📱 Download the mobile app free
Home > Mere Humrahi By Umme Emman Fatima NovelM80072 > Mere Humrahi (Episode - 21)
[favorite_button post_id="16354"]
50316 Views
Bookmark
On-going

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Humrahi (Episode - 21)

Mere Humrahi By Umme Emman Fatima

ہانیہ نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹا۔۔۔

“مجھ سے یہ سب نہی ہو رہا مجھے درد ہو رہا اس شخص سے پیارکا ناٹک کرتے ہوۓ“نجانے کیوں آج بھی وہ میرے دل پہ راج کرتا ہے “میں جب اسکے قریب جاتی تو خود گھاٸل ہو جاتی ہوں۔

وہ روتے ہوۓ خود سے مخاطب ہوٸی“پھر وہ کپڑے چینج کرکے باہر آٸی تو عفاف کافی کے مگ لیکر اندر داخل ہوا۔

ارے “تم اس ٹاٸم کیوں نہاٸی ہو“پتا ہے نہ اب رات کو موسم بدل جاتا “اوپر سے اے سی کے بغیر نیند نہی آنی محترمہ کو،عفاف نے اسے ڈپٹتے ہوۓ کہا۔۔۔

پھر ٹاول پکڑ کر اسکے بال سکھانے لگا“کیونکہ ہانیہ کو ہیٸر ڈرایٸر سے ڈر لگتا ہے۔۔۔

لو ہوگیا“ عفاف نے کہا اور پھر کافی کا مگ اسکی طرف بڑھایا۔۔

وہ کافی کا کپ لیکر ٹیرس پہ آ گٸ“عفاف بھی اسکے پیچھے پیچھے ٹیرس پہ آ گیا۔۔۔

وہ سپ لیتے ہوٸی سامنے دیکھ رہی تھی۔۔

کیا سوچ رہی ہو تم؟ عفاف نے اسے سوچ میں ڈوبے دیکھ کر پوچھا۔۔۔

نتھنگ“وہ ہولے سے بولی۔۔۔

ہمممممممم“چلو جلدی سے کافی ختم کرو اور سو جاٶ“صبح تمہیں کالج بھی جانا ہے“عفاف نے کہا۔۔

ہانیہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفیفہ گہری نیند میں ڈوبی تھی کہ اسکا موباٸل بجنے لگا اس نے ہاتھ سے ٹٹول کر موباٸل اٹھا کر کال اٹنڈ کی تو دوسری طرف سکندر کی آواز سناٸی دی“اس نے جلدی سے ٹاٸم دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے“

سو گٸ تھی کیا؟ سکندر نے پوچھا۔۔

نہی بانگڑا ڈال رہی ہوں“ڈفر اس ٹاٸم سوتے ہی ہیں“وہ تپ کر بولی۔۔۔

اوفففففف“اتنا غصہ“سکندر نے چھیڑا۔۔

ہاں “تو غصہ آۓ گا ہی سارا دن فون نہی کیا اور اب فون کر رہے آدھی رات کو“عفیفہ نے جھلا کر کہا۔۔۔

اووووہ“تو تم مجھے مس کر رہی تھی“سکندر نے مسکرا کر کہا۔۔

جی نہی“میں تو بس ایسے ہی کہہ رہی تھی،وہ دانت پیس کر بولی۔۔۔

ہاہاہاہا“ سکندر اسکے تپنے پہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔۔۔

میں فون بند کر دونگی“عفیفہ نے تپ کر کہا۔۔

اچھا“اچھا سوری“یار کتنی بار کوشش کی فون کرنے کی مگر ڈیڈ اور مام اس قدر ایکساٸیٹڈ تھے میری واپسی پہ کہ انہوں نے اب چھوڑا“سکندر کے فون نہ کرنے کیوجہ پہ اس نے اطمینان کا سانس لیا۔۔۔۔

ارے کیا ہوا؟ ایسے سانس کیوں لیا“ سکندر نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔۔۔

ایسے ہی“پتا ہے مجھے لگا آپ جاکر بھول گٸے ہیں“عفیفہ نے کہا۔۔۔

عفیفہ یہ سوچ بھی کیسے لیا تم نے کہ میں تمہیں بھول جاٶں گا بھلا کوٸی سانس لینا بھی بھولتا ہے“وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔

اسکی بات پہ عفیفہ کی تو سانسیں تھم گٸ۔۔

کیا ہوا ؟ چپ کیوں ہو گٸ“ سکندر نے پوچھا۔۔

وہ مجھے صبح یونیورسٹی ایڈمیشن کیلٸے جاناہے تو مجھے بہت نیند آ رہی ہے “گڈ ناٸٹ۔۔عفیفہ نے بات بدلتے ہوۓ کہا۔۔

