📱 Download the mobile app free
Home > Mere Humrahi By Umme Emman Fatima NovelM80072 > Mere Humrahi (Episode - 34)
[favorite_button post_id="16354"]
50316 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Humrahi (Episode - 34)

Mere Humrahi By Umme Emman Fatima

سکندر کن اکھیوں سے عورتوں کے بیچ چھپی عفیفہ کو دیکھ رہا۔۔

پھر وہ چوہدری جمال کے ہلانے پہ چونک کر انہیں دیکھنے لگا۔

یہ دیکھو“یہ لڑکا عفاف عاٸلہ کیلٸے پسند کیا میں نے“چوہدری جمال کی بات پہ اسکا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔

چوہدری صاب یہ لڑکا،؟ ۔۔سکندر نے پھر سے تسلی کیلٸے پوچھا۔۔۔

چوہدری جمال سر ہلا کر عفاف کیطرف بڑھ گٸے۔۔سکندر انہیں پکارتا رہ گیا۔۔پھر وہ تیزی سے مڑا عفیفہ کا ہاتھ تھام کر ساٸیڈ پہ لے آیا۔۔

کیا ہوا۔۔؟ عفیفہ نےاسکا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔۔۔

عفیفہ”وہ چوہدری صاب نے جس لڑکے کو عاٸلہ کیلٸے پسند کیاوہ عفاف ہے“سکندر نے انگلیاں مروڑتے ہوۓ کہا۔۔

کیا؟ اوووہ ماٸی گاڈ”ہا“ہانیہ کو ڈھونڈیں “چلیں“وہ جلدی سے بولی۔۔

ادھر سے ادھر بھاگتے سکندر “عفیفہ کو ہانیہ نظر آ ہی گٸ تھی۔۔

وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھے۔۔

تم“تم ادھر بیٹھی ہو“سکندر نے اسکے پاس جاکر جھنجھلا کر کہا۔۔۔

ارے“تم دونوں یہاں کیا کر رہے ہو؟ ہانیہ نے جلدی سے اٹھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔

تو ہمارا چھوڑ”پہلے چل ادھر تیرے شوہر کا رشتہ طے ہونے والا ہے۔۔عفیفہ نے ہاتھ پکڑ کر کہا۔۔

کیا مطلب“ہانیہ نے متوحش لہجے میں پوچھا۔۔۔

تو عفیفہ نے جلدی سے اسے بات بتاٸی تو وہ جلدی سے اس طرف بھاگے“جہاں چوہدری جمال اور عفاف کھڑے تھے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف سب لوگوں کے مساٸل سن رہا تھا جب چوہدری جمال اسکے پاس آکر کھڑے ہوگٸے۔۔وہ چونک کر انکی طرف متوجہ ہوا۔۔

برخوردار ہمارے ساتھ چلیں“بہت امپورٹنٹ بات کرنی ہیں“چوہدری صاب نے کہا۔۔

عفاف انکے ساتھ چلنے لگا۔۔

میری پوتی عاٸلہ سےتو آپ مل چکے ہیں“بچپن میں ہی ماں باپ کو کھو دیا تھا“میں نے بہت نازو و نعم سے پالا ہے“چوہدری جمال عاٸلہ کی تعریفوں کے پل باندھنے لگا۔۔

عفاف کنفیوزڈ ہوکر سوچ رہا تھا کہ یہ مجھے کیوں بتا رہےہیں“پھر وہ اسکے ساتھ چلتے ہوۓ سٹیج پہ پہنچے۔اور انہوں نے ماٸیک تھام لیا۔۔

بہنوں بھاٸیوں“ماضی میں بہت کچھ غلط کیا ہم نے آپکے ساتھ“اس لٸے ہم آج کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں کہ بہار نگر اور ہریالی کا رشتہ مضبوط ہو جاۓ۔۔

میں آپکے گاٶں کے چہیتے اور لاڈلے عفاف خان کا ہاتھ اپنی پوتی عاٸلہ کے ہاتھ میں دینا چاہتا ہوں“میں عفاف کو اپنا داماد بنانا چاہتا ہوں۔۔

عفاف کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔۔

اس سے پہلے وہ کچھ بولتا اسکی نظر سامنے سے آتی ہانیہ پہ پڑی۔وہ تیزی سے سٹیج پہ آکر عفاف کا ہاتھ تھام کر کھڑی ہوگٸ۔۔

