📱 Download the mobile app free
Home > Mere Humrahi By Umme Emman Fatima NovelM80072 > Mere Humrahi (Episode - 18)
[favorite_button post_id="16354"]
50316 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Humrahi (Episode - 18)

Mere Humrahi By Umme Emman Fatima

ماضی سپیشل…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف گھر آیا تو اسکے چہرے پہ تھکن کے آثار دیکھ کربشری چونک گٸ۔۔۔

کیا بات ہے بیٹا“بشری نے پوچھا۔۔۔

کچھ نہی ماما“بس تھک گیا تھا،وہ گہری سانس بھر کر بولا۔

کیوں؟ آج زیادہ کام تھا کیا؟ وہ حیرت سے بولی۔۔۔

نہی ماما “بس میم کی طبیعت ٹھیک نہی تھی تو انہیں ہاسپیٹل بھی لیکر گیا تھا“عفاف نے ماتھا مسلتے ہوۓ کہا۔۔

اللہ خیر“کیا کہا ڈاکٹر نے؟ بشری نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا۔۔۔

ہارٹ بہت کمزور ہو گیا ہے انکا معمولی سا صدمہ انکی جان لے سکتا ہے“عفاف نے لب کاٹتے ہوۓ کہا۔۔۔

کچھ نہی ہوگا ان شاء اللہ“بشری نے تسلی دی۔۔۔

عفاف نے سر جھکا لیا۔۔۔

اچھا صبح مجھے لے جانا“انکی طبیعت پوچھ آٶں گی،

عفاف نے انکی بات پہ اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف اور بشری صبح صبح ہی خان مینشن آ گٸے تھے۔۔

مسز فرخندہ نے خوش دلی سے انکا ویلکم کیا۔۔۔

مجھے عفاف نے آپکی طبیعت کا بتایا“تو رہا نہی گیا تو آپ کو دیکھنے آگٸ۔۔۔بشری نے کہا۔۔

ارے“کچھ نہی ہوا مجھے“بس آپکا بیٹا بہت جلد گھبرا جاتا ہے۔مسز فرخندہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔

ابھی وہ بیٹھے باتیں کر ہی رہے تھے کہ ہانیہ نیچےاترتی دیکھاٸی دی“عفاف کو دیکھ کر اسکے قدم سست پڑے۔مگر پھر اس نے خود کوکمپوزکرکےسلام کیا“بشری نے اسکا ماتھا چوما۔۔

عفاف نے اسے ایک نظر دیکھا تک نہی تھا،

میں جا رہی ہوں ماما“وہ پاس آکر بولی۔۔۔

ٹھیک ہے بچے“میں نے آپکا روم تیار کروا دیا ہے،مسز فرخندہ نے کہا۔۔

اسکی ضرورت نہی ماما“میں ہاسٹل میں رہوں گی،وہ سپاٹ لہجےسے بولی۔۔

مگر بچے جب اپنا گھر ہے تو پھر ہاسٹل کیوں رہنا،مسزفرخندہ نے کہا۔۔۔

پلیز “ماما مجھے بڑے گھروں میں گھٹن ہوتی ہے“مجھے ہاسٹل ہی رہنے دیں“وہ بول کر واپس مڑ گٸ۔۔۔

عفاف بیٹے “آپ ہانیہ کو گاڑی تک چھوڑ کے آٶ،بشری نے کہا۔

عفاف نے مسز فرخندہ کو دیکھا تو انہوں نے بھی ہاں میں سر ہلایا۔۔۔

عفاف اسکے پیچھے چلا آیا“

وہ سامان رکھوا کر واپس مڑی تو عفاف کو پیچھے دیکھ کرچونک گٸ۔اور بیگ ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

وہ نیچے بیٹھ کر جلدی سےبیگ اٹھانے لگی“عفاف بھی اسکی مدد کرنےلگا“دونوں کا ہاتھ ٹکرایا تو چونک کر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔آنسو بےاختیار ہانیہ کی آنکھوں سے چھلک اٹھے۔۔۔

