📱 Download the mobile app free
Home > Mere Humrahi By Umme Emman Fatima NovelM80072 > Mere Humrahi (Episode - 36) Last Episode (Last Part)
[favorite_button post_id="16354"]
50316 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Humrahi (Episode - 36) Last Episode (Last Part)

Mere Humrahi By Umme Emman Fatima

سکندر جی بات سنے“عفیفہ نے موباٸل میں مصروف سکندر سے کہا۔۔

جی سناۓ جان من“وہ موباٸل سے نظریں ہٹاۓ بغیر بولا۔۔

اوففففف“اس موباٸل کو تو چھوڑیں“عفیفہ نے اسکا موباٸل چھین کر ساٸیڈ پہ رکھتے ہوۓ کہا۔۔

اوکے جان من سناٶ کیا سنانا چاہتی آپ،وہ مسکرا کر بولا۔۔۔

پھر عفیفہ نے اسے احمد کی ساری بات تفصیل سے بتاٸی۔۔۔

اوووہ واٶ“ بھیا کو کتنی فکر ہے اپنی جانم کی“سکندر نے مسکرا کر کہا۔۔عفیفہ بھی اسکی بات پہ مسکرادی۔۔۔

چلو ٹھیک ہے کل صبح فجر کے بعد چلتے ہیں۔۔۔عفیفہ نے کہا۔۔

کدھر جانے کا پلان بنا رہے تم دونوں“پیچھے سے عفاف کی آواز آٸی۔۔۔

اوفففف“آگیا میرا سالا پھر سے ٹانگ اڑانے“۔۔۔

کچھ نہی بھیا وہ روشنی کے گاٶں جانے کا پلان بنا رہے تھے۔۔

سکندر کی بڑبڑاہٹ پہ عفیفہ نے اسے گھورتے ہوۓ عفاف کو جواب دیا۔۔۔

وہ کیوں؟عفاف نے پوچھا۔۔۔

تو عفیفہ اسے ساری تفصیل بتانے لگی۔۔

اووووہ اچھا“چلو ٹھیک ہے“ایسا کرتے ہیں تم سکندر کے ساتھ نہی میرے ساتھ چلنا۔۔عفاف نے کہا۔۔

کیوں سکندر کو کیڑے پڑے ہیں کیا“سکندر نے تپ کر کہا۔۔

تپ کیوں رہے ہو یار“میں تو اس لٸے کہہ رہا تھا کہ تھوڑے دن بعد شادی ہے تو لڑکے لڑکی کو اکیلےنہی ملنا چاہیے۔۔عفاف نے جلدی سے کہا۔۔۔

واہ واہ واہ“خود تم لڑکی کے گھر گارڈ کو بےہوش کرکے جو گھستے تھے اندر“تب نہی یاد تھا یہ رول“سکندر نے تڑخ کر کہا۔۔

عفاف نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔

عفیفہ سکندر کی ہولی ووڈ مووی یو آر ماٸی لو ضرور دیکھنا“عفاف کی بات پہ سکندر بھونچکا رہ گیا۔۔

کیوں بھیا “ زیادہ اچھی مووی ہے کیا؟ عفیفہ نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔

جان من“تم کل اپنے بھاٸی کیساتھ ہی جانا کیونکہ مجھے بہت ضروری کام ہے“سکندر نے جلدی سے کہا۔۔اور ساتھ التجاٸیہ انداز میں عفاف کو اشارے سے کہاکہ مزید نا بولے اور معافی دے دیں“عفاف نے فاتحانہ نظروں سے ہانیہ کو دیکھا اور ہانیہ تاسف سے سر ہلا کر رہ گٸ۔۔۔

جاٶ سب سے مل لو پھر گھر چلتے ہیں“سکندر نے ہانیہ سے کہا۔تو ہانیہ سرہلا کر آگے بڑھ گٸ۔اور عفاف بھی اسکے پیچھے چلا گیا۔۔۔

ویسے کیا خاص ہے اس مووی میں؟ عفیفہ نے ان دونوں کے جانے کے بعد پوچھا۔۔

ارے جان من کل کی پارٹی میں کونسا ڈریس پہن رہی ہو“سکندر نے جلدی سے اسکا دھیان بٹانے کیلٸے بات بدلی۔اور وہ اس میں کامیاب بھی ہوا۔۔وہ سب کے ڈریسسز کے بارے میں بتانے لگی۔سکندر نے سکھ کا سانس لیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا کرتے ہیں عفاف آپ“ہانیہ نے باہر آکر جھلا کر کہا۔۔

ارے “میں نے ابھی کچھ کیا کب ہے ملکہ عالیہ۔عفاف نے اسکے قریب ہوتے ہوۓ کہا۔۔

اوففففف اللہ“ہر جگہ رومینس شروع ہو جاتا آپ کا“میں یہ والا کرنے کی بات نہی کر رہی۔۔ہانیہ نے اسکو پیچھے ہٹاتے ہوۓ جل کر کہا۔۔۔۔

تو پھر کس چیز کی بات کر رہی ہو“عفاف نے انجان بنتے ہوۓ پوچھا۔۔۔

جو آپ نے عفیفہ کو مووی دیکھنے کا اندر کہا اسکی بات کر رہی ہوں“جانتے بھی ہو نہ کہ اب اسکے ذہن میں یہ بات آسانی سے نکل نہی پاۓ گی“ہانیہ نے تپ کر کہا۔۔۔

اووووہ میری جان چھوڑو نا یہ سب باتیں “اچھی والی باتیں کرو ۔۔عفاف نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر قریب کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔۔

بس بس“زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہی۔شادی سے پہلے بالکل اچھی بات نہی ہے“ہانیہ نے اپنے آپ کو چھڑواتے ہوۓ کہا۔۔

ارے یہ نام نہاد رخصتی والاچکر ماما نے چلا دیا“ورنہ ہماری تو سہاگ رات بھی ہو چکی تھی۔عفاف نے بے دھیانی میں جو ہانیہ کیساتھ زبردستی کی تھی اسکا تذکرہ کر دیا۔۔۔