عفاف نے چونک کر دیکھا۔۔

چوہدری صاب میں عفاف خان کی بیوی ہوں“اور میرے ہوتے ہوۓ تو میں انکی شادی نہی ہونے دونگی۔۔ہانیہ نے اطمینان سے جواب دیا۔۔۔۔۔۔

عفاف نے بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کی۔۔

چوہدری جمال اور عاٸلہ کے چہرے دھواں دھواں ہو گٸے تھے۔۔

پھر چودری جمال نے اپنے باڈی گارڈ کے ہاتھ سے گن چھینی۔۔

میری عاٸلہ اس کو پسند کرتی ہےاور اس کے لٸے مجھے چاہے اس لڑکی کو مارنا بھی پڑا تو مار دونگا۔۔چوہدری جمال نے بندوق تان کر کہا۔۔۔

یہ کیسی زبردستی ہے چوہدری صاب”میرے ساتھ آپ زبردستی نہی کر سکتے“عفاف نے غصے سے کہا۔۔

دادو پلیز“عاٸلہ نے انکے آگے ہاتھ جوڑدٸیے۔۔

نہی میرا بچہ میں جسے تم چاہتی ہو اسے ضرور تمہارا بناٶں گا“چوہدری جمال نے نم لہجے سے کہا۔۔

دادو میں انہیں پسند ضرور کرتی ہوں“مگر ضروری تو نہی جسے پسند کریں وہ ہمسفر اور ہمراہی بنے“میں دو پیار کرنے والوں کا شیرازہ بکھیر کر اپنی خوشیاں نہی تلاش کر سکتی“وہ نم لہجے میں بولی۔۔

تھینکس عاٸلہ“عفاف نےکہا۔۔

چوہدری جمال نے بندوق نیچے کر لی۔۔۔

ایم سوری“میں اپنی پوتی کیلٸے جذباتی ہو گیا تھا”چوہدری جمال نے کہا۔۔

اٹس اوکے چوہدری صاب“عفاف نے کہا۔۔

چلیں پھر آج میری حویلی چل رہے ہیں آپ“چوہدری جمال نے کہا۔۔

سکندر نے صدمے سے چوہدری جمال کو دیکھا۔۔

ہانیہ کو اسکی حالت پہ بہت ترس آیا۔

میں آتی ہوں“ہانیہ نے عفاف سے کہا اور تیزی سے سکندرکیطرف بڑھ گٸ۔۔

چلو میرے ساتھ“ وہ سکندر کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔

اوراوٹ سے عفیفہ بھی نکل کر انکےساتھ آ گٸ۔۔

وہ ان دونوں کو لیکر مصنوعی جھیل کیطرف آ گٸ۔

کیا مسٸلہ ہے تم دونوں کا“اب کیا عفاف کے سامنے آٶ گے ہی نہی“ہانیہ نے غصے سے پوچھا۔۔

یار کیسے جاٸیں ہم اسکے سامنے“وہ جانتا میں کسی کو پٹا رہا ہوں“اور اس نے مجھے بیسٹ آف لک بھی بولا تھا،وہ روہانسا ہوکر بولا۔ہانیہ اسکی بات پہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔

دیکھ رہی ہے تو انہیں“کس قدر بیہودہ حرکت کی ہے اور پھر جو چھت پہ کھڑے ہوکر کیا وہ بھی بھیا نے دیکھا“کیا سوچیں گے میرے بارے میں“عفیفہ روہانسی ہوکر بولی ۔۔

اچھا کچھ نہی ہوتا“تھوڑا سا ڈانٹ دینگے تو ڈانٹ سن لینا“ہانیہ نے کہا۔۔

یار “ایک اور چیز بتانی ہے انہوں نے میری مووی دیکھ لی تھی وہ والی یو آر ماٸی لو“سکندر نے ہانیہ کے کان میں کہا۔۔

ہانیہ نے اسے دیکھا اور پھر پیٹ پکڑ کر ہنس ہنس دہری ہو گٸ۔۔

کیا ہوا؟ کس بات پہ ہنس رہی ہو“عفیفہ چل تو ادھر سے ہی گھر واپس “کیونکہ عفاف کے ہاتھوں یہ سچ میں پٹنے والا ہے“ہانیہ نے کہا۔۔

کیوں؟ عفیفہ نے حیرت سے پوچھا تو سکندر اسے پیچھے سے نا بتانا کہ اشارے کرنے لگا۔۔

وہ تم اسی سے پوچھنا“ہانیہ کہہ کر پیچھے مڑی اور پھر تینوں شاکڈ رہ گٸے۔۔کیونکہ سامنے سے ہی عفاف اور چوہدری جمال وغیرہ آ رہے تھے۔ان تینوں کے رنگ فق ہو گٸے۔۔