اووووہ “اچھا “چلو ٹھیک ہے سو جاٶ تم “گڈ ناٸٹ“سکندر نے کہا۔۔۔

عفیفہ نے فون بند کرکے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرا۔۔اور پھر تکیے پہ سر رکھ کر آنکھیں موند لی“مگر اب نیند تو جیسے روٹھ گٸ تھی“اسکے اندر اضطراب پھیل گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ کالج سے باہر نکلی تو سامنے گاڑی کیساتھ ٹیک لگا کر کھڑے عفاف کو دیکھ کر چونکی۔۔پھر جلدی سے اسکی طرف بڑھی۔۔

آپ یہاں؟ اس نے عفاف کے پاس جا کر حیرت سے پوچھا۔

ہاں“ وعدہ کیا تھا کہ گول گپے کھلاٶں گا تو اپنی سارا کام جلدی سے ختم کرکے یہاں موجود ہو۔۔ مادام۔۔۔عفاف نے سینے پہ ہاتھ رکھ کر کہا۔

اوووہ“ میں تو بھول ہی گٸ تھی“ہانیہ نے سر پہ ہاتھ مارتے ہوۓ کہا۔۔۔

مگر میں نہی بھولا تھا“اور میں کبھی کچھ نہی بھولتا اور وعدہ تو خاص طور پہ نہی بھولتا“عفاف نے گاڑی کا ڈور کھولتے ہوۓ کہا۔۔

ہانیہ نے مسکرا کر سر ہلایا اور گاڑی میں بیٹھ گٸ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف نے گاڑی گول گپے کی ریڑھی کے سامنے روکی۔۔

ہنی“یہی کھاٶ گی یا باہر نکل کر “عفاف نے گاڑی سے نکلتے ہوۓ پوچھا۔۔۔

باہر ہی کھاٶں گی“ہانیہ کہہ کر گاڑی سے اتر کر باہر آگٸ۔۔۔

ریڑھی کے پاس جاکر عفاف نے اسے ایک پلیٹ گول گپے کی بنانے کو کہا۔۔اور خود جاکر بنچ پہ بیٹھ گے۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ آدمی گول گپے لے آیا۔۔۔

لو“ کھاٶ۔۔عفاف نے مسکرا کر کہا۔۔

ہانیہ نے گول گپہ منہ میں رکھا اور پھر دوسرا عفاف کے منہ میں ٹھونس دیا۔۔

توبہ “یار گول گپہ پورا منہ میں ڈالتے بندہ کتنا عجیب لگتا ہے“عفاف نے گول گپہ نگلتے ہوۓ کہا۔۔

بہانے مت بناٶ“ابھی یہ پلیٹ ختم ہوگی“پھر دوسری بھی منگوانی ہے۔۔

واٹ“عفاف نے چلا کر کہا“

شششش“سب دیکھ رہے ہیں“ہانیہ نے جلدی سے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔

عفاف نے نظریں گھما کر دیکھا تو سب لوگ انکی طرف ہی متوجہ تھے۔۔۔

یار ایسا تو ظلم مت کرو“عفاف نے کان پکڑ کر کہا۔۔

اچھا“ٹھیک ہے تو پھر مان لو کہ آپ ہار گٸے ہو“ہانیہ نے کندھے اچکا کر کہا۔۔

افففف“تو یہ بات ہے“عفاف نے کہا اور پھر گول گپے والے کو آواز دیکر دو پلیٹیں منگواٸی۔۔

پھر دونوں میں مقابلہ سٹارٹ ہوا وہ دو پلیٹیں ختم کرنے کے بعد مزید دو منگواٸی“سب لوگ دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔۔۔

بس ہنی“میں نے مزید کھایا تو یہی پہ بےہوش ہو جاٶں گا“عفاف نے ہار مانتے ہوۓ کہا۔۔

ہانیہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔عفاف نے اپنی نظر لگ جانے کے ڈر سے جلدی سے اپنی نظر پھیر لی۔۔۔

چلیں ،اب مجھے گھر چھوڑ دیں مجھے اپنی اساٸمنٹ کیمپلیٹ کرنی ہے“ہانیہ نے کہا“عفاف نے اثبات میں سر ہلایا۔۔

پھر دونوں گاڑی کیطرف چل پڑے۔۔۔

۔۔شام میں تیار رہنا شاپنگ کریں گے اور ڈنر کریں گے،عفاف نے کہا۔۔

ہانیہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفیفہ گھر پہنچی تو سامنے بیٹھے سکندر کو دیکھ کر چونکی۔۔

پھر سلام کرکے وہ جلدی سے کپڑے چینج کرنے چلی گٸ۔۔۔

کپڑے چینج کرکے وہ بشری کیساتھ آ کر تخت پہ بیٹھ گٸ۔۔۔

عفی بچے“جاٶ سکندر کیلٸے کھانے پینے کا انتظام کرو“بشری نے کہا۔۔۔

ارے نہی آنٹی“میں آج لیٹ اٹھا تھا تو ناشتہ ابھی کرکے آیا ہوں“سکندر نے جلدی سے کہا۔۔