ہانیہ نے کرب سے اپنے لب کاٹ لٸے۔۔

عفاف نے تڑپ کر اسکے لبوں پہ انگلی پھیری۔۔

ایم سوری میری جان“جان بوجھ کر نہی بولا تھا اچانک منہ سے نکل گیا“آٸندہ نہی بولوں گا،وہ بےقراری سے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر بولا۔۔

وہ اسکے سینے کیساتھ لگ کر رودی۔۔

عفاف اسے چپ کروا کروا کر ہلکان ہو گیا۔۔۔

ہنی میری جان بس کرو“کان پکڑ کر سوری بولوں تو معاف کرو گی “عفاف نے کہا۔۔

ہانیہ نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔

ہاۓ مجھے کان پکڑنے پہ بھی معاف نہی کرو گی۔عفاف نے کہا۔۔

نہی“عفاف مجھ سے وہ جانے کیسے ہوگیا کہ میں نے آپکو مارنے کی کوشش کی“وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔۔

چھوڑو یہ سب باتیں“غلطی میری ہی تھی میں نے تمہیں وہ سب کرنے پہ مجبور کیا تھا“اور اب ہم اس پہ کبھی بات نہی کریں گے۔۔عفاف نے کہا۔۔تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف اور عفیفہ صبح فجرکے بعد روشنی کے گاٶں کیلٸے نکلے تھے اور چار گھنٹوں کے طویل سفر کےبعد وہ روشنی کے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔۔اور گاٶں والے تو انہیں دیکھ کر چہ مگوٸیاں کر رہے تھے۔۔

وہ دونوں انکی باتوں سے بےپروا دروازے کے سامنے پہنچے“عفاف نے دروازہ کھٹکھٹایا تو روشنی کا بڑا بھاٸی باہر آیا۔اس نے انہیں دیکھا تو وہ بھی حیرت زدہ رہ گیا۔پھر اس نے انہیں اندر آنے کا راستہ تھا۔۔وہ دونوں اندر آکر صحن میں رکھی چارپاٸی پہ بیٹھ گے۔۔

اماں جی کدھر ہیں؟ عفیفہ نے ارد گرد دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔

اماں زرا ہمساٸیوں کےہاں گٸ ہے۔۔میں بلوا کر لاتا ہوں۔روشنی کے چھوٹے بھاٸی نے کہا اور باہر نکل گیا۔

کچھ دیر بعد وہ اماں کو لیکر اندر آیا تو وہ دونوں انکے احترام میں اٹھ کر کھڑے ہو گٸے۔۔

عفیفہ نے پھر آگے بڑھ کر انہیں گلے لگایا تو وہ رو پڑی۔۔

میری روشنی کیسی ہے“اماں نے آنسو صاف کرکے پوچھا۔۔

اماں جی آپکی روشنی بہت اچھی ہے ،شادی ہو رہی ہے اسکی۔عفیفہ نے انکےہاتھ تھام کر کہا۔۔

کیا سچ میں میری روشنی کی شادی ہو رہی ہے۔جبکہ وہ تو طلاق یافتہ تھی۔اماں نے متذبذب لہجے میں پوچھا۔۔

ماں جی طلاق یافتہ کی شادی نہی ہوتی کیا“ہماری روشنی کے ہاتھ تھامنے والے بہت تھے۔مگر جن سے انکی شادی ہو رہی وہ بھی طلاق یافتہ ہیں اور بہت اچھے انسان ہے۔۔

لو جی میں تو ایویں گھبرا گٸ کہ روشنی کی شادی ہو رہی مگر وہ لڑکا بھی طلاق یافتہ نکلا۔۔روشنی کی بڑی بھابھی نے کہا۔۔

ارے بھرجاٸی آپ نے کیا سوچا تھا اسکے لٸے کوٸی محلوں کا شہزادہ آۓ گا۔۔چھوٹی بھابھی نے استہزا انداز میں کہا۔۔۔

تم دونوں چپ ہو گی یا میں چپ کرواٶں۔بڑے بھاٸی نے پھنکار کر کہا۔۔۔

ویسے شہری میڈم جی آپ ہمیں یہی بتانے آٸی تھی کیا؟ بڑا بھاٸی عفیفہ کیطرف متوجہ ہوکر بولا۔۔

جی نہی“شادی کی دعوت کا پیغام لیکر آٸی ہوں“آپکی بچی آپکے بنا بہت ادھوری ہے۔۔پلیز آپ چلٸے ہمارے ساتھ اسکی خوشیوں کو پورا کرنے“عفیفہ نے کہا۔۔

وہ سب لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔

ٹھیک ہے ہم تیار ہیں“بڑے بھاٸی نے کہا۔ تو عفیفہ نے کب سے رکا سانس بحال کیا۔۔

تھینک گاڈ“چلیں پھر تیاری پکڑیں ہم دو تین گھنٹوں میں نکل رہے ہیں۔عفیفہ نے کہا۔۔

اور پھر شام میں روشنی کے گھر والے اور اسکی بھابھیوں کے گھر والے اور کچھ اور رشتے دار کو لیکر عفاف اور عفیفہ اپنے پرانے گھرلیکر پہنچے۔۔اور انکےکھانےپینے کا انتظام کیا اور پھر انکو تیارہونے کا کہہ کر وہ لوگ خان مینشن چلے گٸے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفیفہ گھرمیں بشری سے ملکر پارلر کیلٸے نکل گٸ۔جب وہ پارلر پہنچی تو ہانیہ اور روشنی فیشل کروا کر فارغ ہو گٸ تھی۔۔

اوووہ گاڈ “کدھر تھی آپ ادی ساٸیں“روشنی نے جلدی سے پوچھا۔۔۔

ضروری کام تھا تو اس کو نبٹاتے تھوڑا ٹاٸم لگ گیا“عفیفہ نے کہا۔۔۔۔۔

ہو گیا کام؟ ہانیہ نے عفیفہ کے کان میں کہا۔۔

ہاں ہوگیا“مگر آپ کے شوہر پہ روشنی کی کزنز کی کچھ زیادہ ہی نظریں ٹھہری تھی“عفیفہ نے مسکرا کر کہا۔۔