عفاف لب بھینچ کر رہ گیا“پھر اس نے جیب سے ٹیشو نکال کر اسکی طرف بڑھایا۔۔۔

آٸی ہیٹ یو“وہ اسکے ہاتھ سے ٹیشو چھین کرزمین پہ پھینکتے ہوۓ بولی۔اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے آنسو بہاتی چلی گٸ۔۔اور عفاف کو لگا وہ اب زندگی میں کبھی سکون نہی پا سکے گا۔۔اور ایک آنسو عفاف کی آنکھ سے ٹپکا“وہ حیرت سے اس آنسو کیوجہ تلاشنے لگا”جبکہ کہ وہ اس بات سے انجان تھا کہ جب کوٸی لڑکی کسی لڑکے کو چاہتی ہے تو اس کےپیار کو آپ اپنے دل میں بسنے سے روک نہی سکتے“دل ایک بیٹ تو مس کرتاہے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ کو گٸے پورے دو سال ہو گٸے تھے“اب وہ نیکسٹ ویک واپس آ رہی تھی“مسز فرخندہ تو اتنی پرجوش تھی۔کیونکہ نیکسٹ ویک اسکی برتھ ڈے بھی آ رہی تھی توانہوں نے ہانیہ کو سرپراٸز دینے کا فیصلہ کیا تھا“

عفاف بھی انکے ساتھ تیاریوں میں لگا تھا“

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ کی گاڑی خان مینشن کے سامنے رکی تو اس نے ایک طاٸرانہ نگاہ سامنے ڈالی۔برقی قمقموں سے پورا خان مینشن جگ مگ کر رہا تھا“وہ اتر کر اندر پہنچی تو اس پہ پھول برساۓ گٸے پھر مسز خان نے اپنی گلاب کیطرح کھلے چہرے والی بیٹی کو دیکھا“ان دو سالوں میں وہ بہت بدل گٸ تھی“اسکا قد بھی تھوڑا اور لمبا ہوا تھا“اور بہت فٹ اور سمارٹ بھی ہوٸی تھی“اور بہت سنجیدہ ہونے کیوجہ سے وہ اپنی عمر سے بڑی دکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

تم جلدی سے کپڑے چینج کر لو“پھر کیک کاٹتے ہیں“مسز فرخندہ نےکہا۔۔

وہ سر ہلا کر اپنے روم کیطرف بڑھ گٸ۔۔

بلیک کلر کی فراک پہن کر وہ جب لاٸٹ سے میک اپ میں نیچےآٸی تو سب کی نظریں اسی پہ تھی۔۔۔

وہ اپنے دھیان میں چل رہی تھی کہ اچانک اسکا پاٶں مڑا اس سے پہلے وہ گرتی کسی نے نرمی سے اسے تھام لیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف تیار ہوکر باہر نکلا تو عفیفہ ادھر ادھر ٹہل رہی تھی۔۔

کیا بھیا اتنی دیر لگا دی تیار ہونے میں“اب جلدی سے چلیں“مجھے ہانیہ سے ملنا ہے“عفیفہ نے جھلا کر کہا۔۔

عفاف بےاختیار مسکرا دیا۔۔۔

چلیۓ مادام“عفاف نے مسکرا کر کہا۔۔۔

پھر وہ لوگ جب خان مینشن پہنچے تو ہانیہ پہنچ چکی تھی“

بھیا“آپکی وجہ سے لیٹ ہو گٸے“عفیفہ نے تپ کر کہا۔۔

پھروہ لوگ اندر پہنچے تو مسز فرخندہ نے پرتپاک انداز میں انکا ویلکم کیا۔۔۔

آنٹی ۔۔کیک کٹ گیاکیا؟ عفیفہ نے بے چینی سے پوچھا۔۔

نہی بیٹا”ہانیہ کپڑے چینج کرنے گٸ ہے“مسز فرخندہ نےکہا۔۔

عفیفہ نے اطمینان کا سانس لیا۔۔

پھر تھوڑی دیر میں ہانیہ نیچے اترتی دیکھاٸی دی“عفیفہ کی آنکھیں جھلمل کر اٹھیں۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف کا موباٸل بجا تو وہ فون سننے ایک ساٸیڈ پہ چلاگیا۔۔

