Mere Humrahi By Umme Emman Fatima NovelM80072 Mere Humrahi (Episode - 9)
Mere Humrahi (Episode - 9)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Mere Humrahi By Umme Emman Fatima
عفیفہ بیٹے بارات آگٸ ہے“یہ پھولوں کی مالا فیصل کے منہ بولے بھاٸیوں کو آپ پہناۓ گی“ہما کی ماما نے پاس آکر کہا۔۔۔عفیفہ پھولوں کی مالاٸیں لیکر آگے بڑھی،اس نے پہلے احمد کے گلے میں مالا ڈالی پھر وہ سکندر کیطرف بڑھی“اور اسکے گلے میں مالا ڈالی۔سکندر ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جارہا تھا ۔۔
وہ اسکی نظروں سے پزل ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔۔
سکندر بےاختیار مسکرا دیا۔۔
فیصل بھاٸی جلدی سے جیب ہلکی کریں“ورنہ اندر نہی جانے دیا جاۓ گا۔۔عفیفہ نے شرارتی انداز میں کہا۔۔
فیصل نے بٹوا نکالا“اور پانج ہزار کے دو نوٹ نکال کے دٸیے۔۔
سوری بھیا“یہ تو بہت تھوڑے ہیں“عفیفہ نے کہا۔۔
ارے واہ“تم نے کبھی پانچ ہزار کا نوٹ دیکھا بھی ہے“ٹیپیکل مڈل کلاس لوگ ہو“اور منگتوں کیطرح پیسے مانگنے آ جاتے ہیں“شہرین نے نفرت بھرے انداز میں کہا۔۔عفیفہ کا رنگ اپنی اہانت پہ سرخ ہوگیا۔۔
بھابھی آپ تو ہاٸی کلاس کی ہیں مگر گفتگو آپکی تھرڈ کلاس جیسی ہے،آپ کو یہ بات کا خیال ہونا چاہیے کہ آپ کس خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔سکندر نے ناگواری سے کہا۔
تم بہت ساٸیڈ لے رہے ہو،اس گھٹیا عورت نے تمہیں بھی اشارے پہ نچانا شروع کردیا۔شہرین نے زہر اگلا۔۔۔
شٹ اپ شہرین“مسز خیام نے سخت میں کہا۔
کس طرح کی زبان استعمال کررہی ہیں آپ”ہمیں سب کے سامنے شرمندہ کرنا بند کریں“خیام صاحب نے ناگواری سے کہا۔۔
پھر انہوں نے مسز خیام کو اشارہ کیا ..وہ آگے بڑھی“انہوں نے ایک باکس عفیفہ کیطرف بڑھایا۔۔۔
عفیفہ نے تذبذب اندازمیں دیکھا،
پکڑیں نہ بیٹا جی“مسز خیام نے کہا۔۔
آنٹی جی یہ کیا ہے“عفیفہ نے آہستگی سے پوچھا۔۔
بچے میرے بڑے بیٹے احمد کی جب شادی ہوٸی تھی تو ہمارے ہاں رسم ہے بیٹے کی سالی کو گفٹ دیا جاتا ہےتو ہم نے احمد کی سالی کو بھی دیا تھا“اور آپ بھی فیصل کی سالی ہی ہیں“اور پھر فیصل ہمارا بیٹا بنا ہے تو یہ آپکا حق ہے۔۔مسز خیام نے کہا۔۔
نہی آنٹی میں نہی لے سکتی“عفیفہ نے کہا۔۔
تو آپ ہمیں اپنا نہی سمجھتی“مسز خیام نے کہا۔
نہی آنٹی جی ایسی بات نہی ہے،وہ جلدی سے بولی“۔۔
تو پھر آپ کو یہ رکھنا پڑے گا،اور میں شہرین کیطرف سے معافی مانگتی ہوں آپ سے“مسز خیام نے کہا۔۔
نہی نہی آنٹی ایسامت کہیں“ آپ بڑی ہیں میری“عفیفہ نے جلدی سے کہا“۔۔۔
مسز خیام اسکی بات میں نہال ہوگٸی۔۔
جیتے رہیں“انہوں نے کہا۔۔
