Khareeda Howa Damaad By Sania Peerzada NovelM80086 Khareeda Howa Damaad (Episode - 30)
Khareeda Howa Damaad (Episode - 30)
اس ناول کے جملہ حقوق بحقِ مصنفہ سَدز حسن اور میگا ریڈرز ویب سائٹ کے پاس محفوظ ہیں۔
کسی بھی دوسری ویب سائٹ، گروپ یا پیج پر اس ناول کو بغیر اجازت کے پوسٹ کرنا سختی سے منع ہے۔
بغیر اجازت مواد چوری کرنے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس ناول کو یوٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کرنا بھی منع ہے۔
یہ ناول ہمارے یوٹیوب چینل ناولستان پر پہلے ہی پوسٹ کیا جا چکا ہے، جہاں سے مکمل اقساط دیکھی یا سنی جا سکتی ہیں۔
Khareeda Howa Damaad By Sania Peerzada
ایک نئے دن کا آغاز ہوا
سحر سلیم اور سلیم کی ماں اور بہنیں ان سب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا…..
سحر سلیم کے گھر ان سب کے ساتھ جھوم جھوم کر جشن مانا رہی تھی….. لیکن وہ اس بات سے بےخبر تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا
…………………………………………………………….
مصطفیٰ نے دوپہر کے وقت نگینہ کو فون کیا…. کیونکہ وہ اسی وقت جاگتی تھی
کل سے فون کر رہا ہوں نگینہ میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہیں؟؟…. لگتا ہے بہت ناراض ہیں مجھ سے….. اب جا کر ہی مناؤ گا ان کو…..
مصطفیٰ میں نے تیرے کپڑے استری کر دئے ہیں اور کوئی کام ہے تو بتاو؟؟…. نوری مصطفیٰ سے بولی
تو نے کئے ہیں کپڑے استری؟؟؟؟
ہاں بعد میں بھی تو تیرے سب کام میں نے ہی کرنے ہیں…. نوری بیویوں والے لہجے میں بولی
نوری تجھ سے بات کرنی ہے
ہاں بول؟؟؟؟
کچھ نہیں…. مصطفیٰ بات ٹال گیا اور باہر چلا گیا
پھر سے شرما گیا پتا نہیں کب کرے گا یہ مجھ سے اظہار و محبت؟؟…. نوری مسکراتے ہوئے سوچنے لگی
مصطفیٰ میں ہمت نہیں ہو رہی تھی نوری کو سچ بتانے کی….. اس نے نوری کو خط لکھنے کا سوچا
نوری مجھ میں بولنے کی ہمت نہیں تھی اس لیے لکھ رہا ہوں
نوری تو بہت پیاری ہے اور تیرا دل آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہے….. چاند میں بھی داغ ہے لیکن تو ہر داغ سے پاک ہے
تیرا جو ہمسفر ہوگا وہ بہت خوش قسمت ہوگا اور میں ایک بدنصیب انسان ہوں جس کے نصیب میں تو نہیں لکھی
نوری ہمارے بڑے ہمارا نام ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں لیکن تقدیر کے فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں
میری تقدیر میں خدا نے کسی اور کو لکھا تھا ….. اور وہ مجھے مل چکی ہے…. میں ان کے ساتھ اپنا گھر بھی آباد کر چکا ہوں
نوری میں نے اسلام آباد میں شادی کر لی ہے….. کیوں؟؟؟؟ کیسے؟؟؟؟ کب؟؟؟؟… یہ مت پوچھنا اور مجھ میں بتانے کی ہمت بھی نہیں ہے
یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا مصطفیٰ مر تو سکتا ہے لیکن تجھ سے کبھی بےوفائی نہیں کر سکتا
مجبوری انسان سے سب کرواتی ہیں اور میں ایک مجبور انسان ہوں
میری شادی ایک راز ہے اور میں چاہتا ہوں یہ کسی پر بھی انکشاف نہ ہو اور میرے ساتھ قبر میں جائے
نوری میری شادی ایک سمجھوتے کی بنیاد پر ہوئی تھی لیکن میں اپنی شریک حیات کو اپنے دل و جان سے قبول کر چکا ہوں اور اپنے رشتے کو ہمیشہ پوری ایمانداری کے ساتھ نبھاؤ گا
ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا اور اور اپنے جیسے کسی حسین و جمیل اور منہ پھٹ لڑکے سے شادی کر لینا
میں جانتا ہوں یہ سب جاننے کے بعد تو میری شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرے گی…. پھر بھی زندگی میں کبھی میری ضرورت درپیش آئے تو مجھے ضرور یاد کرنا میں ہمیشہ تیرے لئے حاضر رہوگا
خدا حافظ…..