جب وہ فون سے فارغ ہو کر مڑا تو ہانیہ پہ نظر پڑی جسکا بےدھیانی میں چلتے پاٶں مڑا تھا“اس سے پہلے وہ گرتی عفاف نے جلدی سے اسے تھام لیا”اس نے گرنے کے خوف سے آنکھیں بند کی تھی“پھر جب اسے لگا وہ بچ گٸ ہے تو اس نے جلدی سے آنکھیں کھولی تو خود کو عفاف کی بانہوں پہ پاکر وہ کچھ پل کیلٸے ساکت ہوٸی“پھر وہ ایک جھٹکے سے سیدھی ہوکر اس سے ایسے دور ہوٸی جیسے عفاف کو اچھوت کی بیماری ہو“عفاف لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔

ہاۓ ہانیہ“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو“عفاف نے اسکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔

ہانیہ اسکی وششز اور ہاتھ کو اگنور کرکے آگے بڑھ گٸ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ کو اس طرح عفاف کو اگنور کرتے دیکھ کر عفیفہ چونکی۔مگر پھر سر جھٹک کر وہ اسکی طرف بڑھی۔۔۔

اور پیچھے سے اسکی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ دٸیے“ہانیہ نے اسکے ہاتھوں کو چھوا۔۔۔عفیفہ تم ہو نہ“وہ ہولے سے بولی۔۔

عفیفہ کھلکھلا کر ہنس پڑی“پھر وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ گٸ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد کیک کٹ ہوا“ہانیہ کچھ دیر تک مہمانوں میں رہی۔۔

پھر وہ آرام کرنے کا کہہ کراٹھ کر چلی گٸ۔۔۔عفیفہ کو اسکا رویہ کچھ عجیب سا لگا۔۔۔پھر کچھ دیر بعد عفاف اور عفیفہ بھی اجازت لیکر گھر کیلٸے روانہ ہو گٸے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف نے کتنی بار چپ چاپ بیٹھی عفیفہ کو دیکھا۔۔

کیا مسٸلہ ہے گڑیا“عفاف نے پوچھا۔۔۔

کچھ نہی بھیا“وہ ہولے سے بولی۔۔۔

نہی بہت چپ چپ ہو“ہلانکہ اتنے عرصے بعد اپنی بیسٹ فرینڈ سے ملی ہو تو چہرے پہ خوشی کیوں نہی ہے؟عفاف نے پوچھا۔۔۔

بھیا“ہانیہ کتنا چینج ہو گٸ ہے“اتنا کم بولتی ہے“عجیب سے لگی مجھے“عفیفہ نے الجھے ہوۓ انداز میں کہا۔۔۔

چھوڑو گڑیا“انسان کا کام ہی وقت کیساتھ چینج ہونا ہوتا ہے“عفاف نے کہا۔۔۔

بھیا “کوٸی اتنا چینج کیسے ہو سکتا ہے“وہ حیرت بھرے انداز میں بولی۔۔۔

عفاف لب بھینچ کر رہ گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف آفس جانے کیلٸے تیار ہو رہا تھا کہ اسکا موباٸل بجا۔

اس نے دیکھا تو مسز فرخندہ کا فون تھا“

اس نےاٹھا کر کان کو لگایا۔۔۔۔

عفاف“آج آپ گھر آجاٸیں“میں گھر سے ہی کام کرونگی“مسز فرخندہ اسکے فون اٹھاتے ہی بولی۔۔

اوکے“عفاف نے کہا۔۔

عفاف نے فون کٹ ہونے کے بعد گہرا سانس بھرا اور پھر خان مینشن کیلٸے نکل گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف لاٶنج میں بیٹھا مسز فرخندہ کا انتظار کر رہا تھا“کچھ دیر میں وہ آٸی تو عفاف کو لیکر گیسٹ روم کیطرف بڑھی۔۔۔۔