اوووفففف“ان لڑکیوں کو مار ڈالوں گی۔ہانیہ نے دانت پیس کر کہا۔۔۔

عفیفہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔

پھر وہ لوگ تیار ہوکر خیام ولا پہنچی اور پارلر والی ساتھ ہی تھی۔۔اور میڈ نے انکو گیسٹ روم میں بیٹھایا۔۔

پلیز زونیہ جلدی سے ساڑھی سیٹ کردو ہماری“آگے ہی بہت ٹاٸم ہو گیا ہے۔عفیفہ نے کہا۔۔تو وہ سر ہلا کر سب کی ساڑھی سیٹ کرنے لگی۔۔

یہ سکندر نے بھی نجانے پارٹی کی تھیم ساڑھی کیوں رکھی،عفیفہ نے جھلا کر کہا۔۔

ارے تو اور شارٹس رکھتا کیا؟ ساڑھی بہت بہتر ہے“ہانیہ نے کہا۔۔

ہاں تم تو کہو گی“تم تو زیادہ تر ساڑھی ہی پہنتی رہی ہو“عفیفہ نے جل کر کہا۔۔ہانیہ اسکی بات پہ ہنس دی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف روشنی کے گھر والوں کو لیکر جب خیام ولا پہنچا تو وہ سب حیرت سےاس محل کو دیکھ رہے تھے۔۔

جب وہ لوگ لان میں داخل ہوۓ تو سکندر تیزی سے انکی طرف بڑھا۔۔

ہاۓ اللہ آپ تو فلموں ،ڈراموں میں کام کرتے ہیں نہ۔میرا نام سندس ہے بہت بڑی فین ہوں آپکی“جب وہ پاس آیا تو روشنی کےبھاٸی کی سالی بولی۔۔

جی تھینک یو“سکندر نےکہا۔۔

پلیز تشریف رکھیں میں مام اور بھیا کو بلوا کر لاتا ہوں ۔۔سکندر نےکہا۔۔

پھر کچھ دیر بعد احمد اور مسز خیام ان سے ملنے آٸے۔مسز خیام اور احمد کی متاثر کن پرسنالٹی سے سب ہی روشنی کی قسمت پہ رشک کرنے لگے۔۔

بڑا اونچا ہاتھ مارا روشنی نے“روشنی کی چھوٹی بھابھی حسد بھرے انداز میں بولی۔۔روشنی کے بھاٸی نے انہیں گھور کر دیکھا تو وہ دونوں چپ ہوکر کھڑی ہو گٸ۔۔

پھر سکندر ماٸیک پکڑ کر سامنے بنے سٹیج پہ کھڑا ہوگیا۔۔

لیڈیز اینڈ جنٹلمین “آج کی پارٹی سپیشل ہے ہماری دلہنوں کے لٸے۔

تو دل تھام کر بیٹھٸے کیونکہ تشریف لا رہی ہیں تین حسیناٸیں اپنا جلوہ دیکھانے۔۔سکندر نے چلا کر کہا۔۔

پھر وہ تینوں سیڑھیوں سے اترتی دیکھاٸی دی۔۔عفیفہ بلیک ساڑھی میں،روشنی نیوی بلیو ساڑھی میں اور ہانیہ ریڈ ساڑھی میں قیامت ڈھارہی تھی۔۔روشنی کی اماں کی آنکھیں اپنی بیٹی کو دیکھ کر چھلک اٹھی۔۔

پھر وہ تینوں سٹیج پہ رکھے صوفوں پہ بیٹھ گٸ۔۔

پھر سکندر نے عفیفہ اور ہانیہ کا ہاتھ پکڑکر سٹیج سے نیچے اترا۔۔۔

اے بیوٹی فل روشنی“تمہاری لٸے کچھ خاص ہے۔۔سکندر نے کہا۔

اور پھر میوزیشن کو اشارہ کیا اور اسکی بیوٹی فل آواز ہال میں گونجنے لگی۔۔

اے دل لایا ہے بہار اپنوں کا پیار۔۔

کیا کہنا۔۔۔

ملے ہم چھلک اٹھا خوشی کا خمار۔۔

کیا کہنا۔۔

کھلے کھلے چہروں سے آج گھر ہے میرا

گل و گلزار

کیا کہنا۔۔

باقی سب سکندر کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہوۓ تھے۔۔پھروہ ساٸیڈوں پہ ہوۓ تو روشنی پیچھے اپنی اماں کو دیکھ کر شاکڈ رہ گٸ۔پھر وہ بھاگتی ہوٸی جاکرانکے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔

باقی سب کی بھی آنکھیں نم تھی۔۔

پھر وہ آنسو صاف کرتی ہوٸی عفیفہ کیطرف بڑھی۔۔

تھینک یو ادی ساٸیں“روشنی اسکا ہاتھ تھام کر بولی۔

تھینکس میرا نہی احمد بھاٸی کا کرو۔یہ سب انہوں نےکیا۔۔وہ تمہاری آنکھوں میں آنسو نہی دیکھ سکتے۔عفیفہ نے مسکرا کر کہا۔۔

روشنی نے چونک کر تھوڑےفاصلے پہ کھڑےاحمد کودیکھا۔۔جو موباٸل کان کولگاۓ کسی سے بات کر رہا تھا۔روشنی تیزی سے اسکی طرف بڑھی۔اور پیچھے سے جاکر کر اسکی پشت پہ سر ٹکا کر رودی۔۔

احمد چونک کر مڑا اور اسے روتا دیکھ کر تڑپ ہی گیا۔۔

روشنی پلیز روٸیے مت میں آپکی آنکھوں میں آنسو نہی دیکھ سکتا “احمد نے بےبسی سے کہا۔۔تو وہ اسکے سینےکیساتھ لگ گٸ۔۔۔

احمد اسکی اس حرکت پہ ساکت ہو گیا۔پھر اس نے اپنے بازو اسکے گرد لپیٹ دٸیے۔۔

لو ایک اور لو سٹوری مکمل ہوٸی۔سکندر نے کہا۔۔

پھر مسز خیام ماٸیک پکڑ کر کھنکھاری تو سب انکی طرف متوجہ ہوۓ۔۔

سولیڈیز اینڈ جنٹلمین “اب کرینگے دولہا حضرات اپنی دولہوں کو پرپوز اپنے اپنے سٹاٸل میں۔مسز خیام کی بات پہ سب چونک گٸے۔۔