مصطفیٰ اس وقت جانلیوا اذیت میں مبتلا تھا…. خط لکھنے کے دوران اس کی آنکھوں سے کئی آنسو ٹوٹ کر بہے گۓ
ابّا میرے جانے کے بعد یہ خط نوری کو دے دیجیۓ گا اور سب کو میری شادی کے بارے میں بھی بتا دیجیے
گا… اب وقت آچکا ہے کہ اس راز سے پردہ اٹھایا جائے….مصطفیٰ نے اپنا لکھا ہوا خط اپنے باپ کو دیا
ٹھیک ہے پتر
…………………………………………………………….
ماسی نسیم نگینہ کے کمرے میں گئی اور اسے جگانے لگی ….. میڈم جی اٹھیں
واٹ دا ہیل؟؟…. کیوں صبح صبح مجھے جگانے آ گئی ہو؟؟…. نگینہ تپ کر بولی
صبح نہیں ہے جی شام ہونے والی ہے
تو؟؟؟؟ وہ تو روز ہوتی ہے میں کیا کروں؟؟؟؟
وہ بیگم صاحبہ اپنے کمرے کا دروازہ نہیں کھول رہیں….ایسا تو پہلے کبھی نہیں کیا انہوں نے…..وہ رات کو جتنی بھی دیر سے سوئے پھر بھی صبح جلدی اٹھنے کی عادی ہیں…. لیکن آج شام ہونے والی ہے وہ اٹھ نہیں رہیں…..میرا دل بہت گھبرا رہا ہے کہیں ان کو کچھ ہو تو نہیں گیا…. ماسی نسیم ڈرتے ہوئے نگینہ سے بولی
واٹ موم…. نگینہ بوکھلائی ہوئی باہر بھاگی اور اپنی ماں کے کمرے کا دروازہ پیٹنے لگی
موم دروازہ کھولیں…. موم اوپن دا دوڑ…..کافی دیر دروازہ پیٹنے کے بعد بھی جب نہیں کھلا تو نوکروں نے چابی ڈھونڈھی اور چابی سے دروازہ کھولا
نگینہ کمرے میں گئی مسز فاخرہ کمرے میں بےسدھ نیچے فرش پر پڑیں تھیں
موم…. نگینہ نے ان کو بیہوش حالت میں دیکھتے ہی شور ڈال دیا
جمشید بابا (جس کو ماسی نسیم نے فون کر کے بلایا تھا) نے ڈاکٹر کو فون کیا
ڈاکٹر مسز فاخرہ کی حالت دیکھتے ہی سمجھ گۓ
نگینہ بیٹا ان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے اس باعث ان کا انتقال ہو چکا ہے
نو موم ….آپ مجھے ایسے اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتی… اٹھیں موم….. نگینہ مسز فاخرہ سے لپٹ کر دھاڑے مار مار کے رونے لگی
…………………………………………………………….
مصطفیٰ اس وقت شیمو کے ولیمے کی تقریب میں بیٹھا تھا….. ماسی نسیم نے مصطفیٰ کو فون کیا اور مسز فاخرہ کے انتقال کی خبر دی
اللہ انکی مغفرت فرمائے…. مصطفیٰ کو بہت افسوس ہوا اور وہ تقریب چھوڑ کر سب کو معذرت کرتا فورا ائیرپورٹ کے لئے روانہ ہوا
کچھ گھنٹوں میں مصطفیٰ اسلام آباد پہنچ گیا
نگینہ سکتے کی حالت میں مسز فاخرہ کی میت کے پاس بیٹھی تھی…. اس کی تو دنیا ہی اجڑ چکی تھی اور اسی دکھ نے اسے زندہ لاش بنا دیا تھا
مسز فاخرہ کی تدفین کے بعد سب مہمان نگینہ کو حوصلہ اور تسلی دے کر جانے لگے جس میں سحر اور سلیم بھی شامل تھے
سحر دل میں خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی… اب نگینہ اکیلی ہے اس کی محافظ والدہ تو اس جہاں سے رخصت ہو چکیں ہیں… اب مصطفیٰ کو میرے ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا
…………………………………………………………….
مصطفیٰ نگینہ کو لے کے کمرے میں آیا
نگینہ اب بھی سکتے کی حالت میں تھی…. نگینہ کی حالت دیکھ کر مصطفیٰ کا دل ڈوب رہا تھا
نگینہ حوصلہ رکھیں الله پاک آپ کو صبر دیں… مصطفیٰ نے نگینہ کو سینے سے لگایا…. وہ بخار سے تپ رہی تھی
مصطفیٰ نے ڈاکٹر کو بلایا
ڈاکٹر نے نگینہ کو درپ اور انجکشن لگایا…. اس کے زیر اثر وہ سوگئی
…………………………………………………………….