تھینکس آنٹی جی“آٸیے اندر“اس نے راستہ چھوڑتے ہوۓ کہا۔۔
پھر وہ ان سب کو بیٹھا کر وہاں سے چل دی۔۔۔
سکندر اسکے پیچھے چل پڑا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہیں کچھ چاہیے ہما ،اس نے ہما کے پاس آکر پوچھا“
نہی “پلیز تم میرے پاس سے مت جاٶ،اس نے کہا۔
ہما میری جان”مجھے باہر آنٹی کیساتھ سب دیکھنا پڑ رہا ہے۔تو میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد آتی رہوں گی۔۔عفیفہ نے کہا۔
اچھا“اب تو بیٹھو تھوڑی دیر“اس نے کہا۔
عفیفہ اسکے ساتھ بیٹھ گٸ۔۔
یہ کیا ہے“اس نے عفیفہ کی گود میں رکھے باکس کے بارے میں پوچھا۔۔
یہ فیصل بھاٸی کی سالی صاحبہ ہونے کا تحفہ ہے میرے لٸے“عفیفہ نے کہا۔۔
کیا ہے اسکے اندر؟ ہما نے پوچھا۔۔
پتا نہی دیکھا نہی ہے“اس نے لاپرواہی سے جواب دیا۔۔
کھول نہ“ ہما نے کہا۔۔
عفیفہ نے کھولا،تو بہت ہی خوبصورت واٸٹ پرل اور سٹونز کا بہت ہی خوبصورت گلوبند تھا“
واٶ”ہما نے ستاٸشی لہجے میں کہا۔۔
یہ تو بہت ایکپنسیو ہے“عفیفہ نے گھبرا کر کہا۔
جانی تم سے زیادہ نہی”اور کل تم نے اپنے واٸٹ ڈریس کیساتھ پہننا“بسس“ اس نے محبت سے کہا“
اچھا “پہن لوں گی“اس نے کہا۔۔
تھینکس“ہما نے کہا۔۔
میں آتی ہوں،عفیفہ نے کہا۔اور باہر نکل گٸ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر عفیفہ کو ڈھونڈ رہا تھا“مگر راستے میں اسکے ملنے والے بہت تھے“وہ بمشکل اپنا پیچھا چھڑوا کر براٸیڈل روم کیطرف چل پڑا،وہ کوریڈور میں پہنچھا تو سامنے سے عفیفہ آتی دیکھاٸی دی“وہ اپنے دھیان میں چلی آرہی تھی،سکندر تو اسے دیکھ کر ہی حواس کھو گیا تھا،دونوں ایک دوسرے سے ٹکراۓ“اس سے پہلے وہ گرتی“سکندر نے اسے اپنے بازٶوں میں تھام لیا“عفیفہ نے زور سے آنکھیں میچ لی“مگر جب محسوس ہوا کہ وہ بچ گٸ تو اس نے آنکھیں کھولی“تو سکندر کی بانہوں میں دیکھ کر وہ جلدی سے سیدھی ہوٸی“۔
کیسی ہیں آپ؟ سکندر نے پوچھا۔
ایم فاٸن“عفیفہ نے کہا اور جانے لگی“
سکندر نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔
اس نے چونک کر دیکھا۔
ایم سوری عفیفہ“بھابھی نے جو کچھ بھی کیا بہت شرمندہ ہوں سکندر نے کہا۔۔۔
اٹس اوکے“عفیفہ نے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔
آپ ابھی تک ناراض ہیں مجھ سے“سکندر نے پوچھا۔۔
میں کون ہوتی ناراض ہونے والے“عفیفہ نے روٹھے انداز میں کہا۔
سکندر اسکے اندازپہ مسکرا دیا۔۔۔
ایم سوری“سکندر نے کان پکڑ کر کہا۔۔
بھیا سے سوری کریں“عفیفہ نے کہا“۔۔
اگر میں عفاف سے سوری کرلوں تو فرینڈز بن سکتے ہم دونوں؟ سکندر نے پوچھا۔۔
ہووووں“سوچاجاسکتا ہے“۔۔۔عفیفہ نے مسکراہٹ دبا کر کہا
