Rozan e Zindaan by Raqs e Bismil Rozan-e-Zindaan: Modern Romance A Ruthless Love Story NovelM80093 Rozan e Zindaan Episode 12
Rozan e Zindaan Episode 12
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
کچھ لمحوں کے بعد اس نے ھادی کو فون واپس دیا۔
“مجھے لگتا ہے کہ صدر ثروت نے اس سال اسی طرح کے لاتعداد کام ضرور کیئے ہونگے۔اب وقت ہے کہ انہیں دنیا کے سامنے ظاہر کیا جائے۔”
ھادی بہت جلد شہزام کی بات کا مطلب سمجھ گیا۔
“جی میں سمجھ گیا چھوٹے صاحب۔۔اب جبکہ صدر ثروت اپنا منصب کھو رہے ہیں، اس منصوبے میں میلبورین کلچرل اور ٹیکنالوجی سینٹر کے ساتھ سمیٹ کا تعاون شامل تھا۔”
“آف کورس،انہیں کینسل کردیا جائے گا۔” شہزام کو کسی کی پرواہ نہیں تھی۔”ان کمپنیوں کو بلاک کرواؤ جو حال ہی میں سمیٹ کے ساتھ کام کررہی ہیں۔آبش کو اشتعال دلاؤ۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔ ویسے اگر بڈنگ ایونٹ دوبارہ سے آرگنائیز کیا جائے تو کیا مس یزدانی یقینی طور پر پروجیکٹ ہینڈل کرلیں گی؟لیکن افسوس کی بات کہ امپرئیل ڈیزائن والوں نے انہیں خارج کردیا ہے۔”ھادی نے اپنا خیال ظاہر کیا۔
“پروجیکٹ کو بھول جاؤ۔ وہ ڈیزائن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، لیکن وہ امپیریل ڈیزائن کی طرف سے اس طرح کے چیلنجنگ ٹاسک مینیج نہیں کر سکتی… ” شہزام نے جیسے طنز کیا۔ “حنان کو فوری طور پر یہاں لاؤ۔”
٭٭٭٭
جب شہزام واپس وارڈ میں داخل ہوا تب سبرین اٹھنے کی ناکام سی کوشش میں بے حال سی ہورہی تھی۔
لیکن جب اسے آتے دیکھا تو جھجھک کر آنکھیں میچے رک گئی۔
“کیا کرنے کی کوشش کررہی ہو ؟”
یہ سوچ کر کہ کس طرح سے اسے تکلیف پہنچائی گئی تھی۔۔۔ شہزام کا لہجہ خود بخود اس کے ساتھ نرم ہوگیا۔
سبرین کی آنکھوں میں شرمساری سی ابھری۔
“کیا تم مجھے کوئی کیئر گیور رکھ کر دے سکتے ہو؟ میں اسے ادائیگی کروں گی۔”
شہزام نے اس کی بات پر ناسمجھی سے بھنویں تنی۔۔
“کیا تم ریسٹ روم جانا چاہتی ہو؟”
یہ سوچ کر کہ وہ اس کا خیال جان گیا ہے۔۔ سارا خون سمیٹ کر سبرین کے چہرے پر جمع ہوگیا۔وہ لاج سے آنکھ تک نہ اٹھا پارہی تھی۔
شہزام اسے خاموش دیکھ کر آگے بڑھا۔۔ اس کا کمبل جھٹکے سے کھینچ کر پرے کیا اور پھر۔۔۔ بناء اسے سمجھنے کاموقع دیئے اسے بازو میں اٹھالیا۔
یہ دیکھ کر سبرین کی یک لخت چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔۔ اس نے بے اختیار گرنے کے خوف سے اس کے گلے میں بازو حمائل کردیئے۔