تو سب سے پہلے باری ہے سب سے بڑے احمد خیام کی“وہ اپنے سٹاٸل میں پرپوز کرینگے۔۔

احمد نے ہڑبڑا کر سب کو دیکھا۔تو سب جلدی سے ادھر ادھر دیکھنے لگے۔۔

میں آتا ہوں ایک منٹ“احمد نےکہا اور پھر اندر بڑھ گیا۔۔

دس منٹ بعد وہ واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں ایک باکس تھا۔۔وہ روشنی کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔۔

پھر اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر باکس کھول کر اسکے سامنے کیا۔۔

روشنی آپکو پاٸل بہت پسند ہے میں نے یہ آپ کو دینے کی بہت کوشش کی مگر دے نہی پاٸی۔۔

کیا آپ مجھے ہمسفر کے طور پہ قبول کرکے یہ تحفہ قبول کرینگی۔۔احمد نے کہا۔۔

سکندر نے زور سے سیٹی ماری۔۔

تو روشنی نے پاٶں آگے کر دیا۔اسکا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔۔

احمد نے اسکا پاٶں گھٹنے پہ رکھ کر پاٸل پہناٸی۔۔اور لان تالیوں سے گونج اٹھا۔۔۔

اہممم“اہممم اب باری ہے عفاف خان کی“مسز خیام کی بات پہ سب عفاف کو دیکھنے لگ گٸے۔۔

عفاف سینے پہ ہاتھ باندھے اطمینان سے کھڑا تھا۔

بھیا پرپوز نہی کروگے“عفیفہ نے کہا۔۔

کرونگا ضرور کرونگا۔بس ابھی موڈ نہی“وہ ہانیہ کو دیکھ کر شرارتی انداز میں بولا۔ہانیہ نے زور سے اسکے مکہ مارا۔۔

عفاف بے اختیار قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔ پھر ٹیبل پہ رکھے گلدستے سے پھول نکال کر وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔

ملکہ عالیہ آپ کا یہ غلام بہت غریب بندہ ہے تو بس پھول ہی دے سکتا ہوں تو یہ پھول آپکے حضور پیش کرکے آپکو زندگی بھر کیلٸے اپنی ہمسفر بنانا چاہتا ہوں“کیا آپ مجھے اپنا ہمسفر بناۓ گی“عفاف نے مسکرا کر کہا۔۔

مجھے غریب سا کڑورپتی شوہر قبول ہے۔۔ہانیہ نے چہک کر کہا۔۔تو سب کھلکھلا کرہنس دٸیے۔۔

جی تو اب باری ہے ہمارے چھوٹے راج دلارے کی“تو آج آپ بھی زرا اپنا تہذیب وتمدن والا پرپوز پیش کریں۔۔۔مسز خیام نے کہا۔۔

جو حکم اماں حضور “سکندر نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔۔

پھر اس نے ہانیہ کا ہاتھ تھاما اور اسے جھولے کیطرف لے آیا۔۔۔

اور پھر ماٸیک پکڑ کر وہ غزل پڑھنے لگا۔۔

زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں

میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا

اپنے جذبات میں نغمات رچانے کے لیے

میں نے دھڑکن کی طرح دل میں بسایا ہے تجھے

میں تصور بھی جدائی کا بھلا کیسے کروں

میں نے قسمت کی لکیروں‌ سے چرایا ہے تجھے

پیار کا بن کے نگہبان تجھے چاہوں گا

میں تو مر کر بھی میری جان تجھے چاہوں گا۔۔۔

میں مر کر بھی میری جان تمہیں چاہوں گا۔۔۔

جان بہار آپ کا یہ یہ دیوانہ آپکو دل و جان سے چاہتا ہے۔تو کیا آپ مجھے اپنا ہمدم ہمراہی بناٸیں گی“وہ عفیفہ کیطرف ہاتھ بڑھا کر بولا۔۔عفیفہ نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔۔

لان میں سیٹیوں اور تالیوں کی آوازیں گونج اٹھی۔۔

یہ شخص لفظوں کا جادوگر ہے۔عفاف نے متاثر کن لہجے میں کہا۔

تو مانتے ہو اسکے ٹیلنٹ کو“ہانیہ نے مسکرا کرکہا۔۔

ہاں مانتا ہوں“مگر مجھے فیل سا ہو رہا کہ بیچارے کی بہت ہونے والی عفیفہ سے ایک دو دن میں“کیونکہ عفیفہ نے کسی سے مووی منگوا لی ہے یو آر ماٸی لو،عفاف نے سر کھجاتے ہوۓ کہا۔۔۔

اووہ ماٸی گاڈ“آپ کو کیسے پتا؟ ہانیہ نے بےچینی سے پوچھا۔۔

وہ فون پہ بات کر کے کسی کو مووی کیلٸے تھینکس بول رہی تھی۔تو میں نے سن لیا۔۔

یہ سب آپکی وجہ سے ہوا ہے“ہانیہ نے جھلا کر کہا۔۔

اب ہوگیا تو کیا کر سکتے ہیں“عفاف نے کندھے اچکا کر کہا۔۔

ہانیہ محض لب کاٹ کر رہ گٸ۔۔۔۔

پھر عفاف اور عفیفہ فنکشن ختم ہونے کے بعد سب مہمانوں کو لیکر خان مینشن آ گٸے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب لاٶنج میں بیٹھے چاۓ پی رہے تھے کہ سکندر تیزی سے اندر داخل ہوا۔۔اور اسکے پیچھے پیچھے ہانیہ تھی۔۔

سکندر تیزی سے عفیفہ کے روم کیطرف بڑھا۔۔۔

ہوا کیا ہے؟ عفاف نے ہانیہ سے پوچھا۔۔

مووی دیکھ لی اس نے“ہانیہ نے چبا چبا کر کہا۔

عفاف سر پہ ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔پھر وہ دونوں بھی عفیفہ کے روم کیطرف بڑھے۔۔جب وہ روم میں پہنچے تو وہ جلدی سے عفاف کے سینےکیساتھ لگ کر رودی۔۔۔