اوکے ہوگیا“میں پھر ابھی عفاف کو منا کر آتا ہوں،سکندر کہہ کر آگے بڑھ گیا۔۔عفیفہ بھی سرجھٹک کر چل دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم لوگ یہ بس دعا کے بعد کھانا کھول دینا“عفاف نے کہا،۔
جی اچھا سر“ ایک بیرے نے جواب دیا۔
عفاف واپس مڑا تو پیچھے سکندر کو کھڑا دیکھ کر چونکا۔
پھر کنی کترا کر وہ آگے بڑھ گیا،سکندر اسکے پیچھے چل پڑا۔
وہ جہاں جہاں جارہا تھا ،سکندر اسکے پیچھے پیچھے تھا“۔
کیا مسٸلہ ہے،عفاف نے جھنجھلا کر پوچھا۔
سوری بولنا تھا“ سکندر نے کہا۔
کس لٸے سوری“؟ عفاف نے سرجھٹک کر پوچھا۔۔
تمہاری پرسنل لاٸف میں دخل اندازی کیلٸے“سکندر نے کہا۔
اٹس اوکے“عفاف نے کہا۔
اوووہ تھینک یو “تھینک یو“سکندرنے اسکے گلے لگ کر اسکا ماتھا چومتے ہوۓ کہا“
ہال میں سب لوگ حیرت سے دیکھ رہے تھے“عفیفہ کے چہرے پہ مسکراہٹ آگٸ“اور عفاف ہکا بکا سا کھڑا تھا۔
چھوڑیں مجھے سر“سب دیکھ رہے ہیں“عفاف نے جھلا کر کہا۔
دیکھنے دو“دنیا کو بتادینا چاہتا ہوں کہ کتنا پیار کرتا ہوں تم سے،سکندر آنکھیں بند کٸے جذبات سے بھرپور لہجے میں بولا۔۔
عفاف سٹپٹا کر رہ گیا”پھر اس نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا“۔۔
أَسْتَغْفِرُ اللّٰه“کیا بولے جارہے ہیں“عفاف نے تپ کر کہا۔۔
ہاہاہاہا“ توبہ کیسے شرما رہے ہو“جیسے میں کوٸی لڑکی ہوں“سکندر نے شرارتی انداز میں کہا۔۔
لاحول ولا قوةالا بااللہ“عفاف نے جلدی سے پڑھا۔پھر وہاں سے چل دیا۔۔
سکندر نے مسکراتے ہوۓ اپنے سر پہ ہاتھ پھیرا“۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عفیفہ ہما کیلٸے کھانا لگوا رہی تھی کہ سکندر پاس آکر کھڑا ہوگیا۔
سو اب ہم فرینڈز بن سکتے ہیں“سکندر نے ہاتھ بڑھاتے ہوۓ پوچھا۔۔
عفیفہ نے اسکے ہاتھ میں یاتھ دے دیا۔۔۔
سکندر نے ہولے سے دبا کر چھوڑ دیا۔۔
ویسے آپ بھیا سے ایسا کیا کہہ رہے تھے،وہ کافی خجل ہوگے تھے
عفیفہ نے پوچھا۔۔
کچھ نہی “بس یہی کہ پوری دنیا کو بتادوں کہ کتنا پیار کرتا ہوں ان سے“سکندر نے مسکرا کر کہا۔
عفیفہ کا منہ حیرت سے کھلا پھر وہ پیٹ پکڑ کر ہنستی ہوٸی دھری ہوگٸ۔۔ہنسنے سے اسکی غزالی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔
سکندر کی تو جیسے سانسیں تھم سی گٸ تھی۔
اس نے بمشکل اس سے نظریں ہٹاٸیں۔۔
اوووہ گاڈ“ بچارے میرے بھاٸی آج تک کسی لڑکی کے کہنے پہ نہی شرماۓ تھے“عفیفہ نے ہنستے ہوۓ کہا۔
تمہارے بھاٸی سے کسی نے کہا بھی نہی ہوگا“سکندر نے مسکرا کر کہا۔۔
جی نہی”میرے بھیا کی بکس میں لڑکیاں خط لکھ کر رکھ دیتی تھی“بھیا اطمینان سے پڑھ کر پھاڑ دیتے تھے“اور میرے بھیا تو خوبصورت بھی اتنے کہ لڑکیاں دیکھتی رہ جاتی تھی“عفیفہ نے محبت بھرے انداز میں کہا“