پوری رات جاگنا تو پھر لیٹ ہی اٹھنا ہے،وہ بڑبڑاٸی۔۔

اسکی بات سکندر کے تیز کانوں تک پہنچ ہی گٸ“وہ بےاختیار مسکرا دیا۔۔۔

کیا خود ہی بڑبڑاۓ جا رہی ہو“جاٶ جاکر انار کا جوس بنا کر لاٶ“بشری نے کہا۔۔

وہ سر ہلا کر اٹھ کر کچن کیطرف بڑھ گٸ۔

اچھا“بیٹا تم بیٹھو میں نماز ادا کر لوں“بشری نے اٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔

سکندر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔

پھر بشری کے جانے کے بعد وہ اٹھ کر کچن کے دروازے پہ کھڑا ہوگیا۔اور دونوں ہاتھ سینے پہ باندھ کر دلچسپی سے اسے دہکھنے لگا..عفیفہ نے اسکی نظروں کی تپش سے جھلا اسے دیکھا۔

سکندر اسکے جھلانے پہ ہنس دیا۔۔۔

کیا مسٸلہ ہے آپکو“ وہ تپ کر بولی۔۔

کچھ بھی تو نہی“سکندر نے اپنے ہونٹوں پہ انگلی رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔

آپ نہ۔۔۔۔۔۔۔۔

عفیفہ۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ کہتی باہر سے بشری نے آواز آٸی۔۔

جی ماما“عفیفہ نے باہر نکلتے ہوۓ کہا۔۔

بچے فہمیدہ کپڑے دھو کر گٸ تھی اور دیکھو تیز آندھی آ گٸ “جلدی جاٶ کپڑے اتار لاٶ“بشری نے کہا۔۔

عفیفہ جلدی سے سیڑھیوں کیطرف دوڑی۔۔سکندر بھی اسکے پیچھے پیچھے چلا آیا۔۔

وہ تاروں سے جلدی جلدی کپڑے اتارنے لگی اور اسی اثنا میں بارش سٹارٹ ہوگٸ۔۔

سکندر بھی اسکے ساتھ کپڑے اتارنے لگا“دونوں نے کپڑے برآمدے میں رکھے“پھر عفیفہ چارپاٸی اٹھانے لگی تو سکندر نے جلدی سے دوسری طرف سے چارپاٸی پکڑ لی۔۔۔

میں اٹھاتا ہوں ،سکندر نے کہا۔۔

نہی میں خود ہی اٹھا لوں گی“عفیفہ نے جھلا کر کہا۔۔

وہ دونوں مکمل بھیگ چکے تھے“

سکندر پلیز “مجھے تنگ مت کریں“وہ تپ کر بولی۔۔

تم تنگ کر رہی ہو مجھے“وہ جھلا کر بولا۔۔

آپ تنگ کر رہے ہو مجھے،وہ بھی جھلا کر بولی۔۔

پھر وہ تیزی سے مڑی تو سکندر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا،وہ کٹی ہوٸی پتنگ کی مانند اسکی طرف کھینچتی چلی آٸی،عفیفہ کی تو اسکی قربت سے جان نکل گٸ۔۔

بارش کے قطرے اسکے شفاف چہرے پہ ہیرے کی مانند لگ رہے تھے۔۔سکندر مبہوت سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔پھر اسکے لرزتے ہونٹوں پہ ہولے سے اپنی انگلی پھیری“وہ تڑپ کر اس سے دور ہوکر کھڑی ہوگٸ“پھر وہ تیزی سے بھاگتی ہوۓ سیڑھیاں اترتی چلی گٸ۔۔۔

وہ کمرے میں جا کر زمین پہ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔

پھر بشری کی آواز پہ وہ آنسو صاف کرتی باہر نکل کر آٸی۔۔۔

جی ماما“اس نے بشری کے پاس آکر کہا۔۔

سکندر بیٹے کو ٹاول دو“بشری کے کہنے پہ وہ جلدی سے واپس مڑی اور ٹاول لا کر سکندر کو دیا۔۔

سکندر کی چھینکیں سٹارٹ ہو چکی تھی“بشری نے تشویش بھرے انداز میں اسے دیکھا۔۔

عفی بچے “جاٶ جاکر ادرک والی چاۓ بنا کر لاٶ“بشری نے کہا۔۔

عفیفہ سر ہلا کر چاۓ بنانے چلی گٸ۔۔

پھر سکندر چاۓ پی کر ہوٹل کیلٸے نکل گیا“

عفیفہ کے دل کی دھڑکن ابھی تک نارمل نہی ہوٸی تھی“اسکا پوراوجود ابھی تک زلزلوں کی زد میں تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکندر آفس میں آکر گرنے والے انداز راکنگ چیٸر پہ بیٹھ گیا۔۔۔

اوففففف“سکندر یہ کیا کیا تم نے“کیا سوچتی ہو گی وہ تیرے بارے میں“اس نے جھلا کر سوچا۔۔۔

پھر بمشکل اس نے دن گزارہ اور رات کو گھر آکر سیدھا اپنے روم کیطرف بڑھ گیا۔۔۔

اسکا دل بہت بے چین تھا“وہ کپڑے چینج کرکے اپنا لیپ ٹاپ کھول کر عفیفہ کی پیکچرز والا فولڈر کھول کر بیٹھ گیا“