بھیا میں شادی نہی کرونگی بس فاٸنل ہے“عفیفہ عفاف کے پاس آکر بولی۔۔۔

کیا بول رہی ہو“ایسا تھوڑی ہوتا ہے کل شادی ہے اور تم آج انکار کر رہی ہو“عفاف نے گڑبڑا کر کہا۔۔

آپکو پتا ہے انکی وہ مووی اتنی گندی ہے۔مجھ سے دیکھی بھی نہی گٸ۔۔اور پھر میں نے نیٹ سے سرچ کیا تو اس لڑکی کے ساتھ جگہ جگہ پکس تھی انکی“اور لوگ کہتے تھےکہ یہ دونوں لیونگ ریلیشن شپ میں تھے۔۔عفیفہ نے کہا۔۔۔

ہووووو“عفاف نے منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔۔

چلو چھوڑو وہ اسکا ماضی تھا۔اب اگر تم ایسا کروگی تو سب کی خوشیاں خراب ہوگی“عفاف نےکہا۔۔

میں انکے ساتھ نہی رہ سکتی“وہ روتے ہوۓ بولی۔۔

کیا ہوگیا ہے تمہیں عفیفہ“وہ جسٹ ایک مووی تھی اور وہ صرف سین کرنے تھے اور وہ لڑکی جہاں میں جاتا تھا وہی آ جاتی تھی اور اس نے پرپوز بھی کیا تھا “سکندر نے جھلا کر کہا۔۔

دیکھا دیکھا بھیا“اس نے پرپوز بھی کیا تھا“عفیفہ کہہ کر اٹھا اٹھا کر چیزیں پھینکنے لگی۔۔

ارے یار اس نے کیا تھا میں نے تو نہی“سکندر نے جل کر کہا۔۔

ہاں جو بھی تھا۔۔بس اب شادی نہی کرونگی“وہ سوں سوں کرتی ہوٸی بولی۔۔

ٹھیک ہے شادی نہی کرنی تو نہی ہوگی۔اور فکر مت کرو تم بیوہ ضرور ہوگی“سکندر نے غصے سے کہا اور باہر نکل گیا۔۔

اسکی بات پہ وہ تینوں شاکڈ ہو گٸے۔۔۔

عفی جاٶ اسکو روکو“میں جانتا وہ کسی لڑکی کیساتھ حد سے نہی گزرا“اور تمہیں اسکے پاگل پن کا اندازہ بھی ہے۔وہ خود کو نقصان پہنچا لے گا“وہ چیخ کر بولا۔۔

عفیفہ نے متوحش انداز میں ان دونوں کو دیکھا اور پھر تیزی سے بھاگتی ہوٸی سکندر کے پیچھے بھاگی۔

جب وہ گیراج میں پہنچی تواس نے دیکھا سکندر گاڑی میں بیٹھنے ہی لگا تھا۔

سکندر جی“اس نےپورا زور لگا کر اسے پکارا۔

سکندر چونک کر مڑا تو وہ دوڑ کر اسکے سامنے کھڑی ہو کر اسکے سینے پہ مکے مارنے لگی۔۔

ہمت کیسی ہوٸی آپکی یہ کہنے کی کہ بیوہ ضرور ہوگی۔۔وہ اسکے سینے پہ زور سے مکے مارتے ہوۓ کہا۔۔

سکندر نے اسکے دونوں دونوں کو پکڑ لیا۔۔تو وہ اسکے سینے کیساتھ لگ کر رودی۔۔

ہنی قسم کھاکرکہتا ہوں میرا سچ میں اسکے ساتھ کوٸی چکر نہی تھا“میں نے جب سے تمہیں دیکھا کوٸی اور دیکھاٸی نہی دی اور جب سے تم سے پیار کیا کسی اور سے کبھی پیار ہوا ہی نہیں“وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر بولا۔تو عفیفہ کے چہرے پہ حیا کی سرخی چھا گٸ۔۔۔

چلو اب شام کیلٸے تیار رہنا ہماری مہندی میں تمہیں بہت خوش اور پیاری دکھنا ہے۔۔سکندر نے محبت سے اسکا ماتھا چومتے ہوۓ کہا۔۔

جی ٹھیک ہے اور آپکو بھی بہت پیارے دکھنا ہیں“اس نے پیار سے کہا۔۔

سکندر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🌻🌻🌻🌻🌻مہندی🌻🌻🌻🌻

خیام ہوٹل میں آج مہندی کیلٸے بھرپور تیاری کی گٸ تھی۔۔ییلو اور اورنج گیندے کے پھولوں سے سجاوٹ کی گٸ تھی۔اور تینوں جوڑیوں کیلٸے جھولے رکھے گے تھے۔جنکو گیندے اور للی سے سجایا گیا تھا۔۔

تینوں دولہنیں جب آٸیں تو سب کی نظریں ان پہ ہی ٹکی تھی۔

عفیفہ اورنج “گرین شرارے میں۔ہانیہ شاکنگ گرین شرارے میں اور روشنی ییلو گرین شرارے میں آسمان سے اتری حوریں لگ رہی تھیں۔۔

اور تینوں دولہوں نے واٸٹ شلوار قمیض کیساتھ گلے میں گرین ڈوپٹے لٸے تھے۔۔

یار یہ لڑکیوں کی موجیں ہوتی۔نت نٸے ڈیزاٸن کے ڈریس پہن لیتی اورہم لڑکے آ جا کر وہی واٸٹ پہنیں تو اگلے دن روپ آتا۔سکندر نے کہا۔۔

تو تونے بھی عفیفہ کے جیسا بنوا لینا تھا۔عفاف نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔سکندر نے اسے گھورا۔۔

مزاق کر رہا ہوں“ویسے بھی جتنا یہ تیار ہوٸی ابھی انکے سر میں تیل لگے گا اور منہ پہ ابٹن تو کیا فاٸدہ ہوا بندریاں تو انہوں نےبھی بننا ہے ہماری طرح“عفاف نے مسکرا کر کہا۔۔

سوری “تم اور تمہاری بیوی بندر “بندریا ہونگے۔۔ہم تو انسان ہیں“سکندر نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔

عفاف کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔

پھر ساٶنڈ سسٹم پہ مہندی کا سونگ بجنے لگا..