رٸیلی “یار ویسے حقیقت ہے“میں اور یہ ایک بار میٹنگ پہ گے تھے“لندن سے ڈیلی گیٹس آۓ تھی“وہاں مس روزمیری تو بار بار عفاف کو دیکھے جارہی تھی“اور عفاف تو دنیاجہاں سے بے خبر اپنی فاٸلز میں کھویا تھا“۔۔خوبصورت تو بہت ہے میرا بس چلے تو شادی کر لوں“مگر مجھے کوٸی اور پسند آگٸ“سکندر نے کہا۔۔
رٸیلی“کون ہے وہ“عفیفہ نے پوچھا۔۔۔
ہے کوٸی میری زندگی“ ملواٶں گا ایک دن“ خوبصورت عفاف خان جتنا تو نہی ہوں میں مگر عفاف خان سے کم بھی نہی ہوں“اور وہ تو بہت ہی خوبصورت ہے“ہماری جوڑی کو چاند سورج کی جوڑی کہا جاۓ گا۔۔سکندر نے اسےاپنی نظروں کے حصار میں لیکر کہا۔
بہت اچھی بات ہے“عفیفہ نے دھیما سا مسکرا کر کہا۔
پھر وہ براٸیڈل روم کیطرف چل دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا کھا کر فارغ ہوکر عفیفہ اسے لیکر باہر آٸی“ریڈ اور گولڈن لہنگے میں ہما بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔
عفیفہ اسے سہارا دیکر سٹیج کیطرف لاٸی“فیصل ہاتھ پکڑ کر اسے سٹیج پر لے گیا۔۔
وہ دونوں ساتھ بیٹھے بہت پیارے لگ رہے تھے۔۔۔
کیمرا مین نے فوٹو بنانی شروع کردی۔۔
تھوڑا دیر کھڑا سکندر دیکھ رہا تھا کہ دوسرا کیمرامین عفیفہ پہ ہی کیمرا فوکس کٸے تھے“سکندر نے مٹھیاں بھینچ لی“
پھر وہ کیمرا مین کے پاس آیا۔۔۔
مسٹر زرا آپ میرے ساتھ آٸے،سکندر نے مسکرا کر کہا۔۔
وہ ساتھ چل دیا۔۔
ساٸیڈ پہ جاکر سکندر نے اس سے کیمرا لیکر میموری کارڈ نکالا۔
اور پھر کیمرا نیچے زمین پہ پھینک کر اسے توڑ دیا۔۔
یہ کیا کر رہے آپ سر“وہ کیمرا مین بولا۔۔
سکندر نے والٹ سے پیسے نکال کر اسے دٸیے۔۔پھر اسے گریبان سے پکڑ کر کھینچا۔۔
آٸندہ اس لڑکی کی ایک تصویر بھی لی“تو جان نکال دونگا۔سکندر نے کہا“اور پھر میموری کارڈ والٹ میں ڈال کر وہاں سے چلا گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رخصتی کے ٹاٸم ہما عفیفہ کے گلے لگ کر روۓ جارہی تھی۔۔
بس کرو ہما“اس نےجھلا کر کہا۔
تو چل نہ میرے ساتھ،وہ سوں سوں کرتی بولی۔
اوفففف“پھر سے وہی بات“عفیفہ تپ کر بولی۔
عفیفہ بچے آپ چلو ساتھ“تھوڑی دیر بعد آجانا“مسز خیام نے کہا“
نہی آنٹی مجھے گھر جانا ہے“ماما ناراض ہونگی“عفیفہ نے کہا۔
گڑیا “تم جاٶ“کوٸی بات نہی میں یہاں سے فارغ ہوکر ہی جاٶں گا تو ادھر سے تمہیں پک کرلوں گا“عفاف نے کہا۔
عفیفہ سر ہلا کر ساتھ چل دی“پورا راستے ہما نے اسکا ہاتھ نہی چھوڑا تھا۔۔
وہ لوگ گھر کے پاس پہنچے تو سکندر فیصل کی دوسری ساٸیڈ پہ آکر کھڑا ہوگیا۔۔