پھر پیکچر دیکھتے دیکھتے نجانے کتنا وقت بیت گیا۔۔

اس نے کٸی بار موباٸل اٹھا کر میسیج ٹاٸپ کیا مگر پھر بنا سینڈ کٸے ڈلیٹ کرتا جارہاتھا۔۔

پھر بےچین ہوکر وہ اٹھ کر کھڑکی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔۔۔

وہ کھڑا چاند کو دیکھ رہا تھا کہ میسیج ٹون بجی ۔۔

وہ تیزی سے موباٸل کی طرف لپکا اور دھڑکتے دل سے میسیج دیکھا تو عفیفہ کا میسیج دیکھ کر اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوگٸ۔اس نے جلدی سے میسیج کھولا۔۔۔

کیسی طبیعت آپکی“عفیفہ نے پوچھا۔۔۔

سکندر نے جلدی سے کال ملاٸی“جو دوسری طرف سے جلد ہی پک کر لی گٸ۔۔

ہاۓ“سکندر نے ہولے سے کہا۔۔

ہاۓ“سکندر کیسی طبیعت آپکی؟ عفیفہ نے بیتابی سے پوچھا۔۔۔

بہت خراب ہے یار“ناک بہہ رہی ہے اور چسٹ میں بھی پین ہو رہا ہے،سکندر نے کہا۔۔

اوووہ“پلیز آپ نا میڈیسن لے لیں“اور ٹھنڈا پانی بھی مت پینا اور اے سی بھی آن کرکے مت سونا“عفیفہ نے کہا۔۔

اسکا اتنا فکر کرنا سکندر کو سرشار کر گیا تھا۔۔

جی ٹھیک ہے“اور کچھ مادام“سکندر نے مسکرا کر کہا۔۔

نہی کچھ نہی“وہ ہولے سے بولی۔۔۔

عفیفہ “ایم سوری نجانے کیا ہوگیا تھا مجھے“جو ایسی حرکت کردی“بہت شرمندہ ہوں“وہ جلدی سے بولا۔۔

کوٸی بات نہی سکندر “آپ پریشان مت ہوں“میرے دل میں آپکے لٸے کوٸی شکوہ نہی“وہ دھیمے لہجے میں بولی۔۔

تھینکس ،سکندر نے کہا۔۔

اوکے “میں سونے لگی ہوں“آپ بھی میڈیسن لیکر سو جاٸیں“پھر عفیفہ نے گڈ ناٸٹ بول کر فون بند کر دیا۔۔۔

سکندر آسودہ انداز میں مسکرا دیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف اور ہانیہ شاپنگ مال سے شاپنگ کرکے اب ڈنرکیلٸے ایک ریسٹورنٹ میں آۓ تھے۔۔

پھر مینیو کارڈ سے دیکھ کر انہوں نے کھانا آرڈر کیا۔۔۔

کھانا کھا کر وہ باہر نکلے اور ریسٹورنٹ کے گارڈن میں چہل قدمی کرنے لگے۔۔

تم ٹھہرو یہاں پہ اور میں زرا آٸس کریم لاتا ہوں“عفاف کہہ کر آٸس کریم لینے چلا گیا۔۔

وہ اپنے دھیان میں چل رہی تھی کہ سامنے سے آتے آدمی سے ٹکڑا کر گرتے گرتے بچی۔۔اور اسکا ڈوپٹہ نیچے گر گیا

دیکھ کر نہی چل سکتے کیا“ ہانیہ نے اپنا ڈوپٹہ اٹھا کر غصے سے کہا۔۔

تو میرے کو سیکھاۓ گی کیسے چلنا ہے،وہ آدمی نے اسکا بازو دبوچ کر کہا۔

ہانیہ کا تو اس شخص کا حلیہ دیکھ کر ہی رنگ فق ہو گیا تھا۔۔

اسکی بڑھی ہوٸی داڑھی اور بڑی بڑی موچھیں اور لہو رنگ آنکھیں جن سے وحشت ٹپک رہی تھی“وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی“اس آدمی نے پھر سے اسے کھینچ کر قریب کیا“اور ہانیہ کو بازو میں شدید درد محسوس ہوا“اسکی دلخراش چیخ نکلی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف آٸس کریم لیکر واپس آ رہا تھا اسے ایک طرف لوگوں کا ہجوم نظر آیا۔۔۔

یہ یہاں کیا ہو رہا ہے“عفاف بڑبڑایا۔۔۔

وہ سر جھٹک کر ہانیہ کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگا تو اچانک ہجوم میں سے ہانیہ کی دلخراش چیخ سے وہ ایک جھٹکے سے مڑا وہ تیزی سے بھاگتا ہوا ہجوم کو چیڑتا ہوا پہنچا۔۔تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکی جان نکل گٸ۔۔ایک آدمی اسکو بازو سے پکڑے اس پہ چلا رہا تھا“اور وہ زرد رنگ کیساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