وہ دونوں گیسٹ روم کے دروازے پہ پہنچے تو اندر سے آتی آوازوں کو سن کر چونک گٸے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرحان خان اور جواد گیسٹ روم میں کسی ندیم نامی انسان کیساتھ بیٹھے تھے۔۔۔

تو ندیم صاحب آپ اپنے بیٹے کا رشتہ ہانیہ کیلٸے لیکر آٸیں گے“اور میری مسز اگر شادی کیلٸے مان گٸ تو ٹھیک ورنہ وہ مرنے والی تو ہے ہی کیونکہ میرا بیٹا اسکو ایسی میڈیسن دے رہا ہے جو اسکے لٸے زہر کا کام کر رہی ہے“تو اسکے مرنے کے بعد ہانیہ کی ذمہ داری مجھ پہ ہی ہوگی“فرحان خان بولا۔۔۔

مگر میرا بیٹا کسی اور کو پسند کرتا ہے“ندیم نے کہا۔۔

اارے“تو اسے کہیں بس شادی کرلے”پھر جاٸیداد اپنے نام کروا کر چاہے اسے مار دے یا پھر طلاق دے دیں“فرحان خان نے سفاک انداز میں کہا۔۔پھر اندر سے قہقہوں کی آوازیں آنے لگی”

باہر کھڑی مسز فرخندہ کا رنگ زرد پڑ گیا“عفاف کی غصے سے مٹھیاں بھینچ گٸ“مسز فرخندہ لڑکھڑاتے ہوۓ واپس مڑی۔۔اور لاٶنج میں پڑے صوفے پہ ڈھے ہو گٸ“عفاف تیزی سے انکی طرف بڑھا“پھر انکو گود میں اٹھاۓ گاڑی کیطرف بھاگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ ابھی سو کر اٹھی تھی وہ فریش ہوکر باہر نکلی تو اسکی میڈ باہر بےچینی سے کھڑی تھی۔۔۔

کیا ہوا سکینہ“ہانیہ نے پوچھا۔۔

ہانیہ بےبی“وہ میم کو ہاسپیٹل لیکر گٸے ہیں“سکینہ نے کہا۔۔

واٹ“کیا ہوا ماما کو“وہ بےچینی سے بولی۔۔۔

پھر وہ ڈراٸیور کیساتھ ہاسپیٹل پہنچی تو ایمرجنسی وارڈ کے سامنے بنچ پہ بیٹھے عفاف کیطرف تیزی سے بڑھی“

کیا ہوا ماما کو“وہ پاس آکر بولی۔۔۔

عفاف نے اسے کندھوں سے پکڑ کر بنچ پہ بیٹھایا“وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ رودی“عفاف نے اسکے پاس بیٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔۔۔

کچھ نہی ہوگا میم کو“وہ اس کا سر تھپتھپا کر بولا۔۔۔۔

پھر تین چار گھنٹوں بعد انہیں ہوش آیا تو انہوں نے ہانیہ اور عفاف کو بلوانے کو کہا۔۔

وہ دونوں تیزی سے اندر بڑھے“

دونوں ساٸیڈوں پہ وہ دونوں بیٹھ گٸے۔۔۔۔۔

عفف،عفاف مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے“آپ میری بات مانو گے نہ“وہ ماسک ہٹاتے ہوۓ بولی۔۔۔

آپکا کبھی حکم ٹالا ہے“وہ جلدی سے انکا ہاتھ تھام کر بولا۔۔

جاٶ پھر جاکر وکیل اور مولوی صاب کو بلواکر لاٶ“وہ ہولے سے بولی۔۔۔

کیوں میم“وہ حیرت سے بولا۔۔

میری ہانیہ سے شادی کر لو “پلیز۔۔۔۔وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولی۔۔۔

ہانیہ نے بے یقینی سے دیکھا“پھر وہ نا میں سر ہلاتی ہوٸی وہاں سے بھاگ گٸ۔۔۔

شاکڈ تو عفاف بھی رہ گیا تھا۔۔۔۔

لیکن میم ”یہ کیسے کر سکتا ہوں“وہ جلدی سے بولا۔۔

عفاف،وہ میری بچی کو مار دیں گے۔۔اور میں تمہارے علاوہ کسی پہ بھروسہ نہی کر سکتی“بولو نہ کرو گے نہ میری بیٹی سے شادی“وہ اکھڑتی سانسوں سے بولی۔۔