فیصل بھاٸی مجھے لگتا آج اگر ہما نے جانے نہ دیا عفیفہ کو تو آپکو دوسرے کمرے میں سونا پڑے گا“سکندر نے شرارتی اندازمیں کہا۔۔فیصل اسے گھور کر رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا پاگل پن تھا“کیا سوچتے ہونگے فیصل بھاٸی تمہارے بارے میں“عفیفہ اسے کمرے میں آتے ہی ڈانٹنا شروع کردیا۔۔
یار میں ڈر گٸ تھی“سب لوگوں کے سامنے روز سٹیچو بن کر جانا پڑتا“اور مجھے ایسے لگتا تھا کہ میں کوٸی عجاٸب گھر کا عجوبہ ہوں“جسکو سب دیکھنے آتے ہیں“ہما نے روہانسی ہوکر کہا۔
تمہارے اتنا رونے سے فیصل بھاٸی شرمندہ ہوگے تھے“انہیں لگاہوگا کہ تم اس رشتے سے خوش نہی ہو“عفیفہ نے کہا۔
نہی ایسی بات نہی ہے“تمہیں پتا ہے نہ میں فیصل سے کتنی محبت کرتی ہوں“اس نے گھبرا کر کہا۔۔
تھینک گاڈ “یہ سب سن لیا میں نے “ورنہ سچ میں وہی سوچ رہا تھا جو عفیفہ کہہ رہی تھی“فیصل نے اندر داخل ہوکر کہا“۔
عفیفہ جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہوگٸ۔۔
فیصل بھاٸی“یہ سچ میں بہت پیار کرتی آپ سے“پلیز اس سے کوٸی غلطی ہوجاۓ تو بچپنا سمجھ کر معاف کر دینا،عفیفہ نے کہا۔۔
ڈونٹ وری“میں کبھی ہما کی آنکھ میں آنسو نہی آنے دونگا“فیصل نےکہا“اور ہما کا ہاتھ تھام لیا۔ہما نے شرما کر سر جھکا لیا۔۔
عفیفہ مسکرا کر باہر نکل گٸ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عفیفہ باہر لان میں نکل آٸی“پورا لان برقی قمقموں سے سجا تھا“پورے لان میں رات کی رانی کی مسحورکن خوشبو چھاٸی تھی“عفیفہ نے گہری سانس لیکر خوشبو کو اندر کھینچا“پھر وہ چلتی ہوٸی لان میں لگے جھولے میں آکر بیٹھ گٸی“اور ہولے سے پنجوں کی مدد سے جھولا جھولنے لگی“چاند کی روشنی میں یوں لگ رہا تھا“کوٸی آسمان کی پری نیچے زمین پہ آ گٸ ہے۔۔
قمقموں کی جگ مگ اور چاند کی روشنی نے اسکے حسن کو چار چاند لگادٸیے تھے“سکندر بےاختیار چلتا ہوا اسکی طرف بڑھا۔اور اسکے ساتھ جاکر بیٹھ گیا“عفیفہ نے چونک کر دیکھا“اور پھر سے چاند کیطرف دیکھنے لگ گٸ“
کتنا خوبصورت ہے نہ، عفیفہ نے کہا۔۔
ہاں بہت“سکندر نے اسکے چہرے کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
مجھے مکمل چاند بہت حسین لگتا“عفیفہ نے کہا۔۔
سکندر نے اسے دیکھا“۔۔
آپ کے قرب سے جانا ہے ہم نے
کہ چاند بھی اتنا حسین ہوتا ہے“
سکندر نے شعر پڑھا۔۔۔
واٶ ناٸس۔۔اچھا شعر ہے“عفیفہ نے مسکرا کر کہا۔
آپ کے لٸے تو شاید ایک دن پورا دیوان لکھ ڈالوں“سکندر نے کہا۔۔
اچھا جی“ نقل کرکے یا پھر خود کے الفاظ کے ساتھ“عفیفہ نے شرارت بھرے انداز میں پوچھا۔۔
یہ تو پتا نہی”کچھ بھی کرسکتا ہوں“سکندر نے مسکرا کر کہا۔۔
باہر گاڑی کے ہارن سے وہ دونوں چونکے،
بھیا آگٸے ہیں“میں چلتی ہوں“عفیفہ کہہ کر اٹھ کر چلی گٸ۔
سکندر بیٹھا اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