اےےےےےے، عفاف پوری قوت سے چلا کر اس آدمی کیطرف بڑھا اور اسے ایک جھٹکے سے پکڑ کر پیچھے دکھیل کر اسکے منہ پہ پے درپے تھپڑوں کی برسات کر دی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ زرد چہرے کے ساتھ عفاف اور اس آدمی کو گتھم گتھا دیکھ رہی تھی۔۔

عفاف نے اسکا حشر نشر کر دیا تھا اور خود اسکے بھی ماتھے اور ہونٹوں سے خون بہہ رہا تھا۔۔

تھوڑی دیر میں پولیس پہنچ گٸ تھی۔۔

چل “کمینے ۔۔تجھے چار دنوں سے تلاش کر رہے تھے“ایک پولیس والے نے اس آدمی کو کالر سے پکڑ کر کہا۔اور پھر اسکو گھسیٹتے ہوۓ لے گٸے۔

عفاف جلدی سے ہانیہ کیطرف بڑھا“وہ گم صم سی کھڑی تھی۔۔۔

ہنی“آر یو اوکے میری جان“وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیکر بولا۔۔

وہ زور سے چونکی پھر اسکے سینے کیساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔عفاف کتنی دیر اسکو ساتھ لگاۓ کھڑا رہا۔۔

ہنی“بس کروں نہ یار“سب دیکھ رہے ہیں“عفاف نے کہا۔۔

اس نے آہستگی سے اس سے الگ ہوکر ارد گرد دیکھا تو سب لوگ دلچسپی سے انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔۔

اس نے ہڑبڑا کر عفاف کو دیکھا۔۔عفاف اسکی حالت پہ مسکرا دیا۔۔۔

چلیں“عفاف نے پوچھا۔۔۔

ہانیہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔اور پھر دونوں گاڑی کیطرف بڑھ گٸے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفیفہ یونیورسٹی سے نکلی تو سامنے کھڑی سکندر کی گاڑی دیکھ کر چونکی۔۔۔وہ تیزی سے گاڑی کیطرف طرف بڑھی۔۔

وہ گاڑی کے پاس پہنچے تو سکندر نے جلدی سے گاڑی کا ڈور اوپن کیا اور وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گٸ۔۔

آپ یہاں؟ خیریت تھی“عفیفہ نے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں بس سوچا آج لنچ تمہارے ساتھ کیاجاۓ“سکندر نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

اووووہ اچھا“ عفیفہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔

پھر وہ لوگ ایک ریسٹورنث میں پہنچے اور ایک ٹیبل پہ جاکر بیٹھ گٸے۔۔۔

کیا لو گی“سکندر نے پوچھا۔۔۔

جو چاہیں آرڈر کر دیں “میں تو سب کچھ کھا لیتی ہوں۔عفیفہ نے مسکرا کر کہا۔۔سکندر نے سر ہلا کر ویٹر کو آواز دی اور پھر اسے آرڈر بتانے لگا۔۔۔

یونیورسٹی میں سب ٹھیک چل رہا ہے کیا؟ سکندر نے آرڈر دینے کے بعد عفیفہ سے پوچھا۔۔

سب ٹھیک ہے“آپ بتاٶ“انکل جی کو اب تو اعتراض نہی آپکے شوبز پہ۔عفیفہ نے پوچھا۔۔۔

نہ بالکل نہی“بلکہ وہ تو بےچینی سے میری مووی ریلیز ہونے کا انتظار کر رہے ہیں،سکندر نے مسکرا کر کہا۔۔۔

اوووہ واٶ“یہ تو بہت خوشی کی بات ہے“عفیفہ نے مسکرا کرکہا۔۔

وہ باتیں کر ہی رہی تھی کہ ویٹر انکا آرڈر لیکر آ گیا“

پھر لنچ کے بعد سکندر نے اسے شاپنگ کیلٸے کہا تو اس نے ماما انتظار کر رہی ہونگی“کہہ کر انکار کر دیا۔۔

سکندر نے بشری کو فون ملا کر ان سے اجازت لیکر اسے اپنے ساتھ شاپنگ کیلٸے گھسیٹ لیا۔۔

وہ لوگ شاپنگ مال پہنچے اور سکندر نے کچھ شرٹس ٹراٸی کی“

اور شرٹس پہن پہن کر عفیفہ کو دیکھاٸی“عفیفہ نے اسکے لٸے کچھ شرٹس سلیکٹ کی”

پھر سکندر اسے لیکر جیولری شاپ کیطرف آیا“اور زبردستی اسے پاٸل دلواٸی“جب اس نے بل پہ پاٸل کی قیمت دیکھی تو اسکی آنکھیں پھیل گٸ۔۔کیونکہ پاٸل کا جوڑا اسی ہزار کا تھا“

مجھے نہی چاہیے“بالکل پسند نہی آٸی،وہ جلدی سے بولی۔

تو پھر جو پسند ہیں وہ دیکھ لو“سکندر نے کہا۔۔

پلیز سکندر یہاں سے نہی“بہت مہنگا ہے یہاں سب کچھ“عفیفہ اسکے کان میں بڑبڑاٸی“

سکندر نے غصے سے اسے دیکھا۔

پھر پاٸل کے پیسے دیکر اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر لے آیا۔۔۔