“مجھے نیچے اتارو۔۔”
“ٹھیک۔۔۔ تم اگر خود سے جاسکتی ہو تو جاؤ۔۔” اب جبکہ وہ اتنی ضدی تھی تو وہ بھی اس سے کم تو نہیں تھا۔۔ اسے یکدم اتار کر فرش پر کھڑا کردیا۔
سبرین کمزوری کی وجہ سے کھڑی نہ رہ سکی اور جھول گئی۔۔۔جب بے اختیار دو بازوؤں نے اسے اچانک گرنے سے سنبھال کر سینے سے لگایا۔۔وہ شرم سے دہری ہورہی تھی۔ایسا کب سوچا تھا اس نے۔۔ بے اختیار پکار اٹھی۔
“شانی۔۔۔”
“یہ تم ہی ہو جو خود بخود میری بانہوں میں گری ہو۔” شہزام کو یہ سب دلچسپ لگا تھا۔۔۔ایکچوئلی سبرین کی حیا سے بھاری اٹھتی گرتی پلکیں ۔۔ تھرتھراتے لب۔۔ اور چہرے کی لالی۔۔ یہ سب دلچسپ تھا۔۔ ایسے جیسے سردیوں کی صبح کی روپہلی سی نرم گرم دھوپ ہو۔
“اففف۔۔ کتنا خوفناک ہے یہ آدمی۔۔” سبرین نے چڑ کر سوچا۔۔
اس کے بعد شہزام اسے اٹھا کر ہی ریسٹروم کے اندر لایا۔
وہ چڑ کر احتجاج کرنے لگی۔۔
“میں نے کہا نا مجھے کوئی کیئر گیور رکھ کر دو۔”
“کیا تم سمجھتی ہو میں اتنی جلدی کہیں سے کوئی کیئر گیور اٹھا کر لاسکتا ہوں ؟” شہزام نے طنز سے اسے دیکھا۔۔ اور لاکر ریسٹ روم کے بیچ کھڑا کیا۔۔۔
٭٭٭٭٭٭
جب وہ فارغ ہوکر واپس بستر تک آئی تو شرمندگی سے شہزام سے آنکھ ملانی مشکل ہوگئی ۔۔ جلدی سے کمبل اوپر تان کر چھپ سی گئی۔۔ شہزام یہ سب بہت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔۔
اس کا یہ روپ کچھ الگ اور انوکھا سا تھا ۔۔ وہ اس سبرین کے بالکل الٹ لگ رہی تھی جو گھر میں بے شرمی سے اس سے اظہار کردیتی تھی۔۔ اس سے فلرٹ کے مواقع تلاشتی تھی۔۔ اور کہاں یہ چھوئی موئی سی۔۔ کمبل میں خود کو مکمل چھپائے سبرین ۔۔۔ اسٹرینج۔۔
٭٭٭٭
شہزام نے اس کے لئے ایک کیئر گیور کا انتظام کرلیا اور خود گھر چلا گیا۔۔ اسے ایک کیس کی فائل تیار کرنی تھی،اس نے ابھی تک دستاویزات تیار نہیں کیئے تھے۔ سو کیئر گیور کے آنے کے بعد خود پرسکون ہوکر گھرسے گیا تھا۔۔
جب سبرین کی آنکھ رات کے بیچ میں کھلی تو اس نے ایک 40 کے درمیان عمر والی عورت کو حیرت سے دیکھا۔
“میں آپ کی کیئر گیور ہوں مجھے شہزام صاحب نے آپ کا خیال رکھنے کے لئے رکھا ہے۔” عورت نے مسکرا کر اس کی حیرت دور کی۔
سبرین کو یہ سن کر دل کے نہاں خانے تھوڑی سی مایوسی ضرور محسوس ہوئی۔۔ کچھ بھی تھا وہ اس کا شوہر تھا ۔۔اس کا محرم تھا۔۔
اسے اس کے ساتھ رہنا چاہیئے تھا۔
بہرحال ۔۔ سبرین نے خود پر قابو پالیا۔۔ وہ شادی شدہ ضرور تھے لیکن معاہدے کے پابند تھے۔۔ نہ وہ اس کی محبت تھا۔۔ نہ وہ اس کی محبت تھی۔۔