اب کیا ہوگا“سکندر منمنایا۔۔

مجھے کیا پتا“میں تو تم دونوں کو جانتی ہی نہی ہوں”کون ہو تم لوگ؟ہانیہ نے جلدی سے کہا۔۔

ہنی“غدار کمینی“عفیفہ دانت کچکچا کر بولی۔۔

کچھ پل میں عفاف انکے سامنے کھڑا تھا۔۔

ارے گڑیا “تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ عفاف نے پوچھا۔۔

ارے یہ سکندر بیٹے کی منگیتر ہیں“چوہدری جمال کی بات پہ عفاف بےیقینی سے انہیں دیکھنے لگا۔۔

آپ جانتے ہیں انہیں“عاٸلہ نے پوچھا۔۔

ہاں “بہت اچھے سے جانتا ہوں۔عفاف نے کہا۔۔

چلیں “پھر حویلی کیلٸے روانہ ہوتے ہیں۔۔

آپ چلٸے چوہدری صاحب”ہم چاروں آپکے پیچھے آ رہے ہیں۔۔

نہی آپ دونوں میاں بیوی ہیں“تو میں اور عفیفہ کباب میں ہڈیاں نہی بننا چاہتے“ہم خودہی آ جاٸیں گے“سکندر نے کہا اور عفیفہ کا ہاتھ تھام کر تیزی سے اپنی گاڑی کیطرف بھاگا۔۔

میں“میں اس بیہودہ انسان کو زندہ نہی چوڑوں گا۔۔میری بہن کے پیچھے پڑا ہے۔۔عفاف نے دانت کچکچا کر کہا۔۔

ہانیہ محض لب کاٹ کر رہ گٸ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کیا ہوگا“عفیفہ نے سکندر سے پوچھا۔۔

کچھ نہی ہوگا“سکندر نے اطمینان سے جواب دیا۔۔

آپ کو ڈر نہی لگ رہا“؟ عفیفہ نے بےچینی سے پوچھا۔

لگ رہا بہت مگر کیا کروں“سکندر نے کہا۔۔

پھر وہ لوگ چوہدری جمال کی حویلی میں پہنچے تو انکا پرتپاک استقبال کیا گیا۔۔

کھانا کھانے کے بعد انہیں آرام کرنے کیلٸے گیسٹ روم دیا گیا تھا۔۔

وہ سب وہاں اکھٹے ہوۓ تو سب کے جانے کے بعد عفاف نے دروازہ بند کیا۔۔

ارے یار دروازہ کیوں بند کیا ہے“؟ سکندر نے گڑبڑاکر پوچھا۔

کیونکہ مسٹر ایس کے تم اب پٹنے والے ہو“عفاف تیزی سے اسکی طرف بڑھا۔

سکندر چھلانگ لگا کر صوفے کے پیچھے چلا گیا۔۔۔

ارے یار “پیار ہی تو کیا ہے“سکندر جلدی سے بولا۔۔

تیرے پیار کی ایسی کی تیسی“ارے یار تیرا وہ آفس کی بلڈنگ والا تماشا سب نے دیکھا“اور لوگ کیا کہیں گے کہ عفاف خان بڑا بدھو نکلا“اسکی ناک کے نیچے کھیل کھیلا مگر اسے خبر ہی نہی۔۔تم دونوں میری آنکھوں میں دھول جھونک رہے تھے۔۔عفاف نے کشن اٹھا اٹھا کر سکندر کی طرف پھینکنے شروع کر دٸیے۔۔

سس“سوری “میں آپکی بہن سے بہت پیار کرتا ہوں“دل و جان سے اپنانا چاہتا ہوں“پلیز بھیا جی۔۔سکندر نے کان پکڑ کر کہا۔۔

ابے سالے“اب تیرا بھاٸی بن گیا میں،عفاف نے تپ کر کہا۔۔۔

سس “سوری میں آپکی بات کاٹ رہا ہوں“مگر سالے تو آپ میرے بننے والے ہو“سکندر نے آنکھیں پٹپٹا کر کہا۔