سکندر پلیز“یہ کیا کر رہے ہو آپ“وہ جھلا کر بولی۔۔

تم کیا کر رہی ہو یار“تم مجھے اپنا کچھ نہی سمجھتی اس لٸے یہ قیمتیں بیچ میں لا رہی ہو،وہ تپ کر بولا۔۔۔

نہی سکندر ایسی بات نہیں ہے“وہ جلدی سے بولی۔۔

تو ٹھیک ہے یہ پھر ابھی پہنو “سکندر نے منہ پھلا کر کہا۔۔۔

اوکے “اوکے“پہنتی ہوں“ہانیہ نے کہا اور پھر بیٹھنے کی جگہ تلاش کرنے لگی۔۔۔

سکندر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور عفیفہ کا پاٶں اپنے گھٹنے پہ رکھ کر پاٸل پہنانے لگا۔۔۔

واٶ“بہت پیاری لگ رہی تمہارے پاٶں میں یہ پاٸل“سکندر نے تحسین بھرے انداز میں کہا۔۔۔

عفیفہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گٸ۔۔۔

اسی اثنا میں سکندر کے ڈیڈ کا فون آ گیا اور انہوں نے اسے میٹنگ کیلٸے بلوایا۔۔۔

پھر سکندر نے اسے گھر کے باہر چھوڑا اور واپس ہو لیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہانیہ نے اٹھ کر کالج جانے کی تیاری کی“اور ایک نظر بیڈ پہ سوۓ عفاف پہ ڈالی“اسکے ماتھے پہ پٹی بندھی تھی۔۔۔اس نے ہولے سےاسکے ماتھے کو چھوا،تو عفاف کسمسایا“وہ جلدی سے پیچھے ہٹ گٸ۔۔پھر تیار ہوکر وہ نیچے ڈاٸیننگ ٹیبل پہ آٸی تو آج وہاں پہ فرحان خان اور جواد پہلے سے موجود تھے“وہ انکو سلام کرکے کرسی کھینچ کر بیٹھ گٸ۔۔

رات کو کیا ہوا تھا“ڈاکٹر آیا تھا“فرحان خان نے پوچھا۔۔

عفیفہ نے ساری تفصیل بتاٸی۔۔۔

اووووہ،اچھا“فرحان خان نے سر ہلا کر کہا۔۔۔

ویسے عفاف کیساتھ پیار کا ناٹک کرتے کرتے پھر سے اپنے پیار کو زندہ مت کر لینا“کیونکہ رات اسکی تکلیف پہ آنسو بہاتے دیکھ چکا ہوں،فرحان خان کے کاٹ دار لہجے پہ ہانیہ کے چہرے پہ ایک سایہ سا لہرایا۔۔۔

فکرمت کریں“میں اپنا مقصد نہی بھولی“وہ تلخ لہجے میں کہہ کر بیگ اٹھا کر کالج کیلٸے نکل گٸ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف کی آنکھ کھلی تو اس نے موباٸل پہ ٹاٸم دیکھا تو نوبج رہے تھے“وہ جلدی سے تیار ہوکر اپنا لیپ ٹاپ بیگ پکڑ کر ساڑھے نو بجے تک آفس پہنچ گیا تھا“اور سیدھا میٹنگ روم کیطرف ہی گیا اور پھر میٹنگ سے فارغ ہوکر اس نے کافی منگوا کر پی۔۔اور پھر آفس کے کام میں مصروف ہو گیا۔۔۔

کام سے فارغ ہوکر اس نے لنچ کرنے کا ارادہ کیا اور آفس سے باہر نکل کر ہانیہ کے کالج پہنچا،وہ ڈراٸیور کیساتھ جانے والی تھی مگر عفاف کی گاڑی دیکھ کر رک گٸ“

عفاف اسے لیکر گھر پہنچا“۔۔۔

ہانیہ کپڑے چینج کرنے چلی گٸ تو عفاف کچن کیطرف آ گیا“اس نے پاستا بنایا تب تک ہانیہ کپڑے چینج کر کے آ گٸ تھی۔۔

یہ کیا کر رہے ہو؟ ہانیہ نے پاس آ کر پوچھا۔۔۔۔

تمہارے لٸے تمہارا فیورٹ پاستا بنا رہا ہوں“عفاف نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

اووووہ “واااٶ” ۔۔۔جلدی کریں مجھے بہت بھوک لگی ہے۔وہ شوخ لہجے میں بولی۔۔

بس ابھی لایا ”جاٶ تم بیٹھو “اور یہ جوس پیو“عفاف نے انار کا جوس کا گلاس اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔۔

وہ گلاس لیکر شیلف پہ ہی بیٹھ کر سپ لیتے ہوۓ ساتھ ساتھ عفاف کو بھی دیکھے جا رہی تھی۔۔۔