دیکھ بھال کرنے والی خاتون کو اسی طرح کا تجربہ تھا ،تبھی اس نے محسوس کرلیا کہ وہ شہزام کے اس طرح چلے جانے پر خاموش ہے۔ تبھی اس نے ہنستے ہوئے کہا۔۔
” شہزام صاحب آپ کے لئے بہت فکر مند تھے۔۔۔ گیارہ بجے تک وہ موجود رہے۔جب جانے لگے تو مجھے تاکید کی کہ جاگتی رہوں۔۔ ہوسکتا ہے آپ کسی پہر جاگ جائیں اور آپ کو کوئی ضرورت پڑ جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے ہاسپٹل سے ایک شیف بھی ہائیر کیا ہے ۔جو آپ کے لئے صحت بخش کھانا بنائے گا۔”
سبرین تو اس کی بات پر پلک چھپکنا ہی بھول گئی۔۔ اسے لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔جس طرح سےکیئر گیور شہزام کا نقشہ کھینچ رہی تھی۔وہ بالکل اس شہزام کے متضاد تھا۔۔۔ جسے وہ روز دیکھتی تھی۔
کیئر گیور بہت باتونی سی خاتون تھیں۔۔ وہ مسلسل نان اسٹاپ شہزام کی تعریفیں کیئے جارہی تھیں۔۔اور سبرین کو مسلسل یہی لگ رہا تھا وہ کسی اور کے متعلق سن رہی ہے۔۔ ہاؤ اسٹرینج ؟
“میں نے اس ہاسپٹل میں بہت ساری فیملیاں دیکھی ہیں۔ شہزام صاحب باہر سے جتنے سخت دکھائی دیتے ہیں اندر سے نہایت نرم دل ہیں۔”
سبرین کل رات کا واقعہ ذہن میں دہرایا۔ جس طرح شہزام کا رویہ تھا اس سے ایمانداری کی بات یہی تھی کہ یہی ظاہر ہوتا تھا۔کہ باہر سے بظاہر سخت دکھائی دینے والا آدمی اندر سے نہایت سوفٹ ہے۔۔
٭٭٭٭
صبح کے وقت۔۔
جب سبرین چیک اپ سے فارغ ہوکر واپس وارڈ میں آئی۔اس نے دو آدمی دیکھے جن میں ایک شہزام ۔۔دوسرا حنان بخاری تھا۔۔
یہ واضح نہیں تھا کہ حنان بخاری کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔۔۔جس کی وجہ سے وہ بری طرح زخمی ہوا۔ سبرین کو دیکھتے ہی اس نے گھٹنے ٹیک دئیے۔۔۔ سبرین حیرانی سے کچھ قدم بے اختیار پیچھے ہوئی۔
“م۔۔م۔۔۔معافی چاہتا ہوں ، مس یزدانی۔ میں پیسے کا پجاری تھا۔ آبش نے مجھے آپ کا ڈیزائن چوری کرنے کے لیے پانچ لاکھ ڈالر ادا کئے تھے۔۔ یہ میری غلطی تھی. مہربانی کر کے مجھے معاف کر دیں۔۔ میں آپ کی منت کرتا ہوں۔”وہ رویا رویا سا اس کے آگے گھٹنے ٹیکے ہاتھ جوڑے ہوئے تھا۔شرمندہ شرمندہ سا۔
خوف سے اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔ جبکہ یہ سچ سن کر سبرین کی غصے اور توہین سے بری حالت ہوگئی۔۔ بس نہیں چل رہا تھا یہ سچ سن کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے کتوں کو کھلادے۔۔
وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ جتنا ہوسکا اتنی طاقت کے ساتھ اسکے چہرے پر مکا مارا۔۔ ادھر حنان کی جیسے ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔۔ ایک کڑک کی آواز وارڈ کے سناٹے میں بام و در نے بخوبی سنی اور محفوظ کرلی۔۔
“میں تمہیں کیوں معاف کروں؟۔۔۔کیا تم جانتے ہو۔۔۔ کہ تم نے کیا برباد کیا ہے؟؟ تم نے بطور ڈیزائنر میری ساکھ اور میرے وقار کو برباد کردیا ہے۔۔۔تم جیسا بدمعاش بالکل بھی ڈیزائنر بننے کے اہل نہیں ہے۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔ ”
“ہاں۔۔ آپ صحیح کہتی ہیں۔۔ مس یزدانی۔۔ میں واقعی بھی ڈیزائنر بننے کے لائق نہیں ہوں۔۔ “سر جھکائے ہی حنان نے افسردگی سے کہا۔۔” کیونکہ اب میں کبھی بھی ڈیزائن نہیں کرسکتا۔”
سبرین دنگ رہ گئی۔ تبھی اسے احساس ہوا کہ اس کے دونوں ہاتھ نیچے لٹک رہے ہیں اور اس کی کلائیوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔
“تمہارے ہاتھ…”
شہزام آہستہ آہستہ اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔اور سپاٹ انداز سے ابرو اٹھائے۔
“چونکہ اس نے ڈیزائنر کی بجائے چور بننے کا فیصلہ کیا تھا، اس لیے یہ اب کبھی بھی ڈیزائن نہیں کرسکے گا۔ یہی سزا ہے اس کی۔” شہزام کے انداز میں قطعی رحم نہیں تھا۔
حنان کے جسم میں۔۔۔ شہزام کی بات سن کر سردی کی لہریں سی دوڑ گئیں۔۔وہ خوف سے کپکپا اٹھا تھا۔۔یہ اس کے گناہ کی سزا تھی۔۔ کسی بے گناہ پر پیسے کی لالچ میں الزام لگانا۔۔ اس کا ہنر چرانا۔۔ اسے ذلیل کروانا۔ وہ واقعی اس کا مستحق تھا کہ اس کے ہاتھ توڑے جاتے۔۔
سبرین کو اندازہ نہیں تھا کہ حنان اس حالت میں کیسے پہنچا؟ وہ
ایک مغرور اور بے حس شخص تھا۔ یہ شہزام ہی ہوگا جس نے اسے ایسی حالت میں پہنچایا۔۔
وہ بالکل بھی حنان کے ساتھ ہمدردی محسوس نہیں کررہی تھی۔وہ اس سے بھی برے سلوک کا مستحق تھا۔ کیا اس نے سبرین کے ساتھ غلط کرتے کوئی احساس کیا تھا؟
“ویل۔۔۔تم جس قابل تھے تمہیں وہی ملا، امید ہے اب تم ایک اچھے انسان بنو گے۔” سبرین کا لہجہ سپاٹ تھا۔
“آل رائیٹ۔۔ میں اب واقعی میں ایسا دوبارہ نہیں کروں گا۔۔ میں میلبورین ہی چھوڑ جاؤں گا۔اور کبھی زندگی میں آپ لوگوں کے سامنے نہیں آؤں گا۔” حنان نے کانپتے ہوئے کہا۔۔
“دفع ہوجاؤ۔۔۔” شہزام نے اسے بری طرح جھاڑا۔
جب حنان کانپتے قدموں سے وارڈ سے نکل گیا۔ تب شہزام نے ایک نیا فون سبرین کے ہاتھ میں دیا۔
سبرین نے فون تھام کر اسے چیک کرنے کے ارادے سے کھولا۔۔ جہاں ایک ریکارڈڈ فائل بھی موجود تھی۔۔کہ حنان بخاری نے کیا کہا تھا؟