مصطفیٰ کے جانے کے بعد اس کے ابّا نے نوری کو مصطفیٰ کا خط دیا اور اپنی سب بیٹیوں کو صرف اتنا بتایا کہ مصطفیٰ نے اسلام آباد میں چھپ کر شادی کر لی ہے…. یہ ان کے لئے حیران کن بات تھی کیونکہ مصطفیٰ سے کسی نے بھی ایسی توقع نہیں کی تھی
نوری کا سوچ کر سب کو مصطفیٰ پر شدید غصہ آیا
نوری نے مسکراتے ہوئے خط پڑھنا شروع کیا
شروع کے جملے پڑھ کر تو وہ کھل اٹھی لیکن جیسے جیسے اگے خط پڑھا اس کا رنگ اڑ گیا …..
مصطفیٰ نے کسی اور سے شادی کرلی ہے؟؟؟؟؟؟….. یہ سوچ کر نوری کا خون کھولنے لگا…
کبھی معاف نہیں کروں گی تجھے مصطفی…..اس کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے
…………………………………………………………….
مسز فاخرہ کے انتقال کو 12 دن گزر چکے تھے… نگینہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا
وہ بالکل خاموش ڈری سہمی رہنے لگی… اُس کے دل میں یہ ڈر بیٹھ چکا تھا کہ مصطفیٰ بھی اُس کو چھوڑ کر چلا جاۓ گا
مصطفیٰ کھانے کی ٹرولی لے کے نگینہ کے کمرے میں آیا
نگینہ کھانا کھا لیں….. مصطفیٰ نگینہ کو زبردستی کھانا کھلاتا خود اُس کو کھانے تک کا ہوش نہ ہوتا
نگینہ حسرت سے مصطفیٰ کو تکنے لگی
ایسے کیا دیکھ رہیں ہیں؟؟؟
مصطفیٰ اب تم بھی مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گۓ؟؟؟
میں آپ کو زبان دے چکا ہوں آپ کو تب چھوڑو گا جب دنیا چھوڑو گا…. مصطفیٰ اس کا ہاتھ تھام کر محبت سے بولا
مصطفیٰ اگر تمہیں یہ پتہ چلا کہ اب میری حیثیت دو کوڑی کی ہو چکی ہے پھر بھی تم مجھے نہیں چھوڑ گۓ؟؟…. نگینہ کب سے اپنے دل میں دبی بات کو زبان پر لے آئی
نگینہ میری نظر میں انسان کو حیثیت سے نہیں تولہ جاتا….
جانتی ہوں تم میرے ساتھ وہ کبھی نہیں کرو گے جو سلیم نے کیا ہے
کیا کیا ہے سلیم نے آپ کے ساتھ؟؟؟؟ نگینہ مجھے بتائیں کیا ہوا ہے؟؟….. مصطفیٰ کو بھی شک تھا کچھ تو ہوا تھا جو مسز فاخرہ کی وفات کا سبب بنا
سلیم نے مما اور مجھ سے ساری جائیداد چھین کر اپنے نام لگوا لی ہے…. میری پوری زندگی ہی برباد ہو گئی ہے…نگینہ سسکتے ہوئے بولی
نگینہ ایسا نہیں کہتے کہ زندگی برباد ہو گئی ہے…. زندگی پیسے سے آباد نہیں ہوتی…..مصطفیٰ کو جائیداد کا جان کر حیرت ہوئی لیکن دکھ نہیں ہوا
ہاں تو اب میں پیسے کے بغیر کیا کرونگی؟؟ …. مصطفیٰ کے تاثرات اور بات پر نگینہ ٹھٹک گئی
نگینہ پیسہ ضروری ہے لیکن صرف ضرورت کے لئے… مصطفیٰ نگینہ کو سمجھنے لگا
میں نے بہت عیش میں زندگی گزاری ہے پیسہ ضروری ہے میرے لئے… یہ جو تم بڑی بڑی باتیں کر رہے ہوں نہ یہ سب دیکھاوا ہے تم بھی مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ گۓ
نہیں جاؤ گا…. مصطفیٰ نگینہ کی انکھوں میں دیکھ کر بولا
نگینہ نے مصطفیٰ کی بات سن کر منہ پھیر لیا
نگینہ آپ کو سمجھانا میرے بس کی بس بات نہیں ہے
ہاں تو کس نے کہا ہے مجھے سمجھاؤ؟؟؟؟….. جاؤ یہاں سے یہ کھانا بھی لے جاؤ… نگینہ نے بیڈ پر پڑی ٹرے کو ٹھوکر مار کر سارا کھانا فرش پر گرا دیا
مصطفیٰ مزید بحث کئے خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا
…………………………………………………………….