جب تک اس نے جوس ختم کیا تب تک پاستا بھی تیار ہو گیا تھا“

عفاف پاستا لیکر ڈاٸیننگ ٹیبل کیطرف بڑھا“ہانیہ بھی اسکے پیچھے پیچھے چلی آٸی اور جلدی سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گٸ۔۔۔

عفاف نے اسے پاستا ڈال کے دیا۔۔۔

ہانیہ نے پلیٹ اپنی طرف کرکے پہلا چمچ منہ میں ڈالا تو اسے اپنی مام کی یاد آ گٸ“آنسو تیزی سے اسکے گال بھگونے لگے۔۔

کیسا لگا ہنی؟ عفاف نے اپنے دھیان میں پوچھا۔۔۔

بہت اچھا ہے“وہ بھیگے لہجے سے بولی۔۔۔

عفاف نے اسکے بھیگے لہجے پہ نظریں اٹھا کر دیکھا۔۔تو اسے روتا دیکھ کر چونک گیا۔۔

ہنی “میری جان کیا ہوا ؟ رو کیوں رہی ہو“عفاف جلدی سے پاس آکر بولا۔۔۔

کچھ نہی،وہ آنسو صاف کرتے ہوٸے بولی۔

ادھر دیکھو “عفاف نے اسکا چہرہ اپنی طرف موڑتے ہوۓ کہا۔۔۔

ہانیہ نے اسکی طرف رخ کیا مگر نظریں ابھی بھی جھکی تھی۔

بتاٶ نہ کیوں رو رہی ؟ ۔۔عفاف نے اپنی انگلی کے پوروں سے اسکے آنسو صاف کرتے ہوۓ پوچھا۔

مام کی یاد آ گٸ تھی“وہ ایسا ہی پاستا بناتی تھی“وہ نم لہجے سے بولی۔۔۔

اوووہ “میری جان تم نے تو میری جان نکال لی تھی“ عفاف نے گہرا سانس بھر کر کہا“اور پھر اسے اپنے ہاتھوں سے کھلانے لگا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفیفہ کا دل آج جیسے عجیب طرح سے ہی دھڑک رہا تھا اس کی آنکھیں ایسے چمک رہی تھی جیسے آنکھوں میں ہزاروں جگنو جھلملا رہے ہوں“وہ مسکرا کر سکندر کو اللہ حافظ کہہ کر اندر داخل ہوٸی تو اندر بیٹھے ہما وغیرہ کو دیکھ کر اسکی جیسے آنکھوں کی جوت ہی بجھ گٸ تھی“دل میں جیسے درد سا اٹھا تھا“وہ جہاں تہاں کھڑی کی کھڑی رہ گٸ تھی۔۔۔

ہما جلدی سے اٹھ کر پاس آٸی ۔۔۔۔

اوووہ ماٸی پیاری ہونے والی بھابھی جان“کیسی ہیں آپ؟ ہما نے چہک کر کہا۔۔

ایم فاٸن “وہ ہولے سے بولی۔اور پھر اس نے پاس آ کر سب سے سلام کیا۔ناذیہ نے اٹھ کر محبت سے اسکا ماتھا چوما۔۔۔

عمیر نے محض ایک نظر دیکھا اور پھر اپنے موباٸل میں مصروف ہوگیا۔۔عفیفہ نے تو نظریں اٹھا کر بھی نہی دیکھا تھا“

اسے تو اس بات کی جلدی تھی کہ وہ یہاں سے جلدی سے بھاگ جاۓ“اسکو عجیب سی گھٹن ہو رہی تھی“

میں کچھ کھانے کا انتظام کر لوں“وہ بہانا بنا کر اٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

نہی اسکی ضرورت نہی ہے“میں ڈاٸیٹنگ کرتا ہوں اور کسی کے ہاتھ کا کھانا نہی کھاتا“اپنے ہاتھ سے ہیلدی فوڈ بنا کر کھاتا ہوں“عمیر نخوت بھرے انداز میں بولا۔۔۔

عفیفہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا“سانولی رنگت“اور کشادہ پیشانی اور پنکھے کی ہوا سے اسکے ماتھے کو بال چوم رہے تھے“اور کافی سمارٹ اور پرکششش تھا“ایک نظر دیکھ کر دوسری ڈالنے کو دل کرتا تھا“مگر عفیفہ کو اس میں ان سب سے زیادہ جو اس میں نظر آیا وہ اسکا غرور تھا“

بھیا“آپ عفیفہ کے ہاتھ کی چاۓ ہی پی لو“بہت مزے کی بناتی ہے“ہما نے مسکرا کر کہا۔۔۔

نہی میں کسی کے ہاتھ کی چاۓ تو بالکل نہی پی سکتا“وہ جلدی سے بولا۔۔

اٹس اوکے “کوٸی بات نہی میں ہما اور آنٹی کیلٸے بنا لیتی ہوں“عفیفہ نے کہا۔۔۔

نہی بیٹا اب ہم چلتے ہیں“وہ عمیر کو کسی سے ملنے بھی جانا ہے“ناذیہ نے اٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