اور پھر وہ تینوں بھی جھولے میں آکر بیٹھ گٸے۔۔پھر شگن کے بعد وہ فارغ ہوۓتو ڈھول کی تھاپ پہ چونک گٸے۔۔پھر انہوں نےدیکھاچوہدری جمال اور انکی پوتی بانگڑا ڈالتے انکی طرف ہی بڑھ رہے تھے۔انکے ساتھ ایک لڑکا بھی کھڑا تھا۔۔عفاف اور سکندر تیزی سے انکی طرف بڑھے۔۔

بہت خوشی ہوٸی آپ لوگ آٸیں“عفاف نے کہا۔۔

ہمیں آنا ہی تھا آپ دونوں کی بیویوں کے خوش بختی کے قدم میرے گھر پڑے تو میرا بیٹا واپس آگیا۔۔اور یہ ہاشم میرا پوتا ہے۔۔اور میری عاٸلہ کا میرےپوتے ہاشم سے نکاح ہوگیا ہے“چوہدری جمال نے پرجوش انداز میں کہا۔۔

بہت بہت مبارک ہو آپ کو“سکندر اور عفاف نے کہا۔۔

آٸیے آپکو گھر والوں سے ملوا دوں۔۔عفاف نے کہا اور پھر انکو لیکر بشری کیطرف بڑھ گیا۔

بشری کی انکی طرف پیٹھ تھی وہ کسی عورت کیساتھ باتوں میں مصروف تھی۔

ماما”عفاف نے پاس جاکر پکارا۔۔۔

وہ چونک کر مڑی تو پیچھے کھڑے چوہدری جمال کو دیکھ کر ساکت ہو گٸ۔۔

بش“بشری“چوہدری جمال نے کپکپاتے لہجے میں کہا۔۔

آپ میری ماما کو کیسے جانتے ہیں“عفاف نے حیرت سے پوچھا۔۔

کوٸی اپنے جگر کے ٹکڑے کو کیسے نہی پہچانے گا“چوہدری جمال نے نم لہجے میں کہا“اور پھر بشری کے آگے ہاتھ جوڑ دٸیے۔۔

بشری نے تڑپ کر انکے ہاتھ تھام کر چوم لٸے۔۔اور دونوں باپ بیٹی گلے لگ کر رو پڑے۔۔

واااٶ“ہماری تو خوشیاں دگنی ہو گٸ کیونکہ ہمارا ننھیال پہنچ گیا۔۔۔۔عفیفہ نے پاس آکر چوہدری جمال کا بازو تھام کر چہک کر کہا۔۔

دگنی نہی تگنی ہو گٸ“پیچھے سے آٸی آواز پہ وہ چونک کر مڑے تو پیچھے تایا زاہد خان اور نغمہ ”حامد کھڑے تھے۔۔

اووووہ ماٸی گاڈ“عفیفہ نے منہ پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

زاہد خان نے بازو پھیلا دٸیے۔۔عفیفہ دوڑ کر انکے سینے کیساتھ لگ گٸ۔۔پھر وہ نغمہ سے بھی پرجوش اندازمیں ملی۔۔

سکندر عفاف“اور ہانیہ بھی باری باری ان سےملے۔۔

تایا جی“آپ نے تو سرپراٸز ہی دے دیا“پتا ہے کتنا مس کر رہی تھی آپکو۔۔اور سچ کہا آپ نے کہ ہماری خوشیاں تگنی ہوگٸ ہیں۔۔

پھر انہوں نے کھانا کھانے کے بعد گھر کی راہ لی۔۔

اور رات گٸے تک خان مینشن میں محفل جمی رہی۔۔۔

عفیفہ“روشنی بچے اب سو جاٶ ورنہ کل بہت تھکاوٹ رہے گی دولہن بن کر پھر روپ بھی نہی آۓ گا۔۔تو وہ دونوں سر ہلا کر

سونے کیلٸے چلی گٸ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌷بارات🌹🌹🌹🌹🌹🌹

لڑکیوں تم لوگ ابھی تک پارلر کیلٸے نہی نکلی۔۔ہانیہ کی کال آٸی وہ تپی بیٹھی ہے۔بشری نے اندر آکر کہا۔۔

بس ماما جا رہی ہم دونوں“عفیفہ نے کہا۔۔اور پھر سارا سامان گاڑی میں رکھوا کر وہ لوگ باہر نکل آٸیں۔۔پھر وہ سب کو خدا حافظ کہہ کر پارلر کیلٸے روانہ ہو گٸیں ۔۔۔۔

وہ پارلر پہنچیں تو ہانیہ ان پہ پھٹ پڑی۔۔

تم دونوں کتنی سست ہو“دو گھنٹوں سے آکر بیٹھی ہوں میں“ہانیہ تپ کر بولی۔۔۔

اچھا غصہ مت کر۔۔ورنہ چڑیل لگے گی تیار ہوکر“عفیفہ نے چھیڑا تو ہانیہ نے اسے کشن سے مارنا شروع کر دیا۔۔

ارے ارے“ظالم بھابھی ہو“عفیفہ نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔

جب میں بھابھی بنی نہ تو دیکھنا کیا کیا کرتی ہوں“ہانیہ نے کہا۔۔۔۔۔۔

تو کوٸی نہی میں پھر نند بن جاٶنگی“عفیفہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔

اچھا بس کریں آپ دونوں“سب لوگ سمجھ رہے ہونگے کہ سچ مچ لڑ رہی ہو“روشنی نے کہا۔۔۔

ہنی تجھے پتا روشنی کو پوری رات نیند نہی آٸی“عفیفہ نے شرارت سے کہا۔۔

کیا بات کر رہی ہو”مجھے تو لگا تھا بس احمد بھاٸی ہی خوشی سے سو نہی پا رہے“ہانیہ نے بھی مسکرا کر کہا۔۔