دو دن بعد مصطفیٰ کچھ کاغذات تھامے نگینہ کے پاس آیا
نگینہ یہ کاغذات دیکھیں… مصطفیٰ نے نگینہ کو فائل دی
کیا ہے یہ؟… نگینہ نے فائل کھول کر دیکھی تو حیرت میں ڈوب گئی
مصطفیٰ تم نے اپنی کمپنی میرے نام کر دی ہے؟؟؟؟؟؟…. نگینہ بے یقینی سی کفیت میں بولی
میری کمپنی کہاں سے تھی یہ بھی آپ کی والدہ نے مجھے دی تھی…
لیکن یہ کمپنی تمہاری قیمت تھی
میری قیمت میرے باپ اور بہن کا علاج قرض اور زمین تھی… یہ آپکی والدہ نے اپنے رتبے کے لئے خود مجھے دی تھی
لیکن تم اپنی محنت سے اس کمپنی کو کافی بلندی تک لے گۓ ہوں
نگینہ کمپنی ہمیشہ سے آپ کی تھی… یہ غلام تو بس سمبھال رہا تھا
مصطفیٰ تم مجھ جیسی سے پیچھا نہیں چھڑوانا چاھتے؟؟؟؟؟؟
اگر شوہر ہوتا تو شاید کب کا پیچھا چروا چکا ہوتا…. غلام ہوں اور غلام کبھی پیچھا نہیں چروا سکتا
مصطفیٰ تم میں ذرا لالچ نہیں ہے؟
لالچ کس بات کا؟… قبر میں کونسا یہ جائداد پیسہ ساتھ لے کر جانا ہے…. سب یہی رہ جاتا ہے…
نگینہ کو پہلی دفع مصطفیٰ کی باتیں سمجھ آئی
چلیں اب رونا بند کریں اور اپنی روزمرہ زندگی میں لوٹیں…. جائیں شاپنگ کریں گھومے پھیریں
اور کلب؟
نگینہ پلیز وہاں اب مت جائے گا….. چھوڑ دیں شراب…. شراب حرام ہے اور حرام ہمیشہ تباہی کا سبب بننتا ہے…. مصطفیٰ سخت لہجے لہجے بولا
ٹھیک ہے….مصطفیٰ میں تمہاری ہر بات مانو گی لیکن پلیز مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا
نہیں جاؤ گا نگینہ….
اس سلیم کو تو میں چھوڑو گی نہیں….اس کی نسلیں برباد کر دو گی…. نگینہ نفرت بھرے لہجے میں بولی
نگینہ ایسے نہیں بولیں معاف کرنا سیکھیں….
میں اسے معاف نہیں کر سکتی اس کی وجہ سے میری موم مری ہیں
نگینہ انسانوں کی زندگی اور موت کا اختیار صرف الله کو ہے کوئی انسان دوسرے انسان کو سانسیں دینے یا لینے کی صلاحیت نہیں رکھتا
تم اس سلیم کی سائیڈ لے رہے ہوں میرے سامنے؟؟؟؟
نہیں میں اس کی سائیڈ کیوں لو گا؟؟ وہ میرا بھی سخت نہ پسندیدہ شخص ہے…. میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ اسے خدا کے سپرد کر دیں اللہ اسے آپ کا بہتر انتقام لے گا
ایسے لوگوں کی دنیا بھی خراب ہوتی ہے اور آخرت بھی
ہمممم
نگینہ وعدہ کریں مجھ سے آپ کسی کو اپنی طرف سے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی….. مصطفیٰ کو نگینہ کی بات نے ڈرا دیا تھا
پرومس
تھنک یو….. میں اپنی بیوی کو ایک اچھے انسان کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں…. مصطفیٰ نے نگینہ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور باہر چلا گیا
نگینہ جتنی خوش آج تھی اتنی زندگی میں کبھی نہیں ہوئی تھی… وہ خود کو آسمانوں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہی تھی
آج اُس کو مصطفیٰ سے بے انتہا محبت کا احساس ہو رہا تھا…… یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب اس کے پاس کچھ نہیں بچا…مصطفیٰ کی عزت میں رتی بھر بھی کمی نہیں آئی….یہ سوچ کر نگینہ خوشی سے نہال تھی