ان لوگوں کے جانے کے بعد عفیفہ بوجھل دل کیساتھ اپنے روم میں چلی گٸ تھی“اور بیڈ پہ بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف“۔۔۔۔ہانیہ نے کام میں مصروف عفاف کو پکارا۔۔۔

جی جان عفاف“ عفاف نے سر اٹھا کر کہا۔۔

رات کو میری فرینڈ کی شادی ہے تو میں چلی جاٶں کیا“وہ جلدی سے بولی۔

عفاف نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا“پھر اٹھ کر اسکے پاس چلا آیا۔اور اسکے ہاتھ تھام کر چومے۔۔۔

جان عفاف“ضرور جاٶ“اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتانا۔۔عفاف نے مسکرا کر کہا۔۔۔

وہ ہاتھ چھڑوا کر جلدی سے باہر نکل گٸ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عفاف آج آفس سے کافی لیٹ ہوگیا تھا۔وہ کمرے میں آکر گرنے والے انداز میں صوفے پہ بیٹھا“پھر ٹاٸی کی ناٹ ڈھیلی کرکے اس نے صوفے کی پشت پہ سر ٹکا کر آنکھیں موند لی۔۔

ہانیہ ڈریسنگ روم سے باہر آٸی تو عفاف کو دیکھ کر چونکی۔۔

آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے“ہانیہ نے پوچھا۔۔

ہوووووں“بس زرا سر میں درد ہے“وہ سر مسلتےہوۓ بولا۔۔۔

اوووووہ“چاۓ بنوا دوں“ہانیہ نے پوچھا۔۔۔

ہاں بنوا دو مگر پلیز میرا سر بھی دبا دو“وہ ہولے سے بولا

ہانیہ اسکے پاس بیٹھ کر اسکا سر دبانے لگی“اس کے ہاتھ کی چوڑیأں کھنک رہی تھی“عفاف نے اسکا ہاتھ تھام لیا اور پھر چونک کر آنکھیں کھولی تو ہانیہ کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا۔۔

اس نے بلیک کلر کی ساڑھی پہنی تھی“اور بالوں کا جوڑا بناۓ ہوۓ تھی“اور ریڈ کلر کی لپ اسثک اسکے گورے رنگ پہ بہت سوٹ کی تھی۔۔۔عفاف کو تو لگا جیسے اسکی سانسیں تھم گٸ ہیں۔۔

ماشاءاللہ“بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔ وہ ہولے سے اسکا گال چھو کر بولا۔۔۔ہانیہ نے دیکھا کہ اسکی آنکھوں میں ایک مقناطیسی چمک دیکھی۔۔

ہانیہ نے جلدی سے نظریں پھیر لی اور اٹھ کر جانے لگی۔۔تو عفاف نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس بیٹھایا۔۔۔

عفاف مجھے لیٹ ہورہا“وہ اسکی نظروں کی تپش سے گھبرا کر بولی۔

جانا ضروری ہے کیا؟ وہ اپنے لبوں سے اسکے رخسار کو چومتے ہوۓ بولا۔۔ہانیہ کو ایسا لگا اسکے رخسار پہ کوٸی جلتا انگارہ رکھ دیا ہو“وہ تڑپ کر اٹھی۔۔۔

آآ“آپ ہوش میں نہی ہے“وہ پیچھے ہٹتے ہوۓ بولی۔۔عفاف بھی اٹھ کر اسکے قریب آنے لگا تو وہ الٹے پاٶں پیچھے جانے لگی“اور ڈریسنگ ٹیبل کیساتھ اسکی پیٹھ لگ گٸ،عفاف نے ڈریسنگ کی دونوں ساٸیڈوں پہ ہاتھ رکھ کر اسکا راستہ روکا۔۔۔۔۔

کیا کہا تھا ابھی کہ میں ہوش میں نہی ہوں“تو میری جان اس قدر ہوشربا حسن سے مجھے مدہوش کرکے خود ہی کہہ رہی کہ ہوش میں نہی ہوں“اس قاتل حسن کے سامنے عفاف خان آج خود کو گھاٸل محسوس کر رہا ہے۔۔۔وہ مسحورکن انداز میں بولا۔۔۔

ہانیہ کو اسکی گرم سانسوں سے اپنا چہرہ جلتا محسوس ہوا۔۔۔

پپپپ“پلیز عفاف“ وہ ہکلا کر بولی۔۔

عفاف نے مزید نہ پریشان کرتے ہوۓ اسے جانے کا راستہ دیا۔۔

وہ تیزی سے نکلنے لگی تو پھر عفاف نے اسکا بازو تھام لیا اور پھر اسکے قریب آکر پیچھے سے اسکے گرد اپنے بازٶوں سے حصار بنایا“

میں اپنے اور تمہارے رشتے کو آگے بڑھانا چاہتا ہوں“جلدی واپس آنا میں تمہارا ویٹ کرونگا“وہ اسکے کان کی لو کو لبوں سےچھوتے ہوۓ بولا۔۔۔ہانیہ نے اسکی بات پہ کرب سے آنکھیں بند کر لی۔۔۔۔