روشنی کا چہرہ شرم سے لال ہوگیا۔۔۔

آپ دونوں میری پولنگ کرنا بند کرو“وہ منہ پھلا کر بولی۔۔

اس کے منہ پھلانے پہ وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔

اچھا بس یار“اب تیار ہو لیں“عفیفہ نے ہنسی کنٹرول کرتے ہوۓ کہا تو پارلر والیاں جلدی سے تیار کرنے لگی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ عفاف کیوں نہی آیا“پتا بھی تھا کہ تیارہونا“سکندر نے جھلا کر کہا۔۔

آگیا ہوں میں“عفاف نے پاس آکر کہا۔۔۔

کتنے سست ہو تم خان مینشن والے۔ٹاٸم سے کہیں نہی پہنچتے۔۔سکندر تپا۔۔

اوکے اوکے“غصہ مت کر“ابھی بہت ٹاٸم ہے“عفاف نے کہا۔۔اور پھر شیروانی تبدیل کرنے ڈریسسنگ روم میں چلا گیا۔۔

سکندر اور احمد نے گولڈن شیروانی جسکے کف اور کالر پہ ریڈ کڑاھی ہوٸی تھی“پہن رکھی تھی۔۔

عفاف کی شیروانی میرون تھی جس پہ گولڈن کام تھا۔۔

وہ تینوں بہت ہینڈسم لگ رہے تھے۔۔

تیار ہوکر باہر آۓ تو وہی پہ سہرابندی ہوٸی۔اور آج ہما اور فیصل بھی شادی پہ آۓ تھے تو اسکے دونوں جڑواں بیٹے احمد اور سکندر کے شہہ بالے بنے تھے“اور نغمہ کا بیٹا عفاف کاشہہ بالا بنا تھا۔۔

دھوم دھڑاکے کے ساتھ بارات خیام ولا پہنچٕی۔۔

اور پھولوں کی پتیوں سے انکا استقبال کیا گیا۔۔پھر کچھ دیر بعد اجتماعی دعاکےبعد کھانا کھول دیا گیا۔۔

یار احمد بھاٸی میں بڑا اموشنل ہو رہا ہوں“پتا ہے ایک تو آپکی شادی کا کھانا“اور اوپر سے میری شادی کا کھانا بھی ہےیہ۔۔میرا تو سینہ خوشی سے پھول گیا ہے۔۔

بس ہوگٸ مسخریاں شروع“عفاف بڑبڑایا۔۔

سالے صاحب آج سے آپکی بہن پہ صرف میراحق ہو گا“اس بات کی بھی خوشی ہے“اب اسکے ساتھ جب چاہوں کہیں بھی جا سکتا ہوں۔۔سکندر نے جھوم کر کہا۔۔

تواس میں کیا بڑی بات ہے سب ہی کے ساتھ ایسا ہوتا“عفاف کے اطمینان بھرے انداز پہ سکندر جل گیا۔۔

پھر کچھ دیر بعد دولہنیں گھونگھٹ ڈالے باہر لاٸیں گٸ۔۔

عفیفہ اور روشنی نے ریڈ اور گولڈن لہنگا“اورہانیہ نے میرون “گولڈن لہنگا پہن رکھا تھا۔۔

وہ تینوں ساتھ آکر کھڑی ہوٸی تو ایسا لگا آسمان کے تین ادھورے چاند پورے ہو گٸے ہوں۔۔۔

پھر کچھ رسموں کے بعد انکی رخصتی ہو گٸ۔۔

عفیفہ روشنی خیام ولا کیطرف رخصت ہوٸی اور ہانیہ خان مینشن کیطرف رخصت ہو گٸ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ سر جھکاۓ گھونگھٹ ڈال کر بیٹھی تھی۔۔دروازہ کھلنے پہ وہ چونک کر دیکھنے لگی تو عفاف ہی تھا۔۔

عفاف چلتا ہوا اسکے سامنے آکر بیٹھا تو وہ سمٹ گٸ۔۔

تم ابھی بھی سمٹ رہی ہو“آج رات تو شرمانے کی نہی کچھ کر جانے کی رات ہے“عفاف کی معنی خیز بات پہ ہانیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گٸ۔۔

عفاف نے اسکا گھونگھٹ اٹھایا تو وہ نظریں جھکاۓ بیٹھی تھی۔

عفاف اسکے سامنے سے اٹھ کر اسکے ساتھ آکر بیٹھ گیا۔۔اور اسے پکڑ کر اپنے قریب کر لیا۔۔ہانیہ نے گھبرا کر اسکے سینے میں منہ چھپا لیا۔۔عفاف کے چہرے پہ مسکراہٹ تیرنے لگی۔۔اسکے ذہن میں شرارت سوجھنے لگی۔۔

ٹھیک ہے ہم آج کچھ نہی کرتے تم آج کچھ ان کفرٹیبل ہو تو اس لٸے آرام کرلو“عفاف اٹھتے ہوۓ بولا۔۔

نہی میں نے ایسا تو نہی کہا“وہ تڑپ کر اسکا ہاتھ تھام کر بولی۔۔

عفاف بےاختیارہنس دیا۔۔

مزاق کر رہا ہوں“تمہاری منہ دیکھاٸی لینے جا رہا ہوں“اور آج تو کچھ بھی ہو جاۓ اپنا حق تم پہ جتاٶں گا۔۔عفاف نے کہا۔۔

اور پھر منہ دیکھاٸی کا تحفہ دیکر عفاف نے اسے اپنی بانہوں میں لے لیا۔۔آج انہیں لگا کہ برسوں کی تڑپ کو جیسے قرار مل گیا ہو۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احمد روم میں داخل ہوا تو روشنی پری کے پاس بیٹھی تھی۔۔

وہ پری کے روم کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو روشنی چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔۔احمد محبت سے سینے پہ ہاتھ باندھ کر پورے حق سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔روشنی اسکی نظروں سے پزل ہو رہی تھی۔۔پھر روشنی پری کو لوری سنانے لگی۔۔کچھ دیر بعد پری گہری نیند میں سو گٸ تو اٹھ کر کھڑی ہو گٸ۔۔