ہر گز نہی بنو گا میں تمہارا سالا۔۔عفاف نے دھاڑ کر کہا۔۔

ایسے کیسے نہی بنے گے“میں ضرور بناٶں گا“سکندر نے جلدی سے کہا۔۔۔

دیکھتا ہوں میں کیسے بناتے ہو“عفاف نے غصے سے کہا۔۔

ہنی یار ،سمجھا نہ اسے “تم تو گواہ ہو نہ ہمارے پیار کی“سکندر نے جلدی سے کہا۔۔

واٹ“تم“تم بھی اس بیہودہ انسان کے بارے میں جانتی تھی اور تم نے عفیفہ کو سمجھانے کی بجاۓ ان دونوں کا ساتھ دیا“وہ بےیقینی سے بولا۔۔

عفاف“ایم سوری وہ میں۔۔۔

کیا ایم سوری“کچھ نہی سننا مجھے“تم لوگ جو مرضی کرو کوٸی تعلق نہی رکھوں گا تم لوگوں کیساتھ“عفاف نے غصے سے کہا اور اپنے کمرے کیطرف بڑھ گیا۔۔

وہ تینوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنےلگ گٸے۔۔

بھیا “بہت ضدی ہیں وہ اپنی اور ہانیہ کی خوشیوں کا بھی خیال نہی کریں گے“پلیز سکندر آپ واپس چلے جانا“ہم کبھی ایک نہی ہو سکتے“عفیفہ نے نم لہجے میں کہا۔۔

عفیفہ میری جان“ایسےبول کر میری جان تو مت نکالو“وہ تڑپ کر بولا۔۔

پلیز سکندر اگر آپکو مجھ سے پیار ہے تو پلیز چلیں جاٸیں میری زندگی سے“اس نے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا۔اورپھر وہاں سے بھاگتی ہوٸی وہ ایک کمرےکیطرف بڑھ گٸ۔۔

سکندر کا چہرہ دھواں دھواں ہو رہا تھا۔پھر وہ گیسٹ روم کا دروازہ کھول کر وہاں سے نکل گیا۔۔

ہانیہ سر پکڑ کر صوفے پہ بیٹھ گٸ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف کا دماغ کھول رہا تھا۔وہ کمرے میں ادھرسے ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔۔اسی اثنا میں دروازہ کھلا اور ہانیہ اندر داخل ہوٸی۔وہ لب بھینچ کر بیڈ پہ بیٹھ گیا۔ہانیہ دھیرے سے چلتی ہوٸی آکر عفاف کیساتھ بیٹھ گٸ۔۔

“عفیفہ نے سکندر اور آپ میں سے آپکو چن لیا ہے۔سکندر سے اس نے ہاتھ جوڑ کر اپنی زندگی سے جانے کو کہا۔اب آپ بہت خوش ہونگے“ہم دونوں تو مل جاٸیں گے مگر عفیفہ اور سکندر تہی دامن رہ جاٸیں گے۔۔ہانیہ نم لہجے میں بولی۔۔

تو تم مجھے گلٹ دلانا چاہتی ہو جبکہ میں جانتا ہوں وہ شخص کتنا لوز کریکٹر ہے“عفاف نے غصے سے کہا۔۔

تصیح کر لیں لوز کریکٹر ہے نہی تھا اور عفیفہ جب اسکی زندگی میں آٸی اس نے صرف اسی کو چاہا تب سے“ہانیہ نے جواب دیتے ہوۓ کہا۔۔

یہ سب ناٹک ہے ایسے ہی تو لڑکیوں کو پٹاتا تھا“عفاف نے تپ کر کہا۔

وہ لڑکیوں کو پٹاتا نہی لڑکیاں خود اسکے پیچھے آتی تھیں“ہانیہ نے کہا۔۔

اچھا تو تم یہ بتانا چاہتی ہو کہ میری بہن اسکے پیچھے تھی“عفاف نے تلخ لہجے میں کہا۔۔

افسوس ہے “آپ میری باتوں کو غلط سمجھ رہے ہیں“میں صرف یہ بتانا چاہتی کہ وہ صرف ایک لڑکی کا دیوانہ ہے جس کے بنا وہ بہت تنہا ہے“عفیفہ نے پہلے بھی آپ لوگوں کی عزت کی خاطر اسے چھوڑا تھا تو سکندر کا نروس بریک ڈاٶن ہوا تھا۔۔نجانے اس بار وہ زندہ رہتا کہ نہی“ہانیہ کی بات پہ عفاف نے چونک کر دیکھا۔۔