“یہ اب تم پر ہے کہ اس فون میں موجود ریکارڈنگ کو کس طرح سنبھال کر رکھتی ہو۔جو میں تم کو دے رہا ہوں۔” شہزام نے ایک گہری نظر اس پر ڈالی۔ “اگلی بار اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنا۔۔۔ تم بڈنگ میں صرف اس لیے ہار گئی تھی کہ تم نے اپنے ڈیزائنز کی حفاظت نہیں کی تھی۔ اس کو ایک سبق سمجھنا ۔ اب تمہیں کام کی جگہ پر ہر ایک سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔”
سبرین نے اسے حیرت اور ناسمجھی سے دیکھا۔۔
وہ یہ سمجھی تھی کہ آبش یزدانی نے بڈنگ اسی لئے جیت لی تھی
کیونکہ شہزام اور ثروت جہانگیر نے درپردہ اس کی مدد کی تھی۔۔لیکن اب وہ تذبذب کا شکار ہورہی تھی کہ وہ اس کی مدد کیوں کررہاہے؟
کیا اسی لئے کہ آبش نے جھوٹے بیانات دیئے اور سبرین سے جھوٹ بولا؟
“اب تم کیا سوچے جارہی ہو؟” شہزام نے اس کو یوں ساکت و جامد ہوئے دیکھ کر سخت بے سکونی محسوس کی۔جبکہ وہ دل میں اس کے لئے شکرگزاری محسوس کررہی تھی۔۔اور سوچ رہی تھی کہ کس طرح اس کا شکریہ ادا کرے؟
“میں صرف۔۔۔۔ اممم کچھ نہیں۔بہرحال تمہارا بہت بہت شکریہ۔” سبرین نے تہہ دل سے کہا تھا۔
“تم کو میرا شکرگزار ہونا بھی چاہیئے۔۔ لیکن یہ لفظی شکریہ بالکل بے معنی ہے میرے لئے۔۔” شہزام نے جیسے طنز کیا۔
“میں تمہارے لئے بکرے کا گوشت بناؤں گی۔۔ بس ایک بار ٹھیک ہوجاؤں ۔۔لیکن تم اگر اسے روز کھاؤ گے تو تمہیں۔۔۔فیٹی جگر کی بیماری ہوجائے گی۔”
“کس نے کہا کہ مجھے روسٹ گوشت پسند ہے؟ میں اسے صرف اس لیے کھانے کے لیے تیار تھا کیونکہ دیگر ساری ڈشز کے بیچ میں ایک یہی ڈش کچھ بہتر ہوتی ہے۔” شہزام نے جلدی سے بات بنالی۔۔ آخر اپنی عزت بھی تو رکھنی تھی نا۔۔
سبرین کو اس کے یوں صاف انکار کرنے پر کافی ہنسی آئی۔۔ ایمانداری کی بات کہ وہ اس بات کی گواہ تھی کہ کس طرح شہزام بھنے گوشت کو مزے لے کر کھاتا تھا ۔ لیکن پھر بھی اس نے سر ہلادیا۔۔
“صحیح ۔ یہ واقعی میری غلطی ہے۔اور میں نے اس پر غور ہی نہیں
کیا ۔۔ ویسے فون کتنے کا ہے؟ اور کیئر گیور کے ساتھ ہاسپٹل کے چارجز کتنے بنتے؟تاکہ میں تمہیں لوٹا سکوں۔”
اپنی بات پوری کرنے کے دوران وہ اسے کافی مختلف لگی۔۔ صرف کچھ ہزار ڈالر ملا کر بھی شاید وہ اسے ابھی دینے کے قابل بھی نہ ہوئی تھی۔
“نو نیڈ۔۔۔میں نے یہ سب فیس کے ساتھ ملا کر جیسے تمہیں بطور فدی کی نینی کے سیلری دی ہے۔”
“مگر۔۔۔۔”