نگینہ نے ڈھیڑ ساری شاپنگ کی… شاپنگ کے بعد پارلر گئی تو سحر بھی وہاں موجود تھی… نگینہ کے چہرے پر صاف خوشی جھلک رہی تھی جس کو سحر نے بھی محسوس کر لیا اور جل بھون کر نگینہ کے پاس پہنچی
ہائے نگینہ… جلان سے سحر کے چہرے پر رسمی مسکراہٹ بھی نہیں تھی۔
ہیلو سحر کیسی ہوں؟… نگینہ نے پہلی بار سحر سے ٹھیک سے بات کی تھی…. کیونکہ آج وہ بہت خوش تھی
کیا بات ہے آج بہت خوش ہوں؟… سحر سیدھی موضوع پر آئی
میرے خوش ہونے پر تمہے کیوں اتنا برا لگ رہا ہے؟ جیسے تمہارے پیسے لگ رہے ہوں… نگینہ نے سحر کا جلان بھرا رویہ محسوس کیا اور طنزیہ بولی
شٹ اپ….. تمہاری اب اتنی اوقات ہی نہیں رہی کہ تمہے کوئی ادھار تک دے… سحر بھڑک کر بولی
کیا بکواس کی ہے تم نے سحر؟؟…. نگینہ بلبلا اٹھی
کچھ نہیں… سحر نگینہ کو غصے میں دیکھ کر وہاں سے چلی گئی
تمہاری اب اتنی اوقات ہی نہیں رہی کہ تمہے کوئی ادھار تک دے……..
سحر نے ایسا کیوں کہا؟؟؟؟؟؟
یقیناً اس کو معلوم ہے کہ سلیم نے… لیکن کیسے؟ کہیں اس کا تو کوئی ہاتھ نہیں؟؟؟؟؟… نگینہ پوری طرح شک میں مبتلا ہو چکی تھی
نگینہ پارلر سے سیدھی کلب پہنچی مینیجر سب نگینہ کو جانتے تھے اُس کے کہنے پر اُس رات کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکل کر نگینہ کو دی
سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھتے ہی نگینہ اپنا سر پیٹنے لگی
او شیٹ میں اتنی احمق کیسے ہو سکتی ہوں؟؟؟ سب ہی اپنے منہ سے اگل دیا
سحر اتنی چالاک نکلی مجھے برباد کر دیا…. اب وہ مجھ سے مصطفیٰ کو نہ چھین لے؟؟….. نگینہ کے دماغ میں کئی طرح کے فتور پیدا ہو رہے تھے
نگینہ گھر پہنچی تو جمشید بابا کو بلا کر ساری صورت حال سے آغا کیا…. جیسے سن کر جمشید بابا خود پریشان ہوگۓ
جمشید بابا مسز فاخرہ کا انتہائی وفادار تھا…. ان کے ایک اشارے پر اپنی جان تک دینے کو تیار رہتا تھا
مسز فاخرہ اپنے کاروباری مفاد کے لئے خوفیہ بہت سے غلط کام کرتیں تھیں جیسے کہ لوگوں کو دھمکانا … لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کروا لینا اور بعد میں آدھی سے کم قیمت میں زمین خرید لینا
یہ سب کام وہ جمشید بابا سے کرواتی تھی اور پکڑے جانے پر جمشید بابا الزام اپنے سر لے لیتا
کئی بار جمشید بابا جیل بھی جا چکا تھا
اس وقت نگینہ کو بھی جمشید بابا سے زیادہ قابلے اعتبار کوئی نظر نہ آیا تو نگینہ نے اسے مدد مانگی
پلیز کچھ کریں جمشید بابا… میں مما کے بعد اب مصطفیٰ کو نہیں کھونا چاہتی…. نگینہ نے جمشید بابا سے التجا کی
جی آپ فکر نہ کریں….. اس کی وجہ سے ہمہاری میڈم جی مری ہیں ہم بھی اس کی زندگی برباد کر دیں گے… جمشید بابا طیش سے بولا
وہ کیسے؟
حادثے تو سب کے ساتھ ہوتے ہیں…. جمشید بابا نے نگینہ کو اپنا منصوبہ بتایا
ٹھیک ہے….. نگینہ نے حامی بھر لی
سحر تم نے کئی بار ڈسا ہے مجھے…. اب تم بھی میرے قہر سے نہیں بچ پاؤ گی…. نگینہ پلان سن کے ڈر چکی تھی لیکن انتقام کی آگ اس کے اندر بھڑک رہی تھی اس نے اپنی رضامندی ظاہر کر دی