کیا بات کر رہی ہو تم ؟ اسکا نروس بریک ڈاٶن ہوا تھا“عفاف نے حیرت سے پوچھا۔۔

جی“اور عفیفہ اسکے لٸے کوٸی عام ہوتی تو اسکے بچھڑنے پہ وہ پچھلے چار سال میں جو جانور بنا تھا وہ نہ بنتا“کوٸی اور دیکھ لیتا لڑکی اپنے لٸے ۔۔وہ تو یہ ملک بھی چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔اور پھر ہانیہ اسے مزید اسکے اور عفیفہ کی دیوانگی اور چاہت کے متعلق بتانے لگی۔۔وہ حیرت سے سب سن رہا تھا۔۔

میری عفیفہ پچھلے ساڑھے چار سالوں سے اس آگ میں جھلس رہی ہے“اور مجھے کچھ خبر ہی نہی تھی“عفاف نے کرب سے آنکھیں میچ کر کہا۔۔

پلیز عفاف“اس بار ان دونوں کو مت تڑپاٸیں۔۔ہانیہ نے اسکا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا۔۔۔

عفاف بےچین ہوکر سکندر کا نمبر ملانے لگا۔۔

یہ لڑکا فون کیوں نہی اٹھا رہا“عفاف نے جھلا کر کہا۔۔

پھر وہ دونوں لاٶنج میں آ گٸے۔اور عفیفہ بےچینی سے لاٶنج میں ہی ٹہل رہی تھی۔۔

عفاف کو دیکھ کر وہ صوفے پہ بیٹھ گٸ۔۔

کچھ دیر بعد دروازہ کھلا اور سکندر اندر داخل ہوا۔۔

وہ چلتا ہوا گھٹنوں کے بل زمین پہ بیٹھ گیا۔۔

پپ“پلیز عفاف مجھ سے عفیفہ کی مت چھینیں “مجھے ایسا لگ رہا ہے میری جان نکل جاۓ گی“پلیز اگر آپکو لگتا کہ میں عفیفہ کو بعد میں چھوڑ نہ دوں تو میں سکیورٹی کیلٸے اپنی ساری جاٸیداد اسکے نام کرنے کو تیار ہوں“پلیز مجھے عفیفہ کا ہاتھ دے دیں۔۔وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ نم لہجے میں بولا۔۔

نہی دونگا ہاتھ“عفاف نے سنجیدگی سے کہا۔۔

عفیفہ اور ہانیہ لب بھینچ کر رہ گٸ۔۔

اور سکندر نے زخمی نگاہوں سے اسے دیکھا اور اٹھ کر واپس مڑا۔۔۔۔۔

کدھر جا رہے ہو اب تم“میں نے یہ کہا کہ ہاتھ نہی دے سکتا “اکیلے ہاتھ کا اچار ڈالو گے کیا“اگر چاہیے تو پوری مانگو تو ہاتھ سمیت پوری دونگا۔۔عفاف نے پرمزاح انداز میں کہا۔

وہ تینوں حیرت سے اسے دیکھنے لگے۔۔پھر انکے چہرے کھل اٹھے۔۔۔۔

سکندر جلدی سے پھر سے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔

پلیز عفاف“مجھے پوری کی پوری عفیفہ دے دو“وہ جلدی سے بولا۔۔

تو عفاف اور ہانیہ کھلکھلا کر ہنس پڑے۔۔اور عفیفہ ابھی تک بےہقینی سے سب دیکھ رہی تھی۔

چل اٹھ ڈرامے باز“عفاف نے سکندر سے کہا اور پھرساتھ ہی اشارے سے عفیفہ کو بلوایا۔

وہ پاس آٸی تو عفاف نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ اسکا ماتھا چوما۔۔

اور پھر عفاف اور سکندر گلے ملے۔۔

تھینکس بھیا،سکندر بولا۔۔

ایکسیوزمی “میں اتنا بھی بڑا نہی ہوں تم سے کہ تم مجھے بھیا بولو“عفاف نے گھورتے ہوۓ کہا۔۔

جی بس چار پانچ سال ہی تو بڑے ہیں آپ“سکندر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

میرے سے مار مت کھا لینا“چلو اب جاکر آرام کرو“صبح صبح ہمیں گھر کیلٸے واپس نکلنا ہیں“عفاف نے کہا۔

پھر عفیفہ اور ہانیہ ایک روم میں اور دوسرے میں عفاف اور سکندر ٹھہرے تھے۔۔

صبح ہوتے ہی وہ لوگ گھر کیلٸے روانہ ہوۓ۔۔

عفاف“ہانیہ اور عفیفہ ایک گاڑی میں تھے اور سکندر دوسری میں“اور پورے راستے سکندر نے عفاف کو زچ کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