“پیسہ میرے لئے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔” شہزام نے اس کی بات میں مداخلت کی۔”ابھی میں آفس جارہا ہوں۔ تمہاری کیئر گیور کو میں کہہ دوں گا، کل کے ڈسچارج پروسس میں تمہارے ساتھ رہے۔۔ سویر گھر آنا اور فدی کا خیال رکھنا۔ اوکے۔ ”
٭٭٭٭
سبرین پورے دو دن بعد ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوئی تھی۔اور حیرت انگیز طور پر ۔۔۔ شہزام خود گاڑی ڈرائیو کرکے اسے لینے آیا تھا۔اس کے پہلے والے لیے دیئے سے سلوک کو مدنظر رکھتے ہوئے شہزام کے حالیہ کیئرنگ سلوک سے سبرین دل ہی دل میں خوشی محسوس کرنے لگی تھی۔
وہ اسے سیدھا مال لے آیا تھا۔ سبرین نے اسے ناسمجھی سے دیکھا۔
شہزام نے گاڑی پارک کرتے کہا۔
” فدی بہت کمزور ہوگئی ہے۔۔جب تم نہیں تھی،اس کا کھانا پینا بھی کم ہوگیا تھا ۔کچھ زیادہ چیزیں خرید کر اس کے لئے کچھ اچھا سا پکانا۔”
اپنے من کی خواہش ایک معصوم جانور کی آڑ میں رکھ کر شہزام نے بتادی۔۔
اور اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے ہوئے سبرین نے سنجیدگی سے سوچا کہ یہ فدی ہے یا وہ خود۔۔۔ جو کھانے کے لئے بیتاب تھا۔
“کس بات کا انتظار کررہی ہو؟ جلدی کرو۔”اسے سوچتا پاکر شہزام نے اسے متوجہ کیا تھا۔
وہ واقعی تنگ آچکا تھا روز روز ریسٹورنٹ کا بد مزا کھانا کھا کر ۔۔ جو ہادی اس کے لئے دو دن سے پیک کروا کر لاتا تھا۔
“اوہ۔۔”وہ چونکی ۔۔ اور جلدی سے سیٹ بیلٹ کھول کر نیچے اتر آئی ۔۔ اب جبکہ وہ اس کے ساتھ اتنا نرم ہورہا تھا۔۔ تو سبرین کا بھی فرض بنتا تھا کہ اس کے لئے اچھا سا کھانا پکائے۔
مال میں گھومتے اس کے ذہن میں بلی کا ہی خیال تھا۔۔یہاں کافی ساری چیزیں اسے فدی کے معیار کی لگیں ۔۔اس کا ارادہ دہی لینے کا بھی تھا۔۔تازہ دودھ،فروٹ،اور کافی سارے پیکڈ کھانے۔
شاپنگ کے دوران صرف ایک چکر میں ہی اس کی ٹرالی بھر چکی تھی۔اب یقینی طور پر اتنی ساری چیزیں اٹھا کر لے جانے میں مشقت کرنی پڑے گی۔۔ یہ سوچ کر ہی وہ تھکنے لگی ۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے شہزام کو ایک واٹس ایپ پیغام بھیجا۔ [شانی ، میں بہت ساری چیزیں خرید رہی ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ میں یہ سب کچھ اکیلی اٹھا سکتی ہوں۔ کیا تم کچھ بیگ اٹھانے میں میری مدد کر سکتے ہو؟
میسیج بھیجنے کے پانچ منٹ تک جب اس نے کوئی رسپونس نہیں دیکھا۔۔تو وہ مایوس ہونے لگی۔
پھر ایک گہری سانس لے کر اس نے سوچا کہ اپنی مدد آپ ہی کرے۔ شہزام سے کوئی توقع فضول ہوگی ۔
انہیں سوچوں کے درمیان اچانک ہی اس نے کسی کو قریب