جی “اس نے ہولے سے کہا۔۔۔

پھر وہ اٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاسپیٹل میں ہی ہانیہ اور عفاف کا نکاح ہوگیا تھا،ہانیہ کی رو رو کر آنکھیں سوجی تھی“وہ لال رنگ کأ ڈوپٹہ اوڑھے تھی،مسز فرخندہ کے پاس بیٹھی تھی“مسز فرخندہ نے اسے محبت سے دیکھا۔۔۔۔۔اور پھر عفاف کو آواز دی“۔۔۔۔

عفاف“جاٸیں ہانیہ کو گھر چھوڑ آٸیں“عفاف پاس آیا تو وہ بولیں۔۔۔۔۔عفاف نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

پھر ہانیہ اسکے ساتھ ہولی۔۔۔

پورے راستے وہ بالکل گم صم تھی“عفاف نے گاڑی خان مینشن کے سامنے روکی تو وہ اتر کر اندر بڑھ گٸ۔۔۔۔عفاف نے گاڑی دوبارہ ہاسپیٹل کیطرف موڑ لی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف پوری رات مسز فرخندہ کے پاس ہاسپیٹل میں ہی رہاتھا۔۔۔

صبح فجر کے بعد اچانک مسز فرخندہ کی طبیعت بہت خراب ہو گٸ تھی۔۔۔۔

عفاف انکا ہاتھ تھامے بیٹھا تھا“مسز فرخندہ نے اپنا ماسک اتارا۔۔۔

یہ آپ کیا کر رہی ہیں“وہ جلدی سے بولا“پھر وہ ماسک لگانے لگا تو انہوں نے روک دیا۔۔۔

عفاف بیٹے میری بات غور سے سنے،وہ بمشکل بولی۔۔

جی جی“میں سن رہا ہوں“وہ پاس ہوکر بولا۔۔۔

میں نے تمہیں اپنی کمپنی میں ففٹی ون شیٸرز کا مالک بنا دیا ہے اور تم کمپنی کے چیٸرمین ہو گٸے“وہ تھوڑا رکی۔۔۔پھر اپنا ہاتھ عفاف کی طرف بڑھایا۔

مجھ سے وعدہ کرو کہ تم میری ہانیہ کو فرحان خان سے بچاٶ گے وہ نم لہجے سے بولی۔۔

کچھ نہی ہوگا آپکو”ہم دونوں مل کر فرحان خان کو سبق سکھاٸیں گے،وہ جلدی سے بولا۔۔۔

مم،میرے پپپ“پاس وقت کم ہے“وعدہ کرو مجھ سے کہ تم میری بیٹی کی حفاظت کرو گے“وہ اٹک اٹک کر بولی۔۔۔

میں وعدہ کرتا ہوں“عفاف نے کہا ہی تھا ساتھ ہی انکی سانسیں اکھڑنے لگ گٸ“عفاف نے انکا ہاتھ تھام لیا“پھر ساتھ ہی انکا ہاتھ عفاف کے ہاتھ میں ڈھیلا ہو گیا اور آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو گٸ۔۔۔

میم،عفاف تڑپ کر بولا۔۔پھر زمین پہ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سارے واجبات ادا کرکے وہ ہاسپیٹل سے میت لیکر خان مینشن پہنچا تو آٹھ بج چکے تھے“مینشن کے سارے نوکروں میں کہرام مچ گیا تھا۔۔۔

ہانیہ کہاں ہیں“عفاف نے سکینہ سے پوچھا۔۔۔

بے بی پوری رات روتی رہی“صبح ہی کہیں آنکھ لگی تھی،اور ابھی بھی سو رہی ہیں“سکینہ نے جواب دیا۔۔

ابھی آرام کرنے دیں تھوڑی دیر اسے“تب تک میں باہر لان میں انتظامات وغیرہ کرتا ہوں“عفاف نے کہا پھر وہ باہر نکل گیا۔۔