احمد چلتا ہوا اسکے سامنے کھڑا ہوا اور اسکےدونوں ہاتھ پکڑ کر چومے۔۔

روشنی یہ کبھی مت سمجھٸے گا کہ میں نے پری کیلٸے شادی کی ہے۔بلکہ میں نے پہلی نظر میں جب آپکو دیکھا تھا تو فدا ہوگیا تھا۔۔آٸی رٸیلی لو یو“وہ ہولے سے اسکی کان کی لو کو لبوں سے چھوتا ہوا بولا۔۔روشنی کے چہرے پہ حیا کے رنگ چھا گٸے۔۔

پھراحمد نے اسے گود میں اٹھایا اور اپنے روم کیطرف بڑھ گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکندر روم میں داخل ہواتو ہکا بکا رہ گیا۔۔ کیونکہ عفیفہ پوز بنا بنا کر سلفیاں لے رہی تھی۔

سکندر اسکے پاس جاکر کھنکھارا تو اس نے ابرو اٹھا کر اسے دیکھا۔۔

پتا ہے مجھے آپ آٸیں ہیں”کھنکھار کر بتانے کی کیا ضرورت ہے“وہ اطمینان سے بولی۔۔

توبہ لڑکی”ابھی تم دو گھنٹوں کی دولہن ہو اور تمہاری حرکتیں دیکھو“مجھے لگا تھا کہ تم گھونگھٹ ڈال کر میرا انتظار کر رہی ہونگی۔سکندر نے صدمے سے کہا۔۔

میں کوٸی انیسویں صدی کی لڑکی نہی ہوں جو گھونگھٹ ڈالوں گی،وہ چبا چبا کر بولی۔

اچھا جی“ٹھیک ہے میں بھی اکیسویں صدی کا لڑکا ہوں“آج بتاٶں گا رومینس کیاہوتا ہے“سکندر نے اپنی شیروانی کے بٹن کھولتے ہوۓ اسکے پاس آکر کہا۔

مم“میں تو مزاق کر رہی تھی۔وہ گڑبڑا کر بولی۔۔

مگر میں بہت سیریٸس ہوں“سکندر نے کہا۔۔

پپ“پلیز “وہ آنکھیں میچ کر بولی۔۔

سکندر قہقہ لگا کر ہنس دیا۔۔وہ آنکھیں کھول کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔پھر غصے سے اسے گھورا۔۔

بات ہی نہی کرونگی آپ سے۔۔وہ بیڈ سے اترتے ہوۓ بولی۔۔۔

سکندر نے ایک جھٹکے سے اسے پکڑ کر کھینچا تو وہ اسکے اوپر آکر گر گٸ۔۔

سکندر نے اسے اپنے پہلو میں لٹایا اور ہولے سے اسکے کان میں رس گھولنے لگا۔۔

“سنو”

میرے ہمراہی۔۔۔

میرے دِل میں اترو ذرا ذرا

مجھے ہولے ہولے پیار دو

میری تشنگی کو بڑھاؤ پِھر

میری بے کلی کو قرار دو

مجھے حرف حرف سمیٹ لو

مجھے لفظ لفظ شمار دو

جو عمر بھر نہ اُتَر سکے

میری آنکھ کو وہ خمار دو

مجھے لکھ لو دِل کی کتاب پہ

میری روح خود میں اُتار دو

جو جئے مٹے تیرے نام پہ

مجھے ایسا شہر نگار دو

مجھے چن لو پھول سمجھ کے تم

نئی خوشبوؤں کا نکھار دو

آؤ پیار کے اِس کھیل میں

تم جیت جاؤ مجھے ہار دو…….!!

سکندر کے اس قدر خوبصورت اظہار پہ اس نے سرشار ہو کر اسے خود سپردگی دے دی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

💖💖💖ولیمہ💖💖💖

ولیمے کی تینوں جوڑیوں کرسٹل بال میں جب ہال میں داخل ہوٸی تو سب ان سورج “چاند جیسی جوڑیوں کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا۔۔

عفیفہ نے واٸٹ میکسی اور ہانیہ نے ٹی پنک اور ہانیہ نے گرے کلر کی میکسی پہن رکھی تھی“اور دولہوں نے پینٹ کورٹ پہنے تھے۔۔

وہ تینوں جوڑیاں ایک دوسرے میں اس قدر کھوٸی تھی کہ ارد گرد سے بھی انجان تھی۔۔

پھر کچھ وہ تینوں دولہنیں آپس میں باتیں کرنے لگی۔۔

ویسے یہ لڑکیاں ولیمے پہ باتیں کیا کرتی ہیں“سکندر نےپوچھا۔۔

پوچھ لینا اپنی بیوی سے“عفاف نےکہا۔۔

مار پڑواٶ گے کیا“سکندر نے کہا۔

کتنا ڈرتا ہے تو“عفاف نے تاسف سے سر ہلا کر کہا۔۔

ایسا کچھ نہی ہے“میں تو مزاق کر رہا تھا“سکندر نے کہا۔۔

اووو اچھا“چلو میں زرا عفیفہ کو بتا کر آتا ہوں کہ مسز ہمدانی کی بیٹی جو سامنے بیٹھی تیرا اس سے بھی چکر تھا“عفاف نے کہا۔۔

نن،نہی“میں تو مزاق کر رہا تھا“سکندر نے التجاٸیہ انداز میں کہا۔۔

احمد اور عفاف کا فلک شگاف قہقہ ہال میں گونجا۔

سب چونک کر انکو دیکھنے لگے۔اور وہ تینوں بھی حیرت سے دیکھ رہی تھی۔۔

ارے انہیں کیا ہوا“عفیفہ نے حیرت سے کہا۔۔

لگتا ایک دوسرے کی وااٹ لگا رہے ہیں“ہانیہ نے کہا۔۔

پھر تینوں بھی کھکھلا کر ہنس دی۔۔

مسز خیام اور بشری نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔

اللہ ہمارے بچوں کو سچا ہمراہی بناۓ۔۔بشری نے کہا۔۔۔

آمین“۔۔۔۔مسز خیام بولی۔

اور پھر وہ دونوں بھی مسکرا دی۔۔

💖💖💖ختم شد💖💖💖