محسوس کیا۔ نگاہ اٹھائی تو شہزام کا خوبصورت اور وجیہہ لمبا وجود سامنے کھڑا تھا۔۔ اس نے ونڈ بریکر جو سویر پہنی ہوئی تھی وہ اب اتار دی تھی اب سفید شرٹ میں اس کا دلکش سراپا سب سے منفرد دکھائی دے رہا تھا۔
اسے دیکھ کر کچھ پل کے لئے تو جیسے سبرین غائب دماغ سی ہوئی۔وہ بالکل ایسا دکھائی دیتا تھا جیسے پوسٹر پر اشتہار میں دکھایا جانے والا ہیرو۔
سبرین نے ایک خالی گھوری دکھائی جس کی شہزام کو چھوٹی عمر سے ہی عادت ہو گئی تھی۔ حیرت انگیز طور پر وہ اس کے گھورنے سے بیزار نہیں ہوا تھا۔ اس کے برعکس وہ کافی اچھے موڈ میں تھا۔
“میں صرف چاہتا تھا کہ تم کچھ چیزیں خریدو۔۔۔ لیکن تم نے تو جیسے پورے سال کا اکٹھا خرید لیا ہے۔۔”
سبرین نے جلدی سے وضاحت کی۔
“میں سوچ رہی تھی کہ تم اور فدی پچھلے کچھ دنوں سے کوئی مناسب کھانا نہیں کھا سکے، لہٰذا میں نے زیادہ خریدا ہے…”
شہزام نے اپنا ہاتھ بڑھا کر سبرین کے ہونٹوں پر رکھتے جیسے آگے کہنے سے روکا۔
“میں نے تو بہت اچھی طرح کھایا ہے۔۔ یہ فدی تھی جو اچھی طرح نہیں کھارہی تھی، مجھے اس میں نہ گھسیٹو۔ میں کھانے کا اتنا بھی شوقین نہیں ہوں۔ ”
شہزام کی خود ساختہ انا بیچ میں آرہی تھی۔۔وہ کیسے یہ مانتا کہ فدی کی آڑ میں دراصل وہ اپنی ہی خواہش بیان کررہا ہے۔
سبرین اس کی بات پر آنکھیں پھیلائے دیکھتی رہ گئی۔۔ کتنا مطلبی شخص تھا۔۔۔ توبہ۔۔اس کا ہاتھ ہٹاتے۔۔ اس نے بےیقینی سے اسے گھورا۔۔
کیا واقعیییی؟
“اب کیا انہیں اٹھانے میں مدد بھی کرو گے یا یونہی کھڑے ان سب چیزوں کو گھورتے رہو گے؟”
سبرین اچھے سے اس کی نظروں کی چمک بھانپ گئی تھی۔۔جو کھانے کی مختلف اشیاء دیکھ کر شہزام کی آنکھوں میں تھی۔
“ہاں ۔۔ سچ کہہ رہا ہوں۔۔ فدی نے کچھ بھی اچھا نہیں کھایا۔۔” شہزام جیسے کسی اور ہی دھیان میں تھا۔
اسکے وقار کو بچانے کے لیے سبرین نے بھی فقط سر ہلایا اور کچھ سوچ کر وضاحت کی۔
“جو چیزیں میں خرید رہی ہوں وہ ساری ضروریات کی ہی ہیں۔ تم کو ہر روز دہی، تازہ دودھ اور پھل کھانے کی ضرورت ہےتاکہ تمہارے جسم کو مناسب غذائیت حاصل ہو۔ اور تم صحت مند نظر آ سکو۔۔ کیونکہ تم ہر روز سخت محنت کرتے ہو۔”
شہزام اس کے بیوی والے کیئرنگ انداز پر جیسے سن ہوگیا۔اس کی آنکھوں میں متضاد جذبات ابھرے۔
اس سے پہلے شاید ہی کبھی کسی نے اس کی خوراک کی پرواہ کی تھی۔۔۔ دوسرے لوگوں نے جس چیز کی زیادہ تر پرواہ کی تھی۔۔وہ اس کی سوری خاندان کو فائدہ پہنچانے کی صلاحیت تھی۔۔اور اس نے بھی صرف سوری خاندان کی ضروریات کو پورا کرنا فرض سمجھا تھا۔
٭٭٭٭