پر غیرمنصفانہ بڈنگ میں حصہ لیا؟